اتوار 12 جولائی، 2020  |

اتوار 12 جولائی، 2020 



مضمون۔ ساکرامنٹ

SubjectSacrament

سنہری متن:سنہری متن: ہوسیع 6 باب 6 آیت

’’مَیں قربانی نہیں بلکہ رحم پسند کرتا ہوں اور خدا شناسی کو سوختنی قربانیوں سے زیادہ چاہتا ہوں۔‘‘



Golden Text: Hosea 6 : 6

I desired mercy, and not sacrifice; and the knowledge of God more than burnt offerings.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور 51: 10تا13، 15تا17 آیات


10۔ اے خدا میرے اندر پاک دل پیدا کراور میرے باطن میں از سرے نو مستقیم روح ڈال۔

11۔ مجھے اپنے حضور سے خارج نہ کر۔ اور اپنی روح کو مجھ سے جدا نہ کر۔

12۔ اپنی نجات کی شادمانی مجھے پھر عنایت کر اور مستعد روح سے مجھے سنبھال۔

13۔ تب میں خطاکاروں کو تیری راہیں سکھاؤں گا اور گناہگار تیری طرف رجوع کریں گے۔

15۔ اے خداوند میرے ہونٹوں کو کھول دے تو میری منہ سے تیری ستائش نکلے گی۔

16۔ کیونکہ قربانی میں تیری خوشنودی نہیں ورنہ میں دیتا۔سوختنی قربانی سے تجھے کچھ خوشی نہیں۔

17۔ شکستہ روح خدا کی قربانی ہے۔اے خدا تْو شکستہ اور خستہ دل حقیر نہ جانے گا۔

Responsive Reading: Psalm 51 : 10-13, 15-17

10.     Create in me a clean heart, O God; and renew a right spirit within me.

11.     Cast me not away from thy presence; and take not thy holy spirit from me.

12.     Restore unto me the joy of thy salvation; and uphold me with thy free spirit.

13.     Then will I teach transgressors thy ways; and sinners shall be converted unto thee.

15.     O Lord, open thou my lips; and my mouth shall shew forth thy praise.

16.     For thou desirest not sacrifice; else would I give it: thou delightest not in burnt offering.

17.     The sacrifices of God are a broken spirit: a broken and a contrite heart, O God, thou wilt not despise.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ میکاہ 6 باب6تا8 آیات

6۔ مَیں کیا لے کر خداوند کے حضور آؤں اور خدا تعالیٰ کو کیونکر سجدہ کروں؟ کیا سوختنی قربانیوں اور یکسالہ بچھڑوں کو لے کر اْس کے حضور آؤں؟

7۔ کیا خداوند ہزاروں مینڈھوں سے یا تیل کی دس ہزار نہروں سے خوش ہوگا؟ کیا مَیں اپنے پہلوٹھے کو اپنے گناہ کے عوض میں اور اپنی اولاد کو اپنی جان کی خطا کے بدلہ میں دے دوں؟

8۔ اے انسان اْس نے تجھ پر نیکی ظاہر کر دی ہے۔ خداوند تجھ سے اِس سے زیادہ کیا چاہتا ہے کہ تْو انصاف کرے اور رحم دلی کو عزیز رکھے اور اپنے خدا کے حضور فروتنی سے چلے؟

1. Micah 6 : 6-8

6     Wherewith shall I come before the Lord, and bow myself before the high God? shall I come before him with burnt offerings, with calves of a year old?

7     Will the Lord be pleased with thousands of rams, or with ten thousands of rivers of oil? shall I give my firstborn for my transgression, the fruit of my body for the sin of my soul?

8     He hath shewed thee, O man, what is good; and what doth the Lord require of thee, but to do justly, and to love mercy, and to walk humbly with thy God?

