اتوار 11 اکتوبر، 2020  |

اتوار 11 اکتوبر، 2020 



مضمون۔ کیا گناہ، بیماری اور موت حقیقی ہیں؟

SubjectAre Sin, Disease, and Death Real?

سنہری متن: زبور 103: 1، 3، 4 آیات

”اے میری جان خداوند کو مبارک کہہ: وہ تیری ساری بدکاری بخشتا ہے ؛وہ تیری جان کو ہلاکت سے بچاتا ہے۔“



Golden Text: Psalm 103 : 1, 3, 4

Bless the Lord, O my soul: Who forgiveth all thine iniquities; who healeth all thy diseases; Who redeemeth thy life from destruction.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: یسعیاہ 12 باب2تا6 آیات • یسعیاہ 26 باب3، 4 آیات


2۔ دیکھو خدا میری نجات ہے مَیں اْس پر توکل کروں گا اور نہ ڈروں گا کیونکہ یہواہ میرا زور ہے اور وہ میری نجات ہوا ہے۔

3۔ پس تم خوش ہو کر نجات کے چشموں سے پانی بھرو گے۔

4۔ اور اِس وقت تم کہو گے کہ خداوند کی ستائش کرو اْس سے دعا کرو۔ لوگوں کے درمیان اْس کے کاموں کا بیان کرو اور کہو کہ اْس کا نام بلند ہے۔

5۔ خداوند کی مداح سرائی کرو کیونکہ اْس نے جلالی کام کئے جن کو تمام دنیا جانتی ہے۔

6۔ اے صیون کی بسنے والی تْو چلا اور للکار کیونکہ تجھ میں اسرائیل کا قدوس بزرگ ہے۔

3۔ جس کا دل قائم ہے تْو اْسے سلامت رکھے گا کیونکہ اْس کا توکل تجھ پر ہے۔

4۔ اب تک خداوند پر اعتماد رکھو کیونکہ خداوند یہواہ ابدی چٹان ہے۔

Responsive Reading: Isaiah 12 : 2-6; Isaiah 26 : 3, 4

2.     Behold, God is my salvation; I will trust, and not be afraid: for the Lord JEHOVAH is my strength and my song; he also is become my salvation.

3.     Therefore with joy shall ye draw water out of the wells of salvation.

4.     And in that day shall ye say, Praise the Lord, call upon his name, declare his doings among the people, make mention that his name is exalted.

5.     Sing unto the Lord; for he hath done excellent things: this is known in all the earth.

6.     Cry out and shout, thou inhabitant of Zion: for great is the Holy One of Israel in the midst of thee.

3.     Thou wilt keep him in perfect peace, whose mind is stayed on thee: because he trusteth in thee.

4.     Trust ye in the Lord for ever: for in the Lord JEHOVAH is everlasting strength.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ یرمیاہ 17 باب14 باب

14۔ اے خداوند! تْو مجھے شفا بخشے تو مَیں شفا پاؤں گا۔ تْو ہی بچائے تو بچوں گا۔ تْو میرا فخر ہے۔

1. Jeremiah 17 : 14

14     Heal me, O Lord, and I shall be healed; save me, and I shall be saved: for thou art my praise.

2۔ زبور 91:1تا6، 9تا11، 14تا16 آیات

1۔ جو حق تعالیٰ کے پردے میں رہتا ہے وہ قادر مطلق کے سایہ میں سکونت کرے گا۔

2۔ مَیں خداوند کے بارے میں کہوں گا وہی میری پناہ اور میرا گڑھ ہے۔ وہ میرا خدا ہے جس پر میرا توکل ہے۔

3۔ کیونکہ وہ تجھے صیاد کے پھندے سے اور مہلک وبا سے چھڑائے گا۔

4۔ وہ تجھے اپنے پروں سے چھپا لے گا۔ اور تجھے اْس کے بازوؤں کے نیچے پناہ ملے گی۔ اْس کی سچائی ڈھال اور سِپر ہے۔

