اتوار 14 مارچ،2021



مضمون۔ مواد

SubjectSubstance

سنہری متن: متی 6 باب33 آیت

”تم پہلے خدا کی بادشاہی اور اْس کی راستبازی کی تلاش کرو تو یہ سب چیزیں بھی تم کو مل جائیں گی۔“



Golden Text: Matthew 6 : 33

Seek ye first the kingdom of God, and his righteousness; and all these things shall be added unto you.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: 33زبور: 1 تا6 آیات


1۔خداوند میرا چوپان ہے۔ مجھے کمی نہ ہوگی۔

2۔ وہ مجھے ہری ہری چراگاہوں میں بٹھاتاہے۔ وہ مجھے راحت کے چشموں کے پاس لے جاتا ہے۔

3۔ وہ میری جان کو بحال کرتا ہے۔وہ مجھے اپنے نام کی خاطر صداقت کی راہوں پر لے چلتا ہے۔

4۔ بلکہ خواہ موت کے سایہ کی وادی میں سے میرا گزر ہو میں کسی بلا سے نہیں ڈرونگا کیونکہ تُو میرے ساتھ ہے تیرے عصا اور تیری لاٹھی سے مجھے تسلی ہے۔

5۔ تُو میرے دُشمنوں کے رُوبُرو میرے آگے دستر خوان بچھاتا ہے۔ تُو نے میرے سر پر تیل ملا ہے۔ میرا پیالہ لبریز ہوتا ہے۔

6۔ یقیناً بھلائی اور رحمت عُمر بھر میرے ساتھ ساتھ رہیں گی اور میں ہمیشہ خُداوند کے گھر میں سکونت کرونگا۔

Responsive Reading: Psalm 23 : 1-6

1.     The Lord is my shepherd; I shall not want.

2.     He maketh me to lie down in green pastures: he leadeth me beside the still waters.

3.     He restoreth my soul: he leadeth me in the paths of righteousness for his name’s sake.

4.     Yea, though I walk through the valley of the shadow of death, I will fear no evil: for thou art with me; thy rod and thy staff they comfort me.

5.     Thou preparest a table before me in the presence of mine enemies: thou anointest my head with oil; my cup runneth over.

6.     Surely goodness and mercy shall follow me all the days of my life: and I will dwell in the house of the Lord for ever.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ 37 زبور: 3تا5 آیات

3۔ خداوند پر توکل کر اور نیکی کر۔ ملک میں آباد رہ اور اْس کی وفاداری سے پرورش پا۔

4۔ خداوند میں مسرور رہ اور وہ تیرے دل کی مرادیں پوری کرے گا۔

5۔ اپنی راہ خداوند پر چھوڑ دے اور اْس پر توکل کر۔ وہی سب کچھ کرے گا۔

1. Psalm 37 : 3-5

3     Trust in the Lord, and do good; so shalt thou dwell in the land, and verily thou shalt be fed.

4     Delight thyself also in the Lord; and he shall give thee the desires of thine heart.

5     Commit thy way unto the Lord; trust also in him; and he shall bring it to pass.

2۔ 2 سلاطین 4باب1تا7 آیات

1۔ اور انبیاء زادوں کی بیویوں میں سے ایک عورت نے الیشع سے فریاد کی اور کہنے لگی کہ تیرا خادم میرا شوہر مر گیا ہے اور تو جانتاہے کہ تیرا خادم خداوند سے ڈرتا تھا۔ سو اب قرض خواہ آیا ہے کہ میرے دونوں بیٹوں کو لے جائے تاکہ وہ غلام بنیں۔

2۔ الیشع نے اْس سے کہا مَیں تیرے لئے کیا کروں؟مجھے بتا تیرے پاس گھر میں کیا ہے؟ اْس نے کہا تیری لونڈی کے پاس گھر میں ایک پیالہ تیل کے سوا کچھ نہیں۔

3۔ تب اْس نے کہا تْو جا اور باہر سے اپنے سب ہمسائیوں سے برتن رعایت لے۔ وہ برتن خالی ہوں اور تھوڑے برتن نہ لینا۔

