اتوار 14 اگست، 2022

مضمون۔ جان


سنہری متن: زبور 23:3 آیت

”وہ میری جان کو بحال کرتا ہے۔ وہ مجھے اپنے نام کی خاطر صداقت کی راہوں پر لے چلتا ہے۔“

Golden Text: Psalm 23 : 3

He restoreth my soul: he leadeth me in the paths of righteousness for his name’s sake.

سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں


جوابی مطالعہ: زبور 139:1تا10 آیات

1۔ اے خداوند! تْو نے مجھے جانچ لیا اور پہچان لیا۔

2۔ تْو میرا اْٹھنا بیٹھنا جانتا ہے۔ تْو میرے خیال کو دور سے سمجھ لیتا ہے۔

3۔تْو میرے راستہ کی اور میری خوابگاہ کی چھان بین کرتا ہے۔ اور میری سب روشوں سے واقف ہے۔

4۔ دیکھ! میری زبان پر کوئی ایسی بات نہیں جسے تْو اے خداوند! پورے طور پر نہ جانتا ہو۔

5۔ تْونے مجھے آگے پیچھے سے گھیر رکھا ہے۔ اور تیرا ہاتھ مجھ پر ہے۔

6۔یہ عرفان میرے لئے نہایت عجیب ہے۔ یہ بلند ہے مَیں اِس تک پہنچ نہیں سکتا۔

7۔ مَیں تیری روح سے بچ کر کہاں جاؤں۔ یا تیری حضوری سے کدھر بھاگوں؟

8۔ آسمان پر چڑھ جاؤں تو تْو وہاں ہے۔ اگر مَیں پاتال میں بستر بچھاؤں تو دیکھ! تْو وہاں بھی ہے۔

9۔ اگر میں صبح کے پر لگا کر سمندر کی انتہا میں بسوں۔

10۔تو وہاں بھی تیرا ہاتھ میری راہنمائی کرے گا۔ اور تیرا داہناہاتھ مجھے سنبھالے گا۔

Responsive Reading: Psalm 139 : 1-10

1.     O Lord, thou hast searched me, and known me.

2.     Thou knowest my downsitting and mine uprising, thou understandest my thought afar off.

3.     Thou compassest my path and my lying down, and art acquainted with all my ways.

4.     For there is not a word in my tongue, but, lo, O Lord, thou knowest it altogether.

5.     Thou hast beset me behind and before, and laid thine hand upon me.

6.     Such knowledge is too wonderful for me; it is high, I cannot attain unto it.

7.     Whither shall I go from thy spirit? or whither shall I flee from thy presence?

8.     If I ascend up into heaven, thou art there: if I make my bed in hell, behold, thou art there.

9.     If I take the wings of the morning, and dwell in the utter­most parts of the sea;

10.     Even there shall thy hand lead me, and thy right hand shall hold me.

درسی وعظ


درسی وعظ


1 . ۔ زبو ر103: 1تا6، 13، 14 (تا؛)، 15تا22 آیات

1۔ اے میری جان! خداوند کو مبارک کہہ اور جو کچھ مجھ میں ہے اْس کے قدوس نام کو مبارک کہے۔

2۔ اے میری جان! خداوند کو مبارک کہہ اور اْس کی کسی نعمت کو فراموش نہ کر۔

3۔ وہ تیری ساری بدکاری بخشتا ہے۔ وہ تجھے تمام بیماریوں سے شفا دیتا ہے۔

4۔ وہ تیری جان ہلاکت سے بچاتا ہے۔ وہ تیرے سر پر شفقت و رحمت کا تاج رکھتا ہے۔

5۔ وہ تجھے عمر بھر اچھی اچھی چیزوں سے آسودہ کرتا ہے۔ تْو عْقاب کی مانند از سرِ نو جوان ہوتا ہے۔

