اتوار 1 دسمبر، 2019 |

اتواریکم دسمبر، 2019



مضمون۔ قدیم اور جدید جادوگری، عرفیت، تنویم اور علم نومیات سے انکار

SubjectAncient and Modern Necromancy, Alias Mesmerism and Hypnotism, Denounced

سنہری متن:سنہری متن: یسعیاہ 9باب6 آیت

’’سلطنت اْس کے کندھے پر ہوگی۔‘‘



Golden Text: Isaiah 9 : 6

The government shall be upon his shoulder.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: یسعیاہ 1باب 9، 10 آیات • یرمیاہ 23باب1تا5آیات


9۔ اگر رب الافواج ہمارا تھوڑا سا بقیہ نہ چھوڑتا تو ہم سدوم کی مثل اور عمورہ کی مانند ہو جاتے۔

10۔ اے سدوم کے حاکموخداوند کا کلام سنو! اے عمورہ کے لوگوں ہمارے خداوند کی شریعت پر کان لگاؤ۔

1۔ خداوند فرماتا ہے کہ اْن چرواہوں پر افسوس جو میری چراگاہ کی بھیڑوں کو ہلاک اور پراگندہ کرتے ہیں۔

2۔ اِس لئے خداوند اسرائیل کا خدا اْن چرواہوں کی مخالفت میں جو میرے لوگوں کی چوپانی کرتے ہیں یوں فرماتا ہے کہ تم نے میرے گلہ کو پراگندہ کیا اور اْن کو ہانک کر نکال دیا اور نگہبانی نہیں کی۔ دیکھو مَیں تمہارے کاموں کی برائی تم پر لاؤں گا خداوند فرماتا ہے۔

3۔ پر مَیں اْن کو جو میرے گلہ سے بچ رہے ہیں تمام ممالک سے جہاں جہاں مَیں نے اْن کو ہانک دیا تھا جمع کر لوں گا اور اْن کو پھر اْن کے گلہ خانہ میں لاؤں گا اور وہ پھلیں گے اور بڑھیں گے۔

4۔ اور مَیں اْن پر ایسے چوپان مقرر کروں گا جو اْن کو چرائیں گے اور پھر نہ ڈریں گے نہ گھبرائیں گے نہ گم ہوں گے خداوند فرماتا ہے۔

5۔ دیکھو وہ دن آتے ہیں خداوند فرماتا ہے کہ مَیں داؤد کے لئے ایک صادق شاخ پیدا کروں گا اور اْس کی بادشاہی ملک میں اقبالمندی اور عدالت اورصداقت کے ساتھ ہوگی۔

Responsive Reading: Isaiah 1 : 9, 10; Jeremiah 23 : 1-5

9.     Except the Lord of hosts had left unto us a very small remnant, we should have been as Sodom, and we should have been like unto Gomorrah.

10.     Hear the word of the Lord, ye rulers of Sodom; give ear unto the law of our God, ye people of Gomorrah.

1.     Woe be unto the pastors that destroy and scatter the sheep of my pasture! saith the Lord.

2.     Therefore thus saith the Lord God of Israel against the pastors that feed my people; Ye have scattered my flock, and driven them away, and have not visited them: behold, I will visit upon you the evil of your doings, saith the Lord.

3.     And I will gather the remnant of my flock out of all countries whither I have driven them, and will bring them again to their folds; and they shall be fruitful and increase.

4.     And I will set up shepherds over them which shall feed them: and they shall fear no more, nor be dismayed, neither shall they be lacking, saith the Lord.

5.     Behold, the days come, saith the Lord, that I will raise unto David a righteous Branch, and a King shall reign and prosper, and shall execute judgment and justice in the earth.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ زبور 7: 10 آیت

10۔میری سِپر خدا کے ہاتھ میں ہے جو راست دلوں کو بچاتا ہے۔

1. Psalm 7 : 10

10     My defence is of God, which saveth the upright in heart.

2۔ ایوب 5باب8تا13، 15، 19تا24 (تا؛) آیات

8۔ لیکن میں تو خدا ہی کا طالب رہوں گا اور اپنا معاملہ خدا ہی پر چھوڑوں گا۔

9۔ جو ایسے بڑے بڑے کام جو دریافت نہیں ہو سکتے اور بیشمار عجیب کام کرتا ہے۔

10۔ وہی زمین پر مینہ برساتا اور کھیتوں میں پانی بھیجتا ہے۔

11۔ اسی طرح وہ فروتنوں کو اونچی جگہ پر بٹھاتا ہے اور ماتم کرنے والے سلامتی کی سرفرازی پاتے ہیں۔

