اتوار 14 جون، 2020  |

اتوار 14 جون، 2020 



مضمون۔ خدا محافظِ انسان

SubjectGod the Preserver of Man

سنہری متن:سنہری متن: متی 26 باب53 آیت

’’کیا تْو نہیں سمجھتا کہ مَیں اپنے باپ سے منت کر سکتا ہوں اور وہ فرشتوں کے بارہ تْمن سے زیادہ میرے پاس ابھی موجود کر دے گا؟“یسوع مسیح‘‘



Golden Text: Matthew 26 : 53

Thinkest thou that I cannot now pray to my Father, and he shall presently give me more than twelve legions of angels?”– Christ Jesus





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: 2 سلاطین 6 باب15تا17 آیات • زبور 68: 17 آیت • زبور 40: 4، 5 آیات


15۔ اور جب اْس مرد خدا کا خادم صبح کو اٹھ کر باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک لشکر معہ گھوڑوں اور رتھوں کے شہر کے چوگرد ہے سو اْس خادم نے جا کر اْس سے کہا ہائے اے میرے مالک! ہم کیا دعا کریں؟

16۔ اْس نے جواب دیا خوف نہ کر کیونکہ ہمارے ساتھ والے اْن کے ساتھ والوں سے زیادہ ہیں۔

17۔ اور الیشع نے دعا کی اور کہا اے خداوند اْس کی آنکھیں کھول دے تاکہ وہ دیکھ سکے تب خداوند نے اْس جوان کی آنکھیں کھول دیں تو اْس نے جونگاہ کی تو دیکھا کہ الیشع کے گردا گرد ایک پہاڑ آتشی گھوڑوں اور رتھوں سے بھراہے۔

17۔ خدا کے رتھ بیس ہزار بلکہ ہزار ہا ہزار ہیں۔ خداوند جیسے کوہِ سیناہ میں ہے ویسا ہی اْن کے درمیان مقدِس میں ہے۔

4۔ مبارک ہے وہ آدمی جو خداوند پر توکل کرتا ہے۔

5۔ اے خداوند میرے خدا! جو عجیب کام تْو نے کئے اور تیرے خیال جو ہماری طرف ہیں وہ بہت سے ہیں۔میں اْن کو تیرے حضور ترتیب نہیں دے سکتا اگر مَیں اْن کا ذکر یا بیان کرنا چاہوں تو وہ شمار سے باہر ہیں۔

Responsive Reading: II Kings 6 : 15-17 • Psalm 68 : 17 • Psalm 40 : 4, 5<

15.     And when the servant of the man of God was risen early, and gone forth, behold, an host compassed the city both with horses and chariots. And his servant said unto him, Alas, my master! how shall we do?

16.     And he answered, Fear not: for they that be with us are more than they that be with them.

17.     And Elisha prayed, and said, Lord, I pray thee, open his eyes, that he may see. And the Lord opened the eyes of the young man; and he saw: and, behold, the mountain was full of horses and chariots of fire round about Elisha.

17.     The chariots of God are twenty thousand, even thousands of angels: the Lord is among them, as in Sinai, in the holy place.

4.     Blessed is that man that maketh the Lord his trust.

5.     Many, O Lord my God, are thy wonderful works which thou hast done, and thy thoughts which are to us-ward: they cannot be reckoned up in order unto thee: if I would declare and speak of them, they are more than can be numbered.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ زبور 121: 1، 2، 3،(وہ جو)، 7 آیات

1۔ مَیں اپنی آنکھیں پہاڑ کی طرف اٹھاؤں گا میری کْمک کہاں سے آئے گی؟

2۔ میری کْمک خداوند سے ہے جس نے آسمان اور زمین کو بنایا۔

3۔۔۔۔ وہ جوتیرا محافظ ہے اونگھنے کا نہیں۔

7۔ خداوند ہر بلا سے تجھے محفوط رکھے گا۔ اور تیری جان کو محفوظ رکھے گا۔

1. Psalm 121 : 1, 2, 3 (he that), 7

1     I will lift up mine eyes unto the hills, from whence cometh my help.

2     My help cometh from the Lord, which made heaven and earth.

3     …he that keepeth thee will not slumber.