6۔ خداوند سب مظلوموں کے لئے صداقت اور عدل کے کام کرتا ہے۔

13۔ جیسے باپ اپنے بیٹوں پر ترس کھاتا ہے ویسے ہی خداوند اْن پر جو اْس سے ڈرتے ہیں ترس کھاتا ہے۔

14۔ کیونکہ وہ ہماری سرِشت سے واقف ہے۔

15۔ انسان کی عمر تو گھاس کی مانند ہے۔ وہ جنگلی پھول کی طرح کھِلتا ہے۔

16۔ کہ ہوا اْس پر چلی اوروہ نہیں اور اْس کی جگہ اْسے پھر نہ دیکھے گی۔

17۔ لیکن خداوند کی شفقت اْس سے ڈرنے والوں پر ازل سے ابد تک اور اْس کی صداقت نسل در نسل ہے۔

18۔ یعنی اْن پر جو اْس کے عہد پر قائم رہتے ہیں۔ اور اْس کے قوانین پر عمل کرنا یاد رکھتے ہیں۔

19۔ خداوند نے اپنا تخت آسمان پر قائم کیا ہے۔ اور اْس کی سلطنت سب پر مسلط ہے۔

20۔ اے خداوند کے فرشتو! اْس کو مبارک کہو۔ تم جو زور میں بڑھ کر ہو اور اْس کے کلام کی آواز سن کر اْس پر عمل کرتے ہو۔

21۔ اے خداوند کے لشکرو! سب اْس کو مبارک کہو۔ تم جو اْس کے خادم ہو اور اْس کی مرضی بجا لاتے ہو۔

22۔ تم جو اْس کے تسلط کے سب مقاموں میں ہو۔ اے میری جان! تْو خداوند کو مبارک کہہ۔

1. Psalm 103 : 1-6, 13, 14 (to ;), 15-22

1     Bless the Lord, O my soul: and all that is within me, bless his holy name.

2     Bless the Lord, O my soul, and forget not all his benefits:

3     Who forgiveth all thine iniquities; who healeth all thy diseases;

4     Who redeemeth thy life from destruction; who crowneth thee with lovingkindness and tender mercies;

5     Who satisfieth thy mouth with good things; so that thy youth is renewed like the eagle’s.

6     The Lord executeth righteousness and judgment for all that are oppressed.

13     Like as a father pitieth his children, so the Lord pitieth them that fear him.

14     For he knoweth our frame;

15     As for man, his days are as grass: as a flower of the field, so he flourisheth.

16     For the wind passeth over it, and it is gone; and the place thereof shall know it no more.

17     But the mercy of the Lord is from everlasting to everlasting upon them that fear him, and his righteousness unto children’s children;

18     To such as keep his covenant, and to those that remember his commandments to do them.

19     The Lord hath prepared his throne in the heavens; and his kingdom ruleth over all.

20     Bless the Lord, ye his angels, that excel in strength, that do his commandments, hearkening unto the voice of his word.

21     Bless ye the Lord, all ye his hosts; ye ministers of his, that do his pleasure.

22     Bless the Lord, all his works in all places of his dominion: bless the Lord, O my soul.

2 . ۔ لوقا 4 باب14تا21 آیات

14۔ پھر یسوع روح کی قوت سے بھرا ہوا گلیل کو لوٹا اور سارے گردو نواح میں اْس کی شہرت پھیل گئی۔

15۔ اور وہ اْن کے عبادت خانوں میں تعلیم دیتا رہا اور سب اْس کی بڑائی کرتے رہے۔

16۔ اور وہ ناصرت میں آیا جہاں اْس نے پرورش پائی تھی اور اپنے دستور کے موافق سبت کے دن عبادتخانہ میں گیا اور پڑھنے کو کھڑا ہوا۔

17۔ اور یسعیا ہ نبی کی کتاب اْس کو دی گئی اور کتاب کھول کر اْس نے وہ مقام نکالا جہاں لکھا تھا کہ۔

