اتواریکم مارچ، 2020 |

اتواریکم مارچ، 2020



مضمون۔ مسیح یسوع

SubjectChrist Jesus

سنہری متن:سنہری متن: یوحنا 12باب46آیت

۔ یسوع مسیح ’’میں نور ہو کر دنیا میں آیاہوں تاکہ جو کوئی مجھ پر ایمان لائے اندھیرے میں نہ رہے۔‘‘



Golden Text: John 12 : 46

I am come a light into the world, that whosoever believeth on me should not abide in darkness.”— Christ Jesus





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: یوحنا 3باب16تا21 آیات


16۔ کیونکہ خدا نے دنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اْس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اْس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔

17۔ کیونکہ خدا نے بیٹے کو دنیا میں اِس لئے نہیں بھیجا کہ دنیا پر سزا کا حکم کرے بلکہ اِس لئے کہ دنیا اْس کے وسیلہ سے نجات پائے۔

18۔ جو اْس پر ایمان لاتا ہے اْس پر سزا کا حکم نہیں ہوتا۔جو اْس پر ایمان نہیں لاتا اْس پر سزا کا حکم ہو چکا۔اِس لئے کہ وہ خدا کے اکلوتے بیٹے کے نام پر ایمان نہیں لایا۔

19۔ اور سزا کے حکم کا سبب یہ ہے کہ نور دنیا میں آیا اور آدمیوں نے تاریکی کو نور سے زیادہ پسند کیا۔اِس لئے کہ اْن کے کام برے تھے۔

20۔ کیونکہ جو کوئی بدی کرتا ہے وہ نور سے دشمنی رکھتا ہے اور نور کے پاس نہیں آتا۔ ایسا نہ ہو کہ اْس کے کاموں پر ملامت کی جائے۔

21۔ مگر جو سچائی پر عمل کرتا ہے وہ نور کے پاس آتا ہے تاکہ اْس کے کام ظاہر ہوں کہ وہ خدا میں کئے گئے ہیں۔

Responsive Reading: John 3 : 16-21

16.     For God so loved the world, that he gave his only begotten Son, that whosoever believeth in him should not perish, but have everlasting life.

17.     For God sent not his Son into the world to condemn the world; but that the world through him might be saved.

18.     He that believeth on him is not condemned: but he that believeth not is condemned already, because he hath not believed in the name of the only begotten Son of God.

19.     And this is the condemnation, that light is come into the world, and men loved darkness rather than light, because their deeds were evil.

20.     For every one that doeth evil hateth the light, neither cometh to the light, lest his deeds should be reproved.

21.     But he that doeth truth cometh to the light, that his deeds may be made manifest, that they are wrought in God.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ لوقا 2باب14 آیت

14۔ عالم ِبالا پر خدا کی تمجید ہو اور زمین پر اْن آدمیوں میں جن سے وہ راضی ہے صلح۔

1. Luke 2 : 14

14     Glory to God in the highest, and on earth peace, good will toward men.

2۔ یسعیاہ 11باب1تا5 آیات

1۔ اور یسی کے تنے سے ایک کونپل نکلے گی اور اْس کی جڑوں سے ایک بارآور شاخ پیدا ہوگی۔

2۔ اور خداوند کی روح اْس پر ٹھہرے گی۔حکمت اور خرد کی روح۔ مصلحت اور قدرت کی روح۔ معرفت اور خداوند کے خوف کی روح۔

3۔ اور اْس کی شادمانی خداوند کے خوف میں ہوگی اور وہ نہ اپنی آنکھوں کے دیکھنے کے مطابق فیصلہ کرے گا اور نہ اپنے کانوں کے سننے کے مطابق فیصلہ کرے گا۔

4۔ بلکہ وہ راستی سے مسکینوں کا انصاف کرے گا اور عدل سے زمین کے خاکساروں کا فیصلہ کرے گا اور اپنی زبان کے عصا سے زمین کو مارے گا اور اپنے لبوں کے دم سے شریروں کو فنا کر ڈالے گا۔

5۔ اور اْس کے کمر کا پٹکا راستبازی ہوگی اور اْس کے پہلو پر راستبازی کا پٹکا ہوگا۔

2. Isaiah 11 : 1-5

1     And there shall come forth a rod out of the stem of Jesse, and a Branch shall grow out of his roots:

2     And the spirit of the Lord shall rest upon him, the spirit of wisdom and understanding, the spirit of counsel and might, the spirit of knowledge and of the fear of the Lord;

3     And shall make him of quick understanding in the fear of the Lord: and he shall not judge after the sight of his eyes, neither reprove after the hearing of his ears:

4     But with righteousness shall he judge the poor, and reprove with equity for the meek of the earth: and he shall smite the earth with the rod of his mouth, and with the breath of his lips shall he slay the wicked.

