اتوار 16 فروری، 2020 |

اتوار 16 فروری، 2020



مضمون۔ جان

SubjectSoul

سنہری متن:سنہری متن: مرقس 12باب30 آیت

’’اول حکم یہ ہے کہ تْو خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل اوراپنی ساری طاقت سے محبت رکھ۔‘‘



Golden Text: Mark 12 : 30

Thou shalt love the Lord thy God with all thy heart, and with all thy soul, and with all thy mind, and with all thy strength: this is the first commandment.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور 84: 2،5، 7، 9، 11، 12 آیات


2۔ میری جان خداوند کی بارگاہوں کی مشتاق بلکہ گداز ہوچلی۔ میرا دل اور میرا جسم زندہ خدا کے لئے خوشی سے للکارتے ہیں۔

5۔ مبارک ہے وہ آدمی جس کی قوت تجھ سے ہے۔جس کے دل میں صیہون کی شاہراہیں ہیں۔

7۔ وہ طاقت پر طاقت پاتے ہیں۔ اْن میں سے ہر ایک صیہون میں خداوند کے حضور حاضر ہوتا ہے۔

9۔ اے خدا! اے ہماری سِپر! دیکھ اور اپنے ممسوح کے چہرے پر نظر کر۔

11۔ کیونکہ خداوند خدا آفتاب اور سِپر ہے۔ خداوند فضل اور جلال بخشے گا۔ وہ راست رو سے کوئی نعمت باز نہ رکھے گا۔

12۔ اے لشکروں کے خداوند! مبارک ہے وہ آدمی جس کا توکل تجھ پر ہے۔

Responsive Reading: Psalm 84 : 2, 5, 7, 9, 11, 12

2.     My soul longeth, yea, even fainteth for the courts of the Lord: my heart and my flesh crieth out for the living God.

5.     Blessed is the man whose strength is in thee; in whose heart are the ways of them.

7.     They go from strength to strength, every one of them in Zion appeareth before God.

9.     Behold, O God our shield, and look upon the face of thine anointed.

11.     For the Lord God is a sun and shield: the Lord will give grace and glory: no good thing will he withhold from them that walk uprightly.

12.     O Lord of hosts, blessed is the man that trusteth in thee.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ یسعیاہ 55باب3، 6، 7 آیات

3۔ کان لگاؤ اور میرے پاس آؤ سنو اور تمہاری جان زندہ رہے گی اور مَیں تم کو ابدی عہد یعنی داؤد کی سچی نعمتیں بخشوں گا۔

6۔ جب تک خداوند مل سکتا ہے اْس کے طالب ہو۔ جب تک وہ نزدیک ہے اْسے پکارو۔

7۔ شریر اپنی راہ کو ترک کرے اور بدکار اپنے خیالوں کواور وہ خداوند کی طرف پھرے اور وہ اْس پر رحم کرے گا اور ہمارے خداوند کی طرف کیونکہ وہ کثرت سے معاف کرے گا۔

1. Isaiah 55 : 3, 6, 7

3     Incline your ear, and come unto me: hear, and your soul shall live; and I will make an everlasting covenant with you, even the sure mercies of David.

6     Seek ye the Lord while he may be found, call ye upon him while he is near:

7     Let the wicked forsake his way, and the unrighteous man his thoughts: and let him return unto the Lord, and he will have mercy upon him; and to our God, for he will abundantly pardon.

2۔ امثال 29باب25، 26 آیات

25۔ انسان کا ڈر پھندہ ہے لیکن جو کوئی خداوند پر توکل کرتا ہے محفوظ رہے گا۔

26۔ حاکم کی مہربانی کے طالب بہت ہیں لیکن انسان کا فیصلہ خداوند کی طرف سے ہے۔

2. Proverbs 29 : 25, 26

25     The fear of man bringeth a snare: but whoso putteth his trust in the Lord shall be safe.

26     Many seek the ruler’s favour; but every man’s judgment cometh from the Lord.

3۔ پیدائش 27باب41 آیت

41۔ اور عیسو نے یعقوب سے اْس برکت کے سبب جو اْس کے باپ نے اْسے بخشی کینہ رکھا اور عیسو نے اپنے دل میں کہا کہ میرے باپ کے ماتم کے دن نزدیک ہیں۔ پھر مَیں اپنے بھائی یعقوب کو مار ڈالوں گا۔

3. Genesis 27 : 41

41     And Esau hated Jacob because of the blessing wherewith his father blessed him: and Esau said in his heart, The days of mourning for my father are at hand; then will I slay my brother Jacob.

