اتوار 12 مئی ، 2019 |

اتوار 12 مئی ، 2019



مضمون۔ آدم اور گناہگار انسان

SubjectAdam and Fallen Man

سنہری متن:سنہری متن: زبور 34: 22آیت

’’خداوند اپنے بندوں کی جان کا فدیہ دیتا ہے اور جو اْس پر توکل کرتے ہیں اْن میں سے کوئی مجرم نہ ٹھہرے گا۔‘‘



Golden Text: Psalm 34 : 22

The Lord redeemeth the soul of his servants: and none of them that trust in him shall be desolate.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور103: 1تا5آیات • زبور 19: 14 آیت


1۔ میری جان خداوند کو مبارک کہہ اور جو کچھ مجھ میں ہے اْس کے قدوس نام کو مبارک کہے۔

2۔ اے میری جان خداوند کو مبارک کہہ اور اْس کی کسی نعمت کو فراموش نہ کر۔ 

3۔ وہ تیری ساری بدکاری بخشتا ہے۔ وہ تجھے تمام بیماریوں سے شفا دیتا ہے۔

4۔ وہ تیری جان ہلاکت سے بچاتا ہے ۔ وہ تیرے سر پر شفقت و رحمت کا تاج رکھتا ہے۔

5۔ وہ تجھے عمر بھر اچھی اچھی چیزوں سے آسودہ کرتا ہے ۔ تْو عقاب کی مانند از سرے نو جوان ہوتا ہے۔

14۔ میرے منہ کا کلام اور میرے دل کا خیال تیرے حضور مقبول ٹھہرے۔ اے خداوند اے میرے چٹان اور میرے فدیہ دینے ولے۔

Responsive Reading: Psalm 103 : 1-5 ; Psalm 19 : 14

1.     Bless the Lord, O my soul: and all that is within me, bless his holy name.

2.     Bless the Lord, O my soul, and forget not all his benefits:

3.     Who forgiveth all thine iniquities; who healeth all thy diseases;

4.     Who redeemeth thy life from destruction; who crowneth thee with lovingkindness and tender mercies;

5.     Who satisfieth thy mouth with good things; so that thy youth is renewed like the eagle’s.

14.     Let the words of my mouth, and the meditation of my heart, be acceptable in thy sight, O Lord, my strength, and my redeemer.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ یسعیاہ 52 باب 9، 10 آیات

9۔ اے یروشلیم کے ویرانو! خوشی سے للکارو مل کر نغمہ سرائی کرو کیونکہ خداوند نے اپنی قوم کو دلاسا دیا اْس نے یروشلیم کا فدیہ دیا۔

10۔ خداوند نے پاک بازو تمام قوموں کی آنکھوں کے سامنے ننگا کیا اور سر زمین سراسر ہمارے خدا کی نجات کو دیکھے گی۔

1. Isaiah 52 : 9, 10

9     Break forth into joy, sing together, ye waste places of Jerusalem: for the Lord hath comforted his people, he hath redeemed Jerusalem.

10     The Lord hath made bare his holy arm in the eyes of all the nations; and all the ends of the earth shall see the salvation of our God.

2۔ پیدائش 1باب 27 (خدا) ، 28 (تا :)آیات

27۔ اور خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا ۔ خدا کی صورت پر اْس کو پیدا کیا۔ نر و ناری اْن کو پیدا کیا۔ 

28۔ خدا نے اْن کو برکت دی اور کہا پھلو اور بڑھو اور زمین کو معمور و محکوم کرو ۔

2. Genesis 1 : 27 (God), 28 (to :)

27     God created man in his own image, in the image of God created he him; male and female created he them.

28     And God blessed them, and God said unto them, Be fruitful, and multiply, and replenish the earth, and subdue it:

3۔ پیدائش 2باب6تا8 (تا؛) ، 16، 17، 21، 22 آیات

6۔ بلکہ زمین سے کْہر اٹھتی تھی اورتمام روئے زمین کر سیراب کرتی تھی ۔

7۔ اور خداوند خدا نے زمین کی مٹی سے انسان کو بنایا اور اْس کے نتھنوں میں زندگی کا دم پھونکا تو انسان جیتی جان ہوا۔