18۔ خداوند کا روح مجھ پر ہے۔ اِس لئے کہ اْس نے مجھے غریبوں کو خوشخبری دینے کے لئے مسح کیا۔ اْس نے مجھے بھیجا ہے کہ قیدیوں کو رہائی اور اندھوں کو بینائی پانے کی خبر سناؤں۔ کچلے ہوؤں کو آزاد کروں۔

19۔ اور خداوند کے سال مقبول کی منادی کروں۔

20۔ پھر وہ کتاب بند کر کے اور خادم کو واپس دے کر بیٹھ گیا اور جتنے عبادتخانہ میں تھے سب کی آنکھیں اْس پر لگی تھیں۔

21۔ وہ اْن سے کہنے لگا کہ آج یہ نوشتہ تمہارے سامنے پورا ہوا۔

2. Luke 4: 14-21

14     And Jesus returned in the power of the Spirit into Galilee: and there went out a fame of him through all the region round about.

15     And he taught in their synagogues, being glorified of all.

16     And he came to Nazareth, where he had been brought up: and, as his custom was, he went into the synagogue on the sabbath day, and stood up for to read.

17     And there was delivered unto him the book of the prophet Esaias. And when he had opened the book, he found the place where it was written,

18     The Spirit of the Lord is upon me, because he hath anointed me to preach the gospel to the poor; he hath sent me to heal the brokenhearted, to preach deliverance to the captives, and recovering of sight to the blind, to set at liberty them that are bruised,

19     To preach the acceptable year of the Lord.

20     And he closed the book, and he gave it again to the minister, and sat down. And the eyes of all them that were in the synagogue were fastened on him.

21     And he began to say unto them, This day is this scripture fulfilled in your ears.

3 . ۔ لوقا 13باب10تا17 آیات

10۔ پھر وہ سبت کے دن کسی عبادتخانے میں تعلیم دیتا تھا۔

11۔ اوردیکھو ایک عورت تھی جس کو اٹھارہ برس سے کسی بد روح کے باعث کمزوری تھی۔ وہ کْبڑی ہو گئی تھی اور کسی طرح سیدھی نہیں ہو سکتی تھی۔

12۔ یسوع نے اْسے دیکھ کر بلایا اور اْس سے کہا اے عورت تْو اپنی کمزوری سے چھوٹ گئی۔

13۔ اور اْس نے اْس پر ہاتھ رکھے۔ وہ اْسی دم سیدھی ہوگئی اور خدا کی تمجید کرنے لگی۔

14۔ عبادتخانے کا سردار اِس لئے کہ یسوع نے سبت کے دن شفا بخشی خفا ہو کر لوگوں سے کہنے لگا چھ دن ہیں جن میں کام کرنا چاہئے پس اْنہی میں آکر شفا پاؤ نہ کہ سبت کے دن۔

15۔ خداوند نے اْس کے جواب میں کہا اے ریاکارو! کیا تم میں سے ہر اک سبت کے دن اپنے بیل یا گدھے کو تھان سے کھول کر پانی پینے نہیں لے جاتا؟

16۔اورواجب نہ تھا کہ یہ جو ابراہام کی بیٹی ہے جس کو شیطان نے اٹھارہ برس سے باندھ رکھا تھا سبت کے دن اِس بند سے چھڑائی جاتی؟

17۔ جب اْس نے یہ باتیں کہیں تو اْس کے سب مخالف شرمندہ ہوئے اور ساری بھیڑ اْن عالیشان کاموں سے جو اْس سے ہوتے تھے خوش ہوئی۔

3. Luke 13 : 10-17

10     And he was teaching in one of the synagogues on the sabbath.

11     And, behold, there was a woman which had a spirit of infirmity eighteen years, and was bowed together, and could in no wise lift up herself.

12     And when Jesus saw her, he called her to him, and said unto her, Woman, thou art loosed from thine infirmity.

13     And he laid his hands on her: and immediately she was made straight, and glorified God.

14     And the ruler of the synagogue answered with indignation, because that Jesus had healed on the sabbath day, and said unto the people, There are six days in which men ought to work: in them therefore come and be healed, and not on the sabbath day.

