اتوار یکم اگست،2021



مضمون۔ محبت

SubjectLove

سنہری متن: رومیوں 13 باب10 آیت

”محبت شریعت کی تعمیل ہے۔“



Golden Text: Romans 13 : 10

Love is the fulfilling of the law.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور 119: 97، 114، 117، 127، 133، 165 آیات


97۔ آہ! مَیں تیری شریعت سے کیسی محبت رکھتا ہوں۔ مجھے دن بھر اْسی کا دھیان رہتا ہے۔

114۔ تْو میرے چھپنے کی جگہ اور میری سپر ہے۔ مجھے تیرے کلام پر اعتماد ہے۔

117۔ مجھے سنبھال اور مَیں سلامت رہوں گا اور ہمیشہ تیرے آئین کا لحاظ رکھوں گا۔

127۔ اِس لئے مَیں تیرے فرمان کو سونے سے بلکہ کْندن سے بھی زیادہ عزیز رکھتا ہوں۔

133۔ اپنے کلام سے میری راہنمائی کر۔ کوئی بدکاری مجھ پر تسلط نہ پائے۔

165۔ تیری شریعت سے محبت رکھنے والے مطمین ہیں۔ اْن کے ٹھوکر کھانے کا کوئی موقع نہیں۔

Responsive Reading: Psalm 119 : 97, 114, 117, 127, 133, 165

97.     O how love I thy law! it is my meditation all the day.

114.     Thou art my hiding place and my shield: I hope in thy word.

117.     Hold thou me up, and I shall be safe: and I will have respect unto thy statutes continually.

127.     Therefore I love thy commandments above gold; yea, above fine gold.

133.     Order my steps in thy word: and let not any iniquity have dominion over me.

165.     Great peace have they which love thy law: and nothing shall offend them.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ یشوع22 باب5 آیت (رکھنا)

5۔۔۔ اِس فرمان اور شرع پر عمل کرنے کی نہایت احتیاط رکھنا جس کا حکم خداوند کے بندہ موسیٰ نے تم کو دیا کہ تم خداوند اپنے خدا سے محبت رکھو اور اْس کی سب راہوں پر چلو اور اْس کے حکموں کو مانو اور اْس سے لپٹے رہو اور اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے اْس کی بندگی کرو۔

1. Joshua 22 : 5 (take)

5     …take diligent heed to do the commandment and the law, which Moses the servant of the Lord charged you, to love the Lord your God, and to walk in all his ways, and to keep his commandments, and to cleave unto him, and to serve him with all your heart and with all your soul.

2۔ روت 1باب1، 2 (تا تیسرا)، 3تا6، 8، 9 (تب)تا11 (تاپہلا)، 12 (تا۔)، 14 (تا:)، 16،19 (تا۔) آیات

1۔ اور اِن ہی ایام میں جب قاضی انصاف کیا کرتے تھے ایسا ہوا کہ اِس سر زمین میں کال پڑا اور یہوداہ کے بیت لحم کا ایک مرد اپنی بیوی اور دو بیٹوں کو لے کر چلا کہ موآب کے ملک میں جا کر بسے۔

2۔ اِس مرد کا نام الیملک اور اسکی بیوی کا نام نعومی تھا اور اسکے دونوں بیٹوں کے نام محلون اور کلیون تھے۔

3۔ اورنعومی کا شوہر الیملک مر گیا۔ پس وہ اور اْس کے دونوں بیٹے باقی رہ گئے۔

4۔اِن دونوں نے ایک ایک موآبی عورت بیاہ لی۔ اِن میں سے ایک کا نام عرفہ اوردوسری کا نام روت تھا۔ اور وہ دس برس کے قریب وہاں رہے۔

5۔ اورمحلون اور کلیون دونوں مر گئے۔ سو وہ عورت اپنے دونوں بیٹوں اور خاوند سے چھوٹ گئی۔

6۔ تب وہ اپنی دونوں بہوؤں کو لے کر اٹھی کہ موآب کے ملک سے لوٹ جائے اس لئے کہ اْس نے موآب کے ملک میں یہ حال سنا کہ خداوند نے اپنے لوگوں کو روٹی دی اور یوں اْن کی خبر لی۔

