اتوار 15 ستمبر، 2019 |

اتوار 15 ستمبر، 2019



مضمون۔ مواد

SubjectSubstance

سنہری متن:سنہری متن: زبور 78: 19 آیت

’’کیا خدا بیابان میں دستر خوان بچھا سکتا ہے؟‘‘



Golden Text: Psalm 78 : 19

Can God furnish a table in the wilderness?





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: 1تواریخ 16باب8تا12، 23، 24 آیات


8۔خداوند کی شکر گزاری کرو۔ اْس سے دعا کرو۔ قوموں کے درمیان اْس کے کاموں کا اشتہار دو۔

9۔ اْس کے حضور گاؤ۔ اْس کی مد ح سرائی کرو۔ اْس کے عجیب کاموں کا چرچا کرو۔

10۔ اْس کے پاک نام پر فخر کرو۔ جو خدا کے طالب ہیں اْن کا دل خوش رہے۔

11۔ تم اْس کے عجیب کاموں کو جو اْس نے کئے اور اْس کے معجزوں اور اْس کے منہ کے آئین کو یاد رکھو۔

23۔ اے سب اہلِ زمین! خداوند کے حضورگاؤ۔ ہر روز اْس کی نجات کی بشارت دو۔

24۔ قوموں میں اْس کے جلال کا سب لوگوں میں اْس کے عجائب کا بیان کرو۔

Responsive Reading: I Chronicles 16 : 8-12, 23, 24

8.     Give thanks unto the Lord, call upon his name, make known his deeds among the people.

9.     Sing unto him, sing psalms unto him, talk ye of all his wondrous works.

10.     Glory ye in his holy name: let the heart of them rejoice that seek the Lord.

11.     Seek the Lord and his strength, seek his face continually.

12.     Remember his marvellous works that he hath done, his wonders, and the judgments of his mouth;

23.     Sing unto the Lord, all the earth; shew forth from day to day his salvation.

24.     Declare his glory among the heathen; his marvellous works among all nations.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ استثنا 28باب12آیت

12۔ خداوند آسمان کو جو اْس کا اچھا خزانہ ہے تیرے لئے کھول دے گا کہ تیرے ملک میں وقت پر مینہ برسائے اور وہ تیرے سب کاموں جن میں تْو ہاتھ لگائے برکت دے گا اور تْو بہت سی قوموں کو قرض دے گا پر خود قرض نہیں لے گا۔

1. Deuteronomy 28 : 12

12     The Lord shall open unto thee his good treasure, the heaven to give the rain unto thy land in his season, and to bless all the work of thine hand: and thou shalt lend unto many nations, and thou shalt not borrow.

2۔ رومیوں 11باب33، 36 (تا پہلا)

33۔ واہ! خدا کی حکمت اور دولت اور علم کیا ہی عمیق ہے! اْس کے فیصلے کس قدر ادراک سے پرے اور اْس کی راہیں کیا ہی بے نشان ہیں۔

36۔کیونکہ اْسی کی طرف سے اور اْسی کے وسیلہ سے اور اْسی کے لئے سب چیزیں ہیں۔ اْس کی تمجید ابد تک ہوتی رہے۔

2. Romans 11 : 33, 36 (to 1st .)

33     O the depth of the riches both of the wisdom and knowledge of God! how unsearchable are his judgments, and his ways past finding out!

36     For of him, and through him, and to him, are all things: to whom be glory for ever.

3۔ زبور 68: 17 (تا:)، 19 (تا پہلا)

17۔ خدا کے رتھ بیس ہزار بلکہ ہزار ہا ہزار ہیں؛

19۔ خداوند مبارک ہو جو ہر روز ہمارا بوجھ اٹھاتا ہے۔ وہی ہمارا نجات دینے والا خدا ہے۔

3. Psalm 68 : 17 (to :), 19 (to 1st .)

17     The chariots of God are twenty thousand, even thousands of angels:

19     Blessed be the Lord, who daily loadeth us with benefits, even the God of our salvation.

4۔ خروج 16باب11تا18آیات

11۔ اور خداوند نے موسیٰ سے کہا۔

12۔ مَیں نے بنی اسرائیل کا بْڑ بڑانا سْن لیا ہے سو تْو اْن سے کہہ دے کہ شام کو تم گوشت کھاؤ گے اور صبح کو روٹی سے سیر ہو گے اور تم جان لو کہ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔

