اتوار یکم نومبر ، 2020  |

اتوار یکم نومبر ، 2020 



مضمون۔ دائمی سزا

SubjectEverlasting Punishment

سنہری متن: 1 تواریخ 16 باب23 آیت

”اے سب اہلِ زمین! خداوند کے حضور گاؤ روز بروز اْس کی نجات کی بشارت دو۔“



Golden Text: I Chronicles 16 : 23

Sing unto the Lord, all the earth; shew forth from day to day his salvation.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور 95: 1تا6 آیات


1۔ آؤ ہم خداوند کے حضور نغمہ سرائی کریں! اپنی چٹان کے سامنے خوشی سے للکاریں۔

2۔ شکر کرتے ہوئے اْس کے حضور حاضر ہوں۔مزمور گاتے ہوئے اْس کے آگے خوشی سے للکاریں۔

3۔ کیونکہ خداوند خدائے عظیم ہے۔ اور سب الہٰوں پر شاہ عظیم ہے۔

4۔ زمین کے گہراؤ اْس کے قبضہ میں ہیں پہاڑوں کی چوٹیاں بھی اْسی کی ہیں۔

5۔ سمندر اْس کا ہے۔ اْسی نے اْس کو بنایا۔ اور اْس کے ہاتھوں نے خشکی کو بھی تیار کیا۔

6۔ آؤ ہم جھکیں اور سجدہ کریں! اور اپنے خالق ِخداوند کے حضور گھٹنے ٹیکیں۔

Responsive Reading: Psalm 95 : 1-6

1.     O come, let us sing unto the Lord: let us make a joyful noise to the rock of our salvation.

2.     Let us come before his presence with thanksgiving, and make a joyful noise unto him with psalms.

3.     For the Lord is a great God, and a great King above all gods.

4.     In his hand are the deep places of the earth: the strength of the hills is his also.

5.     The sea is his, and he made it: and his hands formed the dry land.

6.     O come, let us worship and bow down: let us kneel before the Lord our maker.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ زبور 51: 1تا4 آیات

1۔ اے خدا! اپنی شفقت کے مطابق مجھ پر رحم کر۔ اپنی رحمت کی کثرت کے مطابق میری خطائیں مٹا دے۔

2۔ میری بدی کو مجھ سے دھو ڈال اور میرے گناہ سے مجھے پاک کر۔

3۔ کیونکہ مَیں اپنی خطاؤں کو مانتا ہوں۔ اور میرا گناہ ہمیشہ میرے سامنے ہے۔

4۔ مَیں نے فقط تیرا ہی گناہ کیا ہے۔ اوروہ کام کیا ہے جو تیری نظر میں برا ہے۔تاکہ تْو اپنی باتوں میں راست ٹھہرے۔ اور اپنی عدالت میں بے عیب رہے۔

1. Psalm 51 : 1-4

1     Have mercy upon me, O God, according to thy lovingkindness: according unto the multitude of thy tender mercies blot out my transgressions.

2     Wash me throughly from mine iniquity, and cleanse me from my sin.

3     For I acknowledge my transgressions: and my sin is ever before me.

4     Against thee, thee only, have I sinned, and done this evil in thy sight: that thou mightest be justified when thou speakest, and be clear when thou judgest.

2۔ یوناہ 1باب1تا4، 10، 12، 15، 17 آیات

1۔ خداوند کا کلام یوناہ بن امتی پر نازل ہوا۔

2۔ کہ اْٹھ اْس بڑے شہر نینواہ کو جا اور اْس کے خلاف منادی کر کیونکہ اْن کی شرارت میرے حضور پہنچی ہے۔

3۔ لیکن یوناہ خداوند کے حضور سے ترسیس کو بھاگا اور یافاہ میں پہنچا اور وہاں اْسے ترسیس کو جانے والا جہاز ملا اور وہ کرایہ دے کر جہاز میں سوار ہوا تاکہ خداوند کے حضور سے ترسیس کو اہلِ جہاز کے ساتھ جائے۔

4۔ لیکن خداوند نے سمندر پر بڑی آندھی بھیجی اور سمندر میں سخت طوفان برپا ہوا اور اندیشہ تھا کہ جہاز تباہ ہوجائے۔

10۔ تب وہ خوفذدہ ہو کر اْس سے کہنے لگے تْو نے یہ کیا کِیا؟ کیونکہ اْن کو یہ معلوم تھا کہ وہ خداوند کے حضور سے بھاگا ہے اِس لئے کہ اْس نے خود اْن سے کہا تھا۔

