اتوار 12 ستمبر،2021



مضمون۔ مواد

SubjectSubstance

سنہری متن: امثال 3 باب9 آیت

”اپنے مال سے اور اپنی ساری پیداوار کے پہلے پھلوں سے خداوند کی تعظیم کر۔“



Golden Text: Proverbs 3 : 9

Honour the Lord with thy substance, and with the firstfruits of all thine increase.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور 37: 3، 4، 16، 18، 26، 29 آیات


3۔ خداوند پر توکل کر اور نیکی کر۔ ملک میں آباد رہ اور اْس کی وفاداری سے پرورش پا۔

4۔ خداوند میں مسرور رہ اور وہ تیرے دل کی مرادیں پوری کرے گا۔

16۔ صادق کا تھوڑا سا مال بہت سے شریروں کی دولت سے بہتر ہے۔

18۔ کامل لوگوں کے ایام کو خداوند جانتا ہے۔ اْن کی میراث ہمیشہ کے لئے ہوگی۔

26۔ وہ دن بھر رحم کرتا ہے اور قرض دیتا ہے اور اْس کی اولاد کو برکت ملتی ہے۔

29۔ صادق زمین کے وارث ہوں گے اور اْس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔

Responsive Reading: Psalm 37 : 3, 4, 16, 18, 26, 29

3.     Trust in the Lord, and do good; so shalt thou dwell in the land, and verily thou shalt be fed.

4.     Delight thyself also in the Lord; and he shall give thee the desires of thine heart.

16.     A little that a righteous man hath is better than the riches of many wicked.

18.     The Lord knoweth the days of the upright: and their inheritance shall be for ever.

26.     He is ever merciful, and lendeth; and his seed is blessed.

29.     The righteous shall inherit the land, and dwell therein for ever.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ یرمیاہ 9 باب 23، 24 آیات

23۔ خداوند یوں فرماتا ہے کہ نہ صاحبِ حکمت اپنی حکمت پر اور نہ قوی اپنی قوت پر اور نہ مالدار اپنے مال پر فخر کرے۔

24۔ لیکن جو فخر کرتا ہے اِس پر فخر کرے کہ وہ سمجھتا اور مجھے جانتا ہے کہ مَیں ہی خداوند ہوں جو دنیا میں شفقت و عدل اور راستبازی کو عمل میں لاتا ہوں کیونکہ میری خوشنودی انہی باتوں میں ہے خداوند فرماتا ہے۔

1. Jeremiah 9 : 23, 24

23     Thus saith the Lord, Let not the wise man glory in his wisdom, neither let the mighty man glory in his might, let not the rich man glory in his riches:

24     But let him that glorieth glory in this, that he understandeth and knoweth me, that I am the Lord which exercise lovingkindness, judgment, and righteousness, in the earth: for in these things I delight, saith the Lord.

2۔ پیدائش 13 باب1 (ابرام)، 2، 5تا12، 14تا18 آیات

1۔ اور ابرام مصر سے اپنی بیوی اور اپنے سب مال اور لوط کو ساتھ لے کر کعنان کے جنوب کی طرف چلا۔

2۔ اور ابرام کے پاس چوپائے اور سونا چاندی بکثرت تھا۔

5۔ اور لوط کے پاس بھی جو ابرام کا ہمسفر تھا بھیڑ بکریاں گائے بیل اور ڈیرے تھے۔

6۔ اور اْس ملک میں اتنی گنجائش نہ تھی کہ وہ اکٹھے رہیں کیونکہ اْن کے پاس اِتنا مال تھا کہ وہ اکٹھے نہیں رہ سکتے تھے۔

7۔ اور ابرام کے چرواہوں اور لوط کے چرواہوں کے درمیان جھگڑا ہوا اور کعنانی اور فرزی اْس وقت ملک میں رہتے تھے۔

8۔ تب ابرام نے لوط سے کہا کہ میرے اور تیرے درمیان اور میرے چرواہوں اور تیرے چرواہوں کے درمیان جھگڑا نہ ہوا کرے کیونکہ ہم بھائی ہیں۔

