اتوار 10مارچ ، 2019 مضمون۔ انسان |

اتوار 10مارچ ، 2019



مضمون۔ انسان 

سنہری متن: دانی ایل 10: 19 آیت



’’اے عزیز مرد خوف نہ کر۔ تیری سلامتی ہو۔ مضبوط و توانا ہو۔‘‘





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


پیدائش 1باب26تا31 آیات


26۔پھر خُدا نے کہا کہ ہم اِنسان کو اپنی صُورت پر اپنی شبیہ کی مانند بنائیں اور وہ سمندر کی مچھلیوں اور آسمان کے پرندوں اور چوپایوں اور تمام زمین اور سب جانداروں پر جو زمین پر رینگتے ہیں اِختیار رکھیں۔ 

27 ۔ اور خُدا نے انسان کو اپنی صور ت پر پیدا کیا۔ خُدا کی صورت پر اُسکو پیدا کیا۔ نر و ناری اُنکو پیدا کیا۔ 

28 ۔ خُدا نے اُنکو برکت دی اور کہا کہ پھلو اور بڑھو اور زمین کو معُمورو محکوم کرو اور سمندر کی مچھلیوں اور ہوا کے پرندوں اور کُل جانوروں پر جو زمین پر چلتے ہیں اِختیار رکھو۔ 

29 ۔ اور خُدا نے کہا کہ دیکھو میں تمام رُوی زمین کی کُل بیج دار سبزی اور ہر درخت جس میں اُسکا بیج پھل ہو تمکو دیتا ہوں۔ یہ تمہارے کھانے کو ہوں۔ 

30 ۔ اور زمین کے کل جانوروں کے لئے اور ہوا کے کُل پرندوں کے اور اُن سب کے لئے جو زمین پر رینگنے والے ہیں جن میں زندگی کا دم ہے کُل ہری بوٹیاں کھانے کو دیتا ہوں اور اَیسا ہی ہوا۔۔ 

31 ۔ اور خُدا نے سب پر جو اُس نے بنایا تھا نظر کی اور دیکھا کہ بہت اچھا ہے اور شام ہوئی اور صُبح ہوئی اور چھٹا دِن ہوا۔



درسی وعظ



بائبل


1۔ زبور 8:1، 3تا6آیات

1۔ اے خُداوند ہمارے رب! تیرا نام تمام زمین پر کیسا بزرگ ہے! تونے اپنا جلال آسمان پر قائم کیا ہے۔ 

3 ۔ جب میں تیرے آسمان پر جو تیری دستکاری ہے اور چاند اور ستاروں پر جن کو تونے مقرر کیا غور کرتا ہوں۔ 

4 ۔ تو پھر انسان کیا ہے کہ تو اْسے یاد رکھے اور آدم زاد کیا ہے کہ تواُس کی خبر لے؟ 

5 ۔ کیونکہ تونے اُسے خُدا سے کچھ ہی کمتر بنایا ہے اور جلال اور شوکت سے اُسے تاجدار کرتا ہے۔ 

6 ۔ تونے اُسے اپنی دستکاری پر تسلط بخشا ہے۔ تونے سب کچھ اُس کے قدموں کے نیچے کر دیا ہے۔ 

2۔ استثنا 20باب1تا4آیات

1۔ جب تُو اپنے دشمنوں سے جنگ کرنے کو جائے اور گھوڑوں اور رتھوں اور اپنے سے بڑی فوج کو دیکھے تو اُن سے ڈر نہ جانا کیونکہ خداوند تیرا خدا جو تجھ کو ملک مصر سے نکال لایا تیرے ساتھ ہے۔ 

2 ۔ اور جب معرکہ جنگ میں تمہاری مُٹھ بھیڑ ہونے کو ہو تو کاہن فوج کے آدمیوں کے پاس جا کر اْنکی طرف مخاطب ہو۔ 