4۔ پیدائش 32باب1 2(تا:)، 3، 6، 7، (تا:)، 9، 10 (تا پہلا؛)، 11، 24تا31 آیات

1۔ اور یعقوب نے بھی اپنی راہ لی اور خدا کے فرشتے اُسے ملے۔

2۔ اور یعقوب نے اُنکو دیکھ کر کہا کہ یہ خدا کا لشکر ہے اور اُس جگہ کا نام مَنایم رکھا۔

3۔ اور یعقوب نے اپنے آگے آگے قاصدوں کو ادوم کے ملک کو جو شعیر کی سر زمین میں ہے اپنے بھائی عیسو کے پاس بھیجا۔

6۔ پس قاصد یعقوب کے پاس لوٹ کر آئے اور کہنے لگے کہ ہم تیرے بھائی عیسو کے پاس گئے تھے۔ وہ چار سو آدمیوں کو ساتھ لے کر تیری ملاقات کو آرہا ہے۔

7۔ تب یعقوب نہایت ڈر گیا اور پریشان ہوا۔

9۔ اور یعقوب نے کہا اے میرے باپ ابرہام کے خدا اور میرے باپ اضحاق کے خدا! اے خداوند جس نے مجھے یہ فرمایا کہ تو اپنے ملک کو اپنے رشتہ داروں کے پاس لوٹ جا اور مَیں تیرے ساتھ بھلائی کرونگا۔

10۔ مَیں تیری سب رحمتوں اور وفاداری کے مقابلہ میں جو تو نے اپنے بندہ کے ساتھ برتی ہے بالکل ہیچ ہوں۔

11۔ مَیں تیری منت کر تا ہوں کہ مجھے میرے بھائی عیسو کے ہاتھ سے بچالے کیونکہ مِیں اُس سے ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ آکر مجھے اور بچوں کو ماں سمیت مار نہ ڈالے۔

24۔ اور یعقوب اکیلا رہ گیا اور پوپھٹنے کے وقت تک ایک شخص وہاں اُس سے کشتی لڑتا رہا۔

25۔ اُس نے دیکھا کہ وہ اُس پر غالب نہیں ہوتا تو اسکی ران کو اندر کی طرف چھوا اور یعقوب کی ران کی نس اُسکے ساتھ کشتی کرنے پر چڑھی گئی۔

26۔ اور اُس نے کہا مجھے جانے دے کیونکہ پوپھٹ چلی۔ یعقوب نے کہا کہ جب تک تُو مجھے برکت نہ دے میں تجھے جانے نہیں دونگا۔

27۔تب اُس نے اُس سے پوچھا کہ تیرا کیا نام ہے؟ اُس نے جواب دیا یعقوب۔

28۔اُس نے کہا کہ تیرا نام آگے کو یعقوب نہیں بلکہ اسرائیل ہوگا کیونکہ تو نے خدا اور آدمیوں کے ساتھ زور آزمائی کی اور غالب ہوا۔

29۔ تب یعقوب نے اُس سے کہا کہ میں تیری منت کرتا ہوں تو مجھے اپنا نام بتا دے۔ اُس نے کہا کہ تو میرا نام کیوں پوچھتا ہے؟ اور اُس نے اُسے وہاں برکت دی۔

30۔ اور یعقوب نے اُس جگہ کا نام فنی ایل رکھا اور کہا کہ میں نے خدا کو روبرو دیکھا تو بھی میری جان بچی رہی۔

31۔ اور جب وہ فنی ایل سے گزر رہا تھا تو آفتاب طلوع ہوا اور وہ اپنی ران سے لنگڑاتا تھا۔

4. Genesis 32 : 1, 2 (to :), 3, 6, 7 (to :), 9, 10 (to 1st ;), 11, 24-31

1     And Jacob went on his way, and the angels of God met him.

2     And when Jacob saw them, he said, This is God’s host:

3     And Jacob sent messengers before him to Esau his brother unto the land of Seir, the country of Edom.

6     And the messengers returned to Jacob, saying, We came to thy brother Esau, and also he cometh to meet thee, and four hundred men with him.

