اتوار 14 اپریل، 2019 |

اتوار 14 اپریل، 2019



مضمون۔ کیا گناہ ، بیماری اور موت حقیقی ہیں؟

سنہری متن:زبور 107: 20آیت



’’وہ اپنا کلام نازل فرما کر اْن کو شفا دیتا ہے اور اْن کو اْن کی ہلاکت سے رہائی بخشتا ہے‘‘





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


رومیوں 8باب 1تا9آیات


1۔ پس اب جو مسیح یسوع میں ہیں اُن پر سزا کا حکم نہِیں۔ 

2۔ کیونکہ زندگی کے روح کی شریعت نے مسیح یسوع میں مجھے گناہ اورموت کی شریعت سے آزاد کردیا۔ 

3۔اس لئے کہ جو کام شریعت جسم کے سبب سے کمزور ہو کر نہ کر سکی وہ خدا نے کیا یعنی اْس نے اپنے بیٹے کو گناہ آلود جسم کی صورت میں اور گناہ کی قربانی کے لئے بھیج کر جسم میں گناہ کی سزا کا حکم دیا۔

4۔تاکہ شریعت کا تقاضا ہم میں پورا ہو جو جسم کے مطابق نہیں بلکہ روح کے مطابق چلتے ہیں۔

5۔کیونکہ جو جسمانی ہیں وہ جسمانی باتوں کے خیال میں رہتے ہیں لیکن جو روحانی ہیں وہ روحانی باتوں کے خیال میں رہتے ہیں۔

6۔اور جسمانی نیت موت ہے مگر روحانی نیت زندگی اور اطمینان ہے۔ 

7۔اس لئے کہ جسمانی نیت خدا کی دشمنی ہے کیونکہ نہ تو خدا کی شریعت کے تابع ہے نہ ہو سکتی ہے۔ 

8۔اور جو جسمانی ہیں وہ خدا کو خوش نہیں کرسکتے۔

9۔لیکن تم جسمانی نہیں بلکہ روحانی ہو بشرطیکہ خدا کا روح تْم میں بسا ہوا ہے ۔ مگر جس میں مسیح کا روح نہیں وہ اْس کا نہیں۔



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ پیدائش 1باب 1، 31آیت (تا پہلا)

1۔ خدا نے ابتدا میں زمین اور آسمان کو پیدا کیا۔

31۔ اور خدا نے سب کچھ جو اْس نے بنایا تھا نظر کی اور دیکھا کہ بہت اچھا ہے۔

2۔ پیدائش 2باب6، 9، 15تا17آیات

6۔بلکہ زمین سے کہر اُٹھتی تھی اور تمام رُویِ زمین کو سیراب کرتی تھی۔

9۔اور خُدا وند خُدا نے ہر درخت کو جو دیکھنے میں خوشنما اور کھانے کے لئے اچھا تھا زمین سے اُگایا اور باغ کے بیچ میں حیات کا درخت اور نیک وبد کی پہچان کا درخت بھی لگایا۔

15۔ اور خُداوند خُدا نے آدم کو لیکر باغِ عدنؔ میں رکھّا کہ اُسکی باغبانی اور نگہبانی کرے۔ 

16۔ اور خُداوند خُدا نے آدمؔ کو حکم دیا اور کہا کہ تو باغ کے ہر درخت کا پھل بے روک ٹوک کھا سکتا ہے۔

17۔ لیکن نیک و بد کی پہچان کے درخت کا کبھی نہ کھانا کیونکہ جس روز تو نے اس میں سے کھایا تو مرا۔

3۔ پیدائش 3باب1تا6، 13، 17آیات

1۔ سانپ کل دشتی جانوروں سے جن کو خداوند خدا نے بنایا تھا چالاک تھا اور اْس نے عورت سے کہا کیا واقعی خدا نے کہا ہے کہ باغ کے کسی درخت کا پھل تم نہ کھانا؟ 

2۔ عورت نے سانپ سے کہا کہ باغ کے درختوں کا پھل تو ہم کھاتے ہیں۔ 

3۔ پر جو درخت باغ کے بیچ میں ہے اسکے پھل کی بابت خدانے کہا ہے کہ تم نہ تو اسے کھا نا اور نہ چھوناورنہ مر جاؤ گے۔ 

