اتوار 14جولائی، 2019

مضمون۔ ساکرامنٹ


سنہری متن:سنہری متن: زبور51:17آیت

’’شکستہ روح خدا کی قربانی ہے، شکستہ اور خستہ دل۔‘‘

Golden Text: Psalm 51 : 17

The sacrifices of God are a broken spirit: a broken and a contrite heart.

سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں


جوابی مطالعہ: عبرانیوں 9باب11تا15آیات

11۔ لیکن جب مسیح آئندہ کی اچھی چیزوں کا سردار کاہن ہو کر آیا تو اْس بزرگ تر اور کامل تر خیمہ کی راہ سے جو ہاتھوں کا بنا ہوا یعنی اس دنیا کا نہیں

12۔ اور بکروں اور بچھڑوں کا خون لے کر نہیں بلکہ اپنا ہی خون لے کر پاک مکان میں ایک ہی بار داخل ہو گیا اور ابدی خلاصی کرائی۔

13۔ کیونکہ جب بکروں اور بیلوں کے خون اور گائے کی راکھ ناپاکوں پر چھڑکے جانے سے ظاہری پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔

14۔ تو مسیح کا خون جس نے اپنے آپ کو ازلی روح کے وسیلہ سے خدا کے سامنے بے عیب قربان کر دیا تمہارے دلوں کو مردہ کاموں سے کیوں نہ پاک کرے گا تاکہ زندہ خدا کی عبادت کریں۔

15۔ اور اسی سبب سے وہ نئے عہد کا بانی ہے۔

Responsive Reading: Hebrews 9 : 11-15

11.     Christ being come an high priest of good things to come, by a greater and more perfect tabernacle, not made with hands, that is to say, not of this building;

12.     Neither by the blood of goats and calves, but by his own blood he entered in once into the holy place, having obtained eternal redemption for us.

13.     For if the blood of bulls and of goats, and the ashes of an heifer sprinkling the unclean, sanctifieth to the purifying of the flesh:

14.     How much more shall the blood of Christ, who through the eternal Spirit offered himself without spot to God, purge your conscience from dead works to serve the living God?

15.     And for this cause he is the mediator of the new testament.

درسی وعظ


درسی وعظ


1۔ رومیوں 12باب1، 2آیات

1۔پس اے بھائیو! میں مسیح کی رحمتیں یاد دلاکر تم سے التماس کرتا ہوں کہ اپنے بدن ایسی قربانی ہونے کے لئے نذر کرو جو زندہ اور پاک اور خدا کو پسندیدہ ہو۔ یہی تمہاری معقول عبادت ہے۔

2۔ اور اس جہان کے ہمشکل نہ بنو بلکہ عقل نئی ہوجانے سے اپنی صورت بدلتے جاؤ تاکہ خدا کی نیک اور پسندیدہ اور کامل مرضی تجربہ سے معلوم کرتے جاؤ۔

1. Romans 12 : 1, 2

1     I beseech you therefore, brethren, by the mercies of God, that ye present your bodies a living sacrifice, holy, acceptable unto God, which is your reasonable service.

2     And be not conformed to this world: but be ye transformed by the renewing of your mind, that ye may prove what is that good, and acceptable, and perfect, will of God.

2۔ متی 4باب18تا25آیات

18۔ اور اُس نے گلیل کی جھیل کے کنارے پھرتے ہوئے دو بھائیوں یعنی شمعون جو پطرس کہلاتا ہے اور اُس کے بھائی اندریاس کو جھیل میں جال ڈالتے دیکھا کیونکہ وہ ماہی گیر تھے۔

19۔اور اُن سے کہا میرے پِیچھے چلے آؤ تو میں تم کو آدم گیر بناؤں گا۔

20۔وہ فوراً جال چھوڑ کر اُس کے پِیچھے ہو لئے۔

21۔اور وہاں سے آگے بڑھ کر اُس نے اور دو بھائیوں یعنی زبدی کے بیٹے یعقوب اور اُس کے بھائی یوحنا کو دیکھا کہ اپنے باپ زبدی کے ساتھ کشتی پر اپنے جالوں کی مرمت کر رہے ہیں اور اُن کو بلایا۔