8۔ اور خداوند خدا نے مشرق کی طرف عدن میں ایک باغ لگایا۔

16۔ اور خداوند خدا نے آدم کو حْکم دے کر کہا کہ تْو باغ کے ہر درخت کا پھل بے روک ٹوک کھا سکتا ہے۔

17۔ لیکن نیک و بد کی پہچان کے درخت کا پھل کبھی نہ کھانا کیونکہ جس روز تْو نے اْس میں سے کھایا تْو مرا۔

21۔ اور خداوند خدا نے آدم پر گہری نیند بھیجی اور وہ سو گیا اور اْس نے اْس کی پسلیوں میں سے ایک کو نکال لیا اور اْس کی جگہ گوشت بھر دیا۔

22۔ اور خداوند خدا اْس پسلی سے جو اْس نے آدم سے نکالی تھی ایک عورت بنا کر اْسے آدم کے پاس لایا۔

3. Genesis 2 : 6-8 (to ;), 16, 17, 21, 22

6     But there went up a mist from the earth, and watered the whole face of the ground.

7     And the Lord God formed man of the dust of the ground, and breathed into his nostrils the breath of life; and man became a living soul.

8     And the Lord God planted a garden eastward in Eden;

16     And the Lord God commanded the man, saying, Of every tree of the garden thou mayest freely eat:

17     But of the tree of the knowledge of good and evil, thou shalt not eat of it: for in the day that thou eatest thereof thou shalt surely die.

21     And the Lord God caused a deep sleep to fall upon Adam, and he slept: and he took one of his ribs, and closed up the flesh instead thereof;

22     And the rib, which the Lord God had taken from man, made he a woman, and brought her unto the man.

4۔ پیدائش 3باب1 تا6، 9، 12، 13آیات

1۔ سانپ کل دشتی جانوروں سے جن کو خداوند خدا نے بنایا تھا چالاک تھا اور اس نے عورت سے کہا کیا واقعی خدا نے کہا ہے کہ باغ کے کسی درخت کا پھل تم نہ کھانا؟

2۔ عورت نے سانپ سے کہا کہ باغ کے درختوں کا پھل تو ہم کھاتے ہیں۔ 

3۔ پر جو درخت باغ کے بیچ میں ہے اُسکے پھل کی بابت خدا نے کہا ہے کہ تم نہ تو اُسے کھا نا اور نہ چھونا ورنہ مر جاؤ گے۔ 

4۔تب سانپ نے عورت سے کہا کہ تم ہر گز نہ مرو گے۔ 

5۔بلکہ خدا جانتا ہے کہ جس دن تم اُسے کھاؤ گے تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی اور تم خدا کے مانند نیک و بد کے جاننے والے بن جاؤ گے۔ 

6۔ عورت نے جو دیکھا کہ وہ درخت کھانے کے لئے اچھا اور آنکھوں کو خوشنما معلوم ہوتا ہے اور عقل بخشنے کے لئے خوب ہے تو اُسکے پھل میں سے لیا اور کھایا اور اپنے شوہر کو بھی دیا اور اُس نے کھایا۔

9۔ تب خداوند خدا نے آدم کو پکارا اور اُس سے کہا کہ تو کہاں ہے؟

12۔ آدم نے کہا جس عورت کو تو نے میرے ساتھ کیا ہے اُس نے مجھے اُس درخت کا پھل دیا اور میں نے کھایا۔ 

13۔ تب خدا وند خدا نے عورت سے کہا کہ تو نے یہ کیا کیا؟ عورت نے کہا کہ سانپ نے مجھ کو بہکایا تو میں نے کھایا۔

4. Genesis 3 : 1-6, 9, 12, 13

1     Now the serpent was more subtil than any beast of the field which the Lord God had made. And he said unto the woman, Yea, hath God said, Ye shall not eat of every tree of the garden?