12۔ وہ عیاروں کی تدبیروں کو باطل کردیتا ہے۔ یہاں تک کہ اْن کے ہاتھ اْن کے مقصد کو پورا نہیں کر سکتے۔

13۔ وہ ہوشیاروں کو اْن ہی کی چالاکیوں میں پھنساتا ہے اور ٹیڑے لوگوں کی مشورت جلد جاتی رہتی ہے۔

15۔ لیکن مفلس کو اْن کے منہ کی تلوار اور زبردست کے ہاتھ سے وہ بچا لیتا ہے۔

19۔ وہ تجھے چھ مصیبتوں سے چھڑائے گا بلکہ سات میں بھی کوئی آفت تجھے چھونے نہ پائے گی۔

20۔ کال میں وہ تجھ کو موت سے بچائے گا اور لڑائی میں تلوار کی دھار سے۔

21۔ تْو زبان کے کوڑے سے محفوظ رکھا جائے گا اور جب ہلاکت آئے گی تو تجھے ڈر نہیں لگے گا

22۔ تو ہلاکت اور خشک سالی پرہنسے گا اور زمین کے درندوں سے تجھے کچھ خوف نہ ہوگا۔

23۔ میدان کے پتھروں کے ساتھ تیرا ایکا ہوگا اور جنگلی درندے تجھ سے میل رکھیں گے۔

24۔ اور تْو جانے گا کہ تیرا ڈیرا محفوظ ہے۔

2. Job 5 : 8-13, 15, 19-24 (to ;)

8     I would seek unto God, and unto God would I commit my cause:

9     Which doeth great things and unsearchable; marvellous things without number:

10     Who giveth rain upon the earth, and sendeth waters upon the fields:

11     To set up on high those that be low; that those which mourn may be exalted to safety.

12     He disappointeth the devices of the crafty, so that their hands cannot perform their enterprise.

13     He taketh the wise in their own craftiness: and the counsel of the froward is carried headlong.

15     But he saveth the poor from the sword, from their mouth, and from the hand of the mighty.

19     He shall deliver thee in six troubles: yea, in seven there shall no evil touch thee.

20     In famine he shall redeem thee from death: and in war from the power of the sword.

21     Thou shalt be hid from the scourge of the tongue: neither shalt thou be afraid of destruction when it cometh.

22     At destruction and famine thou shalt laugh: neither shalt thou be afraid of the beasts of the earth.

23     For thou shalt be in league with the stones of the field: and the beasts of the field shall be at peace with thee.

24     And thou shalt know that thy tabernacle shall be in peace;

3۔ یسعیاہ 50باب7 (تا؛)، 10 آیات

7۔ خداوند خدا میری حمایت کرے گا اس لئے میں شرمندہ نہ ہوں گا اور اِسی لئے میں نے اپنا منہ سنگ خار کی مانند بنایا۔

10۔ تمہارے درمیان کون ہے جو خداوند خدا سے ڈرتا اور اْس کے خادم کی باتیں سنتا ہے جو اندھیرے میں چلتا اور روشنی نہیں پاتا؟ خداوند خدا کے نام پر توکل کرے اور اپنے خدا پر بھروسہ رکھے۔

3. Isaiah 50 : 7 (to ,), 10

7     For the Lord God will help me; therefore shall I not be confounded: therefore have I set my face like a flint,

10     Who is among you that feareth the Lord, that obeyeth the voice of his servant, that walketh in darkness, and hath no light? let him trust in the name of the Lord, and stay upon his God.