22۔وہ فوراً کشتی اور اپنے باپ کو چھوڑ کر اُس کے پِیچھے ہو لئے۔

23۔اور یسوع تمام گلیل میں پھرتا رہا اور اُن کے عبادت خانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا اور لوگوں کی ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری کو دور کرتا رہا۔

24۔اور اُس کی شہرت تمام سوریہ میں پھیل گئی اور لوگ سب بیماروں کو جو طرح طرح کی بیماریوں اور تکلیفوں میں گرفتار تھے اور اُن کو جن میں بدروحیں تھیں اور مرگی والوں اور مفلوجوں کو اُس کے پاس لائے اور اُس نے اُن کو اچھا کیا۔

25۔اور گلیل اور دکپلس اور یروشلیم اور یہودیہ اور یردن کے پار بڑی بھیڑ اُس کے پِیچھے ہولی۔

2. Matthew 4 : 18-25

18     And Jesus, walking by the sea of Galilee, saw two brethren, Simon called Peter, and Andrew his brother, casting a net into the sea: for they were fishers.

19     And he saith unto them, Follow me, and I will make you fishers of men.

20     And they straightway left their nets, and followed him.

21     And going on from thence, he saw other two brethren, James the son of Zebedee, and John his brother, in a ship with Zebedee their father, mending their nets; and he called them.

22     And they immediately left the ship and their father, and followed him.

23     And Jesus went about all Galilee, teaching in their synagogues, and preaching the gospel of the kingdom, and healing all manner of sickness and all manner of disease among the people.

24     And his fame went throughout all Syria: and they brought unto him all sick people that were taken with divers diseases and torments, and those which were possessed with devils, and those which were lunatick, and those that had the palsy; and he healed them.

25     And there followed him great multitudes of people from Galilee, and from Decapolis, and from Jerusalem, and from Judæa, and from beyond Jordan.

3۔ لوقا 9باب1، 2، 6، 57تا62آیات

1۔ پھر اُس نے اُن بارہ کو بلا کر اُنہیں سب بد روحوں پر اور بیماریوں کو دور کرنے کے لئے قدرت اور اختیار بخشا۔

2۔اور اُنہیں خدا کی بادشاہی کی منادی کرنے اور بیماروں کو اچھا کرنے کے لئے بھیجا۔

6۔پس وہ روانہ ہوکر گاؤں گاؤں خوشخبری سناتے اور ہر جگہ شفا دیتے پھرے۔

57۔جب وہ راہ میں چلے جاتے تھے تو کسی نے اُس سے کہا جہاں کہیں تو جائے مَیں تیرے پِیچھے چلوں گا۔

58۔یسوع نے اُس سے کہا کہ لومڑیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور ہوا کے پرندوں کے گھونسلے مگر ابن آدم کے لئے سر دھرنے کی بھی جگہ نہیں۔

59۔ پھر اُس نے دوسرے سے کہا میرے پِیچھے چل۔ اُس نے کہا اے خداوند! مجھے اجازت دے کہ پہلے جا کر اپنے باپ کو دفن کروں۔

60۔ اُس نے اُس سے کہا کہ مردوں کو اپنے مردے دفن کرنے دے لیکن تو جا کر خدا کی بادشاہی کی خبر پھیلا۔

61۔ایک اور نے بھی کہا اے خداوند! مَیں تیرے پِیچھے چلوں گا لیکن پہلے مجھے اجازت دے کہ اپنے گھر کے لوگوں سے رخصت ہو آؤں۔

62۔یسوع نے اُس سے کہا جو کوئی اپنا ہاتھ ہل پر رکھ کر پِیچھے دیکھتا ہے وہ خدا کی بادشاہی کے لائق نہیں۔

3. Luke 9 : 1, 2, 6, 57-62

1     Then he called his twelve disciples together, and gave them power and authority over all devils, and to cure diseases.

2     And he sent them to preach the kingdom of God, and to heal the sick.

6     And they departed, and went through the towns, preaching the gospel, and healing every where.

57     And it came to pass, that, as they went in the way, a certain man said unto him, Lord, I will follow thee whithersoever thou goest.