13۔ اور یوں ہوا کہ شام کو اتنی بیِڑیں آئیں کہ اْن کے خیمہ گاہ کو ڈھانک لیا اور صبح کو خیمہ گاہ کے آس پاس اوس پڑی ہوئی تھی۔

14۔ اور جب وہ اوس جو پڑی تھی سوکھ گئی تو کیا دیکھتے ہیں کہ بیابان میں ایک چھوٹی چھوٹی گول گول چیز ایسے پڑی جیسے پالے کے دانے ہوتے ہیں زمین پر پڑی ہے۔

15۔ بنی اسرائیل اْسے دیکھ کر آپس میں کہنے لگے، من؟ کیونکہ وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا ہے۔ تب موسیٰ نے کہا کہ وہ روٹی ہے جو خداوند نے تمہارے کھانے کو دی ہے۔

16۔ سو خداوند کا حکم یہ ہے کہ تم اْسے اپنے اپنے کھانے کی مقدار کے موافق یعنی اپنے آدمیوں کے شمار کے مطابق فی کس ایک اومر جمع کرنا اور ہر شخص اْتنے ہی آدمیوں کے لئے جمع کرے جتنے اْس کے ڈیرے میں ہوں۔

17۔ بنی اسرائیل نے ایساہی کیا اور کسی نے زیادہ اور کسی نے کم جمع کیا۔

18۔ اور جب انہوں نے اْسے اومر سے ناپا تو جس نے زیادہ جمع کیا اْس نے کچھ زیادہ نہیں پایا اور اْس کا جس نے کم جمع کیا تھا کم نہ ہوا۔ اْن میں سے ہر ایک نے اْس کے کھانے کی مقدار کے مطابق جمع کیا تھا۔

4. Exodus 16 : 11-18

11     And the Lord spake unto Moses, saying,

12     I have heard the murmurings of the children of Israel: speak unto them, saying, At even ye shall eat flesh, and in the morning ye shall be filled with bread; and ye shall know that I am the Lord your God.

13     And it came to pass, that at even the quails came up, and covered the camp: and in the morning the dew lay round about the host.

14     And when the dew that lay was gone up, behold, upon the face of the wilderness there lay a small round thing, as small as the hoar frost on the ground.

15     And when the children of Israel saw it, they said one to another, It is manna: for they wist not what it was. And Moses said unto them, This is the bread which the Lord hath given you to eat.

16     This is the thing which the Lord hath commanded, Gather of it every man according to his eating, an omer for every man, according to the number of your persons; take ye every man for them which are in his tents.

17     And the children of Israel did so, and gathered, some more, some less.

18     And when they did mete it with an omer, he that gathered much had nothing over, and he that gathered little had no lack; they gathered every man according to his eating.

5۔ خروج 17باب1تا7آیات

1۔ پھر بنی اسرائیل کی ساری جماعت نسین کے بیابان سے چلی اور خداوند کے حکم کے مطابق سفر کرتی ہوئی رفیدیم میں آکر ڈیرا کیا۔ وہاں اْن لوگوں کو پینے کا پانی نہ ملا۔

2۔ وہاں وہ لوگ موسیٰ سے جھگڑا کر کے کہنے لگے کہ ہم کو پینے کو پانی دے۔ موسیٰ نے اْن سے کہا تم مجھ سے کیوں جھگڑتے ہو اور خداوند کو کیوں آزماتے ہو؟

3۔ وہاں اْن لوگوں کو بڑی پیاس لگی۔ سو وہ لوگ موسیٰ پر بڑبڑانے لگے اور کہا کہ تم ہم کو اور ہمارے بچوں اور چوپائیوں کو پیاسا مرنے کیلئے ہم لوگوں کو کیوں ملک مصر سے نکال لایا؟

4۔ موسیٰ نے خداوند سے فریاد کر کے کہا مَیں اِن لوگوں سے کیا کروں؟ وہ سب تو ابھی مجھے سنگسار کرنے کو تیار ہیں۔

5۔ خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ لوگوں کے آگے ہو کر چل اور بنی اسرائیل کے بزرگوں میں سے چند کو اپنے ساتھ لے لے اور جس لاٹھی سے تْو نے دریا پر مارا تھا اْسے اپنے ہاتھ میں لیتا جا۔