3 ۔ اور اُن سے کہے سُنو اے اسرائیلیو! تُم آج کے دن اپنے دُشمنوں کے مقابلہ کے لیے معرکہ جنگ میں آئے ہو سو تمہارا دل ہراسان نہ ہو۔ تُم نہ خوف کرو نہ کانپو۔ نہ اُن سے دہشت کھاو۔ 

4۔ کیونکہ خداوند تمہارا خدا تمہارے ساتھ ساتھ چلتا ہے تاکہ تُم کو بچانے کو تمہاری طرف سے تمہارے دُشمنوں سے جنگ کرے۔

3۔ استثنا 31باب8 آیت (وہ ہوگا) (تا :)

8۔ ۔۔۔وہ تیرے ساتھ رہے گا۔ وہ تجھ سے دستبردار نہ ہوگا نہ تجھے چھوڑے گا۔

4۔ خروج 3باب1تا8 (تا؛) ، 11، 12، (تا؛) ، 13، 14آیات

1۔ اور موسیٰ اپنے سُسر یترو کی جو مِدیان کا کاہن تھا بھیڑ بکریاں چراتا تھا اور وہ بھیڑ بکریوں کو ہنکاتا ہو ا اُنکو بیابان کی پرلی طرف سے خدا کے پہاڑ کے نزدیک لے آیا۔ 

2 ۔ اور خداوند کا ایک فرشتہ جھاڑی میں سے آگ کے شُعلہ میں اُس پر ظاہر ہوا۔ اُس نے نگا ہ کی اور کیا دیکھتا ہے کہ ایک جھاڑی میں آگ لگی ہو ئی ہے پر وہ جھاڑی بھسم نہیں ہو تی۔ 

3۔ تب موسیٰ نے کہا کہ میں اب ذرا اُدھر کترا کر اس بڑے منظر کو دیکھوں کہ یہ جھاڑی کیو ں نہیں جل جاتی ہے۔ 

4۔ جب خداوند نے دِیکھا کہ وہ دیکھنے کو کترا کر آر ہا ہے تو خدا نے اُسے جھاڑی میں سے پُکارا اور کہا اے موسیٰ! اے موسیٰ!اُس نے کہا میں حاضر ہوں۔ 

5۔ تب اُس نے کہا کہ اِدھر پاس مت آ۔ اپنے پاوں سے جوتا اُتار کیونکہ جس جگہ تُو کھڑا ہے وہ مقدس زمین ہے۔ 

6 ۔ پھر اُس نے کہا کہ میں تیرے باپ کا خدا یعنی ابرہام کا خدا اور اضحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہوں۔موسیٰ نے اپنا مُنہ چھپایا کیونکہ وہ خدا پر نظر کرنے سے ڈرتا تھا۔ 

7 ۔ اور خداوند نے کہا کہ میں نے اپنے لوگوں کی تکلیف جو مصر میں ہیں خُوب دِیکھی اور اُنکی فریاد جو بیگار لینے والوں کے سبب سے ہے سُنی اور میں اُن کے دُکھوں کو جانتا ہو ں۔ 

8 ۔ اور میں اُترا ہو ں کے اُن کو مصریوں کے ہاتھ سے چُھڑاوں اور اُس مُلک سے نکال کر اُنکو ایک اچھے اور وسیع مُلک میں جہاں دُودھ اور شہد بہتا ہے یعنی کنعانیوں اور حتیوں اور اموریوں اور فرزیوں اور حویوں اور یبوسیوں کے مُلک میں پہنچاوں۔ 

11۔ موسیٰ نے خدا سے کہا میں کون ہوں جوفرعون کے پاس جاوں اور بنی اسرائیل کو مصر سے نکال لاؤں؟ 

12 ۔ اُس نے کہا میں ضرور تیر ے ساتھ رہونگا اور اِسکا کہ میں نے تُجھے بھیجا ہے تیرے لئے یہ نشان ہو گا کہ جب تُو اُن لوگوں کو مصر سے نکال لائیگا تو تُم اِس پہاڑ پر خدا کی عبادت کرو گے۔ 

