اتوار 15 نومبر، 2020 |

اتوار 15 نومبر، 2020 



مضمون۔ فانی اور لافانی

SubjectMortals and Immortals

سنہری متن: یوحنا 12باب50 آیت

”اور مَیں جانتا ہوں اْس کا حکم ہمیشہ کی زندگی ہے۔ پس جو کچھ مَیں کہتا ہوں جس طرح باپ نے مجھ سے فرمایا ہے اْسی طرح کہتا ہوں۔“



Golden Text: John 12 : 50

I know that his commandment is life everlasting: whatsoever I speak therefore, even as the Father said unto me, so I speak.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: 1 کرنتھیوں 15 باب50 تا54 آیات


50۔اے بھائیو! میرا مطلب یہ ہے کہ گوشت اور خون خدا کی بادشاہی کے وارث نہیں ہو سکتے اور نہ فنا بقا کی وارث ہو سکتی ہے۔

51۔ دیکھو مَیں تم سے بھید کی بات کہتا ہوں۔ہم سب تو نہیں سوئیں گے مگر سب بدل جائیں گے۔

52۔اور یہ ایک دم میں۔ ایک پل میں۔ پچھلا نرسنگا پھونکتے ہی ہوگا کیونکہ نرسنگا پھونکا جائے گا اور مردے غیر فانی حالت میں اٹھیں گے اور ہم بدل جائیں گے۔

53۔ کیونکہ ضرور ہے کہ یہ فانی جسم بقا کا جامہ پہنے اور یہ مرنے والا جسم حیاتِ ابدی کا جامہ پہنے۔

54۔ اور جب یہ فانی جسم بقا کا جامہ پہن چکے گا اور یہ مرنے والا جسم حیاتِ ابدی کا جامہ پہن چکے گا تو وہ قول پورا ہوگا جو لکھا ہے کہ موت فتح کا لقمہ ہوگئی۔

Responsive Reading: I Corinthians 15 : 50-54

50.     Now this I say, brethren, that flesh and blood cannot inherit the kingdom of God; neither doth corruption inherit incorruption.

51.     Behold, I shew you a mystery; We shall not all sleep, but we shall all be changed,

52.     In a moment, in the twinkling of an eye, at the last trump: for the trumpet shall sound, and the dead shall be raised incorruptible, and we shall be changed.

53.     For this corruptible must put on incorruption, and this mortal must put on immortality.

54.     So when this corruptible shall have put on incorruption, and this mortal shall have put on immortality, then shall be brought to pass the saying that is written, Death is swallowed up in victory.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ امثال 3باب5، 8 آیات

5۔ سارے دل سے خداوند پر توکل کر اور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر۔

8۔ یہ تیری ناف کی صحت اور تیری ہڈیوں کی تازگی ہوگی۔

1. Proverbs 3 : 5, 8

5     Trust in the Lord with all thine heart; and lean not unto thine own understanding.

8     It shall be health to thy navel, and marrow to thy bones.

2۔ زبور 125:1، 2 آیات

1۔جو خداوند پر توکل کرتے ہیں وہ کوہِ صیہون کی مانند ہیں جو اٹل بلکہ ہمیشہ قائم ہیں۔

2۔ جیسے یروشلیم پہاڑوں سے گھِرا ہے ویسے ہی اب سے ابد تک خداوند اپنے لوگوں کو گھیرے رہے گا۔

2. Psalm 125 : 1, 2

1     They that trust in the Lord shall be as mount Zion, which cannot be removed, but abideth for ever.

2     As the mountains are round about Jerusalem, so the Lord is round about his people from henceforth even for ever.

3۔ زبور 40: 1تا3 آیات

1۔ مَیں نے صبر سے خداوند پر آس رکھی۔ اْس نے میری طرف مائل ہو کر میری فریاد سنی۔

2۔ اْس نے مجھے ہولناک گھڑے اور دلدل کی کیچڑ میں سے نکالا اور اْس نے میرے پاؤں چٹان پر رکھے اور میری روش قائم کی۔

3۔ اْس نے ہمارے خداوند کی ستائش کا نیا گیت میرے منہ میں ڈالا۔ بہتیرے دیکھیں اور ڈریں گے اور خداوند پر توکل کریں گے۔

3. Psalm 40 : 1-3

1     I waited patiently for the Lord; and he inclined unto me, and heard my cry.

2     He brought me up also out of an horrible pit, out of the miry clay, and set my feet upon a rock, and established my goings.

