اتوار 13ستمبر، 2020 |

اتوار 13ستمبر، 2020



مضمون۔ مواد

SubjectSubstance

سنہری متن: فلپیوں 4 باب19آیت

”میرا خدا اپنی دولت کے موافق جلال سے مسیح یسوع میں تمہاری ہر ایک احتیاج رفع کرے۔“



Golden Text: Philippians 4 : 19

My God shall supply all your need according to his riches in glory by Christ Jesus.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: 2 کرنتھیوں 9 باب 6 تا 11 آیات


6۔لیکن بات یہ ہے کہ جو تھوڑا بوتا ہے وہ تھوڑا کاٹے گا اور جو بہت بوتا ہے وہ بہت کاٹے گا۔

7۔ جس قدر ہر ایک نے اپنے دل میں ٹھہرایا ہے اْسی قدر دے۔ نہ دریغ کر کے اور نہ لاچاری سے کیونکہ خدا خوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتا ہے۔

8۔ اور خدا تم پر ہر طرح کا فضل کثرت سے کر سکتا ہے تاکہ تم کو ہر چیز کافی طور پرملا کرے اور ہر نیک کام کے لئے تمہارے پاس بہت کچھ موجود رہا کرے۔

9۔ چنانچہ لکھا ہے کہ اْس نے بکھیرا ہے۔ اْس نے کنگالوں کو دیا ہے۔اْس کی راستبازی ابد تک باقی رہے گی۔

10۔ پس جو بونے والے کے لئے بیج اور کھانے والے کے لئے روٹی بہم پہنچاتا ہے وہی تمہارے لئے بیج بہم پہنچائے گا اور اْس میں ترقی دے گا اور تمہاری راستبازی کے پھلوں کو بڑھائے گا۔

11۔ اور تم ہر چیز کو افراط سے پا کر سب طرح کی سخاوت کرو گے جو ہمارے وسیلہ سے خدا کی شکر گزاری کا باعث ہوتی ہے۔

Responsive Reading: II Corinthians 9 : 6-11

6.     But this I say, He which soweth sparingly shall reap also sparingly; and he which soweth bountifully shall reap also bountifully.

7.     Every man according as he purposeth in his heart, so let him give; not grudgingly, or of necessity: for God loveth a cheerful giver.

8.     And God is able to make all grace abound toward you; that ye, always having all sufficiency in all things, may abound to every good work:

9.     (As it is written, He hath dispersed abroad; he hath given to the poor: his righteousness remaineth for ever.

10.     Now he that ministereth seed to the sower both minister bread for your food, and multiply your seed sown, and increase the fruits of your righteousness;)

11.     Being enriched in every thing to all bountifulness, which causeth through us thanksgiving to God.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ یعقوب 1باب17 آیت

17۔ ہر اچھی بخشش اور ہر کامل انعام اوپر سے ہے اور نوروں کے باپ کی طرف سے ملتا ہے جس میں نہ کوئی تبدیلی ہو سکتی ہے اور نہ گردش کے سبب سے اْس پر سایہ پڑتا ہے۔

1. James 1 : 17

17     Every good gift and every perfect gift is from above, and cometh down from the Father of lights, with whom is no variableness, neither shadow of turning.

2۔ زبور 36:7، 8 آیات

7۔ اے خدا! تیری شفقت کیا ہی بیش قیمت ہے بنی آدم تیرے بازوؤں کے سایہ میں پناہ لیتے ہیں۔

8۔ وہ تیرے گھر کی نعمتوں سے خوب آسودہ ہوں گے۔ تْو اْن کو اپنی خوشنودی کے دریا سے پلائے گا۔

2. Psalm 36 : 7, 8

7     How excellent is thy lovingkindness, O God! therefore the children of men put their trust under the shadow of thy wings.

8     They shall be abundantly satisfied with the fatness of thy house; and thou shalt make them drink of the river of thy pleasures.