7     Then Jacob was greatly afraid and distressed:

9     And Jacob said, O God of my father Abraham, and God of my father Isaac, the Lord which saidst unto me, Return unto thy country, and to thy kindred, and I will deal well with thee:

10     I am not worthy of the least of all the mercies, and of all the truth, which thou hast shewed unto thy servant;

11     Deliver me, I pray thee, from the hand of my brother, from the hand of Esau: for I fear him, lest he will come and smite me, and the mother with the children.

24     And Jacob was left alone; and there wrestled a man with him until the breaking of the day.

25     And when he saw that he prevailed not against him, he touched the hollow of his thigh; and the hollow of Jacob’s thigh was out of joint, as he wrestled with him.

26     And he said, Let me go, for the day breaketh. And he said, I will not let thee go, except thou bless me.

27     And he said unto him, What is thy name? And he said, Jacob.

28     And he said, Thy name shall be called no more Jacob, but Israel: for as a prince hast thou power with God and with men, and hast prevailed.

29     And Jacob asked him, and said, Tell me, I pray thee, thy name. And he said, Wherefore is it that thou dost ask after my name? And he blessed him there.

30     And Jacob called the name of the place Peniel: for I have seen God face to face, and my life is preserved.

31     And as he passed over Penuel the sun rose upon him, and he halted upon his thigh.

5۔ پیدائش 33باب1 (تاپہلا)، 4 آیات

1۔ اور یعقوب نے اپنی آنکھیں اْٹھا کر نظر کی اورکیا دیکھتا ہے کہ عیسو چار سو آدمی ساتھ لئے چلا آرہا ہے۔

4۔ اور عیسو اْسے ملنے کو دوڑا اور اْس سے بغل گیر ہوا اور اْسے گلے لگایا اور چْوما اور وہ دنوں روئے۔

5. Genesis 33 : 1 (to 1st .), 4

1     And Jacob lifted up his eyes, and looked, and, behold, Esau came, and with him four hundred men.

4     And Esau ran to meet him, and embraced him, and fell on his neck, and kissed him: and they wept.

6۔ 2 تواریخ 7باب14 آیت

14۔ تب اگر میرے لوگ جو میرے نام سے کہلاتے ہیں خاکسار بن کر دعا کریں اور میرے دیدار کے طالب ہوں اور اپنی بری راہوں سے پھریں تو مَیں آسمان پر سے سن کر اْن کا گناہ معاف کروں گا اور اْن کے ملک کو بحال کروں گا۔

6. II Chronicles 7 : 14

14     If my people, which are called by my name, shall humble themselves, and pray, and seek my face, and turn from their wicked ways; then will I hear from heaven, and will forgive their sin, and will heal their land.

7۔ گلتیوں 5 باب 2 (تا دوسرا)، 5، 7تا 10، 13، 14 آیات

2۔ دیکھ مَیں پولس تم سے کہتا ہوں

5۔ کیونکہ ہم روح کے باعث ایمان سے راستبازی کی امید برآنے کے منتظر ہیں۔

7۔ تم تو اچھی طرح دوڑ رہے تھے۔ کس نے تمہیں حق کے ماننے سے روک دیا؟

8۔ یہ ترغیب تمہارے بلانے والے کی طرف سے نہیں ہے۔

9۔ تھوڑا سا خمیر سارے گْندھے ہوئے آٹے کو خمیر کر دیتا ہے۔

10۔ مجھے خداوند میں تم پر بھروسہ ہے کہ تم اور طرح کا خیال نہ کرو گے لیکن جو تمہیں گھبرا دیتا ہے وہ خواہ کوئی ہو سزا پائے گا۔