58     And Jesus said unto him, Foxes have holes, and birds of the air have nests; but the Son of man hath not where to lay his head.

59     And he said unto another, Follow me. But he said, Lord, suffer me first to go and bury my father.

60     Jesus said unto him, Let the dead bury their dead: but go thou and preach the kingdom of God.

61     And another also said, Lord, I will follow thee; but let me first go bid them farewell, which are at home at my house.

62     And Jesus said unto him, No man, having put his hand to the plough, and looking back, is fit for the kingdom of God.

4۔ لوقا 10باب1۔2آیات

1۔ ان باتوں کے بعد خدا نے ستر آدمی اور مقرر کئے اور جس جس شہر اور جگہ کو خود جانے والا تھا انہیں دو دو کر کے اپنے آگے بھیجا۔

2۔ اور وہ اْن سے کہنے لگا کہ فصل تو بہت ہے لیکن مزدور تھوڑے ہیں اس لئے فصل کے مالک کی منت کرو کہ اپنی فصل کاٹنے کے لئے مزدور بھیجے۔

4. Luke 10 : 1, 2

1     After these things the Lord appointed other seventy also, and sent them two and two before his face into every city and place, whither he himself would come.

2     Therefore said he unto them, The harvest truly is great, but the labourers are few: pray ye therefore the Lord of the harvest, that he would send forth labourers into his harvest.

5۔ لوقا14باب1تا7 (تمثیل تک)، 16 (چند ایک)تا27، 33تا35آیات

1۔ پھر ایسا ہوا کہ وہ سبت کے دن فریسیوں کے سرداروں میں سے کسی کے گھر کھانا کھانے کو گیا اور وہ اُس کی تاک میں رہے۔

2۔اور دیکھو ایک شخص اُس کے سامنے تھا جسے جلندر تھا۔

3۔یسوع نے شرع کے عالموں اور فریسیوں سے کہا کہ سبت کے دن شفا بخشنا روا ہے یا نہیں؟

4۔وہ چپ رہ گئے۔ اُس نے اُسے ہاتھ لگا کر شفا بخشی اور رخصت کیا۔

5۔اور اُن سے کہا تم میں ایسا کون ہے جس کا گدھا یا بیل کنوئیں میں گر پڑے اور وہ سبت کے دن اُس کو فوراً نہ نکال لے؟

6۔وہ اِن باتوں کا جواب نہ دے سکے۔

7۔ جب اُس نے دیکھا کے مہمان صدر جگہ کس طرح پسند کرتے ہیں تو اُن سے ایک تمثیل کہی کہ۔

16۔ اُس نے اُس سے کہا ایک شخص نے بڑی ضیافت کی اور بہت سے لوگوں کو بلایا۔

17۔ اور کھانے کے وقت اپنے نوکر کو بھیجا کہ بلائے ہوؤں سے کہے کہ آؤ۔ اب کھانا تیار ہے۔

18۔ اِس پر سب نے مل کر عزر کرنا شروع کیا۔ پہلے نے اُس سے کہا مَیں نے کھیت خریدا ہے مجھے ضرور ہے کہ جا کر اُسے دیکھوں۔ مَیں تیری منّت کرتا ہوں کہ مجھے معذور رکھ۔

19۔ دوسرے نے کہا مَیں نے پانچ جوڑی بیل خریدے ہیں اور انہیں آزمانے جاتا ہوں۔ میں تیری منّت کرتا ہوں مجھے معذور رکھ۔

20۔ ایک اور نے کہا مَیں نے بیاہ کیا ہے۔ اِس سبب سے نہیں آ سکتا۔

21۔پس اُس نوکر نے آ کر اپنے مالک کو اِن باتوں کی خبر دی۔ اِس پر گھر کے مالک نے غصّے ہوکر اپنے نوکر سے کہا جلد شہر کے بازاروں اور کوچوں میں جا کر غریبوں لنجوں اندھوں اور لنگڑوں کو یہاں لے آ۔