15     The Lord then answered him, and said, Thou hypocrite, doth not each one of you on the sabbath loose his ox or his ass from the stall, and lead him away to watering?

16     And ought not this woman, being a daughter of Abraham, whom Satan hath bound, lo, these eighteen years, be loosed from this bond on the sabbath day?

17     And when he had said these things, all his adversaries were ashamed: and all the people rejoiced for all the glorious things that were done by him.

4 . ۔ متی 10 باب1، 5 (تا تیسری)، 8، 20، 28 (تا:)، 28 تا31، 42 آیات

1۔ پھر اْس نے اپنے شاگردوں کو پاس بلا کر اْن کو ناپاک روحوں پر اختیار بخشا کہ اْن کو نکالیں اور ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری کو دور کریں۔

5۔ اِن بارہ کو یسوع نے بھیجا اور اْن کو حکم دے کر کہا غیر قوموں کی طرف نہ جانا اور سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا۔

8۔ بیماروں کو اچھا کرنا۔ مردوں کو جلانا۔ کوڑھیوں کو پاک صاف کرنا۔ بدروحوں کو نکالنا۔ مفت تم نے پایا مفت دینا۔

20۔ کیونکہ بولنے والے تم نہیں بلکہ تمہارے باپ کا روح ہے جو تم میں بولتا ہے۔

28۔ جو بدن کو قتل کرتے ہیں اور روح کو قتل نہیں کر سکتے اْن سے نہ ڈرو۔

29۔ کیا پیسے کی دو چِڑیاں نہیں بکتیں؟ اور اْن میں سے ایک بھی تمہارے باپ کی مرضی کے بغیر زمین پر نہیں گر سکتی۔

30۔ بلکہ تمہارے سر کے بال بھی سب گِنے ہوئے ہیں۔

31۔ پس ڈرو۔ تمہاری قدر تو بہت سی چِڑیوں سے زیادہ ہے۔

42۔ اور جو کوئی شاگرد کے نام سے اِن چھوٹوں میں سے کسی کو صرف ایک پیالہ ٹھنڈا پانی ہی پلائے گا مَیں تم سے سچ کہتا ہوں وہ اپنا اجر ہر گز نہ کھوئے گا۔

4. Matthew 10 : 1, 5 (to 3rd ,), 8, 20, 28 (to :), 29-31, 42

1     And when he had called unto him his twelve disciples, he gave them power against unclean spirits, to cast them out, and to heal all manner of sickness and all manner of disease.

5     These twelve Jesus sent forth, and commanded them, saying,

8     Heal the sick, cleanse the lepers, raise the dead, cast out devils: freely ye have received, freely give.

20     For it is not ye that speak, but the Spirit of your Father which speaketh in you.

28     And fear not them which kill the body, but are not able to kill the soul:

29     Are not two sparrows sold for a farthing? and one of them shall not fall on the ground without your Father.

30     But the very hairs of your head are all numbered.

31     Fear ye not therefore, ye are of more value than many sparrows.

42     And whosoever shall give to drink unto one of these little ones a cup of cold water only in the name of a disciple, verily I say unto you, he shall in no wise lose his reward.

5 . ۔ 1 کرنتھیوں 15 باب 51تا54 آیات

51۔ دیکھو میں تم سے بھید کی بات کہتا ہوں۔ ہم سب تو نہیں سوئیں گے مگر سب بدل جائیں گے۔

52۔ اور یہ ایک دم میں۔ ایک پل میں۔ پچھلا نرسنگا پھونکتے ہی ہوگا کیونکہ نرسنگا پھونکا جائے گا اور مردے غیر فانی حالت میں اْٹھیں گے اور ہم بدل جائیں گے۔

53۔ کیونکہ ضرور ہے کہ یہ فانی جسم بقا کا جامہ پہنے اور مرنے والا جسم حیاتِ ابدی کا جامہ پہنے۔

54۔ اور جب یہ فانی جسم بقا کا جامہ پہن چکے گا اور یہ مرنے والا جسم حیات ِ ابدی کا جامہ پہن چکے گا تو وہ قول پورا ہوگا جو لکھا ہے کہ موت فتح کا لْقمہ ہو گئی۔

5. I Corinthians 15 : 51-54

51     Behold, I shew you a mystery; We shall not all sleep, but we shall all be changed,

52     In a moment, in the twinkling of an eye, at the last trump: for the trumpet shall sound, and the dead shall be raised incorruptible, and we shall be changed.

