اتوار 13 اکتوبر، 2019 |

اتوار 13 اکتوبر، 2019



مضمون۔ کیا گناہ، بیماری اور موت حقیقی ہیں؟

SubjectAre Sin, Disease, and Death Real?

سنہری متن:سنہری متن: امثال 12 باب 28آیت

’’صداقت کی راہ میں زندگی ہے اور اْس کے راستے میں ہر گز موت نہیں۔‘‘



Golden Text: Proverbs 12 : 28

In the way of righteousness is life; and in the pathway thereof there is no death.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور 51: 1، 10تا13، 15 آیات


1۔ اے خدا اپنی شفقت کے مطابق مجھ پر رحم کر۔ اپنی رحمت کی کثرت کے مطابق میری خطائیں مِٹا۔

10۔ اے خدا میرے اندر پاک دل پیدا کر اور میرے باطن میں از سرے نو مستقیم روح ڈال۔

11۔ مجھے اپنے حضور سے خارج نہ کر۔ اور اپنی روح کو مجھ سے جدا نہ کر۔

12۔ اپنی نجات کی شادمانی مجھے پھر عنایت کر اور مستعد روح سے مجھے سنبھال۔

13۔ تب میں خطاکاروں کوتیری راہیں سکھاؤں گا اور گناہگار تیری طرف رجوع کریں گے۔

15۔ اے خداوند! میرے ہونٹوں کو کھول دے تو میرے منہ سے تیری تعریف نکلے گی۔

Responsive Reading: Psalm 51 : 1, 10-13, 15

1.     Have mercy upon me, O God, according to thy lovingkindness: according unto the multitude of thy tender mercies blot out my transgressions.

10.     Create in me a clean heart, O God; and renew a right spirit within me.

11.     Cast me not away from thy presence; and take not thy holy spirit from me.

12.     Restore unto me the joy of thy salvation; and uphold me with thy free spirit.

13.     Then will I teach transgressors thy ways; and sinners shall be converted unto thee.

15.     O Lord, open thou my lips; and my mouth shall shew forth thy praise.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ یرمیاہ 31باب 33 (یہ) تا34 آیات

33۔۔۔۔ یہ وہ عہد ہے جو میں اْن دنوں کے بعد اسرائیل کے گھرانے سے باندھوں گا۔ خداوند فرماتا ہے میں اپنی شریعت اْن کے باطن میں رکھوں گا اور اْن کے دل پر اْسے لکھوں گا اور میں اْن کا خدا ہوں گا اور وہ میرے لوگ ہوں گے۔

34۔ اور وہ پھر اپنے اپنے پڑوسی اور اپنے اپنے بھائی کو یہ کہہ کر تعلیم نہیں دیں گے کہ خداوند کو پہچانوکیونکہ چھوٹے سے بڑے تک وہ سب مجھے جانیں گے خداوند فرماتا ہے اس لئے کہ میں اْن کی بدکاری کوبخش دوں گا اور اْن کے گناہ کو یاد نہ کروں گا۔

1. Jeremiah 31 : 33 (this)-34

33     …this shall be the covenant that I will make with the house of Israel; After those days, saith the Lord, I will put my law in their inward parts, and write it in their hearts; and will be their God, and they shall be my people.

34     And they shall teach no more every man his neighbour, and every man his brother, saying, Know the Lord: for they shall all know me, from the least of them unto the greatest of them, saith the Lord: for I will forgive their iniquity, and I will remember their sin no more.

2۔ لوقا 19باب1 (یسوع) تا 10 آیات

1۔ وہ یریحو میں داخل ہو کر جا رہا تھا۔

2۔ اور دیکھو زکائی نام ایک آدمی تھا جو محصول لینے والوں کا سردار اور دولت مند تھا۔

3۔ وہ یسوع کو دیکھنے کی کوشش کرتا تھا کہ کون سا ہے لیکن بھیڑ کے سبب سے دیکھ نہ سکتا تھا۔ ا سلئے کہ اْس کا قد چھوٹا تھا۔

4۔ پس اْسے دیکھنے کے لئے آگے دوڑ کر ایک گولڑ کے پیڑ پر چڑھ گیا کیو نکہ وہ اْسی راہ سے جانے کو تھا۔