4۔ 2تواریخ 15باب1تا4، 7، 8، 12، 14، 15، 19 آیات

1۔ اور خدا کی روح عزریا بن عودد پر نازل ہوئی۔

2۔ اور وہ آسا سے ملنے کو گیا اور اْس سے کہا اے آسا اور سارے یہوداہ اور بنیامین میری سنو خداوند تمہارے ساتھ ہے جب تک تم اْس کے ساتھ ہو اور اگر تم اْس کے طالب ہو تو وہ تمہیں ملے گا اور اگر تم اْس کو ترک کردو تو وہ تم کو ترک کر ے گا۔

3۔ اب بڑی مدت سے اسرائیل بغیرسچے خدا اور بغیر سکھانے والے کاہن اور بغیر شریعت کے رہے ہیں۔

4۔ اور جب وہ اپنے دْکھ میں خداوند اسرائیل کے خدا کی طرف پھر کر اْس کے طالب ہوئے تو وہ اْن کو مل گیا۔

7۔ اور تمہارے ہاتھ ڈھیلے نہ ہونے پائیں کیونکہ تمہارے کام کا اجر ملے گا۔

8۔ جب آسا نے اِن باتوں اور عودد کی باتوں کو سنا تو اْس نے ہمت باندھ کر یہوداہ اور بنیامین کے سارے ملک سے اور اْن شہروں سے جو اْس نے کوہستانی ملک میں سے لے لئے تھے مکروْہ چیزوں کو دور کر دیا اور خداوند کے مذبح کو جو خداوند کے اوسارے کے سامنے تھا پھر بنایا۔

12۔ اور وہ اْس عہد میں شامل ہو گئے تاکہ اپنے سارے دل اپنی ساری جان سے خداوند اپنے باپ دادا کے خدا کے طالب ہوں۔

14۔ اور اْنہوں نے بڑی آواز سے للکار کر تْروہیوں اور نرسنگوں کے ساتھ خداوند کے حضور قسم کھائی۔

15۔ اور سارا یہوداہ اْس قسم سے باغ باغ ہوگیا کیونکہ اْنہوں نے اپنے سارے دل سے قسم کھائی تھی اور کمال آرزو سے خداوند کے طالب ہوئے تھے اور وہ اْن کو ملا اور خداوند نے اْن کو چاروں طرف امان بخشی۔

19۔ اور آسا کی سلطنت کے پینتیسویں سال تک کوئی جنگ نہ ہوئی۔

4. II Chronicles 15 : 1-4, 7, 8, 12, 14, 15, 19

1     And the Spirit of God came upon Azariah the son of Oded:

2     And he went out to meet Asa, and said unto him, Hear ye me, Asa, and all Judah and Benjamin; The Lord is with you, while ye be with him; and if ye seek him, he will be found of you; but if ye forsake him, he will forsake you.

3     Now for a long season Israel hath been without the true God, and without a teaching priest, and without law.

4     But when they in their trouble did turn unto the Lord God of Israel, and sought him, he was found of them.

7     Be ye strong therefore, and let not your hands be weak: for your work shall be rewarded.

8     And when Asa heard these words, and the prophecy of Oded the prophet, he took courage, and put away the abominable idols out of all the land of Judah and Benjamin, and out of the cities which he had taken from mount Ephraim, and renewed the altar of the Lord, that was before the porch of the Lord.

12     And they entered into a covenant to seek the Lord God of their fathers with all their heart and with all their soul;

14     And they sware unto the Lord with a loud voice, and with shouting, and with trumpets, and with cornets.

15     And all Judah rejoiced at the oath: for they had sworn with all their heart, and sought him with their whole desire; and he was found of them: and the Lord gave them rest round about.

19     And there was no more war unto the five and thirtieth year of the reign of Asa.

5۔ زبور 2: 1تا4، 10،11آیات

1۔ قومیں کس لئے طیش میں ہیں اور لوگوں نے باطل خیال کیوں باندھے۔

2۔ خداوند اور اْس کے مسح کے خلاف زمین کے بادشاہ صف آرائی کر کے اور حاکم آپس میں مشورہ کر کے کہتے ہیں۔

3۔ آؤ ہم اْن کے بندھن توڑ ڈالیں اور اْن کی رسیاں اپنے اوپر سے اْتار پھینکیں۔

4۔ وہ جو آسمان پر تخت نشین ہے ہنسے گا۔ خداوند اْن کا مضحکہ اڑائے گا۔

10۔ پس اے بادشاہو! دانشمند بنو۔ اے زمین کے عدالت کرنے والوں تربیت پاؤ۔

11۔ ڈرتے ہوئے خداوند کی عبادت کرو۔ کانپتے ہوئے خوشی مناؤ۔

5. Psalm 2 : 1-4, 10, 11

1     Why do the heathen rage, and the people imagine a vain thing?

2     The kings of the earth set themselves, and the rulers take counsel together, against the Lord, and against his anointed, saying,

