اتوار 12جنوری، 2020 |

اتوار 12جنوری، 2020



مضمون۔ ساکرامنٹ

SubjectSacrament

سنہری متن:سنہری متن: 1سیموئیل 15باب22 آیت

’’کیا خداوند سوختنی قربانیوں اور ذبیحوں سے اتنا خوش ہوتا ہے جتنا اِس بات سے کہ خداوند کا حکم مانا جائے؟ دیکھ فرمانبرداری قربانی سے اور بات ماننا مینڈھوں کی چربی سے بہتر ہے۔‘‘



Golden Text: I Samuel 15: 22

Hath the Lord as great delight in burnt offerings and sacrifices, as in obeying the voice of the Lord? Behold, to obey is better than sacrifice, and to hearken than the fat of rams.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: یرمیاہ 7باب 21تا24 آیات، • یرمیاہ 11باب2تا4آیات


21۔ رب الا افواج اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے

22۔ جس وقت تمہارے باپ دادا کو ملک مصر سے نکال لایا اْس کو سوختنی قربانی اور ذبیحہ کی بابت کچھ نہیں کہا اور حکم نہیں دیا۔

23۔ بلکہ میں نے اْن کو یہ حکم دیا اور فرمایا کہ میری آواز کے شنوا رہو اور میں تمہارا خدا ہوں گا اور تم میرے لوگ اور جس راہ کی میں تم کو ہدایت کروں اْس پر چلو تاکہ تمہارا بھلا ہو۔

24۔ لیکن انہوں نے نہ سنا نہ کان لگایا بلکہ اپنی مصلحتوں اور برے دل کی سختی پر چلے اور برگشتہ ہوئے اور آگے نہ بڑھے۔

2۔ تم اِس عہد کی باتیں سنو اور بنی یہودہ اور یروشلیم کے باشندوں سے بیان کرو۔

3۔ اور تْو اْن سے کہہ خداوند اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ لعنت اْس انسان پر جو اِس عہد کی باتیں نہیں سنتا۔

4۔ جو میں نے تمہارے باپ داداسے اْس وقت فرمائیں جب میں اْن کو ملک مصر سے لوہے کے تنور سے یہ کہہ کر نکال لایا کہ تم میری آواز کی فرمانبرداری کرو اور جو کچھ میں نے تم کو حکم دیا ہے اْس پر عمل کرو تو تم میرے لوگ ہوگے اور میں تمہارا خدا ہوں گا۔

Responsive Reading: Jeremiah 7: 21-24, Jeremiah 11: 2-4

21.     Thus saith the Lord of hosts, the God of Israel;

22.     I spake not unto your fathers, nor commanded them in the day that I brought them out of the land of Egypt, concerning burnt offerings or sacrifices:

23.     But this thing commanded I them, saying, Obey my voice, and I will be your God, and ye shall be my people: and walk ye in all the ways that I have commanded you, that it may be well unto you.

24.     But they hearkened not, nor inclined their ear, but walked in the counsels and in the imagination of their evil heart, and went backward, and not forward.

2.     Hear ye the words of this covenant, and speak unto the men of Judah, and to the inhabitants of Jerusalem;

3.     And say thou unto them, Thus saith the Lord God of Israel; Cursed be the man that obeyeth not the words of this covenant,

4.     Which I commanded your fathers in the day that I brought them forth out of the land of Egypt, from the iron furnace, saying, Obey my voice, and do them, according to all which I command you: so shall ye be my people, and I will be your God.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ خروج 19باب3تا6 آیات

3۔ اور موسیٰ اْس پر چڑھ کر خدا کے پاس گیا اور خداوند نے اْسے پہاڑ پرسے پکارکر کہا تو یعقوب کے خاندان سے یوں کہہ اور بنی اسرائیل کو سنا دے۔

4۔ کہ تم نے دیکھا کہ میں نے مصریوں سے کیا کیا کِیا اور تم کو گویا عقاب کے پروں پر بٹھا کر اپنے پاس لے آیا۔