13۔اے بھائیو! تم آزادی کے لئے بلائے تو گئے ہو مگر ایسا نہ ہو کہ وہ آزادی جسمانی باتوں کا موقع بنے بلکہ محبت کی راہ سے ایک دوسرے کی خدمت کرو۔

14۔ کیونکہ ساری شریعت پر ایک ہی بات سے عمل ہو جاتا ہے یعنی اِس سے کہ تْواپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھ۔

7. Galatians 5 : 2 (to 2nd ,), 5, 7-10, 13, 14

2     Behold, I Paul say unto you,

5     For we through the Spirit wait for the hope of righteousness by faith.

7     Ye did run well; who did hinder you that ye should not obey the truth?

8     This persuasion cometh not of him that calleth you.

9     A little leaven leaveneth the whole lump.

10     I have confidence in you through the Lord, that ye will be none otherwise minded: but he that troubleth you shall bear his judgment, whosoever he be.

13     For, brethren, ye have been called unto liberty; only use not liberty for an occasion to the flesh, but by love serve one another.

14     For all the law is fulfilled in one word, even in this; Thou shalt love thy neighbour as thyself.

8۔ 1کرنتھیوں 1باب1 (تا دوسرا)، 3تا5، 10، 26، 29 تا 31 آیات

1۔ پولس جو خدا کی مرضی سے یسوع مسیح کا رسول ہونے کے لئے بلایا گیا

3۔ ہمارے باپ خدا اور خداوند یسوع مسیح کی طرف سے تمہیں فضل اور اطمیان حاصل ہوتا رہے۔

4۔ مَیں تمہارے بارے میں خدا کے اْس فضل کے باعث جو مسیح یسوع میں تم پر ہوا ہمیشہ اپنے خدا کا شکر کرتا ہوں۔

5۔ کہ تم اْس میں ہو کر سب باتوں میں کلام اور علم کی ہر طرح کی دولت سے دولتمند ہو گئے ہو۔

10۔ اب اے بھائیو! یسوع مسیح جو ہمارا خداوند ہے اْس کے نام کے وسیلہ سے میں تم سے التماس کرتا ہوں کہ سب ایک ہی بات کہو اور تم میں تفرقے نہ ہوں بلکہ باہم یکدل اور یک رائی ہو کر کامل بنے رہو۔

26۔ اے بھائیو! اپنے بلائے جانے پر تو نگاہ کرو کہ جسم کے لحاظ سے بہت سے حکیم۔ بہت سے اختیار والے۔ بہت سے اشراف نہیں بلائے گئے۔

29۔ تاکہ کوئی بشر خدا کے سامنے فخر نہ کرے۔

30۔ لیکن تم اْس کی طرف سے مسیح یسوع میں ہو جو ہمارے لئے خدا کی طرف سے حکمت ٹھہرا یعنی راستبازی اور پاکیزگی اور مخلصی۔

31۔ تاکہ جیسا لکھا ہے ویسا ہی ہو کہ جو فخر کرے وہ خدا پر فخر کرے۔

8. I Corinthians 1 : 1 (to 2nd ,), 3-5, 10, 26, 29-31

1     Paul, called to be an apostle of Jesus Christ through the will of God,

3     Grace be unto you, and peace, from God our Father, and from the Lord Jesus Christ.

4     I thank my God always on your behalf, for the grace of God which is given you by Jesus Christ;

5     That in every thing ye are enriched by him, in all utterance, and in all knowledge;

10     Now I beseech you, brethren, by the name of our Lord Jesus Christ, that ye all speak the same thing, and that there be no divisions among you; but that ye be perfectly joined together in the same mind and in the same judgment.