6۔ دیکھ میں تیرے آگے جا کر وہاں حوریب کی ایک چٹان پر کھڑا رہوں گا اور تْو اْس چٹان پر مارنا تو اْس میں سے پانی نکلے گا کہ یہ لوگ پئیں۔ چنانچہ موسیٰ نے بنی اسرائیل کے بزرگوں کے سامنے یہی کیا۔

7۔ اور اْس نے اْس جگہ کا نام متسہ اور مریبہ رکھا کیونکہ بنی اسرائیل نے وہاں جھگڑا کیااور یہ کہہ کر خداوند کا امتحان کیا کہ خداوند ہمارے بیچ میں ہے یا نہیں۔

5. Exodus 17 : 1-7

1     And all the congregation of the children of Israel journeyed from the wilderness of Sin, after their journeys, according to the commandment of the Lord, and pitched in Rephidim: and there was no water for the people to drink.

2     Wherefore the people did chide with Moses, and said, Give us water that we may drink. And Moses said unto them, Why chide ye with me? wherefore do ye tempt the Lord?

3     And the people thirsted there for water; and the people murmured against Moses, and said, Wherefore is this that thou hast brought us up out of Egypt, to kill us and our children and our cattle with thirst?

4     And Moses cried unto the Lord, saying, What shall I do unto this people? they be almost ready to stone me.

5     And the Lord said unto Moses, Go on before the people, and take with thee of the elders of Israel; and thy rod, wherewith thou smotest the river, take in thine hand, and go.

6     Behold, I will stand before thee there upon the rock in Horeb; and thou shalt smite the rock, and there shall come water out of it, that the people may drink. And Moses did so in the sight of the elders of Israel.

7     And he called the name of the place Massah, and Meribah, because of the chiding of the children of Israel, and because they tempted the Lord, saying, Is the Lord among us, or not?

6۔ یسعیاہ 58باب11 آیت

11۔ اور خداوند سدا تیری راہنمائی کرے گا اور خشک سالی میں تجھے سیر کرے گا اور تیری ہڈیوں کو قوت بخشے گا۔ پس تْو سیراب باغ کی مانند ہوگا اور اْس چشمہ کی مانند جس کا پانی کم نہ ہو۔

6. Isaiah 58 : 11

11     And the Lord shall guide thee continually, and satisfy thy soul in drought, and make fat thy bones: and thou shalt be like a watered garden, and like a spring of water, whose waters fail not.

7۔ متی 4باب23آیت

23۔ اور یسوع تمام گلیل میں پھرتا رہا اور اْن کے عبادت خانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا اور لوگوں کی ہر طرح کی بیماری اورہر طرح کمزوری کو دور کرتا رہا۔

7. Matthew 4 : 23

23     And Jesus went about all Galilee, teaching in their synagogues, and preaching the gospel of the kingdom, and healing all manner of sickness and all manner of disease among the people.

8۔ متی 5باب2آیت

2۔ اور وہ اپنی زبان کھول کر اْن کو یوں تعلیم دینے لگا۔

8. Matthew 5 : 2

2     And he opened his mouth, and taught them, saying,

9۔ متی 6باب26، 28 (غور کریں)، 29 آیات

26۔ ہوا کے پرندوں کو دیکھو نہ وہ بوتے ہیں نہ کاٹتے ہیں۔ نہ کوٹھیوں میں جمع کرتے ہیں تو بھی تمہارا آسمانی باپ اْن کو کھلاتا ہے۔ کیا تْم اْن سے زیادہ قدر نہیں رکھتے؟

28۔ جنگلی سوسن کے درختوں کو غور سے دیکھو کہ وہ کس طرح بڑھتے ہیں۔ وہ نہ محنت کرتے ہیں نہ کاتتے ہیں۔

29۔ تو بھی میں تم سے کہتا ہوں کہ سلیمان بھی باوجود اپنی ساری شان و شوکت کے اْن میں سے کسی کی مانند ملبس نہیں تھا۔

9. Matthew 6 : 26, 28 (Consider), 29

26     Behold the fowls of the air: for they sow not, neither do they reap, nor gather into barns; yet your heavenly Father feedeth them. Are ye not much better than they?

