اتوار 15 اگست،2021



مضمون۔ جان

SubjectSoul

سنہری متن: زبور23: 3 آیت

”وہ میری جان کو بحال کرتا ہے۔ وہ مجھے اپنے نام کی خاطر صداقت کی راہوں پر لے چلتا ہے۔“



Golden Text: Psalm 23 : 3

He restoreth my soul: he leadeth me in the paths of righteousness for his name’s sake.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: 1 کرنتھیوں 2 باب9 تا14، 16 آیات


9۔ بلکہ جیسا لکھا ہے ویسا ہی ہوا جو چیزیں نہ آنکھوں نے دیکھیں نہ کانوں نے سنیں نہ آدمی کے دل میں آئیں۔ وہ سب خدا نے اپنے محبت رکھنے والوں کے لئے تیار کر دیں۔

10۔ لیکن ہم پر خدا نے اْن کو روح کے وسیلہ ظاہر کیا کیونکہ روح سب باتیں بلکہ خدا کی تہہ کی باتیں بھی دریافت کرلیتا ہے۔

11۔ کیونکہ انسانوں میں سے کون کسی انسان کی باتیں جانتا ہے سوا انسان کی اپنی روح کے جو اْس میں ہے؟ اِسی طرح خدا کے روح کے سوا کوئی خدا کے روح کی باتیں نہیں جانتا۔

12۔ مگر ہم نے نہ دنیا کی روح بلکہ وہ روح پایا جو خدا کی طرف سے ہے تاکہ اْن باتوں کو جانیں جو خدا نے ہمیں عنایت کی ہیں۔

13۔ اور ہم اْن باتوں کو اْن الفاظ میں بیان نہیں کرتے جو انسانی حکمت نے ہم کو سکھائے ہوں بلکہ اْن الفاظ میں جو روح نے سکھائے ہیں اور روحانی باتوں کا روحانی باتوں سے مقابلہ کرتے ہیں۔

14۔ مگر نفسانی آدمی خدا کے روح کی باتیں قبول نہیں کرتا کیونکہ وہ اْس کے نزدیک بے وقوفی کی باتیں ہیں اور نہ وہ اْنہیں سمجھ سکتا ہے کیونکہ وہ روحانی طور پر پرکھی جاتی ہیں۔

16۔ خدا کی عقل کو کس نے جانا ہے کہ اْس کو تعلیم دے سکے؟ مگر ہم میں مسیح کی عقل ہے۔

Responsive Reading: I Corinthians 2 : 9-14, 16

9.     As it is written, Eye hath not seen, nor ear heard, neither have entered into the heart of man, the things which God hath prepared for them that love him.

10.     But God hath revealed them unto us by his Spirit: for the Spirit searcheth all things, yea, the deep things of God.

11.     For what man knoweth the things of a man, save the spirit of man which is in him? even so the things of God knoweth no man, but the Spirit of God.

12.     Now we have received, not the spirit of the world, but the spirit which is of God; that we might know the things that are freely given to us of God.

13.     Which things also we speak, not in the words which man’s wisdom teacheth, but which the Holy Ghost teacheth; comparing spiritual things with spiritual.

14.     But the natural man receiveth not the things of the Spirit of God: for they are foolishness unto him: neither can he know them, because they are spiritually discerned.

16.     For who hath known the mind of the Lord, that he may instruct him? But we have the mind of Christ.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ زبور 35: 9 (میری) آیت

9۔۔۔۔ میری جان خداوند میں خوش رہے گی اور اْس کی نجات سے شادمان ہوگی۔

1. Psalm 35 : 9 (my)

9     …my soul shall be joyful in the Lord: it shall rejoice in his salvation.