13۔ تب موسیٰ نے خدا سے کہا جب میں بنی اسرائیل کے پاس جا کر اُنکو کہوں کہ تمہارے باپ دادا کے خدا نے مجھے تُمہارے پاس بھیجا ہے اور وہ مجھے کہیں کہ اُس کا نام کیا ہے؟ تو میں اُنکو کیا بتاوں؟۔ 

14۔ خدا نے موسیٰ سے کہا میں جو ہو ں سو میں ہوں۔ سو تُو بنی اسرائیل سے یو ں کہنا کہ میں جو ہو ں نے مجھے تُمہارے پاس بھیجا ہے۔

5۔ زبور 5: 1تا3،11 (سب کو) ، 12آیات

1 ۔ اے خُداوند میری باتوں پر کان لگا! میری آہوں پر توجُّہ کر! 

2 ۔ اے میرے بادشاہ! اے میرے خُدا! میری فریاد کی آواز کی طرف متوجہ ہو کیونکہ میں تجھ ہی سے دُعا کرتا ہوں۔ 

3 ۔ اے خُداوند! تُو صُبح کو میری آواز سنے گا۔ میں سویرے ہی تجھ سے دُعا کرکے انتظار کرونگا۔

11۔ لیکن وہ سب جو تجھ پر بھروسا رکھتے ہیں شادمان ہوں۔ وہ سدا خُوشی سے لکاریں کیونکہ تُو اُن کی حمایت کرتا ہے اور جو تیرے نام سے محبت رکھتے ہیں تجھ میں شاد رہیں۔ 

12 ۔ کیونکہ تُو صادق کو برکت بخشیگا۔ اے خداوند! تو اُسے کرم سے سِپر کی طرح ڈھانک لیگا۔

6۔ لوقا 4باب14،15 ، 33تا36آیات

14۔ پھر یسوع رُوح کی قوت سے بھرا ہوا گلیل کو لوٹا اور سارے گرد نواح میں اُس کی شہرت پھَیل گئی۔ 

15 ۔ اور وہ اُن کے عِبادت خانوں میں تعلیم دیتا رہا اور سب اُس کی بڑائی کرتے رہے۔

33 ۔ اور عبادت خانہ میں ایک آدمِی تھا جِس میں ناپاک دیو کی روھ تھی وہ بڑی آواز سے چلا اُٹھا کہ۔ 

34 ۔ اَے یسوع ناصری ہمیں تُجھ سے کیا کام؟ کیا تو ہمیں ہلاک کرنے آیا ہے؟ مَیں تجھے جانتا ہُوں کہ تُو کون ہے۔ خُدا کا قدوس ہے۔ 

35 ۔ یسوع نے اُسے جھڑک کرکہا چپ رہ اور اُس میں سے نِکل جا۔ اِس پر بد روح اُسے بِیچ میں پٹک کر بغیر ضرر پہنچائے اُس میں سے نکل گئی۔ 

36 ۔ اور سب حیران ہوکر آپس میں کہنے لگے کہ یہ کیسا کلام ہے؟ کیونکہ وہ اختیار اور قدرت سے ناپاک روحوں کو حُکم دیتا ہے اور وہ نِکل جاتی ہیں۔

7۔ لوقا 7باب12تا15آیات

12 ۔ جب وہ شہر کے پھاٹک کے نزدِیک پہنچا تو دیکھو ایک مردہ کو باہِر لئے جاتے تھے۔ وہ اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا تھا اور وہ بیوہ تھی اور شہر کے بہتیرے لوگ اُس کے ساتھ تھے۔ 

13۔ اسے دیکھ کر خُداوند کو ترس آیا اور اُس سے کہا مَت رو۔ 

14۔ پھر اُس نے پاس آ کر جنازہ کو چھوا اور اُٹھانے والے کھڑے ہوگئے اور اُس نے کہا اے جوان میں تجھ سے کہتا ہوں اُٹھ۔ 