3۔ زبور 37: 3 آیت

3۔ خداوند پر توکل کر اور نیکی کر۔ ملک میں آباد رہ اور اْس کی وفاداری سے پرورش پا۔

3. Psalm 37 : 3

3     Trust in the Lord, and do good; so shalt thou dwell in the land, and verily thou shalt be fed.

4۔ یسعیاہ 58 باب10تا12 آیات

10۔ اگر تْو اپنے دل کو بھوکے کی طرف مائل کرے اور آزودہ دل کو آسودہ کرے تو تیرا نور تاریکی میں چمکے گا اورتیری تیرگی دوپہر کی مانند ہوجائے گی۔

11۔ اور خداوند سدا تیری راہنمائی کرے گا اور خشک سالی میں تجھے سیر کرے گا اور تیری ہڈیوں کو قوت بخشے گا۔ پس تْو سیراب باغ کی مانند ہوگا اور اْس چشمہ کی مانند جس کا پانی کم نہ ہو۔

12۔ اور تیرے لوگ قدیم ویران مکانوں کو تعمیر کریں گے اور تْو پشت در پشت کی بنیادوں کو برپا کرے گا۔ اور تْو رخنہ کے بند کرنے والا اور آبادی کے لئے راہ کا درست کرنے والا کہلائے گا۔

4. Isaiah 58 : 10-12

10     And if thou draw out thy soul to the hungry, and satisfy the afflicted soul; then shall thy light rise in obscurity, and thy darkness be as the noonday:

11     And the Lord shall guide thee continually, and satisfy thy soul in drought, and make fat thy bones: and thou shalt be like a watered garden, and like a spring of water, whose waters fail not.

12     And they that shall be of thee shall build the old waste places: thou shalt raise up the foundations of many generations; and thou shalt be called, The repairer of the breach, The restorer of paths to dwell in.

5۔ لوقا 4باب14 (یسوع)، 15 آیات

14۔ پھر یسوع روح کی قوت سے بھرا ہوا گلیل کو لوٹا اور سارے گردو نواح میں اْس کی شہرت پھیل گئی۔

15۔ اور وہ اْن کے عبادت خانوں میں تعلیم دیتا رہا اور سب اْس کی بڑائی کرتے رہے۔

5. Luke 4 : 14 (Jesus), 15

14     Jesus returned in the power of the Spirit into Galilee: and there went out a fame of him through all the region round about.

15     And he taught in their synagogues, being glorified of all.

6۔ لوقا 12 باب13تا24، 27 تا34 آیات

13۔ پھر بھیڑ میں سے کسی نے اْس سے کہا اے استاد! میرے بھائی سے کہہ کہ میراث کا میرا حصہ مجھے دے۔

14۔ اْس نے اْس سے کہا۔ میاں! کس نے مجھے تمہارا منصف یا بانٹنے والا مقرر کیا ہے؟

15۔ اور اْس نے اْن سے کہا خبردار! اپنے آپ کو ہر طرح کے لالچ سے بچائے رکھو۔ کیونکہ کسی کی زندگی اْس کے مال کی کثرت پر موقوف نہیں۔

16۔ اور اْس نے اْن سے تمثیل کہی کہ کسی دولتمند کی زمین میں بڑی فصل ہوئی۔

17۔ پس وہ اپنے دل میں سوچ کر کہنے لگا مَیں کیا کروں کیونکہ میرے ہا ں جگہ نہیں جہاں اپنی پیداوار بھر رکھوں۔

18۔ اْس نے کہا مَیں یوں کروں گا کہ اپنی کوٹھیاں ڈھا کر اْن سے بڑی بناؤں گا۔

19۔ اور اْن میں اپنا سارا اناج اور مال بھر رکھوں گا اور اپنی جان سے کہوں گا اے جان! تیرے پاس بہت برسوں کے لئے بہت سا مال جمع ہے۔ چین کر، کھا پی۔ خوش رہ۔

20۔ مگر خداوند نے اْس سے کہا اے نادان! اسی رات تیری جان تجھ سے طلب کر لی جائے گی۔ پس جو کچھ تْو نے تیار کیا ہے وہ کس کاہوگا؟

21۔ ایسا ہی وہ شخص ہے جو اپنے لئے خزانہ جمع کرتا ہے اور خدا کے نزدیک دولتمند نہیں۔

22۔ پھر اْس نے اپنے شاگردوں سے کہا اس لئے مَیں تم سے کہتا ہوں کہ اپنی جان کی فکر نہ کرو کہ ہم کیا کھائیں گے اور نہ اپنے بدن کی کہ کیا پہنیں گے۔