2۔ زبور 143: 8، 10تا12 آیات

8۔ صبح کو مجھے اپنی شفقت کی خبر دے۔ کیونکہ میرا توکل تجھ پر ہے۔ مجھے وہ راہ بتا جس پر مَیں چلوں۔ کیونکہ مَیں اپنا دل تیری ہی طرف لگاتا ہوں۔

10۔ مجھے سکھا کہ تیری مرضی پرچلوں اِس لئے کہ تْو میرا خدا ہے۔ تیری نیک روح مجھے راستی کے ملک میں لے چلے۔

11۔ اے خداوند! اپنے نام کی خاطر مجھے زندہ کر۔ اپنی صداقت میں میری جان کو مصیبت سے نکال۔

12۔ اپنی شفقت سے میرے دشمنوں کو کاٹ ڈال اور میری جان کے سب دْکھ دینے والوں کو ہلاک کر دے۔ کیونکہ مَیں تیرا بندہ ہوں۔

2. Psalm 143 : 8, 10-12

8     Cause me to hear thy lovingkindness in the morning; for in thee do I trust: cause me to know the way wherein I should walk; for I lift up my soul unto thee.

10     Teach me to do thy will; for thou art my God: thy spirit is good; lead me into the land of uprightness.

11     Quicken me, O Lord, for thy name’s sake: for thy righteousness’ sake bring my soul out of trouble.

12     And of thy mercy cut off mine enemies, and destroy all them that afflict my soul: for I am thy servant.

3۔ متی 11 باب1 آیت

1۔ جب یسوع اپنے بارہ شاگردوں کو حکم دے چکا تو ایسا ہوا کہ وہاں سے چلا گیا تاکہ اْن کے شہروں میں تعلیم دے اور منادی کرے۔

3. Matthew 11 : 1

1     And it came to pass, when Jesus had made an end of commanding his twelve disciples, he departed thence to teach and to preach in their cities.

4۔ متی 12 باب22تا28 آیات

22۔اْس وقت لوگ اْس کے پاس ایک اندھے گونگے کو لائے جس میں بد روح تھی۔ اْس نے اْسے اچھا کر دیا، چنانچہ وہ گونگاہ بولنے اور دیکھنے لگا۔

23۔ اور ساری بھیڑ حیران ہو کر کہنے لگی کیا یہ ابنِ داؤد ہے؟

24۔ فریسیوں نے سْن کر کہا کیا یہ بدوحوں کے سردار بعلزبول کی مدد کے بغیر بدروحوں کو نہیں نکالتا۔

25۔ اْس نے اْن کے خیالوں کو جان کراْن سے کہا جس بادشاہی میں پھوٹ پڑتی ہے وہ ویران ہو جاتی ہے اور جس شہر یا گھر میں پھوٹ پڑے گی وہ قائم نہ رہے گا۔

26۔ اور اگر شیطان ہی نے شیطان کو نکالا تو وہ آپ اپنا مخالف ہو گیا۔ پھر اْس کی بادشاہی کیونکر قائم رہے گی؟

27۔ اور اگر میں بعلزبول کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہوں تو تمہاررے بیٹے کس کی مدد سے نکالتے ہیں؟ پس وہی تمہارے مْنصف ہوں گے۔

28۔ لیکن اگر میں خدا کی روح کی مدد سے روحیں نکالتا ہوں تو خدا کی بادشای تمہارے پاس آ پہنچی۔

4. Matthew 12 : 22-28

22     Then was brought unto him one possessed with a devil, blind, and dumb: and he healed him, insomuch that the blind and dumb both spake and saw.

23     And all the people were amazed, and said, Is not this the son of David?

24     But when the Pharisees heard it, they said, This fellow doth not cast out devils, but by Beelzebub the prince of the devils.

25     And Jesus knew their thoughts, and said unto them, Every kingdom divided against itself is brought to desolation; and every city or house divided against itself shall not stand:

26     And if Satan cast out Satan, he is divided against himself; how shall then his kingdom stand?

27     And if I by Beelzebub cast out devils, by whom do your children cast them out? therefore they shall be your judges.