2     And the woman said unto the serpent, We may eat of the fruit of the trees of the garden:

3     But of the fruit of the tree which is in the midst of the garden, God hath said, Ye shall not eat of it, neither shall ye touch it, lest ye die.

4     And the serpent said unto the woman, Ye shall not surely die:

5     For God doth know that in the day ye eat thereof, then your eyes shall be opened, and ye shall be as gods, knowing good and evil.

6     And when the woman saw that the tree was good for food, and that it was pleasant to the eyes, and a tree to be desired to make one wise, she took of the fruit thereof, and did eat, and gave also unto her husband with her; and he did eat.

9     And the Lord God called unto Adam, and said unto him, Where art thou?

12     And the man said, The woman whom thou gavest to be with me, she gave me of the tree, and I did eat.

13     And the Lord God said unto the woman, What is this that thou hast done? And the woman said, The serpent beguiled me, and I did eat.

5۔ لوقا 4باب1 (تا پہلا) ، آیت

1۔ پھر یسوع روح القدس سے بھرا ہوا یردن سے لوٹا۔

5. Luke 4 : 1 (to 1st ,)

1     And Jesus being full of the Holy Ghost returned from Jordan,

6۔ لوقا 7باب36تا50 آیات

36۔ پھر کسی فریسی نے اُس سے دخواست کی کہ میرے ساتھ کھانا کھا۔ پس وہ اُس فریسی کے گھر جا کر کھانا کھانے بیٹھا۔ 

37۔ تو دیکھو ایک بدچلن عورت جو اُس شہر کی تھی۔ یہ جان کر کہ وہ اُس فریسی کے گھر میں کھانا کھانے بیٹھا ہے سنگ مر مر کے عطردان میں عطر لائی۔ 

38۔ اور اُس کے پاؤں کے پاس روتی ہوئی پیچھے کھڑی ہوکر اُس کے پاؤں آنسوؤں سے بھگونے لگی اور اپنے سر کے بالوں سے اُن کو پونچھا اور اُس کے پاؤں بہت چومے اور ان پر عطر ڈالا۔ 

39۔ اس کی دعوت کرنے والا فریسی یہ دیکھ کر اپنے جی میں کہنے لگا کہ اگر یہ شخص نبی ہوتا تو جانتا کہ جو اُسے چھوتی ہے وہ کون اور کیسی عورت ہے کیونکہ بدچلن ہے۔ 

40۔ یسوع نے جواب میں اُس سے کہا اے شمعون مجھے تجھ سے کچھ کہنا ہے۔ اُس نے کہا اے استاد کہہ۔ 

41۔ کسی ساہوکار کے دو قرضدار تھے۔ ایک پانچ سو دینار کا دوسرا پچاس کا۔ 

42۔ جب ان کے پاس ادا کرنے کو کچھ نہ رہا تو اس نے دونوں کو بخش دیا۔ پس اُن میں سے کون اُس سے زیادہ محبت رکھے گا؟ 

43۔ شمعون نے جواب میں اُس سے کہا میری دانست میں وہ جسے اُس نے زیادہ بخشا۔ اُس نے اُس سے کہا تو نے ٹھیک فیصلہ کیا۔ 

44۔ اور اُس عورت کی طرف پھر کر اُس نے شمعون سے کہا کیا تو اس عورت کو دیکھتا ہے؟ میں تیرے گھر میں آیا۔ تونے میرے پاؤں دھونے کو پانی نہ دیا مگر اِس نے میرے پاؤں آنسوؤں سے بھگو دئے اور اپنے بالوں سے پونچھے۔ 