3     And he hath put a new song in my mouth, even praise unto our God: many shall see it, and fear, and shall trust in the Lord.

4۔ خروج 20باب1، 2، 7 (تا؛) آیات

1۔ اور خدا نے یہ سب باتیں اْن کو بتائیں۔

2۔ خداوند تیرا خدا جو تجھے ملک مصر سے غلامی کے گھر سے نکال لایا مَیں ہوں۔

7۔تْو خداوند اپنے خدا کا نام بے فائدہ نہ لینا۔

4. Exodus 20 : 1, 2, 7 (to ;)

1     And God spake all these words, saying,

2     I am the Lord thy God, which have brought thee out of the land of Egypt, out of the house of bondage.

7     Thou shalt not take the name of the Lord thy God in vain;

5۔ متی 3باب16،17 آیات

16۔ اور یسوع بپتسمہ لے کر فی الفور پانی کے پاس سے اوپر گیا اور دیکھو اْس کے لئے آسمان کھل گیا اور اْس نے خدا کے روح کو کبوتر کی مانند اْترتے اور اپنے اوپر آتے دیکھا۔

17۔ اور دیکھو آسمان سے یہ آواز آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس مَیں خوش ہوں۔

5. Matthew 3 : 16, 17

16     And Jesus, when he was baptized, went up straightway out of the water: and, lo, the heavens were opened unto him, and he saw the Spirit of God descending like a dove, and lighting upon him:

17     And lo a voice from heaven, saying, This is my beloved Son, in whom I am well pleased.

6۔ متی 4 باب1تا4 آیات

1۔ اْس وقت روح یسوع کو جنگل میں لے گیا تاکہ ابلیس سے آزمایا جائے۔

2۔ اور چالیس دن اور چالیس رات فاقہ کر کے آخر کو اْسے بھوک لگی۔

3۔ اور آزمانے والے نے پاس آکر اْس سے کہا اگر تْو خدا کا بیٹا ہے تو فرما کہ یہ پتھر روٹیاں بن جائیں۔

4۔ اْس نے جواب میں کہا کہ آدمی صرف روٹی ہی سے جیتا نہ رہے گا بلکہ ہر بات سے جو خدا کے منہ سے نکلتی ہے۔

6. Matthew 4 : 1-4

1     Then was Jesus led up of the Spirit into the wilderness to be tempted of the devil.

2     And when he had fasted forty days and forty nights, he was afterward an hungred.

3     And when the tempter came to him, he said, If thou be the Son of God, command that these stones be made bread.

4     But he answered and said, It is written, Man shall not live by bread alone, but by every word that proceedeth out of the mouth of God.

7۔ یوحنا 6باب22(تا دوسرا،)، 24 (وہ) تا 38، 40 (تا:) آیات

22۔ دوسرے دن اْس بھیڑ نے جو جھیل کے پار کھڑی تھی دیکھا کہ یہاں ایک کے سوا کوئی اور چھوٹی کشتی نہ تھی۔

24۔۔۔۔وہ خود چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر یسوع کی تلاش میں کفر نحوم کو آئے۔

25۔ اور جھیل کے پار اْس سے مل کر کہا اے ربی! تْو یہاں کب آیا؟

26۔ یسوع نے اْن کے جواب میں کہا مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تم مجھے اِس لئے نہیں ڈھونڈتے کہ معجزے دیکھے بلکہ اِس لئے کہ روٹیاں کھا کر سیر ہوئے۔

27۔ فانی خوراک کے لئے محنت نہ کرو اْس خوراک کے لئے جو ہمیشہ کی زندگی تک برقرار رہتی ہے جِسے ابنِ آدم تمہیں دے گا کیونکہ باپ یعنی خدا نے اْسی پر مہر کی ہے۔