28     But if I cast out devils by the Spirit of God, then the kingdom of God is come unto you.

5۔ متی 16 باب24تا26 آیات

24۔ اْس وقت یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ اگر کوئی میرے پیچھے آنا چاہے تو اپنی خودی کا انکار کرے اور اپنی صلیب اٹھائے اور میرے پیچھے ہو لے۔

25۔ کیونکہ جو کوئی اپنی جان بچانا چاہے اْسے کھوئے گا اور جو کوئی میری خاطر اپنی جان کھوئے گا اْسے پائے گا۔

26۔ اور اگر آدمی ساری دنیا حاصل کرے اور اپنی جان کا نقصان اٹھائے تو اْسے کیا فائدہ ہوگا؟

5. Matthew 16 : 24-26

24     Then said Jesus unto his disciples, If any man will come after me, let him deny himself, and take up his cross, and follow me.

25     For whosoever will save his life shall lose it: and whosoever will lose his life for my sake shall find it.

26     For what is a man profited, if he shall gain the whole world, and lose his own soul? or what shall a man give in exchange for his soul?

6۔ متی 8 باب5 تا 13 آیات

5۔ اور جب وہ کفر نحوم میں داخل ہوا تو ایک صوبہ دار اْس کے پاس آیا اور اْس کی منت کر کے کہا

6۔ اے خداوند میرا خادم فالج کا مارا گھرمیں پڑا ہے اور نہایت تکلیف میں ہے۔

7۔ اْس نے اْس سے کہا مَیں آکر اْسے شفا دوں گا۔

8۔ صوبہ دار نے جواب میں کہا اے خداوند مَیں اِس لائق نہیں کہ تْو میری چھت کے نیچے آئے بلکہ صرف زبان سے کہہ دے تو میرا خادم شفا پا جا ئے گا۔

9۔ کیونکہ مَیں بھی دوسروں کے اختیار میں ہوں اور سپاہی میرے ماتحت ہیں جب ایک سے کہتا ہوں کہ جا تو وہ جاتا ہے اور دوسرے سے کہ آ تو وہ آتا ہے اور اپنے نوکر سے کہ یہ کر تو وہ کرتا ہے۔

10۔ یسوع نے یہ سْن کر تعجب کیا اور پیچھے آنے والوں سے کہا مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ مَیں نے اسرائیل میں بھی ایسا ایمان نہیں پایا۔

11۔اور مَیں تم سے کہتا ہوں کہ بہتیرے پورب اور پچھم سے آکر ابراہیم اور اضحاق اور یعقوب کے ساتھ آسمان کی بادشاہی کی ضیافت میں شریک ہوں گے۔

12۔ مگر بادشاہی کے بیٹے باہر اندھیرے میں ڈال دئیے جائیں گے۔ وہاں رونا اور دانت پیسنا ہوگا۔

13۔ اور یسوع نے صوبہ دار سے کہا جا جیسا تو نے اعتقاد کیا ہے تیرے لئے ویسا ہی ہواور اْسی گھڑی خادم نے شفا پائی۔

6. Matthew 8 : 5-13

5     And when Jesus was entered into Capernaum, there came unto him a centurion, beseeching him,

6     And saying, Lord, my servant lieth at home sick of the palsy, grievously tormented.

7     And Jesus saith unto him, I will come and heal him.

8     The centurion answered and said, Lord, I am not worthy that thou shouldest come under my roof: but speak the word only, and my servant shall be healed.

9     For I am a man under authority, having soldiers under me: and I say to this man, Go, and he goeth; and to another, Come, and he cometh; and to my servant, Do this, and he doeth it.

10     When Jesus heard it, he marvelled, and said to them that followed, Verily I say unto you, I have not found so great faith, no, not in Israel.

11     And I say unto you, That many shall come from the east and west, and shall sit down with Abraham, and Isaac, and Jacob, in the kingdom of heaven.

