اتوار 16 جون ، 2019 |

اتوار 16 جون ، 2019



مضمون۔ خدا محافظِ انسان

SubjectGod the Preserver of Man

سنہری متن:سنہری متن: زبور 16:1آیت

’’’اے خدا! میری حفاظت کر کیونکہ میں تجھ ہی میں پناہ لیتا ہوں۔‘‘



Golden Text: Psalm 16: 1

Preserve me, O God: for in thee do I put my trust.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور 119: 48تا52آیات


48۔ مَیں اپنے ہاتھ تیرے فرمان کی طرف جو مجھے عزیز ہے اٹھاؤں گا اورتیرے آئین پر دھیان کروں گا۔

49۔جو کلام تْو نے اپنے بندہ سے کیا اْسے یاد کر کیونکہ تْو نے مجھے امید دلائی ہے۔

50۔ میری مصیبت میں یہی میری تسلی ہے کہ تیرے کلا م نے مجھے زندہ کیا۔

51۔ مغروروں نے مجھے بہت ٹھٹھوں میں اڑایا۔ تو بھی میں نے تیری شریعت سے کنارہ نہیں کیا۔

52۔ اے خداوند! میں تیرے قدیم احکام کو یاد کرتا اور اطمینان پاتا رہوں گا۔

Responsive Reading: Psalm 119 : 48-52

48.     My hands also will I lift up unto thy commandments, which I have loved; and I will meditate in thy statutes.

49.     Remember the word unto thy servant, upon which thou hast caused me to hope.

50.     This is my comfort in my affliction: for thy word hath quickened me.

51.     The proud have had me greatly in derision: yet have I not declined from thy law.

52.     I remembered thy judgments of old, O Lord; and have comforted myself.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ یسعیاہ 40باب28تا31آیات

28۔ کیا تو نہیں جانتا؟ کیا تو نے نہیں سنا کہ خداوند خدایِ ابدی و تمام زمین کا خالق تھکتا نہیں اور ماندہ نہیں ہوتا؟ اسکی حکمت ادراک سے باہر ہے۔

29۔ وہ تھکے ہوئے کو زوربخشتا ہے اورناتوان کی توانائی کو زیادہ کرتا ہے۔

30۔ نوجوان بھی تھک جائیں گے اور ماندہ ہوں گے اور سورما بالکل گر پڑیں گے۔

31۔لیکن خداوند کا انتظار کرنے والے ازسر نو زور حاصل کریں گے۔ وہ عقابوں کی مانند بال و پر سے اڑیں گے وہ دوڑیں گے اور نہ تھکیں گے۔ وہ چلیں گے اورماندہ نہ ہونگے۔

1. Isaiah 40 : 28-31

28     Hast thou not known? hast thou not heard, that the everlasting God, the Lord, the Creator of the ends of the earth, fainteth not, neither is weary? there is no searching of his understanding.

29     He giveth power to the faint; and to them that have no might he increaseth strength.

30     Even the youths shall faint and be weary, and the young men shall utterly fall:

31     But they that wait upon the Lord shall renew their strength; they shall mount up with wings as eagles; they shall run, and not be weary; and they shall walk, and not faint.

2۔ زبور 140: 1، 4، 6 آیات

1۔اے خداوند! مجھے برے آدمی سے رہائی بخش۔ مجھے تند خو آدمی سے محفوظ رکھ۔

4۔ اے خداوند! مجھے شریر کے ہاتھ سے بچا۔ مجھے تند خو آدمی سے محفوظ رکھ۔

6۔ میں نے خداوند سے کہا میرا خدا تو ہی ہے۔ اے خداوند میری التجا کی آواز پر کان لگا۔

2. Psalm 140 : 1, 4, 6

1     Deliver me, O Lord, from the evil man: preserve me from the violent man;

4     Keep me, O Lord, from the hands of the wicked; preserve me from the violent man; who have purposed to overthrow my goings.