5۔ جب یسوع اْس جگہ پہنچا تو اوپر نگاہ کر کے کہا اے زکائی جلد اتر آ کیونکہ آج مجھے تیرے گھر رہنا ضرور ہے۔

6۔ وہ جلد اْتر کر اْس کو خوشی سے اپنے گھر لے گیا۔

7۔ جب لوگوں نے یہ دیکھا تو سب بڑ بڑاکر کہنے لگے کہ یہ تو ایک گناہگار شخص کے ہاں جا اترا۔

8۔ اور زکائی نے کھڑے ہو کر خداوند سے کہا دیکھ میں اپنا آدھا مال غریبوں کو دیتا ہوں اور اگر کسی سے کچھ ناحق لیا ہے تو اْس کو چوگنا ادا کرتا ہوں۔

9۔ یسوع نے اْس سے کہا آج اس گھر میں نجات آئی ہے۔ اس لئے کہ یہ بھی ابراہام کا بیٹا ہے۔

10۔ کیونکہ ابن آدم کھوئے ہوؤں کو ڈھونڈنے اور نجات دینے آیا ہے۔

2. Luke 19 : 1 (Jesus)-10

1     Jesus entered and passed through Jericho.

2     And, behold, there was a man named Zacchæus, which was the chief among the publicans, and he was rich.

3     And he sought to see Jesus who he was; and could not for the press, because he was little of stature.

4     And he ran before, and climbed up into a sycomore tree to see him: for he was to pass that way.

5     And when Jesus came to the place, he looked up, and saw him, and said unto him, Zacchæus, make haste, and come down; for to day I must abide at thy house.

6     And he made haste, and came down, and received him joyfully.

7     And when they saw it, they all murmured, saying, That he was gone to be guest with a man that is a sinner.

8     And Zacchæus stood, and said unto the Lord; Behold, Lord, the half of my goods I give to the poor; and if I have taken any thing from any man by false accusation, I restore him fourfold.

9     And Jesus said unto him, This day is salvation come to this house, forsomuch as he also is a son of Abraham.

10     For the Son of man is come to seek and to save that which was lost.

3۔ متی 4باب23 (یسوع) تا 25 آیات

23۔ اور یسوع تمام گلیل میں پھرتا رہا اور اْن کے عبادت خانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا اور لوگوں کی ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری کو دور کرتا رہا۔

24۔ اور اْس کی شہرت تمام سوریہ میں پھیل گئی اور لوگ سب بیماروں کو جو طرح طرح کی بیماریوں اور تکلیفوں میں گرفتار تھے اور اْن کو جن میں بدروحیں تھیں او ر مرگی والوں اور مفلوجوں کو اْس کے پاس لائے اور اْس نے اْن کو اچھا کیا۔

25۔ اور گلیل اور دکپلْس اور یروشلیم اور یردن کے پار بڑی بھیڑ اْس کے پیچھے ہو لی۔

3. Matthew 4 : 23 (Jesus)-25

23     Jesus went about all Galilee, teaching in their synagogues, and preaching the gospel of the kingdom, and healing all manner of sickness and all manner of disease among the people.

24     And his fame went throughout all Syria: and they brought unto him all sick people that were taken with divers diseases and torments, and those which were possessed with devils, and those which were lunatick, and those that had the palsy; and he healed them.

25     And there followed him great multitudes of people from Galilee, and from Decapolis, and from Jerusalem, and from Judæa, and from beyond Jordan.

4۔ یوحنا 21 باب4 (جب) تا 14 آیات

1۔۔۔۔صبح ہوتے ہی یسوع کنارے پر آکھڑا ہوا مگر شاگردوں نے نہ پہچانا کہ یہ یسوع ہے۔

5۔پس یسوع نے ان سے کہا بچو!تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے؟انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔

6۔ اُس نے اُن سے کہا کشتی کی دہنی طرف جال ڈالو تو پکڑوگے۔ پس اُنہوں نے ڈالا اور مَچھلیوں کی کثرت سے پھر کھینچ نہ سکے۔