22۔نوکر نے کہا اے خداوند! جیسا تو نے فرمایا ویسا ہی ہواا اور اب بھی جگہ ہے۔

23۔مالک نے اُس نوکر سے کہا کہ سڑکوں اور کھیت کی باڑوں کی طرف جا اور لوگوں کو مجبور کر کے لا تاکہ میرا گھر بھر جائے۔

24۔ کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہوں کہ جو بلائے گئے تھے اُن میں سے کوئی میرا کھانا چکھنے نہ پائے گا۔

25۔ جب بہت سے لوگ اُس کے ساتھ جا رہے تھے تو اُس نے پھر کر اُن سے کہا۔

26۔اگر کوئی میرے پاس آئے اور اپنے باپ اور ماں اور بیوی اور بچوں اور بھائیوں اور بہنوں بلکہ اپنی جان سے بھی دشمنی نہ کرے تو میرا شاگرد نہیں ہو سکتا۔

27۔ جو کوئی اپنی صلیب اٹھا کر میرے پِیچھے نہ آئے وہ میرا شاگرد نہیں ہو سکتا۔

33۔پس اسی طرح تم میں سے جو کوئی اپنا سب کچھ ترک نہ کرے وہ میرا شاگرد نہیں ہو سکتا۔

34۔ نمک اچھا تو ہے لیکن اگر نمک کا مزہ جاتا رہے تو وہ کس چیز سے مزیدار کیا جائے گا؟

35۔ نہ وہ زمین کے کام کا رہا نہ کھاد کے۔ لوگ اسے باہر پھینک دیتے ہیں۔ جس کے کان سننے کے ہوں وہ سن لے۔

5. Luke 14 : 1-7 (to parable), 16 (A certain)-27, 33-35

1     And it came to pass, as he went into the house of one of the chief Pharisees to eat bread on the sabbath day, that they watched him.

2     And, behold, there was a certain man before him which had the dropsy.

3     And Jesus answering spake unto the lawyers and Pharisees, saying, Is it lawful to heal on the sabbath day?

4     And they held their peace. And he took him, and healed him, and let him go;

5     And answered them, saying, Which of you shall have an ass or an ox fallen into a pit, and will not straightway pull him out on the sabbath day?

6     And they could not answer him again to these things.

7     And he put forth a parable…

16     A certain man made a great supper, and bade many:

17     And sent his servant at supper time to say to them that were bidden, Come; for all things are now ready.

18     And they all with one consent began to make excuse. The first said unto him, I have bought a piece of ground, and I must needs go and see it: I pray thee have me excused.

19     And another said, I have bought five yoke of oxen, and I go to prove them: I pray thee have me excused.

20     And another said, I have married a wife, and therefore I cannot come.

21     So that servant came, and shewed his lord these things. Then the master of the house being angry said to his servant, Go out quickly into the streets and lanes of the city, and bring in hither the poor, and the maimed, and the halt, and the blind.

22     And the servant said, Lord, it is done as thou hast commanded, and yet there is room.

23     And the lord said unto the servant, Go out into the highways and hedges, and compel them to come in, that my house may be filled.

24     For I say unto you, That none of those men which were bidden shall taste of my supper.

25     And there went great multitudes with him: and he turned, and said unto them,

26     If any man come to me, and hate not his father, and mother, and wife, and children, and brethren, and sisters, yea, and his own life also, he cannot be my disciple.

27     And whosoever doth not bear his cross, and come after me, cannot be my disciple.

33     So likewise, whosoever he be of you that forsaketh not all that he hath, he cannot be my disciple.

34     Salt is good: but if the salt have lost his savour, wherewith shall it be seasoned?

35     It is neither fit for the land, nor yet for the dunghill; but men cast it out. He that hath ears to hear, let him hear.