3     Let us break their bands asunder, and cast away their cords from us.

4     He that sitteth in the heavens shall laugh: the Lord shall have them in derision.

10     Be wise now therefore, O ye kings: be instructed, ye judges of the earth.

11     Serve the Lord with fear, and rejoice with trembling.

6۔ زبور 75:6، 7،10 آیات

6۔ کیونکہ سرفرازی نہ تو مشرق سے نہ مغرب سے نہ جنوب سے آتی ہے۔

7۔ بلکہ خدا ہی عدالت کرنے والا ہے۔ وہ کسی کو پست کرتا ہے اور کسی کو سرفرازی بخشتا ہے۔

10۔ اور میں شریروں کے سب سینگ کاٹ ڈالوں گا۔ لیکن صادقوں کے سینگ اونچے کئے جائیں گے۔

6. Psalm 75 : 6, 7, 10

6     For promotion cometh neither from the east, nor from the west, nor from the south.

7     But God is the judge: he putteth down one, and setteth up another.

10     All the horns of the wicked also will I cut off; but the horns of the righteous shall be exalted.

7۔ 2 کرنتھیوں 10باب4، 5 آیات

4۔ (اسلئے کہ ہماری لڑائی کے ہتھیار جسمانی نہیں بلکہ خدا کے نزدیک قلعوں کو ڈھا دینے کے قابل ہیں۔(

5۔ چنانچہ ہم تصورات اور ہر ایک اونچی چیز کو جو خدا کی پہچان کے برخلاف سر اٹھائے ہوئے ہے ڈھا دیتے ہیں اور ہر ایک خیال کو قید کر کے مسیح کا فرمانبردار بنا دیتے ہیں۔

7. II Corinthians 10 : 4, 5

4     (For the weapons of our warfare are not carnal, but mighty through God to the pulling down of strong holds;)

5     Casting down imaginations, and every high thing that exalteth itself against the knowledge of God, and bringing into captivity every thought to the obedience of Christ;

8۔ 2تمیتھیس 3باب1، 2، 4،5، 14تا17آیات

1۔ لیکن یہ جان رکھ کہ اخیر زمانہ میں بْرے دن آئیں گے۔

2۔ کیونکہ آدمی خود غرض۔ زر دوست۔ شیخی باز۔ مغرور۔ بد گو۔ ماں باپ کے نافرمان۔ نا شکر۔ ناپاک۔

4۔ دغا باز۔ ڈھیٹ گھمنڈ کرنے والے۔ خدا کی نسبت عیش و عشرت کو زیادہ دوست رکھنے والے ہوں گے۔

5۔ وہ دینداری کی وضع تو رکھیں گے مگر اْس کے اثر کو قبول نہ کریں گے۔ ایسوں سے بھی کنارہ کرنا۔

14۔ مگر تْو اْن باتوں کو جو تْو نے سیکھی تھیں اور جن کا یقین تجھے دلایا گیا تھا یہ جان کر قائم رہ کہ تْو نے اْنہیں کن لوگوں سے سیکھا تھا۔

15۔ اور تْو بچپن سے اْن نوشتوں سے واقف ہے جو تجھے مسیح یسوع پر ایمان لانے سے نجات حاصل کرنے کے لئے دانائی بخش سکتے ہیں۔

16۔ ہر ایک صحیفہ جو خدا کے الہام سے ہے تعلیم اور الزام اور اصلاح اور راستبازی میں تربیت کرنے کے لئے فائدہ مند بھی ہے۔

17۔ تاکہ مردِ خدا کامل بنے اور ہر ایک نیک کام کے لئے بالکل تیار ہو جائے۔

8. II Timothy 3 : 1, 2, 4, 5, 14-17

1     This know also, that in the last days perilous times shall come.

2     For men shall be lovers of their own selves, covetous, boasters, proud, blasphemers, disobedient to parents, unthankful, unholy,

4     Traitors, heady, highminded, lovers of pleasures more than lovers of God;

5     Having a form of godliness, but denying the power thereof: from such turn away.

14     But continue thou in the things which thou hast learned and hast been assured of, knowing of whom thou hast learned them;

15     And that from a child thou hast known the holy scriptures, which are able to make thee wise unto salvation through faith which is in Christ Jesus.