15 ۔ وہ مردہ اٹھ بیٹھا اور بولنے لگا اور اُس نے اُسے اُس کی ماں کو سونپ دِیا۔

8۔ رومیوں 8باب31،35، 37تا39آیات

31۔ پس ہم اِن باتوں کی بابت کیا کہیں؟ اگر خُدا ہماری طرف ہے تو کون ہمارا مخالف ہے؟۔ 

35 ۔ کون ہم کو مسِیح کی محبت سے جدا کرے گا؟ مصیبت یا تنگی یا ظلم یا کال یا ننگا پن یا خطرہ یا تلوار؟۔ 

37۔ مگر اُن سب حالتوں میں اُس کے وسیلہ سے جس نے ہم سے محبت کی ہم کو فتح سے بھی بڑھ کر غلبہ حاصل ہوتا ہے۔ 

38 ۔ کیونکہ مجھ کو یقین ہے کہ خدا کی محبت ہمارے خداوند مسِیح یسوع میں ہے اُس سے ہم کو نہ موت جُدا کرسکیگی نہ زندگی۔ 

39۔ نہ فرشتے نہ حکُومتیں۔ نہ حال کی نہ استقبال کی چیزیں۔ نہ قدرت نہ بلندی نہ پستی نہ کوئی اَور مخلوق۔



سائنس اور صح


1۔ 516: 19۔21

انسان ، اْس کی شبیہ پر خلق کئے جانے سے پوری زمین پر خدا کی حاکمیت کی عکاسی کرتا اور ملکیت رکھتا ہے۔ 

2۔ 307: 26۔30

انسان کو مادیت کی بنیادوں پر خلق نہیں کیا گیا اور نہ ہی مادی قوانین کی فرمانبرداری کے لئے خلق کیا گیا جو روح نے کبھی نہیں بنائے؛ اْس کا صوبہ ، فہم کی بلندو بالا شریعت میں، روحانی قوانین ہیں ۔ 

3۔ 475: 7۔13، 14۔15 (تا؛) ، 19 (کہ جس میں نہیں ہے) ۔ 22

کلام پاک ہمیں اس بات سے آگاہ کرتا ہے کہ انسان خدا کی شبیہ اور صورت پر خلق کیا گیا ہے۔ یہ مادے کی شبیہ نہیں ہے۔ روح کی شبیہ اس قدر غیر روحانی نہیں ہوسکتی۔ انسان روحانی اور کامل ہے؛ اور چونکہ وہ روحانی اور کامل ہے اس لئے اْسے کرسچن سائنس میں ایسا ہی سمجھا جانا چاہئے۔۔۔وہ خدا کا جامع تصور ہے، جس میں تمام درست خیالات شامل ہیں۔۔۔وہ جس میں ایسی کوئی خاصیت نہیں جو خدائی سے ماخوذ نہ ہو؛ ایسی خاصیت جس میں زندگی ہو نہ عقل، نہ خود کی تخلیقی قوت ہو، بلکہ وہ روحانی طور پراْن سب چیزوں کی عکاسی کرتا ہے جو اْس کے خالق میں ہیں۔

4۔ 373: 14۔18

بیماری کا خوف اور گناہ سے پیار انسان کی غلامی کے ذرائع ہیں۔’’خداوند کا خوف حکمت کا شروع ہے‘‘، لیکن کلام بھی یوحنا کی بلند سوچ کے وسیلہ سے یہ واضح کرتا ہے، ’’کامل محبت خوف کو دور کردیتی ہے۔‘‘

5۔ 380: 15۔21

خوف کے جسمانی اثرات اِس کی فریب نظری کو ظاہر کرتے ہیں۔ زنجیروں میں جکڑے، اوندھے منہ پڑے ہوئے ایک شیر کو گھورنے سے انسان کو خوف زدہ نہیں ہونا چاہئے۔ جسم صرف اْس بیماری پر یقین کرنے سے متاثر ہوتا ہے جوبیماری کو قابو کرنے والی سچائی سے لاتعلقی کی بدولت جنم لیتی ہے۔ سچائی کی جو قوت غلطی پر انسان کی حاکمیت کو ثابت کرتی ہے اْس کے علاوہ کوئی چیز غلطی کے خوف کو دور نہیں کر سکتی۔ 