28     Consider the lilies of the field, how they grow; they toil not, neither do they spin:

29     And yet I say unto you, That even Solomon in all his glory was not arrayed like one of these.

10۔ یوحنا 21باب4 (جب) تا 6 آیات

4۔ ۔۔۔ صبح ہوتے ہی یسوع کنارے پر آکھڑا ہوا مگر شاگردوں نے نہ پہچانا کہ یہ یسوع ہی ہے۔

5۔ پس یسوع نے اْن سے کہا بچو! تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے؟ انہوں نے جواب دیا نہیں۔

6۔ اْس نے اْن سے کہا کشتی کی دہنی طرف جال ڈالو تو پکڑو گے۔ پس انہوں نے جال ڈالا اور مچھلیوں کی کثرت سے پھر کھینچ نہ سکے۔

10. John 21 : 4 (when)-6

4     …when the morning was now come, Jesus stood on the shore: but the disciples knew not that it was Jesus.

5     Then Jesus saith unto them, Children, have ye any meat? They answered him, No.

6     And he said unto them, Cast the net on the right side of the ship, and ye shall find. They cast therefore, and now they were not able to draw it for the multitude of fishes.

11۔ امثال 8باب14، 18تا21آیات

14۔ مشورت اور حمایت میری ہیں۔ فہم مَیں ہی ہوں۔ مجھ میں قدرت ہے۔

18۔ دولت و عزت میرے ساتھ ہیں۔ بلکہ دائمی دولت اور صداقت بھی۔

19۔ میرا پھل سونے سے بلکہ کْندن سے بھی بہتر ہے اور میرا حاصل خالص چاندی ہے۔

20۔ مَیں صداقت کی راہ پر انصاف کے راستوں پر چلتی ہوں۔

21۔ تاکہ مَیں اْن کو جو مجھ سے محبت رکھتے ہیں مال کے وارث بناؤں اور اْن کے خزانوں کو بھر دوں۔

11. Proverbs 8 : 14, 18-21

14     Counsel is mine, and sound wisdom: I am understanding; I have strength.

18     Riches and honour are with me; yea, durable riches and righteousness.

19     My fruit is better than gold, yea, than fine gold; and my revenue than choice silver.

20     I lead in the way of righteousness, in the midst of the paths of judgment:

21     That I may cause those that love me to inherit substance; and I will fill their treasures.

12۔ فلپیوں 4باب19 (میرا) آیات

19۔۔۔۔ میرا خدا اپنی دولت کے موافق جلال سے مسیح یسوع میں تمہاری ہر احتیاج رفع کرے گا۔

12. Philippians 4 : 19 (my)

19     …my God shall supply all your need according to his riches in glory by Christ Jesus.



سائنس اور صح


1۔ 330 :11 (خدا)۔12

خدا لامتناہی واحد زندگی، مواد، روح یا جان، کائنات کی، بشمول انسان، واحد ذہانت ہے۔

1. 330 : 11 (God)-12

God is infinite, the only Life, substance, Spirit, or Soul, the only intelligence of the universe, including man.

2۔ 468 :16۔24

سوال۔ مواد کیا ہے؟

جواب۔ مواد وہ ہے جو ابدی ہے اور نیست ہونے اور مخالفت سے عاجز ہے۔ سچائی، زندگی اور محبت مواد ہیں، جیسے کہ کلام عبرانیوں میں یہ الفاظ استعمال کرتا ہے: ”ایمان اْمید کی ہوئی چیزوں کا اعتماد اور اندیکھی چیزوں کا ثبوت ہے۔“روح، جو فہم،جان، یا خدا کا مترادف لفظ ہے، واحد حقیقی مواد ہے۔ روحانی کائنات، بشمول انفرادی انسان، ایک مشترک خیال ہے، جو روح کے الٰہی مواد کی عکاسی کرتا ہے۔

2. 468 : 16-24

Question. — What is substance?

Answer. — Substance is that which is eternal and incapable of discord and decay. Truth, Life, and Love are substance, as the Scriptures use this word in Hebrews: "The substance of things hoped for, the evidence of things not seen." Spirit, the synonym of Mind, Soul, or God, is the only real substance. The spiritual universe, including individual man, is a compound idea, reflecting the divine substance of Spirit. 

3۔ 349 :31۔5

کرسچن سائنس میں، مواد کو روح سمجھا جاتا ہے، جبکہ کرسچن سائنس کے مخالفین مواد کو مادا مانتے ہیں۔ وہ مادے کو بطور کوئی چیز اور قریباً صرف ایک چیز ہی سمجھتے ہیں، اور اسے ایسی چیز سمجھتے ہیں جو عدم کی مانند روح رکھتی ہو، یا جو روزانہ کے تجربات سے تلف کر دی گئی ہو۔ کرسچن سائنس اس کے بالکل برعکس نظریہ رکھتی ہے۔

3. 349 : 31-5

In Christian Science, substance is understood to be Spirit, while the opponents of Christian Science believe substance to be matter. They think of matter as something and almost the only thing, and of the things which pertain to Spirit as next to nothing, or as very far removed from daily experience. Christian Science takes exactly the opposite view.

