اتوار 10 مئی، 2020 |

اتوار 10 مئی، 2020



مضمون۔ آدم اور گناہگار انسان

SubjectAdam and Fallen Man

سنہری متن:سنہری متن: 1کرنتھیوں 15 باب 22 آیت

’’اور جیسے آدم میں سب مرتے ہیں ویسے ہی مسیح میں سب زندہ کئے جائیں گے۔‘‘



Golden Text: I Corinthians 15 : 22

For as in Adam all die, even so in Christ shall all be made alive.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: رومیوں 5 باب 17 تا 21 آیات


17۔ کیونکہ جب ایک شخص کے گناہ کے سبب سے موت نے اْس ایک کے ذریعہ سے بادشاہی کی تو جو لوگ فضل اور بادشاہی کی بخشش افراط سے حاصل کرتے ہیں وہ ایک شخص یعنی یسوع مسیح کے وسیلہ سے ہمیشہ کی زندگی میں ضرور ہی بادشاہی کریں گے۔

18۔ غرض جیسا ایک گناہ کے سبب سے وہ فیصلہ ہوا جس کا نتیجہ سب آدمیوں کی سزا کا حکم تھا ویسا ہی راستبازی کے کام کے وسیلہ سے سب آدمیوں کو وہ نعمت ملی جس سے راستباز ٹھہر کر زندگی پائیں۔

19۔ کیونکہ جس طرح ایک ہی شخص کی نافرمانی سے بہت سے لوگ گناہگار ٹھہرے اْسی طرح ایک کی فرمانبرداری سے بہت سے لوگ راستباز ٹھہریں گے۔

20۔ اور بیچ میں شریعت آموجود ہوئی تاکہ گناہ زیادہ ہو جائے مگر جہاں گناہ زیادہ ہوا وہاں فضل اْس سے بھی زیادہ ہوا۔

21۔ تاکہ جس طرح گناہ نے موت کے سبب سے بادشاہی کی اْسی طرح فضل بھی ہمارے خداوند یسوع مسیح کے وسیلہ سے ہمیشہ کی زندگی کے لئے راستبازی کے ذریعہ سے بادشاہی کرے۔

Responsive Reading: Romans 5 : 17-21

17.     For if by one man’s offence death reigned by one; much more they which receive abundance of grace and of the gift of righteousness shall reign in life by one, Jesus Christ.

18.     Therefore as by the offence of one judgment came upon all men to condemnation; even so by the righteousness of one the free gift came upon all men unto justification of life.

19.     For as by one man’s disobedience many were made sinners, so by the obedience of one shall many be made righteous.

20.     Moreover the law entered, that the offence might abound. But where sin abounded, grace did much more abound:

21.     That as sin hath reigned unto death, even so might grace reign through righteousness unto eternal life by Jesus Christ our Lord.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ زبور 33 :6تا9 آیات

6 ۔آسمان خداوند کے کلام سے اور اْس کا سارا لشکر اْس کے منہ کے دم سے بنا۔

7۔ وہ سمندر کا پانی تودے کی مانند جمع کرتا ہے۔ وہ گہرے سمندروں کو مخزنوں میں رکھتا ہے۔

8۔ ساری زمین خداوند سے ڈرے۔ جہان کے سب باشندے اْس کا خوف رکھیں۔

9۔ کیونکہ اْس نے حکم دیا اور واقع ہوا۔

1. Psalm 33 : 6-9

6     By the word of the Lord were the heavens made; and all the host of them by the breath of his mouth.

7     He gathereth the waters of the sea together as an heap: he layeth up the depth in storehouses.

8     Let all the earth fear the Lord: let all the inhabitants of the world stand in awe of him.

9     For he spake, and it was done; he commanded, and it stood fast.

2۔ پیدائش 1باب26تا28 (تا پہلا،)، 31 (تا پہلا)۔

26۔ پھر خدا نے کہا کہ ہم انسان کو اپنی صورت پر اپنی شبیہ کی مانند بنائیں اور وہ سمندر کی مچھلیوں اور آسمان کے پرندوں اور چوپائیوں اور تمام زمین اور سب جانداروں پر جو زمین پر رینگتے ہیں اختیار رکھیں۔