7     The Lord shall preserve thee from all evil: he shall preserve thy soul.

2۔ خروج 23 باب20، 25 آیات

20۔ دیکھ مَیں ایک فرشتہ تیرے آگے بھیجتا ہوں کہ راستے میں تیرا نگہبان ہو اور تجھے اْس جگہ پہنچا دے جسے مَیں نے تیار کیا ہے۔

25۔ اور تم خداوند اپنے خدا کی عبادت کرنا تب وہ تیری روٹی اور پانی پر برکت دے گا اور مَیں تیرے بیچ سے بیماری کو دْور کر دوں گا۔

2. Exodus 23 : 20, 25

20     Behold, I send an Angel before thee, to keep thee in the way, and to bring thee into the place which I have prepared.

25     And ye shall serve the Lord your God, and he shall bless thy bread, and thy water; and I will take sickness away from the midst of thee.

3۔ مرقس 5 باب25، 26 (دْکھ اٹھایا) تا 34 آیات

25۔ پھر ایک عورت جس کے بارہ برس سے خون جاری تھا۔

26۔۔۔۔کئی طبیبوں سے تکلیف اٹھا چکی تھی اور اپنا سب مال خرچ کر کے بھی اْسے کچھ فائدہ نہ ہواتھا بلکہ زیادہ بیمار ہو گئی تھی۔

27۔ یسوع کا حال سْن کر بھیڑ میں اْس کے پیچھے سے آئی اور اْس کی پوشاک کو چھوا۔

28۔ کیونکہ وہ کہتی تھی کہ اگر مَیں اْس کی پوشاک ہی چھو لوں گی تو اچھی ہو جاؤں گی۔

29۔ اور فی الفور اْس کا خون بہنا بند ہوگیا اور اْس نے اپنے بدن میں محسوس کیا کہ مَیں نے اس بیماری سے شفا پائی۔

30۔ یسوع نے فی الفور اپنے میں معلوم کر کے کہ مجھ میں سے قوت نکلی اْس بھیڑ میں پیچھے مڑ کر کہا کس نے میری پوشاک چھوئی؟

31۔ اْس کے شاگردوں نے کہا تْو دیکھتا ہے بھیڑ تجھ پر گری پڑتی ہے اور تْو کہتا ہے مجھے کس نے چھوا؟

32۔ اْس نے چاروں طرف نگاہ کی تاکہ جس نے یہ کام کیا اْسے دیکھے۔

33۔ وہ عورت جو کچھ اْس سے ہوا تھا محسوس کر کے ڈرتی اور کانپتی ہوئی اور اْس کے آگے گر پڑی اور سارا حال سچ سچ اْس سے کہہ دیا۔

34۔ اْس نے اْس سے کہا بیٹی تیرے ایمان سے تجھے شفا ملی۔ سلامت چلی جا اور اپنی بیماری سے بچی رہ۔

3. Mark 5 : 25, 26 (had suffered)-34

25     And a certain woman, which had an issue of blood twelve years,

26     …had suffered many things of many physicians, and had spent all that she had, and was nothing bettered, but rather grew worse,

27     When she had heard of Jesus, came in the press behind, and touched his garment.

28     For she said, If I may touch but his clothes, I shall be whole.

29     And straightway the fountain of her blood was dried up; and she felt in her body that she was healed of that plague.

30     And Jesus, immediately knowing in himself that virtue had gone out of him, turned him about in the press, and said, Who touched my clothes?

31     And his disciples said unto him, Thou seest the multitude thronging thee, and sayest thou, Who touched me?

32     And he looked round about to see her that had done this thing.

33     But the woman fearing and trembling, knowing what was done in her, came and fell down before him, and told him all the truth.