12     But the children of the kingdom shall be cast out into outer darkness: there shall be weeping and gnashing of teeth.

13     And Jesus said unto the centurion, Go thy way; and as thou hast believed, so be it done unto thee. And his servant was healed in the selfsame hour.

7۔ یسعیاہ 55باب2، 3 آیات

2۔ تم کس لئے اپنا روپیہ اْس چیز کے لئے جو روٹی نہیں اور اپنی محنت اْس چیز کے واسطے جو آسودہ نہیں کرتی خرچ کرتے ہو؟ تم غور سے میری سنو اور ہر وہ چیز جو اچھی ہے کھاؤ اور تمہاری جان فربہی سے لذت اٹھائے۔

3۔ کان لگاؤ اور میرے پاس آؤ اور سنو اور تمہاری جان زندہ رہے گی اور مَیں تم کو ابدی عہد یعنی داؤد کی سچی نعمتیں بخشوں گا۔

7. Isaiah 55 : 2, 3

2     Wherefore do ye spend money for that which is not bread? and your labour for that which satisfieth not? hearken diligently unto me, and eat ye that which is good, and let your soul delight itself in fatness.

3     Incline your ear, and come unto me: hear, and your soul shall live; and I will make an everlasting covenant with you, even the sure mercies of David.

8۔ افسیوں 4 باب17تا24 آیت

17۔ اِس لئے مَیں یہ کہتا ہوں اور خداوند میں جتائے دیتا ہوں کہ جس طرح غیر قومیں اپنے بیہودہ خیالات کے موافق چلتی ہیں تم آئندہ کو اْس طرح نہ چلنا۔

18۔ کیونکہ اْن کی عقل تاریک ہوگئی ہے اور وہ اْس نادانی کے سبب سے جو اْن میں ہے اور اپنے دلوں کی سختی کے باعث خدا کی زندگی سے خارج ہیں۔

19۔ اْنہوں نے سْن ہو کر شہوت پرستی کو اختیار کیا تاکہ ہر طرح کے گندے کام حرص سے کریں۔

20۔ مگر تم نے مسیح کی ایسی تعلیم نہیں پائی۔

21۔ بلکہ تم نے اْس سچائی کے مطابق جو یسوع میں ہے اْس کی سنی اور اْس میں یہ تعلیم پائی ہوگی۔

22۔ کہ تم اپنے اگلے چال چلن کی پرانی انسانیت کو اتار ڈالو جو فریب کی شہوتوں کے سبب سے خراب ہوتی جاتی ہے۔

23۔ اور اپنی عقل کی روحانی حالت میں نئے بنتے جاؤ۔

24۔ اور نئی انسانیت کو پہنو جو خدا کے مطابق سچائی کی راستبازی اور پاکیزگی میں پیدا کی گئی ہے۔

8. Ephesians 4 : 17-24

17     This I say therefore, and testify in the Lord, that ye henceforth walk not as other Gentiles walk, in the vanity of their mind,

18     Having the understanding darkened, being alienated from the life of God through the ignorance that is in them, because of the blindness of their heart:

19     Who being past feeling have given themselves over unto lasciviousness, to work all uncleanness with greediness.

20     But ye have not so learned Christ;

21     If so be that ye have heard him, and have been taught by him, as the truth is in Jesus:

22     That ye put off concerning the former conversation the old man, which is corrupt according to the deceitful lusts;

23     And be renewed in the spirit of your mind;

24     And that ye put on the new man, which after God is created in righteousness and true holiness.

9۔ رومیوں 8 باب1،2، 14تا17 (تا دوسرا) آیات

1۔ پس اب جو مسیح یسوع میں ہیں اْن پر سزا کا حکم نہیں، جو جسم کے مطابق نہیں بلکہ روح کے مطابق چلتے ہیں۔

2۔ کیونکہ زندگی کے روح کی شریعت نے یسوع مسیح میں مجھے گناہ اور موت کی شریعت سے آزاد کردیا۔