27۔ اور خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ خدا کی صورت پر اْس کو پیدا کیا۔ نر اور ناری اْن کو پیدا کیا۔

28۔ خدا نے اْن کو برکت دی۔

31۔ اور خدا نے سب پر جو اْس نے بنایا تھا نظر کی اور دیکھا کہ بہت اچھا ہے۔

2. Genesis 1 : 26-28 (to 1st ,), 31 (to 1st .)

26     And God said, Let us make man in our image, after our likeness: and let them have dominion over the fish of the sea, and over the fowl of the air, and over the cattle, and over all the earth, and over every creeping thing that creepeth upon the earth.

27     So God created man in his own image, in the image of God created he him; male and female created he them.

28     And God blessed them,

31     And God saw every thing that he had made, and, behold, it was very good.

3۔ پیدائش 3باب1تا13، 16، 17 آیات

1۔سانپ کل دشتی جانوروں سے جن کو خداوند خدا نے بنایا تھا چالاک تھا اور اس نے عورت سے کہا کیا واقعی خدا نے کہا ہے کہ باغ کے کسی درخت کا پھل تم نہ کھانا؟۔

2۔عورت نے سانپ سے کہا کہ باغ کے درختوں کا پھل تو ہم کھاتے ہیں۔

3۔پر جو درخت باغ کے بیچ میں ہے اُس کے پھل کی بابت خدانے کہا ہے کہ تم نہ تو اُسے کھا نا اور نہ چھوناورنہ مر جاؤ گے۔

4۔ تب سانپ نے عورت سے کہا کہ تم ہر گز نہ مرو گے۔

5۔ بلکہ خداجانتا ہے کہ جس دن تم اُسے کھاؤ گے تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی اور تم خدا کے مانندنیک و بد کے جاننے والے بن جاؤ گے۔

6۔ عورت نے جو دیکھا کہ وہ درخت کھانے کے لئے اچھا اور آنکھوں کو خوشنما معلوم ہوتا ہے اور عقل بخشنے کے لئے خوب ہے تو اُس کے پھل میں سے لیا اور کھایا اور اپنے شوہرکو بھی دیا اور اُس نے کھایا۔

7۔ تب دونوں کی آنکھیں کھل گئیں اور اُن کو معلوم ہوا کہ وہ ننگے ہیں اور انہوں نے انجیر کے پتوں کو سی کر اپنے لئے لنگیاں بنائیں۔

8۔ اور انہوں نے خداوند خدا کی آواز جو ٹھنڈے وقت باغ میں پھرتا تھا سنی اور آدم اور اُس کی بیوی نے آپ کو خداوند خدا کے حضور سے باغ کے درختوں میں چھپایا۔

9۔ تب خداوند خدا نے آدم کو پکارا اور اُس سے کہا کہ تو کہاں ہے؟

10۔ اُس نے کہا میں نے باغ میں تیری آواز سنی اور میں ڈرا کیونکہ میں ننگا تھا اور میں نے اپنے آپ کو چھپایا۔

11۔ اُس نے کہا تجھے کس نے بتایا کہ تو ننگا ہے؟ کیا تونے اُس درخت کا پھل کھایا جس کی بابت میں نے تجھ کوحکم دیا تھا کہ اُسے نہ کھانا؟

12۔ آدم نے کہا جس عورت کو تو نے میرے ساتھ کیا ہے اُس نے مجھے اُس درخت کا پھل دیا اور میں نے کھایا۔

13۔ تب خداوند خدا نے عورت سے کہا کہ تونے یہ کیا کِیا؟ عورت نے کہا کہ سانپ نے مجھ کو بہکایا تو میں نے کھایا۔