34     And he said unto her, Daughter, thy faith hath made thee whole; go in peace, and be whole of thy plague.

4۔ یسعیاہ 63 باب7، 9 (فرشتہ)، 16 (اوہ)، 19 (تا:) آیات

7۔ مَیں خداوند کی شفقت کا ذکر کروں گا۔ خداوند کی ستائش کا اْس سب کے مطابق جو خداوند نے ہم کو عنایت کیا اور بڑی مہربانی کا جو اس نے اسرائیل کے گھرانے پر اپنی خاص رحمت اور فراوان شفقت کے مطابق ظاہرکیا ہے۔

9۔۔۔۔اْس کے حضور کے فرشتہ نے اْن کو بچایا۔ اْس نے اپنی الفت و رحمت سے اْن کا فدیہ دیا۔ اْس نے اْن کو اٹھایا اور قدیم سے ہمیشہ اْن کے لئے پھرا۔

16۔۔۔۔تْو اے خداوند ہمارا باپ اور فدیہ دینے والا ہے۔تیرا نام ازل سے ہے۔

19۔ ہم تیرے ہیں۔

4. Isaiah 63 : 7, 9 (the angel), 16 (O), 19 (to :)

7     I will mention the lovingkindnesses of the Lord, and the praises of the Lord, according to all that the Lord hath bestowed on us, and the great goodness toward the house of Israel, which he hath bestowed on them according to his mercies, and according to the multitude of his lovingkindnesses.

9     …the angel of his presence saved them: in his love and in his pity he redeemed them; and he bare them, and carried them all the days of old.

16     …O Lord, art our father, our redeemer; thy name is from everlasting.

19     We are thine:

5۔ امثال 3 باب 1 تا3 (تا پہلا)5، 6 آیات

1۔اے میرے بیٹے میری تعلیم کو فراموش نہ کر۔ بلکہ تیرا دل میرے حکموں کو مانے۔

2۔کیونکہ تْو اِن سے عمر کی درازی اور پیروی اور سلامتی حاصل کرے گا۔

3۔ شفقت اور سچائی تجھ سے جدا نہ ہو۔ تْو اْن کو اپنے گلے کا طوق بنانا اور اپنے دل کی تختی پر لکھ لینا۔

5۔ سارے دل سے خداوند پر توکل کر اور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر۔

6۔ اپنی سب راہوں میں اْس کو پہچان اور وہ تیری راہنمائی کرے گا۔

5. Proverbs 3 : 1-3 (to 1st :), 5, 6

1     My son, forget not my law; but let thine heart keep my commandments:

2     For length of days, and long life, and peace, shall they add to thee.

3     Let not mercy and truth forsake thee:

5     Trust in the Lord with all thine heart; and lean not unto thine own understanding.

6     In all thy ways acknowledge him, and he shall direct thy paths.

6۔ یرمیاہ 29 باب 11 تا14 (تا دوسرا) آیات

11۔ کیونکہ میں تمہارے حق میں اپنے خیالات کو جانتا ہوں خداوند فرماتا ہے یعنی سلامتی کے خیالات۔ برائی کے نہیں تاکہ میں تم کو نیک انجام کی امید بخشوں۔

12۔ تب تم میرا نام لو گے اور مجھ سے دعا کرو گے اور میں تمہاری سنوں گا۔

13۔ اور تم مجھے ڈھونڈو گے اور پاؤ گے۔جب پورے دل سے میرے طالب ہوگے۔

14۔ اور مَیں تم کو مل جاؤں گا خداوند فرماتا ہے اور مَیں تمہاری اسیری کو موقوف کراؤں گا۔

6. Jeremiah: 29 : 11-14 (to 2nd ,

11     For I know the thoughts that I think toward you, saith the Lord, thoughts of peace, and not of evil, to give you an expected end.