8۔ اور نعومی نے اپنی دونوں بہوؤں سے کہا کہ تم دونوں اپنے اپنے میکے کو جاؤ جیسا تم نے مرحوموں کے ساتھ اور جیسا میرے ساتھ کیا ویسا ہی خداوند تمہارے ساتھ مہر سے پیش آئے۔

9۔ تب اس نے اْن کو چوما اور وہ چلا چلا کر رونے لگیں۔

10۔ پھر اْن دونوں نے اس سے کہا کہ نہیں بلکہ ہم تیرے ساتھ لوٹ کر تیرے لوگوں میں جائیں گی۔

11۔ نعومی نے کہا

12۔ اے میری بیٹیو لوٹ جاؤ اور اپنا راستہ لو کیونکہ میں زیادہ بڑھیا ہوں اور شوہر کرنے کے لائق نہیں۔

14۔ تب وہ پھر چلا چلا کر روئیں۔

16۔ روت نے کہا تو منت نہ کر کہ میں تجھے چھوڑوں اورتیرے پیچھے سے لوٹ جاؤں کیونکہ جہاں تو جائے گی میں جاؤں گی اور جہاں تو رہے گی میں رہوں گی تیرے لوگ میرے لوگ اور تیرا خدا میرا خدا۔

19۔ سو وہ دونوں چلتے چلتے بیت لحم میں آئیں۔

2. Ruth 1 : 1, 2 (to 3rd ,), 3-6, 8, 9 (Then)-11 (to 1st ,), 12 (to .), 14 (to :), 16, 19 (to .)

1     Now it came to pass in the days when the judges ruled, that there was a famine in the land. And a certain man of Beth-lehem-judah went to sojourn in the country of Moab, he, and his wife, and his two sons.

2     And the name of the man was Elimelech, and the name of his wife Naomi, and the name of his two sons Mahlon and Chilion,

3     And Elimelech Naomi’s husband died; and she was left, and her two sons.

4     And they took them wives of the women of Moab; the name of the one was Orpah, and the name of the other Ruth: and they dwelled there about ten years.

5     And Mahlon and Chilion died also both of them; and the woman was left of her two sons and her husband.

6     Then she arose with her daughters in law, that she might return from the country of Moab: for she had heard in the country of Moab how that the Lord had visited his people in giving them bread.

8     And Naomi said unto her two daughters in law, Go, return each to her mother’s house: the Lord deal kindly with you, as ye have dealt with the dead, and with me.

9     Then she kissed them; and they lifted up their voice, and wept.

10     And they said unto her, Surely we will return with thee unto thy people.

11     And Naomi said,

12     Turn again, my daughters, go your way; for I am too old to have an husband.

14     And they lifted up their voice, and wept again:

16     And Ruth said, Intreat me not to leave thee, or to return from following after thee: for whither thou goest, I will go; and where thou lodgest, I will lodge: thy people shall be my people, and thy God my God:

19     So they two went until they came to Beth-lehem.

3۔ روت 2 باب1، 2 (تا پہلا)، 5، 6، 8تا12 آیات

1۔ اورنعومی کے شوہر کا ایک رشتہ دارتھا جو الیملک کے گھرانے کا اور بڑا مالدارتھا اس کا نام بوعز تھا۔

2۔ سو موآبی روت نے نعومی سے کہا مجھے اجازت دے تو میں کھیت میں جاؤں اور جو کوئی کرم کی نظر مجھ پر کرے اْس کے پیچھے پیچھے بالیں چْنوں اْس نے اْس سے کہا جا میری بیٹی۔

5۔ پھر بوعز نے اپنے اْس نوکر سے جو کاٹنے والوں پر مقرر تھا پوچھا یہ کس کی لڑکی ہے؟

6۔ اْس نوکر نے جو کاٹنے والوں پر مقرر تھا جواب دیا یہ وہ موآبی لڑکی ہے جو نعومی کے ساتھ موآب کے ملک سے آئی ہے۔

8۔ تب بوعز نے روت سے کہا اے میری بیٹی! کیا تجھے سنائی نہیں دیتا؟ تْو دوسرے کھیت میں بالیں چننے کو نہ جانا اور نہ یہاں سے نکلنا بلکہ میری چھوکریوں کے ساتھ ساتھ رہنا۔