23۔ کیونکہ جان خوراک سے بڑھ کر ہے اور بدن پوشاک سے۔

24۔ کوؤں پر غور کرو کہ نہ بوتے ہیں نہ کاٹتے ہیں۔ اور نہ اْن کا کھِتا ہوتا ہے اور نہ کوٹھی۔ تو بھی خدا اْنہیں کھلاتا ہے۔ تمہاری قدر تو پرندوں سے کہیں زیادہ ہے۔

27۔ سوسن کے درختوں پر غور کرو کہ کس طرح بڑھتے ہیں۔ وہ نہ محنت کرتے ہیں نہ کاتتے ہیں تو بھی مَیں تم سے کہتا ہوں کہ سلیمان بھی باوجود اپنی ساری شان و شوکت کے اْن میں سے کسی کی مانند ملبس نہ تھا۔

28۔ پس جب خدا گھاس کو جو آج ہے اور کل تنور میں جھونکی جائے گی ایسی پوشاک پہناتا ہے تو اے کم اعتقادو تم کو کیوں نہ پہنائے گا؟

29۔ اور تم اِس کی تلاش میں نہ رہو کہ کیا کھائیں گے کیا پہنیں گے اور نہ شکی بنو۔

30۔ کیونکہ اِن سب چیزوں کی تلاش میں دنیا کی قومیں رہتی ہیں لیکن تمہارا باپ جانتا ہے کہ تم اِن چیزوں کے محتاج ہو۔

31۔ ہاں اْس کی بادشاہی کی تلاش میں رہو تو یہ چیزیں بھی تمہیں مل جائیں گی۔

32۔ اے چھوٹے گلے نہ ڈر کیونکہ تمہارے باپ کو پسند آیا کہ تمہیں بادشاہی دے۔

33۔ اپنا مال اسباب بیچ کر خیرات کر دو اور اپنے لئے ایسے بٹوے بناؤ جو پرانے نہیں ہوتے یعنی آسمان پر ایسا خزانہ جو خالی نہیں ہوتا۔ جہاں چور نزدیک نہیں جاتا اور کیڑا خراب نہیں کرتا۔

34۔ کیونکہ جہاں تمہارا خزانہ ہے وہیں تمہارا دل بھی لگا رہے گا۔

6. Luke 12 : 13-24, 27-34

13     And one of the company said unto him, Master, speak to my brother, that he divide the inheritance with me.

14     And he said unto him, Man, who made me a judge or a divider over you?

15     And he said unto them, Take heed, and beware of covetousness: for a man’s life consisteth not in the abundance of the things which he possesseth.

16     And he spake a parable unto them, saying, The ground of a certain rich man brought forth plentifully:

17     And he thought within himself, saying, What shall I do, because I have no room where to bestow my fruits?

18     And he said, This will I do: I will pull down my barns, and build greater; and there will I bestow all my fruits and my goods.

19     And I will say to my soul, Soul, thou hast much goods laid up for many years; take thine ease, eat, drink, and be merry.

20     But God said unto him, Thou fool, this night thy soul shall be required of thee: then whose shall those things be, which thou hast provided?

21     So is he that layeth up treasure for himself, and is not rich toward God.

22     And he said unto his disciples, Therefore I say unto you, Take no thought for your life, what ye shall eat; neither for the body, what ye shall put on.

23     The life is more than meat, and the body is more than raiment.

24     Consider the ravens: for they neither sow nor reap; which neither have storehouse nor barn; and God feedeth them: how much more are ye better than the fowls?

27     Consider the lilies how they grow: they toil not, they spin not; and yet I say unto you, that Solomon in all his glory was not arrayed like one of these.

28     If then God so clothe the grass, which is to-day in the field, and to-morrow is cast into the oven; how much more will he clothe you, O ye of little faith?

29     And seek not ye what ye shall eat, or what ye shall drink, neither be ye of doubtful mind.

30     For all these things do the nations of the world seek after: and your Father knoweth that ye have need of these things.

31     But rather seek ye the kingdom of God; and all these things shall be added unto you.

32     Fear not, little flock; for it is your Father’s good pleasure to give you the kingdom.

33     Sell that ye have, and give alms; provide yourselves bags which wax not old, a treasure in the heavens that faileth not, where no thief approacheth, neither moth corrupteth.

