اتوار 11اپریل،2021



مضمون۔ کیا گناہ، بیماری اور موت حقیقی ہیں؟

SubjectAre Sin, Disease, and Death Real?

سنہری متن: 91 زبور 9، 10 آیات

”پر تْو اے خداوند! میری پناہ ہے! تْو نے حق تعالیٰ کو اپنا مسکن بنا لیا ہے۔تجھ پر کوئی آفت نہ آئے گی۔ اور کوئی وبا تیرے خیمہ کے نزدیک نہ پہنچے گی۔“



Golden Text:

Psalm 91 : 9, 10

Because thou hast made the Lord, which is my refuge, even the most High, thy habitation; there shall no evil befall thee, neither shall any plague come nigh thy dwelling.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: 91 زبور 11تا16 آیات


11۔ کیونکہ وہ تیری بابت اپنے فرشتوں کو حکم دے گا کہ تیری سب راہوں میں تیری حفاظت کریں۔

12۔ وہ تجھے اپنے ہاتھوں پر اٹھا لیں گے تاکہ ایسا نہ ہو کہ تیرے پاؤں کو پتھر سے ٹھیس لگے۔

13۔ تْو شیر ببر اور افعی روندے گا تْو جواب شیر اور اژدھا کو پامال کرے گا۔

14۔ چونکہ اْس نے مجھ سے دل لگایا ہے۔ اِس لئے مَیں اْسے چھڑاؤں گا۔ مَیں اْسے سرفراز کروں گا۔ کیونکہ اْس نے میرا نام پہچانا ہے۔

15۔ وہ مجھے پکارے گا اورمَیں اْسے جواب دوں گا۔مَیں مصیبت میں اْس کے ساتھ رہوں گا۔ مَیں اْسے چھڑاؤں گا اور عزت بخشوں گا۔

16۔ مَیں اْسے عمر کی درازی سے آسودہ کروں گا۔ اور اپنی نجات اْسے دکھاؤں گا۔

Responsive Reading:

Psalm 91 : 11-16

11.     For he shall give his angels charge over thee, to keep thee in all thy ways.

12.     They shall bear thee up in their hands, lest thou dash thy foot against a stone.

13.     Thou shalt tread upon the lion and adder: the young lion and the dragon shalt thou trample under feet.

14.     Because he hath set his love upon me, therefore will I deliver him: I will set him on high, because he hath known my name.

15.     He shall call upon me, and I will answer him: I will be with him in trouble; I will deliver him, and honour him.

16.     With long life will I satisfy him, and shew him my salvation.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ پیدائش 1 باب1، 26 (تا:)، 27، 28 (تا:)، 31 (تا پہلا) آیات

1۔ خدا نے ابتدا میں زمین وآسمان کو پیدا کیا۔

26۔ پھر خدا نے کہا ہم انسان کو اپنی صورت پر اپنی شبیہ کی مانند بنائیں اور وہ سمندر کی مچھلیوں اور آسمان کے پرندوں اور چوپاؤں اور تمام زمین اور سب جانداروں پر جو زمین پر رینگتے ہیں اختیار رکھیں۔

27۔ اور خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ اور خدا کی صورت پر اْس کو پیدا کیا۔ نر و ناری اْن کو پیدا کیا۔

28۔ خدا نے اْن کو برکت دی اور کہا پھلو اور بڑھو اور زمین کو معمور و محکوم کرو اور سمندر کی مچھلیوں اور ہوا کے پرندوں اور کْل جانوروں پر جو زمین پر چلتے ہیں اختیار رکھو۔

31۔ اور خدا نے سب پر جو اْس نے بنایا تھا نظر کی اور دیکھا کہ بہت اچھا ہے۔

1. Genesis 1 : 1, 26 (to :), 27, 28 (to :), 31 (to 1st .)

1     In the beginning God created the heaven and the earth.

26     And God said, Let us make man in our image, after our likeness:

27     So God created man in his own image, in the image of God created he him; male and female created he them.

28     And God blessed them, and God said unto them, Be fruitful, and multiply, and replenish the earth, and subdue it:

31     And God saw every thing that he had made, and, behold, it was very good.

2۔ زبور 68: 20 آیت

20۔ خدا ہمارے لئے چھڑانے والا خدا ہے۔ اور موت سے بچنے کی راہیں بھی خداوند خدا کی ہیں۔