9۔ اْس کھیت پر جسے وہ کاٹتے ہیں تیری آنکھیں جمی رہیں اورتْو اِن ہی کے پیچھے پیچھے چلنا۔ کیا میں نے اِن جوانوں کو حکم نہیں دیا کہ وہ تجھے نہ چھوئیں؟ اورجب تْو پیاسی ہو تو برتنوں کے پاس جا کر اِسی پانی میں سے پینا جو میرے جوانوں نے بھرا ہے۔

10۔ تب وہ اوندھے منہ گری اورزمین پر سر نگوں ہو کر اْس سے کہا کیا باعث ہے کہ تْو مجھ پر کرم کی نظر کر کے میری خبر لیتا ہے حالانکہ میں پردیسن ہوں؟

11۔ بوعز نے اْس سے کہا کہ جو کچھ تْو نے اپنے خاوند کے مرنے کے بعد اپنی ساس کے ساتھ کیا وہ سب مجھے پورے طور پر بتایا گیا ہے کہ تْو نے کیسے اپنے ماں باپ اورزاد بوم کو چھوڑا اور اِن لوگوں میں جِن کو تْو اس سے پیشتر نہ جانتی تھی آئی۔

12۔خداوند تیرے کام کا بدلہ دے بلکہ خداوند اسرائیل کے خدا کی طرف سے جس کے پروں میں تو پناہ کے لیے آئی ہے تجھ کو پورا اجر ملے۔

3. Ruth 2 : 1, 2 (to 1st .), 5, 6, 8-12

1     And Naomi had a kinsman of her husband’s, a mighty man of wealth, of the family of Elimelech; and his name was Boaz.

2     And Ruth the Moabitess said unto Naomi, Let me now go to the field, and glean ears of corn after him in whose sight I shall find grace.

5     Then said Boaz unto his servant that was set over the reapers, Whose damsel is this?

6     And the servant that was set over the reapers answered and said, It is the Moabitish damsel that came back with Naomi out of the country of Moab:

8     Then said Boaz unto Ruth, Hearest thou not, my daughter? Go not to glean in another field, neither go from hence, but abide here fast by my maidens:

9     Let thine eyes be on the field that they do reap, and go thou after them: have I not charged the young men that they shall not touch thee? and when thou art athirst, go unto the vessels, and drink of that which the young men have drawn.

10     Then she fell on her face, and bowed herself to the ground, and said unto him, Why have I found grace in thine eyes, that thou shouldest take knowledge of me, seeing I am a stranger?

11     And Boaz answered and said unto her, It hath fully been shewed me, all that thou hast done unto thy mother in law since the death of thine husband: and how thou hast left thy father and thy mother, and the land of thy nativity, and art come unto a people which thou knewest not heretofore.

12     The Lord recompense thy work, and a full reward be given thee of the Lord God of Israel, under whose wings thou art come to trust.

4۔ صفنیاہ 3 باب17 آیت

17۔خداوند تیرا خدا جو تجھ میں ہے قادر ہے۔ وہی بچا لے گا۔ وہ تیرے سبب سے شادمان ہوکر خوشی کرے گا۔ وہ اپنی محبت میں مسرور رہے گا۔ وہ گاتے ہوئے تیرے لئے شادمانی کرے گا۔

4. Zephaniah 3 : 17

17     The Lord thy God in the midst of thee is mighty; he will save, he will rejoice over thee with joy; he will rest in his love, he will joy over thee with singing.

5۔ رومیوں 13باب8، 10 آیات

8۔آپس کی محبت کے سوا کسی چیز میں کسی کے قرضدار نہ ہو کیونکہ جو دوسرے سے محبت رکھتا ہے اْس نے شریعت پر پورا عمل کیا۔

10۔ محبت اپنے پڑوسی سے بدی نہیں کرتی۔ اِس واسطے محبت شریعت کی تعمیل ہے۔

5. Romans 13 : 8, 10

8     Owe no man any thing, but to love one another: for he that loveth another hath fulfilled the law.

10     Love worketh no ill to his neighbour: therefore love is the fulfilling of the law.

6۔ گلتیوں 5 باب14 آیت

14۔کیونکہ ساری شریعت پر ایک ہی بات سے پورا عمل ہو جاتا ہے یعنی اِس سے کہ تْو اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھ۔

