اتوار 13 جون،2021



مضمون۔ خدا محافظِ انسان

SubjectGod the Preserver of Man

سنہری متن: زبور 121:8آیت

”خداوند تیری آمدو رفت میں اب سے ہمیشہ تک تیری حفاظت کرے گا۔“



Golden Text: Psalm 121 : 8

The Lord shall preserve thy going out and thy coming in from this time forth, and even for evermore.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور16،1، 8، 9آیات • 2 سیموئیل 22 باب33 آیت • 2 تواریخ 16 باب 9آیت • 1 سلاطین 8باب61 آیت


1۔ اے خدا! میری حفاظت کر کیونکہ مَیں تجھ ہی میں پناہ لیتا ہوں۔

8۔ مَیں نے خداوند کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھا۔ چونکہ وہ میرے داہنے ہاتھ ہے اِس لئے مجھے جنبش نہ ہوگی۔

9۔ اِسی سبب سے میرا دل خوش اور میری روح شادمان ہے۔ میرا جسم بھی امن و امان میں رہے گا۔

33۔ خداوند میرا مضبوط قلعہ ہے۔ وہ اپنی راہ میں کامل شخص کی راہنمائی کرتا ہے۔

9۔ کیونکہ خداوند کی آنکھیں ساری زمین پر پھرتی ہیں تاکہ وہ اْن کی امداد میں جن کا دل اْس کی طرف کامل ہے اپنے تئیں قوی دکھائے۔

61۔ سو تمہارا دل آج کی طرح خداوند ہمارے خدا کے ساتھ اْس کے آئین پر چلنے اور اْس کے حکموں کو ماننے کے لئے کامل رہے۔

Responsive Reading: Psalm 16 : 1, 8, 9; II Samuel 22 : 33; II Chronicles 16 : 9; I Kings 8 : 61

1.     Preserve me, O God: for in thee do I put my trust.

8.     I have set the Lord always before me: because he is at my right hand, I shall not be moved.

9.     Therefore my heart is glad, and my glory rejoiceth: my flesh also shall rest in hope.

33.     God is my strength and power: and he maketh my way perfect.

9.     For the eyes of the Lord run to and fro throughout the whole earth, to shew himself strong in the behalf of them whose heart is perfect toward him.

61.     Let your heart therefore be perfect with the Lord our God, to walk in his statutes, and to keep his commandments.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ استثنا 32 باب3 (بیان کرو)، 4 (تا پہلا) آیات

3۔ ۔۔۔تم ہمارے خدا کی تعظیم کرو۔

4۔ وہی چٹان ہے۔ اْس کی صنعت کامل ہے۔

1. Deuteronomy 32 : 3 (ascribe), 4 (to 1st :)

3     …ascribe ye greatness unto our God.

4     He is the Rock, his work is perfect:

2۔ زبور 37: 37 آیت

37۔ کامل آدمی پر نگاہ کر اور راستباز کو دیکھ کیونکہ صلح دوست آدمی کے لئے اجر ہے۔

2. Psalm 37 : 37

37     Mark the perfect man, and behold the upright: for the end of that man is peace.

3۔ ایوب 1 باب1، 6تا9 (تا دوسرا)، 11، 12، 14،(تادوسرا)، 16 (آگ) (تا؛)، 18 (تیرے) تا 20 آیات

1۔ عوض کی سر زمین میں ایوب نام ایک شخص تھا۔ وہ شخص کامل اور راستباز تھا اور خدا سے ڈرتا اور بدی سے دور رہتا تھا۔

6۔ اور ایک دن خدا کے بیٹے آئے کہ خداوند کے حضور حاضر ہوں اور اْن کے درمیان شیطان بھی آیا۔

7۔ اور خداوند نے شیطان سے پوچھا کہ تْو کہاں سے آتا ہے؟ شیطان نے خداوند کو جواب دیا کہ زمین پر ادھر اْدھر گھومتاپھرتا اور اْس میں سیر کرتا ہوا آیا ہوں۔

8۔خداوند نے شیطان سے کہا کیا تْو نے میرے بندے ایوب کے حال پر بھی کچھ غور کیا؟ کیونکہ زمین پر اْس کی طرح کامل اور راستباز آدمی جو خدا سے ڈرتا اور بدی سے دور رہتا ہو کوئی نہیں۔