4۔ پھر تْو اپنے بیٹوں کو ساتھ لے کر اندر جانا اور پیچھے سے دروازہ بند کر لینا اور اْن سب برتنوں میں تیل ڈالنا اور جو بھر جائے اْسے اٹھا کر الگ رکھنا۔

5۔ سو وہ اْس کے پاس سے گئی اور اْس نے اپنے بیٹوں کو اندر ساتھ لے کر دروازہ بند کر لیااور وہ اْس کے پاس لاتے جاتے تھے اور وہ انڈیلتی جاتی تھی۔

6۔ جب وہ برتن بھر گئے تو اْس نے اپنے بیٹوں سے کہا میرے پاس ایک اور برتن لا۔اْس نے اْس سے کہا اور تو کوئی برتن رہا نہیں۔تب تیل موقوف ہوگیا۔

7۔ تب اْس نے آکر مردِ خدا کو بتایا۔ اْس نے کہا جا تیل بیچ اور قرض ادا کر اور جو باقی بچ رہے اْس سے تْو اور تیرے بیٹے گْذران کریں۔

2. II Kings 4 : 1-7

1     Now there cried a certain woman of the wives of the sons of the prophets unto Elisha, saying, Thy servant my husband is dead; and thou knowest that thy servant did fear the Lord: and the creditor is come to take unto him my two sons to be bondmen.

2     And Elisha said unto her, What shall I do for thee? tell me, what hast thou in the house? And she said, Thine handmaid hath not any thing in the house, save a pot of oil.

3     Then he said, Go, borrow thee vessels abroad of all thy neighbours, even empty vessels; borrow not a few.

4     And when thou art come in, thou shalt shut the door upon thee and upon thy sons, and shalt pour out into all those vessels, and thou shalt set aside that which is full.

5     So she went from him, and shut the door upon her and upon her sons, who brought the vessels to her; and she poured out.

6     And it came to pass, when the vessels were full, that she said unto her son, Bring me yet a vessel. And he said unto her, There is not a vessel more. And the oil stayed.

7     Then she came and told the man of God. And he said, Go, sell the oil, and pay thy debt, and live thou and thy children of the rest.

3۔ یرمیاہ29 باب 11تا13 آیات

11۔کیونکہ مَیں تمہارے حق میں اپنے خیالات کو جانتا ہوں خداوند فرماتا ہے یعنی سلامتی کے خیالات۔ برائی کے نہیں تاکہ مَیں تم کو نیک انجام کی امید بخشوں۔

12۔ تب تم میرا نام لو گے اور مجھ سے دعا کرو گے اور مَیں تمہاری سنوں گا۔

13۔اور تم مجھے ڈھونڈو گے اور پاؤ گے۔ جب پورے دل سے میرے طالب ہوگے۔

3. Jeremiah 29 : 11-13

11     For I know the thoughts that I think toward you, saith the Lord, thoughts of peace, and not of evil, to give you an expected end.

12     Then shall ye call upon me, and ye shall go and pray unto me, and I will hearken unto you.

13     And ye shall seek me, and find me, when ye shall search for me with all your heart.

4۔ یوحنا 6 باب 3تا14، 26، 27 (تا:)، 29 (یہ)، 37، 38، 41 (تا پہلا)، 42، 43، 47، 48، 63 آیات

3۔ یسوع پہاڑ پر چڑھ گیا اور اپنے شاگردوں کے ساتھ وہاں بیٹھا۔

4۔ اور یہودیوں کی عیدِ فسح نزدیک تھی۔

5۔ پس جب یسوع نے اپنی آنکھیں اٹھا کر دیکھا کہ میرے پاس بڑی بھیڑ آرہی ہے تو فلپس سے کہا کہ ہم اِن کے کھانے کے لئے کہاں سے روٹیاں مول لیں۔

6۔ مگر اْس نے اْسے آزمانے کے لئے یہ کہا کیونکہ وہ آپ جانتا تھا کہ مَیں کیا کروں گا۔

7۔ فلپس نے اْسے جواب دیا کہ دو سو دینار کی روٹیاں اِن کے لئے کافی نہ ہوں گی کہ ہر ایک کو تھوڑی سی مل جائے۔