16۔ پھر اْس نے عورت سے کہا مَیں تیرے درد حمل کو بہت بڑھاؤں گا۔ تْو درد کے ساتھ بچے جنے گی اور تیری رغبت اپنے شوہر کی طرف ہوگی اور وہ تجھ پر حکومت کرے گا۔

17۔ اور آدم سے اْس نے کہا چونکہ تْو نے اپنی بیوی کی بات مانی اور اْس درخت کا پھل کھایا جس کی بابت میں نے تجھ سے کہا تھاکہ اْسے نہ کھانا اس لئے زمین تیرے سبب سے لعنتی ہوئی مشقت کے ساتھ تْو عمر بھر اْس کی پیداوار کھائے گا۔

3. Genesis 3 : 1-13, 16, 17

1     Now the serpent was more subtil than any beast of the field which the Lord God had made. And he said unto the woman, Yea, hath God said, Ye shall not eat of every tree of the garden?

2     And the woman said unto the serpent, We may eat of the fruit of the trees of the garden:

3     But of the fruit of the tree which is in the midst of the garden, God hath said, Ye shall not eat of it, neither shall ye touch it, lest ye die.

4     And the serpent said unto the woman, Ye shall not surely die:

5     For God doth know that in the day ye eat thereof, then your eyes shall be opened, and ye shall be as gods, knowing good and evil.

6     And when the woman saw that the tree was good for food, and that it was pleasant to the eyes, and a tree to be desired to make one wise, she took of the fruit thereof, and did eat, and gave also unto her husband with her; and he did eat.

7     And the eyes of them both were opened, and they knew that they were naked; and they sewed fig leaves together, and made themselves aprons.

8     And they heard the voice of the Lord God walking in the garden in the cool of the day: and Adam and his wife hid themselves from the presence of the Lord God amongst the trees of the garden.

9     And the Lord God called unto Adam, and said unto him, Where art thou?

10     And he said, I heard thy voice in the garden, and I was afraid, because I was naked; and I hid myself.

11     And he said, Who told thee that thou wast naked? Hast thou eaten of the tree, whereof I commanded thee that thou shouldest not eat?

12     And the man said, The woman whom thou gavest to be with me, she gave me of the tree, and I did eat.

13     And the Lord God said unto the woman, What is this that thou hast done? And the woman said, The serpent beguiled me, and I did eat.

16     Unto the woman he said, I will greatly multiply thy sorrow and thy conception; in sorrow thou shalt bring forth children; and thy desire shall be to thy husband, and he shall rule over thee.

17     And unto Adam he said, Because thou hast hearkened unto the voice of thy wife, and hast eaten of the tree, of which I commanded thee, saying, Thou shalt not eat of it: cursed is the ground for thy sake; in sorrow shalt thou eat of it all the days of thy life.

4۔ عبرانیوں 3باب12، 13 آیات

12۔ اے بھائیو! خبردار! تم میں سے کسی کا ایسا برا اور بے ایمان دل نہ ہو جو زندہ خدا سے پھرے۔

13۔ بلکہ جس روز تک آج کا دن کہا جاتا ہے ہر روز آپس میں نصیحت کیا کرو تاکہ تم میں سے کوئی گناہ کے فریب میں آکر سخت دل نہ ہو جائے۔

4. Hebrews 3 : 12, 13

12     Take heed, brethren, lest there be in any of you an evil heart of unbelief, in departing from the living God.

13     But exhort one another daily, while it is called To day; lest any of you be hardened through the deceitfulness of sin.