53     For this corruptible must put on incorruption, and this mortal must put on immortality.

54     So when this corruptible shall have put on incorruption, and this mortal shall have put on immortality, then shall be brought to pass the saying that is written, Death is swallowed up in victory.

سائنس اور صح

1 . ۔ 587 :5۔8

خدا۔ عظیم مَیں ہوں؛ سب جاننے والا، سب دیکھنے والا، سب عمل کرنے والا، عقل کْل، کْلی محبت، اور ابدی؛ اصول؛ جان، روح، زندگی، سچائی، محبت، سارا مواد؛ ذہانت۔

1. 587 : 5-8

God. The great I am; the all-knowing, all-seeing, all-acting, all-wise, all-loving, and eternal; Principle; Mind; Soul; Spirit; Life; Truth; Love; all substance; intelligence.

2 . ۔ 30 :19۔1

سچائی کے انفرادی نمونے کے طور پر، یسوع مسیح ربونی غلطی اور تمام گناہ، بیماری اور موت کو رد کرنے آیا، تاکہ سچائی اور زندگی کی راہ ہموار کرے۔روح کے پھلوں اور مادی فہم، سچائی اور غلطی کے مابین فرق کو واضح کرتے ہوئے، یہ نمونہ یسوع کی پوری زمینی زندگی کے دوران ظاہر ہوتا رہا۔

اگر ہم نے روح کو پورا اختیار سنبھالنے کی اجازت دینے کے لئے مادی فہم کی غلطیوں پر مناسب طور سے فتح پا لی ہے تو ہم گناہ سے نفرت کریں گے اور اِسے ہر صورت میں رد کریں گے۔صرف اسی طرح سے ہم ہمارے دشمنوں کے لئے برکت چاہ سکتے ہیں، اگرچہ ہوسکتا ہے وہ ہمارے الفاظ کو نہ سمجھیں۔ہم خود اِس کا انتخاب نہیں کر سکتے، مگر ہماری نجات کے لئے ہمیں ویسے ہی کام کرنا چاہئے جیسے یسوع نے ہمیں سکھایا ہے۔ کمزوری اور طاقت میں، وہ غریبوں کو انجیل کی تعلیم دیتا ہوا پایا گیا۔

2. 30 : 19-1

As the individual ideal of Truth, Christ Jesus came to rebuke rabbinical error and all sin, sickness, and death, — to point out the way of Truth and Life. This ideal was demonstrated throughout the whole earthly career of Jesus, showing the difference between the offspring of Soul and of material sense, of Truth and of error.

If we have triumphed sufficiently over the errors of material sense to allow Soul to hold the control, we shall loathe sin and rebuke it under every mask. Only in this way can we bless our enemies, though they may not so construe our words. We cannot choose for ourselves, but must work out our salvation in the way Jesus taught. In meekness and might, he was found preaching the gospel to the poor.