2۔ 2 سلاطین 22 باب1 (تا پہلا)، 2 (تا دوسرا) آیت

1۔ جب یوسیاہ سلطنت کرنے لگا تو آٹھ برس کا تھا۔ اْس نے اکتیس برس یروشلیم میں سلطنت کی۔

2۔ اْس نے وہ کام کیا جو خداوند کی نگاہ میں ٹھیک تھا اور اپنے باپ داؤد کی سب راہوں پر چلا۔

2. II Kings 22 : 1(to 1st .), 2 (to 2nd ,)

1     Josiah was eight years old when he began to reign, and he reigned thirty and one years in Jerusalem.

2     And he did that which was right in the sight of the Lord, and walked in all the way of David his father,

3۔ 2 سلاطین 23 باب21 (اور) صرف، 21 (حکم دیا) تا 23، 25 آیات

21۔ اور۔۔۔سب لوگوں کو یہ حکم دیا کہ خداوند اپنے خدا کے لئے فسح مناؤ جیسا عہد کی اِس کتاب میں لکھا ہے۔

22۔ اور یقیناً قاضیوں کے زمانہ سے جو اسرائیل کی عدالت کرتے تھے اور اسرائیل کے بادشاہوں اور یہوداہ کے بادشاہوں کے کل ایام میں ایسی عیدِ فسح کبھی نہیں ہوئی تھی۔

23۔ یوسیاہ بادشاہ کے اٹھارھویں برس یہ فسح یروشلیم میں خداوند کے لئے منائی گئی۔

25۔ اور اْس سے پہلے کوئی بادشاہ اْس کی مانند نہیں ہوا تھا جو اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنے سارے زور سے موسیٰ کی ساری شریعت کے مطابق خداوند کی طرف رجوع لایا ہو اور نہ کوئی اْس کے بعد اْس کی مانند برپا ہوا۔

3. II Kings 23 : 21 (And) only, 21 (commanded)-23, 25

21     And … commanded all the people, saying, Keep the passover unto the Lord your God, as it is written in the book of this covenant.

22     Surely there was not holden such a passover from the days of the judges that judged Israel, nor in all the days of the kings of Israel, nor of the kings of Judah;

23     But in the eighteenth year of king Josiah, wherein this passover was holden to the Lord in Jerusalem.

25     And like unto him was there no king before him, that turned to the Lord with all his heart, and with all his soul, and with all his might, according to all the law of Moses; neither after him arose there any like him.

4۔ رومیوں 12 باب1، 2 آیات

1۔ پس اے بھائیو! مَیں خدا کی رحمتیں یاد دلا کر تم سے التماس کرتا ہوں کہ اپنے بدن ایسی قربانی ہونے کے لئے نذر کرو جو زندہ اور پاک اور خدا کو پسندیدہ ہو۔ یہی تمہاری معقول عبادت ہے۔

2۔ اور اِس جہان کے ہمشکل نہ بنو بلکہ عقل نئی ہوجانے سے اپنی صورت بدلتے جاؤ تاکہ خدا کی نیک اور پسندیدہ اور کامل مرضی تجربہ سے معلوم کرتے جاؤ۔

4. Romans 12 : 1, 2

1     I beseech you therefore, brethren, by the mercies of God, that ye present your bodies a living sacrifice, holy, acceptable unto God, which is your reasonable service.

2     And be not conformed to this world: but be ye transformed by the renewing of your mind, that ye may prove what is that good, and acceptable, and perfect, will of God.

5۔ متی 3باب13تا17 آیات

13۔ اْس وقت یسوع گلیل سے یردن کے کنارے یوحنا کے پاس اْس سے بپتسمہ لینے آیا۔

14۔ مگر یوحنا یہ کہہ کر اْسے منع کرنے لگا کہ مَیں آپ تجھ سے بپتسمہ لینے کا محتاج ہوں اور تْو میرے پاس آیا ہے؟

15۔ یسوع نے اْسے جواب دیا اب تْو ہونے ہی دے کیونکہ ہمیں اسی طرح ساری راستبازی پوری کرنا مناسب ہے۔ اِس پر اْس نے ہونے دیا۔