28۔ پس اْنہوں نے اْس سے کہا ہم کیا کریں تاکہ خدا کے کام انجام دیں؟

29۔ یسوع نے جواب میں اْن سے کہا کہ خدا کا کام یہ ہے کہ جسے اْس نے بھیجا ہے اْس پر ایمان لاؤ۔

30۔ پس اْنہوں نے اْس سے کہا پھر تْو کون سا نشان دکھاتا ہے تاکہ ہم دیکھ کر تیرا یقین کریں؟ تْو کون سا کام کرتا ہے؟

31۔ ہمارے باپ دادا نے بیابان میں من کھایا۔ چنانچہ لکھا ہے کہ اْس نے انہیں کھانے کے لئے آسمان سے روٹی دی۔

32۔ یسوع نے اْن سے کہا مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ موسیٰ نے تو وہ روٹی تمہیں آسمان سے نہ دی لیکن میرا باپ آسمان سے تمہیں حقیقی روٹی دیتا ہے۔

33۔ کیونکہ خداوند کی روٹی وہ ہے جو آسمان سے اْتر کر دنیا کو زندگی بخشتی ہے۔

34۔ انہوں نے اْس سے کہا اے خداوند! یہ روٹی ہم کو ہمیشہ دیا کر۔

35۔ یسوع نے اْن سے کہا زندگی کی روٹی مَیں ہوں۔ جو میرے پاس آئے وہ ہر گز بھوکا نہ ہوگا اور جو مجھ پر ایمان لائے وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا۔

36۔ لیکن مَیں نے تم سے کہا تم نے مجھے دیکھ لیا ہے پھر بھی ایمان نہیں لاتے۔

37۔ جو کچھ باپ مجھے دیتاہے میرے پاس آجائے گا اور جو کوئی میرے پاس آئے گا اْسے مَیں ہر گز نکال نہ دوں گا۔

38۔ کیونکہ مَیں آسمان سے اِس لئے نہیں اْترا ہوں کہ اپنی مرضی کے موافق عمل کرو ں بلکہ اِس لئے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے موافق عمل کروں۔

40۔ کیونکہ میرے باپ کی مرضی یہ ہے کہ جو کوئی بیٹے کو دیکھے اور اْس پر ایمان لائے ہمیشہ کی زندگی پائے۔

7. John 6 : 22 (to 2nd ,), 24 (they)-38, 40 (to :)

22     The day following, when the people which stood on the other side of the sea saw that there was none other boat there,

24     …they also took shipping, and came to Capernaum, seeking for Jesus.

25     And when they had found him on the other side of the sea, they said unto him, Rabbi, when camest thou hither?

26     Jesus answered them and said, Verily, verily, I say unto you, Ye seek me, not because ye saw the miracles, but because ye did eat of the loaves, and were filled.

27     Labour not for the meat which perisheth, but for that meat which endureth unto everlasting life, which the Son of man shall give unto you: for him hath God the Father sealed.

28     Then said they unto him, What shall we do, that we might work the works of God?

29     Jesus answered and said unto them, This is the work of God, that ye believe on him whom he hath sent.

30     They said therefore unto him, What sign shewest thou then, that we may see, and believe thee? what dost thou work?

31     Our fathers did eat manna in the desert; as it is written, He gave them bread from heaven to eat.

32     Then Jesus said unto them, Verily, verily, I say unto you, Moses gave you not that bread from heaven; but my Father giveth you the true bread from heaven.

33     For the bread of God is he which cometh down from heaven, and giveth life unto the world.

34     Then said they unto him, Lord, evermore give us this bread.

35     And Jesus said unto them, I am the bread of life: he that cometh to me shall never hunger; and he that believeth on me shall never thirst.