9۔ شیطان نے خداوند کو یوں جواب دیا اور کہا۔

11۔ پر تْو ذرا اپنا ہاتھ بڑھا کر جو کچھ اْس کا ہے اْسے چھو ہی دے تو کیا وہ تیرے منہ پر تیری تکفیر نہ کرے گا؟

12۔ خداوند نے شیطان سے کہا دیکھ اْس کا سب کچھ تیرے اختیار میں ہے۔ صرف اْس کو ہاتھ نہ لگانا۔ تب شیطان خداوند کے سامنے سے چلا گیا۔

14۔ تو ایک قاصد نے ایوب کے پاس آکر کہا۔

16۔ خدا کی آگ آسمان سے نازل ہوئی اور بھیڑوں اور نوکروں کو جلا کر بھسم کر دیا۔

18۔ تیرے بیٹے بیٹیاں اپنے بڑے بھائی کے گھر میں کھانا کھا رہے اور مے نوشی کر رہے تھے۔

19۔ اور دیکھ! بیابان سے ایک بڑی آندھی چلی اور اْس گھر کے چاروں کونوں پر ایسے زور سے ٹکرائی کہ وہ اْن جوانوں پر گر پڑا اور وہ مر گئے اور فقط مَیں ہی اکیلا بچ نکلا کہ تجھے خبر دوں۔

20۔ تب ایوب نے اْٹھ کر اپنا پیراہن چاک کیا اور سر مْنڈایا اور زمین پر گر کر سجدہ کیا۔

3. Job 1 : 1, 6-9 (to 2nd ,), 11, 12, 14 (to 2nd ,), 16 (The fire) (to ;), 18 (Thy)-20

1     There was a man in the land of Uz, whose name was Job; and that man was perfect and upright, and one that feared God, and eschewed evil.

6     Now there was a day when the sons of God came to present themselves before the Lord, and Satan came also among them.

7     And the Lord said unto Satan, Whence comest thou? Then Satan answered the Lord, and said, From going to and fro in the earth, and from walking up and down in it.

8     And the Lord said unto Satan, Hast thou considered my servant Job, that there is none like him in the earth, a perfect and an upright man, one that feareth God, and escheweth evil?

9     Then Satan answered the Lord, and said,

11     But put forth thine hand now, and touch all that he hath, and he will curse thee to thy face.

12     And the Lord said unto Satan, Behold, all that he hath is in thy power; only upon himself put not forth thine hand. So Satan went forth from the presence of the Lord.

14     And there came a messenger unto Job, and said,

16     The fire of God is fallen from heaven, and hath burned up the sheep, and the servants, and consumed them;

18     Thy sons and thy daughters were eating and drinking wine in their eldest brother’s house:

19     And, behold, there came a great wind from the wilderness, and smote the four corners of the house, and it fell upon the young men, and they are dead; and I only am escaped alone to tell thee.

20     Then Job arose, and rent his mantle, and shaved his head, and fell down upon the ground, and worshipped,

4۔ ایوب 2 باب 3(تا پہلا)، 3 (تو بھی) (تا)، 4 (تا دوسرا)، 5تا7، 11، 13 (کے لئے) آیات

3۔ خداوند نے شیطان سے کہا۔۔۔ تو بھی وہ اپنی راستی پر قائم ہے۔

4۔ شیطان نے خداوند کو جواب دیا اور کہا۔

5۔ اب فقط اپنا ہاتھ بڑھا کر اْس کی ہڈی اور اْس کے گوشت کو چھو دے تو وہ تیرے منہ پر تیری تکفیر کرے گا۔

6۔ خداوند نے شیطان سے کہا کہ دیکھ وہ تیرے اختیار میں ہے۔ فقط اْس کی جان محفوظ رہے۔

7۔ تب شیطان خداوند کے سامنے سے چلا گیا اور ایوب کو تلوے سے چاند تک دردناک پھوڑوں سے دْکھ دیا۔

11۔ جب ایوب کے تین دوستوں تیمائی الیفز اور سوخی بلدد اور نعماتی ضوفر نے اْس ساری آفت کا حال جو اْس پر آئی تھی سنا تو وہ اپنی اپنی جگہ سے چلے اور اْنہوں نے آپس میں عہد کیا کہ جا کر اْس کے ساتھ روئیں اور اْسے تسلی دیں۔

13۔۔۔۔کیونکہ اْنہوں نے دیکھا کہ اْس کا غم بہت بڑا ہے۔

4. Job 2 : 3 (to 1st ,), 3 (still) (to ,), 4 (to 2nd ,), 5-7, 11, 13 (for)

3     And the Lord said unto Satan, … still he holdeth fast his integrity,

4     And Satan answered the Lord, and said,

5     But put forth thine hand now, and touch his bone and his flesh, and he will curse thee to thy face.

6     And the Lord said unto Satan, Behold, he is in thine hand; but save his life.

7     So went Satan forth from the presence of the Lord, and smote Job with sore boils from the sole of his foot unto his crown.