16     All scripture is given by inspiration of God, and is profitable for doctrine, for reproof, for correction, for instruction in righteousness:

17     That the man of God may be perfect, throughly furnished unto all good works.

9۔ 2 تمیتھیس 4باب18آیت

18۔ خداوند مجھے ہر ایک برے کام سے چھڑائے گا اور اپنی آسمانی بادشاہی میں صحیح سلامت پہنچا دے گا۔ اْس کی تمجید ابدْالا باد ہوتی رہے۔ آمین۔

9. II Timothy 4 : 18

18     And the Lord shall deliver me from every evil work, and will preserve me unto his heavenly kingdom: to whom be glory for ever and ever. Amen.



سائنس اور صح


1۔ 7 :13۔21

سوچنے والوں کے لئے وقت آ پہنچا ہے۔ سچائی، آزادیِ عقائد اور نظامِ احترامیِ وقت، انسانیت کے آستانے پر دستک دیتے ہیں۔ ماضی کی قناعت اور مادہ پرستی کی سرد تقلید اختتام پذیر ہو رہی ہے۔ خدا سے لا علمی مزید ایمان کے راستے کا پتھر نہیں رہا۔ وفاداری کی واحد ضمانت اْس ہستی سے متعلق درست فہم ہے جسے بہتر طور پر جاننا ہی ابدی زندگی ہے۔ اگرچہ سلنطنتیں نیست ہو جاتی ہیں، مگر ”خداوند ابد الا باد سلطنت کرے گا۔“

1. vii : 13-21

The time for thinkers has come. Truth, independent of doctrines and time-honored systems, knocks at the portal of humanity. Contentment with the past and the cold conventionality of materialism are crumbling away. Ignorance of God is no longer the stepping-stone to faith. The only guarantee of obedience is a right apprehension of Him whom to know aright is Life eternal. Though empires fall, "the Lord shall reign forever."

2۔ 106 :6-14

ہماری قوم کی طرح، کرسچن سائنس کا بھی ایک آزادی کا اعلامیہ ہے۔ خدا نے انسان کو غیر مْنفک حقوق عطا کر رکھے ہیں، جن میں خود مختاری، وجہ اور ضمیر شامل ہیں۔ انسان محض اْس وقت خود مختار ہوتا ہے جب وہ بہتر طور پر اپنے خالق، الٰہی سچائی اور محبت سے ہدایت پاتا ہے۔

انسان کے حقوق پر اْس وقت حملہ ہوتا ہے جب الٰہی ترتیب میں کچھ مْخل ہو، اور ذہنی طور پر مْخل ہونے والا اس جرم کی پاداش میں الٰہی سزاء اپنے اوپر لے لیتا ہے۔

2. 106 : 6-14

Like our nation, Christian Science has its Declaration of Independence. God has endowed man with inalienable rights, among which are self-government, reason, and conscience. Man is properly self-governed only when he is guided rightly and governed by his Maker, divine Truth and Love.

Man's rights are invaded when the divine order is interfered with, and the mental trespasser incurs the divine penalty due this crime.

3۔ 100 :1۔6

تنویم یا حیوانی مقناطیسیت کو پہلی بار 1775 میں جرمنی کا ایک میسمر لایا۔ امریکی سائیکلو پیڈیا کے مطابق اْس نے اِس نام نہاد قوت کو بیماری کے خاتمے کا وسیلہ کے طور پر پیش کیا جس سے متعلق اْس نے کہا کہ اسے کوئی ایک جاندار ہستی دوسرے پر استعمال کر سکتی تھی۔

3. 100 : 1-6

MESMERISM or animal magnetism was first brought into notice by Mesmer in Germany in 1775. According to the American Cyclopædia, he regarded this so-called force, which he said could be exerted by one living organism over another, as a means of alleviating disease.