2. Psalm 68 : 20

20     He that is our God is the God of salvation; and unto God the Lord belong the issues from death.

3۔ یوحنا 8باب1تا11آیات

1۔ مگر یسوع زیتون کے پہاڑپر گیا۔

2۔ صبح سویرے ہی وہ پھر ہیکل میں آیا اور سب لوگ اس کے پاس آئے اور وہ بیٹھ کر انہیں تعلیم دینے لگا۔

3۔ اور فقیہ اور فریسی ایک عورت کو لائے جو زنا میں پکڑی گئی تھی اور اسے بیچ میں کھڑا کر کے یسوع سے کہا۔

4۔ اے استاد!یہ عورت زنا میں عین فعل کے وقت پکڑی گئی ہے۔

5۔ توریت میں موسٰی نے ہم کوحکم دیا ہے کہ ایسی عورتوں کو سنگسار کریں۔ پس تو اس عورت کی نسبت کیا کہتا ہے؟

6۔ انہوں نے اسے آزمانے کے لئے یہ کہا تاکہ اس پر الزام لگانے کا کوئی سبب نکالیں مگر یسوع جھک کر انگلی سے زمین پر لکھنے لگا۔

7۔ جب وہ اس سے سوال کرتے ہی رہے تو اس نے سیدھے ہو کر ان سے کہا کہ جو تم میں بیگناہ ہو وہی پہلے اس کے پتھر مارے۔

8۔ اور پھر جھک کر زمین پر انگلی سے لکھنے لگا۔

9۔ وہ یہ سن کر بڑوں سے لے کر چھوٹوں تک ایک ایک کر کے نکل گئے اور یسوع اکیلا رہ گیا اور عورت وہیں بیچ میں رہ گئی۔

10۔ یسوع نے سیدھے ہو کر اس سے کہا اے عورت یہ لوگ کہاں گئے؟کیا کسی نے تجھ پرحکم نہیں لگایا؟

11۔ اس نے کہا اے خداوند کسی نے نہیں۔ یسوع نے کہا میں بھی تجھ پر حکم نہیں لگاتا۔ جا۔ پھر گناہ نہ کرنا۔

3. John 8 : 1-11

1     Jesus went unto the mount of Olives.

2     And early in the morning he came again into the temple, and all the people came unto him; and he sat down, and taught them.

3     And the scribes and Pharisees brought unto him a woman taken in adultery; and when they had set her in the midst,

4     They say unto him, Master, this woman was taken in adultery, in the very act.

5     Now Moses in the law commanded us, that such should be stoned: but what sayest thou?

6     This they said, tempting him, that they might have to accuse him. But Jesus stooped down, and with his finger wrote on the ground, as though he heard them not.

7     So when they continued asking him, he lifted up himself, and said unto them, He that is without sin among you, let him first cast a stone at her.

8     And again he stooped down, and wrote on the ground.

9     And they which heard it, being convicted by their own conscience, went out one by one, beginning at the eldest, even unto the last: and Jesus was left alone, and the woman standing in the midst.

10     When Jesus had lifted up himself, and saw none but the woman, he said unto her, Woman, where are those thine accusers? hath no man condemned thee?

11     She said, No man, Lord. And Jesus said unto her, Neither do I condemn thee: go, and sin no more.

4۔ رومیوں 6باب12تا14، 23 آیات

12۔ پس گناہ تمہارے فانی بدن میں بادشاہی نہ کرے کہ تم اْس کی خواہشوں کے تابع رہو۔

13۔ اور اپنے اعضاء ناراستی کے اعضاء ہونے کے لئے گناہ کے حوالہ نہ کیا کرو بلکہ اپنے آپ کو مردوں میں سے زندہ جان کر خدا کے حوالہ کرو اور اپنے اعضاء راستبازی کے ہتھیار ہونے کے لئے خدا کے حوالہ کرو۔

