اتوار 16 مئی،2021



مضمون۔ فانی اور لافانی

SubjectMortals and Immortals

سنہری متن: رومیوں 6باب23 آیت

”خدا کی بخشش ہمارے خداوند یسوع مسیح میں ہمیشہ کی زندگی ہے۔“



Golden Text: Romans 6 : 23

The gift of God is eternal life through Jesus Christ our Lord.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور 116: 1، 2، 6تا9 آیات


1۔ میں خداوند سے محبت رکھتا ہوں۔کیونکہ اُس نے میری فریاد سنی اور میری منت سنی ہے۔

2۔ چونکہ اُس نے میری طرف کان لگایا۔ اس لئے میں عمر بھر اُس سے دعا کروں گا۔

6۔ خداوند سادہ لوگوں کی حفاظت کرتا ہے۔ میں پست ہو گیا تھا اسی نے بچا لیا۔

7۔ اے میری جان! پھر مطمین ہو کیونکہ خُداوند نے تجھ پر احسان کیا ہے۔

8۔ اس لئے کہ تُو نے میری جان کو موت سے میری آنکھوں کو آنسو بہانے سے اور میری پاؤں کو پھسلنے سے بچایا ہے۔

9۔ میں زندوں کی زمین میں خداوند کے حضور چلتا رہونگا۔

Responsive Reading: Psalm 116 : 1, 2, 6-9

1.     I love the Lord, because he hath heard my voice and my supplications.

2.     Because he hath inclined his ear unto me, therefore will I call upon him as long as I live.

6.     The Lord preserveth the simple: I was brought low, and he helped me.

7.     Return unto thy rest, O my soul; for the Lord hath dealt bountifully with thee.

8.     For thou hast delivered my soul from death, mine eyes from tears, and my feet from falling.

9.     I will walk before the Lord in the land of the living.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ زبور 23: 1تا6 آیات

1۔خداوند میرا چوپان ہے۔ مجھے کمی نہ ہوگی۔

2۔ وہ مجھے ہری ہری چراگاہوں میں بٹھاتاہے۔ وہ مجھے راحت کے چشموں کے پاس لے جاتا ہے۔

3۔ وہ میری جان کو بحال کرتا ہے۔وہ مجھے اپنے نام کی خاطر صداقت کی راہوں پر لے چلتا ہے۔

4۔ بلکہ خواہ موت کے سایہ کی وادی میں سے میرا گزر ہو میں کسی بلا سے نہیں ڈرونگا کیونکہ تُو میرے ساتھ ہے تیرے عصا اور تیری لاٹھی سے مجھے تسلی ہے۔

5۔ تُو میرے دُشمنوں کے رُوبُرو میرے آگے دستر خوان بچھاتا ہے۔ تُو نے میرے سر پر تیل ملا ہے۔ میرا پیالہ لبریز ہوتا ہے۔

6۔ یقیناً بھلائی اور رحمت عُمر بھر میرے ساتھ ساتھ رہیں گی اور میں ہمیشہ خُداوند کے گھر میں سکونت کرونگا۔

1. Psalm 23 : 1-6

1     The Lord is my shepherd; I shall not want.

2     He maketh me to lie down in green pastures: he leadeth me beside the still waters.

3     He restoreth my soul: he leadeth me in the paths of righteousness for his name’s sake.

4     Yea, though I walk through the valley of the shadow of death, I will fear no evil: for thou art with me; thy rod and thy staff they comfort me.

5     Thou preparest a table before me in the presence of mine enemies: thou anointest my head with oil; my cup runneth over.

6     Surely goodness and mercy shall follow me all the days of my life: and I will dwell in the house of the Lord for ever.

2۔ یوحنا 3باب1تا12 آیات

1۔ فریسیوں میں سے ایک شخص نیکودیمس نام یہودیوں کا ایک سردار تھا۔

2۔ اْس نے رات کو یسوع کے پاس آکر اْس سے کہا اے ربی ہم جانتے ہیں کہ تْو خدا کی طرف سے استاد ہو کر آیا ہے کیونکہ جو معجزے تْو دکھاتا ہے کوئی شخص نہیں دکھا سکتا جب تک خدا اْس کے ساتھ نہ ہو۔

3۔ یسوع نے جواب میں اْس سے کہا مَیں تجھ سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک کوئی نئے سرے سے پیدا نہ ہو خدا کی بادشاہی کو دیکھ نہیں سکتا۔