26     For ye see your calling, brethren, how that not many wise men after the flesh, not many mighty, not many noble, are called:

29     That no flesh should glory in his presence.

30     But of him are ye in Christ Jesus, who of God is made unto us wisdom, and righteousness, and sanctification, and redemption:

31     That, according as it is written, He that glorieth, let him glory in the Lord.



سائنس اور صح


1۔ 58 :12 صرف

جان میں اخلاقی آزادی ہے۔

1. 58 : 12 only

There is moral freedom in Soul.

2۔ 477 :22۔26

جان مادہ، زندگی، انسان کی ذہانت ہے، جس کی انفرادیت ہوتی ہے لیکن مادے میں نہیں۔ جان روح سے کمتر کسی چیز کی عکاسی کبھی نہیں کرسکتی۔

انسان روح کا اظہار۔

2. 477 : 22-26

Soul is the substance, Life, and intelligence of man, which is individualized, but not in matter. Soul can never reflect anything inferior to Spirit.

Man is the expression of Soul.

3۔ 70 :13۔9

سوالات یہ ہیں: خدا کی شناختیں کیا ہیں؟ جان کیا ہے؟ کیا زندگی یا جان بنائی گئی چیز میں موجود ہوتی ہے؟

کچھ بھی حقیقی اور ابدی نہیں ہے، کچھ بھی روح نہیں ہے، ماسوائے خدا اور اْس کے خیال کے۔ بدی میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ یہ نہ تو کوئی شخص، جگہ اور نہ ہی کوئی چیز ہے، بلکہ محض ایک عقیدہ، مادی حس کا ایک بھرم ہے۔

ساری حقیقت کی شناخت یا خیال ہمیشہ جاری رہتا ہے؛ لیکن روح یا سب کا الٰہی اصول، روح کی بناوٹیں نہیں ہیں۔ جان روح، خدا، خالق، حکمران محدود شکل سے باہر لامحدود اصول کا مترادف لفظ ہے، جو صرف عکس کی تشکیل کرتا ہے۔

3. 70 : 13-9

The questions are: What are God's identities? What is Soul? Does life or soul exist in the thing formed?

Nothing is real and eternal, — nothing is Spirit, — but God and His idea. Evil has no reality. It is neither person, place, nor thing, but is simply a belief, an illusion of material sense.

The identity, or idea, of all reality continues forever; but Spirit, or the divine Principle of all, is not in Spirit's formations. Soul is synonymous with Spirit, God, the creative, governing, infinite Principle outside of finite form, which forms only reflect.

4۔ 300 :23 صرف، 31۔4

روح خدا اور جان ہے اسی لئے جان مادے میں نہیں ہوتی۔۔۔۔خدا صرف اْسی میں ظاہر ہوتا ہے جو زندگی، سچائی اور محبت کی عکاسی کرتا ہے، ہاں، جو خدا کی خصوصیات اور قدرت کو ظاہر کرتا ہے، جیسے کہ انسانی صورت آئینے میں دکھائی دیتی ہے، آئینے کے سامنے کھڑے شخص کے رنگ، شکل اور حرکات کو دوہراتی ہے۔

4. 300 : 23 only, 31-4

Spirit is God, Soul; therefore Soul is not in matter. … God is revealed only in that which reflects Life, Truth, Love, — yea, which manifests God's attributes and power, even as the human likeness thrown upon the mirror, repeats the color, form, and action of the person in front of the mirror.

5۔ 308 :14۔28

روح سے معمور بزرگوں نے سچائی کی آواز سنی، اور انہوں نے خدا کے ساتھ ویسے ہی بات کی جیسے انسان انسانوں کے ساتھ بات کرتا ہے۔