14۔ اس لئے کہ گناہ کا تم پر اختیار ہوگا کیونکہ تم شریعت کے ماتحت نہیں بلکہ فضل کے ماتحت ہو۔

23۔ کیونکہ گناہ کی مزدوری موت ہے۔ مگر خدا کی بخشش ہمارے خداوند یسوع مسیح میں ہمیشہ کی زندگی ہے۔

4. Romans 6 : 12-14, 23

12     Let not sin therefore reign in your mortal body, that ye should obey it in the lusts thereof.

13     Neither yield ye your members as instruments of unrighteousness unto sin: but yield yourselves unto God, as those that are alive from the dead, and your members as instruments of righteousness unto God.

14     For sin shall not have dominion over you: for ye are not under the law, but under grace.

23     For the wages of sin is death; but the gift of God is eternal life through Jesus Christ our Lord.

5۔ یوحنا 9باب 1تا3، 6، 7 آیات

1۔ پھر اْس نے جاتے وقت ایک شخص کو دیکھا جو جنم کا اندھا تھا۔

2۔اور اْس کے شاگردوں نے اْس سے پوچھا اے ربی! کس نے گناہ کیا تھا جو یہ اندھا پیدا ہوا۔ اس شخص نے یا اِس کے ماں باپ نے؟

3۔ یسوع نے جواب دیا کہ نہ اِس نے گناہ کیا تھا نہ اِس کے ماں باپ نے یہ اِس لئے ہوا کہ خدا کے کام اْس میں ظاہر ہوں۔

6۔یہ کہہ کر اْس نے زمین پر تھوکا اور تھوک سے مِٹی سانی اور وہ مٹی اندھے کی آنکھوں پر لگا کر

7۔اْس سے کہا جا شیلوخ (جس کا ترجمہ ”بھیجا ہوا“ ہے) کے حوض میں دھو لے۔ پس اْس نے جا کر دھویا اور بِینا ہو کر واپس آیا۔

5. John 9 : 1-3, 6, 7

1     And as Jesus passed by, he saw a man which was blind from his birth.

2     And his disciples asked him, saying, Master, who did sin, this man, or his parents, that he was born blind?

3     Jesus answered, Neither hath this man sinned, nor his parents: but that the works of God should be made manifest in him.

6     When he had thus spoken, he spat on the ground, and made clay of the spittle, and he anointed the eyes of the blind man with the clay,

7     And said unto him, Go, wash in the pool of Siloam, (which is by interpretation, Sent.) He went his way therefore, and washed, and came seeing.

6۔ متی 5 باب2، 17، 18 آیات

2۔ اور وہ اپنی زبان کھول کر اْن کو یوں تعلیم دینے لگا۔

17۔ یہ نہ سمجھو کہ مَیں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا۔ منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔

18۔ کیونکہ مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہر گز نہ ٹلے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہوجائے۔

6. Matthew 5 : 2, 17, 18

2     And he opened his mouth, and taught them, saying,

17     Think not that I am come to destroy the law, or the prophets: I am not come to destroy, but to fulfil.

18     For verily I say unto you, Till heaven and earth pass, one jot or one tittle shall in no wise pass from the law, till all be fulfilled.

7۔ اعمال 4باب33 آیت

33۔ اور رسول بڑی قدرت سے خداوند یسوع کے جی اٹھنے کی گواہی دیتے رہے اور اْن سب پر بڑا فضل تھا۔

7. Acts 4 : 33

33     And with great power gave the apostles witness of the resurrection of the Lord Jesus: and great grace was upon them all.