6     I said unto the Lord, Thou art my God: hear the voice of my supplications, O Lord.

3۔ 1سیموئیل 19باب1تا12آیات

1۔ اور ساؤل نے اپنے بیٹے یونتن اور اپنے سب خادموں سے کہا کہ داؤد کو مار ڈالو۔

2۔ لیکن ساؤل کا بیٹا یونتن داؤد سے بہت خُوش تھا۔ سو یُونتن نے داؤد سے کہا میرا باپ تیرے قتل کی فکر میں ہے اس لئے تو صبح کو اپنا خیال کرکھنا اور کسی پوشیدہ جگہ میں چھپے رہنا۔

3۔ اور میں باہر جا کر اس میدان میں جہاں تو ہوگا اپنے باپ کے پاس کھڑا ہونگا اور اپنے باپ سے تیری بابت گفتگو کرونگا اور اگر مجھے کچھ معلوم ہو جائے تو تجھے بتا دونگا۔

4۔ اور یونتن نے اپنے باپ ساؤل سے داؤد کی تعریف کی اور کہا کہ بادشاہ اپنے خادم داؤد سے بدی نہ کرے کیونکہ اس نے تیرا کچھ گناہ نہیں کیا بلکہ تیرے لئے اسکے کام بہت اچھے رہے ہیں۔

5۔کیونکہ اس نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھی اور اس فلستی کو قتل کیا اور خداوند نے سب اسرائیلیوں کے لئے بڑی فتح کرائی۔ تو نے یہ دیکھا اور خوش ہوا۔ پس تو کس لئے داؤد کو بے سبب قتل کرکے بے گناہ کے خون کا مجرم بننا چاہتا ہے؟

6۔ اور ساؤل نے یونتن کی بات سنی اور ساؤل نے قسم کھا کر کہا کہ خداوند کی حیات کی قسم ہے وہ مارا نہیں جائے گا۔

7۔ اور یونتن نے داؤد کو بلایا اور اس نے وہ سب باتیں اسکو بتا ئیں اور یونتن داؤد کو ساؤل کے پاس لایا اور وہ پہلے کی طرح اْس کے پاس رہنے لگا۔

8۔ اور پھر جنگ ہوئی اور داؤد نکلا اور فلستیوں سے لڑا اور بڑی خونریزی کے ساتھ انکو قتل کیا اور وہ اسکے سامنے سے بھاگے۔

9۔ اور خداوند کی طرف سے ایک بری روح ساؤل پر جب وہ اپنے گھر میں اپنا بھالا اپنے ہاتھ میں لئے بیٹھا تھا چڑھی اور داؤد ہاتھ سے بجا رہا تھا۔

10۔ اور ساؤل نے چاہا کہ داؤد کو دیوار کے ساتھ بھالے سے چھیددسے پر وہ ساؤل کے آگے سے ہٹ گیا اور بھالا دیوار میں جا گھسا اور داؤد بھاگا اور اْس رات بچ گیا۔

11۔ اور ساؤل نے داؤد کے گھر پر قاصد بھیجے کہ اسکی تاک میں رہیں اور صبح کو اسے مار ڈالیں۔ سو داؤد کی بیوی میکل نے اس سے کہا اگر آج کی رات تو اپنی جان نہ بچائے تو کل مارا جائے گا۔

12۔ اور میکل نے داؤد کو کھڑکی سے اتار دیا۔ سو وہ چل دیا اور بھاگ کر بچ گیا۔

3. I Samuel 19 : 1-12

1     And Saul spake to Jonathan his son, and to all his servants, that they should kill David.

2     But Jonathan Saul’s son delighted much in David: and Jonathan told David, saying, Saul my father seeketh to kill thee: now therefore, I pray thee, take heed to thyself until the morning, and abide in a secret place, and hide thyself:

3     And I will go out and stand beside my father in the field where thou art, and I will commune with my father of thee; and what I see, that I will tell thee.

4     And Jonathan spake good of David unto Saul his father, and said unto him, Let not the king sin against his servant, against David; because he hath not sinned against thee, and because his works have been to thee-ward very good:

5     For he did put his life in his hand, and slew the Philistine, and the Lord wrought a great salvation for all Israel: thou sawest it, and didst rejoice: wherefore then wilt thou sin against innocent blood, to slay David without a cause?

6     And Saul hearkened unto the voice of Jonathan: and Saul sware, As the Lord liveth, he shall not be slain.

7     And Jonathan called David, and Jonathan shewed him all those things. And Jonathan brought David to Saul, and he was in his presence, as in times past.

8     And there was war again: and David went out, and fought with the Philistines, and slew them with a great slaughter; and they fled from him.

9     And the evil spirit from the Lord was upon Saul, as he sat in his house with his javelin in his hand: and David played with his hand.

10     And Saul sought to smite David even to the wall with the javelin; but he slipped away out of Saul’s presence, and he smote the javelin into the wall: and David fled, and escaped that night.