6. Galatians 5 : 14

14     For all the law is fulfilled in one word, even in this; Thou shalt love thy neighbour as thyself.

7۔ 1یوحنا 4 باب7، 8، 10 (تا تیسرا)، 11، 12، 16، 18، 19، 21 آیات

7۔اے عزیزو! آؤ ہم ایک دوسرے سے محبت رکھیں کیونکہ محبت خدا کی طرف سے ہے اور جو کوئی محبت رکھتا ہے وہ خدا سے پیدا ہوا ہے اور خدا کو جانتا ہے۔

8۔ جو محبت نہیں رکھتا وہ خدا کو نہیں جانتا کیونکہ خدا محبت ہے۔

10۔ محبت اِس میں نہیں کہ ہم نے خدا سے محبت کی بلکہ اِس میں ہے کہ اْس نے ہم سے محبت کی۔

11۔ اے عزیزو! جب خدا نے ہم سے ایسی محبت کی تو ہم پر بھی ایک دوسرے سے محبت رکھنا فرض ہے۔

12۔ خدا کو کبھی کسی نے نہیں دیکھا۔ اگر ہم ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں تو خدا ہم میں رہتا ہے اور اْس کی محبت ہمارے دل میں کامل ہو گئی ہے۔

16۔ جو محبت خدا کو ہم سے ہے اْس کو ہم جان گئے اور ہمیں اْس کا یقین ہے۔ خدا محبت ہے اور جو محبت میں قائم رہتا ہے وہ خدا میں قائم رہتا ہے اور خدا اْس میں قائم رہتا ہے۔

18۔ محبت میں خوف نہیں ہوتا بلکہ کامل محبت خوف کو دور کر دیتی ہے کیونکہ خوف سے عذاب ہوتا ہے اور کوئی خوف کرنے والا محبت میں کامل نہیں ہوا۔

19۔ ہم اِس لئے محبت رکھتے ہیں کہ پہلے اْس نے ہم سے محبت رکھی۔

21۔ اور ہم کو اْس کی طرف سے یہ حکم ملا ہے کہ جو کوئی خدا سے محبت رکھتا ہے وہ اپنے بھائی سے بھی محبت رکھے۔

7. I John 4 : 7, 8, 10 (to 3rd ,), 11, 12, 16, 18, 19, 21

7     Beloved, let us love one another: for love is of God; and every one that loveth is born of God, and knoweth God.

8     He that loveth not knoweth not God; for God is love.

10     Herein is love, not that we loved God, but that he loved us,

11     Beloved, if God so loved us, we ought also to love one another.

12     No man hath seen God at any time. If we love one another, God dwelleth in us, and his love is perfected in us.

16     And we have known and believed the love that God hath to us. God is love; and he that dwelleth in love dwelleth in God, and God in him.

18     There is no fear in love; but perfect love casteth out fear: because fear hath torment. He that feareth is not made perfect in love.

19     We love him, because he first loved us.

21     And this commandment have we from him, That he who loveth God love his brother also.

8۔ 1 یوحنا 5باب3 (تا:) آیت

3۔اور خدا کی محبت یہ ہے کہ ہم اْس کے حکموں پر عمل کریں۔

8. I John 5 : 3 (to :)

3     For this is the love of God, that we keep his commandments:



سائنس اور صح


1۔ 384 :5۔6

آئیے ہم محبت کی شریعت سے خود کی حوصلہ افزائی کریں۔

1. 384 : 5-6

Let us reassure ourselves with the law of Love.

2۔ 494 :10۔15

الٰہی محبت نے ہمیشہ انسانی ضرورت کو پورا کیا ہے اور ہمیشہ پورا کرے گی۔ اس بات کا تصور کرنا مناسب نہیں کہ یسوع نے محض چند مخصوص تعداد میں یا محدود عرصے تک شفا دینے کے لئے الٰہی طاقت کا مظاہرہ کیا، کیونکہ الٰہی محبت تمام انسانوں کے لئے ہر لمحہ سب کچھ مہیا کرتی ہے۔

فضل کا معجزہ محبت کے لئے کوئی معجزہ نہیں ہے۔

2. 494 : 10-15

Divine Love always has met and always will meet every human need. It is not well to imagine that Jesus demonstrated the divine power to heal only for a select number or for a limited period of time, since to all mankind and in every hour, divine Love supplies all good.

The miracle of grace is no miracle to Love.