34     For where your treasure is, there will your heart be also.

7۔ امثال 8 باب1، 18 تا21آیات

1۔ کیا حکمت پکار نہیں رہی اور فہم آواز بلند نہیں کر رہا؟

18۔ دولت و عزت میرے ساتھ ہیں۔ بلکہ دائمی دولت اور صداقت بھی۔

19۔میرا پھل سونے سے بلکہ کندن سے بھی بہتر ہے اور میرا حاصل خالص چاندی سے۔

20۔ مَیں صداقت کی راہ پر انصاف کے راستوں پر چلتی ہوں۔

21۔ تاکہ مَیں اْن کو جو مجھ سے محبت رکھتے ہیں مال کے وارث بناؤں اور اْن کے خزانوں کو بھر دوں۔

7. Proverbs 8 : 1, 18-21

1     Doth not wisdom cry? and understanding put forth her voice?

18     Riches and honour are with me; yea, durable riches and righteousness.

19     My fruit is better than gold, yea, than fine gold; and my revenue than choice silver.

20     I lead in the way of righteousness, in the midst of the paths of judgment:

21     That I may cause those that love me to inherit substance; and I will fill their treasures.

8۔ یرمیاہ 31 باب10تا12، 14 آیات

10۔ اے قومو! خداوند کا کلام سنو اور دور کے جزیروں میں منادی کرو اور کہو کہ جس نے اسرائیل کو تتر بتر کیا وہی اْسے جمع کرے گا اور اْس کی ایسی نگہبانی کرے گا جیسی گڈریا اپنے گلے کی۔

11۔ کیونکہ خداوند نے یعقوب کا فدیہ دیا ہے اور اْسے اْس کے ہاتھ سے جو اْس سے زور آور تھا رہائی بخشی ہے۔

12۔ پس وہ آئیں گے اور صیہون کی چوٹی پر گائیں گے اور خداوند کی نعمتوں یعنی اناج اور مے اور تیل اور گائے بیل کے اور بھیڑ بکری کے بچوں کی طرف اکٹھے رواں ہوں گے اور اْن کی جان سیراب باغ کی مانند ہوگی اور وہ پھر کبھی غمزدہ نہ ہوں گے۔

14۔ اور مَیں کاہنوں کی جان کو چکنائی سے سیر کروں گا اور میرے لوگ میری نعمتوں سے آسودہ ہوں گے خداوند فرماتا ہے۔

8. Jeremiah 31 : 10-12, 14

10     Hear the word of the Lord, O ye nations, and declare it in the isles afar off, and say, He that scattered Israel will gather him, and keep him, as a shepherd doth his flock.

11     For the Lord hath redeemed Jacob, and ransomed him from the hand of him that was stronger than he.

12     Therefore they shall come and sing in the height of Zion, and shall flow together to the goodness of the Lord, for wheat, and for wine, and for oil, and for the young of the flock and of the herd: and their soul shall be as a watered garden; and they shall not sorrow any more at all.

14     And I will satiate the soul of the priests with fatness, and my people shall be satisfied with my goodness, saith the Lord.



سائنس اور صح


1۔ 468 :17 (مواد)۔21

مواد وہ ہے جو ابدی ہے اور نیست ہونے اور مخالفت سے عاجز ہے۔ سچائی، زندگی اور محبت مواد ہیں، جیسے کہ کلام عبرانیوں میں یہ الفاظ استعمال کرتا ہے: ”ایمان اْمید کی ہوئی چیزوں کا اعتماد اور اندیکھی چیزوں کا ثبوت ہے۔“

1. 468 : 17 (Substance)-21

Substance is that which is eternal and incapable of discord and decay. Truth, Life, and Love are substance, as the Scriptures use this word in Hebrews: "The substance of things hoped for, the evidence of things not seen."

2۔ 335 :12۔15

روح ہی واحد مواد ہے، یعنی دیدہ اور نادیدہ لامحدود خدا۔ روحانی اور ابدی سب چیزیں حقیقی ہیں۔ مادی اور عارضی چیزیں غیر مادی ہیں۔

2. 335 : 12-15

Spirit is the only substance, the invisible and indivisible infinite God. Things spiritual and eternal are substantial. Things material and temporal are insubstantial.