5۔ سو اب اگر تم میری بات مانو اور میرے عہد پر چلو تو سب قوموں میں سے تم ہی میری خاص ملکیت ٹھہرو گے کیونکہ ساری زمین میری ہے۔

6۔ اور تم میرے لئے کاہنوں کی ایک مملکت اور ایک مقدس قوم ہو گے۔ انہی باتوں کو تْو بنی اسرائیل کو سنا دینا۔

1. Exodus 19 : 3-6

3     And Moses went up unto God, and the Lord called unto him out of the mountain, saying, Thus shalt thou say to the house of Jacob, and tell the children of Israel;

4     Ye have seen what I did unto the Egyptians, and how I bare you on eagles’ wings, and brought you unto myself.

5     Now therefore, if ye will obey my voice indeed, and keep my covenant, then ye shall be a peculiar treasure unto me above all people: for all the earth is mine:

6     And ye shall be unto me a kingdom of priests, and an holy nation. These are the words which thou shalt speak unto the children of Israel.

2۔ استثنا 4باب 39، 40 آیات

39۔ پس آج کے دن تو جان لے اور اِس بات کو اپنے دل میں جما لے کہ اوپر آسمان میں اور نیچے زمین پر خداوند ہی خدا ہے اور کوئی دوسرا نہیں۔

40۔ سو تو اْس کے آئین اور احکام کو جو میں تجھ کو آج بتاتا ہوں ماننا تاکہ تیرا اور تیرے بعد تیری اولاد کا بھلا ہو اور ہمیشہ اْس ملک میں جو خداوند تیرا خدا دیتا ہے تیری عمر دراز ہو۔

2. Deuteronomy 4 : 39, 40

39     Know therefore this day, and consider it in thine heart, that the Lord he is God in heaven above, and upon the earth beneath: there is none else.

40     Thou shalt keep therefore his statutes, and his commandments, which I command thee this day, that it may go well with thee, and with thy children after thee, and that thou mayest prolong thy days upon the earth, which the Lord thy God giveth thee, for ever.

3۔ مرقس 1باب14، 15، 21 تا27 آیات

14۔ پھر یوحنا کے پکڑوائے جانے کے بعد یسوع نے گلیل میں آکر خدا کی بادشاہی کی منادی کی۔

15۔ اور کہا کہ وقت پورا ہو گیا ہے اور خدا کی بادشاہی نزدیک آگئی ہے۔ توبہ کرو اور خوشخبری پر ایمان لاؤ۔

21۔ پھر وہ کفرنحوم میں داخل ہوئے اور وہ فی الفور سبت کے دن عبادت خانہ میں جا کر تعلیم دینے لگا۔

22۔ اور لوگ اُس کی تعلیم سے حیران ہوئے کیونکہ وہ اُن کو فقیہوں کی طرح نہیں بلکہ صاحب اختیار کی طرح تعلیم دیتا تھا۔

23۔ اور فی الفور اُن کے عبادت خانہ میں ایک شخص ملا جس میں ناپاک روح تھی۔ وہ یوں کہہ کر چلایا۔

24۔ کہ اے یسوع ناصری! ہمیں تجھ سے کیا کام؟ کیا تو ہم کو ہلاک کرنے آیا ہے؟ مَیں تجھے جانتا ہوں کہ تو کون ہے۔ خدا کا قدوس ہے۔

25۔ یسوع نے اُسے جھڑک کر کہا چپ رہ اور اِس میں سے نکل جا۔

26۔ پس وہ ناپاک روح اُسے مروڑ کر اور بڑی آواز سے چلا کر اُس میں سے نکل گئی۔

27۔ اور سب لوگ حیران ہوئے اور آپس میں یہ کہہ کر بحث کرنے لگے کہ یہ کیا ہے؟ یہ تو نئی تعلیم ہے! وہ ناپاک روحوں کو بھی اختیار کے ساتھ حکم دیتا ہے اور وہ اُس کا حکم مانتی ہیں۔

3. Mark 1 : 14, 15, 21-27

14     Now after that John was put in prison, Jesus came into Galilee, preaching the gospel of the kingdom of God,

15     And saying, The time is fulfilled, and the kingdom of God is at hand: repent ye, and believe the gospel.

21     And they went into Capernaum; and straightway on the sabbath day he entered into the synagogue, and taught.

22     And they were astonished at his doctrine: for he taught them as one that had authority, and not as the scribes.

23     And there was in their synagogue a man with an unclean spirit; and he cried out,

24     Saying, Let us alone; what have we to do with thee, thou Jesus of Nazareth? art thou come to destroy us? I know thee who thou art, the Holy One of God.