5     And righteousness shall be the girdle of his loins, and faithfulness the girdle of his reins.

3۔ متی 9باب35 آیت

35۔ اور یسوع سب شہروں اور گاؤں میں پھرتا رہا اور عبادت خانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا اور ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری کو دور کرتا رہا۔

3. Matthew 9 : 35

35     And Jesus went about all the cities and villages, teaching in their synagogues, and preaching the gospel of the kingdom, and healing every sickness and every disease among the people.

4۔ متی 10 باب1، 5تا8، 16تا20، 34تا39 آیات

1۔ پھر اْس نے اپنے شاگردوں کو پاس بلا کر اْن کو ناپاک روحوں پر اختیار بخشا کہ اْن کو نکالیں اور ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری کو دور کریں۔

5۔ اِن بارہ کو یسوع نے بھیجا اور اْن کو حکم دے کر کہا غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا۔

6۔ بلکہ اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جانا۔

7۔ اور چلتے چلتے یہ منادی کرنا کہ آسمان کی بادشاہی نزدیک آگئی ہے۔

8۔ بیماروں کو اچھا کرنا۔ مردوں کو جلانا۔ کوڑھیوں کو پاک صاف کرنا۔ بدروحوں کو نکالنا۔ مفت تم نے پایا مفت دینا۔

16۔ دیکھو مَیں تم کو بھیجتا ہوں گویا بھیڑوں کو بھیڑیوں کے بیچ میں۔ پس سانپوں کی مانند ہوشیار اور کبوتروں کی مانند بے آزار بنو۔

17۔ مگر آدمیوں سے خبردار رہو کیونکہ وہ تم کو عدالتوں کے حوالہ کریں گے اور اپنے عبادت خانوں میں تم کو کوڑے ماریں گے۔

18۔ اور تم میرے سبب سے حاکموں اور بادشاہوں کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے تاکہ اْن کے اور غیر قوموں کے لئے گواہی ہو۔

19۔ لیکن جب وہ تم کو پکڑوائیں تو فکر نہ کرناکہ ہم کس طرح کہیں اور کیا کہیں کیونکہ جو کچھ کہنا ہوگا اْسی گھڑی تم کو بتایا جائے گا۔

20۔ کیونکہ بولنے والے تم نہیں بلکہ تمہارے باپ کا روح ہے جو تم میں بولتا ہے۔

34۔ یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کروانے آیا ہوں۔ صلح کروانے نہیں بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں۔

35۔ کیونکہ مَیں اِس لئے آیا ہوں کہ آدمی کو اْس کے باپ سے بیٹی کو اْس کی ماں سے اور بہو کو اْس کی ساس سے جدا کروں۔

36۔ اور آدمی کے دشمن اْس کے گھر ہی کے لوگ ہوں گے۔

37۔ جو کوئی باپ یا ماں کو مجھ سے زیادہ عزیز رکھتا ہے وہ میرے لائق نہیں اور جو کوئی بیٹے یا بیٹی کو مجھ سے زیادہ عزیز رکھتا ہے وہ میرے لائق نہیں۔

38۔ اور جو کوئی اپنی صلیب نہ اْٹھائے اور میرے پیچھے نہ چلے وہ میرے لائق نہیں۔

39۔ جو کوئی اپنی جان بچاتا ہے اْسے کھوئے گا اور جو کوئی میری خاطر اپنی جان کھوتا ہے وہ اْسے بچائے گا۔

4. Matthew 10 : 1, 5-8, 16-20, 34-39

1     And when he had called unto him his twelve disciples, he gave them power against unclean spirits, to cast them out, and to heal all manner of sickness and all manner of disease.

5     These twelve Jesus sent forth, and commanded them, saying, Go not into the way of the Gentiles, and into any city of the Samaritans enter ye not:

6     But go rather to the lost sheep of the house of Israel.

7     And as ye go, preach, saying, The kingdom of heaven is at hand.

8     Heal the sick, cleanse the lepers, raise the dead, cast out devils: freely ye have received, freely give.

16     Behold, I send you forth as sheep in the midst of wolves: be ye therefore wise as serpents, and harmless as doves.