4۔ تب سانپ نے عورت سے کہا کہ تم ہر گز نہ مرو گے۔ 

5۔ بلکہ خدا جانتا ہے کہ جس دن تم اسے کھاؤ گے تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی اور تم خدا کی مانند نیک و بد کے جاننے والے بن جاؤ گے۔ 

6۔ عورت نے جو دیکھا کہ وہ درخت کھانے کے لئے اچھا اور آنکھوں کو خوشنما معلوم ہوتا ہے اور عقل بخشنے کے لئے خوب ہے تو اسکے پھل میں سے لیا اور کھایا اور اپنے شوہر کو بھی دیا اور اُس نے کھایا۔

13۔ تب خدا وند خدا نے عورت سے کہا کہ تو نے یہ کیا کِیا؟ عورت نے کہا کہ سانپ نے مجھ کو بہکایا تو میں نے کھایا۔

17۔ اور آدمؔ سے اُس نے کہا چونکہ تو نے اپنی بیوی کی بات مانی اور اُس درخت کا پھل کھایا جسکی بابت میں نے تجھے حکم دیا تھا کہ اسے نہ کھانا اس لئے زمین تیرے سبب سے لعنتی ہوئی۔ مشقت کے ساتھ تو اپنی عمر بھر اسکی پیداوار کھائے گا۔

4۔ مرقس 8باب27 (تاپہلا،)

27۔پھر یسوع چلا گیا۔

5۔ مرقس 9باب14تا29آیات

14۔ اور جب وہ شاگردوں کے پاس آئے تو دیکھا کہ اُن کے چاروں طرف بڑی بھیڑ ہے فقیہ اُن سے بحث کررہے ہیں۔ 

15۔ اور فی الفور ساری بھیڑ اُسے دیکھ کر نہایت حیران ہوئی اور اُس کی طرف دوڑ کر اُسے سلام کرنے لگی۔ 

16۔ اُس نے اُن سے پوچھا تم اُن سے کیا بحث کرتے ہو؟ 

17۔ اور بھیڑ میں سے ایک نے اُسے جواب دیا کہ اے استاد میں اپنے بیٹے کو جس میں گونگی روح ہے تیرے پاس لایا تھا۔ 

18۔ وہ جہاں اُسے پکڑتی ہے پٹک دیتی ہے اور کف بھر لاتا اور دانت پیستا اور سوکھتا جاتا ہے اور میں نے تیرے شاگردوں سے کہا تھا کہ وہ اسے نکال دیں مگر وہ نہ نکال سکے۔ 

19۔ اس نے جواب میں اُن سے کہا اے بے اعتقاد قوم میں کب تک تمہارے ساتھ رہوں گا؟ کب تک تمہاری برداشت کروں گا؟ اسے میرے پاس لاؤ۔ 

20۔ پس وہ اسے اس کے پاس لائے اور جب اُس نے اُسے دیکھا تو فی الفور روح نے اُسے مروڑا اور وہ زمین پر گرا اور کف بھرلاکر لوٹنے لگا۔ 

21۔ اُس نے اُس کے باپ سے پوچھا یہ اس کو کتنی مدت سے ہے؟ اُس نے کہا بچپن سے۔ 

22۔ اور اُس نے اکثر اسے آگ اور پانی میں ڈالا تاکہ اُسے ہلاک کرے لیکن اگر تو کچھ کر سکتا ہے تو ہم پر ترس کھا کر ہماری مدد کر۔ 

23۔ یسوع نے اُس سے کہا کیا! اگر تو کر سکتا ہے! جو اعتقاد رکھتا ہے اُس کے لئے سب کچھ ہو سکتا ہے۔ 

24۔ اُس لڑکے کے باپ نے فی الفور چلا کر کہا میں اعتقاد رکھتا ہوں۔ تو میری بے اعتقادی کا علاج کر۔ 

25۔ جب یسوع نے دیکھا کہ لوگ دوڑ دوڑ کر جمع ہورہے ہیں تو اُس ناپاک روح کو جھڑک کر اُس سے کہا اے گونگی بہری روح! میں تجھے حکم کرتا ہوں اس میں سے نکل آ اور اس میں پھر کبھی داخل نہ ہو۔ 