5۔ متی 8 باب5تا8، 10، 13 آیات

5۔ اور جب وہ کفر نحوم میں داخل ہوا تو ایک صوبہ دار اْس کے پاس آیا اور اْس کی منت کر کے کہا۔

6۔ اے خداوند میرا خادم فالج کا مارا گھر میں پڑا ہے اور نہایت تکلیف میں ہے۔

7۔ اْس نے اْس سے کہا مَیں آکر اْسے شفا دوں گا۔

8۔ صوبہ دار نے جواب میں کہا اے خداوندمیں اِس لائق نہیں کہ تْو میری چھت کے نیچے آئے بلکہ صرف زبان سے کہہ دے تو میرا خادم شفا پائے گا۔

10۔ یسوع نے یہ سْن کر تعجب کیا اور پیچھے آنے والوں سے کہا مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ مَیں نے اسرائیل میں بھی ایسا ایمان نہیں پایا۔

13۔ اور یسوع نے صوبہ دار سے کہا جا جیسا تْو نے اعتقاد کیا تیرے لئے ویسا ہی ہو اور اْسی گھڑی خادم نے شفا پائی۔

5. Matthew 8 : 5-8, 10, 13

5     And when Jesus was entered into Capernaum, there came unto him a centurion, beseeching him,

6     And saying, Lord, my servant lieth at home sick of the palsy, grievously tormented.

7     And Jesus saith unto him, I will come and heal him.

8     The centurion answered and said, Lord, I am not worthy that thou shouldest come under my roof: but speak the word only, and my servant shall be healed.

10     When Jesus heard it, he marvelled, and said to them that followed, Verily I say unto you, I have not found so great faith, no, not in Israel.

13     And Jesus said unto the centurion, Go thy way; and as thou hast believed, so be it done unto thee. And his servant was healed in the selfsame hour.

6۔ افسیوں 5 باب14 (جاگو) آیت

14۔ اے سونے والے!جاگ اور مردوں میں سے جی اٹھ تو مسیح کا نور تجھ پر چمکے گا۔

6. Ephesians 5 : 14 (Awake)

14     Awake thou that sleepest, and arise from the dead, and Christ shall give thee light.

7۔ اعمال 17 باب24، 26 تا28 آیات

24۔ جس خدا نے دنیا اور اْس کی سب چیزوں کو پیدا کیا وہ آسمان اور زمین کا مالک ہو کر ہاتھ کے بنائے ہوئے مندروں میں نہیں رہتا۔

26۔ اور اْس نے ایک ہی اصل سے آدمیوں کی ہر ایک قوم تمام روئے زمین پر رہنے کے لئے پیدا کی اور اْن کی معیادیں اور سکونت کی حدیں مقرر کیں۔

27۔ تاکہ خدا کو ڈھونڈیں۔ شاید کہ ٹٹول کر اْسے پائیں ہر چند کہ وہ ہم میں سے کسی سے دور نہیں۔

28۔ کیونکہ اْسی میں ہم جیتے اور چلتے پھرتے اور موجود ہیں۔ جیسا تمہارے شاعروں میں سے بھی بعض نے کہا ہے کہ ہم تو اْس کی نسل بھی ہیں۔

7. Acts 17 : 24, 26-28

24     God that made the world and all things therein, seeing that he is Lord of heaven and earth, dwelleth not in temples made with hands;

26     And hath made of one blood all nations of men for to dwell on all the face of the earth, and hath determined the times before appointed, and the bounds of their habitation;

27     That they should seek the Lord, if haply they might feel after him, and find him, though he be not far from every one of us:

28     For in him we live, and move, and have our being; as certain also of your own poets have said, For we are also his offspring.



سائنس اور صح


1۔ 29 :14۔16

جن لوگوں کو کرسچن سائنس کی ہدایت ملی ہے وہ اِس جلالی فہم تک پہنچے ہیں کہ خدا ہی انسان کا واحد مصنف ہے۔

1. 29 : 14-16

Those instructed in Christian Science have reached the glorious perception that God is the only author of man.