45۔ تونے مجھ کو بوسہ نہ دیا مگر اِس نے جب سے میں آیا ہوں میرے پاؤں چومنا نہ چھوڑا۔ 

46۔ تونے میرے سر پر تیل نہ ڈالا مگر اِس نے میرے پاؤں پر عطر ڈالا ہے۔ 

47۔ اسی لئے میں تجھ سے کہتا ہوں کہ اس کے گناہ جو بہت تھے معاف ہوئے کیونکہ اِس نے بہت محبت کی مگر جس کے تھوڑے گناہ معاف ہوئے وہ تھوڑی محبت کرتا ہے۔ 

48۔ اور اُس عورت سے کہا تیرے گناہ معاف ہوئے۔ 

49۔ اِس پر وہ جو اُس کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھے تھے اپنے جی میں کہنے لگے کہ یہ کون ہے جو گناہ بھی معاف کرتا ہے؟ 

50۔ مگر اُس نے عورت سے کہا تیرے ایمان نے تجھے بچا لیا ہے۔ سلامت چلی جا۔

6. Luke 7 : 36-50

36     And one of the Pharisees desired him that he would eat with him. And he went into the Pharisee’s house, and sat down to meat.

37     And, behold, a woman in the city, which was a sinner, when she knew that Jesus sat at meat in the Pharisee’s house, brought an alabaster box of ointment,

38     And stood at his feet behind him weeping, and began to wash his feet with tears, and did wipe them with the hairs of her head, and kissed his feet, and anointed them with the ointment.

39     Now when the Pharisee which had bidden him saw it, he spake within himself, saying, This man, if he were a prophet, would have known who and what manner of woman this is that toucheth him: for she is a sinner.

40     And Jesus answering said unto him, Simon, I have somewhat to say unto thee. And he saith, Master, say on.

41     There was a certain creditor which had two debtors: the one owed five hundred pence, and the other fifty.

42     And when they had nothing to pay, he frankly forgave them both. Tell me therefore, which of them will love him most?

43     Simon answered and said, I suppose that he, to whom he forgave most. And he said unto him, Thou hast rightly judged.

44     And he turned to the woman, and said unto Simon, Seest thou this woman? I entered into thine house, thou gavest me no water for my feet: but she hath washed my feet with tears, and wiped them with the hairs of her head.

45     Thou gavest me no kiss: but this woman since the time I came in hath not ceased to kiss my feet.

46     M     y head with oil thou didst not anoint: but this woman hath anointed my feet with ointment.

47     Wherefore I say unto thee, Her sins, which are many, are forgiven; for she loved much: but to whom little is forgiven, the same loveth little.

48     And he said unto her, Thy sins are forgiven.

49     And they that sat at meat with him began to say within themselves, Who is this that forgiveth sins also?

50     And he said to the woman, Thy faith hath saved thee; go in peace.

7۔ 1پطرس 1باب18 (تم جانتے ہو) تا 21 آیات

18۔ ۔۔۔تم جانتے ہو کہ تمہار ا نکماچال چلن جو باپ دادا سے چلا آتا تھا اْس سے تمہاری خلاصی فانی چیزوں یعنی سونے چاندی کے ذریعے سے نہیں ہوئی۔

19۔بلکہ ایک بے عیب اور بیداغ برے ۔ بلکہ مسیح کے بیش قیمت خون سے۔

20۔اْس کا علم تو بنائے عالم سے پیشتر سے تھا مگر ظہور اخیری زمانے میں تمہاری خاطرہوا۔

21۔کہ اْس کے وسیلہ سے ایمان لاتے ہو جس نے اْس کو مردوں میں سے جلایا او ر جلال بخشا تاکہ تمہارا ایمان اور امید خدا پر ہو۔

7. I Peter 1 : 18 (ye know)-21

18     …ye know that ye were not redeemed with corruptible things, as silver and gold, from your vain conversation received by tradition from your fathers;

19     But with the precious blood of Christ, as of a lamb without blemish and without spot:

20     Who verily was foreordained before the foundation of the world, but was manifest in these last times for you,

21     Who by him do believe in God, that raised him up from the dead, and gave him glory; that your faith and hope might be in God.