12     Then shall ye call upon me, and ye shall go and pray unto me, and I will hearken unto you.

13     And ye shall seek me, and find me, when ye shall search for me with all your heart.

14     And I will be found of you, saith the Lord: and I will turn away your captivity,

7۔ اعمال 12 باب1، 3 (وہ آگے بڑھا) (تا پہلا)، 4 تا 11آیات

1۔ قریباً اْسی وقت ہیرودیس بادشاہ نے ستانے کے لئے کلیسیا میں بعض پر ہاتھ ڈالا۔

3۔۔۔۔تو اْس نے پطرس کو بھی گرفتار کر لیا۔

4۔ اور اْس کو پکڑ کر قید کیا اور نگہبانی کے لئے چار چار سپاہیوں کے چار پہروں میں رکھا اِس ارادہ سے کہ فسح کے بعد اْس کو لوگوں کے سامنے پیش کرے۔

5۔ پس قید خانہ میں تو پطرس کی نگہبانی ہو رہی تھی مگر کلیسیا اْس کے لئے بد ن و جان دعا کر رہی تھی۔

6۔ اور جب ہیرودیس اْس کو پیش کرنے کو تھا تو اْسی رات پطرس دو زنجیروں سے بندھا ہوا دو سپاہیوں کے درمیان سوتا تھا اور پہرے والے دروازے پر قید خانہ کی نگہبانی کر رہے تھے۔

7۔ کہ دیکھو خداوند کا ایک فرشتہ آ کھڑا ہوا اور اْس کوٹھڑی میں نور چمک گیا اور اْس نے پطرس کی پسلی پر ہاتھ مار کر اْسے جگایا اور کہا کہ جلد اْٹھ! اور زنجیریں اْ س کے ہاتھوں میں سے کھل گئیں۔

8۔ پھر فرشتہ نے اْس سے کہا کہ کمر باندھ اور اپنی جوتی پہن لے۔اْس نے کہا اپنا چوغہ پہن کر میرے پیچھے ہو لے۔

9۔ وہ نکل کر اْس کے پیچھے ہو لیا اور یہ نہ جانا کہ جو کچھ فرشتہ کی طرف سے ہو رہا ہے وہ واقعی ہے۔ بلکہ یہ سمجھا کہ رویا دیکھ رہا ہوں۔

10۔ پس وہ پہلے اور دوسرے حلقہ میں سے نکل کر اْس لوہے کے پھاٹک پر پہنچے جو شہر کی طرف ہے۔ وہ آپ ہی اْن کے لئے کھل گیا۔ پس وہ نکل کر کوچے کے اْس سرے تک نکل گئے اور فوراً فرشتہ اْس کے پاس سے چلا گیا۔

11۔ اور پطرس نے ہوش میں آکر کہا کہ اب مَیں نے سچ جان لیا کہ خداوند نے اپنا فرشتہ بھیج کر مجھے ہیرودیس کے ہاتھ سے چھڑا لیا اور یہودی قوم کی ساری اْمید توڑ ڈالی۔

7. Acts 12 : 1, 3 (he proceeded) (to 1st .), 4-11

1     Now about that time Herod the king stretched forth his hands to vex certain of the church.

3     …he proceeded further to take Peter also.

4     And when he had apprehended him, he put him in prison, and delivered him to four quaternions of soldiers to keep him; intending after Easter to bring him forth to the people.

5     Peter therefore was kept in prison: but prayer was made without ceasing of the church unto God for him.

6     And when Herod would have brought him forth, the same night Peter was sleeping between two soldiers, bound with two chains: and the keepers before the door kept the prison.

7     And, behold, the angel of the Lord came upon him, and a light shined in the prison: and he smote Peter on the side, and raised him up, saying, Arise up quickly. And his chains fell off from his hands.

8     And the angel said unto him, Gird thyself, and bind on thy sandals. And so he did. And he saith unto him, Cast thy garment about thee, and follow me.

9     And he went out, and followed him; and wist not that it was true which was done by the angel; but thought he saw a vision.

10     When they were past the first and the second ward, they came unto the iron gate that leadeth unto the city; which opened to them of his own accord: and they went out, and passed on through one street; and forthwith the angel departed from him.

11     And when Peter was come to himself, he said, Now I know of a surety, that the Lord hath sent his angel, and hath delivered me out of the hand of Herod, and from all the expectation of the people of the Jews.