17     But beware of men: for they will deliver you up to the councils, and they will scourge you in their synagogues;

18     And ye shall be brought before governors and kings for my sake, for a testimony against them and the Gentiles.

19     But when they deliver you up, take no thought how or what ye shall speak: for it shall be given you in that same hour what ye shall speak.

20     For it is not ye that speak, but the Spirit of your Father which speaketh in you.

34     Think not that I am come to send peace on earth: I came not to send peace, but a sword.

35     For I am come to set a man at variance against his father, and the daughter against her mother, and the daughter in law against her mother in law.

36     And a man’s foes shall be they of his own household.

37     He that loveth father or mother more than me is not worthy of me: and he that loveth son or daughter more than me is not worthy of me.

38     And he that taketh not his cross, and followeth after me, is not worthy of me.

39     He that findeth his life shall lose it: and he that loseth his life for my sake shall find it.

5۔ متی 11باب2تا6، 28، 29 آیات

2۔ اور یوحنا نے قید خانہ میں مسیح کا حال سْن کر اپنے شاگردوں کی معرفت اْس سے پْچھوا بھیجا۔

3۔ کہ آنے والا تْو ہی ہے یا ہم دوسرے کی راہ دیکھیں؟

4۔ یسوع نے جواب میں اْن سے کہا جو کچھ تم دیکھتے اور سْنتے ہو جا کر یوحنا سے بیان کردو۔

5۔ کہ اندھے دیکھتے اور لنگڑے چلتے پھرتے ہیں۔ کوڑھی پاک صاف کئے جاتے اور بہرے سْنتے ہیں اور مردے زندہ کئے جاتے ہیں اور غریبوں کو خوشخبری سنائی جاتی ہے۔

6۔ اور مبارک ہے وہ جو میرے سبب سے ٹھوکر نہ کھائے۔

28۔ اے محنت اْٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو سب میرے پاس آؤ۔ مَیں تم کو آرام دوں گا۔

29۔ میرا جْوا اپنے اوپر اْٹھا لو اور مجھ سے سیکھو۔ کیونکہ مَیں حلیم ہوں اور دل کا فروتن ہوں۔ تو تمہاری جانیں آرام پائیں گی۔

5. Matthew 11 : 2-6, 28, 29

2     Now when John had heard in the prison the works of Christ, he sent two of his disciples,

3     And said unto him, Art thou he that should come, or do we look for another?

4     Jesus answered and said unto them, Go and shew John again those things which ye do hear and see:

5     The blind receive their sight, and the lame walk, the lepers are cleansed, and the deaf hear, the dead are raised up, and the poor have the gospel preached to them.

6     And blessed is he, whosoever shall not be offended in me.

28     Come unto me, all ye that labour and are heavy laden, and I will give you rest.

29     Take my yoke upon you, and learn of me; for I am meek and lowly in heart: and ye shall find rest unto your souls.

6۔ متی 12باب14، 15 آیات

14۔ اِس پر فریسیوں نے باہر جا کر اْس کے برخلاف مشورہ کیا کہ اْسے کس طرح ہلاک کریں۔

15۔یسوع یہ معلوم کر کے وہاں سے رونہ ہوا اور بہت سے لوگ اْس کے پیچھے ہو لئے اور اْس نے سب کو اچھا کر دیا۔

6. Matthew 12 : 14, 15

14     Then the Pharisees went out, and held a council against him, how they might destroy him.

15     But when Jesus knew it, he withdrew himself from thence: and great multitudes followed him, and he healed them all;

7۔ متی 21باب12تا16،31 (سچ) آیات

12۔ اور یسوع نے خدا کی ہیکل میں داخل ہو کر اْن سب کو نکال دیا جو ہیکل میں خریدو فروخت کر رہے تھے اور صرافوں کے تختے اور کبوتر فروشوں کی چوکیاں اْلٹ دیں۔

13۔ اور اْن سے کہا کہ لکھا ہے کہ میرا گھر دعا کا گھر کہلائے گا مگر تم اِسے ڈاکوؤں کی کھوہ بناتے ہو۔