12۔ تب اْس نے اْن سے کہا مجھ کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دو تو تمہارے لئے سمندر ساکن ہو جائے گا کیونکہ مَیں جانتا ہوں کہ یہ بڑا طوفان تم پر میرے سبب سے آیا ہے۔

15۔ اور اْنہوں نے یوناہ کو اْٹھا کر سمندر میں پھینک دیا اور سمندر کا طلاطم موقوف ہوگیا۔

17۔ لیکن خداوند نے ایک بڑی مچھلی مقرر کر رکھی تھی کہ یوناہ کو نگل جائے اور یوناہ تین دن تین رات مچھلی کے پیٹ میں رہا۔

2. Jonah 1 : 1-4, 10, 12, 15, 17

1     Now the word of the Lord came unto Jonah the son of Amittai, saying,

2     Arise, go to Nineveh, that great city, and cry against it; for their wickedness is come up before me.

3     But Jonah rose up to flee unto Tarshish from the presence of the Lord, and went down to Joppa; and he found a ship going to Tarshish: so he paid the fare thereof, and went down into it, to go with them unto Tarshish from the presence of the Lord.

4     But the Lord sent out a great wind into the sea, and there was a mighty tempest in the sea, so that the ship was like to be broken.

10     Then were the men exceedingly afraid, and said unto him, Why hast thou done this? For the men knew that he fled from the presence of the Lord, because he had told them.

12     And he said unto them, Take me up, and cast me forth into the sea; so shall the sea be calm unto you: for I know that for my sake this great tempest is upon you.

15     So they took up Jonah, and cast him forth into the sea: and the sea ceased from her raging.

17     Now the Lord had prepared a great fish to swallow up Jonah. And Jonah was in the belly of the fish three days and three nights.

3۔ یوناہ 2باب1، 9 (میں ادا کروں گا)، 10 آیات

1۔ تب یوناہ نے مچھلی کے پیٹ میں سے خداوند اپنے خدا سے دعا کی۔

9۔ مَیں اپنی نذریں ادا کروں گا۔ نجات خداوند کی طرف سے ہے۔

10۔ اور خداوند نے مچھلی کو حکم دیا اور اْس نے یوناہ کو خشکی پر اْگل دیا۔

3. Jonah 2 : 1, 9 (I will pay), 10

1     Then Jonah prayed unto the Lord his God out of the fish’s belly,

9     I will pay that that I have vowed. Salvation is of the Lord.

10     And the Lord spake unto the fish, and it vomited out Jonah upon the dry land.

4۔ یوناہ 3باب3 (تاپہلا)، 4تا6، 10 آیات

3۔ تب یوناہ خداوند کے کلام کے مطابق اْٹھ کر نینواہ کو گیا۔

4۔ اور یوناہ شہر میں داخل ہوا اور ایک دن کی راہ چلا۔ اْس نے منادی کی اور کہا چالیس روز کے بعد نینواہ برباد کیا جائے گا۔

5۔ تب نینواہ کے باشندوں نے خداوند پر ایمان لا کر روزہ کی منادی کی اور ادنیٰ اور اعلیٰ سب نے ٹاٹ اوڑھا۔

6۔ اور یہ خبر نینواہ کے بادشاہ کو پہنچی اور وہ اپنے تخت پر سے اٹھا اور بادشاہی لباس کو اتار ڈالا اور ٹاٹ اوڑھ کر راکھ پر بیٹھ گیا۔

10۔ جب خدا نے اْن کی یہ حالت دیکھی کہ وہ اپنی اپنی بری روش سے باز آئے تو وہ اْس عذاب سے جو وہ اْن پر نازل کرنے کو تھا باز آیا اور اْسے نازل نہ کیا۔

4. Jonah 3 : 3 (to 1st .), 4-6, 10

3     So Jonah arose, and went unto Nineveh, according to the word of the Lord.

4     And Jonah began to enter into the city a day’s journey, and he cried, and said, Yet forty days, and Nineveh shall be overthrown.

5     So the people of Nineveh believed God, and proclaimed a fast, and put on sackcloth, from the greatest of them even to the least of them.

6     For word came unto the king of Nineveh, and he arose from his throne, and he laid his robe from him, and covered him with sackcloth, and sat in ashes.