4۔ نیکودیمس نے اْس سے کہا آدمی جب بوڑھا ہوگیا تو کیونکر پیدا ہوسکتا ہے؟ کیا وہ دوبارہ اپنی ماں کے پیٹ میں داخل ہو کر پیدا ہوسکتا ہے؟

5۔ یسوع نے جواب دیا کہ مَیں تجھ سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک کوئی آدمی پانی اور روح سے پیدا نہ ہو وہ خدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہوسکتا۔

6۔ جو جسم سے پیدا ہوا ہے جسم ہے اور جو روح سے پیدا ہوا ہے روح ہے۔

7۔ تعجب نہ کر کہ مَیں نے تجھ سے کہا کہ تمہیں نئے سرے سے پیدا ہونا ضرور ہے۔

8۔ ہوا جدھر چاہتی ہے چلتی ہے اور تْو اْس کی آواز سنتا ہے مگر نہیں جانتا کہ کہاں سے آتی ہے اور کہاں کو جاتی ہے۔ جو کوئی روح سے پیدا ہوا ہے ایسا ہی ہے۔

9۔ نیکودیمس نے اْس سے کہا کہ یہ باتیں کیونکر ہو سکتی ہیں؟

10۔ یسوع نے اْس سے کہا بنی اسرائیل کا استاد ہو کر کیا تْو اِن باتوں کو نہیں جانتا؟

11۔ مَیں تجھ سے سچ کہتا ہوں کہ جو ہم جانتے ہیں وہ کہتے ہیں اور جسے ہم نے دیکھا ہے اْس کی گواہی دیتے ہیں اور تم ہماری گواہی قبول نہیں کرتے۔

12۔ جب مَیں نے تم سے زمین کی باتیں کہیں اور تم نے یقین نہیں کیا تو اگر مَیں تم سے آسمان کی باتیں کہوں تو کیونکر یقین کرو گے؟

2. John 3 : 1-12

1     There was a man of the Pharisees, named Nicodemus, a ruler of the Jews:

2     The same came to Jesus by night, and said unto him, Rabbi, we know that thou art a teacher come from God: for no man can do these miracles that thou doest, except God be with him.

3     Jesus answered and said unto him, Verily, verily, I say unto thee, Except a man be born again, he cannot see the kingdom of God.

4     Nicodemus saith unto him, How can a man be born when he is old? can he enter the second time into his mother’s womb, and be born?

5     Jesus answered, Verily, verily, I say unto thee, Except a man be born of water and of the Spirit, he cannot enter into the kingdom of God.

6     That which is born of the flesh is flesh; and that which is born of the Spirit is spirit.

7     Marvel not that I said unto thee, Ye must be born again.

8     The wind bloweth where it listeth, and thou hearest the sound thereof, but canst not tell whence it cometh, and whither it goeth: so is every one that is born of the Spirit.

9     Nicodemus answered and said unto him, How can these things be?

10     Jesus answered and said unto him, Art thou a master of Israel, and knowest not these things?

11     Verily, verily, I say unto thee, We speak that we do know, and testify that we have seen; and ye receive not our witness.

12     If I have told you earthly things, and ye believe not, how shall ye believe, if I tell you of heavenly things?

3۔ 1 یوحنا 5باب5، 11، 13، 20 آیات

5۔ دنیا کا مغلوب کرنے والا کون ہے سوا اْس شخص کے جس کا ایمان یہ ہے کہ یسوع خدا کا بیٹا ہے؟

11۔ اور وہ گواہی یہ ہے کہ خدا نے ہمیں ہمیشہ کی زندگی بخشی اور یہ زندگی اْس کے بیٹے میں ہے؟

13۔ مَیں نے تم کو جو خدا کے بیٹے پر ایمان لائے ہو یہ باتیں اِس لئے لکھیں کہ تمہیں معلوم ہو کہ ہمیشہ کی زندگی رکھتے ہو۔

20۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ خدا کا بیٹا آگیا ہے اور اْس نے ہمیں سمجھ بخشی ہے تاکہ اْس کو جو حقیقی ہے جانیں اور ہم اْس میں جو حقیقی ہے یعنی اْس کے بیٹے یسوع مسیح میں ہیں۔ حقیقی خدا اور ہمیشہ کی زندگی یہی ہے۔

3. I John 5 : 5, 11, 13, 20

5     Who is he that overcometh the world, but he that believeth that Jesus is the Son of God?

11     And this is the record, that God hath given to us eternal life, and this life is in his Son.

13     These things have I written unto you that believe on the name of the Son of God; that ye may know that ye have eternal life, and that ye may believe on the name of the Son of God.