8۔ اعمال 5باب12، 14تا16 آیات

12۔ اور رسولوں کے ہاتھوں سے بہت سے نشان اور عجیب کام لوگوں میں ظاہر ہوتے تھے۔ اور وہ سب ایک دل ہو کر سلیمان کے برآمدہ میں جمع ہوا کرتے تھے۔

14۔ اور ایمان لانے والے مرد اور عورت خداوند کی کلیسیا میں اور بھی کثرت سے آملے۔

15۔ یہاں تک کہ لوگ بیماروں کو سڑکوں پر لا لا کر اور کھٹولوں پر لیٹا دیتے تھے تاکہ جب پطرس آئے تو اْس کا سایہ ہی اْس میں سے کسی ایک پر پڑ جائے۔

16۔ اور یروشلیم کے چاروں طرف کے شہروں سے بھی لوگ بیماروں اور ناپاک روحوں کے ستائے ہوؤں کو لا کر جو کثرت سے جمع ہوتے تھے اور وہ سب اچھے کر دئیے جاتے۔

8. Acts 5 : 12, 14-16

12     And by the hands of the apostles were many signs and wonders wrought among the people; (and they were all with one accord in Solomon’s porch.

14     And believers were the more added to the Lord, multitudes both of men and women.)

15     Insomuch that they brought forth the sick into the streets, and laid them on beds and couches, that at the least the shadow of Peter passing by might overshadow some of them.

16     There came also a multitude out of the cities round about unto Jerusalem, bringing sick folks, and them which were vexed with unclean spirits: and they were healed every one.

9۔ اعمال 20 باب7تا12 آیات

7۔ ہفتے کے پہلے دن جب ہم روٹی توڑنے کے لئے جمع ہوئے تو پولوس نے دوسرے دن روانہ ہونے کا ارادہ کرکے اْن سے باتیں کیں اور آدھی رات تک کلام کرتا رہا۔

8۔ جس بالا خانہ میں ہم جمع تھے اْس میں بہت سے چراغ جل رہے تھے۔

9۔ یوتخْس نام ایک جوان کھڑکی میں بیٹھا تھا۔ اْس پر نیند کا بڑا غلبہ تھا اور جب پولوس زیادہ دیر تک باتیں کرتا رہا تو وہ نیند کے غلبہ میں تیسری منزل سے گر پڑا اور اْٹھایا گیا تو مردہ تھا۔

10۔ پولوس اْتر کر اْس سے لپٹ گیا اور گلے لگا کر کہا گھبراؤ نہیں۔ اِس میں جان ہے۔

11۔ پھر اوپر جا کر روٹی توڑی اور کھا کر اِتنی دیر اْن سے باتیں کرتا رہا کہ پو پھٹ گئی۔ پھر وہ روانہ ہوگیا۔

12۔ اور وہ اْس لڑکے کو جیتا لائے اور اْن کی بڑی خاطر جمع ہوئی۔

9. Acts 20 : 7-12

7     And upon the first day of the week, when the disciples came together to break bread, Paul preached unto them, ready to depart on the morrow; and continued his speech until midnight.

8     And there were many lights in the upper chamber, where they were gathered together.

9     And there sat in a window a certain young man named Eutychus, being fallen into a deep sleep: and as Paul was long preaching, he sunk down with sleep, and fell down from the third loft, and was taken up dead.

10     And Paul went down, and fell on him, and embracing him said, Trouble not yourselves; for his life is in him.

11     When he therefore was come up again, and had broken bread, and eaten, and talked a long while, even till break of day, so he departed.

12     And they brought the young man alive, and were not a little comforted.

10۔ اعمال 26 باب8 آیت

8۔ جبکہ خدا مردوں کو جِلاتا ہے تو یہ بات تمہارے نزدیک کیونکر غیر معتبر سمجھی جاتی ہے؟

10. Acts 26 : 8

8     Why should it be thought a thing incredible with you, that God should raise the dead?

11۔ لوقا 1باب37 آیت

37۔ کیونکہ جو قول خدا کی طرف سے ہے وہ ہر گز بے تاثیر نہ ہوگا۔

11. Luke 1 : 37

37     For with God nothing shall be impossible.



سائنس اور صح


1۔ 521 :5۔6

جو کچھ بنا ہے خدا نے بنایا ہے اور سب اچھا ہے۔

1. 521 : 5-6

All that is made is the work of God, and all is good.