14۔ اِس لئے کہ جتنے خدا کی روح کی ہدایت سے چلتے ہیں وہی خدا کے بیٹے ہیں۔

15۔ کیونکہ تم کو غلامی کی روح نہیں ملی جس سے پھر ڈر پیدا ہو بلکہ لے پالک ہونے کی روح ملی جس سے ہم ابا یعنی اے باپ کہہ کر پکارتے ہیں۔

16۔ روح خود ہماری روح کے ساتھ مل کر گواہی دیتا ہے کہ ہم خدا کے فرزند ہیں۔

17۔ اور اگر فرزند ہیں تو وارث بھی ہیں یعنی خدا کے وارث اور مسیح کے ہم میراث۔

9. Romans 8 : 1, 2, 14-17 (to 2nd ;)

1     There is therefore now no condemnation to them which are in Christ Jesus, who walk not after the flesh, but after the Spirit.

2     For the law of the Spirit of life in Christ Jesus hath made me free from the law of sin and death.

14     For as many as are led by the Spirit of God, they are the sons of God.

15     For ye have not received the spirit of bondage again to fear; but ye have received the Spirit of adoption, whereby we cry, Abba, Father.

16     The Spirit itself beareth witness with our spirit, that we are the children of God:

17     And if children, then heirs; heirs of God, and joint-heirs with Christ;



سائنس اور صح


1۔ 60 :29۔31

جان میں لامتناہی وسائل ہیں جن سے انسان کو برکت دینا ہوتی ہے اور خوشی مزید آسانی سے حاصل کی جاتی ہے اور ہمارے قبضہ میں مزید محفوظ رہے گی، اگر جان میں تلاش کی جائے گی۔

1. 60 : 29-31

Soul has infinite resources with which to bless mankind, and happiness would be more readily attained and would be more secure in our keeping, if sought in Soul.

2۔ 302 :19۔24

ہستی کی سائنس انسان کو کامل ظاہر کرتی ہے، حتیٰ کہ جیسا کہ باپ کامل ہے، کیونکہ روحانی انسان کی جان یا عقل خدا ہے، جو تمام تر مخلوقات کا الٰہی اصول ہے، اور یہ اس لئے کہ اس حقیقی انسان پر فہم کی بجائے روح کی حکمرانی ہوتی ہے، یعنی شریعت کی روح کی، نہ کہ نام نہاد مادے کے قوانین کی۔

2. 302 : 19-24

The Science of being reveals man as perfect, even as the Father is perfect, because the Soul, or Mind, of the spiritual man is God, the divine Principle of all being, and because this real man is governed by Soul instead of sense, by the law of Spirit, not by the so-called laws of matter.

3۔ 273 :16۔20

مادے کے نام نہاد قوانین اور طبی سائنس نے کبھی بشر کو مکمل، ہم آہنگ اور لافانی نہیں بنایا۔ انسان تب ہم آہنگ ہوتا ہے جب روح کی نگرانی میں ہوتا ہے۔اسی طرح ہستی کی سچائی کو سمجھنے کی اہمیت ہے، جو روحانی وجودیت کے قوانین کو ظاہر کرتی ہے۔

3. 273 : 16-20

The so-called laws of matter and of medical science have never made mortals whole, harmonious, and immortal. Man is harmonious when governed by Soul. Hence the importance of understanding the truth of being, which reveals the laws of spiritual existence.