36     But I said unto you, That ye also have seen me, and believe not.

37     All that the Father giveth me shall come to me; and him that cometh to me I will in no wise cast out.

38     For I came down from heaven, not to do mine own will, but the will of him that sent me.

40     And this is the will of him that sent me, that every one which seeth the Son, and believeth on him, may have everlasting life:

8۔ 2کرنتھیوں 5باب1، 4تا8 آیات

1۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جب ہمارے خیمہ کا گھر جو زمین پر ہے گرایا جائے گا تو ہم کو خدا کی طرف سے آسمان پر ایک ایسی عمارت ملے گی جو ہاتھ کا بنا ہوا گھر نہیں بلکہ ابدی ہے۔

4۔ کیونکہ ہم اِس خیمہ میں رہ کر بوجھ کے مارے کراہتے ہیں۔ اِس لئے نہیں کہ یہ لباس اْتارنا چاہتے ہیں بلکہ اِس پر اور پہننا چاہتے ہیں تاکہ وہ جو فانی ہے زندگی میں غرق ہوجائے۔

5۔ اور جس نے ہم کو اِس بات کے لئے تیار کیا وہ خدا ہے اور اْسی نے ہم کو روح بیعانہ میں دیا ہے۔

6۔ پس ہمیشہ ہماری خاطر جمع رہتی ہے اور یہ جانتے ہیں کہ جب تک ہم بدن کے وطن میں ہیں خداوند کے ہاں سے جلاوطن ہیں۔

7۔ کیونکہ ہم ایمان پر چلتے ہیں نہ کہ آنکھوں دیکھے پر۔

8۔ غرض ہماری خاطر جمع ہے اور ہم کو بدن کے وطن سے جدا ہو کر خداوند کے وطن میں رہنا زیادہ منظور ہے۔

8. II Corinthians 5 : 1, 4-8

1     For we know that if our earthly house of this tabernacle were dissolved, we have a building of God, an house not made with hands, eternal in the heavens.

4     For we that are in this tabernacle do groan, being burdened: not for that we would be unclothed, but clothed upon, that mortality might be swallowed up of life.

5     Now he that hath wrought us for the selfsame thing is God, who also hath given unto us the earnest of the Spirit.

6     Therefore we are always confident, knowing that, whilst we are at home in the body, we are absent from the Lord:

7     (For we walk by faith, not by sight:)

8     We are confident, I say, and willing rather to be absent from the body, and to be present with the Lord.

9۔ 1پطرس 1 باب16 (یہ)، 22تا25 (تا پہلا) آیات

16۔۔۔۔لکھا ہے کہ پاک ہو اِس لئے کہ مَیں پاک ہوں۔

22۔ چونکہ تم نے حق کی تابعداری سے اپنے دلوں کو پاک کیا ہے جس سے بھائیوں کی بے ریا محبت پیدا ہوئی اِس لئے دل و جان سے آپس میں بہت زیادہ محبت رکھو۔

23۔ کیونکہ تم فانی تخم سے نہیں بلکہ غیر فانی سے خدا کے کلام کے وسیلہ سے جو زندہ اور قائم ہے نئے سرے سے پیدا ہوئے ہو۔

24۔ چنانچہ ہر بشر گھاس کی مانند ہے اور اْس کی ساری شان و شوکت گھاس کے پھول کی مانند۔ گھاس تو سوکھ جاتی ہے اور پھول گرجاتا ہے۔

25۔ لیکن خداوند کا کلام ابد تک قائم رہے گا۔

9. I Peter 1 : 16 (it), 22-25 (to 1st .)

16     …it is written, Be ye holy; for I am holy.

22     Seeing ye have purified your souls in obeying the truth through the Spirit unto unfeigned love of the brethren, see that ye love one another with a pure heart fervently:

23     Being born again, not of corruptible seed, but of incorruptible, by the word of God, which liveth and abideth for ever.

24     For all flesh is as grass, and all the glory of man as the flower of grass. The grass withereth, and the flower thereof falleth away:

25     But the word of the Lord endureth for ever.

10۔ 1یوحنا 2 باب15تا17 آیات

15۔ نہ دنیا سے محبت رکھو نہ اْن چیزوں سے جو دنیا میں ہیں۔جو کوئی دنیا سے محبت رکھتا ہے اْس میں باپ کی محبت نہیں۔

16۔ کیونکہ جو کچھ دنیا میں ہے یعنی جسم کی خواہش اور آنکھوں کی خواہش اور زندگی کی شیخی وہ باپ کی طرف سے نہیں بلکہ دنیا کی طرف سے ہے۔

17۔ دنیا اوراْس کی خواہشیں دونوں مٹتی جاتی ہیں لیکن جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے وہ ابد تک قائم رہے گا۔

10. I John 2 : 15-17

15     Love not the world, neither the things that are in the world. If any man love the world, the love of the Father is not in him.