3۔ 301 :17۔23

جیسا کہ خدا اصل ہے اور انسان الٰہی صورت اور شبیہ ہے، تو انسان کو صرف اچھائی کے اصل، روح کے اصل نہ کہ مادے کی خواہش رکھنی چاہئے، اور حقیقت میں ایسا ہی ہوا ہے۔یہ عقیدہ روحانی نہیں ہے کہ انسان کے پاس کوئی دوسرا مواد یا عقل ہے،اور یہ پہلے حکم کو توڑتا ہے کہ تْو ایک خدا، ایک عقل کو ماننا۔

3. 301 : 17-23

As God is substance and man is the divine image and likeness, man should wish for, and in reality has, only the substance of good, the substance of Spirit, not matter. The belief that man has any other substance, or mind, is not spiritual and breaks the First Commandment, Thou shalt have one God, one Mind.

4۔ 278 :12۔22

بشر کے جھوٹے عقائد میں سے ایک یہ ہے کہ مادا اصلی ہے یا اِس میں احساس اور زندگی ہے، اور یہ عقیدہ صرف ایک فرضی فانی شعور میں موجود ہوتا ہے۔ لہٰذہ، جب ہم روح اور سچائی تک رسائی پاتے ہیں ہم مادے کا شعور کھو دیتے ہیں۔اس بات کے اعتراف کے لئے کہ فانی مواد ہوسکتا ہے ایک اور اعتراف کی ضرورت ہے، یعنی، کہ روح لامحدود نہیں اور کہ مادہ خود تخلیقی، خود موجود، اور ابدی ہے۔اِس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہاں دو ابدی وجوہات ہیں، جو ہمیشہ ایک دوسرے کی متحارب رہتی ہیں؛ تاہم پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ روح اعلیٰ اور ہر جا موجود ہے۔

4. 278 : 12-22

That matter is substantial or has life and sensation, is one of the false beliefs of mortals, and exists only in a supposititious mortal consciousness. Hence, as we approach Spirit and Truth, we lose the consciousness of matter. The admission that there can be material substance requires another admission, — namely, that Spirit is not infinite and that matter is self-creative, self-existent, and eternal. From this it would follow that there are two eternal causes, warring forever with each other; and yet we say that Spirit is supreme and all-presence.

5۔ 312 :4۔7

مادی حس جِسے غیر مادی تصور کرتی ہے اسے مواد کہا جاتا ہے۔ جب احساسی خواب غائب ہوتا اور حقیقت سامنے آتی ہے تو مادی حس جسے مواد سمجھتی ہے وہ عدم بن جاتا ہے۔

5. 312 : 4-7

That which material sense calls intangible, is found to be substance. What to material sense seems substance, becomes nothingness, as the sense-dream vanishes and reality appears.

6۔ 91 :16۔21

مادی خودی میں ڈوب کر ہم زندگی اور عقل کے مادے کو ہلکا سا منعکس کرتے اور اسے جان لیتے ہیں۔ مادی خودی سے انکار انسان کی روحانی اور ابدی انفرادیت سے متعلق جاننے میں مدد دیتا ہے، اور مادے سے یا جنہیں مادی حواس کی اصطلاح دی گئی ہے اْن کے وسیلہ غلط علم کو تباہ کرتا ہے۔

6. 91 : 16-21

Absorbed in material selfhood we discern and reflect but faintly the substance of Life or Mind. The denial of material selfhood aids the discernment of man's spiritual and eternal individuality, and destroys the erroneous knowledge gained from matter or through what are termed the material senses.

7۔ 458 :32۔8

جیسے پھول اندھیرے سے روشنی کی طرف مْڑتا ہے،مسیحت انسان کو فطری طور پر مادے سے روح کی جانب موڑنے کا موجب بنتی ہے۔پھر انسان اْن چیزوں کو مختص کرتا ہے جو ”نہ آنکھوں نے دیکھی نہ کانوں نے سْنیں۔“یوحنا اور پولوس کو بہت واضح ادراک تھا کہ، چونکہ فانی آدمی کو قربانی کے بغیردنیاوی عظمت حاصل نہیں ہو سکتی، اس لئے اْسے سب دنیاداری چھوڑ کر آسمانی خزانے حاصل کرنے چاہئیں۔پھر اْس کا دنیاوی ہمدردیوں، اغراض و مقاصد میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔

7. 458 : 32-8

Christianity causes men to turn naturally from matter to Spirit, as the flower turns from darkness to light. Man then appropriates those things which "eye hath not seen nor ear heard." Paul and John had a clear apprehension that, as mortal man achieves no worldly honors except by sacrifice, so he must gain heavenly riches by forsaking all worldliness. Then he will have nothing in common with the worldling's affections, motives, and aims.