4۔ 482 :3۔12

انسانی سوچ نے اِس مفروضے کے تحت لفظ جان کے مفہوم کو ملاوٹ زدہ کردیا ہے کہ مادے میں رہتے ہوئے جان بدکار اور نیک ذہانت دونوں ہے۔جہاں معبود کے معنی مطلوب ہوں وہاں لفظ جان کا موزوں استعمال صرف لفظ خدا کے ساتھ تبادلہ کرنے سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ دیگر معاملات میں، فہم کا لفظ استعمال کریں تو آپ کو اِس کا سائنسی مفہوم میسر ہوگا۔ جیسے کہ کرسچن سائنس میں استعمال کیا گیا ہے،جان روح یا خدا کے لئے موزوں مترادف الفاظ ہیں؛ لیکن سائنس کے علاوہ، جان فہم کے ساتھ، مادی احساس کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔

4. 482 : 3-12

Human thought has adulterated the meaning of the word soul through the hypothesis that soul is both an evil and a good intelligence, resident in matter. The proper use of the word soul can always be gained by substituting the word God, where the deific meaning is required. In other cases, use the word sense, and you will have the scientific signification. As used in Christian Science, Soul is properly the synonym of Spirit, or God; but out of Science, soul is identical with sense, with material sensation.

5۔ 210 :11۔18

یہ جانتے ہوئے کہ جان اور اْس کی خصوصیات ہمیشہ کے لئے انسان کے وسیلہ ظاہر کی جاتی رہی ہیں، مالک نے بیمار کو شفا دی، اندھے کو آنکھیں دیں، بہرے کو کان دئیے، لنگڑے کو پاؤں دئیے، یوں وہ انسانی خیالوں اور بدنوں پر الٰہی عقل کے سائنسی عمل کو روشنی میں لایااور انہیں جان اور نجات کی بہتر سمجھ عطا کی۔یسوع نے ایک ہی اور یکساں مابعد لاطبیعی مرحلے کے ساتھ گناہ اوربیماری کو ٹھیک کیا۔

5. 210 : 11-18

Knowing that Soul and its attributes were forever manifested through man, the Master healed the sick, gave sight to the blind, hearing to the deaf, feet to the lame, thus bringing to light the scientific action of the divine Mind on human minds and bodies and giving a better understanding of Soul and salvation. Jesus healed sickness and sin by one and the same metaphysical process.

6۔ 477 :22۔29

جان مادہ، زندگی، انسان کی ذہانت ہے، جس کی انفرادیت ہوتی ہے لیکن مادے میں نہیں۔ جان روح سے کمتر کسی چیز کی عکاسی کبھی نہیں کر سکتی۔

انسان روح کا اظہار۔بھارتیوں نے بنیادی حقیقت کی چند جھلکیاں پکڑی ہیں، جب انہوں نے ایک خوبصورت جھیل کو ”عظیم روح کی مسکراہٹ“ کا نام دیا۔

6. 477 : 22-29

Soul is the substance, Life, and intelligence of man, which is individualized, but not in matter. Soul can never reflect anything inferior to Spirit.

Man is the expression of Soul. The Indians caught some glimpses of the underlying reality, when they called a certain beautiful lake "the smile of the Great Spirit."

7۔ 315 :11۔20

لوگوں کے مخالف اور جھوٹے نظریات نے مسیح کی خدا کے ساتھ فرزندگی کو اْن کے فہم سے چھپائے رکھا۔ وہ اْس کی روحانی وجودیت کا شعور نہ پا سکے۔ اْن کے جسمانی ذہن اِس کے ساتھ عداوت رکھتے تھے۔ اْن کے خیالات خدا کے اْس روحانی نظریے کی بجائے جسے مسیح یسوع نے پیش کیا فانی غلطی سے بھر پور تھے۔خدا کی شبیہ جسے ہم گناہ کی بدولت نظر انداز کر دیتے ہیں، جو سچائی کے روحانی فہم پر پردہ ڈالتی ہے، اور ہم اِس شبیہ کو صرف تبھی سمجھتے ہیں جب ہم گناہ کے زیر اثر ہوتے ہیں اور اِسے انسان کی وراثت ثابت کرتے ہیں، یعنی خدا کے فرزندوں کی آزادی مانتے ہیں۔

7. 315 : 11-20

The opposite and false views of the people hid from their sense Christ's sonship with God. They could not discern his spiritual existence. Their carnal minds were at enmity with it. Their thoughts were filled with mortal error, instead of with God's spiritual idea as presented by Christ Jesus. The likeness of God we lose sight of through sin, which beclouds the spiritual sense of Truth; and we realize this likeness only when we subdue sin and prove man's heritage, the liberty of the sons of God.