26۔ وہ چلا کر اور اُسے بہت مروڑ کر نکل آئی اوروہ مردہ سا ہوگیا ایسا کہ اکثروں نے کہا کہ وہ مرگیا۔ 

27۔ مگر یسوع نے اُس کا ہاتھ پکڑکر اُسے اٹھایا اور وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ 

28۔ جب وہ گھر میں آیا تو اُس کے شاگردوں نے تنہائی میں اُس سے پوچھا کہ ہم اُسے کیوں نہ نکال سکے؟ 

29۔ اُس نے اُن سے کہا کہ یہ قسم دعا کے سوا کسی اور طرح نہیں نکل سکتی۔

6۔ یوحنا 14باب10 (الفاظ) تا 12آیات

10۔ ۔۔۔یہ باتیں میں جو تم سے کہتا ہوں اپنی طرف سے نہیں کہتا لیکن باپ مجھ میں رہ کر اپنے کام کرتا ہے۔ 

11۔میرا یقین کرو کہ میں باپ میں ہوں اور باپ مجھ میں۔ نہیں تو میرے کاموں ہی کے سبب سے میرا یقین کرو۔ 

12۔میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو مجھ پر ایمان رکھتا ہے یہ کام جو میں کرتا ہوں وہ بھی کرے گا بلکہ اِن سے بھی بڑے کام کرے گا کیونکہ میں باپ کے پاس جاتا ہوں۔

7۔ یوحنا 15باب11آیت

11۔ میں نے یہ باتیں اس لئے تْم سے کہی ہیں کہ میری خوشی تم میں ہو اور تمہاری خوشی پوری ہو جائے۔



سائنس اور صح


1۔ 526: 15۔17

خدا نے جو کچھ بنایا تھا اسے اچھا کہا اور کلام واضح کرتا ہے کہ سب کچھ اْسی نے بنایا۔

2۔ 71: 1۔ 4

کچھ بھی حقیقی اور ابدی نہیں ہے، کچھ بھی روح نہیں ہے، ماسوائے خدا اور اْس کے خیال کے۔ بدی میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ یہ نہ تو کوئی شخص، جگہ اور نہ ہی کوئی چیز ہے، بلکہ محض ایک عقیدہ ، مادی حس کا ایک بھرم ہے۔ 

3۔ 228: 25۔ 29 (دوسرے سے)

خدا سے جدا کوئی طاقت نہیں ہے۔ قادر مطلق میں ساری طاقت ہے، اور کسی اور طاقت کو ماننا خدا کی بے حرمتی کرنا ہے۔ حلیم ناصری نے اس مفروضے کو مسترد کردیا کہ گناہ، بیماری اور موت میں کوئی طاقت ہے۔اْس نے انہیں بے اختیار ثابت کیا۔

4۔ 538: 13۔ 22

’’حیات کا درخت‘‘ ابدی حقیقت یا ہستی کی علامت ہے۔ ’’پہچان کا درخت‘‘ غیر واقعیت کی نشانی بنتا ہے۔سانپ کی گواہی غلطی اور اْس جھوٹے دعوے کی علامت ہے جو خدا یعنی اچھائی کو غلط بیان کرتا ہے۔ گناہ، بیماری اور موت کے حوالے سے پیدائش میں دئیے گئے الوہیت کے تعارف میں کوئی ریکارڈ نہیں ملتا، جس میں خدا آسمان ، زمین اور انسان کو خلق کرتا ہے۔ بدی کی کوئی تاریخ نہیں ماسوائے اْس کے جو میدان میں داخل ہونے کی سچائی کی مخالفت کرتا ہے، اور بدی کو محض حقیقت اور ابدیت کے مقابلے میں بطور غیر حقیقی ہی پیش کیاگیا ہے۔ 

5۔ 567: 18۔ 23

یہ جھوٹا دعویٰ، یہ قدیم عقیدہ کہ پرانا سانپ جس کا نام شیطان(بد) ہے، جو مادے کی ذہانت کا دعویٰ کرتا ہے خواہ وہ انسان کے لئے مفید ہو یا نقصان دہ، وہ بڑا واضح بھرم ، لال اژدھا ہے اور اسے مسیح، سچائی ، روحانی خیال نے باہر نکال پھینکا ہے، اور اس لئے یہ بے اختیار ثابت ہوا ہے۔