5۔ تْو نہ رات کی ہیبت سے ڈرے گا اور نہ دن کو اْڑنے والے تیر سے۔

6۔ نہ اْس وبا سے جو اندھیرے میں چلتی ہے۔ نہ اْس ہلاکت سے جو دوپہر کو ویران کرتی ہے۔

9۔ پر تْو اے خداوند!میری پناہ ہے! تْو نے حق تعالیٰ کو اپنا مسکن بنا لیا ہے۔

10۔ تجھ پر کوئی آفت نہ آئے گی۔ اور کوئی وبا تیرے خیمہ کے نزدیک نہ پہنچے گی۔

11۔ کیونکہ وہ تیری بابت اپنے فرشتوں کو حکم دے گا کہ تیری سب راہوں میں تیری حفاظت کریں۔

14۔ چونکہ اْس نے مجھ سے دل لگایا ہے اِس لئے مَیں اْسے چھڑاؤں گا۔ مَیں اْسے سرفراز کروں گا کیونکہ اْس نے میرا نام پہچانا ہے۔

15۔ وہ مجھے پکارے گا اور مَیں اْسے جواب دوں گا۔ مَیں مصیبت میں اْس کے ساتھ رہوں گا۔ مَیں اْسے چھڑاؤں گا اور عزت بخشوں گا۔

16۔ مَیں اْسے عمر کی درازی سے آسودہ کروں گا۔ اور اپنی نجات اْسے دکھاؤں گا۔

2. Psalm 91 : 1-6, 9-11, 14-16

1     He that dwelleth in the secret place of the most High shall abide under the shadow of the Almighty.

2     I will say of the Lord, He is my refuge and my fortress: my God; in him will I trust.

3     Surely he shall deliver thee from the snare of the fowler, and from the noisome pestilence.

4     He shall cover thee with his feathers, and under his wings shalt thou trust: his truth shall be thy shield and buckler.

5     Thou shalt not be afraid for the terror by night; nor for the arrow that flieth by day;

6     Nor for the pestilence that walketh in darkness; nor for the destruction that wasteth at noonday.

9     Because thou hast made the Lord, which is my refuge, even the most High, thy habitation;

10     There shall no evil befall thee, neither shall any plague come nigh thy dwelling.

11     For he shall give his angels charge over thee, to keep thee in all thy ways.

14     Because he hath set his love upon me, therefore will I deliver him: I will set him on high, because he hath known my name.

15     He shall call upon me, and I will answer him: I will be with him in trouble; I will deliver him, and honour him.

16     With long life will I satisfy him, and shew him my salvation.

3۔ اعمال 4باب33 آیت

33۔ اور رسول بڑی قدرت سے خداوند یسوع کے جی اْٹھنے کی گواہی دیتے رہے اور اْن سب پر بڑا فضل تھا۔

3. Acts 4 : 33

33     And with great power gave the apostles witness of the resurrection of the Lord Jesus: and great grace was upon them all.

4۔ اعمال 5 باب12، 14تا16 آیات

12۔ اور رسولوں کے ہاتھوں سے بہت سے نشان اور عجیب کام لوگوں میں ظاہر ہوتے تھے۔ اور وہ سب ایک دل ہو کر سلیمان کے برآمدہ میں جمع ہوا کرتے تھے۔

14۔ اور ایمان لانے والے مرد اور عورت خداوند کی کلیسیا میں اور بھی کثرت سے آملے۔

15۔ یہاں تک کہ لوگ بیماروں کو سڑکوں پر لا لا کر اور کھٹولوں پر لیٹا دیتے تھے تاکہ جب پطرس آئے تو اْس کا سایہ ہی اْس میں سے کسی ایک پر پڑ جائے۔

16۔ اور یروشلیم کے چاروں طرف کے شہروں سے بھی لوگ بیماروں اور ناپاک روحوں کے ستائے ہوؤں کو لا کر جو کثرت سے جمع ہوتے تھے اور وہ سب اچھے کر دئیے جاتے۔

4. Acts 5 : 12, 14-16

12     And by the hands of the apostles were many signs and wonders wrought among the people; (and they were all with one accord in Solomon’s porch.