10     And God saw their works, that they turned from their evil way; and God repented of the evil, that he had said that he would do unto them; and he did it not.

5۔ یسعیاہ 52باب7تا10 آیات

7۔ اْس کے پاؤں پہاڑوں پر کیا ہی خوشنما ہیں جو خوشخبری لاتا ہے اور سلامتی کی دعا کرتا ہے اور خیریت کی خبر اور نجات کا اشتہار دیتا ہے۔جو صیہون سے کہتا ہے تیرا خدا سلطنت کرتا ہے۔

8۔ اپنے نگہبانوں کی آواز سن۔ وہ اپنی آواز بلند کرتے ہیں۔ وہ آواز ملا کر گاتے ہیں۔ کیونکہ جب خداوند صیہون کو واپس لائے گا تو وہ اْسے روبرو دیکھیں گے۔

9۔ اے یروشلیم کے ویرانو! خوشی سے للکارو۔ مل کر نغمہ سرائی کرو کیونکہ خداوند نے اپنی قوم کو دلاسا دیا اْس نے یروشلیم کا فدیہ دیا۔

10۔ خداوند نے پاک بازو تمام قوموں کے آگے ننگا کیا ہے اور سر زمین سراسر ہمارے خداوند کی نجات کو دیکھے گی۔

5. Isaiah 52 : 7-10

7     How beautiful upon the mountains are the feet of him that bringeth good tidings, that publisheth peace; that bringeth good tidings of good, that publisheth salvation; that saith unto Zion, Thy God reigneth!

8     Thy watchmen shall lift up the voice; with the voice together shall they sing: for they shall see eye to eye, when the Lord shall bring again Zion.

9     Break forth into joy, sing together, ye waste places of Jerusalem: for the Lord hath comforted his people, he hath redeemed Jerusalem.

10     The Lord hath made bare his holy arm in the eyes of all the nations; and all the ends of the earth shall see the salvation of our God.

6۔ متی 28 باب18 آیت(یسوع آیا)صرف

18۔ یسوع آیا۔۔۔

6. Matthew 28 : 18 (Jesus came) only

18     Jesus came …

7۔ لوقا 15باب2تا10 آیات

2۔ اور فریسی اور فقیہ بڑ بڑا کر کہنے لگے یہ آدمی گنہگاروں سے ملتا اور اُن کے ساتھ کھانا کھاتا ہے۔

3۔ اُس نے اُن سے یہ تمثیل کہی کہ۔

4۔ تم میں سے کون سا ایسا آدمی ہے جس کے پاس سو بھیڑیں ہوں اور ان میں سے ایک کھو جائے تو ننانوے کو بیابان میں چھوڑ کر اس کھوئی ہوئی کو جب تک مل نہ جائے ڈھونڈتا نہ رہے؟

5۔ پھر جب مل جاتی ہے تو وہ خوش ہو کر اسے کندھے پر اٹھا لیتا ہے۔

6۔ اور گھر پہنچ کر دوستوں اور پڑوسیوں کو بلاتا ہے اور کہتا ہے میرے ساتھ خوشی کرو کیونکہ میری کھوئی ہوئی بھیڑ مل گئی۔

7۔ میں تم سے کہتا ہوں کہ اسی طرح ننانوے راستبازوں کی نسبت جوتوبہ کی حاجت نہیں رکھتے ایک توبہ کرنے والے گنہگار کے باعث آسمان پر زیادہ خوشی ہوگی۔

8۔ یا کون ایسی عورت ہے جس کے پاس دس درہم ہوں اور ایک کھو جائے تو وہ چراغ جلا کر گھر میں جھاڑو نہ دے اور جب تک مل نہ جائے کوشش سے ڈھونڈتی نہ رہے؟

9۔ اور جب مل جائے تو اپنی دوستوں اور پڑوسنوں کوبلا کر نہ کہے کہ میرے ساتھ خوشی کرو کیونکہ میرا کھویا ہوادرہم مل گیا۔

10۔ مَیں تم سے کہتا ہوں ایک توبہ کرنے والے گناہگار کے باعث خدا کے فرشتوں کے سامنے خوشی ہوتی ہے۔

7. Luke 15 : 2-10

2     And the Pharisees and scribes murmured, saying, This man receiveth sinners, and eateth with them.

3     And he spake this parable unto them, saying,

4     What man of you, having an hundred sheep, if he lose one of them, doth not leave the ninety and nine in the wilderness, and go after that which is lost, until he find it?