16     For all that is in the world, the lust of the flesh, and the lust of the eyes, and the pride of life, is not of the Father, but is of the world.

17     And the world passeth away, and the lust thereof: but he that doeth the will of God abideth for ever.



سائنس اور صح


1۔ 76 :20 (انسان ہے)۔21

۔۔۔ انسان لافانی ہے اور الٰہی اختیار کے وسیلہ جیتا ہے۔

1. 76 : 20 (man is)-21

…man is immortal and lives by divine authority.

2۔ 81 :17۔18، 28۔30

جیسا کہ سائنس میں ظاہر کیا گیا ہے انسان خدا کی صورت پر ہوتے ہوئے لافانی ہونے سے انکار نہیں کر سکتا۔۔۔سائنس میں، انسان کی لافانیت خدا، یعنی اچھائی پر منحصر ہے اور یہ اچھائی کی لافانیت کے لازمی نتیجہ کے طور پر پیروی کرتی ہے۔

2. 81 : 17-18, 28-30

Man in the likeness of God as revealed in Science cannot help being immortal.… In Science, man's immortality depends upon that of God, good, and follows as a necessary consequence of the immortality of good.

3۔ 209 :1۔9

غیر فانی ہوتے ہوئے انسان ایک لازوال زندگی رکھتا ہے۔یہ فانی عقیدہ ہی ہے جو جسم کو ناموافقت اور بیماری کے تناسب میں بناتا ہے جیسا کہ جہالت، خوف یا انسان فانیوں پر حکمرانی کرے گا۔

عقل، اپنی تمام تر اصلاحات پر برتر اور اِن سب پر حکمرانی کرنے والی، اپنے خود کے خیالات کے نظاموں کا ایک مرکزی شمس ہے، یعنی اپنی خود کی وسیع تخلیق کی روشنی اور زندگی؛ اور انسان الٰہی عقل کا معاون ہے۔مادہ اور فانی بدن یا عقل انسان نہیں ہے۔

3. 209 : 1-9

Man, being immortal, has a perfect indestructible life. It is the mortal belief which makes the body discordant and diseased in proportion as ignorance, fear, or human will governs mortals.

Mind, supreme over all its formations and governing them all, is the central sun of its own systems of ideas, the life and light of all its own vast creation; and man is tributary to divine Mind. The material and mortal body or mind is not the man.

4۔ 214 :19۔25

انسانوں کو اْس چیز سے ڈرنے اور پیروی کرنے کی طرف مائل کیا جاتا ہے جسے وہ روحانی خدا کی نسبت زیادہ مادی جسم تصور کرتے ہیں۔ تمام تر مادی علم، ابتدائی ”پہچان کے درخت“ کی مانند، اْس کی تکالیف کو بڑھاتا ہے، کیونکہ فانی دھوکے بازیاں خدا کو دھوکہ دیں گی، انسان کو قتل کریں گی، اور اِس دوران اْن کی میز کو آدم خوری کے لقموں سے بھر دیں گی اور شکر ادا کریں گی۔

4. 214 : 19-25

Mortals are inclined to fear and to obey what they consider a material body more than they do a spiritual God. All material knowledge, like the original "tree of knowledge," multiplies their pains, for mortal illusions would rob God, slay man, and meanwhile would spread their table with cannibal tidbits and give thanks.

5۔ 215 :8۔10

بشر وجودیت کی حقیقت سے نا آشنا ہیں، کیونکہ مادہ اور فانیت روح کے حقائق کی عکاسی نہیں کرتے۔

5. 215 : 8-10

Mortals are unacquainted with the reality of existence, because matter and mortality do not reflect the facts of Spirit.