7۔ اِس لئے اُس شاگرد نے جس سے یسوع محبت رکھتا تھا پطرس سے کہا کہ یہ تو خداوند ہے۔ پس شمعون پطرس نے یہ سن کر خداوند ہے کرتہ کمر باندھا کیونکہ ننگا تھا اور جھیل میں کود پڑا۔

8۔اور باقی شاگرد چھوٹی کشتی پر سوار مَچھلیوں کا جال کھینچتے ہوئے آئے کیونکہ وہ کنارے سے کچھ دور نہ تھے بلکہ تخمینہ دوسو ہاتھ کا فاصلہ تھا۔

9۔جس وقت کنارے پر اترے تو اُنہوں نے کوئلوں کی آگ اور اُس پر مَچھلی رکھّی ہوئی اور روٹی دیکھی۔

10۔ یسوع نے اُن سے کہا جو مچھلیاں تم نے ابھی پکڑی ہیں اُن میں سے کچھ لاؤ۔

11۔شمعون پطرس نے چڑھ کر ایک سوترپن بڑی مَچھلیوں سے بھرا ہوا جال کنارے پر کھینچا مگر باوجود مَچھلیوں کی کثرت کے جال نہ پھٹا۔

12۔ یسوع نے اُن سے کہا آؤ کھانا کھالو اور شاگرودں میں سے کسی کو جرات نہ ہوئی کہ اُس سے پوچھتا کہ تو کون ہے؟کیونکہ وہ جانتے تھے کہ خداوند ہی ہے۔

13۔ یسوع آیا اور روٹی لے کر انہیں دی۔ اسی طرح مَچھلی بھی دی۔

14۔ یسوع مردوں میں سے جی اٹھنے کے بعد یہ تیسری بار شاگردوں پر ظاہر ہوا۔

4. John 21 : 4 (when)-14

4     …when the morning was now come, Jesus stood on the shore: but the disciples knew not that it was Jesus.

5     Then Jesus saith unto them, Children, have ye any meat? They answered him, No.

6     And he said unto them, Cast the net on the right side of the ship, and ye shall find. They cast therefore, and now they were not able to draw it for the multitude of fishes.

7     Therefore that disciple whom Jesus loved saith unto Peter, It is the Lord. Now when Simon Peter heard that it was the Lord, he girt his fisher’s coat unto him, (for he was naked,) and did cast himself into the sea.

8     And the other disciples came in a little ship; (for they were not far from land, but as it were two hundred cubits,) dragging the net with fishes.

9     As soon then as they were come to land, they saw a fire of coals there, and fish laid thereon, and bread.

10     Jesus saith unto them, Bring of the fish which ye have now caught.

11     Simon Peter went up, and drew the net to land full of great fishes, an hundred and fifty and three: and for all there were so many, yet was not the net broken.

12     Jesus saith unto them, Come and dine. And none of the disciples durst ask him, Who art thou? knowing that it was the Lord.

13     Jesus then cometh, and taketh bread, and giveth them, and fish likewise.

14     This is now the third time that Jesus shewed himself to his disciples, after that he was risen from the dead.

5۔ زبور 116: 1تا9 آیات

1۔ میں خداوند سے محبت رکھتا ہوں کیونکہ اْس نے میری فریاد سنی اور میری منت سنی ہے۔

2۔ چونکہ اْس نے میری طرف اپنا کان لگایا۔اس لئے میں عمر بھر اْس سے دعا کروں گا۔

3۔ موت کی رسیوں نے مجھے جکڑ لیا اور پاتال کے درد مجھ پر آپڑے۔ مَیں دْکھ اورغم میں گرفتار ہوا۔

4۔ تب مَیں نے خداوند سے دعا کی کہ اے خداوند! میں تیری منت کرتا ہوں میری جان کو رہائی بخش۔

5۔ خداوند صادق اور کریم ہے۔ ہمارا خداوند رحیم ہے۔

6۔ خداوند سادہ لوگوں کی حفاظت کرتا ہے۔ میں پست ہو گیا تھا اْسی نے بچالیا۔

7۔ اے میری جان پھر مطمئن ہو کیونکہ خداوند نے تجھ پر احسان کیا ہے۔

8۔اس لئے کہ تْو نے میری جان کو موت سے،میری آنکھوں کو آنسوبہانے سے اور میرے پاؤں کو پھسلنے سے بچایا ہے۔

