اتوار 13دسمبر، 2020



مضمون۔ خدا محافظِ انسان

SubjectGod the Preserver of Man

سنہری متن: امثال 30 باب 5 آیت

”خدا کا ہر ایک سخن پاک ہے۔ وہ اْن کی سِپر ہے جن کا توکل اْس پر ہے۔“



Golden Text: Proverbs 30 : 5

Every word of God is pure: he is a shield unto them that put their trust in him.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور 36: 5 تا10 آیات


5۔ اے خداوند! آسمان میں تیری شفقت ہے۔ تیری وفاداری افلاک تک بلند ہے

6۔ تیری صداقت خدا کے پہاڑوں کی مانند ہے تیرے احکام نہایت عمیق ہیں۔ اے خداوند! تْو انسان اور حیوان دونوں کو محفوظ رکھتا ہے۔

7۔ اے خدا! تیری شفقت کیا ہی بیش قیمت ہے بنی آدم تیرے بازوؤں کے سایہ میں پناہ لیتے ہیں۔

8۔ وہ تیرے گھرکی نعمتوں سے خوب آسودہ ہوں گے۔ تْو اْن کو اپنی خوشنودی کے دریا میں سے پلائے گا۔

9۔ کیونکہ زندگی کا چشمہ تیرے پاس ہے۔ تیرے نور کی بدولت ہم روشنی دیکھیں گے۔

10۔ تیرے پہچاننے والوں پر تیری شفقت دائمی ہو اور راست دلوں پر تیری صداقت۔

Responsive Reading: Psalm 36 : 5-10

5.     Thy mercy, O Lord, is in the heavens; and thy faithfulness reacheth unto the clouds.

6.     Thy righteousness is like the great mountains; thy judgments are a great deep: O Lord, thou preservest man and beast.

7.     How excellent is thy lovingkindness, O God! therefore the children of men put their trust under the shadow of thy wings.

8.     They shall be abundantly satisfied with the fatness of thy house; and thou shalt make them drink of the river of thy pleasures.

9.     For with thee is the fountain of life: in thy light shall we see light.

10.     O continue thy lovingkindness unto them that know thee; and thy righteousness to the upright in heart.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ زبور 121:1تا8 آیات

1۔ میں اپنی آنکھیں پہاڑ کی طرف اٹھاؤں گا میری کمک کہاں سے آئے گی؟

2۔ میری کمک خداوند سے ہے جس نے آسمان اور زمین کو بنایا۔

3۔ وہ تیرے پاؤں کو پھسلنے نہ دے گا۔ تیرا محافظ اونگھنے کا نہیں۔

4۔ دیکھ! اسرائیل کا محافظ نہ اونگھے گا نہ سوئے گا۔

5۔ خداوند تیرا محافظ ہے۔ خداوند تیرے داہنے ہاتھ پر تیرا سائبان ہے۔

6۔ نہ آفتاب دن کو تجھے ضرر پہنچائے گا نہ مہتاب رات کو۔

7۔ خداوند ہر بلا سے تجھے محفوظ رکھے گا۔اور تیری جان کو محفوط رکھے گا۔

8۔ خداوند تیری آمد و رفت میں اب سے ہمیشہ تک تیری حفاظت کرے گا۔

1. Psalm 121 : 1-8

1     I will lift up mine eyes unto the hills, from whence cometh my help.

2     My help cometh from the Lord, which made heaven and earth.

3     He will not suffer thy foot to be moved: he that keepeth thee will not slumber.

4     Behold, he that keepeth Israel shall neither slumber nor sleep.

5     The Lord is thy keeper: the Lord is thy shade upon thy right hand.

6     The sun shall not smite thee by day, nor the moon by night.

7     The Lord shall preserve thee from all evil: he shall preserve thy soul.

8     The Lord shall preserve thy going out and thy coming in from this time forth, and even for evermore.

2۔ 2 تواریخ 14 باب 2 (آسا) تا 5، 8 تا13 آیات

2۔ اور آسا نے وہی کیا جو خداوند اْس کے خدا کے نزدیک بھلا اور ٹھیک تھا۔

3۔ کیونکہ اْس نے اجنبی مذبحوں اور اونچے مقاموں کو دور کیا اور لاٹوں کو گرا دیا اور یسیرتوں کو کاٹ ڈالا۔