8۔ اْس کے شاگردوں میں سے ایک نے یعنی شمعون پطرس کے بھائی اندریاس نے اْس سے کہا۔

9۔ یہاں ایک لڑکا ہے جس کے پاس جَو کی پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں ہیں مگر یہ اتنے لوگوں میں کیا ہیں؟

10۔ یسوع نے کہا کہ لوگوں کو بٹھاؤ اور اْس جگہ بہت گھاس تھی۔ پس وہ مرد جو تخمیناً پانچ ہزار تھے بیٹھ گئے۔

11۔ یسوع نے وہ روٹیاں لیں اور شکر کر کے اْنہیں جو بیٹھے تھے بانٹ دیں اور اسی طرح مچھلیوں میں سے جس قدر چاہتے تھے بانٹ دیا۔

12۔ جب وہ سیر ہو چکے تو اْس نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ بچے ہوئے ٹکڑوں کو جمع کرو تاکہ کچھ ضائع نہ ہو۔

13۔ چنانچہ اْنہوں نے جمع کیا اور جَو کی پانچ روٹیوں کے ٹکڑوں سے جو کھانے والوں سے بچ رہے تھے بارہ ٹوکریاں بھریں۔

14۔ پس جو معجزہ اْس نے دکھایا وہ لوگ اْسے دیکھ کر کہنے لگے جو نبی دنیا میں آنے والا تھا فی الحقیقت یہی ہے۔

26۔ یسوع نے اْن کے جواب میں کہا مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تم مجھے اِس لئے نہیں ڈھونڈتے کہ معجزے دیکھے بلکہ اِس لئے کہ تم روٹیاں کھا کر سیر ہوئے۔

27۔ فانی خوراک کے لئے محنت نہ کرو بلکہ اْس خوراک کے لئے جو ہمیشہ کی زندگی تک باقی رہتی ہے جسے ابنِ آدم تمہیں دے گا۔

29۔ خدا کا کام یہ ہے کہ جسے اْس نے بھیجا ہے اْس پر ایمان لاؤ۔

37۔ جو کچھ باپ مجھے دیتا ہے میرے پاس آجائے گا اور جو کوئی میرے پاس آئے گا اْسے مَیں ہر گز نکال نہ دوں گا۔

38۔ کیونکہ مَیں آسمان سے اِس لئے نہیں اْترا ہوں کہ اپنی مرضی کے موافق عمل کروں بلکہ اِس لئے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے موافق عمل کروں۔

41۔ پس یہودی اْس پر بڑبڑانے لگے۔

42۔ اْنہوں نے کہا کیا یہ یوسف کا بیٹا یسوع نہیں جس کے باپ اور ماں کو ہم جانتے ہیں؟ اب یہ کیونکر کہتا ہے کہ مَیں آسمان سے اْترا ہوں؟

43۔ یسوع نے جواب میں اْن سے کہا آپس میں نہ بڑبڑاؤ۔

47۔ مَیں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ جو ایمان لاتا ہے ہمیشہ کی زندگی اْس کی ہے۔

48۔زندگی کی روٹی مَیں ہوں۔

63۔ زندہ کرنے والی تو روح ہے۔ جسم سے کچھ فائدہ نہیں۔ جو باتیں مَیں نے تم سے کہی ہیں وہ روح ہیں اور زندگی بھی ہیں۔

4. John 6 : 3-14, 26, 27 (to :), 29 (This), 37, 38, 41 (to 1st ,), 42, 43, 47, 48, 63

3     And Jesus went up into a mountain, and there he sat with his disciples.

4     And the passover, a feast of the Jews, was nigh.

5     When Jesus then lifted up his eyes, and saw a great company come unto him, he saith unto Philip, Whence shall we buy bread, that these may eat?

6     And this he said to prove him: for he himself knew what he would do.

7     Philip answered him, Two hundred pennyworth of bread is not sufficient for them, that every one of them may take a little.