8۔ زبور 91: 9 تا16 آیات

9۔ تْو اے خداوند! میری پناہ ہے! تْو نے حق تعالیٰ کو اپنا مسکن بنا لیا ہے۔

10۔ تجھ پر کوئی آفت نہ آئے گی۔ اور کوئی وبا تیرے خیمے کے نزدیک نہ پہنچے گی۔

11۔ کیونکہ وہ تیری بابت اپنے فرشتوں کو حکم دے گا کہ تیری سب راہوں میں تیری حفاظت کریں۔

12۔ وہ تجھے اپنے ہاتھوں پر اٹھا لیں گے تاکہ ایسا نہ ہو کہ تیرے پاؤں کو پتھر سے ٹھیس لگے۔

13۔ تْو شیر ببر اور افعی روندے گا تْو جوان شیر اور اژدھا کو پامال کرے گا۔

14۔ چونکہ اْس نے مجھ سے دل لگایا ہے۔ اِس لئے مَیں اْسے چھڑاؤں گا۔ مَیں اْسے سرفراز کروں گا۔ کیونکہ اْس نے میرا نام پہچانا ہے۔

15۔ وہ مجھے پکارے گا اورمَیں اْسے جواب دوں گا۔مَیں مصیبت میں اْس کے ساتھ رہوں گا۔ مَیں اْسے چھڑاؤں گا اور عزت بخشوں گا۔

16۔ مَیں اْسے عمر کی درازی سے آسودہ کروں گا۔ اور اپنی نجات اْسے دکھاؤں گا۔

8. Psalm 91 : 9-16

9     Because thou hast made the Lord, which is my refuge, even the most High, thy habitation;

10     There shall no evil befall thee, neither shall any plague come nigh thy dwelling.

11     For he shall give his angels charge over thee, to keep thee in all thy ways.

12     They shall bear thee up in their hands, lest thou dash thy foot against a stone.

13     Thou shalt tread upon the lion and adder: the young lion and the dragon shalt thou trample under feet.

14     Because he hath set his love upon me, therefore will I deliver him: I will set him on high, because he hath known my name.

15     He shall call upon me, and I will answer him: I will be with him in trouble; I will deliver him, and honour him.

16     With long life will I satisfy him, and shew him my salvation.



سائنس اور صح


1۔ 587 :5۔8

خدا۔ عظیم مَیں ہوں؛ سب جاننے والا، سب دیکھنے والا، سب عمل کرنے والا، عقل کْل، کْلی محبت، اور ابدی؛ اصول؛ جان، روح، زندگی، سچائی، محبت، سارا مواد؛ ذہانت۔

1. 587 : 5-8

God. The great I am; the all-knowing, all-seeing, all-acting, all-wise, all-loving, and eternal; Principle; Mind; Soul; Spirit; Life; Truth; Love; all substance; intelligence.

2۔ 487 :27۔1

یہ ادراک کہ زندگی خدا، روح ہے، زندگی کی لازوال حقیقت پر، اْس کی قدرت اور لافانیت پر یقین رکھنے سے ہمارے ایام کو دراز کرتا ہے۔

ایمان ایک سمجھے گئے اصول پر انحصار کرتا ہے۔ یہ اصول بیمار کو شفایاب کرتا ہے اور برداشت اور چیزوں کے ہم آہنگ مراحل ظاہر کرتاہے۔

2. 487 : 27-1

The understanding that Life is God, Spirit, lengthens our days by strengthening our trust in the deathless reality of Life, its almightiness and immortality.

This faith relies upon an understood Principle. This Principle makes whole the diseased, and brings out the enduring and harmonious phases of things.

3۔ 23 :17۔20

ایمان، روحانی سمجھ کی جانب گامزن، وہ ثبوت ہے جو روح سے حاصل کیا گیا ہو، جو ہر قسم کے گناہ کی مذمت کرتا اور خدا کے دعووں کو قیام بخشتا ہے۔

3. 23 : 17-20

Faith, advanced to spiritual understanding, is the evidence gained from Spirit, which rebukes sin of every kind and establishes the claims of God.