2۔ 519 :3۔6

وہ اپنی لافانی خود ساختگی اور لافانی حکمت کا اجرا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ روحانی تخلیق اِس کا شاخسانہ تھی؟

2. 519 : 3-6

How could He be otherwise, since the spiritual creation was the outgrowth, the emanation, of His infinite self-containment and immortal wisdom?

3۔ 525 :20۔29

ہر اچھی اور قابل قدر چیز خدا نے بنائی۔ جو کچھ بھی فالتو اور نقصان دہ چیز ہے، وہ اْس نے نہیں بنائی، لہٰذہ وہ غیر حقیقی ہے۔ پیدائش کی سائنس میں ہم پڑھتے ہیں کہ جو کچھ اْس نے بنایا تھا اْس پر نظر کی ”اور دیکھا کہ اچھا ہے۔“ دوسری صورت میں جسمانی حواس یہ واضح کرتے ہیں، اگر ہم غلطی کی تاریخ کو سچائی کے ریکارڈ کی مانند توجہ دیتے ہیں،تو گناہ اور بیماری کا روحانی ریکارڈ مادی حواس کے جھوٹے نتیجے کی حمایت کرتا ہے۔ گناہ، بیماری اور موت کو حقیقت سے خالی تصور کیا جانا چاہئے جیسے کہ وہ اچھائی، یعنی خدا سے خالی ہیں۔

3. 525 : 20-29

Everything good or worthy, God made. Whatever is valueless or baneful, He did not make, — hence its unreality. In the Science of Genesis we read that He saw everything which He had made, "and, behold, it was very good." The corporeal senses declare otherwise; and if we give the same heed to the history of error as to the records of truth, the Scriptural record of sin and death favors the false conclusion of the material senses. Sin, sickness, and death must be deemed as devoid of reality as they are of good, God.

4۔ 472 :9۔12

بیماری، گناہ اور موت غیر ہم آہنگ ہوتے ہوئے خدا سے جنمے نہیں ہوسکتے نہ اْس کی حکومت سے تعلق رکھ سکتے ہیں۔ اْس کے قانون، درست سمجھے جاتے ہوئے، اْنہیں نیست کرتے ہیں۔ یسوع نے اِن بیانات کے ثبوت فراہم کئے۔

4. 472 : 9-12

Sickness, sin, and death, being inharmonious, do not originate in God nor belong to His government. His law, rightly understood, destroys them. Jesus furnished proofs of these statements.

5۔ 11 :9۔21

کرسچن سائنس کی جسمانی شفا الٰہی اصول کے کام سے اب، یسوع کے زمانے کی طرح، سامنے آتی ہے، جس سے قبل گناہ اور بیماری انسانی ضمیر میں اپنی حقیقت کھو دیتے ہیں اور ایسے فطری اورایسے لازمی طور پر غائب ہو جاتے ہیں جیسے تاریکی روشنی کو اور گناہ درستگی کو جگہ دیتے ہیں۔ اْس وقت کی طرح، اب بھی یہ قادر کام مافوق الفطرتی نہیں بلکہ انتہائی فطرتی ہیں۔ یہ اعمانوئیل، یا ”خدا ہمارے ساتھ ہے“ کا نشان ہیں، ایک الٰہی اثر جو انسانی شعور میں ہمیشہ سے موجود ہے اور خود کو دوہراتے ہوئے، ابھی آرہا ہے جیسے کہ ماضی میں اس کا وعدہ کیا گیا تھاکہ،

(شعور کے)قیدیوں کو رہائی

اور اندھوں کو بینائی پانے کی خبر پانے کے لئے

اور کچلے ہوؤں کو آزاد کرنے کے لئے

5. xi : 9-21

The physical healing of Christian Science results now, as in Jesus' time, from the operation of divine Principle, before which sin and disease lose their reality in human consciousness and disappear as naturally and as necessarily as darkness gives place to light and sin to reformation. Now, as then, these mighty works are not supernatural, but supremely natural. They are the sign of Immanuel, or "God with us," — a divine influence ever present in human consciousness and repeating itself, coming now as was promised aforetime,

To preach deliverance to the captives [of sense],
And recovering of sight to the blind,
To set at liberty them that are bruised.