4۔ اور یہوداہ کو حکم کیا کہ خداوند اپنے باپ دادا کے خدا کے طالب ہوں اور شریعت اور فرمان پر عمل کریں۔

5۔ اور اْس نے یہوداہ کے سب شہروں میں سے اونچے مقاموں اور سورج کی مورتوں کو دور کر دیا اور اْس کے سامنے سلطنت میں امن رہا۔

8۔ اور آسا کے پاس بنی یہوداہ کے تین لاکھ آدمیوں کا لشکر تھا جو ڈھال اور بالا اْٹھاتے تھے اور بنیامین کے دو لاکھ اسی ہزار تھے جو ڈھال اْٹھاتے اور تیر چلاتے تھے۔ یہ سب زبردست سورما تھے۔

9۔ اور اْن کے مقابلے میں زارح کْوشی دس لاکھ کی فوج اور تین سو رتھوں کو لے کر نکلا اور مریسہ میں آیا۔

10۔ اور آسا اْس کے مقابلے کو گیا اور انہوں نے مریسہ کے بیچ صفاتہ کی وادی میں جنگ کے لئے صف باندھی۔

11۔ اور آسا نے خداوند اپنے خدا سے فریاد کی اور کہا اے خداوند زور آور اور کمزور کے مقابلے میں مدد کرنے کو تیرے سوا اور کوئی نہیں۔ اے خداوند ہمارے خدا تْو ہماری مدد کر کیونکہ ہم تجھ پر بھروسہ رکھتے ہیں اور تیرے نام سے اِس انبوہ کا سامنا کرنے آئے ہیں۔ تْو اے خداوند ہمارا خدا ہے۔ انسان تیرے مقابلے میں غالب ہونے نہ پائے

12۔ پس خداوند نے آسا اوریہوداہ کے آگے کْوشیوں کو مارا اور کْوشی بھاگ گئے۔

13۔ اور آسا اور اْس کے لوگوں نے اْن کو جرار تک رگیدا اور کْوشیوں میں سے اتنے قتل ہوئے کہ وہ پھر سنبھل نہ سکے کیونکہ وہ خداوند اور اْس کے لشکر کے آگے ہلاک ہوئے اور وہ بہت سی لْوٹ لے آئے۔

2. II Chronicles 14 : 2 (Asa)-5, 8-13

2     Asa did that which was good and right in the eyes of the Lord his God:

3     For he took away the altars of the strange gods, and the high places, and brake down the images, and cut down the groves:

4     And commanded Judah to seek the Lord God of their fathers, and to do the law and the commandment.

5     Also he took away out of all the cities of Judah the high places and the images: and the kingdom was quiet before him.

8     And Asa had an army of men that bare targets and spears, out of Judah three hundred thousand; and out of Benjamin, that bare shields and drew bows, two hundred and fourscore thousand: all these were mighty men of valour.

9     And there came out against them Zerah the Ethiopian with an host of a thousand thousand, and three hundred chariots; and came unto Mareshah.

10     Then Asa went out against him, and they set the battle in array in the valley of Zephathah at Mareshah.

11     And Asa cried unto the Lord his God, and said, Lord, it is nothing with thee to help, whether with many, or with them that have no power: help us, O Lord our God; for we rest on thee, and in thy name we go against this multitude. O Lord, thou art our God; let not man prevail against thee.

12     So the Lord smote the Ethiopians before Asa, and before Judah; and the Ethiopians fled.

13     And Asa and the people that were with him pursued them unto Gerar: and the Ethiopians were overthrown, that they could not recover themselves; for they were destroyed before the Lord, and before his host; and they carried away very much spoil.

3۔ یسعیاہ 41 باب10تا13 آیات

10۔ تْو مت ڈر کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں۔ ہراساں نہ ہو کیونکہ مَیں تیرا خدا ہوں مَیں تجھے زور بخشوں گا۔مَیں یقیناً تیری مدد کروں گا اور مَیں اپنی صداقت کے دہنے ہاتھ سے تجھے سنبھالوں گا۔

11۔ دیکھ وہ سب جو تجھ پر غضبناک ہیں پشیمان اور رسوا ہوں گے وہ جو تجھ سے جھگڑتے ہیں ناچیز ہوں جائیں گے اور ہلاک ہوں گے۔

12۔ تْو اپنے مخالفوں کو ڈھونڈے گا اور نہ پائے گا۔ تجھ سے لڑنے والے نابود و ناچیز ہو جائیں گے۔

13۔ کیونکہ مَیں خداوند تیرا خدا تیرا دہنا ہاتھ پکڑ کر کہوں گا مت ڈر مَیں تیری مدد کروں گا۔

3. Isaiah 41 : 10-13

10     Fear thou not; for I am with thee: be not dismayed; for I am thy God: I will strengthen thee; yea, I will help thee; yea, I will uphold thee with the right hand of my righteousness.