8     One of his disciples, Andrew, Simon Peter’s brother, saith unto him,

9     There is a lad here, which hath five barley loaves, and two small fishes: but what are they among so many?

10     And Jesus said, Make the men sit down. Now there was much grass in the place. So the men sat down, in number about five thousand.

11     And Jesus took the loaves; and when he had given thanks, he distributed to the disciples, and the disciples to them that were set down; and likewise of the fishes as much as they would.

12     When they were filled, he said unto his disciples, Gather up the fragments that remain, that nothing be lost.

13     Therefore they gathered them together, and filled twelve baskets with the fragments of the five barley loaves, which remained over and above unto them that had eaten.

14     Then those men, when they had seen the miracle that Jesus did, said, This is of a truth that prophet that should come into the world.

26     Jesus answered them and said, Verily, verily, I say unto you, Ye seek me, not because ye saw the miracles, but because ye did eat of the loaves, and were filled.

27     Labour not for the meat which perisheth, but for that meat which endureth unto everlasting life, which the Son of man shall give unto you:

29     This is the work of God, that ye believe on him whom he hath sent.

37     All that the Father giveth me shall come to me; and him that cometh to me I will in no wise cast out.

38     For I came down from heaven, not to do mine own will, but the will of him that sent me.

41     The Jews then murmured at him,

42     And they said, Is not this Jesus, the son of Joseph, whose father and mother we know? how is it then that he saith, I came down from heaven?

43     Jesus therefore answered and said unto them, Murmur not among yourselves.

47     Verily, verily, I say unto you, He that believeth on me hath everlasting life.

48     I am that bread of life.

63     It is the spirit that quickeneth; the flesh profiteth nothing: the words that I speak unto you, they are spirit, and they are life.

5۔ متی 6 باب24 تا26 (تا)، 34 (تا پہلا)۔

24۔ کوئی آدمی دو مالکوں کی خدمت نہیں کر سکتا کیونکہ یا تو ایک سے عداوت رکھے گا اور دوسرے سے محبت، یا ایک سے ملا رہے گا اور دوسرے کو ناچیزجانے گا۔تم خدا اور دولت دونوں کی خدمت نہیں کر سکتے۔

25۔اِس لئے مَیں تم سے کہتا ہوں کہ اپنی جان کی فکر نہ کرنا کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے؟ اور نہ اپنے بدن کی کیا پہنیں گے؟ کیا جان خوراک سے اور بدن پوشاک سے بڑھ کر نہیں؟

26۔ ہوا کے پرندوں کو دیکھو نہ بوتے ہیں نہ کاٹتے ہیں، نہ کوٹھیوں میں جمع کرتے ہیں تو بھی تمہارا آسمانی باپ اْن کو کھلاتا ہے۔

34۔ پس کل کے لئے فکر نہ کرو۔ کیونکہ کل کا دن اپنے لئے آپ فکر کر لے گا۔ آج کے لئے آج ہی کا دْکھ کافی ہے۔

5. Matthew 6 : 24-26 (to .), 34 (to 1st .)

24     No man can serve two masters: for either he will hate the one, and love the other; or else he will hold to the one, and despise the other. Ye cannot serve God and mammon.

25     Therefore I say unto you, Take no thought for your life, what ye shall eat, or what ye shall drink; nor yet for your body, what ye shall put on. Is not the life more than meat, and the body than raiment?

26     Behold the fowls of the air: for they sow not, neither do they reap, nor gather into barns; yet your heavenly Father feedeth them.

34     Take therefore no thought for the morrow: for the morrow shall take thought for the things of itself.

6۔ فلپیوں 4باب4تا7 آیات

4۔ خداوند میں ہر وقت خوش رہو۔ پھر کہتا ہوں کہ خوش رہو۔

5۔ تمہاری نرم مزاجی سب آدمیوں پر ظاہر ہو۔ خداوند قریب ہے۔

6۔ کسی بات کی فکر نہ کرو بلکہ ہر ایک بات میں تمہاری درخواستیں دعا اور منت کے وسیلہ سے شکر گزاری کے ساتھ خدا کے سامنے پیش کی جائیں۔

7۔ تو خدا کا اطمینان جو سمجھ سے بالکل باہر ہے تمہارے دلوں اور خیالوں کو مسیح یسوع میں محفوظ رکھے گا۔

6. Philippians 4 : 4-7

4     Rejoice in the Lord alway: and again I say, Rejoice.

5     Let your moderation be known unto all men. The Lord is at hand.

6     Be careful for nothing; but in every thing by prayer and supplication with thanksgiving let your requests be made known unto God.