4۔ 512 :8۔16

روح کو قوت، حضوری اور قدرت کی اور مقدس خیالات، محبت کے پروں کی بھی علامات دی جاتی ہیں۔اْس کی حضوری کے یہ فرشتے، جن کے پاس پاک ترین فرمان ہے، عقل کے روحانی ماحول سے منسلک ہوتے اور متواتر طور پر خود کی خصوصیات کو دوبارہ پیدا کرتے ہیں۔ہم اْن کی انفرادی اشکال کو نہیں جانتے، لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ اْن کی فطرت خدا کی فطرت اور روحانی برکات کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے؛ یوں علامتی ہوتے ہوئے، خارجی ہیں، تاہم نفسی ہیں، ایمان اور روحانی فہم کو بیان کرتے ہیں۔

4. 512 : 8-16

Spirit is symbolized by strength, presence, and power, and also by holy thoughts, winged with Love. These angels of His presence, which have the holiest charge, abound in the spiritual atmosphere of Mind, and consequently reproduce their own characteristics. Their individual forms we know not, but we do know that their natures are allied to God's nature; and spiritual blessings, thus typified, are the externalized, yet subjective, states of faith and spiritual understanding.

5۔ 581 :4۔7

فرشتے۔ خدا کے خیالات انسان تک پہنچانے والے؛ روحانی الہام، پاک اور کامل؛ اچھائی، پاکیزگی اور لافانیت کا اثر، ساری بدی، ہوس پرستی اور فانیت کی مذمت کرنے والے۔

5. 581 : 4-7

Angels. God's thoughts passing to man; spiritual intuitions, pure and perfect; the inspiration of goodness, purity, and immortality, counteracting all evil, sensuality, and mortality.

6۔ 299 :7۔17

میرے فرشتے بلند پایہ خیالات ہیں، جو کسی قبر کے دروازے پر ظاہر ہوتے ہیں، جن میں انسانی عقیدے نے اپنی احمقانہ زمینی امیدیں دفن کر رکھی ہیں۔ سفید انگلیوں سے وہ اوپر کی جانب ایک نئے اور جلالی بھروسے، زندگی کے بلند بانگ نمونوں اور اِس کی خوشیوں کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ فرشتے خدا کے نمائندہ کار ہیں۔ اوپر کی جانب بڑھنے والی یہ ہستیاں کبھی خودی، گناہ یا مادیت کی جانب راہنمائی نہیں کرتیں، بلکہ ساری اچھائی کے الٰہی اصول کی جانب ہدایت دیتی ہیں، جہاں ہر حقیقی انفرادیت، شبیہ اور خدا کی صورت اکٹھے ہوتے ہیں۔ ان روحانی ہدایات کو سنجیدگی سے توجہ دیتے ہوئے وہ ہمارے ساتھ ٹھہرتے ہیں، اور ہم ”بے خبرفرشتوں“ کی خاطر داری کرتے ہیں۔

6. 299 : 7-17

My angels are exalted thoughts, appearing at the door of some sepulchre, in which human belief has buried its fondest earthly hopes. With white fingers they point upward to a new and glorified trust, to higher ideals of life and its joys. Angels are God's representatives. These upward-soaring beings never lead towards self, sin, or materiality, but guide to the divine Principle of all good, whither every real individuality, image, or likeness of God, gathers. By giving earnest heed to these spiritual guides they tarry with us, and we entertain "angels unawares."

7۔ 174 :9۔14

خیالات کے نقش ِ قدم، مادی نقطہ نظر سے بلند اْٹھتے ہوئے، بہت سست ہیں، اور مسافر کی لمبی رات کی جانب اشارہ کرتے ہیں؛ مگر اْس کی حضوری کے فرشتے، وہ روحانی الہام جو ہمیں بتاتے ہیں کہ ”رات کب کی گزر گئی اور دن نکلنے کو ہے“، اْداسی میں ہمارے نگہبان ہوتے ہیں۔

7. 174 : 9-14

The footsteps of thought, rising above material standpoints, are slow, and portend a long night to the traveller; but the angels of His presence — the spiritual intuitions that tell us when "the night is far spent, the day is at hand" — are our guardians in the gloom.