11     Saul also sent messengers unto David’s house, to watch him, and to slay him in the morning: and Michal David’s wife told him, saying, If thou save not thy life to night, to morrow thou shalt be slain.

12     So Michal let David down through a window: and he went, and fled, and escaped.

4۔ مرقس 6باب34(تا چوتھا،)، 53تا56آیات

34۔ اور اس نے اتر کر بھیڑ دیکھی اور اسے ان پر ترس آیا کیونکہ وہ ان بھیڑوں کی مانند تھے جن کا چرواہا نہ ہو اور وہ ان کو بہت سی باتوں کی تعلیم دینے لگا۔

53۔ اور وہ پار جا کر گنیسرت کہ عِلاقہ میں پہنچے اورکشتی گھاٹ پر لگائی۔

54۔ اور جب کشتی پر سے اترے تو فی الفور لوگ اسے پہچان کر۔

55۔ اس سارے علاقہ میں چاروں طرف دوڑے اور بیماروں کو چارپائیوں پر ڈال کر جہاں کہیں سنا کہ وہ ہے وہاں لئے پھرے۔

56۔ اور وہ گاؤں،شہروں اور بستیوں میں جہاں کہیں جاتا تھا لوگ بیماروں کو بازاروں میں رکھ کر اس کی منت کرتے تھے کہ وہ صرف اس کی پوشاک کا کنارہ چھولیں اور جتنے اسے چھوتے تھے شفا پاتے تھے۔

4. Mark 6 : 34 (to 4th ,), 53-56

34     And Jesus, when he came out, saw much people, and was moved with compassion toward them,

53     And when they had passed over, they came into the land of Gennesaret, and drew to the shore.

54     And when they were come out of the ship, straightway they knew him,

55     And ran through that whole region round about, and began to carry about in beds those that were sick, where they heard he was.

56     And whithersoever he entered, into villages, or cities, or country, they laid the sick in the streets, and besought him that they might touch if it were but the border of his garment: and as many as touched him were made whole.

5۔ 2تمیتھیس 4باب1، 2، 16 (تا:)، 17، 18 (تاپہلا۔)آیات

1۔ خدا اور مسیح یسوع کو جو زندوں اور مردوں کی عدالت کرے گا گواہ کرکے اور اْ س کے ظہور اور بادشاہی کو یاد دلا کر میں تجھے تاکید کرتا ہوں۔

2۔کہ تْو کلام کی منادی کر۔ وقت اور بے وقت مستعد رہ۔ ہر طرح کے تحمل اور تعلیم کے ساتھ سمجھا دے اور ملامت اور نصیحت کر۔

16۔ میری پہلی جواب دہی کے وقت کسی نے میرا ساتھ نہ دیا بلکہ سب نے مجھے چھوڑ دیا۔ کاش کہ انہیں اس کا حساب دینا نہ پڑے۔

17۔مگر خداوند میرا مددگار تھا اور اْس نے مجھے طاقت بخشی تاکہ میری معرفت پیغام کی پوری منادی ہوجائے سب غیر قومیں سْن لیں۔ اور میں شیر کے منہ سے چھڑایا گیا۔

18۔خداوند مجھے ہر ایک برے کام سے چھڑائے گااور اپنی آسمانی بادشاہی میں صحیح سلامت پہنچا دے گا۔ اْس کی تمجید ابدالآباد ہوتی رہے۔

5. II Timothy 4 : 1, 2, 16 (to :), 17, 18 (to 1st .)

1     I charge thee therefore before God, and the Lord Jesus Christ, who shall judge the quick and the dead at his appearing and his kingdom;

2     Preach the word; be instant in season, out of season; reprove, rebuke, exhort with all longsuffering and doctrine.

16     At my first answer no man stood with me, but all men forsook me:

17     Notwithstanding the Lord stood with me, and strengthened me; that by me the preaching might be fully known, and that all the Gentiles might hear: and I was delivered out of the mouth of the lion.

18     And the Lord shall deliver me from every evil work, and will preserve me unto his heavenly kingdom: to whom be glory for ever and ever.