11     Behold, all they that were incensed against thee shall be ashamed and confounded: they shall be as nothing; and they that strive with thee shall perish.

12     Thou shalt seek them, and shalt not find them, even them that contended with thee: they that war against thee shall be as nothing, and as a thing of nought.

13     For I the Lord thy God will hold thy right hand, saying unto thee, Fear not; I will help thee.

4۔ 1 تواریخ 17 باب16 (داؤد) (تا دوسرا)، 20 تا22 آیات

16۔ داؤد بادشاہ اندر جا کر خداوند کے حضور بیٹھا اور کہنے لگا۔

20۔ اے خداوند کوئی تیری مانند نہیں اور تیرے سوا جسے ہم نے اپنے کانوں سے سنا ہے اور کوئی نہیں ہے۔

21۔ اور روئے زمین پر تیری قوم اسرائیل کی طرح اور کون سی قوم ہے جسے خدا نے جا کر اپنی امت بنانے کو آپ چھڑایاتاکہ تْو اپنی امت کے سامنے سے جسے تْو نے مصر سے خلاصی بخشی قوموں کو دور کر کے بڑے اور مہیب قاموں سے اپنا نام کرے؟

22۔ کیونکہ تْو نے اپنی قوم اسرائیل کو ہمیشہ کے لئے اپنی قوم ٹھہرایا اور تْو آپ اے خداوند اْن کا خدا ہوا ہے۔

4. I Chronicles 17 : 16 (David) (to 2nd ,), 20-22

16     David the king came and sat before the Lord, and said,

20     O Lord, there is none like thee, neither is there any God beside thee, according to all that we have heard with our ears.

21     And what one nation in the earth is like thy people Israel, whom God went to redeem to be his own people, to make thee a name of greatness and terribleness, by driving out nations from before thy people, whom thou hast redeemed out of Egypt?

22     For thy people Israel didst thou make thine own people for ever; and thou, Lord, becamest their God.

5۔ 1تواریخ 18 باب1تا3، 5، 6، 14 (داؤد) آیات

1۔ اِس کے بعد یوں ہوا کہ داؤد نے فلستیوں کو مارا اور اْن کو مغلوب کیا اور جات کو اْس کے قصبوں سمیت فلستیوں کے ہاتھ سے لے لیا۔

2۔ اور اْس نے موآب کو مارا اور موآبی داؤد کے مطیع ہو گئے اور ہدیے لائے۔

3۔ اور داؤد نے ضوباہ کے بادشاہ ہدر عزر کو بھی جب وہ سلطنت دریائے فرات تک قائم کرنے گیا حمات میں مار لیا۔

5۔ اور جب دمشق کے ارامی ضوباہ کے بادشاہ ہدر عزر کی مدد کرنے کو آئے تو داؤد نے ارامیوں میں سے بائیس ہزار آدمی قتل کئے۔

6۔ تب داؤد نے دمشق کے ارام میں سپاہیوں کی چوکیاں بٹھائیں اور ارامی داؤد کے مطیع ہو گئے اور ہدیے لائے اور جہاں کہیں داؤد جاتا خداوند اْسے فتح بخشتا۔

14۔ سو داؤد سارے اسرائیل پر سلطنت کرنے لگا اور اپنی ساری رعیت کے ساتھ عدل و انصاف کرتا تھا۔

5. I Chronicles 18 : 1-3, 5, 6, 14 (David)

1     Now after this it came to pass, that David smote the Philistines, and subdued them, and took Gath and her towns out of the hand of the Philistines.

2     And he smote Moab; and the Moabites became David’s servants, and brought gifts.

3     And David smote Hadarezer king of Zobah unto Hamath, as he went to stablish his dominion by the river Euphrates.

5     And when the Syrians of Damascus came to help Hadarezer king of Zobah, David slew of the Syrians two and twenty thousand men.