6۔ 206 :26۔31

بیماری اور موت کو بھیجنے کی بجائے خدا اِنہیں نیست کرتا ہے، اور معمولی لافانیت لاتا ہے۔ قادر مطلق اور لامحدود عقل نے سب کچھ بنایا اور وہ سب کو شامل کرتا ہے۔یہ عقل غلطیا ں نہیں کرتی اور بعد میں اْن کی اصلاح نہیں کرتی۔خدا انسان کے گناہ کرنے، بیمار ہونے یا مرنے کا موجب نہیں بنتا۔

6. 206 : 26-31

Instead of God sending sickness and death, He destroys them, and brings to light immortality. Omnipotent and infinite Mind made all and includes all. This Mind does not make mistakes and subsequently correct them. God does not cause man to sin, to be sick, or to die.

7۔ 302 :8۔13، 19۔24

جب خدا مکمل اور ابدی طور پر اْس کا ہے، تو یہ ناممکن ہے کہ انسان ایسا کچھ گوا بیٹھے جو حقیقی ہے۔یہ خیال کہ عقل مادے میں ہے، اور یہ کہ نام نہاد خوشیاں اور درد، مادے کی پیدائش، گناہ، بیماری اور موت حقیقی ہیں، ایک فانی یقین ہے؛ اور یہی وہ عقیدہ ہے جو گم ہو جائے گا۔

ہستی کی سائنس انسان کو کامل ظاہر کرتی ہے، حتیٰ کہ جیسا کہ باپ کامل ہے، کیونکہ روحانی انسان کی جان یا عقل خدا ہے، جو تمام تر مخلوقات کا الٰہی اصول ہے، اور یہ اس لئے کہ اس حقیقی انسان پر فہم کی بجائے روح کی حکمرانی ہوتی ہے، یعنی شریعت کی روح کی، نہ کہ نام نہاد مادے کے قوانین کی۔

7. 302 : 8-13, 19-24

It is impossible that man should lose aught that is real, when God is all and eternally his. The notion that mind is in matter, and that the so-called pleasures and pains, the birth, sin, sickness, and death of matter, are real, is a mortal belief; and this belief is all that will ever be lost.

The Science of being reveals man as perfect, even as the Father is perfect, because the Soul, or Mind, of the spiritual man is God, the divine Principle of all being, and because this real man is governed by Soul instead of sense, by the law of Spirit, not by the so-called laws of matter.

8۔ 207 :10۔14

بدی اعلیٰ نہیں ہے؛ اچھائی لاچار نہیں ہے؛ نہ ہی مادے کے نام نہاد قوانین پہلے اور روح کے قوانین دوسرے نمبر پر ہیں۔ اس سبق کے بغیر، ہم کامل باپ یا انسان کے الٰہی اصول سے اپنی نظر ہٹا دیتے ہیں۔

8. 207 : 10-14

Evil is not supreme; good is not helpless; nor are the so-called laws of matter primary, and the law of Spirit secondary. Without this lesson, we lose sight of the perfect Father, or the divine Principle of man.

9۔ 147 :32۔6

یسوع نے کبھی کسی بیماری سے متعلق بطور خطرناک یا شفا دینے میں مشکل قرار نہیں دیا۔ جب اْس کے طالب علم اْس کے پاس ایک معاملہ لے کر آئے جسے شفا دینے میں وہ ناکام رہے تھے، تو اْس نے اْن سے کہا، ”اے بے اعتقاد نسل،“اس بات کی تقلید کرتے ہوئے کہ شفا دینے کی مطلوبہ طاقت عقل میں تھی۔ اْس نے کسی دوا کا نسخہ تجویز نہیں کیا، مادی قوانین کی فرمانبرداری کی حوصلہ افزائی نہیں کی، بلکہ ان کی براہ راست نافرمانی میں کام کئے۔

9. 147 : 32-6

Jesus never spoke of disease as dangerous or as difficult to heal. When his students brought to him a case they had failed to heal, he said to them, "O faithless generation," implying that the requisite power to heal was in Mind. He prescribed no drugs, urged no obedience to material laws, but acted in direct disobedience to them.