6۔ 492: 22۔ 28

یہ قیاس کہ عقل اور مادا گناہ، بیماری اور موت کے انسانی بھرم میں گھْل مل جاتے ہیں بالاآخر الٰہی سائنس کے تابع ہو جاتا ہے، جو اس قیاس کا انکار کرتا ہے۔ خدا عقل ہے، خدا لامحدود ہے؛ لہٰذہ سب کچھ عقل ہے۔ شخصی سائنس اسی بیان پر موقوف ہے، اور اس سائنس کا اصول الٰہی ہے، جو ہم آہنگی اور لافانیت کو ظاہر کرتا ہے۔ 

7۔ 385: 31۔ 15

بطور کوئی ایک عاقل آپ کے جسم یا سست مادے سے آنے والی فرضی معلومات فانی سوچ کی فریب نظری ہے، جواْس کے خوابوں میں سے ایک ہے۔ اس بات کو جانیں کہ حواس کا ثبوت بیماری کے معاملے میں مزید اس قدر قبول نہیں کیا جاتاجتنا گناہ کے معاملے میں کیا جاتا ہے۔

جسم کو خاص درجہ حرارت پر ننگاکریں، اور عقیدہ کہتا ہے کہ آپ کو نزلہ زکام ہوجاتا ہے؛ لیکن عقل کی جانب سے مطلوب اور پیداہوئے بغیر اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ جیسا کہ بشر یہ واضح کرتے ہیں کہ درجہ حرارت کے چند حالات نزلہ، بخار، گیٹھیا یا تپ دق پیدا کرتے ہیں جو ان اثرات کو جنم دیتے ہیں موسم کی وجہ سے نہیں بلکہ عقیدے کی بنیاد پر۔ مصنف نے بیشمار مثالوں میں فانی سوچ پر سچائی کے کام کے وسیلہ اور جسم پر سچائی کے متعلقہ اثرات کے وسیلہ بیماری کو شفا دی، یہ جانے بغیر کہ یہ ایسا ہے۔

8۔ 230: 1۔ 10

اگر بیماری حقیقی ہے تو یہ لافانیت سے تعلق رکھتی ہے؛ اگر سچی ہے تو یہ سچائی کا حصہ ہے۔ منشیات کے ساتھ یا بغیر کیاآپ سچائی کی حالت یا خصوصیت کو تباہ کریں گے؟ لیکن اگر گناہ اور بیماری بھرم ہیں ، اس فانی خواب یا بھرم سے بیدار ہونا ہمیں صحتمندی، پاکیزگی اور لافانیت مہیا کرتا ہے۔یہ بیداری مسیح کی ہمیشہ آمد ہے، سچائی کا پیشگی ظہور، جو غلطی کو باہر نکالتا اور بیمار کو شفا دیتا ہے۔ یہ وہ نجات ہے جو خدا، الٰہی اصول،اْس محبت کے وسیلہ ملتی ہے جسے یسوع نے ظاہر کیا۔

9۔ 427: 13۔ 14، 29۔ 3

موت خواب کا ایک مرحلہ ہے کیونکہ وجود مادی ہوسکتا ہے۔

یہاں اور آخرت میں موت کے خواب کی قیادت عقل کرتی ہے۔اپنے خود کے مادی ظہور سے سوچ ’’میں مردہ ہوں‘‘ جنم لے گی تاکہ سچائی کے اس گونج دار لفظ کو پکڑ سکے، ’’کوئی موت، بے عملی، بیماری والا عمل، رد عمل اور نہ ہی شدید رد عمل ہے۔‘‘