25     And Jesus rebuked him, saying, Hold thy peace, and come out of him.

26     And when the unclean spirit had torn him, and cried with a loud voice, he came out of him.

27     And they were all amazed, insomuch that they questioned among themselves, saying, What thing is this? what new doctrine is this? for with authority commandeth he even the unclean spirits, and they do obey him.

4۔ یوحنا 14باب9 (کہا تک)، 12، 13، 15 آیات

9۔ یسوع نے کہا

12۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو مجھ پر ایمان رکھتا ہے یہ کام جو مَیں کرتا ہوں وہ بھی کرے گا بلکہ اِن سے بھی بڑے کام کرے گا کیونکہ میں باپ کے پاس جاتا ہوں۔

13۔ اور جو کچھ تم میرے نام سے چاہو گے مَیں وہی کرو ں گا تاکہ باپ بیٹے میں جلال پائے۔

15۔ اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو گے۔

4. John 14 : 9 (to saith), 12, 13, 15

9     Jesus saith

12     Verily, verily, I say unto you, He that believeth on me, the works that I do shall he do also; and greater works than these shall he do; because I go unto my Father.

13     And whatsoever ye shall ask in my name, that will I do, that the Father may be glorified in the Son.

15     If ye love me, keep my commandments.

5۔ مرقس 14باب1، 16، 17، 22تا25 آیات

1۔ دو دن کے بعد فَسح اور عیدِ فطیر ہونے والی تھی اور سردار کاہن اور فقیہ موقع ڈھونڈ رہے تھے کہ اْسے فریب سے پکڑ کر قتل کریں۔

16۔ پس شاگرد چلے گئے اور شہر میں جیسا اْس نے اْن سے کہا تھا ویسا ہی پایا اور فسح کو تیار کیا۔

17۔ جب شام ہوئی تو وہ اْن بارہ کے ساتھ آیا۔

22۔ اور وہ کھا ہی رہے تھے کہ اْس نے روٹی لی اور برکت دے کر توڑی اور اْن کو دی اور کہا لو یہ میرا بدن ہے۔

23۔ پھر اْس نے پیالہ لے کر شکر کیا اور اْن کو دیا اور اْن سبھوں نے اْس میں سے پیا۔

24۔ اور اْس نے اْن سے کہا یہ میرا عہد کا وہ خون ہے جو بہتوں کے لئے بہایا جاتا ہے۔

25۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ انگور کا شیرہ پھر کبھی نہ پیؤں گا اْس دن تک کہ خدا کی بادشاہی میں نیا نہ پیؤں۔

5. Mark 14 : 1, 16, 17, 22-25

1     After two days was the feast of the passover, and of unleavened bread: and the chief priests and the scribes sought how they might take him by craft, and put him to death.

16     And his disciples went forth, and came into the city, and found as he had said unto them: and they made ready the passover.

17     And in the evening he cometh with the twelve.

22     And as they did eat, Jesus took bread, and blessed, and brake it, and gave to them, and said, Take, eat: this is my body.

23     And he took the cup, and when he had given thanks, he gave it to them: and they all drank of it.

24     And he said unto them, This is my blood of the new testament, which is shed for many.

25     Verily I say unto you, I will drink no more of the fruit of the vine, until that day that I drink it new in the kingdom of God.