6     Then David put garrisons in Syria-damascus; and the Syrians became David’s servants, and brought gifts. Thus the Lord preserved David whithersoever he went.

14     David reigned over all Israel, and executed judgment and justice among all his people.

6۔ یسعیاہ 49 باب8تا10 آیات

8۔ خداوند یوں فرماتا ہے کہ مَیں نے قبولیت کے وقت تیری سنی اور نجات کے دن تیری مدد کی مَیں تیری حفاظت کروں گا اور لوگوں کے لئے تجھے ایک عہد ٹھہراؤں گا تاکہ تْو ملک کو بحال کرے اور ویران میراث وارثوں کو دے۔

9۔ تاکہ تْو قیدیوں کو کہے کہ نکل چلو اور اْن کو جو اندھیرے میں ہیں کہ اپنے آپ کو دکھلاؤ۔وہ راستوں میں چریں گے اور سب ننگے ٹیلے اْن کی چراگاہیں ہوں گی۔

10۔ وہ نہ بھوکے ہوں گے اور نہ پیاسے اور نہ گرمی نہ دھوپ سے اْن کو ضرر پہنچے گا کیونکہ وہ جس کی رحمت اْن پر ہے اْن کا راہنما ہوگا اور پانی کے سوتوں کی طرف اْن کی راہبری کرے گا۔

6. Isaiah 49 : 8-10

8     Thus saith the Lord, In an acceptable time have I heard thee, and in a day of salvation have I helped thee: and I will preserve thee, and give thee for a covenant of the people, to establish the earth, to cause to inherit the desolate heritages;

9     That thou mayest say to the prisoners, Go forth; to them that are in darkness, Shew yourselves. They shall feed in the ways, and their pastures shall be in all high places.

10     They shall not hunger nor thirst; neither shall the heat nor sun smite them: for he that hath mercy on them shall lead them, even by the springs of water shall he guide them.

7۔ افسیوں 2 باب 4(خدا)، 5 (تا دوسرا)، 6، 8 آیات

4۔ مگر خدا نے اپنے رحم کی دولت سے اْس بڑی محبت کے سبب سے جو اْس نے ہم سے کی۔

5۔ جب قصوروں کے سبب سے مردہ ہی تھے تو ہم کو مسیح کے ساتھ زندہ کیا۔

6۔ اور مسیح یسوع میں شامل کر کے اْس کے ساتھ جلایا اور آسمانی مقاموں میں اْس کے ساتھ بٹھایا۔

8۔ کیونکہ تم کو ایمان کے وسیلہ سے فضل ہی سے نجات ملی ہے اور یہ تمہاری طرف سے نہیں۔ خدا کی بخشش ہے۔

7. Ephesians 2 : 4 (God), 5 (to 2nd ,), 6, 8

4     God, who is rich in mercy, for his great love wherewith he loved us,

5     Even when we were dead in sins, hath quickened us together with Christ,

6     And hath raised us up together, and made us sit together in heavenly places in Christ Jesus:

8     For by grace are ye saved through faith; and that not of yourselves: it is the gift of God:



سائنس اور صح


1۔ 387 :27۔32

مسیحت کی تاریخ اْس آسمانی باپ، قادرِمطلق فہم، کے عطا کردہ معاون اثرات اور حفاظتی قوت کے شاندار ثبوتوں کو مہیا کرتی ہے جو انسان کو ایمان اور سمجھ مہیا کرتا ہے جس سے وہ خود کو بچا سکتا ہے نہ صرف آزمائش سے بلکہ جسمانی دْکھوں سے بھی۔

1. 387 : 27-32

The history of Christianity furnishes sublime proofs of the supporting influence and protecting power bestowed on man by his heavenly Father, omnipotent Mind, who gives man faith and understanding whereby to defend himself, not only from temptation, but from bodily suffering.