16۔ اور یسوع بپتسمہ لے کر فی الفور پانی کے پاس سے اوپر گیا اور دیکھو اْس کے لئے آسمان کھْل گیا اور اْس نے خدا کے روح کو کبوتر کی مانند اْترتے اور اپنے اوپر آتے دیکھا۔

17۔ اور دیکھو آسمان سے یہ آواز آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے میں خوش ہوں۔

5. Matthew 3 : 13-17

13     Then cometh Jesus from Galilee to Jordan unto John, to be baptized of him.

14     But John forbad him, saying, I have need to be baptized of thee, and comest thou to me?

15     And Jesus answering said unto him, Suffer it to be so now: for thus it becometh us to fulfil all righteousness. Then he suffered him.

16     And Jesus, when he was baptized, went up straightway out of the water: and, lo, the heavens were opened unto him, and he saw the Spirit of God descending like a dove, and lighting upon him:

17     And lo a voice from heaven, saying, This is my beloved Son, in whom I am well pleased.

6۔ متی 26 باب17تا20، 26تا30 آیات

17۔ اور عیدِ فطیر کے پہلے دن شاگردوں نے یسوع کے پاس آکر کہا تْو کہاں چاہتا ہے کہ ہم تیرے لئے فسح کھانے کی تیاری کریں؟

18۔ اْس نے کہا شہر میں فلاں شخص کے پاس جا کر کہنا اْستاد فرماتا ہے کہ میرا وقت نزدیک ہے۔ میں اپنے شاگردوں کے ساتھ تیرے ہاں عید فسح کروں گا۔

19۔ اور جیسا یسوع نے شاگردوں کو حکم دیا تھا اْنہوں نے ویسا ہی کیا اور فسح تیار کیا۔

20۔ جب شام ہوئی تو وہ بارہ شاگردوں کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھا تھا۔

26۔جب وہ کھا رہے تھے تو یسوع نے روٹی لی اور برکت دے کر توڑی اور شاگردوں کو دے کر کہا لو کھاؤ۔ یہ میرا بدن ہے۔

27۔ پھر پیالہ لے کر شکر کیا اور اْن سے کہا تم سب اِس میں سے پیو۔

28۔ کیونکہ یہ میرا وہ عہد کا خون ہے جو بہتیروں کے لئے گناہوں کی معافی کے واسطے بہایا جاتا ہے۔

29۔ مَیں تم سے کہتا ہوں کہ انگور کا یہ شیرہ پھر کبھی نہ پیوں گا۔ اْس دن تک کہ تمہارے ساتھ اپنے باپ کی بادشاہت میں نیا نہ پیوں۔

30۔ پھر وہ گیت گا کر باہر زیتون کے پہاڑ پر گئے۔

6. Matthew 26 : 17-20, 26-30

17     Now the first day of the feast of unleavened bread the disciples came to Jesus, saying unto him, Where wilt thou that we prepare for thee to eat the passover?

18     And he said, Go into the city to such a man, and say unto him, The Master saith, My time is at hand; I will keep the passover at thy house with my disciples.

19     And the disciples did as Jesus had appointed them; and they made ready the passover.

20     Now when the even was come, he sat down with the twelve.

26     And as they were eating, Jesus took bread, and blessed it, and brake it, and gave it to the disciples, and said, Take, eat; this is my body.

27     And he took the cup, and gave thanks, and gave it to them, saying, Drink ye all of it;

28     For this is my blood of the new testament, which is shed for many for the remission of sins.

29     But I say unto you, I will not drink henceforth of this fruit of the vine, until that day when I drink it new with you in my Father’s kingdom.