6۔ متی 13باب 44تا46آیات

44۔ آسمان کی بادشاہی زمین میں چھپے خزانے کی مانند ہے جسے کسی آدمی نے پا کر چھپا دیا اور خوشی کے مارے جو کچھ اْس کا تھا بیچ ڈالا اور اْس کھیت کو مول لے لیا۔

45۔ پھر آسمان کی بادشاہی اْس سوداگر کی مانند ہے جو عمدہ موتیوں کی تلاش میں تھا۔

46۔ جب اْسے ایک بیش قیمت موتی ملا تو اْس نے جا کر جو کچھ اْس کا تھا سب بیچ ڈالا اور اْسے مول لے لیا۔

6. Matthew 13 : 44-46

44     Again, the kingdom of heaven is like unto treasure hid in a field; the which when a man hath found, he hideth, and for joy thereof goeth and selleth all that he hath, and buyeth that field.

45     Again, the kingdom of heaven is like unto a merchant man, seeking goodly pearls:

46     Who, when he had found one pearl of great price, went and sold all that he had, and bought it.

سائنس اور صح

1۔ 241:19۔22

ساری جانثاری کا مادا الٰہی محبت، بیماری کی شفا اور گناہ کی تباہی کا عکس اور اظہار ہے۔ہمارے مالک نے کہا، ”اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو گے۔“

1. 241 : 19-22

The substance of all devotion is the reflection and demonstration of divine Love, healing sickness and destroying sin. Our Master said, “If ye love me, keep my commandments.”

2۔ 1:6-9

دعا، دھیان رکھنا، اور کام کرنا خود کار تباہی کے ساتھ مل کر، اْسے پورا کرنے کے لئے خدا کے بابرکت ذرائع ہیں جو کچھ بھی مسیحت اور انسانیت کی صحت کے لئے کامیابی سے سر انجام دیا گیا ہو۔

2. 1 : 6-9

Prayer, watching, and working, combined with self-immolation, are God’s gracious means for accomplishing whatever has been successfully done for the Christianization and health of mankind.

3۔ 20: 27۔32

مقصد پولوس رسول نے لکھا، ”تو آؤ ہم بھی ہر ایک بوجھ اور اْس گناہ کو جو ہمیں آسانی سے الجھا لیتا ہیدور کر کے اْس دوڑ میں صبرسے دوڑیں جو ہمیں در پیش ہے؛“ یعنی، آئیے ہم مادی خودی اور حِس کو دور کریں، اور ہر قسم کی شفا کی سائنس اور الٰہی اصول کی تلاش کریں۔

3. 20 : 27-32

St. Paul wrote, “Let us lay aside every weight, and the sin which doth so easily beset us, and let us run with patience the race that is set before us;” that is, let us put aside material self and sense, and seek the divine Principle and Science of all healing.

4۔ 4:5۔11

اپنے استاد کے حکموں پر عمل کرنا اور اْس کے نمونے کی پیروی کرناہم پر اْس کا مناسب قرض ہے اور جو کچھ اْس نے کیا ہے اْس کی شکر گزاری کا واحد موزوں ثبوت ہے۔باوفا اور دلی شکرگزاری کو ظاہر کرنے کے لئے بیرونی عبادت خود میں ہی کافی نہیں ہے، کیونکہ اْس نے کہا، ”اگر تم مجھ سے محبت کرتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو۔“

4. 4 : 5-11

To keep the commandments of our Master and follow his example, is our proper debt to him and the only worthy evidence of our gratitude for all that he has done. Outward worship is not of itself sufficient to express loyal and heartfelt gratitude, since he has said: “If ye love me, keep my commandments.”

5۔ 11: 22۔27

ہم جانتے ہیں کہ پاکیزگی پانے کے لئے پاکیزگی کی خواہش رکھنا لازمی شرط ہے؛ لیکن اگر ہم سب چیزوں سے زیادہ پاکیزگی کی خواہش رکھتے ہیں، تو ہم اس کے لئے ہر چیز قربان کر دیں گے۔ ہمیں ایسا کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے کہ ہم پاکیزگی کی عمل راہ پر بحفاظت چل سکتے ہیں۔

5. 11 : 22-27

We know that a desire for holiness is requisite in order to gain holiness; but if we desire holiness above all else, we shall sacrifice everything for it. We must be willing to do this, that we may walk securely in the only practical road to holiness.