8۔ 547 :23۔6

صحائف بہت پاک ہیں۔ ہمارا مقصد اْن کے روحانی فہم کو حاصل کرنا ہونا چاہئے، کیونکہ صرف فہم ہی کی بدولت ہم سچائی پا سکتے ہیں۔ کائنات کا،بشمول انسان، حقیقی نظریہ مادی تاریخ میں نہیں بلکہ روحانی ترقی میں ہے۔ الہامی سوچ کائنات کے ایک مادی، جسمانی اور فانی نظریے کو ترک کرتی ہے، اور روحانی اور لافانی کو اپناتی ہے۔

یہ کلام کا روحانی فہم ہی ہے جو انسان کو بیماری اور موت سے اونچا لے جاتا ہے اور ایمان کو بڑھاتا ہے۔”اور روح اور دلہن کہتی ہیں آ۔۔۔اور جو کوئی چاہے آبِ حیات مفت لے۔“کرسچن سائنس غلطی کو سچائی سے الگ کرتی ہے، اور مقدس صفحات میں سے زندگی، مواد اور ذہانت کے روحانی فہم کو پھونکتی ہے۔اِس سائنس میں، ہم انسان کو خدا کی شبیہ اور صورت پردریافت کرتے ہیں۔

8. 547 : 23-6

The Scriptures are very sacred. Our aim must be to have them understood spiritually, for only by this understanding can truth be gained. The true theory of the universe, including man, is not in material history but in spiritual development. Inspired thought relinquishes a material, sensual, and mortal theory of the universe, and adopts the spiritual and immortal.

It is this spiritual perception of Scripture, which lifts humanity out of disease and death and inspires faith. "The Spirit and the bride say, Come! … and whosoever will, let him take the water of life freely." Christian Science separates error from truth, and breathes through the sacred pages the spiritual sense of life, substance, and intelligence. In this Science, we discover man in the image and likeness of God.

9۔ 128 :6۔19

اِس سے یہ بات سامنے آتی ہے تاجران اور مہذب علماء نے دیکھا ہے کہ کرسچن سائنس اْن کی برداشت اور ذہنی قوتوں کو فروغ دیتی ہے، کردار کے لئے اْن کی سوچ کو وسیع کرتی ہے، انہیں فراست اور ادراک اور اپنی عام گنجائش کو بڑھانے کی قابلیت دیتی ہے۔ انسانی سوچ روحانی سمجھ سے بھرو پور ہوکر مزید لچکدار ہوجاتی ہے، تو یہ بہت برداشت اور کسی حد تک خود سے فرارکے قابل ہوجاتی ہے اور کم آرام طلب ہوتی ہے۔ ہستی کی سائنس کا علم انسان کی قابلیت کے فن اور امکانات کو فروغ دیتا ہے۔ فانی لوگوں کو بلند اور وسیع ریاست تک رسائی دیتے ہوئے یہ سوچ کے ماحول کو بڑھاتا ہے۔ یہ سوچنے والے کو اْس کے ادراک اور بصیرت کی مقامی ہوا میں پروان چڑھاتا ہے۔

9. 128 : 6-19

From this it follows that business men and cultured scholars have found that Christian Science enhances their endurance and mental powers, enlarges their perception of character, gives them acuteness and comprehensiveness and an ability to exceed their ordinary capacity. The human mind, imbued with this spiritual understanding, becomes more elastic, is capable of greater endurance, escapes somewhat from itself, and requires less repose. A knowledge of the Science of being develops the latent abilities and possibilities of man. It extends the atmosphere of thought, giving mortals access to broader and higher realms. It raises the thinker into his native air of insight and perspicacity.