5     And when he hath found it, he layeth it on his shoulders, rejoicing.

6     And when he cometh home, he calleth together his friends and neighbours, saying unto them, Rejoice with me; for I have found my sheep which was lost.

7     I say unto you, that likewise joy shall be in heaven over one sinner that repenteth, more than over ninety and nine just persons, which need no repentance.

8     Either what woman having ten pieces of silver, if she lose one piece, doth not light a candle, and sweep the house, and seek diligently till she find it?

9     And when she hath found it, she calleth her friends and her neighbours together, saying, Rejoice with me; for I have found the piece which I had lost.

10     Likewise, I say unto you, there is joy in the presence of the angels of God over one sinner that repenteth.

8۔ زبور 51: 9تا17 آیات

9۔ میرے گناہوں کی طرف سے منہ پھیر لے۔ اور میری سب بدکاریاں مٹا ڈال۔

10۔ اے خدا! میرے اندر پاک دل پیدا کر اور میرے باطن میں از سرے نو مستقیم روح ڈال۔

11۔ مجھے اپنے حضور سے خارج نہ کر۔ اور اپنی روح کو مجھ سے جدا نہ کر۔

12۔ اپنی نجات کی شادمانی مجھے پھر عنایت کر اور مستعد روح سے مجھے سنبھال۔

13۔ تب مَیں خطاکاروں کو تیری راہیں سکھاؤں گا اور گناہگار تیری طرف رجوع کریں گے۔

14۔ اے خدا! اے میرے نجات بخش خدا! مجھے خون کے جرم سے چھڑا۔ تو میری زبان تیری صداقت کا گیت گائے گی۔

15۔ اے خداوند! میرے ہونٹوں کو کھول دے تو میرے منہ سے تیری ستائش نکلے گی۔

16۔ کیونکہ قربانی میں تیری خوشنودی نہیں ورنہ میں دیتا۔ سوختنی قربانی سے تجھے کچھ خوشی نہیں۔

17۔ شکستہ روح خدا کی قربانی ہے۔ اے خدا تو شکستہ اورخستہ دل حقیر نہ جانے گا۔

8. Psalm 51: 9-17

9     Hide thy face from my sins, and blot out all mine iniquities.

10     Create in me a clean heart, O God; and renew a right spirit within me.

11     Cast me not away from thy presence; and take not thy holy spirit from me.

12     Restore unto me the joy of thy salvation; and uphold me with thy free spirit.

13     Then will I teach transgressors thy ways; and sinners shall be converted unto thee.

14     Deliver me from bloodguiltiness, O God, thou God of my salvation: and my tongue shall sing aloud of thy righteousness.

15     O Lord, open thou my lips; and my mouth shall shew forth thy praise.

16     For thou desirest not sacrifice; else would I give it: thou delightest not in burnt offering.

17     The sacrifices of God are a broken spirit: a broken and a contrite heart, O God, thou wilt not despise.



سائنس اور صح


1۔ 327 :12۔13 (تا دوسرا)۔

گناہ کی تکلیف سے بچنے کا طریقہ گناہ کو ترک کرنا ہے۔ اور کوئی راہ نہیں ہے۔

1. 327 : 12-13 (to 2nd .)

The way to escape the misery of sin is to cease sinning. There is no other way.

2۔ 5: 3۔21، 29۔16

غلط کام پر شرمندگی اصلاح کی جانب ایک قدم ہے لیکن بہت آسان قدم ہے۔ عقل کے باعث جوا گلا اور بڑا قدم اٹھانے کی ضرورت ہے وہ وفاداری کی آزمائش ہے، یعنی اصلاح۔ یہاں تک ہمیں حالات کے دباؤ میں رکھا جاتا ہے۔ آزمائش ہمیں جرم کو دوہرانے کی دعوت دیتی ہے، اورجو کچھ ہوا ہوتا ہے اس کے عوض غم و الم ملتے ہیں۔ یہ ہمیشہ ہوگا، جب تک ہم یہ نہیں سیکھتے کہ عدل کے قانون میں کوئی ریایت نہیں ہے اور ہمیں ”کوڑی کوڑی“ ادا کرنا ہوگی۔جس پیمانے سے تم ناپتے ہو ”اسی سے تمہارے لئے ناپا جائے گا“، اور یہ لبریز ہوگا اور ”باہر چھلکے گا۔“