11     Now when Job’s three friends heard of all this evil that was come upon him, they came every one from his own place; Eliphaz the Temanite, and Bildad the Shuhite, and Zophar the Naamathite: for they had made an appointment together to come to mourn with him and to comfort him.

13     …for they saw that his grief was very great.

5۔ ایوب 3 باب 1، 3، 25 (تا) آیات

1۔ اِس کے بعد ایوب نے اپنا منہ کھول کر اپنے جنم دن پر لعنت کی۔

3۔ نابود ہو وہ دن جس میں مَیں پیدا ہوا اور وہ رات بھی جس میں کہا گیا کہ دیکھو بیٹا ہوا!

25۔کیونکہ جس بات سے مَیں ڈرتا ہوں وہی مجھ پر گزرتی ہے۔

5. Job 3 : 1, 3, 25 (to ,)

1     After this opened Job his mouth, and cursed his day.

3     Let the day perish wherein I was born, and the night in which it was said, There is a man child conceived.

25     For the thing which I greatly feared is come upon me,

6۔ ایوب 4 باب1،3، 5 آیات

1۔ تب تیمائی الیفز کہنے لگا۔

3۔ دیکھ! تْو نے بہتوں کو سکھایا اور کمزور ہاتھوں کو مضبوط کیا۔

5۔ پر اب تو تجھی پر آپڑی اور تْو بے دل ہوا جاتا ہے۔ اْس نے تجھے چھوا اور تْو گھبرا اٹھا۔

6. Job 4 : 1, 3, 5

1     Then Eliphaz the Temanite answered and said,

3     Behold, thou hast instructed many, and thou hast strengthened the weak hands.

5     But now it is come upon thee, and thou faintest; it toucheth thee, and thou art troubled.

7۔ ایوب 6باب1آیت

6۔ تب ایوب نے جواب دیا۔

7. Job 6 : 1

1     But Job answered and said,

8۔ ایوب 7باب20 آیت

20۔ اے ابنِ آدم کے ناظر! اگر مَیں نے گناہ کیا ہے تو تیرا کیا بگاڑتا ہوں؟ تْو نے مجھے کیوں اپنا نشانہ بنا لیا ہے یہاں تک کہ مَیں اپنے آپ پر بوجھ ہوں؟

8. Job 7 : 20

20     I have sinned; what shall I do unto thee, O thou preserver of men? why hast thou set me as a mark against thee, so that I am a burden to myself?

9۔ ایوب 8 باب1،3، 19، 20 آیات

1۔ تب بلدد سوخی کہنے لگا۔

3۔ کیا خدا بے انصافی کرتا ہے؟ کیا قادرِ مطلق عدل کا خون کرتا ہے؟

19۔ دیکھ! اْس کی راہ کی خوشی اتنی ہی ہے اور مٹی میں سے دوسرے اْگ آئیں گے۔

20۔ دیکھ! خدا کامل آدمی کو چھوڑ نہ دے گا۔ نہ وہ بدکرداروں کو سنبھالے گا۔

9. Job 8 : 1, 3, 19, 20

1     Then answered Bildad the Shuhite, and said,

3     Doth God pervert judgment? or doth the Almighty pervert justice?

19     Behold, this is the joy of his way, and out of the earth shall others grow.

20     Behold, God will not cast away a perfect man, neither will he help the evil doers:

10۔ ایوب 9 باب1، 20، 21 آیات

1۔ پھر ایوب نے جواب دیا۔

20۔ اگر مَیں صادق بھی ہوں تو بھی میرا ہی منہ مجھے ملزم ٹھہرائے گا۔ اگر مَیں کامل بھی ہوں تو بھی یہ مجھے کجرو ثابت کرے گا۔

21۔ مَیں کامل تو ہوں پر مَیں اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتا۔ مَیں اپنی زندگی کو حقیر جانتا ہوں۔