6۔ 9: 17۔ 24

”تو اپنے سارے دل، اپنی ساری جان اوراپنی ساری طاقت سے خداوند اپنے خدا سے محبت رکھ۔“ اس حکم میں بہت کچھ شامل ہے، حتیٰ کہ محض مادی احساس، افسوس اور عبادت۔ یہ مسیحت کا ایلڈوراڈو ہے۔ اس میں زندگی کی سائنس شامل ہے اور یہ روح پر الٰہی قابو کی شناخت کرتی ہے، جس میں ہماری روح ہماری مالک بن جاتی ہے اور مادی حس اور انسانی رضا کی کوئی جگہ نہیں رہتی۔

6. 9 : 17-24

Dost thou “love the Lord thy God with all thy heart, and with all thy soul, and with all thy mind”? This command includes much, even the surrender of all merely material sensation, affection, and worship. This is the El Dorado of Christianity. It involves the Science of Life, and recognizes only the divine control of Spirit, in which Soul is our master, and material sense and human will have no place.

7۔ 27: 22۔27

یسوع نے ایک ہی وقت میں ستر لوگوں کو بھیجا، لیکن صرف بارہ ہی مطلوبہ تاریخی ریکارڈ بنا سکے۔ روایت اْس کے سر پر دو یا تین سو شاگردوں کا سہرا باندھتی ہے جن کا کوئی نام و نشان نہیں ملا۔ ”بلائے وئے تو بت ہیں مگر برگزیدہ تھوڑے ہیں۔“وہ فضل سے دور ہو گئے کیونکہ انہوں نے حقیقت میں اپنے مالک کی ہدایت کو نہیں سمجھا تھا۔

7. 27 : 22-27

Jesus sent forth seventy students at one time, but only eleven left a desirable historic record. Tradition credits him with two or three hundred other disciples who have left no name. “Many are called, but few are chosen.” They fell away from grace because they never truly understood their Master’s instruction.

8۔ 38: 26۔32

وہ جو گناہ اور خودی کے یقین میں غرق ہیں، جو صرف عیش کے لئے یا حواس کی بڑھائی کے لئے جیتے ہیں، اْن کے لئے اْس نے مادے میں کہا: آنکھیں تو ہیں پر وہ دیکھتے نہیں کان ہیں مگر وہ سنتے نہیں، تاکہ ایسا نہ ہو کہ وہ سمجھیں اور ایمان لائیں اور میں انہیں شفا دوں۔ اْس نے یہ تعلیم دی کہ مادی حواس سچائی کو اور اْس کی شفائیہ طاقت کو بند کر دیتی ہیں۔

8. 38 : 26-32

To those buried in the belief of sin and self, living only for pleasure or the gratification of the senses, he said in substance: Having eyes ye see not, and having ears ye hear not; lest ye should understand and be converted, and I might heal you. He taught that the material senses shut out Truth and its healing power.

9۔ 129: 30۔6

ایک فراخدل زندگی گزارنے والا شاید مصنف کے کھانے کی میز پر لوازمات کے کم اندازے پر اعتراض کرے۔ گناہگار دیکھتا ہے،اس نظام میں جو اس کتاب میں سکھایا گیا ہے کہ خدا کی شرائط کولازمی پورا ہونا چاہئے۔ تھوڑے فہم کو عقل کی متواتردرخواستوں سے خبردار کیا جاتا ہے۔ آوارہ انجام معمولی سے روحانی مناظر پر حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ جب سب انسانوں کو ضیافت کا حکم دیا جاتا ہے، تو بہانے آ جاتے ہیں۔ ایک نے کھیت میں جانا تھا، کسی نے تجارت کا کام کرنا تھا اور اسی لئے وہ قبول نہیں کرسکتے۔

9. 129 : 30-6

The generous liver may object to the author’s small estimate of the pleasures of the table. The sinner sees, in the system taught in this book, that the demands of God must be met. The petty intellect is alarmed by constant appeals to Mind. The licentious disposition is discouraged over its slight spiritual prospects. When all men are bidden to the feast, the excuses come. One has a farm, another has merchandise, and therefore they cannot accept.