6۔ یوحنا 19باب1، 17، 18 (تا پہلا،)

1۔ اِس پرپلاطْوس نے یسوع کولے کرکوڑے لگوائے۔

17۔ اور وہ اپنی صلیب آپ اٹھائے ہوئے اْس جگہ تک باہر گیا جو کھوپڑی کی جگہ کہلاتی ہے۔ جس کا عبرانی میں ترجمہ گلگتا ہے۔

18۔ وہاں اْنہوں نے اْس کو مصلوب کیا۔

6. John 19 : 1, 17, 18 (to 1st ,)

1     Then Pilate therefore took Jesus, and scourged him.

17     And he bearing his cross went forth into a place called the place of a skull, which is called in the Hebrew Golgotha:

18     Where they crucified him,

7۔ یوحنا 21 باب1 (تا؛)، 14تا17 آیات

1۔ اِن باتوں کے بعد یسوع نے پھر اپنے آپ کو تبریاس کی جھیل کے کنارے شاگردوں پر ظاہر کیا۔

14۔ یسوع مردوں میں سے جی اٹھنے کے بعد یہ تیسری بار شاگردوں پر ظاہر ہوا۔

15۔ اور جب کھانا کھا چکے تو یسوع نے شمعون پطرس سے کہا اے شمعون یوحنا کے بیٹے تْو اِن سے زیادہ مجھ سے محبت رکھتا ہے؟ اْس نے اْس سے کہا ہاں اے خداوند تْو تو جانتا ہی ہے کہ مَیں تجھے عزیز رکھتا ہوں۔ اْس نے اْس سے کہا۔ تْو میرے بّرے چرا۔

16۔ اْس نے دوبارہ اْس سے پھر کہا اے شمعون یوحنا کے بیٹے تْو مجھ سے محبت رکھتا ہے؟ اْس نے کہا ہاں اے خداوند تْو تو جانتا ہی ہے کہ مَیں تجھ کو عزیز رکھتا ہوں۔اْس نے اْس سے کہا تْو میری بھیڑوں کی گلہ بانی کر۔

17۔ اْس نے تیسری بار اْس سے کہا اے شمعون یوحنا کے بیٹے کیا تْو مجھے عزیز رکھتا ہے؟ چونکہ اْس نے تیسری بار کہا کیا تْو مجھے عزیز رکھتا ہے اِس سبب سے پطرس نے دلیر ہو کر اْس سے کہا اے خداوند! تْو تو سب کچھ جانتا ہے۔ تجھے معلوم ہی ہے کہ میں تجھے عزیز رکھتا ہوں۔یسوع نے اْس سے کہا تْو میری بھیڑیں چرا۔

7. John 21 : 1 (to ;), 14-17

1     After these things Jesus shewed himself again to the disciples at the sea of Tiberias;

14     This is now the third time that Jesus shewed himself to his disciples, after that he was risen from the dead.

15     So when they had dined, Jesus saith to Simon Peter, Simon, son of Jonas, lovest thou me more than these? He saith unto him, Yea, Lord; thou knowest that I love thee. He saith unto him, Feed my lambs.

16     He saith to him again the second time, Simon, son of Jonas, lovest thou me? He saith unto him, Yea, Lord; thou knowest that I love thee. He saith unto him, Feed my sheep.

17     He saith unto him the third time, Simon, son of Jonas, lovest thou me? Peter was grieved because he said unto him the third time, Lovest thou me? And he said unto him, Lord, thou knowest all things; thou knowest that I love thee. Jesus saith unto him, Feed my sheep.

8۔ رومیوں 6باب16تا18 آیات

16۔ کیا تم نہیں جانتے کہ جس کی فرمانبرداری کے لئے اپنے آپ کو غلاموں کی طرح حوالہ کر دیتے ہو اْسی کے غلا ہو جس کے فرمانبردار ہو خواہ گناہ کے جس کا انجام موت ہے خواہ فرمانبرداری کے جس کا انجام راستبازی ہے۔

17۔ لیکن خدا کا شکر ہے اگر تم گناہ کے غلام تھے تو بھی دل سے اْس تعلیم کے فرمانبردار ہوگئے جس کے سانچے میں تم ڈھالے گئے تھے۔

18۔ اور گناہ سے آزاد ہو کر راستبازی کے غلام ہو گئے۔

8. Romans 6 : 16-18

16     Know ye not, that to whom ye yield yourselves servants to obey, his servants ye are to whom ye obey; whether of sin unto death, or of obedience unto righteousness?