10. Job 9 : 1, 20, 21

1     Then Job answered and said,

20     If I justify myself, mine own mouth shall condemn me: if I say, I am perfect, it shall also prove me perverse.

21     Though I were perfect, yet would I not know my soul: I would despise my life.

11۔ ایوب 11 باب1، 6 (جان لے)، 7 آیات

1۔ تب ضوفر نعماتی نے جواب دیا۔

6۔ جان لے کہ تیری بدکاری جس لائق ہے اْس سے کم ہی خدا تجھ سے مطالبہ کرتا ہے۔

7۔ کیا تْو تلاش سے خدا کو پا سکتا ہے؟ کیا تْو قادر مطلق کا بھید کمال کے ساتھ دریافت کر سکتا ہے؟

11. Job 11 : 1, 6 (Know), 7

1     Then answered Zophar the Naamathite, and said,

6     Know therefore that God exacteth of thee less than thine iniquity deserveth.

7     Canst thou by searching find out God? canst thou find out the Almighty unto perfection?

12۔ ایوب 38 باب1تا4، 33 آیات

1۔ تب خداوند نے ایوب کو بگولے میں سے یوں جواب دیا۔

2۔ یہ کون ہے جو نادانی کی باتوں سے مصلحت پر پردہ ڈالتا ہے؟

3۔ مرد کی مانند اب اپنی کمر کس لے کیونکہ مَیں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تْو مجھے بتا۔

4۔ تْو کہاں تھا جب مَیں نے زمین کی بنیاد ڈالی؟ تْو دانشمند ہے تو بتا؟

33۔ کیا تْو آسمان کے قوانین کو جانتا ہے؟ اور زمین پر اْن کا اختیار قائم کر سکتا ہے؟

12. Job 38 : 1-4, 33

1     Then the Lord answered Job out of the whirlwind, and said,

2     Who is this that darkeneth counsel by words without knowledge?

3     Gird up now thy loins like a man; for I will demand of thee, and answer thou me.

4     Where wast thou when I laid the foundations of the earth? declare, if thou hast understanding.

33     Knowest thou the ordinances of heaven? canst thou set the dominion thereof in the earth?

13۔ ایوب 40 باب8، 10 آیات

8۔کیا تْو مجھے مجرم ٹھہرائے گا تاکہ خود راست ٹھہرے؟

10۔ اب اپنے آپ کو شان و شوکت سے آراستہ کر اور عزت و جلال سے ملبس ہوجا۔

13. Job 40 : 8, 10

8     Wilt thou also disannul my judgment? wilt thou condemn me, that thou mayest be righteous?

10     Deck thyself now with majesty and excellency; and array thyself with glory and beauty.

14۔ ایوب 42 باب1، 2،3 (اس لئے)، 5، 7، 8 (جاؤ) (تا پہلا:)، 9 (تا:)، 10، 12 (تا:) آیات

1۔تب ایوب نے خداوند کو یوں جواب دیا۔

2۔ مَیں جانتا ہوں کہ تْو سب کچھ کر سکتا ہے اور تیرا کوئی ارادہ رْک نہیں سکتا۔

3۔۔۔۔لیکن مَیں نے جو نہ سمجھا وہی کہا یعنی ایسی باتیں جو میرے لئے نہایت عجیب تھیں جن کو مَیں جانتا نہ تھا۔

5۔مَیں نے تیری خبر کان سے سنی تھی پر اب میری آنکھ تجھے دیکھتی ہے۔

7۔اور ایسا ہوا کہ خداوند جب یہ باتیں ایوب سے کہہ چکا تو اْس نے الیفز تیمائی سے کہا کہ میرا غضب تجھ پر اور تیرے دونوں دوستوں پر بھڑکا ہے کیونکہ تم نے میری بابت وہ بات نہ کہی جو حق ہے جسے میرے بندے ایوب نے نہ کہا۔

8۔۔۔۔میرے بندے ایوب کے پاس جاؤ اور اپنے لئے سوختنی قربانی گزرانو اور میرا بندہ ایوب تمہارے لئے دعا کرے گا۔

9۔ سو الیفز تیمائی اور بلدد سوخی اور ضوفر نعماتی نے جا کر جیسا خداوند نے اْن کو فرمایا تھا کیا۔

10۔ اور خداوند نے ایوب کی اسیری کو جب اْس نے اپنے دوستوں کے لئے دعا کی بدل دیا اور خداوند نے جتنا اْس کے پاس پہلے تھا اْس کا دو چند دیا۔

12۔ یوں خداوند نے ایوب کے آخری ایام میں ابتدا کی نسبت زیادہ برکت بخشی۔

14. Job 42 : 1, 2, 3 (therefore), 5, 7, 8 (go) (to 1st :), 9 (to :), 10, 12 (to :)

1     Then Job answered the Lord, and said,

2     I know that thou canst do every thing, and that no thought can be withholden from thee.

3     …therefore have I uttered that I understood not; things too wonderful for me, which I knew not.