2۔ 332 :4 (باپ)۔8

الوہیت کے لئے مادر پدر نام ہے، جو اْس کی روحانی مخلوق کے ساتھ اْس کے شفیق تعلق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جیسا کہ رسول نے ان الفاظ میں یہ ظاہر کیا جنہیں ایک بہترین شاعر کی منظوری سے لیا گیا ہے: ”اسلئے کہ ہم بھی اْس کی اولاد ہیں“۔

2. 332 : 4 (Father)-8

Father-Mother is the name for Deity, which indicates His tender relationship to His spiritual creation. As the apostle expressed it in words which he quoted with approbation from a classic poet: "For we are also His offspring."

3۔ 242 :9۔14

آسمان پر جانے کا واحد راستہ ہم آہنگی ہے اور مسیح الٰہی سائنس میں ہمیں یہ راستہ دکھاتا ہے۔ اس کا مطلب خدا، اچھائی اور اْس کے عکس کے علاوہ کسی اور حقیقت کو نہ جاننا، زندگی کے کسی اور ضمیر کو نا جاننا ہے، اور نام نہاد درد اور خوشی کے احساسات سے برتر ہونا ہے۔

3. 242 : 9-14

There is but one way to heaven, harmony, and Christ in divine Science shows us this way. It is to know no other reality — to have no other consciousness of life — than good, God and His reflection, and to rise superior to the so-called pain and pleasure of the senses.

4۔ 502 :22۔5

پیدائش 1باب 1آیت: خدا نے ابتدا میں زمین و آسمان کو پیدا کیا۔

لامتناہی کی کوئی ابتدا نہیں ہے۔یہ لفظ ابتدا اْس واحد کی طرف اشارہ کرنے کے لئے، یعنی انسان اور خدا کی، بشمول کائنات، ابدی حقیقت اور واحدانیت کی طرف اشارہ کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔تخلیقی اصول، زندگی، سچائی اور محبت، خدا ہے۔ کائنات خدا کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک خالق اور ایک تخلیق کے سوا اور کوئی نہیں۔ یہ تخلیق روحانی خیالات اور اْن کی شناختوں کے ایاں ہونے پر مشتمل ہے، جو لامحدود عقل کے دامن سے جڑے ہیں اور ہمیشہ منعکس ہوتے ہیں۔ یہ خیالات محدود سے لامحدود تک وسیع ہیں اور بلند تیرین خیالات خدا کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔

4. 502 : 22-5

Genesis i. 1. In the beginning God created the heaven and the earth.

The infinite has no beginning. This word beginning is employed to signify the only, — that is, the eternal verity and unity of God and man, including the universe. The creative Principle — Life, Truth, and Love — is God. The universe reflects God. There is but one creator and one creation. This creation consists of the unfolding of spiritual ideas and their identities, which are embraced in the infinite Mind and forever reflected. These ideas range from the infinitesimal to infinity, and the highest ideas are the sons and daughters of God.

5۔ 282 :28۔31

جو کچھ بھی انسان کے گناہ یا خدا کے مخالف یا خدا کی غیر موجودگی کی طرف اشارہ کرتا ہے، وہ آدم کا خواب ہے، جو نہ ہی عقل ہے اورنہ انسان ہے، کیونکہ یہ باپ کا اکلوتا نہیں ہے۔

5. 282 : 28-31

Whatever indicates the fall of man or the opposite of God or God's absence, is the Adam-dream, which is neither Mind nor man, for it is not begotten of the Father.

6۔ 338 :27۔32

یہوواہ نے یہ اعلان کیا کہ زمین ملعون تھی؛ اور اس زمین سے، یا مادے سے آدم نے جنم لیا، اس کے باوجود خدا نے ”انسان کی خاطر“ زمین کو برکت دی۔اس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ آدم وہ مثالی انسان نہیں تھا جس کے لئے زمین کو برکت دی گئی تھی۔مثالی انسان اپنے وقت پر ظاہر کیا گیا، اور اْسے بطور یسوع مسیح جانا جاتا تھا۔

6. 338 : 27-32

Jehovah declared the ground was accursed; and from this ground, or matter, sprang Adam, notwithstanding God had blessed the earth "for man's sake." From this it follows that Adam was not the ideal man for whom the earth was blessed. The ideal man was revealed in due time, and was known as Christ Jesus.