9۔ میں زندوں کی زمین میں خداوند کے حضور چلتا رہوں گا۔

5. Psalm 116 : 1-9

1     I love the Lord, because he hath heard my voice and my supplications.

2     Because he hath inclined his ear unto me, therefore will I call upon him as long as I live.

3     The sorrows of death compassed me, and the pains of hell gat hold upon me: I found trouble and sorrow.

4     Then called I upon the name of the Lord; O Lord, I beseech thee, deliver my soul.

5     Gracious is the Lord, and righteous; yea, our God is merciful.

6     The Lord preserveth the simple: I was brought low, and he helped me.

7     Return unto thy rest, O my soul; for the Lord hath dealt bountifully with thee.

8     For thou hast delivered my soul from death, mine eyes from tears, and my feet from falling.

9     I will walk before the Lord in the land of the living.

6۔ مکاشفہ 21 باب1تا4 آیات

1۔ پھر میں نے ایک نیا آسمان اور نئی زمین کو دیکھا کیونکہ پہلا آسمان اور پہلی زمین جاتی رہی تھی اور سمندر بھی نہ رہا۔

2۔ پھر میں نے شہرِ مقدس یروشلیم کو آسمان پر سے خدا کے پاس سے اترتے دیکھا اور وہ اْس دلہن کی مانند آراستہ تھا جس نے اپنے شوہر کے لئے شنگھار کیا ہو۔

3۔ پھر میں نے تخت میں سے کسی کو بلند آواز سے یہ کہتے سنا کہ دیکھ خدا کا خیمہ آدمیوں کے درمیان ہے اور وہ اْن کے ساتھ سکونت کرے گا اور وہ اْس کے لوگ ہوں گے اور خدا آپ اْن کے ساتھ رہے گا اور اْن کا خدا ہوگا۔

4۔ اور وہ اْن کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا۔ اس کے بعد نہ موت رہے گی نہ ماتم رہے گا۔ نہ آہ و نالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔

6. Revelation 21 : 1-4

And I saw a new heaven and a new earth: for the first heaven and the first earth were passed away; and there was no more sea.

2     And I John saw the holy city, new Jerusalem, coming down from God out of heaven, prepared as a bride adorned for her husband.

3     And I heard a great voice out of heaven saying, Behold, the tabernacle of God is with men, and he will dwell with them, and they shall be his people, and God himself shall be with them, and be their God.

4     And God shall wipe away all tears from their eyes; and there shall be no more death, neither sorrow, nor crying, neither shall there be any more pain: for the former things are passed away.



سائنس اور صح


1۔ 99 :23۔29

سچی روحانیت کے پْر سکون، مضبوط دھارے، جن کے اظہار صحت، پاکیزگی اور خود کار قربانی ہیں، اِنہیں اْس وقت تک انسانی تجربے کو گہرا کرنا چاہئے جب تک مادی وجودیت کے عقائد واضح مسلط ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے اور گناہ، بیماری اور موت روحانی الوہیت کے سائنسی اظہاراور خدا کے روحانی، کامل انسان کو جگہ فراہم نہیں کرتے۔

1. 99 : 23-29

The calm, strong currents of true spirituality, the manifestations of which are health, purity, and self-immolation, must deepen human experience, until the beliefs of material existence are seen to be a bald imposition, and sin, disease, and death give everlasting place to the scientific demonstration of divine Spirit and to God's spiritual, perfect man.

2۔ 248 :26۔32

ہمیں خیالات میں کامل نمونے بنانے چاہئیں اور اْن پر لگاتار غور کرنا چاہئے، وگرنہ ہم انہیں کبھی عظیم اور شریفانہ زندگیوں میں نقش نہیں کر سکتے۔ ہمارے اندر بے غرضی، اچھائی، رحم، عدل، صحت، پاکیزگی، محبت، آسمان کی بادشاہی کو سلطنت کرنے دیں اور گناہ، بیماری اور موت تلف ہونے تک کم ہوتے جائیں گے۔

2. 248 : 26-32

We must form perfect models in thought and look at them continually, or we shall never carve them out in grand and noble lives. Let unselfishness, goodness, mercy, justice, health, holiness, love — the kingdom of heaven — reign within us, and sin, disease, and death will diminish until they finally disappear.