14۔ اور اندھے اور لنگڑے ہیکل میں اْس کے پاس آئے اور اْس نے انہیں اچھا کیا۔

15۔ لیکن جب سردار کاہنوں اور فقیہوں نے اْن عجیب کاموں کو جو اْس نے کئے اور لڑکوں کو ہیکل میں ابنِ داؤد کو ہوشعناپکارتے دیکھا تو خفا ہو کر اْس سے کہنے لگے۔

16۔تْو سنتا ہے کہ یہ کیا کہتے ہیں؟ یسوع نے اْن سے کہا ہاں۔ کیا تم نے یہ کبھی نہیں پڑھا کہ بچوں اور شیر خواروں کے منہ سے تْو نے حمد کو کامل کرایا؟

31۔مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ محصول لینے والے اور کسبیاں تم سے پہلے خدا کی بادشاہی میں داخل ہوتی ہیں۔

7. Matthew 21 : 12-16, 31 (Verily)

12     And Jesus went into the temple of God, and cast out all them that sold and bought in the temple, and overthrew the tables of the moneychangers, and the seats of them that sold doves,

13     And said unto them, It is written, My house shall be called the house of prayer; but ye have made it a den of thieves.

14     And the blind and the lame came to him in the temple; and he healed them.

15     And when the chief priests and scribes saw the wonderful things that he did, and the children crying in the temple, and saying, Hosanna to the Son of David; they were sore displeased,

16     And said unto him, Hearest thou what these say? And Jesus saith unto them, Yea; have ye never read, Out of the mouth of babes and sucklings thou hast perfected praise?

31     Verily I say unto you, That the publicans and the harlots go into the kingdom of God before you.

8۔ یوحنا 14باب27 آیت

27۔ مَیں تمہیں اطمینان دئے جاتا ہوں۔ اپنا اطمینان تمہیں دیتا ہوں۔ جس طرح دنیا دیتی ہے میں تمہیں اْس طرح نہیں دیتا۔ تمہارا دل نہ گھبرائے اور نہ ڈرے۔

8. John 14 : 27

27     Peace I leave with you, my peace I give unto you: not as the world giveth, give I unto you. Let not your heart be troubled, neither let it be afraid.

9۔ یوحنا 16باب33 آیت

33۔ مَیں نے تم سے یہ باتیں اِس لئے کہیں کہ تم مجھ میں اطمینان پاؤ۔ دنیا میں مصیبت اٹھاتے ہو لیکن خاطر جمع رکھو۔ مَیں دنیا پر غالب آیا ہوں۔

9. John 16 : 33

33     These things I have spoken unto you, that in me ye might have peace. In the world ye shall have tribulation: but be of good cheer; I have overcome the world.



سائنس اور صح


1۔ 40 :31۔7

مسیحت کی فطرت پْر امن اور بابرکت ہے، لیکن بادشاہی میں داخل ہونے کے لئے، امید کا لنگر اْس شکینہ کے اندر مادے کے پردے سے آگے ڈالنا ضروری ہے جس میں سے یسوع ہم سے قبل گز چکا ہے، اور مادے سے آگے کی یہ ترقی راستباز کی خوشیوں اور فتح مندی اور اِس کے ساتھ ساتھ اْن کے دْکھوں اور تکالیف کے وسیلہ آتی ہے۔ ہمارے مالک کی طرح، ہمیں بھی مادی فہم سے ہستی کے روحانی فہم کی جانب رْخصت ہونا چاہئے۔

1. 40 : 31-7

The nature of Christianity is peaceful and blessed, but in order to enter into the kingdom, the anchor of hope must be cast beyond the veil of matter into the Shekinah into which Jesus has passed before us; and this advance beyond matter must come through the joys and triumphs of the righteous as well as through their sorrows and afflictions. Like our Master, we must depart from material sense into the spiritual sense of being.

2۔ 19 :12۔16

مالک نے پوری سچائی بیان کرنے سے منع کیا، مفصل طور پر یہ بیان کرتے ہوئے کہ بیماری، گناہ اور موت کو کیا چیز نیست کرتی ہے، اگرچہ اْس کی تعلیم خاندانوں میں تضاد پیدا کرتی ہے، اور مادی عقائد کے لئے امن نہیں بلکہ تلوار لاتی ہے۔

2. 19 : 12-16

The Master forbore not to speak the whole truth, declaring precisely what would destroy sickness, sin, and death, although his teaching set households at variance, and brought to material beliefs not peace, but a sword.