8۔ 1کرنتھیوں 15باب22آیت

22۔ اور جیسے سب آدم میں مرتے ہیں ویسے ہی سب مسیح میں زندہ کئے جائیں گے۔

8. I Corinthians 15 : 22

22     For as in Adam all die, even so in Christ shall all be made alive.



سائنس اور صح


1۔ 591: 5۔7

انسان۔ لا محدود روح کا مرکب خیال؛ خدا کی روحانی صورت اور شبیہ؛ عقل کا مکمل نمائندہ کار ہے۔

1. 591 : 5-7

Man.The compound idea of infinite Spirit; the spiritual image and likeness of God; the full representation of Mind.

2۔ 258: 9۔ 24

انسان اپنے اندر ایک دماغ رکھتے ہوئے مادی صورت سے کہیں بڑھ کر ہے، جسے لا فانی رہنے کے لئے اپنے ماحول سے محفوظ رہنا چاہئے۔ انسان ابدیت کی عکاسی کرتا ہے، اور یہ عکس خدا کا حقیقی خیال ہے۔ 

اس کی وسعت اورلامحدود بنیادوں سے اونچی سے اونچی پرواز کو بڑھاتے ہوئے خدا انسان میں لامحدود خیال کو ہمیشہ ظاہر کرتا ہے ۔ عقل اْس سب کو ایاں کرتی ہے جو سچائی کی ابدیت میں پایا جاتا ہے۔ ہم حقیقی الٰہی صورت اور شبیہ سے متعلق اتنا نہیں جانتے جتنا ہم خدا سے متعلق جانتے ہیں۔

لامحدود اصول کی عکاسی لامحدود خیال اور روحانی انفرادیت کے وسیلہ ہوتی ہے، لیکن وہ مادہ جو نام نہاد حواس ہیں انہیں یا اصل یا اس کے خیال سے بالکل آگاہی نہیں ہے۔ انسانی قابلیتیں اس تناسب سے بڑھائی یا کامل کی جاتی ہیں جس سے انسان خدا اور انسان سے متعلق حقیقی نظریہ حاصل کرتا ہے۔

2. 258 : 9-24

Man is more than a material form with a mind inside, which must escape from its environments in order to be immortal. Man reflects infinity, and this reflection is the true idea of God.

God expresses in man the infinite idea forever developing itself, broadening and rising higher and higher from a boundless basis. Mind manifests all that exists in the infinitude of Truth. We know no more of man as the true divine image and likeness, than we know of God.

The infinite Principle is reflected by the infinite idea and spiritual individuality, but the material so-called senses have no cognizance of either Principle or its idea. The human capacities are enlarged and perfected in proportion as humanity gains the true conception of man and God.

3۔ 502: 9۔ 14 (تا۔)

روحانی طور پر سمجھتے ہوئے، پیدا ئش کی کتاب خدا کی غلط صورت کی تاریخ ہے جسے گناہ گار بشر کا نام دیا گیا ہے۔صحیح موازنہ کیا جائے تو ہستی کی یہ گمراہی خدا کے موزوں عکس اور انسان کی روحانی اصلیت کو بیان کرتی ہے، جیسا کہ پیدائش کے پہلے باب میں پیش کیا گیا ہے۔

3. 502 : 9-14 (to .)

Spiritually followed, the book of Genesis is the history of the untrue image of God, named a sinful mortal. This deflection of being, rightly viewed, serves to suggest the proper reflection of God and the spiritual actuality of man, as given in the first chapter of Genesis.