7۔ 302 :19۔24، 31۔7

ہستی کی سائنس انسان کو کامل ظاہر کرتی ہے، حتیٰ کہ جیسا کہ باپ کامل ہے، کیونکہ روحانی انسان کی جان یا عقل خدا ہے، جو تمام تر مخلوقات کا الٰہی اصول ہے، اور یہ اس لئے کہ اس حقیقی انسان پر فہم کی بجائے روح کی حکمرانی ہوتی ہے، یعنی شریعت کی روح کی، نہ کہ نام نہاد مادے کے قوانین کی۔

حتیٰ کہ کرسچن سائنس میں، روح کے انفرادی خیالات کے وسیلہ افزائش انہی خیالات کے الٰہی اصول کی تخلیقی قوت کی عکاسی کے سوا کچھ نہیں۔ ذہنی اظہارات کے وسیلہ عقل کی کثیر اشکال کی عکاسی یعنی حقیقی سلطنت کے لوگوں پر عقل کا اختیار ہوتا ہے، اصول اِس عکاسی پر حکومت کرتا ہے۔ خدا کے لوگوں کا بڑھنا مادے کے پھیلاؤ والی کسی قوت سے نہیں ہوتا، یہ روح کی عکاسی ہے۔

7. 302 : 19-24, 31-7

The Science of being reveals man as perfect, even as the Father is perfect, because the Soul, or Mind, of the spiritual man is God, the divine Principle of all being, and because this real man is governed by Soul instead of sense, by the law of Spirit, not by the so-called laws of matter.

Even in Christian Science, reproduction by Spirit's individual ideas is but the reflection of the creative power of the divine Principle of those ideas. The reflection, through mental manifestation, of the multitudinous forms of Mind which people the realm of the real is controlled by Mind, the Principle governing the reflection. Multiplication of God's children comes from no power of propagation in matter, it is the reflection of Spirit.

8۔ 307 :25 (دی)۔13

الٰہی فہم بشر کی جان ہے، اور انسان کو سب چیزوں پر حاکمیت عطا کرتا ہے۔ انسان کو مادیت کی بنیاد پر خلق نہیں کیا گیا اور نہ اسے مادی قوانین کی پاسداری کا حکم دیا گیا جو روح نے کبھی نہیں بنائے؛ اس کا صوبہ روحانی قوانین، فہم کے بلند آئین میں ہے۔

غلطی کی زور دار گونج، سیاہی اور افراتفری سے ہٹ کر سچائی کی آواز ابھی بھی بلاتی ہے: ”آدم، تو کہاں ہے؟ شعور، تو کہاں ہے؟ کیا تم اس یقین میں زندہ رہتے ہوکہ عقل مادے میں ہے، اور کہ بدی عقل ہے، یا کیا تم اس زندہ ایمان میں رہتے ہوکہ یہاں ماسوائے ایک خدا کے اور کوئی ہے نہ ہو سکتا ہے، اور اْس کے حکموں پر عمل کر رہے ہو؟“.جب تک یہ سبق نہیں سیکھ لیا جاتا کہ خدا ہی انسان پر حکومت کرنے والی واحد عقل ہے، فانی عقیدہ خوفزدہ ہی رہے گا جیسا کہ یہ ابتدا میں تھا اور یہ اس طلب سے چھپا رہے گا کہ، ”تْو کہاں ہے؟“یہ رعب زدہ مانگ کہ ”اے آدم، تْو کہاں ہے؟“ سر، دل، پیٹ، خون، اننتڑیوں وغیرہ کی باریابی سے پوری ہوتی ہے کہ: ”دیکھ، میں یہاں ہوں، بدن میں خوشی اور زندگی کو تلاش کرتا ہوا، مگر صرف ایک بھرم، جھوٹے دعوں، جھوٹی خوشی، درد، گناہ، بیماری اور موت کی ملاوٹ کو ہی پاتے ہوئے۔“

8. 307 : 25 (The)-13

The divine Mind is the Soul of man, and gives man dominion over all things. Man was not created from a material basis, nor bidden to obey material laws which Spirit never made; his province is in spiritual statutes, in the higher law of Mind.