زندگی حقیقی ہے، اور موت بھرم ہے۔

10۔ 428: 6۔ 14

اس مقتدر لمحے میں انسان کی ترجیح اپنے مالک کے ان الفاظ کو ثابت کرنا ہے : ’’اگر کوئی شخص میرے کلام پر عمل کرے گا تو ابد تک کبھی موت کو نہ دیکھے گا۔‘‘ جھوٹے بھروسوں اور مادی ثبوتوں کے خیالات کو ختم کرنے کے لئے، تاکہ شخصی روحانی حقائق سامنے آئیں، یہ ایک بہت بڑا حصول ہے جس کی بدولت ہم غلط کو تلف کریں گے اور سچائی کو جگہ فراہم کریں گے۔ یوں ہم سچائی کی وہ ہیکل یا بدن تعمیر کرتے ہیں، ’’جس کا معمار اور بنانے والا خدا ہے‘‘۔ 

11۔ 570: 26۔ 29

جب خدا بیمار یا گناہ کرنے والے کو شفا دیتا ہے انہیں اْس بڑے فائدے سے واقف ہونا چاہئے جو عقل اْن کے لئے لائی ہے۔ انہیں فانی عقل کے اْس بڑے بھرم سے بھی واقف ہونا چاہئے جو انہیں بیمار یا گناہگار بناتی ہے۔ 

12۔ 572: 12۔ 17

محبت کرسچن سائنس کے قانون کو پورا کرتی ہے، اور اس الٰہی اصول کے بغیر کچھ بھی ، سمجھا جانے والا اور ظاہر ہونے والا، آسمانی کتاب کی بصیرت کو آراستہ نہیں کرسکتا، یہ کتاب جو سچائی کے ساتھ غلطی کی سات مہریں کھولتی ہے، یا گناہ، بیماری اور موت کے ہزار ہا بھرموں کو بے نقاب کرتی ہے۔ 

13۔ 242: 9۔ 20

آسمان پر جانے کا واحد راستہ ہم آہنگی ہے اور مسیح الٰہی سائنس میں ہمیں یہ راستہ دکھاتا ہے۔ اس کا مطلب خدا، اچھائی اور اْس کے عکس کے علاوہ کسی اور حقیقت کو نہ جاننا، زندگی کے کسی اور ضمیر کو نا جاننا ہے، اور نام نہاد درد اور خوشی کے احساسات سے برتر ہونا ہے۔ 

خود پرستی ایک مضبوط جسم سے زیادہ غیر شفاف ہے۔ صابر خدا کی صابر تابعداری میں آئیے غلطی ، خود ارادی، خود جوازی اور خود پرستی کے سخت پتھر کو محبت کے محلول کے ساتھ تحلیل کرنے کے لئے جدو جہد کریں، جو روحانیت کے خلاف جنگ کرتا اوروہ گناہ اور موت کا قانون ہے۔ 

14۔ 227: 21۔ 29

کرسچن سائنس آزادی کو اونچا کرتی اور چلاتی ہے کہ : ’’میری پیروی کریں! بیماری، گناہ اور موت کے بندھنوں سے بچیں!‘‘ یسوع نے راستہ متعین کیا ہے۔ دنیا کے باسیو، ’’خدا کے فرزندوں کی جلالی آزادی ‘‘ کو قبول کریں، اور آزاد ہوں! یہ آپ کا الٰہی حق ہے۔ مادی حِس کے بھرم نے، نہ کہ الٰہی قانون نے، آپ کو باندھا ہوا ہے، آپ کے آزاد اعضاء کو جکڑا ہوا ہے، آپ کی صلاحتیوں کو معزول کر رکھا ہے، آپ کے بدن کو لاغر کیا ہوا ہے ، اور آپ کی ہستی کی تختی کو خراب کر رکھا ہے۔ 

15۔ 390: 20۔ 26

سوچ کو وسیع کرنے کے لئے کسی گناہ یا بیماری کے دعوے کو برداشت نہ کریں۔ ایک پائیدار عقیدے کے ذریعے اسے خارج کریں کہ یہ غیر قانونی ہے کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ خدا بیماری کا مصنف نہیں ہے جیسے وہ گناہ کا نہیں ہے۔ آپ کے پاس گناہ یا بیماری میں سے کسی ایک کی ضرورت کی حمایت کے لئے اْس کا کوئی قانون نہیں ہے، لیکن آپ کے پاس اس ضرورت کا انکار کرنے اور بیمار کو شفا دینے کا اختیار ضرور ہے۔


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████