9۔ کیا یہ سارا ملک تیرے سامنے نہیں؟ سو تْو مجھ سے الگ ہوجا۔ اگر تْو بائیں جائے تو مَیں دائیں جاؤں گا اور اگر تْو دہنے جائے تو مَیں بائیں جاؤں گا۔

10۔ تب لوط نے گردن اٹھا کر یردن کی ساری ترائی پر جو ضغر کی طرف ہے نظر دوڑائی کیونکہ وہ اِس سے پیشتر کہ خداوند نے سدوم اور عمورہ کو تباہ کیا خداوند کے باغ اور مصر کے ملک کی مانند خوب سیراب تھی۔

11۔ سو لوط نے یردن کی ساری ترائی کو اپنے لئے چن لیا اور وہ مشرق کی طرف چلا اور وہ ایک دوسرے سے جدا ہوگئے۔

12۔ ابرام تو ملک کعنان میں رہا اور لوط نے ترائی کے شہروں میں سکونت اختیار کی اور سدوم کی طرف اپنا ڈیرہ لگایا۔

14۔ اور لوط کے جدا ہو جانے کے بعد خداوند نے ابرام سے کہا کہ اپنی آنکھ اٹھا اور جس جگہ تْو ہے وہاں سے شمال اور جنوب اور مشرق اور مغرب کی طرف نظر دوڑا۔

15۔ کیونکہ یہ تمام ملک جو تْو دیکھ رہا ہے مَیں تجھ کو اور تیری نسل کو ہمیشہ کے لئے دوں گا۔

16۔ اور مَیں تیری نسل کو خاک کے ذروں کی مانند بناؤں گا ایسا کہ اگر کوئی شخص خاک کے ذروں کو گن سکے تو تیری نسل بھی گن لی جائے گی۔

17۔ اْٹھ اور اِس ملک کے طول و عرض میں سیر کر کیونکہ مَیں اِسے تجھ کو دوں گا۔

18۔ اور ابرام نے اپنا ڈیرہ اٹھایا اور ممرے کے بلوطوں میں جو حبون میں ہیں جا کر رہنے لگا اور وہاں خداوند کے لئے ایک قربان گاہ بنائی۔

2. Genesis 13 : 1 (Abram), 2, 5-12, 14-18

1     Abram went up out of Egypt, he, and his wife, and all that he had, and Lot with him, into the south.

2     And Abram was very rich in cattle, in silver, and in gold.

5     And Lot also, which went with Abram, had flocks, and herds, and tents.

6     And the land was not able to bear them, that they might dwell together: for their substance was great, so that they could not dwell together.

7     And there was a strife between the herdmen of Abram’s cattle and the herdmen of Lot’s cattle: and the Canaanite and the Perizzite dwelled then in the land.

8     And Abram said unto Lot, Let there be no strife, I pray thee, between me and thee, and between my herdmen and thy herdmen; for we be brethren.

9     Is not the whole land before thee? separate thyself, I pray thee, from me: if thou wilt take the left hand, then I will go to the right; or if thou depart to the right hand, then I will go to the left.

10     And Lot lifted up his eyes, and beheld all the plain of Jordan, that it was well watered every where, before the Lord destroyed Sodom and Gomorrah, even as the garden of the Lord, like the land of Egypt, as thou comest unto Zoar.

11     Then Lot chose him all the plain of Jordan; and Lot journeyed east: and they separated themselves the one from the other.

12     Abram dwelled in the land of Canaan, and Lot dwelled in the cities of the plain, and pitched his tent toward Sodom.

14     And the Lord said unto Abram, after that Lot was separated from him, Lift up now thine eyes, and look from the place where thou art northward, and southward, and eastward, and westward:

15     For all the land which thou seest, to thee will I give it, and to thy seed for ever.

16     And I will make thy seed as the dust of the earth: so that if a man can number the dust of the earth, then shall thy seed also be numbered.

17     Arise, walk through the land in the length of it and in the breadth of it; for I will give it unto thee.

18     Then Abram removed his tent, and came and dwelt in the plain of Mamre, which is in Hebron, and built there an altar unto the Lord.