3 . ۔ 204 :30۔6

یہ عقیدہ کہ خدا مادے میں رہتا ہے شِرک ہے۔ وہ غلطی جو کہتی ہے کہ روح بدن میں ہے، عقل مادے میں ہے، اور اچھائی بدی میں ہے اْسے اپنے یہ الفاظ واپس لینے چاہئیں اور ایسی باتوں سے پرہیز کرنا چاہئے؛ وگرنہ خدا انسانیت سے پوشیدہ رہنا جاری رکھے گا اور بشر یہ جانے بغیر کہ وہ گناہ کر رہے ہیں گناہ کرتے رہیں گے، روح کی بجائے مادے کی طرف رجوح کریں گے، لنگڑے پن سے لڑکھڑائیں گے، نشے میں گریں گے، بیماری سے فنا ہوں گے، یہ سب اْن کے اندھے پن، خدا اور انسان سے متعلق اْن کے جھوٹے فہم کے سبب ہوگا۔

3. 204 : 30-6

The belief that God lives in matter is pantheistic. The error, which says that Soul is in body, Mind is in matter, and good is in evil, must unsay it and cease from such utterances; else God will continue to be hidden from humanity, and mortals will sin without knowing that they are sinning, will lean on matter instead of Spirit, stumble with lameness, drop with drunkenness, consume with disease, — all because of their blindness, their false sense concerning God and man.

4 . ۔ 70 :12۔9

الٰہی عقل سبھی شناختوں کو،بطور منفرد اور ابدی، گھاس کاٹنے والی تلوار تا ستارے تک، محفوظ رکھتا ہے۔سوالات یہ ہیں: خدا کی شناختیں کیا ہیں؟ جان کیا ہے؟ کیا زندگی یا جان بنائی گئی چیز میں موجود ہوتی ہے؟

کچھ بھی حقیقی اور ابدی نہیں ہے، کچھ بھی روح نہیں ہے، ماسوائے خدا اور اْس کے خیال کے۔ بدی میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ یہ نہ تو کوئی شخص، جگہ اور نہ ہی کوئی چیز ہے، بلکہ محض ایک عقیدہ، مادی حس کا ایک بھرم ہے۔

ساری حقیقت کی شناخت یا خیال ہمیشہ جاری رہتا ہے؛ لیکن روح یا سب کا الٰہی اصول، روح کی بناوٹیں نہیں ہیں۔ جان روح، خدا، خالق، حکمران محدود شکل سے باہر لامحدود اصول کا مترادف لفظ ہے، جو صرف عکس کی تشکیل کرتا ہے۔

4. 70 : 12-9

The divine Mind maintains all identities, from a blade of grass to a star, as distinct and eternal. The questions are: What are God's identities? What is Soul? Does life or soul exist in the thing formed?

Nothing is real and eternal, — nothing is Spirit, — but God and His idea. Evil has no reality. It is neither person, place, nor thing, but is simply a belief, an illusion of material sense.

The identity, or idea, of all reality continues forever; but Spirit, or the divine Principle of all, is not in Spirit's formations. Soul is synonymous with Spirit, God, the creative, governing, infinite Principle outside of finite form, which forms only reflect.

5 . ۔ 467 :1۔23

سوال۔ جان کی سائنس کی شرائط کیاہیں؟

جواب۔ اس سائنس کا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ ”تْو میرے حضور غیر معبودوں کو نہ ماننا۔“یہ لفظ”میرے“ روح ہے۔لہٰذہ اس حکم کا مطلب ہے یہ: تو میرے سامنے نہ کوئی ذہانت، نہ زندگی، نہ مواد، نہ سچائی، نہ محبت رکھنا ماسوائے اْس کے جو روحانی ہے۔دوسرا بھی اسی طرح ہے، ”تْو اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھ۔“اس بات کی پوری طرح سے سمجھ آجانی چاہئے کہ تمام انسانوں کی عقل ایک ہے، ایک خدا اور باپ، ایک زندگی، حق اور محبت ہے۔ جب یہ حقیقت ایک تناسب میں ایاں ہوگی تو انسان کامل ہوجائے گا، جنگ ختم ہو جائے گی اور انسان کا حقیقی بھائی چارہ قائم ہو جائے گا۔دوسرے دیوتا نہ ہونا، دوسری کی طرف جانے کی بجائے راہنمائی کے لئے ایک کامل عقل کے پاس جاتے ہوئے، انسان خدا کی مانند پاک اور ابدی ہوجاتا ہے، جس کے پاس وہی عقل ہے جو مسیح میں بھی تھی۔