5     I have heard of thee by the hearing of the ear: but now mine eye seeth thee.

7     And it was so, that after the Lord had spoken these words unto Job, the Lord said to Eliphaz the Temanite, My wrath is kindled against thee, and against thy two friends: for ye have not spoken of me the thing that is right, as my servant Job hath.

8     …go to my servant Job, and offer up for yourselves a burnt offering; and my servant Job shall pray for you:

9     So Eliphaz the Temanite and Bildad the Shuhite and Zophar the Naamathite went, and did according as the Lord commanded them:

10     And the Lord turned the captivity of Job, when he prayed for his friends: also the Lord gave Job twice as much as he had before.

12     So the Lord blessed the latter end of Job more than his beginning:

15۔ 2 تمیتھیس 1 باب1، 2، 7 آیات

1۔ پولوس کی طرف سے جو اْس کی زندگی کے وعدے کے موافق جو مسیح یسوع میں ہے خدا کی مرضی سے مسیح یسوع کا رسول ہے۔

2۔پیارے فرزند تمیتھیس کے نام فضل۔ رحم۔ اور اطمینان خدا باپ اور ہمارے خداوند یسوع مسیح کی طرف سے تجھے حاصل ہوتا رہے۔

7۔ کیونکہ خدا نے ہمیں دہشت کی روح نہیں بلکہ قدرت اور تربیت کی روح دی ہے۔

15. II Timothy 1 : 1, 2, 7

1     Paul, an apostle of Jesus Christ by the will of God, according to the promise of life which is in Christ Jesus,

2     To Timothy, my dearly beloved son: Grace, mercy, and peace, from God the Father and Christ Jesus our Lord.

7     For God hath not given us the spirit of fear; but of power, and of love, and of a sound mind.

16۔ 2 تمیتھیس 2 باب1 آیت

1۔ پس اے میرے فرزند! تْو اْس فضل سے جو مسیح یسوع میں ہے مضبوط بن۔

16. II Timothy 2 : 1

1     Thou therefore, my son, be strong in the grace that is in Christ Jesus.

17۔ 2 تمیتھیس 3 باب2 (تا پہلا)، 4 (عیش و عشرت کودوست رکھنے والے)، 5، 14 آیات

2۔ کیونکہ آدمی خود غرض۔

4۔۔۔۔خدا کی نسبت عیش و عشرت کو زیادہ دوست رکھنے والے ہوں گے۔

5۔ وہ دینداری کی وضع تو رکھیں گے مگر اْس کے اثر کو قبول نہ کریں گے۔ ایسوں سے بھی کنارہ کرنا۔

14۔ مگر تْو اْن باتوں پر جو تْو نے سیکھی تھیں اور جن کا یقین تجھے دلایاگیا تھا یہ جان کر قائم رہ کہ تْو نے اْنہیں کن لوگوں سے سیکھا تھا۔

17. II Timothy 3 : 2 (to 1st ,), 4 (lovers of pleasures), 5, 14

2     For men shall be lovers of their own selves,

4     …lovers of pleasures more than lovers of God;

5     Having a form of godliness, but denying the power thereof: from such turn away.

14     But continue thou in the things which thou hast learned and hast been assured of, knowing of whom thou hast learned them;

18۔ 2 کرنتھیوں 13 باب11 (کامل بنو) آیت

11۔ کامل بنو۔ خاطر جمع رکھو۔ یکدل رہو۔ میل ملاپ رکھو تو خدا محبت اور میل ملاپ کا چشمہ تمہارے ساتھ ہوگا۔