8۔ 481 :28۔32

جان انسان کا الٰہی اصول ہے اور یہ کبھی گناہ نہیں کرتی، لہٰذہ جان لافانی ہے۔ سائنس میں ہم سیکھتے ہیں کہ یہ مادی فہم ہے نہ کہ جان ہے جو گناہ کرتی ہے اور یہ دیکھا جائے گا کہ یہ گناہ کا فہم ہی ہوتا ہے جو کھو جاتا ہے نہ کہ گناہ آلودہ جان ہے۔

8. 481 : 28-32

Soul is the divine Principle of man and never sins, — hence the immortality of Soul. In Science we learn that it is material sense, not Soul, which sins; and it will be found that it is the sense of sin which is lost, and not a sinful soul.

9۔ 301 :23۔2

مادی انسان خود کو مادی مواد دکھائی دیتا ہے، جبکہ انسان ”شبیہ“ (خیال) ہے۔فریب نظری، گناہ، بیماری اور موت مادی فہم کی جھوٹی گواہی سے جنم لیتے ہیں، جو لا محدود روح کے مرکزی فاصلے سے باہر ایک فرضی نظریے سے، عقل اور اصل کی پلٹی ہوئی تصویر پیش کرتی ہے، جس میں ہر چیز اوپر سے نیچے اْلٹ ہوئی ہوتی ہے۔

یہ غلطی روح کی مادی صورتوں میں غیر واضح باشندے کے طور پر، اور انسان کو روحانی کی بجائے مادی گمان کرتی ہے۔لافانیت کو فانیت سے محدود نہیں کیا جاتا۔روح کو محدودیت کے ساتھ محصور نہیں کیا جاتا۔اصول منقسم خیالات میں نہیں پایا جاتا۔

9. 301 : 23-2

Mortal man seems to himself to be material substance, while man is "image" (idea). Delusion, sin, disease, and death arise from the false testimony of material sense, which, from a supposed standpoint outside the focal distance of infinite Spirit, presents an inverted image of Mind and substance with everything turned upside down.

This falsity presupposes soul to be an unsubstantial dweller in material forms, and man to be material instead of spiritual. Immortality is not bounded by mortality. Soul is not compassed by finiteness. Principle is not to be found in fragmentary ideas.

10۔ 240 :27۔32

غلطیوں کے فہم کو کالعدم کرنے کی کوشش میں کسی بھی شخص کو مکمل اور منصفانہ طور پر انتہائی انمول قیمت ادا کرناہوگی جب تک کہ ساری غلطی مکمل طور پر سچائی کے ماتحت نہ لائی جائے۔گناہ کی مزدوری ادا کرنے کے الٰہی طریقہ کار میں کسی شخص کی گْتھیوں کو سلجھانا اور اِس تجربے سے یہ سیکھنا شامل ہے کہ فہم اور جان کو کیسے الگ الگ کرنا چاہئے۔

10. 240 : 27-32

In trying to undo the errors of sense one must pay fully and fairly the utmost farthing, until all error is finally brought into subjection to Truth. The divine method of paying sin's wages involves unwinding one's snarls, and learning from experience how to divide between sense and Soul.