7     And the peace of God, which passeth all understanding, shall keep your hearts and minds through Christ Jesus.



سائنس اور صح


1۔ 275 :10۔15

ہستی کی حقیقت اور ترتیب کو اْس کی سائنس میں تھامنے کے لئے، وہ سب کچھ حقیقی ہے اْس کے الٰہی اصول کے طور پر آپ کو خدا کا تصور کرنے کی ابتدا کرنی چاہئے۔ روح، زندگی، سچائی، محبت یکسانیت میں جْڑ جاتے ہیں، اور یہ سب خدا کے روحانی نام ہیں۔سب مواد، ذہانت، حکمت، ہستی، لافانیت، وجہ اور اثر خْدا سے تعلق رکھتے ہیں۔

1. 275 : 10-15

To grasp the reality and order of being in its Science, you must begin by reckoning God as the divine Principle of all that really is. Spirit, Life, Truth, Love, combine as one, — and are the Scriptural names for God. All substance, intelligence, wisdom, being, immortality, cause, and effect belong to God.

2۔ 468 : 17 (مواد)۔2

مواد وہ ہے جو ابدی ہے اور نیست ہونے اور مخالفت سے عاجز ہے۔ سچائی، زندگی اور محبت مواد ہیں، جیسے کہ کلام عبرانیوں میں یہ الفاظ استعمال کرتا ہے: ”ایمان اْمید کی ہوئی چیزوں کا اعتماد اور اندیکھی چیزوں کا ثبوت ہے۔“روح، جو فہم،جان، یا خدا کا مترادف لفظ ہے، واحد حقیقی مواد ہے۔ روحانی کائنات، بشمول انفرادی انسان، ایک مشترک خیال ہے، جو روح کے الٰہی مواد کی عکاسی کرتا ہے۔

2. 468 : 17 (Substance)-22

Substance is that which is eternal and incapable of discord and decay. Truth, Life, and Love are substance, as the Scriptures use this word in Hebrews: "The substance of things hoped for, the evidence of things not seen." Spirit, the synonym of Mind, Soul, or God, is the only real substance.

3۔ 301 :17۔29

جیسا کہ خدا اصل ہے اور انسان الٰہی صورت اور شبیہ ہے، تو انسان کو صرف اچھائی کے اصل، روح کے اصل نہ کہ مادے کی خواہش رکھنی چاہئے، اور حقیقت میں ایسا ہی ہوا ہے۔یہ عقیدہ روحانی نہیں ہے کہ انسان کے پاس کوئی دوسرا مواد یا عقل ہے،اور یہ پہلے حکم کو توڑتا ہے کہ تْو ایک خدا، ایک عقل کو ماننا۔ مادی انسان خود کو مادی مواد دکھائی دیتا ہے، جبکہ انسان ”شبیہ“ (خیال) ہے۔فریب نظری، گناہ، بیماری اور موت مادی فہم کی جھوٹی گواہی سے جنم لیتے ہیں، جو لا محدود روح کے مرکزی فاصلے سے باہر ایک فرضی نظریے سے، عقل اور اصل کی پلٹی ہوئی تصویر پیش کرتی ہے، جس میں ہر چیز اوپر سے نیچے اْلٹ ہوئی ہوتی ہے۔

3. 301 : 17-29

As God is substance and man is the divine image and likeness, man should wish for, and in reality has, only the substance of good, the substance of Spirit, not matter. The belief that man has any other substance, or mind, is not spiritual and breaks the First Commandment, Thou shalt have one God, one Mind. Mortal man seems to himself to be material substance, while man is "image" (idea). Delusion, sin, disease, and death arise from the false testimony of material sense, which, from a supposed standpoint outside the focal distance of infinite Spirit, presents an inverted image of Mind and substance with everything turned upside down.