18. II Corinthians 13 : 11 (Be perfect)

11     Be perfect, be of good comfort, be of one mind, live in peace; and the God of love and peace shall be with you.



سائنس اور صح


1۔ 550 :5۔14

خدا زندگی یا ذہانت ہے جو جانوروں اور اس کے ساتھ ساتھ انسانوں کی بھی شناخت اور انفرادیت کو تشکیل دیتا اور محفوظ رکھتا ہے۔ خدا متناہی نہیں بن سکتا اور مادی حدود میں محدود نہیں ہوسکتا۔ روح مادہ نہیں بن سکتی اور نہ ہی روح اس کے مخالف کے وسیلہ ترقی پا سکتی ہے۔ اْس بدنام مادی زندگی کی تفتیش کرنے سے کیا حاصل جو ختم ہوتی ہے، بالکل ویسے ہی جیسے یہ بے نام و نشان عدم سے شروع ہوتی ہے؟ ہستی کا سچا فہم اور اِس کی کاملیت کو اب ظاہر ہونا چاہئے، جیسا کہ یہ اس کے بعد ہوگا۔

1. 550 : 5-14

God is the Life, or intelligence, which forms and preserves the individuality and identity of animals as well as of men. God cannot become finite, and be limited within material bounds. Spirit cannot become matter, nor can Spirit be developed through its opposite. Of what avail is it to investigate what is miscalled material life, which ends, even as it begins, in nameless nothingness? The true sense of being and its eternal perfection should appear now, even as it will hereafter.

2۔ 302 :14 (آئیے)۔24

۔۔۔ آئیے یاد کیجئے کہ ہم ساز اورغیر فانی انسان ہمیشہ سے موجود ہے اور بطور مادہ وجود رکھتے ہوئے کسی فانی زندگی، جوہر یا ذہانت سے ہمیشہ بلند اور پار رہتا ہے۔ یہ بیان حقیقت پر مبنی ہے نہ کہ افسانوی ہے۔ہستی کی سائنس انسان کو کامل ظاہر کرتی ہے، حتیٰ کہ جیسا کہ باپ کامل ہے، کیونکہ روحانی انسان کی جان یا عقل خدا ہے، جو تمام تر مخلوقات کا الٰہی اصول ہے، اور یہ اس لئے کہ اس حقیقی انسان پر فہم کی بجائے روح کی حکمرانی ہوتی ہے، یعنی شریعت کی روح کی، نہ کہ نام نہاد مادے کے قوانین کی۔

2. 302 : 14 (let)-24

…let us remember that harmonious and immortal man has existed forever, and is always beyond and above the mortal illusion of any life, substance, and intelligence as existent in matter. This statement is based on fact, not fable. The Science of being reveals man as perfect, even as the Father is perfect, because the Soul, or Mind, of the spiritual man is God, the divine Principle of all being, and because this real man is governed by Soul instead of sense, by the law of Spirit, not by the so-called laws of matter.

3۔ 393 :16۔18

اپنے اس فہم میں مضبوط رہیں کہ الٰہی عقل حکومت کرتی ہے اور یہ کہ سائنس میں انسان خدا کی حکومت کی عکاسی کرتا ہے۔

3. 393 : 16-18

Be firm in your understanding that the divine Mind governs, and that in Science man reflects God's government.

4۔ 14 :1۔11

اگر ہم صحیح طور پر جسم کے ساتھ ہیں اور قادر مطلق کو بطور جسم، مادی شخص دیکھتے ہیں، جس کے ہم کان حاصل کریں گے، تو ہم روح کے اظہار کے لئے ”بدن سے جْدا“ اور ”خداوند میں موجود“ نہیں ہیں۔ہم ”دو مالکوں کی غلامی“ نہیں کر سکتے۔ ”خداوند کے وطن“ میں رہنا محض جذباتی خوشی یا ایمان رکھنا نہیں بلکہ زندگی کا اصل اظہار اور سمجھ رکھنا ہے جیسا کہ کرسچن سائنس میں ظاہر کیا گیا ہے۔ ”خداوند کے وطن“ میں رہنا خدا کی شریعت کا فرمانبردار ہونا، مکمل طور پر الٰہی محبت کی، روح کی نہ کہ مادے کی،حکمرانی میں رہنا ہے۔

4. 14 : 1-11

If we are sensibly with the body and regard omnipotence as a corporeal, material person, whose ear we would gain, we are not "absent from the body" and "present with the Lord" in the demonstration of Spirit. We cannot "serve two masters." To be "present with the Lord" is to have, not mere emotional ecstasy or faith, but the actual demonstration and understanding of Life as revealed in Christian Science. To be "with the Lord" is to be in obedience to the law of God, to be absolutely governed by divine Love, — by Spirit, not by matter.