3۔ 1 کرنتھیوں 3 باب6، 7 آیات

6۔ مَیں نے درخت لگایا اور پلوس نے پانی دیا مگر بڑھایا خدانے۔

7۔ پس نہ لگانے والا کچھ چیز ہے نہ پانی دینے والا مگر خدا جو بڑھانے والا ہے۔

3. I Corinthians 3 : 6, 7

6     I have planted, Apollos watered; but God gave the increase.

7     So then neither is he that planteth any thing, neither he that watereth; but God that giveth the increase.

4۔ 2تواریخ 31 باب2 (حزقیاہ) تا8 آیات

2۔ حزقیاہ نے کاہنوں کے فریقوں کو اور لاویوں کو اْن کے فریقوں کے موافق یعنی کاہنوں اور لاویوں دونوں کے ہر شخص کو اْس کی خدمت کے مطابق خداوند کے خیمہ گاہ کے پھاٹکوں کے اندر سوختنی قربانیوں اور سلامتی کے قربانیوں کے لئے اور عبادت اور شکرگزاری اور ستائش کرنے کے لئے مقرر کیا۔

3۔ اور اْس نے اپنے مال میں سے بادشاہی حصہ سوختنی قربانیوں کے لئے اور سبتوں اور نئے چاندوں اور مقررہ عیدوں کی سوختنی قربانیوں کے لئے ٹھہرایا جیسا خداوند کی شریعت میں لکھا ہے۔

4۔ اور اْس نے اْن لوگوں کو جو یروشلیم میں رہتے تھے حکم کیا کہ کاہنوں اور لاویوں کا حصہ دیں تاکہ وہ خداوند کی شریعت میں لگے رہیں۔

5۔ اِس فرمان کے جاری ہوتے ہی بنی اسرائیل اناج اور مے اور تیل اور شہد اور کھیت کی سب پیداوار کے پہلے پھل بہتات سے دینے اور سب چیزوں کا دسواں حصہ کثرت سے لانے لگے۔

6۔ اور بنی اسرائیل اور یہوداہ جو یہوداہ کے شہروں میں رہتے تھے وہ بھی بیلوں اور بھیڑ بکریوں کا دسواں حصہ اور اْن مقدس چیزوں کا دسواں حصہ جو خداوند اْن کے خدا کے لئے مقدس کی گئی تھیں لائے اور اْن کو ڈھیر ڈھیر کر کے لگا دیا۔

7۔ اْنہوں نے تیسرے مہینے میں ڈھیر لگانا شروع کیا اور ساتویں مہینے میں تمام کیا۔

8۔ جب حزقیاہ اور سرداروں نے آکر ڈھیروں کو دیکھا تو خداوند کو اور اْس کی قوم اسرائیل کو مبارک کہا۔

4. II Chronicles 31 : 2 (Hezekiah)-8

2     Hezekiah appointed the courses of the priests and the Levites after their courses, every man according to his service, the priests and Levites for burnt offerings and for peace offerings, to minister, and to give thanks, and to praise in the gates of the tents of the Lord.

3     He appointed also the king’s portion of his substance for the burnt offerings, to wit, for the morning and evening burnt offerings, and the burnt offerings for the sabbaths, and for the new moons, and for the set feasts, as it is written in the law of the Lord.

4     Moreover he commanded the people that dwelt in Jerusalem to give the portion of the priests and the Levites, that they might be encouraged in the law of the Lord.

5     And as soon as the commandment came abroad, the children of Israel brought in abundance the firstfruits of corn, wine, and oil, and honey, and of all the increase of the field; and the tithe of all things brought they in abundantly.

6     And concerning the children of Israel and Judah, that dwelt in the cities of Judah, they also brought in the tithe of oxen and sheep, and the tithe of holy things which were consecrated unto the Lord their God, and laid them by heaps.