4۔ 335 :12۔15

روح ہی واحد مواد ہے، یعنی دیدہ اور نادیدہ لامحدود خدا۔ روحانی اور ابدی سب چیزیں حقیقی ہیں۔ مادی اور عارضی چیزیں غیر مادی ہیں۔

4. 335 : 12-15

Spirit is the only substance, the invisible and indivisible infinite God. Things spiritual and eternal are substantial. Things material and temporal are insubstantial.

5۔ 507 :11۔8

پیدائش 1باب11 آیت۔ اور خدا نے کہا زمین گھاس اور بیج دار بوٹیوں کو اور پھلدار درختوں کو جو اپنی اپنی جنس کے موافق پھلیں اور جو زمین پر اپنے آپ ہی میں بیج رکھیں اگائیں اور ایسا ہی ہوا۔

روح کی کائنات الٰہی اصول یا زندگی کی تخلیقی قوت کی عکاسی کرتی ہے، جو عقل کی کثیر صورتوں کو دوبارہ پیدا کرتی ہے اور مرکب خیال یعنی انسان کی بڑھتی ہوئی تعداد پر حکمرانی کرتی ہے۔ درخت اور بوٹی خود کی کسی پیداواری طاقت کے سبب پھل پیدا نہیں کرتے، بلکہ اْس عقل کے باعث منعکس ہوتے ہیں جس میں سب کچھ شامل ہے۔ ایک مادی دنیا فانی عقل اور انسان کو خالق کا مفہوم دیتی ہے۔ سائنسی الٰہی تخلیق لافانی عقل اور خدا کی تخلیق کردہ کائنات کا اعلان کرتی ہے۔

لا متناہی عقل ابدیت کے ذہنی مالیکیول کی طرف سے سب کو خلق کرتی اور اْن پر حکومت کرتی ہے۔ سب کا یہ الٰہی اصول اْس کی تخلیق کی پوری سائنس اور آرٹ اور انسان اور کائنات کی لافانیت کو ظاہر کرتا ہے۔تخلیق ہمیشہ سے ظاہر ہو رہی ہے اور اسے اپنے لازوال ذرائع کی فطرت کے باعث ظاہر ہونا جاری رکھنا چاہئے۔ بشری فہم اس ظہور کو الٹ کر دیتا ہے اور خیالات کو مادی کہتا ہے۔ لہٰذہ غلط تشریح کے ساتھ الٰہی خیال انسانی یا مادی عقیدے کے معیار تک گرتا دکھائی دیتا ہے، جسے مادی انسان کہا جاتا ہے۔لیکن بیج اس کے اندر ہی ہے،محض ایسے ہی جیسے الٰہی عقل سب کچھ ہے اور سب کچھ پیدا کرتی ہے، جیسے عقل کثیر کرنے والی ہے، اورعقل کا لامتناہی خیال، انسان اور کائنات پیداوار ہے۔واحد ذہانت یا سوچ کا مواد، ایک بیج یا ایک پھول خدا ہے، جو اس کا خالق ہے۔ عقل سب کی جان ہے۔ عقل زندگی، سچائی اور محبت ہے جو سب پر حکومت کرتی ہے۔

5. 507 : 11-8

Genesis i. 11. And God said, Let the earth bring forth grass, the herb yielding seed, and the fruit tree yielding fruit after his kind, whose seed is in itself, upon the earth: and it was so.

The universe of Spirit reflects the creative power of the divine Principle, or Life, which reproduces the multitudinous forms of Mind and governs the multiplication of the compound idea man. The tree and herb do not yield fruit because of any propagating power of their own, but because they reflect the Mind which includes all. A material world implies a mortal mind and man a creator. The scientific divine creation declares immortal Mind and the universe created by God.