5۔ 261 :31۔23

ہمیں اچھائی اور انسانی نسل کو یاد رکھنے کے لئے ہمارے بدنوں کو بھولنا چاہئے۔ اچھائی انسان کے ہر لمحے کا مطالبہ کرتی ہے جس میں ہستی کے مسئلے کا حل نکا لنا ہوتا ہے۔اچھائی کی تقدیس خدا پر انسان کے انحصار کوکم نہیں کرتی بلکہ اْسے بلند کرتی ہے۔نہ ہی تقدیس خدا کے لئے انسان کے فرائض کو ختم کرتی ہے، بلکہ اْنہیں پورا کرنے کے لئے بڑی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔ کرسچن سائنس خدا کی کاملیت سے کچھ نہیں لیتی، مگر پورا جلال یہ اْسی کو منسوب کرتی ہے۔ ”اپنے چال چلن کی پرانی انسانیت“اتارتے ہوئے انسان ”لافانیت کو پہن لیتے ہیں“۔

ہم فانی عقیدے کی کھائیوں میں غوطہ لگانے سے خدا کی تخلیق کے معیار اور فطرت کو نہیں ناپ سکتے۔ہمیں مادے میں سچائی اور زندگی کو تلاش کرنے کے لئے ہمارے کمزور اضطراب کو الٹانا چاہئے، اور مادی حواس کی شہادت سے اونچا، فانی خیال سے خدا کے لافانی خیال تک اونچا اٹھنا چاہئے۔یہ واضح تراور بلند تر خیالات خدا کے بندے کو اپنی ہستی کے احاطے اور مکمل مرکز تک پہنچنے کے لئے حوصلہ افزائی دیتے ہیں۔

ایوب نے کہا، ”میں نے تیری خبر کان سے سنی تھی، پر اب میری آنکھ تجھے دیکھتی ہے۔“ بشر ایوب کے خیالات کو پھیلائیں گے، جب مادے کی فرضی تکلیف اور خوشی سبقت رکھنا ترک کرتی ہے۔ پھر وہ زندگی اور خوشی، دْکھ اور شادمانی کے جھوٹے اندازے لگائیں گے، اور وہ بے غرضی، صبر سے کام کرنے اور اْس سب کو فتح کرتے ہوئے جو خدا کی مانند نہیں ہے محبت کی نعمت حاصل کریں گے۔

5. 261 : 31-23

We should forget our bodies in remembering good and the human race. Good demands of man every hour, in which to work out the problem of being. Consecration to good does not lessen man's dependence on God, but heightens it. Neither does consecration diminish man's obligations to God, but shows the paramount necessity of meeting them. Christian Science takes naught from the perfection of God, but it ascribes to Him the entire glory. By putting "off the old man with his deeds," mortals "put on immortality."

We cannot fathom the nature and quality of God's creation by diving into the shallows of mortal belief. We must reverse our feeble flutterings — our efforts to find life and truth in matter — and rise above the testimony of the material senses, above the mortal to the immortal idea of God. These clearer, higher views inspire the Godlike man to reach the absolute centre and circumference of his being.

Job said: "I have heard of Thee by the hearing of the ear: but now mine eye seeth Thee." Mortals will echo Job's thought, when the supposed pain and pleasure of matter cease to predominate. They will then drop the false estimate of life and happiness, of joy and sorrow, and attain the bliss of loving unselfishly, working patiently, and conquering all that is unlike God.

6۔ 231 :20۔2

خود کو گناہ سے برتر بنائے رکھناحقیقی حکمت ہے، کیونکہ خدا نے آپ کو اِس سے برتر ہی بنایا ہے اور وہ انسان پر حکمرانی کرتا ہے۔ گناہ سے ڈرنا محبت کی طاقت کو خدا کے ساتھ انسان کے تعلق میں الٰہی سائنس کی ہستی کو غلط سمجھنا ہے، یعنی اْس کی حکمرانی پر شک کرنا اور اْس کی قادرِ مطلق حفاظت پر عدم اعتماد کرنا ہے۔خود کو بیماری اورموت سے برتر بنائے رکھنا اس کے متوازی عقلمندی اور الٰہی سائنس کے عین مطابق ہے۔جب آپ خدا کو اور یہ جاننے میں بالکل غلط ہوتے ہیں کہ یہ اْس کی تخلیق کا حصہ ہیں تو اِن سے خوف زدہ ہونا ناممکن ہوجاتا ہے۔