7     In the third month they began to lay the foundation of the heaps, and finished them in the seventh month.

8     And when Hezekiah and the princes came and saw the heaps, they blessed the Lord, and his people Israel.

5۔ 1 تمیتھیس 6 باب17 تا19 آیات

17۔ اِس موجودہ جہان کے دولتمندوں کو حکم دے کہ مغرور نہ ہوں اور ناپائیدار دولت پر نہیں بلکہ خدا پر امید رکھیں جو ہمیں لطف اٹھانے کے لئے سب چیزیں افراط سے دیتا ہے۔

18۔ اور نیکی کریں اور اچھے کاموں میں دولتمند بنیں اور سخاوت پر تیار اور امداد پر مستعد ہوں۔

19۔ اور آئندہ کے لئے اپنے واسطے ایک اچھی بنیاد قائم کر رکھیں تاکہ حقیقی زندگی پر قبضہ کریں۔

5. I Timothy 6 : 17-19

17     Charge them that are rich in this world, that they be not highminded, nor trust in uncertain riches, but in the living God, who giveth us richly all things to enjoy;

18     That they do good, that they be rich in good works, ready to distribute, willing to communicate;

19     Laying up in store for themselves a good foundation against the time to come, that they may lay hold on eternal life.

6۔ 2 کرنتھیوں 9 باب6 تا11 آیات

6۔لیکن بات یہ ہے کہ جو تھوڑا بوتا ہے وہ تھوڑا کاٹے گا اور جو بہت بوتا ہے وہ بہت کاٹے گا۔

7۔ جس قدر ہر ایک نے اپنے دل میں ٹھہرایا ہے اْسی قدر دے۔ نہ دریغ کر کے اور نہ لاچاری سے کیونکہ خدا خوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتا ہے۔

8۔ اور خدا تم پر ہر طرح کا فضل کثرت سے کر سکتا ہے تاکہ تم کو ہر چیز کافی طور پرملا کرے اور ہر نیک کام کے لئے تمہارے پاس بہت کچھ موجود رہا کرے۔

9۔ چنانچہ لکھا ہے کہ اْس نے بکھیرا ہے۔ اْس نے کنگالوں کو دیا ہے۔اْس کی راستبازی ابد تک باقی رہے گی۔

10۔ پس جو بونے والے کے لئے بیج اور کھانے والے کے لئے روٹی بہم پہنچاتا ہے وہی تمہارے لئے بیج بہم پہنچائے گا اور اْس میں ترقی دے گا اور تمہاری راستبازی کے پھلوں کو بڑھائے گا۔

11۔ اور تم ہر چیز کو افراط سے پا کر سب طرح کی سخاوت کرو گے جو ہمارے وسیلہ سے خدا کی شکر گزاری کا باعث ہوتی ہے۔

6. II Corinthians 9 : 6-11

6     But this I say, He which soweth sparingly shall reap also sparingly; and he which soweth bountifully shall reap also bountifully.

7     Every man according as he purposeth in his heart, so let him give; not grudgingly, or of necessity: for God loveth a cheerful giver.

8     And God is able to make all grace abound toward you; that ye, always having all sufficiency in all things, may abound to every good work:

9     (As it is written, He hath dispersed abroad; he hath given to the poor: his righteousness remaineth for ever.

10     Now he that ministereth seed to the sower both minister bread for your food, and multiply your seed sown, and increase the fruits of your righteousness;)

11     Being enriched in every thing to all bountifulness, which causeth through us thanksgiving to God.



سائنس اور صح


1۔ 468 :17 (مواد)۔24

واد وہ ہے جو ابدی ہے اور نیست ہونے اور مخالفت سے عاجز ہے۔ سچائی، زندگی اور محبت مواد ہیں، جیسے کہ کلام عبرانیوں میں یہ الفاظ استعمال کرتا ہے: ”ایمان اْمید کی ہوئی چیزوں کا اعتماد اور اندیکھی چیزوں کا ثبوت ہے۔“روح، جو فہم،جان، یا خدا کا مترادف لفظ ہے، واحد حقیقی مواد ہے۔ روحانی کائنات، بشمول انفرادی انسان، ایک مشترک خیال ہے، جو روح کے الٰہی مواد کی عکاسی کرتا ہے۔

1. 468 : 17 (Substance)-24

Substance is that which is eternal and incapable of discord and decay. Truth, Life, and Love are substance, as the Scriptures use this word in Hebrews: "The substance of things hoped for, the evidence of things not seen." Spirit, the synonym of Mind, Soul, or God, is the only real substance. The spiritual universe, including individual man, is a compound idea, reflecting the divine substance of Spirit.