10۔ 91: 16۔21

مادی خودی میں ڈوب کر ہم زندگی اور عقل کے مادے کو ہلکا سا منعکس کرتے اور اسے جان لیتے ہیں۔ مادی خودی سے انکار انسان کی روحانی اور ابدی انفرادیت سے متعلق جاننے میں مدد دیتا ہے، اور مادے سے یا جنہیں مادی حواس کی اصطلاح دی گئی ہے اْن کے وسیلہ غلط علم کو تباہ کرتا ہے۔

10. 91 : 16-21

Absorbed in material selfhood we discern and reflect but faintly the substance of Life or Mind. The denial of material selfhood aids the discernment of man’s spiritual and eternal individuality, and destroys the erroneous knowledge gained from matter or through what are termed the material senses.

11۔ 455: 20۔2

خدا بلند درجہ خدمت کے لئے اْس شخص کو منتخب کرتا ہے جو اس کے لئے اس قدر قابلیت رکھتا ہے کہ وہ مشن کے محال ہونے کا کوئی دھبہ نہیں لے سکتا۔ قادر العقل اپنا بھروسہ کسی ناہل شخص نچھاور نہیں کرتا۔ جب وہ کسی قاصد کو حکم دیتا ہے، یہ وہ ہوتا ہے جو روحٓنی طور پر ْس کے قریب تر ہو۔ کوئی شخص اس شعوری قوت کا غلط استعمال نہیں کر سکتا، اگر اْسے خدا کی طرف سے اسے سمجھنے کی تعلیم دی گئی ہو۔

کرسچن سائنس میں یہ مضبوط نقطہ نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے، کہ ایک ہی چشمہ میٹھا اور کڑوا دونوں پانی نہیں دے سکتا۔ شعوری شفا اور تعلیم کی سائنس میں آپ کا حصول جتنا بلند ہوگا اتنا ہی آپ کے لئے جان بوجھ کر اپنی اعلیٰ امید اور کامیابی کے خلاف منفی انسان کو متاثر کرنا ناممکن ہوگا۔

11. 455 : 20-2

God selects for the highest service one who has grown into such a fitness for it as renders any abuse of the mission an impossibility. The All-wise does not bestow His highest trusts upon the unworthy. When He commissions a messenger, it is one who is spiritually near Himself. No person can misuse this mental power, if he is taught of God to discern it.

This strong point in Christian Science is not to be overlooked, — that the same fountain cannot send forth both sweet waters and bitter. The higher your attainment in the Science of mental healing and teaching, the more impossible it will become for you intentionally to influence mankind adverse to its highest hope and achievement.

12۔ 456: 5۔ 15، 19۔20

الٰہی اصول اور سائنسی طریقہ کار کے اصولوں پر سخی سے عمل کرنے سے کرسچن سائنس کے طالب علموں کی کامیابی کو یقینی بنایا ہے۔ صرف اسی اعزاز نے انہیں وہ متربہ فراہم کیا جو وہ کمیونٹی میں رکھتے ہیں، یعنی ایسی ساکھ جو اْن کی کوششوں سے تجرباتی طور پر جائز قرار پاتی ہے۔ جو کوئی بھی اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ یہاں ایک اصول اور ظاہر ہونے وال کرسچن سائنس کے طریقہ کار سے بڑھ کر کچھ ہے وہ شعوری یا لاشعوری طور پر بہت بڑی غلطی کرتا ہے اور خود کو کرسچن سائنس کی شفا کے حقیقی فہم اور اس کے ممکنہ اظہار سے خود کو الگ کرلیتا ہے۔

ایک شخص کو سچائی کی حوصلہ افزائی سے جڑے رہنا چاہئے وگرنہ وہ الٰہی اصول کو ظاہر نہیں کر سکتا۔

12. 456 : 5-15, 19-20

Strict adherence to the divine Principle and rules of the scientific method has secured the only success of the students of Christian Science. This alone entitles them to the high standing which most of them hold in the community, a reputation experimentally justified by their efforts. Whoever affirms that there is more than one Principle and method of demonstrating Christian Science greatly errs, ignorantly or intentionally, and separates himself from the true conception of Christian Science healing and from its possible demonstration.