2۔ 23 :21۔31

عبرانی، یونانی، لاطینی اور انگریزی زبانوں میں ایمان اور اِس سے متعلقہ الفاظ کے دو مطالب ہیں، سچائی اور اعتماد۔ ایمان کی ایک قسم دوسروں کی فلاح کے لئے کسی شخص پربھروسہ کرتی ہے۔ ایمان کی دوسری قسم الٰہی محبت اور اِس بات کی سمجھ رکھتی ہے کہ کسی شخص نے ”بغیر خوف کئے، اپنی خود کی نجات“ کے لئے کیسے کام کرنا ہے۔ ”اے خداوند، میں اعتقاد رکھتا ہوں؛ تْو میری بے اعتقادی کا علاج کر!“یہ بات اندھے بھروسے کی بے بسی ظاہر کرتی ہے، جبکہ یہ حکم کہ، ”ایمان لا۔۔۔توتْو نجات پائے گا!“ایک خود مختار اعتماد کا مطالبہ کرتا ہے، جس میں روحانی فہم شامل ہوتا ہے اور یہ سب باتوں کا خدا کے سامنے اعتراف کرتا ہے۔

2. 23 : 21-31

In Hebrew, Greek, Latin, and English, faith and the words corresponding thereto have these two definitions, trustfulness and trustworthiness. One kind of faith trusts one's welfare to others. Another kind of faith understands divine Love and how to work out one's "own salvation, with fear and trembling." "Lord, I believe; help thou mine unbelief!" expresses the helplessness of a blind faith; whereas the injunction, "Believe … and thou shalt be saved!" demands self-reliant trustworthiness, which includes spiritual understanding and confides all to God.

3۔ 1: 1۔4

وہ دعا جو گناہگار کو ٹھیک کرتی اور بیمار کو تندرست کرتی ہے وہ مکمل طور پر یہ ایمان ہے کہ خدا کے لئے سب کچھ ممکن ہے، جو اْس سے متعلق ایک روحانی فہم، ایک بے لوث محبت ہے۔

3. 1 : 1-4

The prayer that reforms the sinner and heals the sick is an absolute faith that all things are possible to God, — a spiritual understanding of Him, an unselfed love.

4۔ 146 :2۔7

قدیم مسیحی معالج تھے۔مسیحت کا یہ عنصر کھو کیوں گیا ہے؟ کیونکہ ہمارا مذہبی نظام کم و بیش ہمارے طبی نظاموں کے زیر اطاعت ہوگیا ہے۔ پہلی بت پرستی مادے پر یقین تھا۔ سکولوں نے خدائی پر ایمان کی بجائے، منشیات کے فیشن پر ایمان کو فروغ دیا ہے۔

4. 146 : 2-7

The ancient Christians were healers. Why has this element of Christianity been lost? Because our systems of religion are governed more or less by our systems of medicine. The first idolatry was faith in matter. The schools have rendered faith in drugs the fashion, rather than faith in Deity.

5۔ 328 :4۔13

بشر سمجھتے ہیں کہ وہ اچھائی کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں، جبکہ خدا اچھائی اورواحد حقیقی زندگی ہے۔ تو اِس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ اْس الٰہی اصول سے متعلق کم فہم رکھتے ہوئے جو نجات اور شفا دیتا ہے، بشر صرف ایمان کے ساتھ گناہ، بیماری اور موت سے چھٹکارہ پا سکتے ہیں۔ یہ غلطیاں حقیقت میں یوں تباہ نہیں ہوتیں، اور انہیں تب تک،یہاں یا اس کے بعد، انسانوں کے ساتھ جْڑے رہنا چاہئے جب تک وہ سائنس میں خدا کے حقیقی ادراک کو نہیں پا لیتے جس سے خدا کے متعلق انسان کی غلط فہمیاں ہوتی ہیں اور یہ اْس کی کاملیت سے متعلق بڑے حقائق کو ظاہر کرتا ہے۔

5. 328 : 4-13

Mortals suppose that they can live without goodness, when God is good and the only real Life. What is the result? Understanding little about the divine Principle which saves and heals, mortals get rid of sin, sickness, and death only in belief. These errors are not thus really destroyed, and must therefore cling to mortals until, here or hereafter, they gain the true understanding of God in the Science which destroys human delusions about Him and reveals the grand realities of His allness.