6۔ کلسیوں 3باب2تا4آیات

2۔ عالم بالا کی چیزوں کے خیال میں رہو نہ کہ زمین پر کی چیزوں کے۔

3۔ کیونکہ تم مر گئے اور تمہاری زندگی مسیح کے ساتھ خدا میں پوشیدہ ہے۔

4۔ جب مسیح جو ہماری زندگی ہے ظاہر کیا جائے گا تو تم بھی اْس کے ساتھ جلال میں ظاہر کئے جاؤ گے۔

6. Colossians 3 : 2-4

2     Set your affection on things above, not on things on the earth.

3     For ye are dead, and your life is hid with Christ in God.

4     When Christ, who is our life, shall appear, then shall ye also appear with him in glory.

7۔ 2تھسلینکیوں 3باب3آیت(دی)

3۔۔۔۔خداوند سچا ہے وہ تم کو مضبوط کرے گا اور اْس شریر سے محفوظ رکھے گا۔

7. II Thessalonians 3 : 3 (the)

3     …the Lord is faithful, who shall stablish you, and keep you from evil.

8۔ زبور 62: 5تا8 (تا پہلا۔)، 11آیات

5۔ اے میری جان خدا ہی کی آس رکھ کیونکہ اسی سے مجھے امید ہے۔

6۔ وہی اکیلامیری چٹان اور میری نجات ہے۔ وہی میرا اونچا برج ہے مجھے جنبش نہ ہو گی۔

7۔ میری نجات اور میری شوکت خدا کی طرف سے ہے۔ خدا ہی میری قوت کی چٹان اور میری پناہ ہے۔

8۔ اے لوگو! ہر وقت اس پر توکل کرو۔اپنے دل کا حال اسکے سامنے کھول دو۔ خدا ہماری پناہ گاہ ہے۔

11۔ خدا نے ایک بار فرمایا میں نے دو بار سنا کہ قدرت خدا ہی کی ہے۔

8. Psalm 62 : 5-8 (to 1st .), 11

5     My soul, wait thou only upon God; for my expectation is from him.

6     He only is my rock and my salvation: he is my defence; I shall not be moved.

7     In God is my salvation and my glory: the rock of my strength, and my refuge, is in God.

8     Trust in him at all times; ye people, pour out your heart before him: God is a refuge for us.

11     God hath spoken once; twice have I heard this; that power belongeth unto God.



سائنس اور صح


1۔ 184: 16-17

الٰہی ذہانت کے قابو میں رہتے ہوئے، انسان ہم آہنگ اور ابدی ہے۔

1. 184 : 16-17

Controlled by the divine intelligence, man is harmonious and eternal.

2۔ 487: 27۔1

یہ ادراک کہ زندگی خدا، روح ہے، زندگی کی لازوال حقیقت پر، اْس کی قدرت اور لافانیت پر یقین رکھنے سے ہمارے ایام کو دراز کرتا ہے۔

ایمان ایک سمجھے گئے اصول پر انحصار کرتا ہے۔ یہ اصول بیمار کو شفایاب کرتا ہے اور برداشت اور چیزوں کے ہم آہنگ مراحل ظاہر کرتاہے۔

2. 487 : 27-1

The understanding that Life is God, Spirit, lengthens our days by strengthening our trust in the deathless reality of Life, its almightiness and immortality.

This faith relies upon an understood Principle. This Principle makes whole the diseased, and brings out the enduring and harmonious phases of things.

3۔ 550: 4۔7

مادا یقینا عقل کی ملکیت نہیں رکھتا۔ خدا زندگی یا ذہانت ہے جو جانوروں اور اس کے ساتھ ساتھ انسانوں کی بھی شناخت اور انفرادیت کو تشکیل دیتا اور محفوظ رکھتا ہے۔

3. 550 : 4-7

Matter surely does not possess Mind. God is the Life, or intelligence, which forms and preserves the individuality and identity of animals as well as of men.

4۔ 151: 20۔30

حقیقی انسان کا ہر عمل الٰہی فہم کی نگرانی میں ہے۔ انسانی سوچ قتل کرنے یا علاج کرنے کی کوئی قوت نہیں رکھتی، اور اس کا خدا کے بشر پر کوئی قابو نہیں ہے۔الٰہی عقل جس نے انسان کو بنایا خود کی صورت اور شبیہ کو قائم رکھتی ہے۔ انسانی عقل خدا کی مخالف ہے اور اسے ملتوی ہونا چاہئے جیسا کہ مقدس پولوس واضح کرتا ہے۔ وہ سب جو در حقیقت موجود ہے وہ الٰہی عقل اور اس کا خیال ہے، اور اس عقل میں تمام ہستی ہم آہنگ اور ابدی پائی جاتی ہے۔سیدھا اور تنگ راستہ اس حقیقت کو دیکھنا اور تسلیم کرنا، اس طاقت کو ماننا اور سچائی کی راہنمائی پر چلنا ہے۔