6۔ 476 :13۔17، 23۔32

فانی بشر خدا کے گرائے گئے فرزند نہیں ہیں۔ وہ کبھی بھی ہستی کی کامل حالت میں نہیں تھے، جسے بعد ازیں دوبارہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔فانی تاریخ کے آغاز سے انہوں نے ”بدی میں حالت پکڑی اور گناہ کی حالت میں ماں کے پیٹ میں پڑے۔“

یادرکھیں کہ کلامِ پاک فانی انسان سے متعلق کہتا ہے: ”انسان کی عمر تو گھاس کی مانند ہے۔ وہ جنگلی پھول کی طرح کھلتا ہے۔ کہ ہوا اْس پر چلی اور وہ نہیں اور اْس کی جگہ اْسے پھر نہ دیکھے گی۔“

خدا کے لوگوں سے متعلق، نہ کہ انسان کے بچوں سے متعلق، بات کرتے ہوئے یسوع نے کہا، ”خدا کی بادشاہی تمہارے درمیان ہے؛“ یعنی سچائی اور محبت حقیقی انسان پر سلطنت کرتی ہے، یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ انسان خدا کی صورت پر بے گناہ اور ابدی ہے۔

6. 476 : 13-17, 23-32

Mortals are not fallen children of God. They never had a perfect state of being, which may subsequently be regained. They were, from the beginning of mortal history, "conceived in sin and brought forth in iniquity."

Remember that the Scriptures say of mortal man: "As for man, his days are as grass: as a flower of the field, so he flourisheth. For the wind passeth over it, and it is gone; and the place thereof shall know it no more."

When speaking of God's children, not the children of men, Jesus said, "The kingdom of God is within you;" that is, Truth and Love reign in the real man, showing that man in God's image is unfallen and eternal.

7۔ 295 :11۔24

فانی لوگ غیر فانیوں کی مانند خدا کی صورت پر پیدا نہیں کئے گئے، بلکہ لامحدود روحانی ہستی کی مانند فانی ضمیر بالا آخر سائنسی حقیقت کو تسلیم کرے گا اور غائب ہو جائے گا،اور ہستی کا،کامل اور ہمیشہ سے برقرار حقیقی فہم سامنے آئے گا۔

انسان کے وسیلہ خدا کا اظہار ایسے ہی ہے جیسے روشنی کھڑکی کے شیشے میں سے گزرتی ہے۔روشنی اور شیشہ کبھی باہم نہیں ملتے، مگر مادے کی طرح، شیشہ دیوار کی نسبت کم مبہم ہوتا ہے۔وہ فانی عقل جس میں سے سچائی واضح طور پر سامنے آتی ہے وہ ہے جو زیادہ مادیت، زیادہ غلطی کھو چکا ہے تاکہ سچائی کے لئے بہترشفافیت بن سکے۔ پھر، ایک بادل کے باریک قطرے کی صورت پگھلنے کی مانند، یہ سورج کو مزید نہیں چھپاتا۔

7. 295 : 11-24

Mortals are not like immortals, created in God's own image; but infinite Spirit being all, mortal consciousness will at last yield to the scientific fact and disappear, and the real sense of being, perfect and forever intact, will appear.

The manifestation of God through mortals is as light passing through the window-pane. The light and the glass never mingle, but as matter, the glass is less opaque than the walls. The mortal mind through which Truth appears most vividly is that one which has lost much materiality — much error — in order to become a better transparency for Truth. Then, like a cloud melting into thin vapor, it no longer hides the sun.