4۔ 139 :4۔9

ابتدا سے آخر تک، پورا کلام پاک مادے پر روح، عقل کی فتح کے واقعات سے بھرپور ہے۔ موسیٰ نے عقل کی طاقت کو اس کے ذریعے ثابت کیا جسے انسان معجزات کہتا ہے؛ اسی طرح یشوع، ایلیاہ اور الیشع نے بھی کیا۔ مسیحی دور کو علامات اور عجائبات کی مدد سے بڑھایا گیا۔

4. 139 : 4-9

From beginning to end, the Scriptures are full of accounts of the triumph of Spirit, Mind, over matter. Moses proved the power of Mind by what men called miracles; so did Joshua, Elijah, and Elisha. The Christian era was ushered in with signs and wonders.

5۔ 591 :21۔22

معجزہ۔ وہ جو الٰہی طور پر فطری ہو، مگر اْسے انسانی طور پر سمجھا گیا ہو؛ایک سائنسی رجحان۔

5. 591 : 21-22

Miracle. That which is divinely natural, but must be learned humanly; a phenomenon of Science.

6۔ 134 :31۔1

ایک معجزہ خدا کے قانون کو پورا کرتا ہے، لیکن اْس قانون کو توڑتا نہیں۔ یہ حقیقت خود معجزے کی نسبت زیادہ پْر اسرار لگتی ہے۔

6. 134 : 31-1

A miracle fulfils God's law, but does not violate that law. This fact at present seems more mysterious than the miracle itself. 

7۔ 509 :20۔28

نام نہاد معدنیات، سبزی، اور حیوانی مواد اب عارضی نہیں یا مادی ڈھانچہ نہیں ہیں جتنا کہ یہ اْس وقت تھے جب ”صبح کے ستاروں نے اکٹھے گیت گایا تھا۔“عقل نے ”ابھی تک زمین پر کھیت کا کوئی پودا“ نہیں لگایا تھا۔ روحانی عروج کے ادوار عقل کی تخلیق کے موسم اور ایام ہیں جن میں خوبصورتی، عظمت، پاکیزگی اور بے گناہی، ہا ں الٰہی فطرت انسان اور کائنات میں کبھی نہ ختم ہونے کے لئے ظاہر ہوتے ہیں۔

7. 509 : 20-28

So-called mineral, vegetable, and animal substances are no more contingent now on time or material structure than they were when "the morning stars sang together." Mind made the "plant of the field before it was in the earth." The periods of spiritual ascension are the days and seasons of Mind's creation, in which beauty, sublimity, purity, and holiness — yea, the divine nature — appear in man and the universe never to disappear.

8۔ 257 :6۔11

یہ نظریہ کہ روح ہی واحد مواد اور خالق نہیں ہے ایک وحدت الوجود کی قدامت پسندی ہے، جو بیماری، گناہ اور موت میں مکمل ہوتی ہے؛ یہ جسمانی جان اور مادی عقل پر ایک یقین ہے، یعنی وہ جان جس پر جسم حکمرانی کرتا ہے اور عقل جو مادے میں ہوتی ہے۔ یہ عقیدہ ایک سطعی وحدت الوجودیت ہے۔

8. 257 : 6-11

The theory that Spirit is not the only substance and creator is pantheistic heterodoxy, which ultimates in sickness, sin, and death; it is the belief in a bodily soul and a material mind, a soul governed by the body and a mind in matter. This belief is shallow pantheism.

9۔ 281 :27۔1

الٰہی سائنس نئی مے پرانی مشکوں میں، جان کو مادے میں اور نہ ہی لامحدود کو محدود میں انڈیلتی ہے۔جب ہم روح کے حقائق کو تھام لیتے ہیں تو ہمارے مادے سے متعلق جھوٹے خیالات ختم ہو جاتے ہیں۔ پرانے عقیدے کو باہر نکالنا چاہئے وگرنہ نیا خیال بہہ جائے گا، اور وہ الہام جس نے ہمارا نقطہ نظر تبدیل کرنا ہے کھو جائے گا۔

9. 281 : 27-1

Divine Science does not put new wine into old bottles, Soul into matter, nor the infinite into the finite. Our false views of matter perish as we grasp the facts of Spirit. The old belief must be cast out or the new idea will be spilled, and the inspiration, which is to change our standpoint, will be lost.