2۔ 469 :2۔3

جسے مادے کی اصطلاح کہا گیا ہے وہ روح سے نا آشنا ہے، جو خود میں تمام مواد سمودیتا ہے اور خود ابدی زندگی ہے۔

2. 469 : 2-3

What is termed matter is unknown to Spirit, which includes in itself all substance and is Life eternal.

3۔ 278 :28۔3

وہ سب کچھ جس کے لئے ہم گناہ، بیماری اور موت کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں فانی یقین ہے۔ ہم مادے کی تشریح بطور غلطی کرتے ہیں کیونکہ یہ زندگی، مواد اور شعور کے اْلٹ ہے۔ اگر روح حقیقی اور ابدی ہے تو مادہ، اپنی فانیت کے ہمراہ، حقیقی نہیں ہوسکتا۔ہماری نظر میں کیا چیز مواد ہونی چاہئے، غلطی، تبدیل ہونے والا اور فنا ہونے والا، قابل تغیر اور فانی، یا غلطی سے مبرا، ناقابل تغیر اور لافانی؟

3. 278 : 28-3

All that we term sin, sickness, and death is a mortal belief. We define matter as error, because it is the opposite of life, substance, and intelligence. Matter, with its mortality, cannot be substantial if Spirit is substantial and eternal. Which ought to be substance to us, — the erring, changing, and dying, the mutable and mortal, or the unerring, immutable, and immortal?

4۔ 311 :26۔7

وہ چیزیں جو جسمانی حواس کی بدولت شناخت پاتی ہیں اْن میں مواد کی حقیقت نہیں ہوتی۔یہ محض وہی ہیں جو فانی یقین انہیں کہتا ہے۔ مادہ، گناہ اور فانیت تمام فرضی شعور یا زندگی اور وجودیت کے دعوے کو جھٹلاتے ہیں، کیونکہ فانی لوگ زندگی، مواد اور عقل کے جھوٹے حواس مہیا کرتے ہیں۔ لیکن روحانی ابدی انسان کو فانیت کے ان مراحل کی بدولت چھوا بھی نہیں جاتا۔

یہ کتنی بڑی حقیقت ہے کہ مادی حس کے وسیلہ جو کچھ بھی سیکھا گیا ہوتا ہے وہ ختم ہو جاتا ہے کیونکہ سائنس میں ایسا نام نہاد علم زندگی کے روحانی حقائق کے ذریعے اْلٹ ہو جاتا ہے۔ مادی حس جِسے غیر مادی تصور کرتی ہے اسے مواد کہا جاتا ہے۔ جب احساسی خواب غائب ہوتا اور حقیقت سامنے آتی ہے تو مادی حس جسے مواد سمجھتی ہے وہ عدم بن جاتا ہے۔

4. 311 : 26-7

The objects cognized by the physical senses have not the reality of substance. They are only what mortal belief calls them. Matter, sin, and mortality lose all supposed consciousness or claim to life or existence, as mortals lay off a false sense of life, substance, and intelligence. But the spiritual, eternal man is not touched by these phases of mortality.

How true it is that whatever is learned through material sense must be lost because such so-called knowledge is reversed by the spiritual facts of being in Science. That which material sense calls intangible, is found to be substance. What to material sense seems substance, becomes nothingness, as the sense-dream vanishes and reality appears.

5۔ 458 :32۔8

جیسے پھول اندھیرے سے روشنی کی طرف مْڑتا ہے،مسیحت انسان کو فطری طور پر مادے سے روح کی جانب موڑنے کا موجب بنتی ہے۔پھر انسان اْن چیزوں کو مختص کرتا ہے جو ”نہ آنکھوں نے دیکھی نہ کانوں نے سْنیں۔“یوحنا اور پولوس کو بہت واضح ادراک تھا کہ، چونکہ فانی آدمی کو قربانی کے بغیردنیاوی عظمت حاصل نہیں ہو سکتی، اس لئے اْسے سب دنیاداری چھوڑ کر آسمانی خزانے حاصل کرنے چاہئیں۔پھر اْس کا دنیاوی ہمدردیوں، اغراض و مقاصد میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔

5. 458 : 32-8

Christianity causes men to turn naturally from matter to Spirit, as the flower turns from darkness to light. Man then appropriates those things which "eye hath not seen nor ear heard." Paul and John had a clear apprehension that, as mortal man achieves no worldly honors except by sacrifice, so he must gain heavenly riches by forsaking all worldliness. Then he will have nothing in common with the worldling’s affections, motives, and aims.