8۔ 260 :28۔7

اگر ہم خیالات کو فانی پوشاک میں ترتیب دیتے ہیں تو یہ لافانی فطرت کو ضرور کھو دیتے ہیں۔

اگر ہم بدن کو لذت کے لئے دیکھتے ہیں تو ہم درد پاتے ہیں، زندگی کے لئے دیکھتے ہیں تو ہم موت پاتے ہیں، سچائی کے لئے دیکھتے ہیں تو ہم غلطی پاتے ہیں، روح کے لئے دیکھتے ہیں تو ہم اس کے مخالف، مادے، کو پاتے ہیں۔ اب اِس عمل کو الٹا کریں۔ بدن سے ہٹ کر سچائی اور محبت، ساری خوشی، ہم آہنگی اور لافانیت کے اصول کو دیکھیں۔ برداشت، اچھائی اور سچائی کو مضبوطی سے تھام لیں تو آپ انہیں اپنے خیالات کے قبضے کے تناسب سے انہیں اپنے تجربات میں لائیں گے۔

8. 260 : 28-7

If we array thought in mortal vestures, it must lose its immortal nature.

If we look to the body for pleasure, we find pain; for Life, we find death; for Truth, we find error; for Spirit, we find its opposite, matter. Now reverse this action. Look away from the body into Truth and Love, the Principle of all happiness, harmony, and immortality. Hold thought steadfastly to the enduring, the good, and the true, and you will bring these into your experience proportionably to their occupancy of your thoughts.

9۔ 289 :14۔20

یہ حقیقت کہ مسیح، یا سچائی نے موت پر فتح پائی یا ابھی بھی فتح پاتا ہے،”دہشت کے بادشاہ“ کو محض ایک فانی عقیدے یا غلطی کے علاوہ کچھ بھی ثابت نہیں کرتی، جسے سچائی زندگی کی روحانی شہادتوں کے ساتھ تباہ کرتی ہے؛ اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ حواس کو جو موت دکھائی دیتی ہے فانی فریب نظری کے سوا کچھ نہیں، کیونکہ حقیقی انسان اور حقیقی کائنات کے لئے کوئی موت کا عمل نہیں۔

9. 289 : 14-20

The fact that the Christ, or Truth, overcame and still overcomes death proves the "king of terrors" to be but a mortal belief, or error, which Truth destroys with the spiritual evidences of Life; and this shows that what appears to the senses to be death is but a mortal illusion, for to the real man and the real universe there is no death-process.

10۔ 215 :22۔24

اِس لئے الٰہی ثبوت کے ساتھ، سائنس مادی فہم کے ثبوت کو اْلٹا دیتی ہے۔ فانیت کی ہر خوبی اور شرط لافانیت میں کھو جاتی، ہڑپ کر لی جاتی ہے۔

10. 215 : 22-24

With its divine proof, Science reverses the evidence of material sense. Every quality and condition of mortality is lost, swallowed up in immortality.

11۔ 216 :11۔21، 28۔1

یہ فہم کہ انا عقل ہے، اور یہ کہ ماسوائے ایک عقل یا ذہانت کے اور کچھ نہیں، فانی حس کی غلطیوں کو تباہ کرنے اور فانی حس کی سچائی کی فراہمی کے لئے ایک دم شروع ہو جاتا ہے۔یہ فہم بدن کو ہم آہنگ بناتا ہے؛ یہ ا عصاب، ہڈیوں، دماغ وغیرہ کو غلام بناتا ہے نہ کہ مالک بناتا ہے۔ اگر انسان پر الٰہی عقل کے قانون کی حکمرانی ہوتی ہے، تو اْس کا بدن ہمیشہ کی زندگی اور سچائی اور محبت کے سپرد ہے۔ بشر کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ انسان، یعنی خدا کی شبیہ اور صورت، کو مادہ اور روح، اچھائی اور بدی دونوں فرض کرتا ہے۔

جب آپ کہتے ہیں کہ ”انسان کا بدن مادی“ ہے تو مَیں پولوس کے ساتھ کہتا ہوں: ”بدن کے وطن سے جدا ہو کر خداوند کے وطن میں رہنا زیادہ منظور ہے۔“عقل میں مادے پر اپنے فانی عقیدے کو ترک کردیں، اور صرف ایک عقل یعنی خدا کو اپنائیں؛ کیونکہ یہ عقل اپنی خود کی شبیہ بناتی ہے۔

11. 216 : 11-21, 28-1

The understanding that the Ego is Mind, and that there is but one Mind or intelligence, begins at once to destroy the errors of mortal sense and to supply the truth of immortal sense. This understanding makes the body harmonious; it makes the nerves, bones, brain, etc., servants, instead of masters. If man is governed by the law of divine Mind, his body is in submission to everlasting Life and Truth and Love. The great mistake of mortals is to suppose that man, God's image and likeness, is both matter and Spirit, both good and evil.