10۔ 91 :16۔21

مادی خودی میں ڈوب کر ہم زندگی اور عقل کے مادے کو ہلکا سا منعکس کرتے اور اسے جان لیتے ہیں۔ مادی خودی سے انکار انسان کی روحانی اور ابدی انفرادیت سے متعلق جاننے میں مدد دیتا ہے، اور مادے سے یا جنہیں مادی حواس کی اصطلاح دی گئی ہے اْن کے وسیلہ غلط علم کو تباہ کرتا ہے۔

10. 91 : 16-21

Absorbed in material selfhood we discern and reflect but faintly the substance of Life or Mind. The denial of material selfhood aids the discernment of man's spiritual and eternal individuality, and destroys the erroneous knowledge gained from matter or through what are termed the material senses.

11۔ 66 :6۔16

مشکلات بشر کو مادی عصا، ایک خستہ نرسل پر نہ جھکناسکھاتی ہیں، جو دل میں چھِید جاتا ہے۔خوشی اور خوشحالی کی دھوپ میں ہم اس کی نیم خیالی نہیں رکھتے۔ غم صحت بخش ہیں۔ بڑی مصیبتوں کے وسیلہ ہم بادشاہت میں داخل ہوتے ہیں۔ آزمائشیں خدا کی حفاظت کا ثبوت ہیں۔ روحانی ترقی مادی امیدوں کی مٹی میں پیدا ہونے والے بیج سے نمو نہیں پاتی، بلکہ جب یہ فنا ہوجاتے ہیں، محبت نئے سرے سے روح کی بلند تر خوشیوں کو پروان چڑھاتی ہے، جس پر زمین کا کوئی داغ نہیں ہوتا۔ تجربے کا ہر کامیاب مرحلہ الٰہی اچھائی اور محبت کے نئے نظریات کو کھولتا ہے۔

11. 66 : 6-16

Trials teach mortals not to lean on a material staff, — a broken reed, which pierces the heart. We do not half remember this in the sunshine of joy and prosperity. Sorrow is salutary. Through great tribulation we enter the kingdom. Trials are proofs of God's care. Spiritual development germinates not from seed sown in the soil of material hopes, but when these decay, Love propagates anew the higher joys of Spirit, which have no taint of earth. Each successive stage of experience unfolds new views of divine goodness and love.

12۔ 92 :32۔9

کیا آپ یہ کہتے ہیں کہ ہنوز وقت نہیں آیا جس میں روح کو مادی اور بدن کو قابو میں رکھنے کے قابل سمجھا جائے؟ یسوع کو یاد کیجئے، جس نے قریباً اْنیس صدیاں قبل روح کی قوت کو ظاہر کیا اور کہا، ”جو مجھ پر ایمان رکھتا ہے یہ کام جو مَیں کرتا ہوں وہ بھی کرے گا“، اور جس نے یہ بھی کہا، ”مگر وہ وقت آتا ہے بلکہ اب ہی ہے کہ سچے پرستار باپ کی پرستش روح اور سچائی سے کریں گے۔“ پولوس نے کہا،”دیکھو اب قبولیت کا وقت ہے۔ دیکھو یہ نجات کا دن ہے۔“

12. 92 : 32-9

Do you say the time has not yet come in which to recognize Soul as substantial and able to control the body? Remember Jesus, who nearly nineteen centuries ago demonstrated the power of Spirit and said, "He that believeth on me, the works that I do shall he do also," and who also said, "But the hour cometh, and now is, when the true worshippers shall worship the Father in spirit and in truth." "Behold, now is the accepted time; behold, now is the day of salvation," said Paul.