4۔ 101 :21۔25، 29۔32

حیوانی مقناطیسیت کے کام سے متعلق مصنف کے خود کے مشاہدات اْسے قائل کرتے ہیں کہ یہ کسی علاج کے لئے کار گزار نہیں ہے، اور یہ کہ جو لوگ اِس کی مشق کرتے ہیں اْن پر اورجو اِن کے محکوم اس کا مقابلہ کرتے ہیں اْن پر اِس کے اثرات اخلاقی اور جسمانی موت کی جانب لے جاتے ہیں۔

حیوانی مقناطیسیت، جسے موجودہ دور میں علم نومیات یاہیپناٹزم کہا جاتا ہے،کسی ایک واقعہ میں اِس کے اثرات فریب نظری کے اثرات سے مختلف نہیں پائے گئے۔بظاہر اِس سے حاصل ہونے والا کوئی بھی فائدہ کسی شخص کے باطنی جادو گری پر ایمان کے برابر ہے۔

4. 101 : 21-25, 29-32

The author's own observations of the workings of animal magnetism convince her that it is not a remedial agent, and that its effects upon those who practise it, and upon their subjects who do not resist it, lead to moral and to physical death. 

In no instance is the effect of animal magnetism, recently called hypnotism, other than the effect of illusion. Any seeming benefit derived from it is proportional to one's faith in esoteric magic.

5۔ 102 :1۔8، 16۔23، 30۔2

حیوانی مقناطیسیت کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے، کیونکہ جو کچھ حقیقی، ہم آہنگ اور ابدی ہے اْس سب پر خدا حکمرانی کرتا ہے اور اْس کی طاقت حیوانی ہے نہ انسانی، سائنس میں حیوانی مقناطیسیت، تنویم یا علم نومیات محض ایک نفی ہے، جو نہ ذہانت، طاقت رکھتی ہے اور نہ حقیقت، اور ایک لحاظ سے یہ نام نہاد فانی عقل کا ایک غیر حقیقی نظریہ ہے۔

حیوانی مقناطیسیت کی ہلکی شکل غائب ہو رہی ہے اور اِس کی ناگوار خصوصیات سامنے آرہی ہیں۔ فانی خیالات کی تاریک تعطیلات میں پوشیدہ، جرائم کی مشینیں سمجھ سے مزید بالاتر اور پچیدہ قسم کے جال بْن رہی ہیں۔ لہٰذہ حیوانی مقناطیسیت کے موجودہ طریقوں کا راز یہ ہے کہ یہ وقت کو کاہلی کے جال میں پھنساتے ہیں او اْس محکوم کے لئے سنگدلی پیدا کرتے ہیں جس کے لئے مجرم خواہش رکھتا ہے۔

انسانیت کو یہ سیکھنا چاہئے کہ بدی کوئی طاقت نہیں ہے۔اس کی نام نہاد جبری حکومت عدم کے سوا کچھ نہیں۔کرسچن سائنس بدی کی سلطنت کو لوٹ لیتی ہے اور خاندانوں، اسی طرح معاشرے میں امتازی طور پر محبت اور نیکی کو فروغ دیتی ہے۔

5. 102 : 1-8, 16-23, 30-2

Animal magnetism has no scientific foundation, for God governs all that is real, harmonious, and eternal, and His power is neither animal nor human. Its basis being a belief and this belief animal, in Science animal magnetism, mesmerism, or hypnotism is a mere negation, possessing neither intelligence, power, nor reality, and in sense it is an unreal concept of the so-called mortal mind.

The mild forms of animal magnetism are disappearing, and its aggressive features are coming to the front. The looms of crime, hidden in the dark recesses of mortal thought, are every hour weaving webs more complicated and subtle. So secret are the present methods of animal magnetism that they ensnare the age into indolence, and produce the very apathy on the subject which the criminal desires.

Mankind must learn that evil is not power. Its so-called despotism is but a phase of nothingness. Christian Science despoils the kingdom of evil, and pre-eminently promotes affection and virtue in families and therefore in the community.

6۔ 103 :18۔24

جیسے کہ کرسچن سائنس میں نام دیا گیا ہے، حیوانی مقناطیسیت یا علم نومیات غلطی یا فانی عقل کے لئے خاص اصطلاح ہے۔ یہ ایک جھوٹا عقیدہ ہے کہ عقل مادے میں ہے اور کہ یہ اچھائی اور برائی دونوں ہے؛ کہ بدی اچھائی جتنی حقیقی اور زیادہ طاقتور ہے۔ اس عقیدے میں سچائی کی ایک بھی خصوصیت نہیں ہے۔ یہ یا توبے خبر ہے یا حاسدہے۔ نومیات کی حاسد شکل اخلاقی گراوٹ میں بنیاد رکھتی ہے۔

6. 103 : 18-24

As named in Christian Science, animal magnetism or hypnotism is the specific term for error, or mortal mind. It is the false belief that mind is in matter, and is both evil and good; that evil is as real as good and more powerful. This belief has not one quality of Truth. It is either ignorant or malicious. The malicious form of hypnotism ultimates in moral idiocy.