When you say, "Man's body is material," I say with Paul: Be "willing rather to be absent from the body, and to be present with the Lord." Give up your material belief of mind in matter, and have but one Mind, even God; for this Mind forms its own likeness.

12۔ 487 :27۔29

زندگی کی لازوال حقیقت، اس کی قدرت اور لافانیت پر ہمارے بھروسے کو مضبوط کرتے ہوئے یہ فہم کہ خدا، روح، زندگی ہے ہمارے ایام کو دراز کرتا ہے۔

12. 487 : 27-29

The understanding that Life is God, Spirit, lengthens our days by strengthening our trust in the deathless reality of Life, its almightiness and immortality.

13۔ 428 :6۔29

اس مقتدر لمحے میں انسان کی ترجیح اپنے مالک کے ان الفاظ کو ثابت کرنا ہے: ”اگر کوئی شخص میرے کلام پر عمل کرے گا تو ابد تک کبھی موت کو نہ دیکھے گا۔“ جھوٹے بھروسوں اور مادی ثبوتوں کے خیالات کو ختم کرنے کے لئے، تاکہ شخصی روحانی حقائق سامنے آئیں، یہ ایک بہت بڑا حصول ہے جس کی بدولت ہم غلط کو تلف کریں گے اور سچائی کو جگہ فراہم کریں گے۔ یوں ہم سچائی کی وہ ہیکل یا بدن تعمیر کرتے ہیں، ”جس کا معمار اور بنانے والا خدا ہے“۔

ہمیں وجودیت کو ”گمنام خدا کے لئے“ مخصوص نہیں کرنا چاہئے جس کی ہم ”لاعلمی سے عبادت“ کرتے ہیں، بلکہ ابدی معمار، ابدی باپ، اور اْس زندگی کے لئے کرنی چاہئے جسے فانی فہم بگاڑ نہیں سکتا نہ ہی فانی عقیدہ نیست کر سکتا ہے۔انسانی غلط فہمیوں کی تلافی کر نے کے لئے اور اْس زندگی کے ساتھ اْن کا تبادلہ کرنے کے لئے جو روحانی ہے نہ کہ مادی ہمیں ذہنی طاقت کی قابلیت کا ادراک ہونا چاہئے۔

ایک بڑی روحانی حقیقت سامنے لائی جانی چاہئے کہ انسان کامل اور لافانی ہوگا نہیں بلکہ ہے۔ ہمیں وجودیت کے شعور کو ہمیشہ قائم رکھنا چاہئے اور جلد یا بدیر، مسیح اور کرسچن سائنس کے وسیلہ گناہ اور موت پر حاکم ہونا چاہئے۔ جب مادی عقائد کو ترک کیا جاتا ہے اورہستی کے غیر فانی حقائق کو قبول کر لیا جاتا ہے تو انسان کی لافانیت کی شہادت مزید واضح ہو جائے گی۔

13. 428 : 6-29

Man's privilege at this supreme moment is to prove the words of our Master: "If a man keep my saying, he shall never see death." To divest thought of false trusts and material evidences in order that the spiritual facts of being may appear, — this is the great attainment by means of which we shall sweep away the false and give place to the true. Thus we may establish in truth the temple, or body, "whose builder and maker is God."

We should consecrate existence, not "to the unknown God" whom we "ignorantly worship," but to the eternal builder, the everlasting Father, to the Life which mortal sense cannot impair nor mortal belief destroy. We must realize the ability of mental might to offset human misconceptions and to replace them with the life which is spiritual, not material.

The great spiritual fact must be brought out that man is, not shall be, perfect and immortal. We must hold forever the consciousness of existence, and sooner or later, through Christ and Christian Science, we must master sin and death. The evidence of man's immortality will become more apparent, as material beliefs are given up and the immortal facts of being are admitted.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████