11۔ 281 :27۔1

الٰہی سائنس نئی مے پرانی مشکوں میں، جان کو مادے میں اور نہ ہی لامحدود کو محدود میں انڈیلتی ہے۔جب ہم روح کے حقائق کو تھام لیتے ہیں تو ہمارے مادے سے متعلق جھوٹے خیالات ختم ہو جاتے ہیں۔ پرانے عقیدے کو باہر نکالنا چاہئے وگرنہ نیا خیال بہہ جائے گا، اور وہ الہام جس نے ہمارا نقطہ نظر تبدیل کرنا ہے کھو جائے گا۔

11. 281 : 27-1

Divine Science does not put new wine into old bottles, Soul into matter, nor the infinite into the finite. Our false views of matter perish as we grasp the facts of Spirit. The old belief must be cast out or the new idea will be spilled, and the inspiration, which is to change our standpoint, will be lost.

12۔ 430 :3۔7

فانی عقل کو غلطی سے دور ہونا چاہئے، خود کو اس کے کاموں سے الگ رکھنا چاہئے تو لافانی جوان مردی، مثالی مسیح، غائب ہو جائے گا۔ مادے کی بجائے روح پر انحصار کرتے ہوئے ایمان کو اپنی حدود کو وسیع کرنا اور اپنی بنیاد کو مضبوط کرنا چاہئے۔

12. 430 : 3-7

Mortal mind must part with error, must put off itself with its deeds, and immortal manhood, the Christ ideal, will appear. Faith should enlarge its borders and strengthen its base by resting upon Spirit instead of matter.

13۔ 201 :7۔12

ہم جھوٹی بنیادوں پر محفوظ تعمیرات نہیں کر سکتے۔سچائی ایک نئی مخلوق بناتی ہے، جس میں پرانی چیزیں جاتی رہتی ہیں اور ”سب چیزیں نئی ہو جاتی ہیں۔“ جذبات، خود غرضی، نفرت، خوف، ہر سنسنی خیزی، روحانیت کو تسلیم کرتے ہیں اور ہستی کی افراط خدا، یعنی اچھائی کی طرف ہے۔

13. 201 : 7-12

We cannot build safely on false foundations. Truth makes a new creature, in whom old things pass away and "all things are become new." Passions, selfishness, false appetites, hatred, fear, all sensuality, yield to spirituality, and the superabundance of being is on the side of God, good.

14۔ 40 :31۔7

مسیحت کی فطرت پْر امن اور بابرکت ہے، لیکن بادشاہی میں داخل ہونے کے لئے، امید کا لنگر اْس شکینہ کے اندر مادے کے پردے سے آگے ڈالنا ضروری ہے جس میں سے یسوع ہم سے قبل گز رچکا ہے، اور مادے سے آگے کی یہ ترقی راستباز کی خوشیوں اور فتح مندی اور اِس کے ساتھ ساتھ اْن کے دْکھوں اور تکالیف کے وسیلہ آتی ہے۔ ہمارے مالک کی طرح، ہمیں بھی مادی فہم سے ہستی کے روحانی فہم کی جانب رْخصت ہونا چاہئے۔

14. 40 : 31-7

The nature of Christianity is peaceful and blessed, but in order to enter into the kingdom, the anchor of hope must be cast beyond the veil of matter into the Shekinah into which Jesus has passed before us; and this advance beyond matter must come through the joys and triumphs of the righteous as well as through their sorrows and afflictions. Like our Master, we must depart from material sense into the spiritual sense of being.

15۔ 14 :25۔30

مادی زندگی کے عقیدے اور خواب سے مکمل طور پر منفرد، الٰہی زندگی ہے، جو روحانی فہم اور ساری زمین پر انسان کی حکمرانی کے شعور کو ظاہرکرتی ہے۔یہ فہم غلطی کو باہر نکالتا اور بیمار کو شفا دیتا ہے، اوراِس کے ساتھ آپ ”صاحب اختیار کی مانند“ بات کر سکتے ہیں۔

15. 14 : 25-30

Entirely separate from the belief and dream of material living, is the Life divine, revealing spiritual understanding and the consciousness of man's dominion over the whole earth. This understanding casts out error and heals the sick, and with it you can speak "as one having authority."


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████