14     And believers were the more added to the Lord, multitudes both of men and women.)

15     Insomuch that they brought forth the sick into the streets, and laid them on beds and couches, that at the least the shadow of Peter passing by might overshadow some of them.

16     There came also a multitude out of the cities round about unto Jerusalem, bringing sick folks, and them which were vexed with unclean spirits: and they were healed every one.

5۔ اعمال 9 باب36تا41 آیات

36۔ اور یافا میں ایک شاگرد تھی تبیِتا نام جس کا ترجمہ ہرنی ہے وہ بہت ہی نیک کام اور خیرات کیا کرتی تھی۔

37۔ انہی دنوں میں ایسا ہوا کہ وہ بیمار ہو کر مر گئی اور اْسے نہلا کر بالاخانہ میں رکھ دیا۔

38۔ اور چونکہ لْدہ یافا کے نزدیک تھا شاگردوں نے یہ سن کر کہ پطرس وہاں ہے دو آدمی بھیجے اور اْس سے درخواست کی کہ ہمارے پاس آنے میں دیر نہ کر۔

39۔ پطرس اْٹھ کر اْن کے ساتھ ہو لیا۔ جب پہنچا تو اْسے بالا خانہ میں لے گئے اور سب بیوائیں روتی ہوئیں اْس کے پاس آکھڑی ہوئیں اور جو کْرتے اور کپڑے ہرنی نے اْن کے ساتھ رہ کر بنائے تھے دکھانے لگیں۔

40۔ پطرس نے سب کو باہر کر دیا اور گھْٹنے ٹیک کر دعا کی۔ پھر لاش کی طرف متوجہ ہو کر کہا اے تبِیتا اْٹھ۔ پس اْس نے آنکھیں کھول دیں اور پطرس کو دیکھ کر اْٹھ بیٹھی۔

41۔ اْس نے ہاتھ پکڑ کر اْسے اْٹھایا اور مقدسوں اور بیواؤں کو بلا کر اْسے زندہ اْن کے سپرد کیا۔

5. Acts 9 : 36-41

36     Now there was at Joppa a certain disciple named Tabitha, which by interpretation is called Dorcas: this woman was full of good works and almsdeeds which she did.

37     And it came to pass in those days, that she was sick, and died: whom when they had washed, they laid her in an upper chamber.

38     And forasmuch as Lydda was nigh to Joppa, and the disciples had heard that Peter was there, they sent unto him two men, desiring him that he would not delay to come to them.

39     Then Peter arose and went with them. When he was come, they brought him into the upper chamber: and all the widows stood by him weeping, and shewing the coats and garments which Dorcas made, while she was with them.

40     But Peter put them all forth, and kneeled down, and prayed; and turning him to the body said, Tabitha, arise. And she opened her eyes: and when she saw Peter, she sat up.

41     And he gave her his hand, and lifted her up, and when he had called the saints and widows, presented her alive.

6۔ 1 کرنتھیوں 1 باب1 (تا دوسرا)، آیت

1۔ پولوس جو خداکی مرضی سے یسوع مسیح کا رسول ہونے کے لئے بلایا گیا۔

6. I Corinthians 1 : 1 (to 2nd ,)

1     Paul, called to be an apostle of Jesus Christ through the will of God,

7۔ اعمال 27باب1 (یہ)(تا پہلا)، 4، 14 (نہیں)، 15، 20، 21 (تا دوسرا)، 22 (مَیں)تا25، 36، 37، 44 (اور یوں) آیات

1۔۔۔۔جب اطالیہ کو ہمارا جانا ٹھہر گیا۔

4۔ وہاں سے ہم روانہ ہوئے اور کپرس کی آڑ میں ہو کر چلے اِس لئے کہ ہوا مخالف تھی۔

14۔۔۔۔تھوڑی دیر ایک بڑی طوفانی ہوا جو یْور کلون کہلاتی ہے کریتے پر سے جہاز پر آئی۔

15۔ اور جب جہاز ہوا کے قابو میں آگیا اور اْس کا سامنا نہ کر سکا تو ہم نے لاچار ہو کر اْس کو بہنے دیا۔