30     And when they had sung an hymn, they went out into the mount of Olives.

7۔ یوحنا 19 باب1، 16 (تا پہلا)۔

1۔ اِس پر پلاطوس نے یسوع کو کوڑے لگوائے۔

16۔ اِس پر اْس نے اْس کو اْن کے حوالہ کیا کہ مصلوب کیا جائے۔

7. John 19 : 1, 16 (to 1st .)

1     Then Pilate therefore took Jesus, and scourged him.

16     Then delivered he him therefore unto them to be crucified.

8۔ یوحنا 20باب1، 11 تا18 آیات

1۔ ہفتہ کے پہلے دن مریم مگدلینی ایسے تڑکے کہ ابھی اندھیرا ہی تھا قبر پر آئی اور پتھر کو قبر پر سے ہٹا دیکھا۔

11۔ لیکن مریم باہر قبر کے پاس کھڑی روتی رہی۔ اور جب روتے روتے قبر کی طرف جھْک کر اندر نظر کی۔

12۔ تو دو فرشتوں کو سفید پوشاک پہنے ہوئے ایک کو سرہانے اور دوسرے کو پینتانے بیٹھے دیکھا جہاں یسوع کی لاش پڑی تھی۔

13۔ انہوں نے اْس سے کہا اے عورت! تْوکیوں روتی ہے؟ اْس نے اْن سے کہا اِس لئے کہ میرے خداوند کو اٹھا لے گئے ہیں اور معلوم نہیں کہ اْسے کہاں رکھا ہے۔

14۔ یہ کہہ کر وہ پیچھے مْڑی اور یسوع کو کھڑے دیکھا اور نہ پہچانا کہ یہ یسوع ہے۔

15۔ یسوع نے اْس سے کہا اے عورت! تْو کیوں روتی ہے؟ کس کو ڈھونڈتی ہے؟ اْس نے باغبان سمجھ کر اْس سے کہا میاں اگر تْو نے اْس کو یہاں سے اٹھایا ہو تو مجھے بتا دے کہ اْسے کہاں رکھا ہے تاکہ مَیں اْسے لے جاؤں۔

16۔ یسوع نے اْس سے کہا مریم! اْس نے مڑ کر اْسے عبرانی زبان میں کہا ربْونی! یعنی اے استاد!

17۔ یسوع نے اْس سے کہا مجھے نہ چھْو کیونکہ میں اب تک باپ کے پاس اوپر نہیں گیا لیکن میرے بھائیوں کے پاس جا کر اْن سے کہہ کہ مَیں اپنے باپ اور تمہارے باپ اور اپنے خدا اور تمہارے خدا کے پاس اوپر جاتا ہوں۔

18۔ مریم مگدلینی نے آکر شاگردوں کو خبر دی مَیں نے خداوند کو دیکھا اور اْس نے مجھ سے باتیں کیں۔

8. John 20 : 1, 11-18

1     The first day of the week cometh Mary Magdalene early, when it was yet dark, unto the sepulchre, and seeth the stone taken away from the sepulchre.

11     But Mary stood without at the sepulchre weeping: and as she wept, she stooped down, and looked into the sepulchre,

12     And seeth two angels in white sitting, the one at the head, and the other at the feet, where the body of Jesus had lain.

13     And they say unto her, Woman, why weepest thou? She saith unto them, Because they have taken away my Lord, and I know not where they have laid him.

14     And when she had thus said, she turned herself back, and saw Jesus standing, and knew not that it was Jesus.

15     Jesus saith unto her, Woman, why weepest thou? whom seekest thou? She, supposing him to be the gardener, saith unto him, Sir, if thou have borne him hence, tell me where thou hast laid him, and I will take him away.

16     Jesus saith unto her, Mary. She turned herself, and saith unto him, Rabboni; which is to say, Master.

17     Jesus saith unto her, Touch me not; for I am not yet ascended to my Father: but go to my brethren, and say unto them, I ascend unto my Father, and your Father; and to my God, and your God.

18     Mary Magdalene came and told the disciples that she had seen the Lord, and that he had spoken these things unto her.