3۔ 166 :23۔32

علم الحیات اور حفظان صحت کے فروغ کے وسیلہ صحت مندی کو بحال کرنے میں ناکام ہونا، مایوس باطل اکثر اْنہیں ترک کردیتا ہے، اور اپنی انتہا میں اور صرف بطور آخری قیام گاہ، وہ خدا کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ ادویات، ہوا اور تجربے پریقین کی نسبت باطل کا الٰہی عقل پر یقین کم ہوتا ہے، وگرنہ وہ پہلے عقل سے بحال ہوجاتا۔ زیادہ تر طبی نظاموں کی جانب سے قوت کا توازن مادے کی بدولت تسلیم کیا جاتا ہے؛ لیکن جب عقل کم از کم اپنی مہارت کاگناہ، بیماری اور موت پر دعویٰ کرتی ہے، تبھی انسان ہم آہنگ اور لافانی پایا جاتا ہے۔

3. 166 : 23-32

Failing to recover health through adherence to physiology and hygiene, the despairing invalid often drops them, and in his extremity and only as a last resort, turns to God. The invalid's faith in the divine Mind is less than in drugs, air, and exercise, or he would have resorted to Mind first. The balance of power is conceded to be with matter by most of the medical systems; but when Mind at last asserts its mastery over sin, disease, and death, then is man found to be harmonious and immortal.

4۔ 317 :16۔23

انسان کی انفرادیت کم ٹھوس نہیں ہے کیونکہ یہ روحانی ہے اور کیونکہ اْس کی زندگی مادے کے رحم و کرم پر نہیں ہے۔ خود کی روحانیت انفرادیت کا ادراک انسان کو مزید حقیقی، سچائی میں مزید مضبوط بناتا ہے اور اْسے گناہ، بیماری اور موت کو فتح کرنے کے قابل بناتا ہے۔ قبر میں سے جی اٹھنے کے بعد ہمارے خداوند اور مالک نے خود کو اپنے شاگردوں پر ہو بہو اْسی یسوع کے طور پر پیش کیا جسے وہ کلوری کے سانحہ سے پہلے پیار کرتے تھے۔

4. 317 : 16-23

The individuality of man is no less tangible because it is spiritual and because his life is not at the mercy of matter. The understanding of his spiritual individuality makes man more real, more formidable in truth, and enables him to conquer sin, disease, and death. Our Lord and Master presented himself to his disciples after his resurrection from the grave, as the self-same Jesus whom they had loved before the tragedy on Calvary.

5۔ 494 :15 (یسوع)۔24

یسوع نے مادیت کی نااہلیت کو اس کے ساتھ ساتھ روح کی لامحدود قابلیت کو ظاہر کیا، یوں غلطی کرنے والے انسانی فہم کو خود کی سزاؤں سے بھاگنے اور الٰہی سائنس میں تحفظ تلاش کرنے میں مدد کی۔ مناسب ہدایت کی گئی وجہ جسمانی حس کی غلطی کو سدھارنے کا کام کرتی ہے، لیکن جب تک انسان کی ابدی ہم آہنگی کی سائنس سائنسی ہستی کی مْتصل حقیقت کے ذریعے اْن کی فریب نظری کو ختم نہیں کرتی گناہ، بیماری اور موت حقیقی ہی نظر آتے رہیں گے (جیسا کہ سوتے ہوئے خوابوں کے تجربات حقیقی دکھائی دیتے ہیں)۔

5. 494 : 15 (Jesus)-24

Jesus demonstrated the inability of corporeality, as well as the infinite ability of Spirit, thus helping erring human sense to flee from its own convictions and seek safety in divine Science. Reason, rightly directed, serves to correct the errors of corporeal sense; but sin, sickness, and death will seem real (even as the experiences of the sleeping dream seem real) until the Science of man's eternal harmony breaks their illusion with the unbroken reality of scientific being. 