3۔ 454 :17۔24

شفا اور تعلیم دونوں میں خدا اور انسان سے محبت سچی ترغیب ہے۔محبت راہ کو متاثر کرتی، روشن کرتی، نامزد کرتی اور راہنمائی کرتی ہے۔ درست مقاصد خیالات کو شہ دیتے، اور کلام اور اعمال کو قوت اور آزادی دیتے ہیں۔محبت سچائی کی الطار پر بڑی راہبہ ہے۔ فانی عقل کے پانیوں پر چلنے اور کامل نظریہ تشکیل دینے کے لئے صبر کے ساتھ الٰہی محبت کا انتظار کریں۔صبر کو ”اپنا پورا کام کرنا چاہئے۔“

3. 454 : 17-24

Love for God and man is the true incentive in both healing and teaching. Love inspires, illumines, designates, and leads the way. Right motives give pinions to thought, and strength and freedom to speech and action. Love is priestess at the altar of Truth. Wait patiently for divine Love to move upon the waters of mortal mind, and form the perfect concept. Patience must "have her perfect work."

4۔ 243 :4۔13، 25۔29

الٰہی محبت، جس نے زہریلے سانپ کو بے ضرر بنایا، جس نے آدمیوں کو اْبلتے ہوئے تیل سے، بھڑکتے ہوئے تندور سے، شیر کے پنجوں سے بچایا، وہ ہر دور میں بیمار کو شفا دے سکتی اور گناہ اور موت پر فتح مند ہو سکتی ہے۔اس نے یسوع کے اظہاروں کو بلا سبقت طاقت اور محبت سے سرتاج کیا۔ لیکن ”وہی عقل۔۔۔ جو مسیح یسوع کی بھی ہے“ سائنس کے خط کے ہمراہ ہونی چاہئے تاکہ نبیوں اور رسولوں کے پرانے اظہاروں کو دوہرائے اور تصدیق کرے۔

سچائی میں غلطی کا کوئی شعور نہیں ہے۔ محبت میں نفرت کا کوئی فہم نہیں ہے۔ زندگی کی موت کے ساتھ کوئی شراکت نہیں ہے۔ سچائی، زندگی اور محبت ہر اْس چیز کے لئے ہلاکت کا ایک قانون ہے جو اِن کے برعکس ہے، کیونکہ یہ خدا کے سوا کچھ بھی ظاہر نہیں کرتیں۔

4. 243 : 4-13, 25-29

The divine Love, which made harmless the poisonous viper, which delivered men from the boiling oil, from the fiery furnace, from the jaws of the lion, can heal the sick in every age and triumph over sin and death. It crowned the demonstrations of Jesus with unsurpassed power and love. But the same "Mind ... which was also in Christ Jesus" must always accompany the letter of Science in order to confirm and repeat the ancient demonstrations of prophets and apostles.

Truth has no consciousness of error. Love has no sense of hatred. Life has no partnership with death. Truth, Life, and Love are a law of annihilation to everything unlike themselves, because they declare nothing except God.

5۔ 135 :21۔32

یہ کہا گیا ہے اور یہ سچ بھی ہے کہ مسیحت سائنس ہونی چاہئے اور سائنس مسیحت ہونی چاہئے، وگرنہ یا اِس کے برعکس دوسرا کوئی بھی جھوٹ اور بیکار ہی ہے؛ مگر کوئی بھی غیر ضروری یا غیر حقیقی نہیں ہے، وہ اظہار میں یکساں ہی ہیں۔یہ دوسرے کے ساتھ مطابقت رکھتا ثابت ہوتا ہے۔ مسیحت جیسے کہ یسوع نے اس کی تعلیم دی کوئی بھید یا تقریبات کا ایک نظام نہیں اور نہ ہی ایک رسمی یہواہ کی طرف سے ایک خاص تحفہ ہے؛ بلکہ یہ غلطی کو رفع کرنے اور بیمار کو شفا دینے کے لئے الٰہی محبت کا اظہار تھا، محض مسیح یا سچائی کے نام سے نہیں، بلکہ سچائی کے اظہار میں، جیسا معاملہ الٰہی روشنی کے سلسلہ کا ہواہوگا۔

5. 135 : 21-32

It has been said, and truly, that Christianity must be Science, and Science must be Christianity, else one or the other is false and useless; but neither is unimportant or untrue, and they are alike in demonstration. This proves the one to be identical with the other. Christianity as Jesus taught it was not a creed, nor a system of ceremonies, nor a special gift from a ritualistic Jehovah; but it was the demonstration of divine Love casting out error and healing the sick, not merely in the name of Christ, or Truth, but in demonstration of Truth, as must be the case in the cycles of divine light.