9۔ عبرانیوں 13باب20 (خدا)، 21(تاپہلا) آیات

20۔۔۔۔خدا اطمینان کا چشمہ جو بڑے چرواہے یعنی ہمارے خداوند یسوع مسیح کو ابدی عہد کے خون کے باعث مردوں میں سے زندہ کر کے اٹھا لایا۔

21۔ تم کو ہر نیک بات میں کامل کرے تاکہ تم اْس کی مرضی پوری کرو اور جو کچھ اْس کے نزدیک پسندیدہ ہے یسوع مسیح کے وسیلہ سے ہم میں پیدا کرے جس کی تمجید ابد الا آباد ہوتی رہے۔

9. Hebrews 13 : 20 (the God), 21 (to 1st .)

20     …the God of peace, that brought again from the dead our Lord Jesus, that great shepherd of the sheep, through the blood of the everlasting covenant,

21     Make you perfect in every good work to do his will, working in you that which is wellpleasing in his sight, through Jesus Christ; to whom be glory for ever and ever.



سائنس اور صح


1۔ 241 :19۔22

ساری جانثاری کا مادا الٰہی محبت، بیماری کی شفا اور گناہ کی تباہی کا عکس اور اظہار ہے۔ہمارے مالک نے کہا، ”اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو گے۔“

1. 241 : 19-22

The substance of all devotion is the reflection and demonstration of divine Love, healing sickness and destroying sin. Our Master said, "If ye love me, keep my commandments."

2۔ 25 :3۔12

خون کا روحانی جوہر قربانی ہے۔ یسوع کی روحانی قربانی کی افادیت اِس سے کہیں بڑھ کر ہے جو ہم انسانی خون کے ادراک سے ایاں کر سکیں۔جب یہ یسوع کا مادی خون ”ملعون درخت“ پر بہایا گیا تب وہ گناہوں سے پاک کرنے کے لئے اتنا موثر نہیں تھا جتنا اْس وقت تھا جب وہ خون اْس کی رگوں میں بہتا تھا جب ہر روز وہ اپنے باپ کا کام کرنے جایا کرتا تھا۔اْس کا حقیقی خون اور بدن اْس کی زندگی تھی؛ اور وہ حقیقتاً اْس کا بدن کھاتے اور خون پیتے ہیں جو اْس الٰہی زندگی میں حصہ لیتے ہیں۔

2. 25 : 3-12

The spiritual essence of blood is sacrifice. The efficacy of Jesus' spiritual offering is infinitely greater than can be expressed by our sense of human blood. The material blood of Jesus was no more efficacious to cleanse from sin when it was shed upon "the accursed tree," than when it was flowing in his veins as he went daily about his Father's business. His true flesh and blood were his Life; and they truly eat his flesh and drink his blood, who partake of that divine Life.

3۔ 32 :28۔26

وہ فسح جو یسوع نے اپنے شاگردوں کے ساتھ نیسان کے مہینے میں اپنے مصلوب ہونے سے قبل کھائی وہ ایک غمگین موقع تھا، ایک سوگوار کھانا جو دن کے آخر پر، پر نور چاندنی میں تھاجس کے ساتھ تیزی سے گہرے سایے ارد گرد پھیل رہے تھے؛ اور اس کھانے نے مادے کے لئے یسوع کی رسم پرستی یا منظوری کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا۔

اْس کے پیروکار، افسردہ اور خاموش، اپنے مالک کے ساتھ ہونے والی بے وفائی کی گھڑی پر غور کر رہے تھے، آسمانی من میں حصہ لیتے ہیں، جو ماضی کے بیابان میں ستائے ہوئے سچائی کے ماننے والوں نے کھایا تھا۔اْن کی خوراک واقعتاً آسمان سے اتری تھی۔بیماروں کو شفا دینے اور غلطی کو باہر نکالنے والی روحانی ہستی کی یہ بہت بڑی حقیقت تھی۔اْن کے مالک نے انہیں یہ پہلے ہی واضح کر دیا تھا، اور اب یہ روٹی انہیں خوراک دے رہی تھی اور انہیں قائم رکھ رہی تھی۔وہ اِس روٹی کو گھر گھر پہنچاتے تھے، اسے دوسروں کے لئے توڑتے (وضاحت کرتے) تھے، اور اب اْس نے انہیں تسلی دی۔