سائنس جان، روح کو بدن میں غیر موجود ظاہر کرتی ہے، اور خدا کو انسان میں نہیں بلکہ انسان کے وسیلہ منعکس ظاہر کرتی ہے۔عظیم ترین کم ترین نہیں ہو سکتا۔یہ عقیدہ کہ عظیم ترین کم ترین میں ہو سکتا ہے ایک غلطی ہے جو ناکام ہو جاتی ہے۔جان کی سائنس میں یہ ایک نمایاں نقطہ ہے کہ اصول اْس کے خیال میں نہیں ہوتا۔روح، جان انسان میں محدود نہیں ہیں، اور مادے میں کبھی نہیں ہوتی۔

5. 467 : 1-23

Question. — What are the demands of the Science of Soul?

Answer. — The first demand of this Science is, "Thou shalt have no other gods before me." This me is Spirit. Therefore the command means this: Thou shalt have no intelligence, no life, no substance, no truth, no love, but that which is spiritual. The second is like unto it, "Thou shalt love thy neighbor as thyself." It should be thoroughly understood that all men have one Mind, one God and Father, one Life, Truth, and Love. Mankind will become perfect in proportion as this fact becomes apparent, war will cease and the true brotherhood of man will be established. Having no other gods, turning to no other but the one perfect Mind to guide him, man is the likeness of God, pure and eternal, having that Mind which was also in Christ.

Science reveals Spirit, Soul, as not in the body, and God as not in man but as reflected by man. The greater cannot be in the lesser. The belief that the greater can be in the lesser is an error that works ill. This is a leading point in the Science of Soul, that Principle is not in its idea. Spirit, Soul, is not confined in man, and is never in matter.

6 . ۔ 170 :14۔17

سچائی کے مطالبات روحانی ہیں، اور وہ بدن تک عقل کے وسیلہ پہنچتے ہیں۔ انسان کی ضروریات کے بہترین ترجمان نے کہا: ”اپنی جان کی فکر نہ کرنا کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے؟“

6. 170 : 14-17

The demands of Truth are spiritual, and reach the body through Mind. The best interpreter of man's needs said: "Take no thought for your life, what ye shall eat, or what ye shall drink."

7 . ۔ 259 :6۔14

الٰہی سائنس میں، انسان خدا کی حقیقی شبیہ ہے۔ الٰہی فطرت میں یسوع مسیح کو بہترین طریقے سے بیان کیا گیا ہے، جس نے انسانوں پر خدا کی مناسب تر عکاسی ظاہر کی اورکمزور سوچ کے نمونے کی سوچ سے بڑی معیارِ زندگی فراہم کی، یعنی ایسی سوچ جو انسان کے گرنے، بیماری، گناہ کرنے اور مرنے کو ظاہر کرتی ہے۔ سائنسی ہستی اور الٰہی شفا کی مسیح جیسی سمجھ میں کامل اصول اور خیال، کامل خدا اور کامل انسان، بطور سوچ اور اظہار کی بنیاد شامل ہوتے ہیں۔

7. 259 : 6-14

In divine Science, man is the true image of God. The divine nature was best expressed in Christ Jesus, who threw upon mortals the truer reflection of God and lifted their lives higher than their poor thought-models would allow, — thoughts which presented man as fallen, sick, sinning, and dying. The Christlike understanding of scientific being and divine healing includes a perfect Principle and idea, — perfect God and perfect man, — as the basis of thought and demonstration.