20۔ اور جب بہت دن تک نہ سورج نظر آیا نہ تارے اور شدت کی آندھی چل رہی تھی تو آخر ہم کو پہنچنے کی امید بالکل نہ رہی۔

21۔ اور جب بہت فاقہ کر چکے تو پولوس نے اْن کے بیچ میں کھڑے ہو کر کہا۔

22۔ مَیں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ خاطر جمع رکھو کیونکہ تم میں سے کسی کی جان کا نقصان نہیں ہوگا مگرجہاز کا۔

23۔ کیونکہ خدا جس کا مَیں ہوں اور جس کی عبادت بھی کرتا ہوں اْس کے فرشتہ نے اِسی رات کو میرے پاس آکر۔

24۔ کہا،اے پولوس! نہ ڈر، ضرور ہے کہ تْو قیصر کے سامنے حاضر ہو اور دیکھ جتنے لوگ تیرے ساتھ جہاز میں سوار ہیں اْن سب کی خدا نے تیری خاطر جان بخشی ہے۔

25۔ اِس لئے اے صاحبو! خاطر جمع رکھو کیونکہ مَیں خدا کا یقین کرتا ہوں جیسا مجھ سے کہا گیا ہے ویسا ہی ہوگا۔

36۔ پھر اْن سب کی خاطر جمع ہوئی اور آپ بھی کھانا کھانے لگے۔

37۔ اور ہم سب مل کر جہاز میں دو سو چھہتر آدمی تھے۔

44۔ پس وہ سمندر میں چھوڑ دئیے گئے۔

7. Acts 27 : 1 (it) (to 1st ,), 4, 14 (not), 15, 20, 21 (to 2nd ,), 22 (I)-25,

36, 37, 44 (And so)

1     …it was determined that we should sail into Italy,

4     And when we had launched from thence, we sailed under Cyprus, because the winds were contrary.

14     …not long after there arose against it a tempestuous wind, called Euroclydon.

15     And when the ship was caught, and could not bear up into the wind, we let her drive.

20     And when neither sun nor stars in many days appeared, and no small tempest lay on us, all hope that we should be saved was then taken away.

21     But after long abstinence Paul stood forth in the midst of them, and said,

22     I exhort you to be of good cheer: for there shall be no loss of any man’s life among you, but of the ship.

23     For there stood by me this night the angel of God, whose I am, and whom I serve,

24     Saying, Fear not, Paul; thou must be brought before Cæsar: and, lo, God hath given thee all them that sail with thee.

25     Wherefore, sirs, be of good cheer: for I believe God, that it shall be even as it was told me.

36     Then were they all of good cheer, and they also took some meat.

37     And we were in all in the ship two hundred threescore and sixteen souls.

44     And so it came to pass, that they escaped all safe to land.

8۔ اعمال 28 باب1تا3، 5، 30، 31آیات

1۔ جب ہم پہنچ گئے تو جانا کہ اِس ٹاپْو کا نام مِلِتے ہے۔

2۔ اور اْن اجنبیوں نے ہم پر خاص مہربانی کی کیونکہ مینہ کی جھڑی اور جاڑے کے سبب سے اْنہوں نے آگ جلا کر ہم سب کی خاطر کی۔

3۔ جب پولوس نے لکڑیوں کا گٹھا جمع کر کے آگ میں ڈالا تو ایک سانپ گرمی پا کر نکلا اور اْس کے ہاتھ پر لپٹ گیا۔

5۔ پس اْس نے کیڑے کو آگ میں جھٹک دیا اور اْسے کچھ ضرر نہ پہنچا۔

30۔ اور وہ پورے دو برس اپنے کرایہ کے گھر میں رہتا رہا۔ اور جو اْس کے پاس آتے تھے سب سے ملتا رہا۔

31۔ اور کمال دلیری سے بغیر روک ٹوک کے خدا کی بادشاہی کی منادی کرتا اور خداوند یسوع مسیح کی باتیں سکھاتا رہا۔

8. Acts 28 : 1-3, 5, 30, 31

1     And when they were escaped, then they knew that the island was called Melita.

2     And the barbarous people shewed us no little kindness: for they kindled a fire, and received us every one, because of the present rain, and because of the cold.