روحانی ہستی کی اِس سچائی کے لئے، اْن کا مالک تشددسہنے کو تھا اور دْکھ کا یہ پیالہ آخری قطرے تک خشک ہونے کو تھا۔اْس نے انہیں چھوڑ دینا تھا۔اْس پر چھانے والی ابدی فتح کے بڑے جلال کے ساتھ، اْس نے شکر کیا اور کہا، ”تم سب اِس میں سے پیو۔“

جب اْس کے اندر انسانی عنصر الٰہی عنصر کے ساتھ کشمکش کر رہا تھا تو ہمارے عظیم استاد نے کہا: ”میری نہیں بلکہ تیری مرضی پوری ہو!“، یعنی، مجھ میں بدن نہیں بلکہ روح ظاہر ہو۔ یہ روحانی محبت کی نئی سمجھ ہے۔ یہ سبھی کچھ مسیح یا سچائی کے لئے مہیا کرتا ہے۔ یہ دشمنوں کو برکت دیتا، بیماروں کو شفا دیتا، غلطیوں کو خارج کرتا، خطاؤں اور گناہوں میں مردہ لوگوں کو زندہ کرتا اور جو دل کے غریب اور فروتن ہیں اْن کی انجیل کی خوشخبری سناتا ہے۔

3. 32 : 28-26

The Passover, which Jesus ate with his disciples in the month Nisan on the night before his crucifixion, was a mournful occasion, a sad supper taken at the close of day, in the twilight of a glorious career with shadows fast falling around; and this supper closed forever Jesus' ritualism or concessions to matter.

His followers, sorrowful and silent, anticipating the hour of their Master's betrayal, partook of the heavenly manna, which of old had fed in the wilderness the persecuted followers of Truth. Their bread indeed came down from heaven. It was the great truth of spiritual being, healing the sick and casting out error. Their Master had explained it all before, and now this bread was feeding and sustaining them. They had borne this bread from house to house, breaking (explaining) it to others, and now it comforted themselves.

For this truth of spiritual being, their Master was about to suffer violence and drain to the dregs his cup of sorrow. He must leave them. With the great glory of an everlasting victory over-shadowing him, he gave thanks and said, "Drink ye all of it."

When the human element in him struggled with the divine, our great Teacher said: "Not my will, but Thine, be done!" — that is, Let not the flesh, but the Spirit, be represented in me. This is the new understanding of spiritual Love. It gives all for Christ, or Truth. It blesses its enemies, heals the sick, casts out error, raises the dead from trespasses and sins, and preaches the gospel to the poor, the meek in heart.

4۔ 34 :29۔2

خداوند کے آخری کھانے اور گلیل کی جھیل کے ساحل پرایک تازہ صبح کے پہر میں خوشگوار ملاقات میں اپنے شاگردوں کے ساتھ اْس کے روحانی ناشتے میں کتنا فرق ہے۔ اْس کا دْکھ جلال میں بدل گیا تھا، اور اْس کے شاگرد پشیمانی میں رنجیدہ ہوئے، دل کی تنبیہ ہوئی اور تکبر کی ملامت ہوئی۔

4. 34 : 29-2

What a contrast between our Lord's last supper and his last spiritual breakfast with his disciples in the bright morning hours at the joyful meeting on the shore of the Galilean Sea! His gloom had passed into glory, and his disciples' grief into repentance, — hearts chastened and pride rebuked.