10۔ 476 :32۔4

یسوع نے سائنس میں کامل آدمی کو دیکھا جو اْس پر وہاں ظاہر ہوا جہاں گناہ کرنے والا فانی انسان لافانی پر ظاہر ہوا۔ اس کامل شخص میں نجات دہندہ نے خدا کی اپنی شبیہ اور صورت کو دیکھا اور انسان کے اس درست نظریے نے بیمار کو شفا بخشی۔

10. 476 : 32-4

Jesus beheld in Science the perfect man, who appeared to him where sinning mortal man appears to mortals. In this perfect man the Saviour saw God's own likeness, and this correct view of man healed the sick.

11۔ 26 :14۔18، 28۔30

الٰہی حق، زندگی اور محبت نے یسوع کو گناہ، بیماری اور موت پر اختیار دیا۔ اْس کا مقصد آسمانی ہستی کی سائنس کو ظاہر کرنا تھا تاکہ اِسے ثابت کرے جو خدا ہے اور جو وہ انسان کے لئے کرتا ہے۔

ہمارے مالک نے محض نظریے، عقیدے یا ایمان کی تعلیم نہیں دی۔یہ الٰہی اصول کی مکمل ہستی تھی جس کی اْس نے تعلیم دی اور مشق کی۔

11. 26 : 14-18, 28-30

Divine Truth, Life, and Love gave Jesus authority over sin, sickness, and death. His mission was to reveal the Science of celestial being, to prove what God is and what He does for man.

Our Master taught no mere theory, doctrine, or belief. It was the divine Principle of all real being which he taught and practised.

12۔ 231 :20۔29

خود کو گناہ سے برتر بنائے رکھناحقیقی حکمت ہے، کیونکہ خدا نے آپ کو اِس سے برتر ہی بنایا ہے اور وہ انسان پر حکمرانی کرتا ہے۔ گناہ سے ڈرنا محبت کی طاقت کو خدا کے ساتھ انسان کے تعلق میں الٰہی سائنس کی ہستی کو غلط سمجھنا ہے، یعنی اْس کی حکمرانی پر شک کرنا اور اْس کی قادرِ مطلق حفاظت پر عدم اعتماد کرنا ہے۔خود کو بیماری اورموت سے برتر بنائے رکھنا اس کے متوازی عقلمندی اور الٰہی سائنس کے عین مطابق ہے۔جب آپ خدا کو اور یہ جاننے میں بالکل غلط ہوتے ہیں کہ یہ اْس کی تخلیق کا حصہ ہیں تو اِن سے خوف زدہ ہونا ناممکن ہوجاتا ہے۔

12. 231 : 20-29

To hold yourself superior to sin, because God made you superior to it and governs man, is true wisdom. To fear sin is to misunderstand the power of Love and the divine Science of being in man's relation to God, — to doubt His government and distrust His omnipotent care. To hold yourself superior to sickness and death is equally wise, and is in accordance with divine Science. To fear them is impossible, when you fully apprehend God and know that they are no part of His creation.

13۔ 494 :30۔3

ہمارے مالک نے بدروحوں (برائیوں) کو نکالا اور بیمار کو شفا دی۔ یہ اْس کے پیروکاروں کے بارے میں بھی کہا جانا چاہئے کہ انہوں نے خود میں سے اور دوسروں میں سے خوف اور بدی کو نکال دیا اور بیمار کو شفا دی۔ جب بھی انسان پر خدا کی حکمرانی ہوتی ہے، خدا بیمار کو انسان کے وسیلہ شفادے گا۔سچائی غلطی کو اب بھی اتنے یقین کے ساتھ باہر نکال پھینکتی ہے جیسے اِس نے اْنیس صدیاں پہلے کیا تھا۔

13. 494 : 30-3

Our Master cast out devils (evils) and healed the sick. It should be said of his followers also, that they cast fear and all evil out of themselves and others and heal the sick. God will heal the sick through man, whenever man is governed by God. Truth casts out error now as surely as it did nineteen centuries ago.