3     And when Paul had gathered a bundle of sticks, and laid them on the fire, there came a viper out of the heat, and fastened on his hand.

5     And he shook off the beast into the fire, and felt no harm.

30     And Paul dwelt two whole years in his own hired house, and received all that came in unto him,

31     Preaching the kingdom of God, and teaching those things which concern the Lord Jesus Christ, with all confidence, no man forbidding him.



سائنس اور صح


1۔ 9:9۔21

کرسچن سائنس کی جسمانی شفا الٰہی اصول کے کام سے اب، یسوع کے زمانے کی طرح، سامنے آتی ہے، جس سے قبل گناہ اور بیماری انسانی ضمیر میں اپنی حقیقت کھو دیتے ہیں اور اور ایسے فطری اورایسے لازمی طور پر غائب ہو جاتے ہیں جیسے تاریکی روشنی کو اور گناہ درستگی کو جگہ دیتے ہیں۔ اْس وقت کی طرح، اب بھی یہ قادر کام مافوق الفطرتی نہیں بلکہ انتہائی فطرتی ہیں۔ یہ اعمانوئیل، یا ”خدا ہمارے ساتھ ہے“ کا نشان ہیں، ایک الٰہی اثر جو انسانی شعور میں ہمیشہ سے موجود ہے اور خود کو دوہراتے ہوئے، ابھی آرہا ہے جیسے کہ ماضی میں اس کا وعدہ کیا گیا تھاکہ،

(شعور کے)قیدیوں کو رہائی

اور اندھوں کو بینائی پانے کی خبر پانے کے لئے

اور کچلے ہوؤں کو آزاد کرنے کے لئے

1. xi : 9-21

The physical healing of Christian Science results now, as in Jesus' time, from the operation of divine Principle, before which sin and disease lose their reality in human consciousness and disappear as naturally and as necessarily as darkness gives place to light and sin to reformation. Now, as then, these mighty works are not supernatural, but supremely natural. They are the sign of Immanuel, or "God with us," — a divine influence ever present in human consciousness and repeating itself, coming now as was promised aforetime,

To preach deliverance to the captives [of sense],
And recovering of sight to the blind,
To set at liberty them that are bruised.

2۔ 165 :12۔2

صحت کے نام نہاد جسمانی قوانین کی فرمانبرداری نے بیماری کو چیک نہیں کیا۔ جب سے انسان کے بنائے ہوئے مادی نظریات نے روحانی سچائی کی جگہ لی ہے بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے۔

آپ کہتے ہیں کہ بدہضمی، تھکان، بے خوابی معدے کی تکلیف اور سر درد کی وجہ بنتی ہیں۔پھر آپ اپنے ذہن سے رابطہ کرتے ہیں یہ یاد کرنے کے لئے کہ کیا چیز آپ کو تکلیف دے رہی ہے، جب آپ کا علاج ساری بات کو بھولنے میں پوشیدہ ہوتا ہے؛ کیونکہ مادے میں خود کا کوئی احساس نہیں ہوتا، اور انسانی عقل ہی ہے جو سارا درد پیدا کرسکتی ہے۔

2. 165 : 12-2

Obedience to the so-called physical laws of health has not checked sickness. Diseases have multiplied, since man-made material theories took the place of spiritual truth.

You say that indigestion, fatigue, sleeplessness, cause distressed stomachs and aching heads. Then you consult your brain in order to remember what has hurt you, when your remedy lies in forgetting the whole thing; for matter has no sensation of its own, and the human mind is all that can produce pain.