5۔ 35 :10۔19، 25۔29

نئی روشنی کے طلوع ہونے پر ہمارے خداوند کے ساتھ یہ روحانی ملاقات صبح کا وہ ناشتہ ہے جسکی یاد مسیحی سائنسدان مناتے ہیں۔ دوبارہ اْس کی حضوری حاصل کرنے کے لئے اور خاموشی کے ساتھ الٰہی اصول، محبت کے ساتھ شراکت کرنے کے لئے وہ مسیح، سچائی کے آگے سجدہ کرتے ہیں۔ وہ اْن کے خداوند کی موت پر فتح، موت کے بعد اْس کی بدنی آزمائش، انسانی آزمائش کی اِس مثال، اورجب وہ مادی نظر سے اوجھل اوپر اٹھایا گیا تو مادے، یا جسم سے اوپر اْس کے روحانی اور آخری صعود کو مناتے ہیں۔

ہمارا بپتسمہ ساری غلطی سے ہماری پاکیزگی ہے۔۔۔۔ہمارا یوخرست ایک خدا کے ساتھ روحانی شراکت ہے۔ ہماری روٹی ”جو آسمان سے اترتی ہے،“ سچائی ہے۔ ہمارا پیالہ صلیب ہے۔ ہماری مے، یعنی وہ مے جو ہماری مالک نے پی اور اپنے پیروکاروں کو بھی اِس کا حکم دیا، محبت کا الہام ہے۔

5. 35 : 10-19, 25-29

This spiritual meeting with our Lord in the dawn of a new light is the morning meal which Christian Scientists commemorate. They bow before Christ, Truth, to receive more of his reappearing and silently to commune with the divine Principle, Love. They celebrate their Lord's victory over death, his probation in the flesh after death, its exemplification of human probation, and his spiritual and final ascension above matter, or the flesh, when he rose out of material sight.

Our baptism is a purification from all error. … Our Eucharist is spiritual communion with the one God. Our bread, "which cometh down from heaven," is Truth. Our cup is the cross. Our wine the inspiration of Love, the draught our Master drank and commended to his followers.

6۔ 43 :11۔4

یسوع کا آخری ثبوت اْس کے طالب علموں کے لئے سب سے بلند، سب سے زیادہ قابل یقین، سب سے زیادہ فائدہ مند تھا۔وحشی ظالموں کابْغض، انسان اور اْس کے ستانے والے کی تکریم سے محبت کی خود کْشی اور غداری خدا کے سچے الٰہی خیال سے مسترد ہو گئے، جس کا یسوع کے ستانے والوں نے مزاق اْڑایا اور اْسے فنا کرنے کی کوشش کی۔ سچائی کا آخری اظہار جس کی یسوع نے تعلیم دی، اور جس کی خاطر وہ مصلوب کیا گیا، اْس نے دنیا کے لئے نئے دور کا آغاز کیا۔ وہ لوگ جنہوں نے اْس کے تاثر پر روک لگانے کے لئے اْسے ذبح کیا انہوں نے اسے برقرار رکھا اور اسے وسعت دی۔

اْس پیالے کی کڑواہٹ کے سبب جو اْس نے پیا یسوع اظہار میں اوپر اٹھایا گیا۔ انسانی قانون نے اْسے رد کیا، مگر وہ الٰہی سائنس کو ظاہر کررہا تھا۔ اْس کے دشمنوں کی حد سے زیادہ بربریت کے باوجود، وہ مادے اور فانیت کے انحراف میں روحانی قانون کے تحت کام کر رہا تھا، اور اسی روحانی قانون نے اْسے قائم رکھا۔ الٰہی کو ہر مقام پر انسان پر فاتح ہونا چاہئے۔ وہ سائنس جس کی تعلیم یسوع نے دی اور اْس پر زندگی گزاری اْسے زندگی، مواد اور ذہانت سے متعلق تمام تر مادی عقائد پراور ایسے عقائد سے فروغ پانے والی کثیر غلطیوں پر فتح مند ہونا چاہئے۔