یعقوب تنہا، غلطی کے ساتھ لڑ رہا تھا، زندگی، مواد اور ذہانت کی فانی حس کے ساتھ جدوجہد کر رہا تھا، جیسے کہ یہ سب مادے کے ساتھ اِس کی جھوٹی تسکینوں اور تکالیف کے ساتھ موجود ہوتے ہیں،جب ایک فرشتہ، سچائی اور محبت کی جانب سے ایک پیغام، اْس پر ظاہر ہوا اور اْس نے اْسے، یا اْس کی طاقت کو یا اپنی غلطی کو مارا، جب تک کہ اْس نے اِس کی غیر حقیقت کو نہ دیکھا، اور وہاں ادراک میں آتے ہوئے، سچائی نے الٰہی سائنس کے اِس فنی ایل میں اْسے روحانی قوت بخشی۔پھر روحانی مبشر نے کہا: ”مجھے جانے دے کہ پو پھٹ چلی“؛ یعنی، تجھ پر سچائی اور محبت کی روشنی پڑے۔ مگر اجداد نے، اْسکی غلطی کو سمجھتے ہوئے اور اْس کی مدد کی ضرورت کو جانتے ہوئے، اِس جلالی نور پر اْس کی گرفت کو ڈھیلا نہیں کیا جب تک کہ اْس کی فطرت بدل نہ گئی۔

5. 308 : 14-28

The Soul-inspired patriarchs heard the voice of Truth, and talked with God as consciously as man talks with man.

Jacob was alone, wrestling with error, — struggling with a mortal sense of life, substance, and intelligence as existent in matter with its false pleasures and pains, — when an angel, a message from Truth and Love, appeared to him and smote the sinew, or strength, of his error, till he saw its unreality; and Truth, being thereby understood, gave him spiritual strength in this Peniel of divine Science. Then said the spiritual evangel: "Let me go, for the day breaketh;" that is, the light of Truth and Love dawns upon thee. But the patriarch, perceiving his error and his need of help, did not loosen his hold upon this glorious light until his nature was transformed.

6۔ 309 :7۔12

پس یعقوب کی جدوجہد کا نتیجہ نکلا۔ اْس نے روح اور روحانی قوت کے فہم کے ساتھ مادی غلطی کو فتح کیا۔ اس نے اْس آدمی کو بدل کر رکھ دیا۔ اْسے مزید یعقوب نہ کہا گیا، بلکہ اسرائیل، خدا کا شہزادہ، یا خدا کا سپاہی کہا گیا جس نے اچھی لڑائی لڑی تھی۔

6. 309 : 7-12

The result of Jacob's struggle thus appeared. He had conquered material error with the under-standing of Spirit and of spiritual power. This changed the man. He was no longer called Jacob, but Israel, — a prince of God, or a soldier of God, who had fought a good fight.

7۔ 481 :28۔32

جان انسان کا الٰہی اصول ہے اور یہ کبھی گناہ نہیں کرتی، لہٰذہ جان لافانی ہے۔ سائنس میں ہم سیکھتے ہیں کہ یہ مادی فہم ہے نہ کہ جان ہے جو گناہ کرتی ہے اور یہ دیکھا جائے گا کہ یہ گناہ کا فہم ہی ہوتا ہے جو کھو جاتا ہے نہ کہ گناہ آلودہ جان ہے۔

7. 481 : 28-32

Soul is the divine Principle of man and never sins, — hence the immortality of Soul. In Science we learn that it is material sense, not Soul, which sins; and it will be found that it is the sense of sin which is lost, and not a sinful soul.

8۔ 482 :6۔12

جہاں معبود کے معنی مطلوب ہوں وہاں لفظ جان کا موزوں استعمال صرف لفظ خدا کے ساتھ تبادلہ کرنے سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ دیگر معاملات میں، فہم کا لفظ استعمال کریں تو آپ کو اِس کا سائنسی مفہوم میسر ہوگا۔ جیسے کہ کرسچن سائنس میں استعمال کیا گیا ہے،جان روح یا خدا کے لئے موزوں مترادف الفاظ ہیں؛ لیکن سائنس کے علاوہ، جان فہم کے ساتھ، مادی احساس کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔

8. 482 : 6-12

The proper use of the word soul can always be gained by substituting the word God, where the deific meaning is required. In other cases, use the word sense, and you will have the scientific signification. As used in Christian Science, Soul is properly the synonym of Spirit, or God; but out of Science, soul is identical with sense, with material sensation.