3۔ 430 :13۔20، 27۔12

میں اپنے قارئین کو الٰہی عقل کے قانون کی اور مادے اور حفظانِ صحت کے فرضی قوانین کی تشریحی مثال پیش کی ہے، ایسی مثال جس میں کرسچن سائنس کی التجا بیمار کو شفا دیتی ہے۔

فرض کریں ایک نفسیاتی مرض کا ٹرائل ہوتا ہے، جیسے کہ عدالت میں ٹرائل چلتے ہیں۔ ایک شخص پر جگر کی شکایت لگانے کا الزام لگتا ہے۔ مریض کو بخارمحسوس کرتا ہے، سوچتا ہے اور پھر ٹرائل شروع ہوتا ہے۔

استغاثہ کے لئے گواہ بلایا جاتا ہے، ایک گواہ یوں گواہی دیتا ہے:

میں صحت کے قوانین کی نمائندگی کرتا ہوں۔ میں فلاں رات کو وہاں موجود تھا جب قیدی، یا مریض ایک بیمار دوست ساتھ دیکھا گیا۔اگرچہ میں انسانی امور کی نگرانی کرتا ہوں، مَیں ذاتی طور پر ایسے واقعات کا شکار ہوا ہوں۔مجھے خاموش رہنے کو کہا گیا جب تک کہ ایسے ٹرائل کے لئے بلایا نہیں جاتا، جب مجھے کیس میں گواہی کے لئے اجازت دی جائے گی۔اِس کے باوجود میرے اصولوں کے خلاف جاتے ہوئے، ملزم کو ہر ہفتے رات کو بیمار کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔جب بیمار شخص پیاسا تھا، ملزم نے اْسے ڈرنک پیش کی۔ اِس سب کے دوران ملزم اپنے روز مرہ کے کام کرتا، بے قاعدہ وقفوں کے ساتھ کھانا کھاتا، بعض اوقات اچھا خاصا کھانا کھانے کے فوراً بعد سو جاتا تھا۔ بالاآخر اْس نے جگر کی شکایت کی، جسے میں ایک جرم سمجھتا ہوں، جہاں تک میرا خیال ہے یہ جرم موت کی سزا کے قابل سمجھا جاتا ہے۔اِس لئے میں نے اِس مادی شخص کو سٹیٹ (یعنی بدن) کی جانب سے گرفتار کروایا اور اِسے قید میں ڈالا۔

3. 430 : 13-20, 27-12

I here present to my readers an allegory illustrative of the law of divine Mind and of the supposed laws of matter and hygiene, an allegory in which the plea of Christian Science heals the sick.

Suppose a mental case to be on trial, as cases are tried in court. A man is charged with having committed liver-complaint. The patient feels ill, ruminates, and the trial commences.

The evidence for the prosecution being called for, a witness testifies thus: —

I represent Health-laws. I was present on certain nights when the prisoner, or patient, watched with a sick friend. Although I have the superintendence of human affairs, I was personally abused on those occasions. I was told that I must remain silent until called for at this trial, when I would be allowed to testify in the case. Notwithstanding my rules to the contrary, the prisoner watched with the sick every night in the week. When the sick mortal was thirsty, the prisoner gave him drink. During all this time the prisoner attended to his daily labors, partaking of food at irregular intervals, sometimes going to sleep immediately after a heavy meal. At last he committed liver-complaint, which I considered criminal, inasmuch as this offence is deemed punishable with death. Therefore I arrested Mortal Man in behalf of the state (namely, the body) and cast him into prison.

4۔ 432 :16۔19

جج پوچھتا ہے کیا اپنے پڑوسی کے ساتھ یہ کرنے سے انسان کا بیمار ہونا، قانون شکنی کرنا اور سزا کا مستحق ہونا ممکن ہے، اور فانیت کا گورنر اِس کے حق میں جواب دیتا ہے۔

4. 432 : 16-19

The Judge asks if by doing good to his neighbor, it is possible for man to become diseased, transgress the laws, and merit punishment, and Governor Mortality replies in the affirmative.