8۔ 203 :17۔18

ہم ایک اعلیٰ حاکم سے زیادہ یا خدا سے کم طاقت والے حاکم پر یقین کرنے کا شکار ہو جاتے ہیں۔

8. 203 : 17-18

We are prone to believe either in more than one Supreme Ruler or in some power less than God.

9۔ 204 :3۔11، 18۔19

غلطی کی تمام تر اشکال غلط نتائج کی حمایت کرتی ہیں کہ یہاں ایک زندگی سے زیادہ زندگیاں موجود ہیں؛ کہ مادی تاریخ اتنی ہی حقیقی اور زندہ ہے جتنی روحانی تاریخ ہے؛ کہ فانی غلطی بالاآخر اْتنی ہی ذہنی ہے جتنی لافانی سچائی ہے؛ اور یہ کہ یہاں دو مختلف مخالف ہستیاں اور اشخاص، دو طاقتیں، یعنی روح اور مادا ہیں، جن کا نتیجہ تیسرا شخص (فانی انسان) ہوتا ہے جو گناہ، بیماری اور موت کے بھرموں کو لے جاتا ہے۔

اس قسم کے نظریات ظاہری طور پر غلط ہوتے ہیں۔وہ سائنس کے امتحان کا سامنا کبھی نہیں کر سکتے۔

9. 204 : 3-11, 18-19

All forms of error support the false conclusions that there is more than one Life; that material history is as real and living as spiritual history; that mortal error is as conclusively mental as immortal Truth; and that there are two separate, antagonistic entities and beings, two powers, — namely, Spirit and matter, — resulting in a third person (mortal man) who carries out the delusions of sin, sickness, and death.

Such theories are evidently erroneous. They can never stand the test of Science.

10۔ 192 :19۔26

سائنس میں، خدا کے مخالف آپ کوئی قوت نہیں رکھ سکتے، اور جسمانی احساسات کو ان کی جھوٹی گواہی سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔ نیکی کے لئے آپ کے رسوخ کا انحصار اس وزن پر ہے جو آپ درست سکیل پر ڈالتے ہیں۔ جو نیکی آپ کرتے ہیں اور ظاہری جسم آپ کو محض قابلِ حصول قوت فراہم کرتے ہیں۔ بدی کوئی طاقت نہیں ہے۔ یہ طاقت کا تمسخر ہے جوجلد ہی اپنی کمزوری کو دھوکہ دیتا اور کبھی نہ اٹھنے کے لئے گر جاتا ہے۔

10. 192 : 19-26

In Science, you can have no power opposed to God, and the physical senses must give up their false testimony. Your influence for good depends upon the weight you throw into the right scale. The good you do and embody gives you the only power obtainable. Evil is not power. It is a mockery of strength, which erelong betrays its weakness and falls, never to rise.

11۔ 183 :21۔25

الٰہی عقل بجا طور پر انسان کی مکمل فرمانبرداری، پیار اور طاقت کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس سے کم وفاداری کے لئے کوئی تحفظات نہیں رکھے جاتے۔ سچائی کی تابعداری انسان کو قوت اور طاقت فراہم کرتی ہے۔ غلطی کو سپردگی طاقت کی کمی کو بڑھا دیتی ہے۔

11. 183 : 21-25

Divine Mind rightly demands man's entire obedience, affection, and strength. No reservation is made for any lesser loyalty. Obedience to Truth gives man power and strength. Submission to error superinduces loss of power.

12۔ 495 :14۔20

جب بیماری یا گناہ کا بھرم آپ کو آزماتا ہے تو خدا اور اْس کے خیال کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ منسلک رہیں۔ اْس کے مزاج کے علاوہ کسی چیز کو آپ کے خیال میں قائم ہونے کی اجازت نہ دیں۔ کسی خوف یا شک کو آپ کے اس واضح اورمطمین بھروسے پر حاوی نہ ہونے دیں کہ پہچانِ زندگی کی ہم آہنگی، جیسے کہ زندگی ازل سے ہے، اس چیز کے کسی بھی درد ناک احساس یا یقین کو تبا ہ کر سکتی ہے جو زندگی میں ہے ہی نہیں۔

12. 495 : 14-20

When the illusion of sickness or sin tempts you, cling steadfastly to God and His idea. Allow nothing but His likeness to abide in your thought. Let neither fear nor doubt overshadow your clear sense and calm trust, that the recognition of life harmonious — as Life eternally is — can destroy any painful sense of, or belief in, that which Life is not.