9۔ 89 :20۔24

روح، یعنی خدا کو تب سنا جاتا ہے جب حواس خاموش ہوں۔ جو کچھ ہم کرتے ہیں ہم سب اْس سے زیادہ کرنے کے قابل ہیں۔ روح کا عمل یا اثر آزادی عطا کرتا ہے، جو تخفیف کا مظاہر اور غیر تربیت یافتہ ہونٹوں کی گرمجوشی واضح کرتی ہے۔

9. 89 : 20-24

Spirit, God, is heard when the senses are silent. We are all capable of more than we do. The influence or action of Soul confers a freedom, which explains the phenomena of improvisation and the fervor of untutored lips.

10۔ 273 :10۔20

الٰہی سائنس مادی حواس کی جھوٹی گواہی کو تبدیل کر دیتی ہے، اور یوں غلطی کی بنیادوں کو توڑ دیتی ہے۔ لہٰذہ سائنس اور حواس کے مابین دْشمنی اور حسی غلطیوں کی بدولت کامل سمجھ حاصل کرنے کے ناممکنات ختم ہو جاتے ہیں۔

مادے کے نام نہاد قوانین اور طبی سائنس نے کبھی بشر کو مکمل، ہم آہنگ اور لافانی نہیں بنایا۔ انسان تب ہم آہنگ ہوتا ہے جب روح کی نگرانی میں ہوتا ہے۔اسی طرح ہستی کی سچائی کو سمجھنے کی اہمیت ہے، جو روحانی وجودیت کے قوانین کو ظاہر کرتی ہے۔

10. 273 : 10-20

Divine Science reverses the false testimony of the material senses, and thus tears away the foundations of error. Hence the enmity between Science and the senses, and the impossibility of attaining perfect understanding till the errors of sense are eliminated.

The so-called laws of matter and of medical science have never made mortals whole, harmonious, and immortal. Man is harmonious when governed by Soul. Hence the importance of understanding the truth of being, which reveals the laws of spiritual existence.

11۔ 323 :19۔24

جب کوئی بیمار یا گناگار اپنی اْس ضرورت کے لئے بیدار ہوتے ہیں جس کے لئے وہ کبھی نہیں ہوئے تووہ الٰہی سائنس کے قبول کرنے والے ہوں گے، جو جان کی جانب اور مادی فہم سے دور کھچاؤ پیدا کرتی ہے، بدن سے خیالات کو تلف کرتی ہے اور حتیٰ کہ مادی عقل کو بھی بیماری یا گناہ سے کسی بہتر چیز کے تصور سے بلند کرتی ہے۔

11. 323 : 19-24

When the sick or the sinning awake to realize their need of what they have not, they will be receptive of divine Science, which gravitates towards Soul and away from material sense, removes thought from the body, and elevates even mortal mind to the contemplation of something better than disease or sin.

12۔ 390 :4۔11

ہم اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ زندگی خود پرور ہے، اور ہمیں روح کی ابدی ہم آہنگی سے منکر نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ، بظاہر فانی احساسات میں اختلاف ہیں۔ یہ خدا، الٰہی اصول، سے ہماری نا واقفیت ہے جو ظاہری اختلاف کو جنم دیتی ہے، اور اس سے متعلق بہتر سوچ ہم آہنگی کو بحال کرتی ہے۔ سچائی تفصیل میں ہمیں مجبور کرے گی کہ ہم سب خوشیوں اور دْکھوں کے فہم کا زندگی کی خوشیوں کے ساتھ تبادلہ کریں۔

12. 390 : 4-11

We cannot deny that Life is self-sustained, and we should never deny the everlasting harmony of Soul, simply because, to the mortal senses, there is seeming discord. It is our ignorance of God, the divine Principle, which produces apparent discord, and the right understanding of Him restores harmony. Truth will at length compel us all to exchange the pleasures and pains of sense for the joys of Soul.