3۔ 20 :6۔13، 16۔23

یسوع نے روایتی کاہن اور ریاکار فریسی سے کہا، ”محصول لینے والے اور کسبیاں تم سے پہلے خدا کی بادشاہی میں داخل ہوتی ہیں۔“ یسوع کی تاریخ نے نیا کیلنڈر متعارف کروایا، جسے ہم مسیحی دور کہتے ہیں؛ لیکن اْس نے روایتی عبادت قائم نہیں کی۔ وہ جانتاتھا کہ انسان بپتسمہ لے سکتا، یوخرست میں شراکت کر سکتا، کلیسیا کی مدد کر سکتا، سبت کی پیروی کر سکتا، لمبی عبادات کر سکتا ہے تاہم وہ جنس پرست اور گناہگار ہی ہے۔

”آدمیوں میں حقیر و مردود ہوتے ہوئے“، حقارت کے بدلے برکتیں دیتے ہوئے، اْس نے انسانوں کو اْن کے خود کے مخالف تعلیم دی، اور جب غلطی نے سچائی کی طاقت کو محسوس کیا تو کوڑے اور صلیب اْس عظیم معلم کے منتظر تھے۔ یہ جانتے ہوئے کبھی نہ جھکا کہ الٰہی حکم کی فرمانبرداری کرنا اور خدا پر بھروسہ کرنا گناہ سے پاکیزگی کی جانب جانے والی نئی راہ کو استوار کرنا اور اْس پر چلنا نجات بخشتا ہے۔

3. 20 : 6-13, 16-23

To the ritualistic priest and hypocritical Pharisee Jesus said, “The publicans and the harlots go into the kingdom of God before you.” Jesus’ history made a new calendar, which we call the Christian era; but he established no ritualistic worship. He knew that men can be baptized, partake of the Eucharist, support the clergy, observe the Sabbath, make long prayers, and yet be sensual and sinful.

“Despised and rejected of men,” returning blessing for cursing, he taught mortals the opposite of themselves, even the nature of God; and when error felt the power of Truth, the scourge and the cross awaited the great Teacher. Yet he swerved not, well knowing that to obey the divine order and trust God, saves retracing and traversing anew the path from sin to holiness.

4۔ 133 :19۔28

یہودیت پسندی مسیحت کے مخالف تھی، کیونکہ یہودیت پسند قومی یا قبائلی مذہب کی محدود شکل وجود میں لائے۔ یہ ایک محدود اور مادی نظام تھا، جو خدا، انسان، صفائی کے انداز اور مذہبی مسلکوں سے متعلق خاص نظریات کی تعمیل کرتا تھا۔ اْس نے ”خود کو خدا کے برابر“ بنایا، یہ اْس شخص کے خلاف یہودیوں کے الزامات میں سے ایک الزام تھا جس نے روح کی بنیاد پر مسیحت کو جنم دیا، جس نے ایسی تعلیم دی جو باپ کی جانب سے الہامی تھی اور جو خدا کے بغیرنہ کسی زندگی، ذہانت اور نہ مواد کو تسلیم کرتا ہے۔

4. 133 : 19-28

Judaism was the antithesis of Christianity, because Judaism engendered the limited form of a national or tribal religion. It was a finite and material system, carried out in special theories concerning God, man, sanitary methods, and a religious cultus. That he made “himself equal with God,” was one of the Jewish accusations against him who planted Christianity on the foundation of Spirit, who taught as he was inspired by the Father and would recognize no life, intelligence, nor substance outside of God.

5۔ 26 :28۔9

ہمارے مالک نے محض نظریے، عقیدے یا ایمان کی تعلیم نہیں دی۔یہ الٰہی اصول کی مکمل ہستی تھی جس کی اْس نے تعلیم دی اور مشق کی۔ مسیحت کے لئے اْس کا ثبوت مذہب اور عبادت کا کوئی نظام یا شکل نہیں تھی، بلکہ یہ کرسچن سائنس تھی جو زندگی اور محبت کی ہم آہنگی پر عمل کرتی ہے۔ یسوع نے یوحنا بپتسمہ دینے والے کے لئے ایک پیغام بھیجا جس کا مقصد ایک سوال سے کہیں بڑھ کر یہ ثابت کرنا تھا کہ مسیح آچکا تھا: ”جو کچھ تم دیکھتے اور سْنتے ہو جا کر یوحنا سے بیان کردو۔ کہ اندھے دیکھتے اور لنگڑے چلتے پھرتے ہیں۔ کوڑھی پاک صاف کئے جاتے اور بہرے سْنتے ہیں اور مردے زندہ کئے جاتے ہیں اور غریبوں کو خوشخبری سنائی جاتی ہے۔“دوسرے الفاظ میں: یوحنا کو بتا دو کہ الٰہی قوت کا اظہار کیا ہے؛ تو وہ فوراً سمجھ جائے گا کہ مسیحائی کام میں خدا ایک طاقت ہے۔