13۔ 195 :11۔16

ہر کسی کے لئے یہ فیصلہ کرنے کا وقت ہے کہ آیا یہ فانی عقل ہے یا لافانی عقل ہے جو سبب بنتی ہے۔ہمیں مابعدالاطبعیاتی سائنس اور اِس کے الٰہی اصول کے لئے مادے کی بنیادوں کو ترک کرنا چاہئے۔

جو کچھ بھی اْس تصور کی مشابہت فراہم کرتا ہے جس پر اِس کے اصول کی حکمرانی ہوتی ہے وہی ضروری خیال کو بھی فراہم کرتا ہے۔

13. 195 : 11-16

The point for each one to decide is, whether it is mortal mind or immortal Mind that is causative. We should forsake the basis of matter for metaphysical Science and its divine Principle.

Whatever furnishes the semblance of an idea governed by its Principle, furnishes food for thought.

14۔ 201 :1۔9

اب تک کا بہترین وعظ جسکی تعلیم دی گئی ہے وہ سچائی ہے جس کا اظہار اور مشق گناہ، بیماری اور موت کی تباہی سے ہوا ہے۔یہ سب جانتے ہوئے اور اِس کے ساتھ ساتھ یہ بھی جانتے ہوئے کہ ہماری ایک رغبت ہمارے اندر اعلیٰ ہے اور وہ ہماری زندگیوں میں آگے بڑھتی ہے، یسوع نے کہا، ”کوئی آدمی دو مالکوں کی خدمت نہیں کرسکتا۔“

ہم جھوٹی بنیادوں پر محفوظ تعمیرات نہیں کر سکتے۔سچائی ایک نئی مخلوق بناتی ہے، جس میں پرانی چیزیں جاتی رہتی ہیں اور ”سب چیزیں نئی ہو جاتی ہیں۔“

14. 201 : 1-9

The best sermon ever preached is Truth practised and demonstrated by the destruction of sin, sickness, and death. Knowing this and knowing too that one affection would be supreme in us and take the lead in our lives, Jesus said, "No man can serve two masters."

We cannot build safely on false foundations. Truth makes a new creature, in whom old things pass away and "all things are become new." 

15۔ 269 :11۔20

مابعدالاطبیعات طبیعات سے بلند ہوتی ہے، اور مادہ مابعد الاطبیعاتی احاطوں یا نتائج میں داخل نہیں ہوتا۔مابعدالاطبیعات کی جماعت بندی ایک بنیاد پر قائم ہوتی ہے، یعنی الٰہی عقل پر۔مابعدالاطبیعات چیزوں کو خیالات میں منتقل کرتی ہے، فہم کی چیزوں کو روح کے خیالات کے ساتھ باہم تبدیل کرتی ہے۔

یہ خیالات مکمل طور پر حقیقی اور روحانی ضمیر کے لئے ٹھوس ہوتے ہیں، اور انہیں مادی فہم کی چیزوں اور خیالات پر یہی فوقیت حاصل ہے، وہ اچھے اور ابدی ہوتے ہیں۔

15. 269 : 11-20

Metaphysics is above physics, and matter does not enter into metaphysical premises or conclusions. The categories of metaphysics rest on one basis, the divine Mind. Metaphysics resolves things into thoughts, and exchanges the objects of sense for the ideas of Soul.

These ideas are perfectly real and tangible to spiritual consciousness, and they have this advantage over the objects and thoughts of material sense, — they are good and eternal.

16۔ 261 :2۔7

بدن سے ہٹ کر سچائی اور محبت، ساری خوشی، ہم آہنگی اور لافانیت کے اصول کو دیکھیں۔ برداشت، اچھائی اور سچائی کو مضبوطی سے تھام لیں تو آپ انہیں اپنے خیالات کے قبضے کے تناسب سے اپنے تجربات میں لائیں گے۔

16. 261 : 2-7

Look away from the body into Truth and Love, the Principle of all happiness, harmony, and
immortality. Hold thought steadfastly to the enduring, the good, and the true, and you will bring these into your experience proportionably to their occupancy of your thoughts.

17۔ 17 :14۔15

کیونکہ خدا لامحدود، قادر مطلق، بھر پور زندگی، سچائی، محبت، ہر ایک پر اور سب پر حاکم ہے۔

17. 17 : 14-15

For God is infinite, all-power, all Life, Truth, Love, over all, and All.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████