4۔ 92: 11۔ 20

پرانی کلام سے متعلق تصویروں میں ہم ایک سانپ کو پہچان کے درخت کے گرد مرغولہ دار لپٹا ہوا اور آدم اور حوا سے باتیں کرتا ہوا دیکھتے ہیں۔ یہ سانپ کو ہمارے پہلے والدین کے ساتھ نیکی اور بدی سے متعلق بتاتے ہوئے پیش کرتا ہے، جوروح کی بجائے مادے یا بدی سے حاصل ہونے والا علم ہے۔ ترسیمی اعتبار سے یہ تصویر اب بھی بہت موزوں ہے، کیونکہ فانی انسان ، خدا کی نقل اتارنے والا آدم کا عام نظریہ انسانی علم یا نفس کا ایک نتیجہ ہے، جو مادی حس کی محض ایک شاخ ہے۔ 

4. 92 : 11-20

In old Scriptural pictures we see a serpent coiled around the tree of knowledge and speaking to Adam and Eve. This represents the serpent in the act of commending to our first parents the knowledge of good and evil, a knowledge gained from matter, or evil, instead of from Spirit. The portrayal is still graphically accurate, for the common conception of mortal man — a burlesque of God’s man — is an outgrowth of human knowledge or sensuality, a mere offshoot of material sense.

5۔ 481: 12۔ 23

علم کا ممنوع پھل، جس کے خلاف حکمت انسان کو خبردار کرتی ہے، غلطی کی شہادت ہے، جو موت کے رحم و کرم پر اپنا وجود ظاہر کرتی ہے،اور نیکی اور بدی کو گھْل مل جانے کے قابل بناتی ہے۔ اس ’’نیک و بدن کی پہچان کے درخت ‘‘ سے متعلق کلام کی یہ اہمیت ہے، جس کے بارے میں یہ کہا گیا ہے: ’’جس روز تْو نے اْس میں سے کھایا تْو مرا۔‘‘انسانی مفروضات پہلے بیماری، گناہ اور موت کی حقیقت کو سمجھتے ہیں اور پھر ان بدیوں کی ضرورت کو ان کی تسلیم شْدہ اصلیت کے باعث سجھتے ہیں۔یہ انسانی فیصلے تمام تر اختلافات کو بہم پہنچانے والے ہیں۔

5. 481 : 12-23

The forbidden fruit of knowledge, against which wisdom warns man, is the testimony of error, declaring existence to be at the mercy of death, and good and evil to be capable of commingling. This is the significance of the Scripture concerning this “tree of the knowledge of good and evil,” — this growth of material belief, of which it is said: “In the day that thou eatest thereof thou shalt surely die.” Human hypotheses first assume the reality of sickness, sin, and death, and then assume the necessity of these evils because of their admitted actuality. These human verdicts are the procurers of all discord.

6۔ 306: 30۔6

خدا کا انسان، جسے روحانی طور پر خلق کیا گیا ہے، مادی یا فانی نہیں ہے۔

تمام تر انسانی اختلاف کی ولدیت آدم کا خواب تھا، گہری نیند، جس میں زندگی اور اْس ذہانت کا بھرم پیدا ہوا جو مادے سے اخذ ہوا اور گزرا۔یہ مشرکانہ غلطی، یا نام نہاد سانپ ابھی بھی سچائی کے مخالف سے اصرار کرتا اور کہتا ہے، ’’تم خدا کی مانند ہو جاؤ گے؛‘‘ یعنی، میں غلطی کو سچائی کی مانند حقیقی اور ابدی بنا دوں گا۔

6. 306 : 30-6

God’s man, spiritually created, is not material and mortal.

The parent of all human discord was the Adam-dream, the deep sleep, in which originated the delusion that life and intelligence proceeded from and passed into matter. This pantheistic error, or so-called serpent, insists still upon the opposite of Truth, saying, “Ye shall be as gods;” that is, I will make error as real and eternal as Truth.