Above error's awful din, blackness, and chaos, the voice of Truth still calls: "Adam, where art thou? Consciousness, where art thou? Art thou dwelling in the belief that mind is in matter, and that evil is mind, or art thou in the living faith that there is and can be but one God, and keeping His commandment?" Until the lesson is learned that God is the only Mind governing man, mortal belief will be afraid as it was in the beginning, and will hide from the demand, "Where art thou?" This awful demand, "Adam, where art thou?" is met by the admission from the head, heart, stomach, blood, nerves, etc.: "Lo, here I am, looking for happiness and life in the body, but finding only an illusion, a blending of false claims, false pleasure, pain, sin, sickness, and death."

9۔ 260 :24۔7

خود غرضی اور شہوت پسندی کو کسی بھی شخص کے بار بار آنے والے خیالات کی بدولت فانی عقل میں بدن سے متعلق گفتگو کرنے، اور اِس سے باقاعدہ خوشی یا درد حاصل ہونے کی امید کے وسیلہ تعلیم دی جاتی ہے، اور یہ تعلیم روحانی ترقی کے بدلے ہوتی ہے۔اگر ہم خیالات کو فانی پوشاک میں ترتیب دیتے ہیں تو یہ لافانی فطرت کو ضرور کھو دیتے ہیں۔

اگر ہم بدن کو لذت کے لئے دیکھتے ہیں تو ہم درد پاتے ہیں، زندگی کے لئے دیکھتے ہیں تو ہم موت پاتے ہیں، سچائی کے لئے دیکھتے ہیں تو ہم غلطی پاتے ہیں، روح کے لئے دیکھتے ہیں تو ہم اس کے مخالف، مادے، کو پاتے ہیں۔ اب اِس عمل کو الٹا کریں۔ بدن سے ہٹ کر سچائی اور محبت، ساری خوشی، ہم آہنگی اور لافانیت کے اصول کو دیکھیں۔ برداشت، اچھائی اور سچائی کو مضبوطی سے تھام لیں تو آپ انہیں اپنے خیالات کے قبضے کے تناسب سے اپنے تجربات میں لائیں گے۔

9. 260 : 24-7

Selfishness and sensualism are educated in mortal mind by the thoughts ever recurring to one's self, by conversation about the body, and by the expectation of perpetual pleasure or pain from it; and this education is at the expense of spiritual growth. If we array thought in mortal vestures, it must lose its immortal nature.

If we look to the body for pleasure, we find pain; for Life, we find death; for Truth, we find error; for Spirit, we find its opposite, matter. Now reverse this action. Look away from the body into Truth and Love, the Principle of all happiness, harmony, and immortality. Hold thought steadfastly to the enduring, the good, and the true, and you will bring these into your experience proportionably to their occupancy of your thoughts.

10۔ 306 :30۔6

خدا کا انسان، جسے روحانی طور پر خلق کیا گیا ہے، مادی یا فانی نہیں ہے۔

تمام تر انسانی اختلاف کی ولدیت آدم کا خواب تھا، گہری نیند، جس میں زندگی اور اْس ذہانت کا بھرم پیدا ہوا جو مادے سے اخذ ہوا اور گزرا۔یہ مشرکانہ غلطی، یا نام نہاد سانپ ابھی بھی سچائی کے مخالف سے اصرار کرتا اور کہتا ہے، ”تم خدا کی مانند ہو جاؤ گے؛“ یعنی، میں غلطی کو سچائی کی مانند حقیقی اور ابدی بنا دوں گا۔

10. 306 : 30-6

God's man, spiritually created, is not material and mortal.