17     But God be thanked, that ye were the servants of sin, but ye have obeyed from the heart that form of doctrine which was delivered you.

18     Being then made free from sin, ye became the servants of righteousness.

9۔ 2 کرنتھیوں 10باب3تا5 آیات

3۔ کیونکہ ہم اگرچہ جسم میں زندگی گزارتے ہیں مگر جسم کے طور پر لڑتے نہیں۔

4۔ اس لئے کہ ہماری لڑائی کے ہتھیار جسمانی نہیں بلکہ خدا کے نزدیک قلعوں کو ڈھا دینے کے قابل ہیں۔

5۔ چنانچہ ہم تصورات اور ہر ایک اونچی چیز کو جو خدا کی پہچان کے بر خلاف سر اٹھائے ہوئے ہے ڈھا دیتے ہیں اور ہر ایک خیال کو قید کر کے مسیح کا فرمانبردار بنا دیتے ہیں۔

9. II Corinthians 10 : 3-5

3     For though we walk in the flesh, we do not war after the flesh:

4     (For the weapons of our warfare are not carnal, but mighty through God to the pulling down of strong holds;)

5     Casting down imaginations, and every high thing that exalteth itself against the knowledge of God, and bringing into captivity every thought to the obedience of Christ;



سائنس اور صح


1۔ 295 :5۔8

خدا کائنات کو،بشمول انسان،خلق کرتا اور اْس پر حکومت کرتا ہے، یہ کائنات روحانی خیالات سے بھری پڑی ہے، جنہیں وہ تیار کرتا ہے، اور وہ اْس عقل کی فرمانبرداری کرتے ہیں جو انہیں بناتی ہے۔

1. 295 : 5-8

God creates and governs the universe, including man. The universe is filled with spiritual ideas, which He evolves, and they are obedient to the Mind that makes them.

2۔ 183 :21۔29

الٰہی عقل بجا طور پر انسان کی مکمل فرمانبرداری، پیار اور طاقت کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس سے کم وفاداری کے لئے کوئی تحفظات نہیں رکھے جاتے۔ سچائی کی تابعداری انسان کو قوت اور طاقت فراہم کرتی ہے۔ غلطی کو سپردگی طاقت کی کمی کو بڑھا دیتی ہے۔

سچائی تمام تر بدیوں اور مادیت پسندی کے طریقوں کو اصل روحانی قانون کے ساتھ باہر نکال دیتی ہے، یعنی وہ قانون جو اندھے کو بینائی، بہرے کو سماعت، گونگے کو آواز اور مفلوج کو پاؤں دیتا ہے۔

2. 183 : 21-29

Divine Mind rightly demands man’s entire obedience, affection, and strength. No reservation is made for any lesser loyalty. Obedience to Truth gives man power and strength. Submission to error superinduces loss of power.

Truth casts out all evils and materialistic methods with the actual spiritual law, — the law which gives sight to the blind, hearing to the deaf, voice to the dumb, feet to the lame.

3۔ 7: 17۔20

خدا سے لا علمی مزید ایمان کے راستے کا پتھر نہیں رہا۔ وفاداری کی واحد ضمانت اْس ہستی سے متعلق درست فہم ہے جسے بہتر طور پر جاننا ہی ابدی زندگی ہے۔

3. vii : 17-20

Ignorance of God is no longer the steppingstone to faith. The only guarantee of obedience is a right apprehension of Him whom to know aright is Life eternal.

4۔ 140 :7۔13

مادی نہیں بلکہ روحانی طور پر ہم اْسے بطور عقل، بطور زندگی، سچائی اور محبت جانتے ہیں۔ ہم الٰہی فطرت کو سمجھنے اور،جسمانیت پر مزید جنگ نہ کرتے ہوئے بلکہ ہمارے خدا کی بہتات سے شادمانی کرتے ہوئے، سمجھ کے ساتھ اْس سے پیار کرنے کے تناسب میں اْس کی فرمانبرداری اور عبادت کریں گے۔تو مذہب پھر دل کا ہوگا دماغ کا نہیں۔

4. 140 : 7-13

Not materially but spiritually we know Him as divine Mind, as Life, Truth, and Love. We shall obey and adore in proportion as we apprehend the divine nature and love Him understandingly, warring no more over the corporeality, but rejoicing in the affluence of our God. Religion will then be of the heart and not of the head.