6۔ 381:8۔21

جب کوئی فرضی قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو آپ کہتے ہیں کہ اس میں خطرہ ہے۔ یہ خوف ہی خطرہ ہے اور جسمانی اثرات کی ترغیب دلاتا ہے۔ ہم اخلاقی یا روحانی قانون کے ٹوٹنے کے علاوہ حقیقت میں کسی اور چیز کے ٹوٹنے سے تکلیف محسوس نہیں کرسکتے۔ فانی یقین کے نام نہاد قوانین یہ سمجھنے سے تباہ ہوتے ہیں کہ روح غیر فانی ہے، اور یہ کہ فانی سوچ وقت، ادوار اور بیماری کی اقسام کی قانون سازی نہیں کر سکتی، جس سے فانی لوگ مرتے ہیں۔ خدا قانون ساز ہے، لیکن وہ غیر مہذب ضابطوں کا مصنف نہیں ہے۔ لامحدود زندگی اور محبت میں کوئی بیماری، گناہ نہیں نہ ہی موت ہے، اور کلام پاک واضح کرتا ہے کہ ہم لامحدود خدا میں جیتے، چلتے پھرتے اور اپنا وجود رکھتے ہیں۔ 

فانی سوچ کے نفاذ پر کم غور کریں تو آپ جلد ہی انسان کی خداد داد حکومت میں ہوں گے۔ 

7۔ 151: 17۔24، 26۔30

فانی عقیدہ کہتا ہے کہ موت دہشت سے رونما ہوتی ہے۔ خوف کبھی خود کے ہونے اور اپنے کاموں سے رْکتا نہیں۔ خون، دل، پھیپھڑوں وغیرہ کا زندگی، یعنی خدا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حقیقی انسان کا ہر عمل الٰہی فہم کی نگرانی میں ہے۔ انسانی سوچ قتل کرنے یا علاج کرنے کی کوئی قوت نہیں رکھتی، اور اس کا خدا کے بشر پر کوئی اختیار نہیں ہے۔ وہ الٰہی فہم جس نے انسان کو خلق کیا اپنی صورت اور شبیہ کو برقرار رکھتا ہے۔ ۔۔۔جو وجود رکھتا ہے وہ محض الٰہی فہم اور اْس کا خیال ہے، اسی فہم میں ساری ہستی ہم آہنگ اور ابدی پائی جاتی ہے۔ سیدھا یا تنگ راستہ اس حقیقت کو دیکھنے اور تسلیم کرنے ، اس قوت کو قبول کرنے اور سچائی کی راہوں کی پیروی کرنے کے لئے ہے۔ 

8۔ 385: 18۔25، 31۔1

اگر آپ کے پٹھے میں موچ ہے یا جسم پر زخم ہے تو اس کا فوری علاج ہے۔ ذہن یہ فیصلہ کرتا ہے کہ جسم داغدار، تکلیف دہ، سوجن اور جلن محسوس کرے گا یا نہیں۔

آپ کہتے ہیں کہ آپ پوری نیند سوئے نہیں یا زیادہ کھانا کھا چکے ہیں۔ آپ اپنے آپ کے لئے ایک قانون ہیں۔ یہ کہنے اور اسے ماننے سے آپ اپنے خوف اور یقین کے تناسب میں تکلیف اٹھائیں گے۔ 

بطور کوئی ایک عاقل آپ کے جسم یا سست مادے سے آنے والی فرضی معلومات فانی سوچ کی فریب نظری ہے،یہ اْس کے خوابوں میں سے ایک۔

9۔ 386: 12۔15

مصنف نے بیشمار مثالوں میں فانی سوچ پر سچائی کے کام کے وسیلہ اور جسم پر سچائی کے متعلقہ اثرات کے وسیلہ بیماری کو شفا دی، یہ جانے بغیر کہ یہ ایسا ہے۔