6۔ 285 :23۔31

خدا کی بطور بچانے والے اصول یا الٰہی محبت کی بجائے جسمانی نجات دہندہ کے طور پر تشریح کرتے ہوئے، ہم اصلاحات کی بجائے معافی کے وسیلہ نجات کو تلاش کرنا جاری رکھتے اور روح کی بجائے مادے کی جانب رجوح کرتے ہوئے بیماری کا اعلاج کرتے ہیں۔ جیسا کہ کرسچن سائنس کے علم کے وسیلہ بشر بلند فہم تک پہنچتے ہیں وہ مادے کی بدولت نہیں بلکہ اصول، خدا سے سیکھتے ہیں کہ مسیح یعنی سچائی کو نجات دینے والی اور شفا دینے والی طاقت کے طور پر کیسے ظاہر کیا جائے۔

6. 285 : 23-31

By interpreting God as a corporeal Saviour but not as the saving Principle, or divine Love, we shall continue to seek salvation through pardon and not through reform, and resort to matter instead of Spirit for the cure of the sick. As mortals reach, through knowledge of Christian Science, a higher sense, they will seek to learn, not from matter, but from the divine Principle, God, how to demonstrate the Christ, Truth, as the healing and saving power.

7۔ 133 :8۔15

مصر میں، یہ عقل ہی تھی جس نے اسرائیلیوں کو وباؤں پر یقین کرنے سے بچایا۔ بیابان میں، چٹان سے چشمے پھوٹے اور من آسمان سے برسا۔ اسرائیلیوں نے پیتل کے سانپ پر نظر کی، اور پوری طرح اِس بات پر یقین کیا کہ وہ زہریلے سانپوں کے ڈنگ سے شفا یاب ہورہے تھے۔ قومی خوشحالی میں، معجزات نے عبرانیوں کو فتح یابی دلائی؛ مگر جونہی وہ حقیقی خیال سے دور ہٹے اْن کی بربادی کا آغاز ہوگیا۔

7. 133 : 8-15

In Egypt, it was Mind which saved the Israelites from belief in the plagues. In the wilderness, streams flowed from the rock, and manna fell from the sky. The Israelites looked upon the brazen serpent, and straightway believed that they were healed of the poisonous stings of vipers. In national prosperity, miracles attended the successes of the Hebrews; but when they departed from the true idea, their demoralization began.

8۔ 243 :4۔15

الٰہی محبت، جس نے زہریلے سانپ کو بے ضرر بنایا، جس نے آدمیوں کو اْبلتے ہوئے تیل سے، بھڑکتے ہوئے تندور سے، شیر کے پنجوں سے بچایا، وہ ہر دور میں بیمار کو شفا دے سکتی اور گناہ اور موت پر فتح مند ہو سکتی ہے۔اس نے یسوع کے اظہاروں کو بلا سبقت طاقت اور محبت سے سرتاج کیا۔ لیکن ”وہی عقل۔۔۔ جو مسیح یسوع کی بھی ہے“ سائنس کے خط کے ہمراہ ہونی چاہئے تاکہ نبیوں اور رسولوں کے پرانے اظہاروں کو دوہرائے اور تصدیق کرے۔یہ بات خواہش کی کمی کی بدولت اِس قدر اجاگر نہیں ہوتی جتنی روحانی بڑھوتری کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے کہ وہ عجیب کام آج عمومی طور پر نہیں دوہرائے جاتے۔

8. 243 : 4-15

The divine Love, which made harmless the poisonous viper, which delivered men from the boiling oil, from the fiery furnace, from the jaws of the lion, can heal the sick in every age and triumph over sin and death. It crowned the demonstrations of Jesus with unsurpassed power and love. But the same "Mind … which was also in Christ Jesus" must always accompany the letter of Science in order to confirm and repeat the ancient demonstrations of prophets and apostles. That those wonders are not more commonly repeated to-day, arises not so much from lack of desire as from lack of spiritual growth.

9۔ 230 :1۔2، 4۔10

اگر بیماری حقیقی ہے تو یہ لافانیت سے تعلق رکھتی ہے؛ اگر سچی ہے تو یہ سچائی کا حصہ ہے۔۔۔۔ لیکن اگر گناہ اور بیماری بھرم ہیں، اس فانی خواب یا بھرم سے بیدار ہونا ہمیں صحتمندی، پاکیزگی اور لافانیت مہیا کرتا ہے۔یہ بیداری مسیح کی ہمیشہ آمد ہے، سچائی کا پیشگی ظہور، جو غلطی کو باہر نکالتا اور بیمار کو شفا دیتا ہے۔ یہ وہ نجات ہے جو خدا، الٰہی اصول،اْس محبت کے وسیلہ ملتی ہے جسے یسوع نے ظاہر کیا۔

9. 230 : 1-2, 4-10

If sickness is real, it belongs to immortality; if true, it is a part of Truth. … But if sickness and sin are illusions, the awakening from this mortal dream, or illusion, will bring us into health, holiness, and immortality. This awakening is the forever coming of Christ, the advanced appearing of Truth, which casts out error and heals the sick. This is the salvation which comes through God, the divine Principle, Love, as demonstrated by Jesus.