5۔ 433 :18۔26، 31۔11

طبی جج پھر ملزم کو موت کی کڑی سزا کا حکم دیتا ہے۔کیونکہ اْس نے اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت کی، مادی انسان پہلے درجے میں احسان مندی کا قصور وار پایا گیا، اور اِس سے وہ دوسرے جرم، جگر کی شکایت،کا ارتکاب کرنے کی جانب بڑھا، جسے مادی قانون قتل کرنے کے مترادف سمجھتا ہے۔اِس جرم کی پاداش میں مادی انسان کو موت تک سزا پانے کا حکم دیا جاتا ہے۔ جج کے سخت فیصلے کا آخر یہاں ہوتا ہے، ”خدا تمہاری روح کورحم عطافرمائے۔“

اوہ! مگر مسیح، سچائی، زندگی کا روح اور فانی بشر کا دوست، قید خانوں کے دروازوں کو کھول سکتا اور قیدیوں کو رہاکر سکتا ہے۔الٰہی محبت کے پروں پر بہت تیز، یہاں ایک مراسلہ آتا ہے: ”پھانسی کو روک دیا جائے، قیدی مجرم نہیں ہے۔“قید خانے میں حیرت کی لہر دوڑ جاتی ہے۔کوئی کہتا ہے، ”یہ قانون اور انصاف کے خلاف ہے“۔ بعض کہتے ہیں، ”مسیح کی شریعت ہمارے قوانین پر فوقیت رکھتی ہے؛ آئیں مسیح کی پیروی کریں۔“

کافی بحث اور تکرار کے بعد یہ ٹرائل روح کی عدالت میں لے جانے کی اجازت مل جاتی ہے، جہاں کرسچن سائنس کو بد قسمت قیدی کے لئے کونسل کی اجازت دی جاتی ہے۔

5. 433 : 18-26, 31-11

Judge Medicine then proceeds to pronounce the solemn sentence of death upon the prisoner. Because he has loved his neighbor as himself, Mortal Man has been guilty of benevolence in the first degree, and this has led him into the commission of the second crime, liver-complaint, which material laws condemn as homicide. For this crime Mortal Man is sentenced to be tortured until he is dead. "May God have mercy on your soul," is the Judge's solemn peroration.

Ah! but Christ, Truth, the spirit of Life and the friend of Mortal Man, can open wide those prison doors and set the captive free. Swift on the wings of divine Love, there comes a despatch: "Delay the execution; the prisoner is not guilty." Consternation fills the prison-yard. Some exclaim, "It is contrary to law and justice." Others say, "The law of Christ supersedes our laws; let us follow Christ."

After much debate and opposition, permission is obtained for a trial in the Court of Spirit, where Christian Science is allowed to appear as counsel for the unfortunate prisoner.

6۔ 434 :17۔23

کونسل کی سنجیدہ، پختہ نظریں، فتح اور اْمید کی لو جلاتے ہوئے، اوپر دیکھتی ہیں۔ کرسچن سائنس اچانک اعلیٰ عدالت میں تبدیل ہوجاتی ہے، اور مدعی کے لئے بحث شروع کرتی ہے:

عدالت میں قیدی کو ناانصافی کے ساتھ سزا دی گئی ہے۔ اْس کی سزا ایک المیہ تھی اور اخلاقی طور پر غیر قانونی ہے۔

6. 434 : 17-23

The counsel's earnest, solemn eyes, kindling with hope and triumph, look upward. Then Christian Science turns suddenly to the supreme tribunal, and opens the argument for the defence: —

The prisoner at the bar has been unjustly sentenced. His trial was a tragedy, and is morally illegal.

7۔ 435 :19۔23، 31۔35

اْس محبت پر عمل درآمد کرنے سے جو ”شریعت کو پورا کرتی ہے“، ”دوسروں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرتے ہوئے جیسا تم چاہتے کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں“، یہ قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے، کیونکہ کوئی شرط،انسانی یا الٰہی، اِسے نیک کام کرنے پر ایک انسان کو سزا دینے کے لئے پیش نہیں کرتی۔

صرف ایک عدالت جس میں قیدی کو پیش کیا جاسکتا ہے وہ سچ، زندگی اور محبت کی عدالت ہے۔اگر وہ اْسے سزا نہیں دیتے تو طبی جج بھی سزا نہیں دے گا، اور میں قیدی کے لئے اْس آزادی کی بحالی کی درخواست کرتا ہوں جس سے وہ ناجائز طور پر محروم کردیا گیا ہے۔

7. 435 : 19-23, 31-35

Watching beside the couch of pain in the exercise of a love that "is the fulfilling of the law," — doing "unto others as ye would that they should do unto you," — this is no infringement of law, for no demand, human or divine, renders it just to punish a man for acting justly.