6۔ 252 :15۔23 (تا۔)،31۔8

مادے کی حِس کا جھوٹا ثبوت نہایت موثر انداز سے روح کی گواہی کی مخالفت کرتا ہے۔مادے کی حِس خود کی آواز کو حقیقت کی شدت کے ساتھ اونچا کرتی ہے اور کہتی ہے:

میں مکمل طور پر بے ایمان ہوں، اور انسان یہ جانتا ہے۔ میں دھوکہ دے سکتی، جھوٹ بول سکتی، زناکاری کر سکتی، چوری کر سکتی، قتل کر سکتی اور نرم لہجے کی کمینگی کے ذریعے میں سراغ رسانی سے بچ سکتی ہوں۔ خواہش میں حیوان، جذبے میں فریبی، مقصد میں مکار، میرا مطلب میری زندگی کے مختصر دورانیے کو ایک جشن کا دن بناتے ہوئے۔

روح مخالف گواہی دیتے ہوئے، کہتی ہے:

میں روح ہوں۔ انسان، جس کے حواس روحانی ہیں، میری صورت پر ہے۔وہ لافانی فہم کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ میں لافانی ہوں۔ پاکیزگی کی خوبصورتی، وجود کی کاملیت، ناقابل تسخیر جلال، سب میرے ہیں، کیونکہ میں خدا ہوں۔ میں انسان کو لافانیت دیتی ہوں کیونکہ میں سچائی ہوں۔ میں تمام تر نعمتیں شامل کرتی اور عطا کرتی ہوں، کیونکہ میں محبت ہوں۔ میں، ازل اور ابد سے مبرا، زندگی دیتی ہوں کیونکہ میں زندگی ہوں۔ میں اعلیٰ ہوں اور سب کچھ عطا کرتی ہوں کیونکہ میں شعور ہوں۔ میں ہر چیز کا مواد ہوں، کیونکہ مَیں جو ہوں سومَیں ہوں۔

6. 252 : 15-23 (to .), 31-8

The false evidence of material sense contrasts strikingly with the testimony of Spirit. Material sense lifts its voice with the arrogance of reality and says:

I am wholly dishonest, and no man knoweth it. I can cheat, lie, commit adultery, rob, murder, and I elude detection by smooth-tongued villainy. Animal in propensity, deceitful in sentiment, fraudulent in purpose, I mean to make my short span of life one gala day.

Spirit, bearing opposite testimony, saith:

I am Spirit. Man, whose senses are spiritual, is my likeness. He reflects the infinite understanding, for I am Infinity. The beauty of holiness, the perfection of being, imperishable glory, — all are Mine, for I am God. I give immortality to man, for I am Truth. I include and impart all bliss, for I am Love. I give life, without beginning and without end, for I am Life. I am supreme and give all, for I am Mind. I am the substance of all, because I am that I am.

7۔ 450 :27۔4

کون ایسا ہے جس نے زندگی میں خطرناک عقائد، مواد، اور خدا سے جْدا شعور کو محسوس کیا ہو اور یہ کہہ سکتا ہوکہ ایمان میں کوئی غلطی نہیں ہے؟ حیوانی کشش کے دعوے کو جانتے ہوئے، کہ ساری بدی مادے، بجلی، جانوروں کی فطرت اور نامیاتی حیات کی زندگی، مواد اور شعور کے یقین میں اکٹھی ہوتی ہے، کون اس سے منکر ہو گا کہ یہ وہ غلطیاں ہیں سچائی جن کو نیست کرے گی اور کرنا بھی چاہئے۔مسیحی سائنسدانوں کو مادی دنیا سے باہر نکلنے اور اِس سے دور رہنے کے رسولی حْکم کے متواتر دباؤ میں رہنا چاہئے۔

7. 450 : 27-4

Who, that has felt the perilous beliefs in life, substance, and intelligence separated from God, can say that there is no error of belief? Knowing the claim of animal magnetism, that all evil combines in the belief of life, substance, and intelligence in matter, electricity, animal nature, and organic life, who will deny that these are the errors which Truth must and will annihilate? Christian Scientists must live under the constant pressure of the apostolic command to come out from the material world and be separate.