13۔ 130 :26۔2

اگر خدا یا سچائی کی بالادستی کے لئے سائنس کے مضبوط دعوے پر خیالات چونک جاتے ہیں اور اچھائی کی بالادستی پر شک کرتے ہیں، تو کیا ہمیں، اس کے برعکس، بدی کے زبردست دعوں پر حیران ہونا، اْن پر شک کرنااور گناہ سے نفرت کرنے کو فطری اور اِسے ترک کرنے کو غیر فطری تصور کرنا، بدی کو ہمیشہ موجود اور اچھائی کو غیر موجود تصور نہیں کرنا چاہئے؟ سچائی کو غلطی کی مانند تعجب انگیز اور غیر فطری دکھائی نہیں دینا چاہئے، اور غلطی کو سچائی کی مانند حقیقی نہیں لگنا چاہئے۔

13. 130 : 26-2

If thought is startled at the strong claim of Science for the supremacy of God, or Truth, and doubts the supremacy of good, ought we not, contrariwise, to be astounded at the vigorous claims of evil and doubt them, and no longer think it natural to love sin and unnatural to forsake it, — no longer imagine evil to be ever-present and good absent? Truth should not seem so surprising and unnatural as error, and error should not seem so real as truth.

14۔ 548 :13۔17

فانی غلطی کی ہراذیت غلطی کو نیست کرنے میں غلطی کی مدد کرتی ہے، اور یوں لافانی سچائی کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ نئی پیدائش ہر لمحہ جاری رہتی ہے، جس میں انسان فرشتوں، خدا کے حقیقی خیالات، ہستی کے روحانی فہم کو بہلاتے ہیں۔

14. 548 : 13-17

Every agony of mortal error helps error to destroy error, and so aids the apprehension of immortal Truth. This is the new birth going on hourly, by which men may entertain angels, the true ideas of God, the spiritual sense of being.

15۔ 567 :3۔6، 7۔8

یہ فرشتے ہمیں گہرائی سے بچاتے ہیں۔ سچائی اور محبت افسوس کے موقع پر قریب آجاتے ہیں، جب مضبوط ایمان اور روحانی طاقت آپس میں کشتی کرتی اور خدا کے فہم کی بدولت پھیلتی ہیں۔ ۔۔۔لامتناہی ہمیشہ موجود محبت کے لئے سب کچھ محبت ہے، اور کوئی غلطی، گناہ، بیماری نہیں اور نہ موت ہے۔

15. 567 : 3-6, 7-8

These angels deliver us from the depths. Truth and Love come nearer in the hour of woe, when strong faith or spiritual strength wrestles and prevails through the understanding of God. … To infinite, ever-present Love, all is Love, and there is no error, no sin, sickness, nor death.

16۔ 224 :29۔31 (تا دوسرا)

خدا کی قدرت قیدیوں کے لئے آزادی لاتی ہے۔ کوئی طاقت الٰہی محبت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

16. 224 : 29-31 (to 2nd .)

The power of God brings deliverance to the captive. No power can withstand divine Love.

17۔ 372 :14۔17

جب انسان پوری طرح سے کرسچن سائنس کو ظاہر کرتا ہے، تو وہ کامل ہو جائے گا۔ وہ نہ گناہ کرے گا، دْکھ اٹھائے گا، مادے کے ماتحت ہوگا، اور نہ خدا کی شریعت کی نافرمانی کرے گا۔اس لئے وہ آسمان کے فرشتوں کی مانند ہوگا۔

17. 372 : 14-17

When man demonstrates Christian Science absolutely, he will be perfect. He can neither sin, suffer, be subject to matter, nor disobey the law of God. Therefore he will be as the angels in heaven.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████