10۔ 387: 23(ایک) ۔24، 27۔32

۔۔۔محبت کی کسی مشقت کے نتیجہ میں کوئی دْکھ نہیں اْٹھا سکتا، بلکہ اس کی بدولت وہ مضبوط ہوتا ہے۔

مسیحت کی تاریخ اْس آسمانی باپ ، قادرِمطلق فہم، کے عطا کردہ معاون اثرات اور حفاظتی قوت کے شاندار ثبوتوں کو مہیا کرتی ہے جو انسان کو ایمان اور سمجھ مہیا کرتا ہے جس سے وہ خود کو بچا سکتا ہے نہ صرف آزمائش سے بلکہ جسمانی دْکھوں سے بھی۔ 

11۔ 200:4۔7

موسیٰ نے ایک قوم کو مادے کی بجائے خدا کی عبادت میں آگے بڑھایا اور لافانی سوچ کے وسیلہ بابرکت ہونے کی بلند انسانی حیثیتوں کو بیان کیا۔

12۔ 89: 18۔20

فہم لازمی طور پر تعلیمی مراحل پر انحصار نہیں کرتا۔یہ خود تمام تر خوبصورتی اور شاعری اور اِن کے اظہار کی طاقت رکھتا ہے۔

13۔ 128: 7(کاروبار) ۔19

۔۔۔تاجران اور مہذب علماء نے دیکھا ہے کہ کرسچن سائنس اْن کی برداشت اور ذہنی قوتوں کو فروغ دیتی ہے، کردار کے لئے اْن کی سوچ کو وسیع کرتی ہے، انہیں فراست اور ادراک اور اپنی عام گنجائش کو بڑھانے کی قابلیت دیتی ہے۔ انسانی سوچ روحانی سمجھ سے بھرو پور ہوکر مزید لچکدار ہوجاتی ہے، تو یہ بہت برداشت اور کسی حد تک خود سے فرارکے قابل ہوجاتی ہے اور کم آرام طلب ہوتی ہے۔ ہستی کی سائنس کا علم انسان کی قابلیت کے فن اور امکانات کو فروغ دیتا ہے۔ فانی لوگوں کو بلند اور وسیع ریاست تک رسائی دیتے ہوئے یہ سوچ کے ماحول کو بڑھاتا ہے۔ یہ سوچنے والے کو اْس کے ادراک اور بصیرت کی مقامی ہوا میں پروان چڑھاتا ہے۔

14۔ 302: 14۔19

بشر کے حوالے سے ہمار ی تشریح کو جاری رکھتے ہوئے آئیے یاد کریں کہ ہم ساز اورغیر فانی انسان ہمیشہ سے موجود ہے اور بطور مادہ وجود رکھتے ہوئے کسی فانی زندگی، جوہر یا ذہانت سے ہمیشہ بلند اور پار رہتا ہے۔ یہ بیان حقیقت پر مبنی ہے نہ کہ افسانوی ہے۔

15۔ 228: 11۔16

انسان کی غلامی جائز نہیں ہے۔ یہ تب ختم ہوجائے گی جب انسان اپنی آزادی کی وراثت ، مادی حواس پر اپنی خداداد حاکمیت میں داخل ہوتا ہے۔ فانی لوگ ایک دن قادرِ مطلق خدا کے نام پر اپنی آزادی کا دعویٰ کریں گے۔ پھر وہ الٰہی سائنس کی سمجھ کے وسیلہ سے اپنے خود کے بدنوں کو قابو کریں گے۔

16۔ 200: 9۔15 (دوسرے تک)

زندگی ہمیشہ مادے سے آزاد تھی، ہے اور ہمیشہ رہے گی،کیونکہ زندگی خدا ہے اور انسان خدا کا تصور ہے، جسے مادی طور پر نہیں بلکہ روحانی طور پر خلق کیا گیا، اور وہ فنا ہونے اور نیست ہونے سے مشروط نہیں۔ زبور نویس نے کہا: ’’تْو نے اْسے اپنی دستکاری پر تسلط بخشا ہے۔ تْو نے سب کچھ اْس کے قدموں کے نیچے کر دیا ہے۔‘‘


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████