مقدسین اور گناہگار اپنا مکمل اجر پاتے ہیں، لیکن ہمیشہ اس دنیا میں ہی نہیں۔ مسیح کے پیروکاروں نے اْس کا پیالہ پیا۔ ناشکری اور ایذا نے اسے لبالب بھر دیا؛ لیکن خدا، ہمارے دور کے مطابق ہمیں قوت دیتے ہوئے، فہم اور الفت میں اپنی محبت کی دولت انڈیلتا ہے۔گناہگار ”کسی ہرے درخت کی مانند“ پھلتے ہیں، لیکن دور اندیش ہوتے ہوئے زبور نویس اْن کا اختتام یعنی دْکھوں کی بدولت گناہ کی تباہی دیکھتا ہے۔

ایک رسول کہتا ہے کہ خدا کا بیٹا (مسیح) اِس لئے آیا کہ ”ابلیس کے کاموں کو مٹائے۔“ہمیں ہمارے الٰہی نمونے کی پیروی کرنی چاہئے، اور بدی کے سب کاموں کو بشمول غلطی اور بیماری، نیست کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ہم گناہ کے کفارے سے بچ نہیں سکتے۔ کلام کہتا ہے کہ اگر ہم مسیح کا انکار کرتے ہیں، ”تو وہ بھی ہمارا انکار کرے گا۔“

الٰہی محبت انسان کی اصلاح کرتی اور اْس پر حکمرانی کرتی ہے۔ انسان معافی مانگ سکتے ہیں لیکن صرف الٰہی اصول ہی گناہگار کی اصلاح کرتا ہے۔ خدا اْس حکمت سے الگ نہیں جو وہ عطا کرتا ہے۔جو صلاحتیں وہ ہمیں دیتا ہے ہمیں اْنہیں فروغ دینا چاہئے۔ ہمارے غلط کاموں یا نامکمل کاموں کے لئے معافی پانے کی خاطر اْسے پکارنا اِس بیکار مفروضے کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہمیں معافی مانگنے کے سوا کچھ نہیں کرنا اور اِس کے بعد ہم اِس جرم کو دوہرانے کے لئے آزاد ہو جائیں گے۔

گناہ کے نتیجے میں تکالیف کا موجب بننا، گناہ کو تباہ کرنے کا وسیلہ ہے۔ گناہ میں ملنے والی ہر فرضی تسکین اس کے متوازی درد سے زیادہ آراستہ ہوگی، جب تک کہ مادی زندگی اور گناہ پر یقین تباہ نہیں کر دیا جاتا۔ آسمان یعنی ہستی کی ہم آہنگی پر پہنچنے کے لئے ہمیں الٰہی اصول کی ہستی کو سمجھنا ہوگا۔

2. 5 : 3-21, 29-16

Sorrow for wrong-doing is but one step towards reform and the very easiest step. The next and great step required by wisdom is the test of our sincerity, — namely, reformation. To this end we are placed under the stress of circumstances. Temptation bids us repeat the offence, and woe comes in return for what is done. So it will ever be, till we learn that there is no discount in the law of justice and that we must pay "the uttermost farthing." The measure ye mete "shall be measured to you again," and it will be full "and running over."

Saints and sinners get their full award, but not always in this world. The followers of Christ drank his cup. Ingratitude and persecution filled it to the brim; but God pours the riches of His love into the understanding and affections, giving us strength according to our day. Sinners flourish "like a green bay tree;" but, looking farther, the Psalmist could see their end, — the destruction of sin through suffering.

An apostle says that the Son of God [Christ] came to "destroy the works of the devil." We should follow our divine Exemplar, and seek the destruction of all evil works, error and disease included. We cannot escape the penalty due for sin. The Scriptures say, that if we deny Christ, “he also will deny us."

Divine Love corrects and governs man. Men may pardon, but this divine Principle alone reforms the sinner. God is not separate from the wisdom He bestows. The talents He gives we must improve. Calling on Him to forgive our work badly done or left undone, implies the vain supposition that we have nothing to do but to ask pardon, and that afterwards we shall be free to repeat the offence.

To cause suffering as the result of sin, is the means of destroying sin. Every supposed pleasure in sin will furnish more than its equivalent of pain, until belief in material life and sin is destroyed. To reach heaven, the harmony of being, we must understand the divine Principle of being.