4. 151 : 20-30

Every function of the real man is governed by the divine Mind. The human mind has no power to kill or to cure, and it has no control over God's man. The divine Mind that made man maintains His own image and likeness. The human mind is opposed to God and must be put off, as St. Paul declares. All that really exists is the divine Mind and its idea, and in this Mind the entire being is found harmonious and eternal. The straight and narrow way is to see and acknowledge this fact, yield to this power, and follow the leadings of truth.

5۔ 218: 24۔ 5

جیسا آپ گناہ کے ساتھ اچانک برطرفی کرتے ہیں ویسے ہی بیماری پر یقین کے ساتھ سلوک کریں۔ مادے پر ذہین، سنسنی خیز یا طاقتور ہونے کے طور پر یقین رکھنے کو ردکریں۔

کلام کہتا ہے، ”لیکن خداوند کا انتظار کرنے والے۔۔۔وہ دوڑیں گے اور نہ تھکیں گے۔“ اس حوالہ کے مفہوم کو تھکان کے لمحات پر لفظی طور پر لاگو کر کے گمراہ نہیں کیا جاتا۔ کیونکہ اخلاقی اور جسمانی اپنے اپنے نتائج میں یکساں ہیں۔ جب ہم ہستی کی سچائی میں بیدار ہوتے ہیں تو سب بیماری، درد، کمزوری، مایوسی، دْکھ، گناہ اور موت اجنبی ہو جائیں گے، اور فانی خواب ہمیشہ کے لئے بند ہوجائے گا۔تھکان کا اعلاج کرنے کا میرا طریقہ کار تمام تر جسمانی بیماریوں پر لاگو ہوتا ہے، کیونکہ عقل کو اعلیٰ، مکمل اور حتمی ہونا چاہئے اور یہ ہے بھی۔

5. 218 : 24-5

Treat a belief in sickness as you would sin, with sudden dismissal. Resist the temptation to believe in matter as intelligent, as having sensation or power.

The Scriptures say, "They that wait upon the Lord … shall run, and not be weary; and they shall walk, and not faint." The meaning of that passage is not perverted by applying it literally to moments of fatigue, for the moral and physical are as one in their results. When we wake to the truth of being, all disease, pain, weakness, weariness, sorrow, sin, death, will be unknown, and the mortal dream will forever cease. My method of treating fatigue applies to all bodily ailments, since Mind should be, and is, supreme, absolute, and final.

6۔ 387: 4۔12، 19۔ 32

کون یہ کہنے کی جراٗت کرتا ہے کہ اصل عقل کی طاقت سے زیادہ کام لیا جا سکتا ہے؟ جب ہم ہماری ذہنی برداشت کی حدود تک پہنچ جاتے ہیں، ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ شعوری مشقت یہاں تک نہایت موزوں طور پر لائی گئی ہے؛ لیکن جب ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ فانی عقل ہمیشہ چوکس ہے، اور یہ روحانی توانائیاں گھِس نہیں سکتیں اور نہ ہی یہ نام نہاد مادی قانون خداداد قوتوں اور وسائل میں دخل اندازی کر سکتا ہے، ہم سچائی میں آرام کرنے کے قابل ہیں،فانیت کے خلاف لافانیت کی ضمانت سے تازہ دم ہوتے ہوئے۔

بجائے اس غیر متواتر مفروضے سے متعلق تجسس کا مطالعہ کرنے کہ موت زندگی کے قانون کی تابعداری سے آتی ہے اور کہ خدا انسان کو نیک کام کرنے پر سزا دیتا ہے، ابدی وجودیت کے حقائق کی پیروی کرنے سے کوئی شخص کسے محبت کی مشقت کے نتیجے میں دْکھ نہیں اٹھا سکتا، بلکہ اس سے اور مضبوط ہو جاتا ہے۔ یہ نام نہاد فانی عقل کا قانون ہے جسے مادے کا الٹ نام دیا گیا ہے، جو تمام چیزوں میں اختلاف کا باعث بنتا ہے۔