8 . ۔ 210 :11۔18

یہ جانتے ہوئے کہ جان اور اْس کی خصوصیات ہمیشہ کے لئے انسان کے وسیلہ ظاہر کی جاتی رہی ہیں، مالک نے بیمار کو شفا دی، اندھے کو آنکھیں دیں، بہرے کو کان دئیے، لنگڑے کو پاؤں دئیے، یوں وہ انسانی خیالوں اور بدنوں پر الٰہی عقل کے سائنسی عمل کو روشنی میں لایااور انہیں جان اور نجات کی بہتر سمجھ عطا کی۔یسوع نے ایک ہی اور یکساں مابعد لاطبیعی مرحلے کے ساتھ گناہ اوربیماری کو ٹھیک کیا۔

8. 210 : 11-18

Knowing that Soul and its attributes were forever manifested through man, the Master healed the sick, gave sight to the blind, hearing to the deaf, feet to the lame, thus bringing to light the scientific action of the divine Mind on human minds and bodies and giving a better understanding of Soul and salvation. Jesus healed sickness and sin by one and the same metaphysical process.

9 . ۔ 301 :17۔32

جیسا کہ خدا اصل ہے اور انسان الٰہی صورت اور شبیہ ہے، تو انسان کو صرف اچھائی کے اصل، روح کے اصل نہ کہ مادے کی خواہش رکھنی چاہئے، اور حقیقت میں ایسا ہی ہوا ہے۔یہ عقیدہ روحانی نہیں ہے کہ انسان کے پاس کوئی دوسرا مواد یا عقل ہے،اور یہ پہلے حکم کو توڑتا ہے کہ تْو ایک خدا، ایک عقل کو ماننا۔ مادی انسان خود کو مادی مواد دکھائی دیتا ہے، جبکہ انسان ”شبیہ“ (خیال) ہے۔ فریب نظری، گناہ، بیماری اور موت مادی فہم کی جھوٹی گواہی سے جنم لیتے ہیں، جو لا محدود روح کے مرکزی فاصلے سے باہر ایک فرضی نظریے سے، عقل اور اصل کی پلٹی ہوئی تصویر پیش کرتی ہے، جس میں ہر چیز اوپر سے نیچے اْلٹ ہوئی ہوتی ہے۔

یہ غلطی روح کی مادی صورتوں میں غیر واضح باشندے کے طور پر، اور انسان کو روحانی کی بجائے مادی گمان کرتی ہے۔

9. 301 : 17-32

As God is substance and man is the divine image and likeness, man should wish for, and in reality has, only the substance of good, the substance of Spirit, not matter. The belief that man has any other substance, or mind, is not spiritual and breaks the First Commandment, Thou shalt have one God, one Mind. Mortal man seems to himself to be material substance, while man is "image" (idea). Delusion, sin, disease, and death arise from the false testimony of material sense, which, from a supposed standpoint outside the focal distance of infinite Spirit, presents an inverted image of Mind and substance with everything turned upside down.

This falsity presupposes soul to be an unsubstantial dweller in material forms, and man to be material instead of spiritual.

10 . ۔ 280 :25۔30

صحیح سمجھا جائے تو ایک حساس مادی صورت اپنانے کی بجائے، انسان ایک بے حس بدن لئے ہوئے ہے، اور خدا، جو انسان اور ساری مخلوق کی جان ہے،اپنی انفرادیت، ہم آہنگی اور لافانیت میں دائمی ہوتے ہوئے، منفرد رہتا اور انسان میں ان خوبیوں کو، عقل کے وسیلہ، نہ کہ مادے کے وسیلہ، متواتر رکھتا ہے۔

10. 280 : 25-30

Rightly understood, instead of possessing a sentient material form, man has a sensationless body; and God, the Soul of man and of all existence, being perpetual in His own individuality, harmony, and immortality, imparts and perpetuates these qualities in man, — through Mind, not matter.

11 . ۔ 477 :22۔26

جان مادہ، زندگی، انسان کی ذہانت ہے، جس کی انفرادیت ہوتی ہے لیکن مادے میں نہیں۔ جان روح سے کمتر کسی چیز کی عکاسی کبھی نہیں کر سکتی۔

انسان روح کا اظہار۔

11. 477 : 22-26

Soul is the substance, Life, and intelligence of man, which is individualized, but not in matter. Soul can never reflect anything inferior to Spirit.

Man is the expression of Soul.

روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