3۔ 22 :11۔22، 30۔4

”اپنی نجات کے لئے کوشش کریں“، یہ زندگی اور محبت کا مطالبہ ہے، کیونکہ یہاں پہنچنے کے لئے خدا آپ کے ساتھ کام کرتا ہے۔ ”قائم رہو جب تک کہ میں نہ آؤں!“ اپنے اجر کا انتظار کریں، اور ”نیک کام کرنے میں ہمت نہ ہاریں۔“ اگر آپ کی کوششیں خوف و ہراس کی مشکلات میں گھِری ہیں، اور آپ کو موجودہ کوئی اجر نہیں مل رہا، واپس غلطی پر مت جائیں، اور نہ ہی اس دوڑ میں کاہل ہو جائیں۔

جب جنگ کا دھواں چھٹ جاتا ہے، آپ اْس اچھائی کو جان جائیں گے جو آپ نے کی ہے، اور آپ کے حق کے مطابق آپ کو ملے گا۔ خدا ہمیں آزمائش سے نکالنے کے لئے جلد باز نہیں ہے، کیونکہ محبت کا مطلب ہے کہ آپ کو آزمایا اور پاک کیا جائے گا۔

عدل کے لئے گناہگار کو اصلاح کی ضرورت ہے۔ رحم صرف تبھی قرض بخشتا ہے جب عدل تصدیق کرتا ہے۔ انتقام ناقابل تسخیر ہوتا ہے۔وہ غضب جو محض اطمینان بخشتا ہے نیست نہیں ہوتا، بلکہ جْزوی طور پر خوش کرتا ہے۔ ہمیں گناہ سے بچانے کے لئے حکمت اور محبت خود کی بہت سی قربانیوں کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ایک قربانی، خواہ وہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لئے ناکافی ہے۔

3. 22 : 11-22, 30-4

"Work out your own salvation," is the demand of Life and Love, for to this end God worketh with you. "Occupy till I come!" Wait for your reward, and "be not weary in well doing." If your endeavors are beset by fearful odds, and you receive no present reward, go not back to error, nor become a sluggard in the race.

When the smoke of battle clears away, you will discern the good you have done, and receive according to your deserving. Love is not hasty to deliver us from temptation, for Love means that we shall be tried and purified.

Justice requires reformation of the sinner. Mercy cancels the debt only when justice approves. Revenge is inadmissible. Wrath which is only appeased is not destroyed, but partially indulged. Wisdom and Love may require many sacrifices of self to save us from sin. One sacrifice, however great, is insufficient to pay the debt of sin. 

4۔ 404 :10۔16، 19۔21 اگلا صحفہ

شہوت، بْغض اور ہر طرح کی بدکاری بیمارکے عقائد ہیں، اور آپ انہیں صرف اْن بدکار مقاصد کو ختم کرنے سے تباہ کر سکتے ہیں جن سے یہ جنم لیتے ہیں۔ اگر کسی معاف کئے گئے انسانی فہم سے بدی ختم ہو چکی ہے، حالانکہ اس کے اثرات ابھی بھی اْس شخص پر ہوں گے، تو آپ اس بے ترتیبی کو ختم کر سکتے ہیں جیسے خدا کی شریعت مکمل ہو جاتی ہے اور اصلاح جرم کو ختم کر دیتی ہے۔ صحتمند گناہگار سخت ترین گناہگار ہوتا ہے۔

یہ احساس کہ گناہ میں حقیقی خوشی نہیں ہے، کرسچن سائنس کی الٰہیات کے سب سے اہم نکات میں سے ایک ہے۔ گناہ کے اس نئے اور حقیقی منظر کو گناہگار پر اجاگر کریں، اْس پر ظاہر کریں کہ گناہ کوئی اطمینان نہیں بخشتا، اور یہ علم اْس کی اخلاقی ہمت کو مضبوط کرتا ہے اور بدی پر فتح پانے اور اچھائی سے محبت کرنے کی اْس کی قابلیت کو فروغ دیتا ہے۔

بیمار کو شفا دینا اور گناہگار کی اصلاح کرنا کرسچن سائنس میں ایک ہی بات ہے۔دونوں شفاؤں کے لئے ایک ہی طریقہ کار کی ضرورت ہوتی ہے اور دونوں سچائی میں غیر مْنفک ہیں۔نفرت، حسد، بے ایمانی، خوف اور ایسی دیگر چیزیں انسان کوبیمار بناتی ہیں اورجب تک یہ بدن میں ذہنی طور پر خود کو بہتر نہیں بنا تا نہ مادی ادویات نہ ہی عقل مستقل طور پر اْس کی مددکر سکتی ہے، اور یوں اْسے اْس کے تباہ کرنے والوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ بنیادی غلطی فانی عقل ہے۔ نفرت ظالمانہ خواہشات کو بھڑکاتی ہے۔ بدکار عزائم اور مقاصد کسی بھی ایسے انسان کو جو نیچ قسم کی جوانمردی سے اوپر ہو، ایک مصیبت زدہ مایوس انسان بناتے ہیں۔