Infinite Mind creates and governs all, from the mental molecule to infinity. This divine Principle of all expresses Science and art throughout His creation, and the immortality of man and the universe. Creation is ever appearing, and must ever continue to appear from the nature of its inexhaustible source. Mortal sense inverts this appearing and calls ideas material. Thus misinterpreted, the divine idea seems to fall to the level of a human or material belief, called mortal man. But the seed is in itself, only as the divine Mind is All and reproduces all — as Mind is the multiplier, and Mind's infinite idea, man and the universe, is the product. The only intelligence or substance of a thought, a seed, or a flower is God, the creator of it. Mind is the Soul of all. Mind is Life, Truth, and Love which governs all.

6۔ 60 :29۔31

جان میں لامتناہی وسائل ہیں جن سے انسان کو برکت دینا ہوتی ہے اور خوشی مزید آسانی سے حاصل کی جاتی ہے اور ہمارے قبضہ میں مزید محفوظ رہے گی، اگر جان میں تلاش کی جائے گی۔

6. 60 : 29-31

Soul has infinite resources with which to bless mankind, and happiness would be more readily attained and would be more secure in our keeping, if sought in Soul.

7۔ 206 :15۔18

انسان کے ساتھ خدا کے سائنسی تعلق میں، ہم دیکھتے ہیں کہ جو کوئی ایک کو برکت دیتا ہے وہ سب کو برکت دیتا ہے، جیسے یسوع نے روٹیوں اور مچھلیوں کے وسیلہ ظاہر کیا کہ مہیا کرنے کا وسیلہ روح ہے نہ کہ مادا۔

7. 206 : 15-18

In the scientific relation of God to man, we find that whatever blesses one blesses all, as Jesus showed with the loaves and the fishes, — Spirit, not matter, being the source of supply.

8۔ 507 :3-6

روح مناسب طور پر ہر چیز کو سیر کرتا اور ملبوس کرتا ہے جب یہ روحانی مخلوق کی لائن میں،یوں شفقت کے ساتھ خدا کی پدریت اور ممتا دکھاتے ہوئے، ظاہر ہوتا ہے۔

8. 507 : 3-6

Spirit duly feeds and clothes every object, as it appears in the line of spiritual creation, thus tenderly expressing the fatherhood and motherhood of God.

9۔ 2: 26(ہوگا)۔30

کیا ہمیں کسی فوارے کے سامنے اور التجا کرنی چاہئے جو ہماری توقع سے زیادہ پانی انڈیل رہا ہو؟ اَن کہی خواہش ہمیں تمام وجودیت اور فضل کے منبع کے قریب تر لے جاتی ہے۔

9. 2 : 26 (Shall)-30

Shall we plead for more at the open fount, which is pouring forth more than we accept? The unspoken desire does bring us nearer the source of all existence and blessedness.

10۔ 530 :5۔12

الٰہی سائنس میں، انسان خدایعنی ہستی کے الٰہی اصول کے وسیلہ قائم رہتا ہے۔ زمین، خدا کے حکم پر، انسان کے استعمال کے لئے خوراک پیدا کرتی ہے۔یہ جانتے ہوئے، یسوع نے ایک بار کہا، ”اپنی جان کی فکر نہ کرنا کہ ہم کیا کھائیں گے اور پئیں گے،“اپنے خالق کا استحقاق فرض کرتے ہوئے نہیں بلکہ خدا جو سب کا با پ اور ماں ہے، اْسے سمجھتے ہوئے کہ وہ ایسے ہی انسان کو خوراک اور لباس فراہم کرنے کے قابل ہے جیسے وہ سوسن کے پھولوں کو کرتا ہے۔

10. 530 : 5-12

In divine Science, man is sustained by God, the divine Principle of being. The earth, at God's command, brings forth food for man's use. Knowing this, Jesus once said, "Take no thought for your life, what ye shall eat, or what ye shall drink," — presuming not on the prerogative of his creator, but recognizing God, the Father and Mother of all, as able to feed and clothe man as He doth the lilies.

11۔ 442 :22۔29

مسیح، سچائی بشر کو اْس وقت تک عارضی خوراک اور لباس فراہم کرتا ہے جب تک مادا، نمونے کے ساتھ تبدیل ہوکر، غائب نہیں ہوجاتا، اور روحانی طور پر ملبوس اور سیر ہوتا ہے۔مقدس پولوس کہتا ہے، ”ڈرتے اور کانپتے ہوئے اپنی نجات کے کام کرتے جاؤ:“ یسوع نے کہا، ”اے چھوٹے گلے نہ ڈر کیونکہ تمہارے باپ کو پسند آیا کہ تمہیں بادشاہی دے۔“یہی سچائی کرسچن سائنس ہے۔

11. 442 : 22-29

Christ, Truth, gives mortals temporary food and clothing until the material, transformed with the ideal, disappears, and man is clothed and fed spiritually. St. Paul says, "Work out your own salvation with fear and trembling:" Jesus said, "Fear not, little flock; for it is your Father's good pleasure to give you the kingdom." This truth is Christian Science.