5. 26 : 28-9

Our Master taught no mere theory, doctrine, or belief. It was the divine Principle of all real being which he taught and practised. His proof of Christianity was no form or system of religion and worship, but Christian Science, working out the harmony of Life and Love. Jesus sent a message to John the Baptist, which was intended to prove beyond a question that the Christ had come: “Go your way, and tell John what things ye have seen and heard; how that the blind see, the lame walk, the lepers are cleansed, the deaf hear, the dead are raised, to the poor the gospel is preached.” In other words: Tell John what the demonstration of divine power is, and he will at once perceive that God is the power in the Messianic work.

6۔ 27 :17۔21

یسوع کی تماثیل زندگی کی وضاحت کرتی ہیں جو کبھی گناہ اور موت سے ملاوٹ زدہ نہیں ہوتی۔اْس نے سائنس کا کلہاڑا مادی علم کی جڑ پر رکھا ہے، تاکہ یہ شرک کے جھوٹے عقیدے کو کاٹنے کے لئے تیار رہے کہ خدا یا زندگی مادے کی یا مادے میں ہے۔

6. 27 : 17-21

Jesus’ parables explain Life as never mingling with sin and death. He laid the axe of Science at the root of material knowledge, that it might be ready to cut down the false doctrine of pantheism, — that God, or Life, is in or of matter.

7۔ 25 :13۔21

یسوع نے اظہار کی بدولت زندگی کا طریقہ کار سکھایا، تاکہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ کیسے الٰہی اصول بیمار کو شفادیتا، غلطی کو باہر نکالتا اور موت پر فتح مند ہوتا ہے۔ کسی دوسرے شخص کی نسبت جس کا اصل کم روحانی ہویسوع نے خدا کی مثال کو بہت بہتر انداز میں پیش کیا۔ خدا کے ساتھ اْس کی فرمانبرداری سے اْس نے دیگر سبھی لوگوں کی نسبت ہستی کے اصول کو زیادہ روحانی ظاہر کیا۔ اسی طرح اْس کی اس نصیحت کی طاقت ہے کہ ”اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو گے۔“

7. 25 : 13-21

Jesus taught the way of Life by demonstration, that we may understand how this divine Principle heals the sick, casts out error, and triumphs over death. Jesus presented the ideal of God better than could any man whose origin was less spiritual. By his obedience to God, he demonstrated more spiritually than all others the Principle of being. Hence the force of his admonition, “If ye love me, keep my commandments.”

8۔ 28 :15۔6

یسوع کی نہ تو پیدائش، کردار اور نہ ہی کام عمومی طور پر سمجھا گیا۔ اْس کی فطرت کے ایک بھی جزو کومادی دنیا نے صحیح نہ مانا۔ حتیٰ کہ اْس کی راستی اور پاکیزگی نے بھی آدمیوں کو یہ کہنے سے باز نہ رکھا کہ: یہ پیٹو اور ناپاک لوگوں کا دوست ہے اور بعلزبول اِس کا سر پرست ہے۔

یاد رکھ اے مسیحی شہید کہ اتنا ہی کافی ہے اگر تم خود کو اپنے مالک کی جوتی کا تسمہ کھولنے کے لائق بھی پاؤ۔ یہ فرض کرنا کہ راستبازی کی خاطر تکلیف سہنا ماضی سے تعلق رکھتا ہے، اور یہ کہ آج مسیحت پوری دنیا کے ساتھ امن میں ہے کیونکہ تمام شبہ جات اور معاشرے اِس کی تعظیم کرتے ہیں، یہ مذہب کی عین فطرت کی غلطی ہوگی۔غلطی خود کو دوہراتی ہے۔ اْس نبی، رسول اور شاگرد نے”دنیا جس کے لائق نہ تھی“، جس تکلیف کا سامنا کیا وہ،کسی نہ کسی صورت میں، سچائی کے ہر سرخیل کی منتظر ہے۔