مسیحت کی تاریخ حمایتی اثر اور اْس حفاظتی قوت کے شاندار شواہد کو آراستہ کرتی ہے جو انسان پر اْس کے آسمانی باپ، قادر مطلق عقل کی جانب سے نازل کی جاتی ہے جو انسان کو ایمان اور فہم عطا کرتا ہے جس سے وہ خود کا دفاع کرسکے نہ صرف آزمائش سے بلکہ جسمانی تکالیف سے بھی۔

6. 387 : 4-12, 19-32

Who dares to say that actual Mind can be overworked? When we reach our limits of mental endurance, we conclude that intellectual labor has been carried sufficiently far; but when we realize that immortal Mind is ever active, and that spiritual energies can neither wear out nor can so-called material law trespass upon God-given powers and resources, we are able to rest in Truth, refreshed by the assurances of immortality, opposed to mortality.

By adhering to the realities of eternal existence, — instead of reading disquisitions on the inconsistent supposition that death comes in obedience to the law of life, and that God punishes man for doing good, — one cannot suffer as the result of any labor of love, but grows stronger because of it. It is a law of so-called mortal mind, misnamed matter, which causes all things discordant.

The history of Christianity furnishes sublime proofs of the supporting influence and protecting power bestowed on man by his heavenly Father, omnipotent Mind, who gives man faith and understanding whereby to defend himself, not only from temptation, but from bodily suffering.

7۔ 219 24۔ 28

وہ لوگ جو مابعدالطبعیاتی سائنس کے وسیلہ شفا یاب ہوئے ہیں،نہ کہ شفا کے اصول کو سمجھنے سے، وہ اس غلط فہمی کا شکار ہو سکتے ہیں اور وہ اپنی صحت یابی کو ہوا اور خوراک کی تبدیلی سے منسوب کرتے ہیں، نہ کہ خدا کو عزت دیتے ہوئے اْسے اس کی تبدیلی کی وجہ بیان کرتے ہیں۔

7. 219 : 24-28

Those who are healed through metaphysical Science, not comprehending the Principle of the cure, may misunderstand it, and impute their recovery to change of air or diet, not rendering to God the honor due to Him alone.

8۔ 516: 4۔12

مواد، زندگی، ذہانت، سچائی اور محبت جو خدائے واحد کو متعین کرتے ہیں، اْس کی مخلوق سے منعکس ہوتے ہیں؛ اور جب ہم جسمانی حواس کی جھوٹی گواہی کو سائنسی حقائق کے ماتحت کر دیتے ہیں، تو ہم اس حقیقی مشابہت اور عکس کوہرطرف دیکھیں گے۔

خدا تمام چیزوں کو اپنی شبیہ پر بناتا ہے۔ زندگی وجودیت سے، سچ راستی سے، خدا نیکی سے منعکس ہوتا ہے، جو خود کی سلامتی اور استقلال عنایت کرتے ہیں۔

8. 516 : 4-12

The substance, Life, intelligence, Truth, and Love, which constitute Deity, are reflected by His creation; and when we subordinate the false testimony of the corporeal senses to the facts of Science, we shall see this true likeness and reflection everywhere.

God fashions all things, after His own likeness. Life is reflected in existence, Truth in truthfulness, God in goodness, which impart their own peace and permanence.

9۔ 246: 1۔ 8، 20۔ 31

انسان نیکی اور بدی، بیماری اور صحت، خوشی اور غمی، زندگی اور موت کے بیچ لٹکنے والا پینڈولم نہیں ہے۔زندگی اور اْس کی لیاقتوں کو کیلنڈروں سے نہیں ناپا جاتا۔ کامل اور لافانی اپنے خالق کی ابدی شبیہ ہیں۔ کسی بھی طرح سے انسان مادی جرثومہ نہیں جو غیر کامل سے فروغ پا رہا اور جو اپنی اصلیت سے بلند روح تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہو۔

وہ سب جو اچھا اور خوبصورت ہے اْسے ماپنے اور محدود کرنے کی غلطی کے سوائے انسان ساٹھ سالہ زندگی کا زیادہ مزہ لے گا اور پھر بھی اپنی ذہنی قوت، تازگی اور وعدے کو قائم رکھے گا۔ لافانی حکمران کے ماتحت انسان ہمیشہ خوبصورت اور عظیم ہوتا ہے۔ ہر آنے والا سال حکمت، خوبصورتی اور پاکیزگی کو عیاں کرتا ہے۔