6۔ 304 :9۔15

یہ کرسچن سائنس کا عقیدہ ہے: کہ الٰہی محبت اپنے اظہار یا موضوع سے عاری نہیں ہوسکتی، کہ خوشی غم میں تبدیل نہیں ہو سکتی کیونکہ غمی خوشی کی مالک نہیں ہے؛ کہ اچھائی بدی کو کبھی پیدا نہیں کرسکتی؛ کہ مادا کبھی عقل کو پیدا نہیں کر سکتا نہ ہی زندگی کبھی موت کا نتیجہ موت ہو سکتی ہے۔ کامل انسان، خدایعنی اپنے کامل اصول کے ماتحت، گناہ سے پاک اور ابدی ہے۔

6. 304 : 9-15

This is the doctrine of Christian Science: that divine Love cannot be deprived of its manifestation, or object; that joy cannot be turned into sorrow, for sorrow is not the master of joy; that good can never produce evil; that matter can never produce mind nor life result in death. The perfect man — governed by God, his perfect Principle — is sinless and eternal.

7۔ 288 :3۔8

سچ اور غلطی کے مابین فرضی جنگ روحانی حواس کے ثبوت اور مادی حواس کی گواہی کے مابین محض ایک ذہنی تصادم ہے، اور روح اور بدن کے مابین یہ جنگ الٰہی محبت کے فہم اور اْس پر ایمان کے وسیلہ تمام تر سوالات کو حل کردے گی۔

7. 288 : 3-8

The suppositional warfare between truth and error is only the mental conflict between the evidence of the spiritual senses and the testimony of the material senses, and this warfare between the Spirit and flesh will settle all questions through faith in and the understanding of divine Love.

8۔ 560 :10۔17

آسمان ہم آہنگی کو پیش کرتا ہے اور الٰہی سائنس آسمانی ہم آہنگی کے اصول کی تشریح کرتی ہے۔ انسانی فہم کے لئے ایک بڑا معجزہ الٰہی محبت ہے، اور وجودیت کی سب سے بڑی ضرورت اْس چیز کا حقیقی تصور پانا ہے جو انسان کے اندر آسمان کی بادشاہی کو تعمیر کرتی ہے۔یہ مقصد تب تک حاصل نہیں کیا جاتا جب تک ہم اپنے پڑوسی سے نفرت کرتے یا کسی ایسے شخص سے متعلق جھوٹے اندازے کو قبول کرتے ہیں جسے خدا کے کلام کی آواز بننے کے لئے مقرر کیا گیا ہو۔

8. 560 : 10-17

Heaven represents harmony, and divine Science interprets the Principle of heavenly harmony. The great miracle, to human sense, is divine Love, and the grand necessity of existence is to gain the true idea of what constitutes the kingdom of heaven in man. This goal is never reached while we hate our neighbor or entertain a false estimate of anyone whom God has appointed to voice His Word.

9۔ 367 :3۔10 (تا دوسرا)

کسی فرد کے لئے نرم الفاظ اور مسیحی حوصلہ افزائی، اْس کے خدشات کے لئے رحم و صبر کرنااور اْن کا خاتمہ کرنا ایسی جذباتی اجتماعی قربانیوں کے نظریات، دقیانوسی مستعار لی گئی تقریروں اور مباحثوں سے قدرے بہتر ہے جوالٰہی محبت سے شعلہ زن جائزکرسچن سائنس کی مضحکہ خیز نقل کے سوا کچھ نہیں ہیں۔

سچائی، مسیح کی تلاش کرنے کا یہی مطلب ہے۔

9. 367 : 3-10 (to 2nd ,)

The tender word and Christian encouragement of an invalid, pitiful patience with his fears and the removal of them, are better than hecatombs of gushing theories, stereotyped borrowed speeches, and the doling of arguments, which are but so many parodies on legitimate Christian Science, aflame with divine Love.