10۔ 202 :6۔14

اگر انسان مادی فہم کے نام نہاد دْکھوں اور خوشیوں پررکھنے والے ایمان کی نسبت آدھا ایمان ہی عقل کی سائنس کے مطالعہ پر رکھیں تو وہ بد سے بدترین کی طرف نہیں جائیں گے، جب تک کہ قید و بند سے اْن کی تربیت نہ ہوجائے؛ بلکہ پوری انسانی نسل مسیح کے معیاروں کے وسیلہ، سچائی کے طرزِ فکر اور قبولیت کے وسیلہ رہائی پائے گی۔اِس جلالی نتیجے کے لئے کرسچن سائنس روحانی ادراک کی مشعل روشن کرتی ہے۔

10. 202 : 6-14

If men would bring to bear upon the study of the Science of Mind half the faith they bestow upon the so-called pains and pleasures of material sense, they would not go on from bad to worse, until disciplined by the prison and the scaffold; but the whole human family would be redeemed through the merits of Christ, — through the perception and acceptance of Truth. For this glorious result Christian Science lights the torch of spiritual understanding.

11۔ 410 :14۔17

خدا پر ہمارے ایمان کی ہر آزمائش ہمیں مضبوط کرتی ہے۔ مادی حالت کا روح کے باعث زیر ہونا جتنا زیادہ مشکل لگے گا اْتنا ہی ہمار ایمان مضبوط تر اور ہماری محبت پاک ترین ہونی چاہئے۔

11. 410 : 14-17

Every trial of our faith in God makes us stronger. The more difficult seems the material condition to be overcome by Spirit, the stronger should be our faith and the purer our love.

12۔ 487 :27۔1

یہ ادراک کہ زندگی خدا، روح ہے، زندگی کی لازوال حقیقت پر، اْس کی قدرت اور لافانیت پر یقین رکھنے سے ہمارے ایام کو دراز کرتا ہے۔

ایمان ایک سمجھے گئے اصول پر انحصار کرتا ہے۔ یہ اصول بیمار کو شفایاب کرتا ہے اور برداشت اور چیزوں کے ہم آہنگ مراحل ظاہر کرتاہے۔

12. 487 : 27-1

The understanding that Life is God, Spirit, lengthens our days by strengthening our trust in the deathless reality of Life, its almightiness and immortality.

This faith relies upon an understood Principle. This Principle makes whole the diseased, and brings out the enduring and harmonious phases of things.

13۔ 368 :14۔19

جب ہم غلطی سے زیادہ زندگی کی سچائی پرایمان رکھتے ہیں، مادے سے زیادہ روح پر بھروسہ رکھتے ہیں، مرنے سے زیادہ جینے پر بھروسہ رکھتے ہیں، انسان سے زیادہ خدا پر بھروسہ رکھتے ہیں، تو کوئی مادی مفرضے ہمیں بیماروں کو شفا دینے اور غلطی کو نیست کرنے سے نہیں روک سکتے۔

13. 368 : 14-19

When we come to have more faith in the truth of being than we have in error, more faith in Spirit than in matter, more faith in living than in dying, more faith in God than in man, then no material suppositions can prevent us from healing the sick and destroying error.

14۔ 395 :11۔14

جب الٰہی سائنس نفسانی سوچ کے ایمان پر اور اس ایمان پر قابو پا لیتی ہے کہ خدا پر یقین گناہ اور مادی شفائیہ طریقوں پر یقین کو نیست کردیتا ہے، تو گناہ، بیماری اور موت غائب ہو جائیں گے۔

14. 395 : 11-14

When divine Science overcomes faith in a carnal mind, and faith in God destroys all faith in sin and in material methods of healing, then sin, disease, and death will disappear.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████