The parent of all human discord was the Adam-dream, the deep sleep, in which originated the delusion that life and intelligence proceeded from and passed into matter. This pantheistic error, or so-called serpent, insists still upon the opposite of Truth, saying, "Ye shall be as gods;" that is, I will make error as real and eternal as Truth.

11۔ 529 :21۔6

الٰہی محبت کی اولاد کو آزمانے کے لئے بات کرنے والا، جھوٹا سانپ کہاں سے آتا ہے؟ سانپ صرف بدی کے طور پر استعارے میں داخل ہوتا ہے۔ہمارا جانوروں کی اْس دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے جس میں یہ بیان کردہ نسل، بات کرنے والا سانپ، پایا جاتاہو، اور ہمیں خوش ہونا چاہئے کہ بدی، خواہ یہ کسی بھی شکل میں پیش کی جائے، خود کی مخالفت کرتی اور نہ یہ سچائی اور نیکی میں کوئی اصل رکھتی اور نہ اِس کی حمایت کرتی ہے۔یہ دیکھتے ہوئے ہمیں بدی کے تمام تر دعوں کے خلاف لڑنے کایقین رکھنا چاہئے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ بیکار اور غیر حقیقی ہیں۔

آدم، غلطی کے مترادف، مادی عقل کے یقین کو ظاہر کرتا ہے۔وہ انسان پر اپنی حکمرانی کسی حد تک آہستہ سے شروع کرتا ہے، لیکن وہ جھوٹ میں بڑھتا جاتا ہے اور اپنے ایام کو کم کرتا جاتا ہے۔اس ترقی میں، لافانی، سچائی کا روحانی قانون بطور فانی، مادی فہم کا ہمیشہ مخالف ظاہر کیا جاتا ہے۔

الٰہی سائنس میں، انسان خدایعنی ہستی کے الٰہی اصول کے وسیلہ قائم رہتا ہے۔

11. 529 : 21-6

Whence comes a talking, lying serpent to tempt the children of divine Love? The serpent enters into the metaphor only as evil. We have nothing in the animal kingdom which represents the species described, — a talking serpent, — and should rejoice that evil, by whatever figure presented, contradicts itself and has neither origin nor support in Truth and good. Seeing this, we should have faith to fight all claims of evil, because we know that they are worthless and unreal.

Adam, the synonym for error, stands for a belief of material mind. He begins his reign over man somewhat mildly, but he increases in falsehood and his days become shorter. In this development, the immortal, spiritual law of Truth is made manifest as forever opposed to mortal, material sense.

In divine Science, man is sustained by God, the divine Principle of being.

12۔ 323 :19۔27

جب کوئی بیمار یا گناگار اپنی اْس ضرورت کے لئے بیدار ہوتے ہیں جس کے لئے وہ کبھی نہیں ہوئے تووہ الٰہی سائنس کے قبول کرنے والے ہوں گے، جو جان کی جانب اور مادی فہم سے دور کھچاؤ پیدا کرتی ہے، بدن سے خیالات کو تلف کرتی ہے اور حتیٰ کہ مادی عقل کو بھی بیماری یا گناہ سے کسی بہتر چیز کے تصور سے بلند کرتی ہے۔ خدا کا حقیقی خیال زندگی اور محبت کا سچا فہم عطا کرتا، فتح کی قبر لوٹ لیتا ہے، ساری بدی اور فریب کو دور کردیتا ہے کہ یہاں اور بھی عقلیں ہیں، اور لافانیت کو نیست کرتا ہے۔

12. 323 : 19-27

When the sick or the sinning awake to realize their need of what they have not, they will be receptive of divine Science, which gravitates towards Soul and away from material sense, removes thought from the body, and elevates even mortal mind to the contemplation of something better than disease or sin. The true idea of God gives the true understanding of Life and Love, robs the grave of victory, takes away all sin and the delusion that there are other minds, and destroys mortality.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████