5۔ 182 :18۔22

بدن پر عقل کی حکمرانی کو نام نہاد مادی قانون پر فوقیت حاصل ہونی چاہئے۔ مادی قانون کی فرمانبرداری روحانی قانون کی مکمل فرمانبرداری سے روکتی ہے، یعنی وہ قانون جو مادی حالتوں پر فتح پاتا ہے اور مادے کو عقل کے قدموں کے نیچے کر دیتا ہے۔

5. 182 : 18-22

Mind’s government of the body must supersede the so-called laws of matter. Obedience to material law prevents full obedience to spiritual law, — the law which overcomes material conditions and puts matter under the feet of Mind.

6۔ 25 :13-31

یسوع نے اظہار کی بدولت زندگی کا طریقہ کار سکھایا، تاکہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ کیسے الٰہی اصول بیمار کو شفادیتا، غلطی کو باہر نکالتا اور موت پر فتح مند ہوتا ہے۔ کسی دوسرے شخص کی نسبت جس کا اصل کم روحانی ہویسوع نے خدا کی مثال کو بہت بہتر انداز میں پیش کیا۔ خدا کے ساتھ اْس کی فرمانبرداری سے اْس نے دیگر سبھی لوگوں کی نسبت ہستی کے اصول کو زیادہ روحانی ظاہر کیا۔ اسی طرح اْس کی اس نصیحت کی طاقت ہے کہ ”اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو گے۔“

اگرچہ گناہ اور بیماری پر اپنا اختیار ظاہر کرتے ہوئے، عظیم معلم نے کسی صورت دوسروں کو اْن کے تقویٰ کے مطلوبہ ثبوت دینے میں مدد نہیں کی۔ اْس نے اْن کی ہدایت کے لئے کام کیا، کہ وہ اِس طاقت کا اظہار اْسی طرح کریں جیسے اْس نے کیا اور اِس کے الٰہی اصول کو سمجھیں۔ استاد پر مکمل ایمان اور وہ سارا جذباتی پیار جو ہم اْس پر نچھاور کر سکتے ہیں، صرف یہی ہمیں اْس کی تقلید کرنے والے نہیں بنائیں گے۔ ہمیں جا کر اْسی کی مانند کام کرنا چاہئے، وگرنہ ہم اْن بڑی برکات کو فروغ نہیں دے رہے جو ہمارے مالک نے ہمیں عطا کرنے کے لئے کام کیا اور تکلیف اٹھائی۔ مسیح کی الوہیت کا اظہار یسوع کی انسانیت میں کیا گیا تھا۔

6. 25 : 13-31

Jesus taught the way of Life by demonstration, that we may understand how this divine Principle heals the sick, casts out error, and triumphs over death. Jesus presented the ideal of God better than could any man whose origin was less spiritual. By his obedience to God, he demonstrated more spiritually than all others the Principle of being. Hence the force of his admonition, “If ye love me, keep my commandments.”

Though demonstrating his control over sin and disease, the great Teacher by no means relieved others from giving the requisite proofs of their own piety. He worked for their guidance, that they might demonstrate this power as he did and understand its divine Principle. Implicit faith in the Teacher and all the emotional love we can bestow on him, will never alone make us imitators of him. We must go and do likewise, else we are not improving the great blessings which our Master worked and suffered to bestow upon us. The divinity of the Christ was made manifest in the humanity of Jesus.