7۔ 533: 26۔ 7

اْس کی غلطی سے متعلق جراح کرتے ہوئے، سچائی نے سب سے پہلے عورت کو اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے پایا۔ وہ کہتی ہے، ’’سانپ نے مجھے فریب دیا، اور میں نے کھایا؛‘‘ جہاں تک حلیم ندامت کا تعلق ہے، ’’نہ انسان نہ ہی خدا میری غلطی کا ذمہ دار ہے۔‘‘ وہ پہلے ہی سمجھ چکی تھی کہ جسمانی حس سانپ تھا۔ لہٰذہ انسان کی مادی اصلیت پر یقین کو سب سے پہلے وہی ترک کرنے والی اور روحانی تخلیق کو سمجھنے والی تھی۔اس نے بعد ازیں عورت کو یسوع کی ماں بننے قبر سے جی اٹھنے والے نجات دہندہ کو دیکھنے کے قابل بنایا، جو جلد ہی خدا کی تخلیق کا نا مرنے والا انسان بن کر ظاہر ہونے کو تھا۔ اسی نے عورت کو اس کلام کی سچائی کے ساتھ تشریح کرنے کے قابل بنایا، جو انسان کی روحانی اصلیت کو ظاہر کرتی ہے۔

7. 533 : 26-7

Truth, cross-questioning man as to his knowledge of error, finds woman the first to confess her fault. She says, “The serpent beguiled me, and I did eat;” as much as to say in meek penitence, “Neither man nor God shall father my fault.” She has already learned that corporeal sense is the serpent. Hence she is first to abandon the belief in the material origin of man and to discern spiritual creation. This hereafter enabled woman to be the mother of Jesus and to behold at the sepulchre the risen Saviour, who was soon to manifest the deathless man of God’s creating. This enabled woman to be first to interpret the Scriptures in their true sense, which reveals the spiritual origin of man.

8۔ 282: 28۔ 3

جو کچھ بھی انسان کے گناہ یا خدا کے مخالف یا خدا کی غیر موجودگی کی طرف اشارہ کرتا ہے، وہ آدم کا خواب ہے، جو نہ ہی عقل ہے اورنہ انسان ہے، کیونکہ یہ باپ کا اکلوتا نہیں ہے۔ تقلیب کا اصول غلطی میں سے اس کے مخالف یعنی سچائی کا نتیجہ نکالتا ہے،لیکن سچائی وہ روشنی ہے جو غلطی کا خاتمہ کرتی ہے۔ جب انسان روح کو سمجھنا شروع کرتے ہیں، وہ اس یقین کو ترک کر دیتے ہیں کہ خدا سے الگ کوئی سچی وجودیت پائی جاتی ہے۔

8. 282 : 28-3

Whatever indicates the fall of man or the opposite of God or God’s absence, is the Adam-dream, which is neither Mind nor man, for it is not begotten of the Father. The rule of inversion infers from error its opposite, Truth; but Truth is the light which dispels error. As mortals begin to understand Spirit, they give up the belief that there is any true existence apart from God.

9۔ 151: 23۔ 30

الٰہی عقل جس نے انسان کو بنایا خود کی صورت اور شبیہ کو قائم رکھتی ہے۔ انسانی عقل خدا کی مخالف ہے اور اسے ملتوی ہونا چاہئے جیسا کہ مقدس پولوس واضح کرتا ہے۔ وہ سب جو در حقیقت موجود ہے وہ الٰہی عقل اور اس کا خیال ہے، اور اس عقل میں تمام ہستی ہم آہنگ اور ابدی پائی جاتی ہے۔سیدھا اور تنگ راستہ اس حقیقت کو دیکھنا اور تسلیم کرنا ، اس طاقت کو ماننا اور سچائی کی راہنمائی پر چلنا ہے۔

9. 151 : 23-30

The divine Mind that made man maintains His own image and likeness. The human mind is opposed to God and must be put off, as St. Paul declares. All that really exists is the divine Mind and its idea, and in this Mind the entire being is found harmonious and eternal. The straight and narrow way is to see and acknowledge this fact, yield to this power, and follow the leadings of truth.