7۔ 273 :29۔3

سائنس دکھاتی ہے کہ مادہ، فانی آراء اور عقائد کے ساتھ متصادم ہوتے ہوئے ہر دور میں غلطی کے اثرات کو خارج کرتا ہے،لیکن جب فوری اور مستقل بنیادوں پر اِس کی مخالفت کرسچن سائنس کی جانب سے ہوتی ہے تو فانی عقل کا ماحول اخلاق اور موت کے لئے تباہ کن نہیں ہو سکتا۔ اِس ذہنی غلاظت کے لئے سچائی اور محبت زہر مار ہیں، اور یوں یہ وجودیت کو تقویت دیتے اور برقرار رکھتے ہیں۔

7. 273 : 29-3

Science shows that material, conflicting mortal opinions and beliefs emit the effects of error at all times, but this atmosphere of mortal mind cannot be destructive to morals and health when it is opposed promptly and persistently by Christian Science. Truth and Love antidote this mental miasma, and thus invigorate and sustain existence.

8۔ 94 :12۔16

مشرقی سلنطنتیں اور قومیں دیوتا سے متعلق وہاں غالب غلط فہمیوں کے لئے اپنی جھوٹی حکومت کے مقروض ہیں۔ظلم، عدم برداشت اور خون ریزی جہاں بھی پائی جاتی ہے، یہ اس عقیدے سے جنم لیتے ہیں کہ فانی شخصیت، جذبے اور تحریک کے سانچے پرہی لامتناہی بناہے۔

8. 94 : 12-16

The eastern empires and nations owe their false government to the misconceptions of Deity there prevalent. Tyranny, intolerance, and bloodshed, wherever found, arise from the belief that the infinite is formed after the pattern of mortal personality, passion, and impulse. 

9۔ 224 :11۔12، 22۔31 (تا دوسرا)

اْنیس صدیوں کے ریکارڈ میں اتنی مسیحت نہیں جتنے بیشمار فرقے پائے جاتے ہیں۔

انصاف کو ظاہر کرتے ہوئے اور بیماری اور موت میں جکڑے انسانوں کی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے بلند پایہ اور عملی مسیحت اِس دور کے دروازے پر کھڑی اجازت کے لئے دستک دے رہی ہے۔ کیا آپ اِس نورانی ملاقاتی کے لئے دروازہ کھولیں گے یا بند کریں گے، جو حلیمی کے ساتھ آتا ہے، جیسے وہ وقتِ عروج کے اجداد کے زمانے میں آیا تھا؟

سچائی آزادی کے عناصر پیدا کرتی ہے۔ اِس کے جھنڈے پر روح کا الہامی نعرہ ”غلامی موقوف ہوچکی ہے“ درج ہے۔ خدا کی قدرت قیدیوں کے لئے آزادی لاتی ہے۔ کوئی طاقت الٰہی محبت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

9. 224 : 11-12, 22-31 (to 2nd .)

In the record of nineteen centuries, there are sects many but not enough Christianity.

A higher and more practical Christianity, demonstrating justice and meeting the needs of mortals in sickness and in health, stands at the door of this age, knocking for admission. Will you open or close the door upon this angel visitant, who cometh in the quiet of meekness, as he came of old to the patriarch at noonday?

Truth brings the elements of liberty. On its banner is the Soul-inspired motto, "Slavery is abolished." The power of God brings deliverance to the captive. No power can withstand divine Love.