7۔ 20 :14۔23

یسوع نے ہماری کمزوریاں سہیں؛ وہ بشری عقیدے کی غلطی کو جانتا تھا اور ”اْس کے مار کھانے سے (غلطی کو رد کرنے سے) ہم نے شفا پائی“۔”آدمیوں میں حقیر و مردود ہوتے ہوئے“، حقارت کے بدلے برکتیں دیتے ہوئے، اْس نے انسانوں کو اْن کے خود کے مخالف تعلیم دی، اور جب غلطی نے سچائی کی طاقت کو محسوس کیا تو کوڑے اور صلیب اْس عظیم معلم کے منتظر تھے۔ یہ جانتے ہوئے کبھی نہ جھکا کہ الٰہی حکم کی فرمانبرداری کرنا اور خدا پر بھروسہ کرنا گناہ سے پاکیزگی کی جانب جانے والی نئی راہ کو استوار کرنا اور اْس پر چلنا نجات بخشتا ہے۔

7. 20 : 14-23

Jesus bore our infirmities; he knew the error of mortal belief, and “with his stripes [the rejection of error] we are healed.” “Despised and rejected of men,” returning blessing for cursing, he taught mortals the opposite of themselves, even the nature of God; and when error felt the power of Truth, the scourge and the cross awaited the great Teacher. Yet he swerved not, well knowing that to obey the divine order and trust God, saves retracing and traversing anew the path from sin to holiness.

8۔ 32 :15-2

”جب وہ کھا رہے تھے تو یسوع نے روٹی لی اور برکت دے کر توڑی اور شاگردوں کو دے کر کہا لو کھاؤ۔ یہ میرا بدن ہے۔ پھر پیالہ لے کر شکر کیا اور اْن کو دے کر کہا تم سب اس میں سے پیو۔“

اگر اس ساکرامنٹ کو روٹی اور مے کے استعمال پر محدود کر دیا جائے تو حقیقی جوہرروحانی طور پر ختم ہوجاتا ہے۔ شاگردوں نے روٹی کھا لی تھی، تاہم یسوع نے دعا کر کے انہیں روٹی دی۔ ظاہری لحاظ سے یہ شاید احمقانہ ہو، لیکن اس کے روحانی مفہوم میں یہ فطری اور خوبصورت بات تھی۔ یسوع نے دعا کی، اْس نے مزید روشن، مزید روحانی خیالات کے ساتھ اپنے دل کو تازہ دم کرنے کے لئے مادی حواس سے لیا۔

وہ فسح جو یسوع نے اپنے شاگردوں کے ساتھ نیسان کے مہینے میں اپنے مصلوب ہونے سے قبل کھائی وہ ایک غمگین موقع تھا، ایک سوگوار کھانا جو دن کے آخر پر، پر نور چاندنی میں تھاجس کے ساتھ تیزی سے گہرے سایے ارد گرد پھیل رہے تھے؛ اور اس کھانے نے مادے کے لئے یسوع کی رسم پرستی یا منظوری کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا۔

8. 32 : 15-2

“As they were eating, Jesus took bread, and blessed it and brake it, and gave it to the disciples, and said, Take, eat; this is my body. And he took the cup, and gave thanks, and gave it to them saying, Drink ye all of it.”

The true sense is spiritually lost, if the sacrament is confined to the use of bread and wine. The disciples had eaten, yet Jesus prayed and gave them bread. This would have been foolish in a literal sense; but in its spiritual signification, it was natural and beautiful. Jesus prayed; he withdrew from the material senses to refresh his heart with brighter, with spiritual views.

The Passover, which Jesus ate with his disciples in the month Nisan on the night before his crucifixion, was a mournful occasion, a sad supper taken at the close of day, in the twilight of a glorious career with shadows fast falling around; and this supper closed forever Jesus’ ritualism or concessions to matter.

9۔ 31 :12۔22 (تا)۔

مسیحی فرائض کی فہرست میں سب سے پہلا فرض اْس نے اپنے پیروکاروں کو سکھایا وہ سچائی اور محبت کی شفائیہ قوت ہے۔ اْس نے بے جان رسموں کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ یہ زندہ مسیح، عملی سچائی ہی ہے جو مسیح کو اْن سب کے لئے ”قیامت اور زندگی“ بناتا ہے جو کاموں میں اْس کی پیروی کرتے ہیں۔ اْس کے بیش قیمت احکامات کی فرمانبرداری کرتے ہوئے، جتنا ہم یہ سمجھ سکیں اتنا اْس کے اظہار کی پیروی کرتے ہوئے، ہم اْس کے پیالے میں سے پیتے ہیں، اْس کی روٹی میں شریک ہوتے ہیں،اور اْس کی پاکیزگی میں بپتسمہ پاتے ہیں، اور بالا آخر ہم جو موت پر فتح مند ہوتا ہے اْس الٰہی اصول کے مکمل فہم میں اْس کے ساتھ بیٹھیں گے، آرام کریں گے۔

9. 31 : 12-22 (to .)