6۔ 429 :31۔11

یسوع نے کہا (یوحنا 8 باب51 آیت)، ”اگر کوئی شخص میرے کلام پر عمل کرے گا تو ابدتک کبھی موت کو نہ دیکھے گا۔“ یہ بیان روحانی زندگی تک محدود نہیں، بلکہ اس میں وجودیت کا کرشمہ بھی شامل ہے۔ یسوع نے اس کا اظہار مرنے والے کو شفا دیتے اور مردہ کو زندہ کرتے ہوئے کیا۔ فانی عقل کو غلطی سے دور ہونا چاہئے، خود کو اس کے کاموں سے الگ رکھنا چاہئے تو لافانی جوان مردی، مثالی مسیح، غائب ہو جائے گا۔ مادے کی بجائے روح پر انحصار کرتے ہوئے ایمان کو اپنی حدود کو وسیع کرنا اور اپنی بنیاد کو مضبوط کرنا چاہئے۔ جب انسان موت پر اپنے یقین کو ترک کر دیتا ہے،وہ مزید تیزی سے خدا، زندگی اور محبت کی جانب بڑھے گا۔ بیماری اور موت پر یقین، یقیناً گناہ پر یقین کی مانند، زندگی اور صحت مندی کے سچے فہم کو بند کرنے کی جانب رجوع کرتا ہے۔

6. 429 : 31-11

Jesus said (John viii. 51), "If a man keep my saying, he shall never see death." That statement is not confined to spiritual life, but includes all the phenomena of existence. Jesus demonstrated this, healing the dying and raising the dead. Mortal mind must part with error, must put off itself with its deeds, and immortal manhood, the Christ ideal, will appear. Faith should enlarge its borders and strengthen its base by resting upon Spirit instead of matter. When man gives up his belief in death, he will advance more rapidly towards God, Life, and Love. Belief in sickness and death, as certainly as belief in sin, tends to shut out the true sense of Life and health.

7۔ 543 :8۔16

الٰہی سائنس میں، مادی انسان خدا کی حضوری سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔ پانچ مادی جسمانی حواس روح کی پہچان نہیں کر سکتے۔ وہ اْس کی حضوری میں نہیں آسکتے، اور انہیں خوابوں کی دنیا میں ہی رہنا پڑتا ہے، جب تک بشر اس ادراک تک نہیں پہنچتے کہ مادی زندگی، اپنے تمام تر گناہ، بیماری اورموت کے ساتھ، ایک فریب نظری ہے، الٰہی سائنس جس کے خلاف ایک خاتمے کے محاذ میں شامل ہے۔ وجودیت کی بڑی حقیقتیں غلطی کے باعث کبھی خارج نہیں کیں جاتیں۔

7. 543 : 8-16

In divine Science, the material man is shut out from the presence of God. The five corporeal senses cannot take cognizance of Spirit. They cannot come into His presence, and must dwell in dreamland, until mortals arrive at the understanding that material life, with all its sin, sickness, and death, is an illusion, against which divine Science is engaged in a warfare of extermination. The great verities of existence are never excluded by falsity.

8۔ 395 :6۔14

ایک بڑے نمونے کی مانند،روح کو جسمانی حواس کی جھوٹی گواہیوں پر حکومت کرنے اور بیماری اور فانیت پر دعووں کو جتانے کے لئے آزاد کرتے ہوئے، شفا دینے والے کو بیماری کے ساتھ بات کرنی چاہئے کیونکہ اْسے اْس پر اختیا رحاصل ہے۔ یہی اصول گناہ اور بیماری کو شفا دیتا ہے۔ جب الٰہی سائنس نفسانی سوچ کے ایمان پر اور اس ایمان پر قابو پا لیتی ہے کہ خدا پر یقین گناہ اور مادی شفائیہ طریقوں پر یقین کو نیست کردیتا ہے، تو گناہ، بیماری اور موت غائب ہو جائیں گے۔

8. 395 : 6-14

Like the great Exemplar, the healer should speak to disease as one having authority over it, leaving Soul to master the false evidences of the corporeal senses and to assert its claims over mortality and disease. The same Principle cures both sin and sickness. When divine Science overcomes faith in a carnal mind, and faith in God destroys all faith in sin and in material methods of healing, then sin, disease, and death will disappear.