محبت کو نفرت پر ہمیشہ فتح مند ہونا چاہئے۔ اس سے قبل کہ کانٹوں کو تاج بنانے کے لئے چنا جائے اور روح کی برتری کو ظاہر کیا جائے، سچائی اور زندگی کو غلطی اور موت پر فتح کی مہر ثبت کرنی چاہئے، دعائے خیر کہتی ہے، ”ایک اچھے اور وفادار خادم، تو نے بہت اچھا کیا“۔

6. 43 : 11-4

Jesus' last proof was the highest, the most convincing, the most profitable to his students. The malignity of brutal persecutors, the treason and suicide of his betrayer, were overruled by divine Love to the glorification of the man and of the true idea of God, which Jesus' persecutors had mocked and tried to slay. The final demonstration of the truth which Jesus taught, and for which he was crucified, opened a new era for the world. Those who slew him to stay his influence perpetuated and extended it.

Jesus rose higher in demonstration because of the cup of bitterness he drank. Human law had condemned him, but he was demonstrating divine Science. Out of reach of the barbarity of his enemies, he was acting under spiritual law in defiance of matter and mortality, and that spiritual law sustained him. The divine must overcome the human at every point. The Science Jesus taught and lived must triumph over all material beliefs about life, substance, and intelligence, and the multitudinous errors growing from such beliefs.

Love must triumph over hate. Truth and Life must seal the victory over error and death, before the thorns can be laid aside for a crown, the benediction follow, "Well done, good and faithful servant," and the supremacy of Spirit be demonstrated.

7۔ 33 :31۔17

وہ سب جو یسوع کی یاد گاری میں روٹی کھاتے اور مے پیتے ہیں وہ حقیقت میں اْس کے پیالے اور اْس کی صلیب میں سے بانٹنے کی اور اصول ِمسیح کی خاطر سب کچھ چھوڑنے کے لئے رضا مند ہیں؟ تو پھر اس الہام کو ایک مردہ رسم کے ساتھ کیوں منسوب کیا جاتا ہے بجائے غلطی کو دور کرتے ہوئے اور بدن کو ”پاک اور خدا کے لئے قابل قبول“ بناتے ہوئے، یہ دکھایا جائے سچائی کا فہم فراہم ہوا ہے؟ اگر مسیح، سچائی اظہار میں ہمارے پاس آیا، تو کسی دوسری یاد گاری کی ضرورت نہیں، کیونکہ اظہار اعمانوئیل یا خدا ہمارے ساتھ ہے؛ اور اگر کوئی دوسر ہمارے ساتھ ہے تو اْس کی یادگاری منانے کی کیا ضرورت ہے؟

اگر وہ سب جنہوں نے ساکرامنٹ میں حصہ لیا یسوع کے دکھوں کی حقیقتاً یادگاری منائی تھی اور اْس کے پیالے میں سے پیا تھا تو وہ وہ دنیا میں انقلاب برپا کر دیتے۔ وہ سب جومادی علامات کے وسیلہ اْس کی یادگاری کے متلاشی ہیں وہ صلیب اٹھائیں گے، بیماروں کو شفا دیں گے، بدروحوں کو نکالے گے اور مسیح، سچائی کی خوشخبری غریبوں، منفی سوچ والوں،کو دیں گے، وہ ہزار سالہ دور لائیں گے۔

7. 33 : 31-17

Are all who eat bread and drink wine in memory of Jesus willing truly to drink his cup, take his cross, and leave all for the Christ-principle? Then why ascribe this inspiration to a dead rite, instead of showing, by casting out error and making the body "holy, acceptable unto God," that Truth has come to the understanding? If Christ, Truth, has come to us in demonstration, no other commemoration is requisite, for demonstration is Immanuel, or God with us; and if a friend be with us, why need we memorials of that friend?

If all who ever partook of the sacrament had really commemorated the sufferings of Jesus and drunk of his cup, they would have revolutionized the world. If all who seek his commemoration through material symbols will take up the cross, heal the sick, cast out evils, and preach Christ, or Truth, to the poor, — the receptive thought, — they will bring in the millennium.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████