One must abide in the morale of truth or he cannot demonstrate the divine Principle.

13۔ 457:19۔24

کرسچن سائنس عام اصول سے استثنیٰ نہیں ہے، یعنی سیدھے انداز میں محنت کے بغیر کوئی برتری نہیں۔ کوئی شخص اپنا نشانہ منتشر کر کے اسی لمحہ ہدف پر نشانہ نہیں لگا سکتا۔ دیگر شعبوں کی پیروی کر نا اور سائنس کے اظہار میں تیزی سے ترقی کرنا ممکن نہیں۔

13. 457 : 19-24

Christian Science is not an exception to the general rule, that there is no excellence without labor in a direct line. One cannot scatter his fire, and at the same time hit the mark. To pursue other vocations and advance rapidly in the demonstration of this Science, is not possible.

14۔ 459:3۔8

پولوس اور یوحنا کو واضح ادراک تھا کہ جیسے قربانی کے بغیر کوئی فانی انسان عزت نہیں پا سکتا، اسی طرح آسمانی دولت حاصل کرنے کے لئے اْسے دنیاداری کو ترک کرنا ہوگا۔پھر اْسے دنیاوی رغبتوں، اغراض اور مقاصد کے ساتھ کوئی سروکار نہیں ہوگا۔

14. 459 : 3-8

Paul and John had a clear apprehension that, as mortal man achieves no worldly honors except by sacrifice, so he must gain heavenly riches by forsaking all worldliness. Then he will have nothing in common with the worldling’s affections, motives, and aims.

15۔ 33:31۔17

وہ سب جو یسوع کی یاد گاری میں روٹی کھاتے اور مے پیتے ہیں وہ حقیقت میں اْس کے پیالے اور اْس کی صلیب میں سے بانٹنے کی اور اصول ِمسیح کی خاطر سب کچھ چھوڑنے کے لئے رضا مند ہیں؟ تو پھر اس الہام کو ایک مردہ رسم کے ساتھ کیوں منسوب کیا جاتا ہے بجائے غلطی کو دور کرتے ہوئے اور بدن کو ”پاک اور خدا کے لئے قابل قبول“ بناتے ہوئے، یہ دکھایا جائے سچائی کا فہم فراہم ہوا ہے؟ اگر مسیح، سچائی اظہار میں ہمارے پاس آیا، تو کسی دوسری یاد گاری کی ضرورت نہیں، کیونکہ اظہار اعمانوئیل یا خدا ہمارے ساتھ ہے؛ اور اگر کوئی دوسر ہمارے ساتھ ہے تو اْس کی یادگاری منانے کی کیا ضرورت ہے؟

اگر وہ سب جنہوں نے ساکرامنٹ میں حصہ لیا یسوع کے دکھوں کی حقیقتاً یادگاری منائی تھی اور اْس کے پیالے میں سے پیا تھا تو وہ وہ دنیا میں انقلاب برپا کر دیتے۔ وہ سب جومادی علامات کے وسیلہ اْس کی یادگاری کے متلاشی ہیں وہ صلیب اٹھائیں گے، بیماروں کو شفا دیں گے، بدروحوں کو نکالے گے اور مسیح، سچائی کی خوشخبری غریبوں، منفی سوچ والوں،کو دیں گے، وہ ہزار سالہ دور لائیں گے۔

15. 33 : 31-17

Are all who eat bread and drink wine in memory of Jesus willing truly to drink his cup, take his cross, and leave all for the Christ-principle? Then why ascribe this inspiration to a dead rite, instead of showing, by casting out error and making the body “holy, acceptable unto God,” that Truth has come to the understanding? If Christ, Truth, has come to us in demonstration, no other commemoration is requisite, for demonstration is Immanuel, or God with us; and if a friend be with us, why need we memorials of that friend?

If all who ever partook of the sacrament had really commemorated the sufferings of Jesus and drunk of his cup, they would have revolutionized the world. If all who seek his commemoration

through material symbols will take up the cross, heal the sick, cast out evils, and preach Christ, or Truth, to the poor, — the receptive thought, — they will bring in the millennium.

روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