کرسچن سائنس انسان کو خواہشات کا مالک بننے، شفقت کے ساتھ نفرت کو ایک تعطل میں روکنے، پاکیزگی کے ساتھ شہوت پر، خیرات کے ساتھ بدلے پرفتح پانے اور ایمانداری کے ساتھ فریب پر قابو پانے کا حکم دیتی ہے۔اگر آپ صحت، خوشی اور کامیابی کے خلاف سازشیوں کی ایک فوج نہیں لانا چاہتے تو اِن غلطیوں کو ابتدائی مراحل میں ہی تلف کر دیں۔یہ آپ کو غلطی کے خلاف سچے منصف، ثالثی کے پاس لائیں گے۔ منصف آپ کو انصاف تک لے جائے گا، اور اخلاقی قانون کی سزا فانی عقل اور بدن پر صادر کی جائے گی۔ تب تک دونوں کو ہتھکڑی لگا دی جائے گی جب تک دوہری ادائیگی نہیں ہوگی، جب تک خدا کے ساتھ آپ کا اکاؤنٹ متوازن نہیں ہوگا۔ ”آدمی جو کچھ بوتا ہے، وہی کاٹے گا۔“نیک انسان بالا آخر گناہ کے خوف پر فتح پائے گا۔ یہ گناہ کی ضرورت ہے کہ یہ خود کو تباہ کرے۔ لافانی انسان خدا، اچھائی، کی حکمرانی ظاہر کرتا ہے، جس کے مقابلے گناہ میں کوئی طاقت نہیں ہے۔

4. 404 : 10-16, 19-21 next page

Lust, malice, and all sorts of evil are diseased beliefs, and you can destroy them only by destroying the wicked motives which produce them. If the evil is over in the repentant mortal mind, while its effects still remain on the individual, you can remove this disorder as God's law is fulfilled and reformation cancels the crime. The healthy sinner is the hardened sinner.

This conviction, that there is no real pleasure in sin, is one of the most important points in the theology of Christian Science. Arouse the sinner to this new and true view of sin, show him that sin confers no pleasure, and this knowledge strengthens his moral courage and increases his ability to master evil and to love good.

Healing the sick and reforming the sinner are one and the same thing in Christian Science. Both cures require the same method and are inseparable in Truth. Hatred, envy, dishonesty, fear, and so forth, make a man sick, and neither material medicine nor Mind can help him permanently, even in body, unless it makes him better mentally, and so delivers him from his destroyers. The basic error is mortal mind. Hatred inflames the brutal propensities. The indulgence of evil motives and aims makes any man, who is above the lowest type of manhood, a hopeless sufferer.

Christian Science commands man to master the propensities, — to hold hatred in abeyance with kindness, to conquer lust with chastity, revenge with charity, and to overcome deceit with honesty. Choke these errors in their early stages, if you would not cherish an army of conspirators against health, happiness, and success. They will deliver you to the judge, the arbiter of truth against error. The judge will deliver you to justice, and the sentence of the moral law will be executed upon mortal mind and body. Both will be manacled until the last farthing is paid, — until you have balanced your account with God. "Whatsoever a man soweth, that shall he also reap." The good man finally can overcome his fear of sin. This is sin's necessity, — to destroy itself. Immortal man demonstrates the government of God, good, in which is no power to sin.

5۔ 339 :1 (دی)۔4

گناہ کی تباہی معافی کا الٰہی طریقہ کار ہے۔ الٰہی زندگی موت کوتباہ کرتی ہے، سچائی غلطی کو نیست کرتی ہے، اور محبت نفرت کو نیست کرتی ہے۔ تباہ ہونے کے بعد، گناہ کو معافی کی کسی اور صورت کی ضرورت نہیں رہتی۔

5. 339 : 1 (The)-4

The destruction of sin is the divine method of pardon. Divine Life destroys death, Truth destroys error, and Love destroys hate. Being destroyed, sin needs no other form of forgiveness.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████