10۔ 259: 6 (میں) ۔ 21

الٰہی سائنس میں، انسان خدا کی حقیقی شبیہ ہے۔ الٰہی فطرت کو یسوع مسیح کو بہترین طریقے سے بیان کیا گیا ہے، جس نے انسانوں پر خدا کی مناسب تر عکاسی ظاہر کی اورکمزور سوچ کے نمونے کی سوچ سے بڑی معیارِ زندگی فراہم کی ، یعنی ایسی سوچ جو انسان کے گرنے، بیماری، گناہ کرنے اور مرنے کو ظاہر کرتی ہے۔ سائنسی ہستی اور الٰہی شفا کی مسیح جیسی سمجھ میں کامل اصول اور خیال، کامل خدا اور کامل انسان ، بطور سوچ اور اظہار کی بنیاد شامل ہوتے ہیں۔ 

اگر انسان کبھی کامل تھا لیکن اب اپنی کاملیت کھو بیٹھا ہے تو پھر بشر خدا کی شبیہ کا عکس اپنے اندر کبھی نہ رکھتے۔ کھوئی ہوئی شبیہ کوئی شبیہ نہیں ہے۔ الٰہی عکس میں حقیقی مشابہت کھو نہیں سکتی۔ اسے سمجھتے ہوئے ، یسوع نے کہا، ’’پس چاہئے کہ تم کامل ہو جیسا تمہارا آسمانی باپ کامل ہے۔‘‘

10. 259 : 6 (In)-21

In divine Science, man is the true image of God. The divine nature was best expressed in Christ Jesus, who threw upon mortals the truer reflection of God and lifted their lives higher than their poor thought-models would allow, — thoughts which presented man as fallen, sick, sinning, and dying. The Christlike understanding of scientific being and divine healing includes a perfect Principle and idea, — perfect God and perfect man, — as the basis of thought and demonstration.

If man was once perfect but has now lost his perfection, then mortals have never beheld in man the reflex image of God. The lost image is no image. The true likeness cannot be lost in divine reflection. Understanding this, Jesus said: “Be ye therefore perfect, even as your Father which is in heaven is perfect.”

11۔ 269: 3۔8

پہلے سے آخری تک عقل اور مادے کی فرضی بقائے باہمی اور اچھائی اور بدی کی آمیزش سانپ کے فلسفے کا نتیجہ ہیں۔ یسوع کے مظاہر اناج کے دانوں سے بھوسے کو چھانٹتے ہیں اور اچھائی کی حقیقت اور اتحاد کو، غیر حقیقت کو، بدی کے عدم کو آشکار کرتے ہیں۔

11. 269 : 3-8

From first to last the supposed coexistence of Mind and matter and the mingling of good and evil have resulted from the philosophy of the serpent. Jesus’ demonstrations sift the chaff from the wheat, and unfold the unity and the reality of good, the unreality, the nothingness, of evil.

12۔ 171: 4۔ 8 (تا چوتھا،)

مادیت کے روحانی مخالف کی فراست کے وسیلہ ، حتیٰ کہ مسیح، سچائی کے وسیلہ، انسان بہشت کے دروازوں کو الٰہی سائنس کی چابیوں سے دوبارہ کھولے گا جن سے متعلق انسان سمجھتا ہے کہ وہ بند ہو چکے ہیں، اور خود کو بے گناہ، راست، پاک اور آزاد پائے گا۔

12. 171 : 4-8 (to 4th ,)

Through discernment of the spiritual opposite of materiality, even the way through Christ, Truth, man will reopen with the key of divine Science the gates of Paradise which human beliefs have closed, and will find himself unfallen, upright, pure, and free.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████