14۔ 495 :6۔16

اگر بیماری سچ ہے یا سچائی کا خیال ہے تو آپ بیماری کو نیست نہیں کرسکتے اور اِس کی کوشش کرنا بھی مضحکہ خیز ہوگا۔ تو پھر بیماری اور غلطی کی درجہ بندی کریں، جیسے ہمارے مالک نے کیا، جب اْس نے ایک بیمار سے متعلق کہا، ”جس کو شیطان نے باندھ رکھا تھا،“ اور انسانی عقیدے پر عمل کرتے ہوئے سچائی کی اْس زندگی بخش قوت میں غلطی کے لئے ایک اعلیٰ زہر مار تلاش کریں جوقوت ایسے قیدیوں کے لئے قید کا دروازہ کھولتی اور جسمانی اور اخلاقی طور پر قید سے آزاد کرتی ہے۔

جب بیماری یا گناہ کا بھرم آپ کو آزماتا ہے تو خدا اور اْس کے خیال کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ منسلک رہیں۔ اْس کے مزاج کے علاوہ کسی چیز کو آپ کے خیال میں قائم ہونے کی اجازت نہ دیں۔

14. 495 : 6-16

If sickness is true or the idea of Truth, you cannot destroy sickness, and it would be absurd to try. Then classify sickness and error as our Master did, when he spoke of the sick, "whom Satan hath bound," and find a sovereign antidote for error in the life-giving power of Truth acting on human belief, a power which opens the prison doors to such as are bound, and sets the captive free physically and morally.

When the illusion of sickness or sin tempts you, cling steadfastly to God and His idea. Allow nothing but His likeness to abide in your thought.

15۔ 391 :7۔9

بیماری کے پہلے یا بعد والے مرحلے پر اندھا اور پرسکون اعتماد کرنے کی بجائے اِن کے خلاف بغاوت میں اْٹھ کھڑے ہوں۔

15. 391 : 7-9

Instead of blind and calm submission to the incipient or advanced stages of disease, rise in rebellion against them.

16۔ 390 :20۔26

سوچ کو وسیع کرنے کے لئے کسی گناہ یا بیماری کے دعوے کو برداشت نہ کریں۔ ایک پائیدار عقیدے کے ذریعے اسے خارج کریں کہ یہ غیر قانونی ہے کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ خدا بیماری کا مصنف نہیں ہے جیسے وہ گناہ کا نہیں ہے۔ آپ کے پاس گناہ یا بیماری میں سے کسی ایک کی ضرورت کو حمایت کے لئے اْس کا کوئی قانون نہیں ہے، لیکن آپ کے پاس اس ضرورت کا انکار کرنے اور بیمار کو شفا دینے کا اختیار ضرور ہے۔

16. 390 : 20-26

Suffer no claim of sin or of sickness to grow upon the thought. Dismiss it with an abiding conviction that it is illegitimate, because you know that God is no more the author of sickness than He is of sin. You have no law of His to support the necessity either of sin or sickness, but you have divine authority for denying that necessity and healing the sick.

17۔ 393 :8۔15

عقل جسمانی حواس کامالک ہے، اور بیماری، گناہ اور موت کو فتح کرسکتی ہے۔ اس خداداد اختیار کی مشق کریں۔ اپنے بدن کی ملکیت رکھیں، اور اِس کے احساس اور عمل پر حکمرانی کریں۔ روح کی قوت میں بیدار ہوں اور وہ سب جو بھلائی جیسا نہیں اْسے مسترد کر دیں۔ خدا نے انسان کو اس قابل بنایا ہے، اور کوئی بھی چیز اْس قابل اور قوت کو بگاڑ نہیں سکتی جو الٰہی طور پر انسان کو عطا کی گئی ہے۔

17. 393 : 8-15

Mind is the master of the corporeal senses, and can conquer sickness, sin, and death. Exercise this God-given authority. Take possession of your body, and govern its feeling and action. Rise in the strength of Spirit to resist all that is unlike good. God has made man capable of this, and nothing can vitiate the ability and power divinely bestowed on man.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████