This is what is meant by seeking Truth, Christ,

10۔ 239 :16۔22

ہماری ترقی کا تعین کرنے کے لئے، ہمیں یہ سیکھنا چاہئے کہ ہماری ہمدردیاں کہاں ہیں اور ہم کسے بطور خدا قبول کرتے اور اْس کی تابعداری کرتے ہیں۔ اگر الٰہی محبت ہمارے نزدیک تر، عزیز تر اور زیادہ حقیقی ہوتی جاتی ہے، تو مادا روح کے حوالے ہو رہا ہے۔ تو جن مقاصد کا ہم تعاقب کرتے ہیں اورجس روح کو ہم ظاہر کرتے ہیں وہ ہمارے نقطہ نظر کو پیش کرتی ہے، اور دکھاتی ہے کہ ہم کیا فتح کر رہے ہیں۔

10. 239 : 16-22

To ascertain our progress, we must learn where our affections are placed and whom we acknowledge and obey as God. If divine Love is becoming nearer, dearer, and more real to us, matter is then submitting to Spirit. The objects we pursue and the spirit we manifest reveal our standpoint, and show what we are winning.

11۔ 55 :15۔26

سچائی کا لافانی نظریہ،اپنے پروں تلے بیماروں اور گناہگاروں کو یکجا کرتے ہوئے،صدیوں کا احاطہ کررہا ہے۔میری خستہ حال امید اْس خوشی کے دن کا احساس دلانے کی کوشش کرتی ہے، جب انسان مسیح کی سائنس کو سمجھے گا اور اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھے گا، جب وہ یہ جانے گا کہ خدا قادر مطلق ہے اور جو کچھ اْس نے انسان کے لئے کیا ہے اور کر رہا ہے اْس میں الٰہی محبت کی شفائیہ طاقت کو جانے گا۔ وعدے پورے کئے جائیں گے۔ الٰہی شفا کے دوبارہ ظاہر ہونے کا وقت ہمہ وقت ہوتا ہے؛ اور جو کوئی بھی اپنازمینی سب کچھ الٰہی سائنس کی الطار پر رکھتا ہے، وہ اب مسیح کے پیالے میں سے پیتا ہے، اور وہ روح اور مسیحی شفا کی طاقت سے ملبوس ہوتا ہے۔

11. 55 : 15-26

Truth's immortal idea is sweeping down the centuries, gathering beneath its wings the sick and sinning. My weary hope tries to realize that happy day, when man shall recognize the Science of Christ and love his neighbor as himself, — when he shall realize God's omnipotence and the healing power of the divine Love in what it has done and is doing for mankind. The promises will be fulfilled. The time for the reappearing of the divine healing is throughout all time; and whosoever layeth his earthly all on the altar of divine Science, drinketh of Christ's cup now, and is endued with the spirit and power of Christian healing.

12۔ 412 :13۔15

کرسچن سائنس اور الٰہی محبت کی طاقت قادر مطلق ہے۔ در حقیقت گرفت کو ڈھیلا کرنا اور بیماری، موت اور گناہ کو نیست کرنا جائزہے۔

12. 412 : 13-15

The power of Christian Science and divine Love is omnipotent. It is indeed adequate to unclasp the hold and to destroy disease, sin, and death.

13۔ 241 :19۔24

ساری جانثاری کا مادا الٰہی محبت، بیماری کی شفا اور گناہ کی تباہی کا عکس اور اظہار ہے۔ہمارے مالک نے کہا، ”اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو گے۔“

ایمان سے آگے، کسی شخص کا مقصد سچائی کے نقش قدم کو ڈھونڈنا ہونا چاہئے جو صحت اور پاکیزگی کی راہ ہے۔

13. 241 : 19-24

The substance of all devotion is the reflection and demonstration of divine Love, healing sickness and destroying sin. Our Master said, "If ye love me, keep my commandments."

One's aim, a point beyond faith, should be to find the footsteps of Truth, the way to health and holiness.

14۔ 340 :9۔14

دوسرے الفاظ میں: آئیے سارے معاملے کا نتیجہ سنتے ہیں: خدا سے محبت رکھیں اور اْس کے حکموں پر عمل کریں: کیونکہ یہی اْس کی شبیہ اور صورت پر کامل انسانیت ہے۔ الٰہی محبت لامحدود ہے۔ اِس لئے جو کچھ بھی وجود رکھتا ہے سب خدا میں اور خدا کا ہے، اور یہ اْس کی محبت کو ظاہر کرتا ہے۔

14. 340 : 9-14

In other words: Let us hear the conclusion of the whole matter: love God and keep His commandments: for this is the whole of man in His image and likeness. Divine Love is infinite. Therefore all that really exists is in and of God, and manifests His love.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████