13۔ 322 :3۔13

جب مادی سے روحانی بنیادوں پر زندگی اور ذہانت کا فہم اپنا نقطہ نظر تبدیل کرتا ہے،تو ہمیں زندگی کی حقیقت میسر آئے گی، یعنی فہم پر روح کا قابو، تو ہم مسیحت یا سچائی کو اس کے الٰہی اصول میں پائیں گے۔کسی ہم آہنگ اور فانی انسان کے حاصل ہونے اور اْس کی قابلیتوں کے اظہار سے قبل یہ ایک نقطۂ عروج ہونا چاہئے۔ الٰہی سائنس کی شناخت ہونے سے قبل اس عظیم کام کی تکمیل کو دیکھتے ہوئے، الٰہی اصول سے اپنے خیالات کو ہٹانا بہت اہم ہے، تاکہ محدود عقیدے کو اس کی غلطی سے دستبردار ہونے کے لئے تیار کیا جا سکے۔

13. 322 : 3-13

When understanding changes the standpoints of life and intelligence from a material to a spiritual basis, we shall gain the reality of Life, the control of Soul over sense, and we shall perceive Christianity, or Truth, in its divine Principle. This must be the climax before harmonious and immortal man is obtained and his capabilities revealed. It is highly important — in view of the immense work to be accomplished before this recognition of divine Science can come — to turn our thoughts towards divine Principle, that finite belief may be prepared to relinquish its error.

14۔ 125 :2۔20

انسانی بدن میں نامیاتی اور باضابطہ صحت کے لئے جسے اب بہترین حالت سمجھا جاتا ہے شاید وہ صحت کے لیے مزید ناگزیر نہ رہے۔اخلاقی حالتیں ہمیشہ صحت افزاء اور ہم آہنگ پائی جاتی ہیں۔نہ نامیاتی غیر فعالی نہ فعالی خدا کے اختیار سے باہر ہے؛ اور تبدیل شدہ فانی خیال کے لئے انسان فطری اور قدرتی پایا جائے گا، اور اسی لئے وہ اپنی پہلی حالت سے زیادہ اپنے اظہار میں ہم آہنگ ہوگا وہ حالت جو انسانی عقیدے نے بنائی اور اْس کی منظوری دی۔

چونکہ انسانی سوچ شعوری درد اور بے آرامی،خوشی اور غمی، خوف سے امید اور ایمان سے فہم کے ایک مرحلے سے دوسرے میں تبدیل ہوتی رہتی ہے، اس لئے ظاہری اظہاربالاآخر انسان پر جان کی حکمرانی ہوگا نہ کہ مادی فہم کی حکمرانی ہوگا۔خدا کی حکمرانی کی عکاسی کرتے ہوئے، انسان خود پر حکمران ہے۔صحت سے متعلق ہمارے مادی نظریات کو بے قیمت ثابت کرتے ہوئے جب انسان الٰہی روح کے ماتحت ہوجاتا ہے تو موت یا گناہ کے اختیار میں نہیں ہوسکتا۔

14. 125 : 2-20

What is now considered the best condition for organic and functional health in the human body may no longer be found indispensable to health. Moral conditions will be found always harmonious and health-giving. Neither organic inaction nor overaction is beyond God's control; and man will be found normal and natural to changed mortal thought, and therefore more harmo-nious in his manifestations than he was in the prior states which human belief created and sanctioned.

As human thought changes from one stage to another of conscious pain and painlessness, sorrow and joy, — from fear to hope and from faith to understanding, — the visible manifestation will at last be man governed by Soul, not by material sense. Reflecting God's government, man is self-governed. When subordinate to the divine Spirit, man cannot be controlled by sin or death, thus proving our material theories about laws of health to be valueless.

15۔ 590 :1۔3

آسمان کی بادشاہی۔ الٰہی سائنس میں ہم آہنگی کی سلطنت؛ غلطی نہ کرنے والے کی ریاست، ابدی اور قادر مطلق عقل، روح کا ماحول، جہاں جان اعلیٰ ہے۔

15. 590 : 1-3

Kingdom of Heaven. The rein of harmony in divine Science; the realm of unerring, eternal, and omnipotent Mind; the atmosphere of Spirit, where Soul is supreme.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████