First in the list of Christian duties, he taught his followers the healing power of Truth and Love. He attached no importance to dead ceremonies. It is the living Christ, the practical Truth, which makes Jesus “the resurrection and the life” to all who follow him in deed. Obeying his precious precepts, — following his demonstration so far as we apprehend it, — we drink of his cup, partake of his bread, are baptized with his purity; and at last we shall rest, sit down with him, in a full understanding of the divine Principle which triumphs over death.

10۔ 14 :5۔11

ہم ”دو مالکوں کی غلامی“ نہیں کر سکتے۔ ”خداوند کے وطن“ میں رہنا محض جذباتی خوشی یا ایمان رکھنا نہیں بلکہ زندگی کا اصل اظہار اور سمجھ رکھنا ہے جیسا کہ کرسچن سائنس میں ظاہر کیا گیا ہے۔ ”خداوند کے وطن“ میں رہنا خدا کی شریعت کا فرمانبردار ہونا، مکمل طور پر الٰہی محبت کی، روح کی نہ کہ مادے کی،حکمرانی میں رہنا ہے۔

10. 14 : 5-11

We cannot “serve two masters.” To be “present with the Lord” is to have, not mere emotional ecstasy or faith, but the actual demonstration and understanding of Life as revealed in Christian Science. To be “with the Lord” is to be in obedience to the law of God, to be absolutely governed by divine Love, — by Spirit, not by matter.

11۔ 458 :23۔31

پس خود میں ایک قانون کی شکل اختیار کرتے ہوئے مسیحی سائنسی انسان الٰہی شریعت کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ کسی انسان پر تشدد نہیں کرتا۔ نہ ہی وہ جھوٹا الزام تراش ہے۔ کرسچن سائنسدان بڑی دانائی سے اپنی راہ ہموار کرتا ہے، اور وہ الٰہی عقل کی ہدایات کی پیروی کرنے میں متواتر اور ایماندار ہوتا ہے۔زندگی گزارنے اور اس کے ساتھ شفا دینے اور تعلیم دینے کے وسیلہ سے اسے یہ ثابت کرنا چاہئے کہ مسیح کی راہ ہی وہ واحد راہ ہے جس کی بدولت بشر یکسر گناہ اور بیماری سے نجات پاتے ہیں۔

11. 458 : 23-31

The Christianly scientific man reflects the divine law, thus becoming a law unto himself. He does violence to no man. Neither is he a false accuser. The Christian Scientist wisely shapes his course, and is honest and consistent in following the leadings of divine Mind. He must prove, through living as well as healing and teaching, that Christ’s way is the only one by which mortals are radically saved from sin and sickness.

12۔ 34 :10۔17

اگر وہ سب جنہوں نے ساکرامنٹ میں حصہ لیا یسوع کے دکھوں کی حقیقتاً یادگاری منائی تھی اور اْس کے پیالے میں سے پیا تھا تو وہ دنیا میں انقلاب برپا کر دیتے۔ وہ سب جومادی علامات کے وسیلہ اْس کی یادگاری کے متلاشی ہیں وہ صلیب اٹھائیں گے، بیماروں کو شفا دیں گے، بدروحوں کو نکالیں گے اور مسیح، سچائی کی خوشخبری غریبوں، منفی سوچ والوں،کو دیں گے، وہ ہزار سالہ دور لائیں گے۔

12. 34 : 10-17

If all who ever partook of the sacrament had really commemorated the sufferings of Jesus and drunk of his cup, they would have revolutionized the world. If all who seek his commemoration through material symbols will take up the cross, heal the sick, cast out evils, and preach Christ, or Truth, to the poor, — the receptive thought, — they will bring in the millennium.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████