The only jurisdiction to which the prisoner can submit is that of Truth, Life, and Love. If they condemn him not, neither shall Judge Medicine condemn him; and I ask that the prisoner be restored to the liberty of which he has been unjustly deprived.

8۔ 437 :32۔7

پھر اٹارنی، کرسچن سائنس، عدالت اعلیٰ کی جانب سے قانونی کتاب، یعنی بائبل، میں سے انسانی حقوق کے چند اصول پڑھتی ہے، اور یہ بیان واضح کرتی ہے کہ بلیک سٹون کی نسبت بائبل ہی بہتر اختیار ہے:

ہم انسان کو اپنی صورت پر اپنی شبیہ کی مانند بنائیں؛ اور انہیں اختیار دیں۔

دیکھو مَیں نے تم کو اختیار دیا۔۔۔ساری قدر ت پر غالب آؤ اور تم کو ہر گز کسی چیز سے ضرر نہ پہنچے گا۔

اگر کوئی شخص میرے کلام پر عمل کرے گا تو ابد تک کبھی موت کو نہ دیکھے گا۔

8. 437 : 32-7

The attorney, Christian Science, then read from the supreme statute-book, the Bible, certain extracts on the Rights of Man, remarking that the Bible was better authority than Blackstone: —

Let us make man in our image, after our likeness; and let them have dominion.

Behold, I give unto you power … over all the power of the enemy: and nothing shall by any means hurt you.

If a man keep my saying, he shall never see death.

9۔ 440 :33 (سردار)۔4

۔۔۔اعلیٰ عدلیہ کا چیف جسٹس، شفقت کے ساتھ اور اپنی موجودگی ظاہر کرتے ہوئے، تمام قوانین اور شہادتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی قانونی کتاب، بائبل، میں سے بیان کرتا ہے کہ کوئی بھی نام نہاد قانون، جو سزا بلکہ گناہ کرنے پر آمادہ کرتا ہے، وہ خالی اور کھوکھلاہے۔

9. 440 : 33 (the Chief)-4

…the Chief Justice of the Supreme Court, with benign and imposing presence, comprehending and defining all law and evidence, explained from his statute-book, the Bible, that any so-called law, which undertakes to punish aught but sin, is null and void.

10۔ 442 :5۔15

روحانی حواس کی عدلیہ اِس حکم پر متفق ہوتی ہے اور وہاں ہجوم سے بھراروحانی کمرہ گونج اْٹھا، بے قصور!، بے قصور!۔ پھر قیدی نئے جنم، طاقت اور آزادی کے ساتھ اٹھتا ہے۔ ہم نے غور کیا، جب اْس نے اپنی کونسل، کرسچن سائنس کے ساتھ ہاتھ ملایا تو اْس کی ساری بیچارگی اور کمزوری غائب ہوگئی تھی۔ اْس کا جسم تْند اور با اثر ہوگیا، اْس کا چہرہ صحتمندی اور خوشی کے ساتھ چمک اْٹھا۔الٰہی محبت نے ڈر دور کردیاتھا۔ مادی انسان، جو اب بیمار اور قیدی نہیں ہے، چلتا ہے، اْس کے پاؤں ”پہاڑوں پر کیا ہی خوشنما“ ہیں اْس کی مانند جو ”خوش خبری لاتا ہے۔“

10. 442 : 5-15

The Jury of Spiritual Senses agreed at once upon a verdict, and there resounded throughout the vast audience-chamber of Spirit the cry, Not guilty. Then the prisoner rose up regenerated, strong, free. We noticed, as he shook hands with his counsel, Christian Science, that all sallowness and debility had disappeared. His form was erect and commanding, his countenance beaming with health and happiness. Divine Love had cast out fear. Mortal Man, no longer sick and in prison, walked forth, his feet "beautiful upon the mountains," as of one "that bringeth good tidings."


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████