10۔ 364 :32۔19

کیا لاپرواہ ڈاکٹر، نرس، باورچی اور سخت کام کرنے والا شخص ہمدردانہ طور پر اْن کانٹوں سے واقف ہوتے ہیں جو وہ بیماراور اْس آسمانی بیمار کے تکیے میں لگاتے ہیں جو زمین سے دور دکھائی دے رہا ہو، اوہ کیا وہ جانتے تھے! کہ یہ علم بیمار کو شفا دینے اور اْن کے مدد گاروں کو تیار کرنے کے لئے ”خداوند! خداوند!“ پکارنے کی نسبت زیادہ کام آتا ہے؟ یسوع کا بے ضرر خیال، ”اپنی جان کی فکر نہ کرو“ جیسے الفاظ کی ادائیگی پاتے ہوئے، بیمار کو شفا بخشے گا اور انہیں جسمانی خیال اپنانے اور علاج کرنے کے لئے فرضی ضرورت کو ابھارنے کے قابل بناتا ہے؛ لیکن اگر بے غرض محبت کی کمی ہو، اور عمومی فہم اور عمومی انسانیت کو نظر انداز کیا جائے، تو کون سے ذہنی قابلیت باقی رہتی ہے، جس کے وسیلہ راستبازی کے پھیلے ہوئے بازو سے شفا کو ظاہر کیا جا سکے؟

اگر سائنسدان االٰہی محبت کے وسیلہ اپنے مریض تک پہنچتا ہے، تو شفائیہ کام ایک ہی آمد میں مکمل ہو جائے گا، اور بیماری اپنے آبائی عدم میں غائب ہو جائے گی جیسے کہ صبح کے وقت سورج کی روشنی سے پہلے اوس ہوتی ہے۔

10. 364 : 32-19

Did the careless doctor, the nurse, the cook, and the brusque business visitor sympathetically know the thorns they plant in the pillow of the sick and the heavenly homesick looking away from earth, — Oh, did they know! — this knowledge would do much more towards healing the sick and preparing their helpers for the "midnight call," than all cries of "Lord, Lord!" The benign thought of Jesus, finding utterance in such words as "Take no thought for your life," would heal the sick, and so enable them to rise above the supposed necessity for physical thought-taking and doctoring; but if the unselfish affections be lacking, and common sense and common humanity are disregarded, what mental quality remains, with which to evoke healing from the outstretched arm of righteousness?

If the Scientist reaches his patient through divine Love, the healing work will be accomplished at one visit, and the disease will vanish into its native nothingness like dew before the morning sunshine.

11۔ 79 :29۔3

عقل کی سائنس تعلیم دیتی ہے کہ بشر کو ”بہتر کام کرنے کے لئے فکرمند ہونے“ کی ضرورت نہیں۔ یہ نیک کام کرنے کی تھکاوٹ کو ختم کر دیتا ہے۔ خیرات دینا ہمیں ہمارے خالق کی خدمت میں مفلس نہیں بناتا، نہ ہی اِسے روکنا ہمیں دولتمند بناتا ہے۔سچائی سے متعلق ہماری سمجھ کے تناسب میں ہمارے اندر قوت ہے اور ہماری طاقت سچائی کو اظہار دینے سے کم نہیں ہوتی۔

11. 79 : 29-3

Mind-science teaches that mortals need "not be weary in well doing." It dissipates fatigue in doing good. Giving does not impoverish us in the service of our Maker, neither does withholding enrich us. We have strength in proportion to our apprehension of the truth, and our strength is not lessened by giving utterance to truth.

12۔ 518 :15۔23

روح کے امیراعلیٰ بھائی چارے میں،ایک ہی اصول یا باپ رکھتے ہوئے، غریبوں کی مدد کرتے ہیں اور مبارک ہے وہ شخص جودوسرے کی بھلائی میں اپنی بھلائی دیکھتے ہوئے، اپنے بھائی کی ضرورت دیکھتا اور پوری کرتا ہے۔ محبت کمزور روحانی خیال کو طاقت، لافانیت اور بھلائی عطا کرتی ہے جو سب میں ایسے ہی روشن ہوتی ہے جیسے شگوفہ ایک کونپل میں روشن ہوتا ہے۔خدا سے متعلق تمام تر مختلف اظہارات صحت، پاکیزگی، لافانیت، لامحدود زندگی، سچائی اور محبت کی عکاسی کرتے ہیں۔

12. 518 : 15-23

The rich in spirit help the poor in one grand brotherhood, all having the same Principle, or Father; and blessed is that man who seeth his brother's need and supplieth it, seeking his own in another's good. Love giveth to the least spiritual idea might, immortality, and goodness, which shine through all as the blossom shines through the bud. All the varied expressions of God reflect health, holiness, immortality — infinite Life, Truth, and Love.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████