12۔ 367 :30۔32

کیونکہ سچائی لامتناہی، غلطی کو عدم سمجھا جانا چاہئے۔ کیونکہ سچائی اچھائی میں قادر مطلق ہے، غلطی سچائی کے مخالف، کوئی طاقت نہیں رکھتی۔

12. 367 : 30-32

Because Truth is infinite, error should be known as nothing. Because Truth is omnipotent in goodness, error, Truth's opposite, has no might.

13۔ 454 :4۔9

اپنے طالب علموں کو سچ کے قادر مطلق کی تعلیم دیں، جو غلطی کی کمزوری بیان کرتا ہے۔الٰہی قادر مطلق کی سمجھ، حتیٰ کہ ایک درجے پر، خوف کو تباہ کردیتی ہے، اور پاؤں کو سچائی کی راہ پر چلاتی ہے، اْس راہ پر جو ہاتھوں کے بغیر بنے ہوئے گھر کی جانب لے جاتی ہے یعنی”آسمانوں پر ابدی“ گھر کی جانب۔

13. 454 : 4-9

Teach your students the omnipotence of Truth, which illustrates the impotence of error. The understanding, even in a degree, of the divine All-power destroys fear, and plants the feet in the true path, — the path which leads to the house built without hands "eternal in the heavens."

14۔ 578 :5۔18

[الٰہی محبت] میرا چوپان ہے؛ مجھے کمی نہ ہوگی۔

[محبت]مجھے ہری ہری چراہ گاہوں میں بٹھاتا ہے؛ [محبت] مجھے راحت کے چشموں کے پاس لے جاتا ہے۔

[محبت] میری جان[روحانی فہم] کو بحال کرتا ہے: [محبت] مجھے اپنے نام کی خاطر صداقت کی راہوں پر لے چلتا ہے۔

بلکہ خواہ موت کی سایہ کی وادی میں سے میرا گزر ہو میں کسی بلا سے نہیں ڈروں گا؛ کیونکہ [محبت] میرے ساتھ ہے؛ [محبت کا] عصا اور [محبت کی] لاٹھی سے مجھے تسلی ہے۔

[محبت] میرے دشمنوں کے روبرو میرے آگے دستر خوان بچھاتا ہے: [محبت] نے میرے سر پر تیل ملا ہے؛ میرا پیالہ لبریز ہوتا ہے۔

یقیناً بھلائی اور رحمت عمر بھر میرے ساتھ رہیں گی میں ہمیشہ [محبت] کے گھر میں [شعور میں ] سکونت کروں گا۔

14. 578 : 5-18

[Divine love] is my shepherd; I shall not want.

[Love] maketh me to lie down in green pastures: [love] leadeth me beside the still waters.

[Love] restoreth my soul [spiritual sense]: [love] leadeth me in the paths of righteousness for His name's sake.

Yea, though I walk through the valley of the shadow of death, I will fear no evil: for [love] is with me; [love’s] rod and [love’s] staff they comfort me.

[Love] prepareth a table before me in the presence of mine enemies: [love] anointeth my head with oil; my cup runneth over.

Surely goodness and mercy shall follow me all the days of my life; and I will dwell in the house [the consciousness] of [love] for ever.

15۔ 494 :10۔14

الٰہی محبت نے ہمیشہ انسانی ضرورت کو پورا کیا ہے اور ہمیشہ پورا کرے گی۔ اس بات کا تصور کرنا مناسب نہیں کہ یسوع نے محض چند مخصوص تعداد میں یا محدود عرصے تک شفا دینے کے لئے الٰہی طاقت کا مظاہرہ کیا، کیونکہ الٰہی محبت تمام انسانوں کے لئے ہر لمحہ سب کچھ مہیا کرتی ہے۔

15. 494 : 10-14

Divine Love always has met and always will meet every human need. It is not well to imagine that Jesus demonstrated the divine power to heal only for a select number or for a limited period of time, since to all mankind and in every hour, divine Love supplies all good.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████