معاشرے میں حیوانی حوصلہ افزائی بہت ہے اور اخلاقی حوصلہ افزائی نہیں ہے۔ مسیحیوں کو گھر میں اور باہر غلط چیز کے خلاف ہاتھ اْٹھانے چاہئیں۔ انہیں خود کے اور دوسروں کے گناہ کے خلاف محاذ آرائی کرنی چاہئے، اوراپنا مقصد حاصل ہونے تک یہ جنگ جاری رکھنی چاہئے۔ اگر وہ ایمان رکھتے ہیں تو انہیں شادمانی کا تاج نصیب ہوگا۔

8. 28 : 15-6

Neither the origin, the character, nor the work of Jesus was generally understood. Not a single component part of his nature did the material world measure aright. Even his righteousness and purity did not hinder men from saying: He is a glutton and a friend of the impure, and Beelzebub is his patron.

Remember, thou Christian martyr, it is enough if thou art found worthy to unloose the sandals of thy Master’s feet! To suppose that persecution for righteousness’ sake belongs to the past, and that Christianity to-day is at peace with the world because it is honored by sects and societies, is to mistake the very nature of religion. Error repeats itself. The trials encountered by prophet, disciple, and apostle, “of whom the world was not worthy,” await, in some form, every pioneer of truth.

There is too much animal courage in society and not sufficient moral courage. Christians must take up arms against error at home and abroad. They must grapple with sin in themselves and in others, and continue this warfare until they have finished their course. If they keep the faith, they will have the crown of rejoicing.

9۔ 265 :31۔5

فہم کی تکالیف صحت بخش ہیں، اگر وہ جھوٹے پْرلطف عقائد کو کھینچ کر دور کرتے اور روح کے فہم سے محبت پیدا کرتے ہیں، جہاں خدا کی مخلوقات اچھی ہیں اور ”دل کو شادمان“ کرتی ہیں۔ ایسی ہی سائنس کی تلوار ہے جس سے سچائی غلطی، مادیت کا سر قلم کرتی ہے، انسان کی بلند انفرادیت اور قسمت کو جگہ فراہم کرتے ہوئے۔

9. 265 : 31-5

The pains of sense are salutary, if they wrench away false pleasurable beliefs and transplant the affections from sense to Soul, where the creations of God are good, “rejoicing the heart.” Such is the sword of Science, with which Truth decapitates error, materiality giving place to man’s higher individuality and destiny.

10۔ 326 :3۔5، 12۔22

اگر ہم مسیح یعنی سچائی کی پیروی کرنے کے خواہاں ہیں، تو یہ خدا کے مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہئے۔ یسوع نے کہا، ”جو مجھ پر ایمان رکھتا ہے یہ کام جو میں کرتا ہوں وہ بھی کرے گا۔“

ہمیں مادی نظاموں کی بنیاد کو ترک کرنا چاہئے، تاہم یہ منحصر ہے، اگر ہم مسیح کو ہمارے واحد نجات دہندہ کے طور پر حاصل کرتے ہیں۔ جزوی نہیں بلکہ مکمل طور پر مادی سوچ کا عظیم شفا دینے والا جسم کو بھی شفا دینے والا ہے۔

صحیح ڈھنگ سے زندگی گزارنے کا مقصد اور غرض اب حاصل کئے جا سکتے ہیں۔یہ فتح کیا گیا نقطہ آپ نے ویسے ہی شروع کیا جیسے یہ کرنا چاہئے تھا۔ آپ نے کرسچن سائنس کا عددی جدول شروع کیا ہے، اور کچھ نہیں ہو گا ماسوائے غلط نیت آپ کی ترقی میں رکاوٹ بنے گی۔ سچے مقاصد کے ساتھ کام کرنے اور دعا کرنے سے آپ کا باپ آپ کے لئے راستہ کھول دے گا۔”کس نے تمہیں حق کے ماننے سے روک دیا؟“

10. 326 : 3-5, 12-22

If we wish to follow Christ, Truth, it must be in the way of God’s appointing. Jesus said, “He that believeth on me, the works that I do shall he do also.”

We must forsake the foundation of material systems, however time-honored, if we would gain the Christ as our only Saviour. Not partially, but fully, the great healer of mortal mind is the healer of the body.

The purpose and motive to live aright can be gained now. This point won, you have started as you should. You have begun at the numeration-table of Christian Science, and nothing but wrong intention can hinder your advancement. Working and praying with true motives, your Father will open the way. “Who did hinder you, that ye should not obey the truth?”


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████