8۔ 239 :5۔10، 16۔22

اْس دولت، شہرت اور معاشرتی تنظیم کو دور کردیں جن کا خدا کے ترازو میں تنکا برابر وزن بھی نہیں ہے، تو پھر ہمیں اصول کے واضح خیالات ملتے ہیں۔ گروہ بندی کو توڑیں، دولت کو ایمانداری سے ہموار کریں، قابلیت کو حکمت سے آزمائیں تو ہمیں انسانیت کے بہتر خیالات ملتے ہیں۔

ہماری ترقی کا تعین کرنے کے لئے، ہمیں یہ سیکھنا چاہئے کہ ہماری ہمدردیاں کیا مقام رکھتی ہیں اور بطور خدا ہم کسے تسلیم کرتے اور کس کے حْکم کی پیروی کرتے ہیں۔ اگر الٰہی محبت ہمارے لئے قریب تر، عزیز تر اور زیادہ حقیقی بن رہی ہے تو پھر مادہ روح کے سپرد ہورہا ہے۔جن چیزوں کا ہم تعاقب کرتے ہیں اورجس روح کو ہم آشکار کرتے ہیں وہ ہمارے نقطہ نظر کو ظاہرکرتی ہے اور ہمیں دکھاتی ہے کہ ہم کیا فتح کر رہے ہیں۔

8. 239 : 5-10, 16-22

Take away wealth, fame, and social organizations, which weigh not one jot in the balance of God, and we get clearer views of Principle. Break up cliques, level wealth with honesty, let worth be judged according to wisdom, and we get better views of humanity.

To ascertain our progress, we must learn where our affections are placed and whom we acknowledge and obey as God. If divine Love is becoming nearer, dearer, and more real to us, matter is then submitting to Spirit. The objects we pursue and the spirit we manifest reveal our standpoint, and show what we are winning.

9۔ 518 :15۔21

روح کے امیراعلیٰ بھائی چارے میں،ایک ہی اصول یا باپ رکھتے ہوئے، غریبوں کی مدد کرتے ہیں اور مبارک ہے وہ شخص جودوسرے کی بھلائی میں اپنی بھلائی دیکھتے ہوئے، اپنے بھائی کی ضرورت دیکھتا اور پوری کرتا ہے۔ محبت کمزور روحانی خیال کو طاقت، لافانیت اور بھلائی عطا کرتی ہے جو سب میں ایسے ہی روشن ہوتی ہے جیسے شگوفہ ایک کونپل میں روشن ہوتا ہے۔

9. 518 : 15-21

The rich in spirit help the poor in one grand brotherhood, all having the same Principle, or Father; and blessed is that man who seeth his brother's need and supplieth it, seeking his own in another's good. Love giveth to the least spiritual idea might, immortality, and goodness, which shine through all as the blossom shines through the bud.

10۔ 21 :9۔14

اگر شاگرد روحانی طور پر ترقی کر رہا ہے، تو وہ داخل ہونے کی جدجہد کر رہا ہے۔ وہ مادی حِس سے دور ہونے کی مسلسل کوشش کررہا ہے اور روح کی ناقابل تسخیر چیزوں کا متلاشی ہے۔اگر ایماندار ہے تو وہ ایمانداری سے ہی آغاز کرے گا اور آئے دن درست سمت پائے گا جب تک کہ وہ آخر کار شادمانی کے ساتھ اپنا سفر مکمل نہیں کر لیتا۔

10. 21 : 9-14

If the disciple is advancing spiritually, he is striving to enter in. He constantly turns away from material sense, and looks towards the imperishable things of Spirit. If honest, he will be in earnest from the start, and gain a little each day in the right direction, till at last he finishes his course with joy.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████