10۔ 225 :5۔22

آپ جانتے ہیں کب پہلی سچائی اِس کے پیروکاروں کی وفاداری اور قلت کے باعث فتح مند ہوتی ہے۔پس یہ تب ہے جب وقت کا احتجاج آزادی کاجھنڈا اْٹھائے آگے بڑھتا ہے۔دنیاوی قوتیں لڑیں گی، اور اپنے پاسبانوں کو حکم دیں گی کہ اِس سچائی کو دروازے میں سے نہ گزرنے دیا جائے جب تک کہ یہ اْن کے نظاموں کی تائید نہ کرے؛ مگر سائنس، چھْرے کی نوک کی پرواہ کئے بغیر، آگے بڑھتی ہے۔یہاں ہمیشہ کوئی نہ کوئی ہنگامہ ہوتا ہے، لیکن سچائی کے معیار کایہ ایک جلسہ ہوتا ہے۔

ہماری ملکی تاریخ، باقی پوری تاریخ کی مانند، عقل کی طاقت کو عیاں کرتی ہے اور انسانی طاقت کو اِس کے درست سوچ والے اوتاروں کو متناسب ظاہر کرتی ہے۔ چند غیر فانی سزائیں، الٰہی انصاف کے قادر مطلق کو بیان کرتے ہوئے، جبری بیڑیوں اور کوڑے مارنے والی ٹکٹکی اور غلامی کے بازار کو ختم کرنے کی قوت رکھتی رہی ہیں؛ لیکن نہ تو خون بہاؤ میں اور نہ توپوں کے منہ سے نکلنے والی موت میں کمی واقع ہوئی۔ محبت آزاد کرنے والی ہے۔

10. 225 : 5-22

You may know when first Truth leads by the fewness and faithfulness of its followers. Thus it is that the march of time bears onward freedom's banner. The powers of this world will fight, and will command their sentinels not to let truth pass the guard until it subscribes to their systems; but Science, heeding not the pointed bayonet, marches on. There is always some tumult, but there is a rallying to truth's standard.

The history of our country, like all history, illustrates the might of Mind, and shows human power to be proportionate to its embodiment of right thinking. A few immortal sentences, breathing the omnipotence of divine justice, have been potent to break despotic fetters and abolish the whipping-post and slave market; but oppression neither went down in blood, nor did the breath of freedom come from the cannon's mouth. Love is the liberator.

11۔ 96: 12۔20، 25۔27، 31۔4

اب یہ مادی دنیا بھی متصادم قوتوں کا اکھاڑا بن رہی ہے۔ایک طرف تو یہاں مخالفت اور مایوسی ہوگی؛ جبکہ دوسری طرف یہاں سائنس اور امن ہوگا۔ مادی عقائد کی منسوخی گناہ، بیماری اور موت کے قحط اور وبا، خواہش اور افسوس کے ساتھ دیکھی جاسکے گی جو اپنے عدم کے ظاہر ہونے تک نئے ادوار کو قبول کرتے ہیں۔یہ پریشانیاں غلطی کے خاتمے تک جاری رہیں گی، جب پوری مخالفت روحانی سچائی سے ہڑپ کر لی جائے گی۔

جیسے ہی یہ تکمیل قریب تر ہوتی جائے گی، وہ جس نے اپنے چال چلن کو الٰہی سائنس کے مطابق ڈھال لیاہے وہ آخر تک مقابلہ کرے گا۔

اِس آخری تصادم کے دوران، بدکارذہن ایسے وسائل تلاش کرنے کی کوشش میں ہوں گے جن سے وہ مزید بدی مکمل کر سکیں؛ مگر وہ جو کرسچن سائنس کا ادراک رکھتے ہیں وہ جرم میں رکاوٹیں لائیں گے۔ وہ غلطی کے خاتمے میں مددکریں گے۔ وہ امن و امان کو برقرار رکھیں گے، اور وہ حتمی کاملیت کے یقینی ہونے کا خوشی کا ساتھ انتظار کریں گے۔

11. 96 : 12-20, 25-27, 31-4

This material world is even now becoming the arena for conflicting forces. On one side there will be discord and dismay; on the other side there will be Science and peace. The breaking up of material beliefs may seem to be famine and pestilence, want and woe, sin, sickness, and death, which assume new phases until their nothingness appears. These disturbances will continue until the end of error, when all discord will be swallowed up in spiritual Truth. 

As this consummation draws nearer, he who has shaped his course in accordance with divine Science will endure to the end.

During this final conflict, wicked minds will endeavor to find means by which to accomplish more evil; but those who discern Christian Science will hold crime in check. They will aid in the ejection of error. They will maintain law and order, and cheerfully await the certainty of ultimate perfection.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████