انسان، اپنے خالق کی حکمرانی تلے، کوئی اور عقل نہ رکھتے ہوئے، مبشر کے اِس بیان پر قائم رہتے ہوئے کہ ”سب چیزیں اْس]خدا کے کلام[ کے وسیلہ سے پیدا ہوئیں اور جو کچھ پیدا ہوا ہے اْس میں سے کوئی چیز بھی اْس کے بغیر پیدا نہیں ہوئی“، گناہ، بیماری اور موت پر فتح پا سکتا ہے۔

6. 231 : 20-2

To hold yourself superior to sin, because God made you superior to it and governs man, is true wisdom. To fear sin is to misunderstand the power of Love and the divine Science of being in man's relation to God, — to doubt His government and distrust His omnipotent care. To hold yourself superior to sickness and death is equally wise, and is in accordance with divine Science. To fear them is impossible, when you fully apprehend God and know that they are no part of His creation.

Man, governed by his Maker, having no other Mind, — planted on the Evangelist's statement that "all things were made by Him [the Word of God]; and without Him was not anything made that was made," — can triumph over sin, sickness, and death.

7۔ 259 :6۔14

الٰہی سائنس میں، انسان خدا کی حقیقی شبیہ ہے۔ الٰہی فطرت میں یسوع مسیح کو بہترین طریقے سے بیان کیا گیا ہے، جس نے انسانوں پر خدا کی مناسب تر عکاسی ظاہر کی اورکمزور سوچ کے نمونے کی سوچ سے بڑی معیارِ زندگی فراہم کی، یعنی ایسی سوچ جو انسان کے گرنے، بیماری، گناہ کرنے اور مرنے کو ظاہر کرتی ہے۔ سائنسی ہستی اور الٰہی شفا کی مسیح جیسی سمجھ میں کامل اصول اور خیال، کامل خدا اور کامل انسان، بطور سوچ اور اظہار کی بنیاد شامل ہوتے ہیں۔

7. 259 : 6-14

In divine Science, man is the true image of God. The divine nature was best expressed in Christ Jesus, who threw upon mortals the truer reflection of God and lifted their lives higher than their poor thought-models would allow, — thoughts which presented man as fallen, sick, sinning, and dying. The Christlike understanding of scientific being and divine healing includes a perfect Principle and idea, — perfect God and perfect man, — as the basis of thought and demonstration.

8۔ 192 :4۔10

ہم صرف تبھی کرسچن سائنسدان ہیں،جب ہم اْس پر سے اپنا انحصار ترک کرتے ہیں جو جھوٹا اور سچائی کو نگلنے والا ہو۔جب تک ہم مسیح کے لئے سب کچھ ترک نہیں کرتے تب تک ہم مسیحی سائنسدان نہیں بنتے۔انسانی آراء روحانی نہیں ہوتیں۔وہ کان کے سننے سے آتیں ہیں، یعنی جسم سے آتی ہیں نہ کہ اصول سے، اور لافانی سے آتی ہیں نہ کہ لافانی سے۔روح خدا سے الگ نہیں ہے۔ روح خدا ہے۔

8. 192 : 4-10

We are Christian Scientists, only as we quit our reliance upon that which is false and grasp the true. We are not Christian Scientists until we leave all for Christ. Human opinions are not spiritual. They come from the hearing of the ear, from corporeality instead of from Principle, and from the mortal instead of from the immortal. Spirit is not separate from God. Spirit is God.

9۔ 99 :23۔29

سچی روحانیت کے پْر سکون، مضبوط دھارے، جن کے اظہار صحت، پاکیزگی اور خود کار قربانی ہیں، اِنہیں اْس وقت تک انسانی تجربے کو گہرا نہیں کرنا چاہئے جب تک مادی وجودیت کے عقائد واضح مسلط ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے اور گناہ، بیماری اور موت روحانی الوہیت کے سائنسی اظہاراور خدا کے روحانی، کامل انسان کو جگہ فراہم نہیں کرتے۔

9. 99 : 23-29

The calm, strong currents of true spirituality, the manifestations of which are health, purity, and self-immolation, must deepen human experience, until the beliefs of material existence are seen to be a bald imposition, and sin, disease, and death give everlasting place to the scientific demonstration of divine Spirit and to God's spiritual, perfect man.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████