زندگی ابدی ہے۔ ہمیں اس کی تلاش کرنی چاہئے اور اس سے اظہار کا آغاز کرنا چاہئے۔ زندگی اور اچھائی لافانی ہیں۔ توآئیے ہم وجودیت سے متعلق ہمارے خیالات کوعمر اور خوف کی بجائے محبت، تازگی اور تواتر کے ساتھ تشکیل دیں۔

9. 246 : 1-8, 20-31

Man is not a pendulum, swinging between evil and good, joy and sorrow, sickness and health, life and death. Life and its faculties are not measured by calendars. The perfect and immortal are the eternal likeness of their Maker. Man is by no means a material germ rising from the imperfect and endeavoring to reach Spirit above his origin.

Except for the error of measuring and limiting all that is good and beautiful, man would enjoy more than threescore years and ten and still maintain his vigor, freshness, and promise. Man, governed by immortal Mind, is always beautiful and grand. Each succeeding year unfolds wisdom, beauty, and holiness.

Life is eternal. We should find this out, and begin the demonstration thereof. Life and goodness are immortal. Let us then shape our views of existence into loveliness, freshness, and continuity, rather than into age and blight.

10۔ 325: 10۔ 19

کلسیوں (3باب4آیت) میں پولوس لکھتا ہے: ”جب مسیح جو ہماری زندگی ہے ظاہر کیا جائے گا(ظاہر ہوگا) تو تم بھی اْس کے ساتھ جلال میں ظاہر کئے جاؤ گے۔“جب روحانی ہستی کو اْس کی ساری کاملیت، تواتر اور قوت کے ساتھ سمجھا جاتا ہے تو انسان کو خدا کی صورت مانا جائے گا۔ رسولی کلام کا مطلق مفہوم یہ ہے: پھر انسان، باپ کی مانند اْس کی شبیہ میں کامل، زندگی میں لازوال، ”مسیح کے ساتھ خدا میں پوشیدہ،“ الٰہی محبت میں سچائی کے ساتھ پایا جائے گا، جہاں انسانی فہم نے انسان کو نہیں دیکھا ہوگا۔

10. 325 : 10-19

In Colossians (iii. 4) Paul writes: "When Christ, who is our life, shall appear [be manifested], then shall ye also appear [be manifested] with him in glory." When spiritual being is understood in all its perfection, continuity, and might, then shall man be found in God's image. The absolute meaning of the apostolic words is this: Then shall man be found, in His likeness, perfect as the Father, indestructible in Life, "hid with Christ in God," — with Truth in divine Love, where human sense hath not seen man.

11۔ 407: 24۔ 28

ایک کامل نمونے کو آپ کے خیالات میں پیش ہونے دیں بجائے اس کے بد اخلاق مخالف کے۔ خیالات کی روحانیت آپ کے شعور کو روشن کرتی اور اس میں الٰہی عقل یعنی زندگی لاتی ہے نہ کہ موت۔

11. 407 : 24-28

Let the perfect model be present in your thoughts instead of its demoralized opposite. This spiritualization of thought lets in the light, and brings the divine Mind, Life not death, into your consciousness.

12۔ 340: 23۔29

ایک لامتناہی خدا،یعنی اچھائی انسان اور اقوام کو متحد کرتا ہے، انسانوں میں بھائی چارہ قائم کرتا ہے، جنگ و جدول ختم کرتا ہے، اس کلام کو پورا کرتا ہے کہ، ”اپنے پڑوسی سے اپنی مانند پیار کر،“ غیر قوموں اور مسیحی بت پرستوں کواور جو کچھ بھی معاشرتی، شہری، مجرمانہ، سیاسی، اور مذہبی شعبہ جات میں غلط ہو رہا ہے اْسے فنا کرتا ہے، جنس کو مساوی کرتا ہے، انسان پر کی گئی لعنت کو منسوخ کرتا ہے اور ایسا کچھ نہیں چھوڑتا جو گناہ کا مرتکب ہو اور دْکھ اٹھائے، سزاء پائے یا فنا ہو جائے۔

12. 340 : 23-29

One infinite God, good, unifies men and nations; constitutes the brotherhood of man; ends wars; fulfils the Scripture, "Love thy neighbor as thyself;" annihilates pagan and Christian idolatry, — whatever is wrong in social, civil, criminal, political, and religious codes; equalizes the sexes; annuls the curse on man, and leaves nothing that can sin, suffer, be punished or destroyed.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████