9۔ 253 :9۔17

عزیز قارین، مجھے امید ہے کہ میں آپ کوآپ کے الٰہی حقوق کے فہم، آپ کی آسمانی عطاکردہ ہم آہنگی کی جانب راہنمائی دے رہا ہوں، تاکہ جب آپ یہ پڑھیں تو آپ دیکھیں کہ ایسی کوئی وجہ (غلطی کرنے کے علاوہ، کوئی مادی حس جس میں کوئی قوت نہیں ہے)اس قابل نہیں ہے کہ آپ کو بیمار یا گناہگار بنا سکے؛ اور مجھے امید ہے کہ آپ اس جھوٹی سوچ پر فتح پا رہے ہیں۔ نام نہاد مادی حس کے جھوٹ کو جانتے ہوئے آپ گناہ، بیماری یاموت کے عقیدے پرفتح پانے والے اپنے استحقاق کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔

9. 253 : 9-17

I hope, dear reader, I am leading you into the understanding of your divine rights, your heaven-bestowed harmony, — that, as you read, you see there is no cause (outside of erring, mortal, material sense which is not power) able to make you sick or sinful; and I hope that you are conquering this false sense. Knowing the falsity of so-called material sense, you can assert your prerogative to overcome the belief in sin, disease, or death.

10۔ 572 :19۔25

مکاشفہ 21باب1 آیت میں ہم پڑھتے ہیں:

”پھر میں نے ایک نیا آسمان اور نئی زمین کو دیکھا کیونکہ پہلا آسمان اور پہلی زمین جاتی رہی تھی اور سمندر بھی نہ رہا۔“

انکشاف کرنے والا ابھی موت کہلانے والے انسانی تجربے کے تبدیل شْدہ مرحلے میں سی ابھی نہیں گزرا تھا، لیکن اْس نے پہلے ہی نئے آسمان اور نئی زمین کو دیکھ لیا ہے۔

10. 572 : 19-25

In Revelation xxi. 1 we read: —

And I saw a new heaven and a new earth: for the first heaven and the first earth were passed away; and there was no more sea.

The Revelator had not yet passed the transitional stage in human experience called death, but he already saw a new heaven and a new earth.

11۔ 573 :19 (مقدس)۔2

کیونکہ آسمان اور زمین سے متعلق مقدس یوحنا کی جسمانی حس غائب ہو چکی تھی، اور اس جھوٹی حس کی جگہ روحانی حس آگئی تھی، جو ایسی نفسی حالت تھی جس کے وسیلہ وہ نئے آسمان اور نئی زمین کو دیکھ سکتاتھا، جس میں روحانی خیال اور حقیقت کا شعور شامل ہے۔ یہ کلام کا اختیار یہ نتیجہ اخذ کرنے کے لئے تھا کہ ہستی کی ایسی شناخت اس وجودیت کی موجودہ حالت میں انسان کے لئے ممکن ہے اور رہی تھی، کہ ہم موت، دْکھ اور درد کے آرام سے یہاں اور ابھی باخبر ہو سکتے ہیں۔ یہ قطعی کرسچن سائنس کی چاشنی ہے۔ برداشت کرنے والے عزیزو، حوصلہ کریں، کیونکہ ہستی کی یہ حقیقت یقینا کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی صورت میں سامنے آئے گی۔ کوئی درد نہیں ہوگا، اور سب آنسو پونچھ دئیے جائیں گے۔ جب آپ یہ پڑھیں تو یسوع کے ان الفاظ کو یاد رکھیں، ”خدا کی بادشاہی تمہارے درمیان ہے۔“اسی لئے یہ روحانی شعور موجودہ امکان ہے۔

11. 573 : 19 (St.)-2

St. John's corporeal sense of the heavens and earth had vanished, and in place of this false sense was the spiritual sense, the subjective state by which he could see the new heaven and new earth, which involve the spiritual idea and consciousness of reality. This is Scriptural authority for concluding that such a recognition of being is, and has been, possible to men in this present state of existence, — that we can become conscious, here and now, of a cessation of death, sorrow, and pain. This is indeed a foretaste of absolute Christian Science. Take heart, dear sufferer, for this reality of being will surely appear sometime and in some way. There will be no more pain, and all tears will be wiped away. When you read this, remember Jesus' words, "The kingdom of God is within you." This spiritual consciousness is therefore a present possibility.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████