20     And we know that the Son of God is come, and hath given us an understanding, that we may know him that is true, and we are in him that is true, even in his Son Jesus Christ. This is the true God, and eternal life.

4۔ 1 تمیتھیس 1باب12(مَیں) تا 17 (تا پہلا) آیات

12۔ میں اپنے طاقت بخشنے والے خداوند یسوع مسیح کا شکر کرتا ہوں کہ اْس نے مجھے دیانتدار سمجھ کر اپنی خدمت کے لئے مقرر کیا۔

13۔ اگرچہ میں پہلے کفر بکنے والا اور ستانے والا اور بے عزت کرنے والا تھا تو بھی مجھ پر رحم ہوا اس واسطے کہ میں نے بے ایمانی کی حالت میں نادانی سے یہ کام کئے تھے۔

14۔ اور ہمارے خداوند کا فضل اْس ایمان اور محبت کے ساتھ جو مسیح یسوع میں ہے بہت زیادہ ہوا۔

15۔ یہ بات سچ اور ہر طرح سے قبول کرنے کے لائق ہے کہ مسیح یسوع گناہگاروں کو نجات دینے کے لئے دنیا میں آیا جن میں سب سے بڑا مَیں ہوں۔

16۔ لیکن مجھ پر رحم اس لئے ہوا کہ مسیح یسوع مجھ بڑے گناہگار پر اپنا کمال تحمل ظاہر کرے تاکہ جو لوگ ہمیشہ کی زندگی کے لئے اْس پر ایمان لائیں گے اْن کے لئے میں نمونہ بنوں۔

17۔ اب ازلی بادشاہ یعنی غیر فانی نادیدہ واحد خدا کی عزت اور تمجید ابد الاباد ہوتی رہے۔

4. I Timothy 1 : 12 (I)-17 (to 1st .)

12     I thank Christ Jesus our Lord, who hath enabled me, for that he counted me faithful, putting me into the ministry;

13     Who was before a blasphemer, and a persecutor, and injurious: but I obtained mercy, because I did it ignorantly in unbelief.

14     And the grace of our Lord was exceeding abundant with faith and love which is in Christ Jesus.

15     This is a faithful saying, and worthy of all acceptation, that Christ Jesus came into the world to save sinners; of whom I am chief.

16     Howbeit for this cause I obtained mercy, that in me first Jesus Christ might shew forth all longsuffering, for a pattern to them which should hereafter believe on him to life everlasting.

17     Now unto the King eternal, immortal, invisible, the only wise God, be honour and glory for ever and ever.

5۔ 1 کرنتھیوں 15باب50تا57 آیات

50۔ اے بھائیو! میرا مطلب یہ ہے کہ گوشت اور خون خدا کی بادشاہی کے وارث نہیں ہو سکتے اور نہ فنا بقا کی وارث ہو سکتی ہے۔

51۔ دیکھو میں تم سے بھید کی بات کہتا ہوں۔ ہم سب تو نہیں سوئیں گے مگر سب بدل جائیں گے۔

52۔ اور یہ ایک دم میں۔ ایک پل میں۔ پچھلا نرسنگا پھونکتے ہی ہوگا کیونکہ نرسنگا پھونکا جائے گا اور مردے غیر فانی حالت میں اْٹھیں گے اور ہم بدل جائیں گے۔

53۔ کیونکہ ضرور ہے کہ یہ فانی جسم بقا کا جامہ پہنے اور مرنے والا جسم حیاتِ ابدی کا جامہ پہنے۔

54۔ اور جب یہ فانی جسم بقا کا جامہ پہن چکے گا اور یہ مرنے والا جسم حیات ِ ابدی کا جامہ پہن چکے گا تو وہ قول پورا ہوگا جو لکھا ہے کہ موت فتح کا لْقمہ ہو گئی۔

55۔ اے موت تیری فتح کہاں رہی؟ اے موت تیرا ڈنک کہاں رہا؟

56۔ موت کا ڈنک گناہ ہے اور گناہ کا زور شریعت ہے۔

57۔ مگر خدا کا شکر ہے جو ہمارے خداوند یسوع مسیح کے وسیلہ سے ہم کو فتح بخشتا ہے۔

5. I Corinthians 15 : 50-57

50     Now this I say, brethren, that flesh and blood cannot inherit the kingdom of God; neither doth corruption inherit incorruption.

51     Behold, I shew you a mystery; We shall not all sleep, but we shall all be changed,

52     In a moment, in the twinkling of an eye, at the last trump: for the trumpet shall sound, and the dead shall be raised incorruptible, and we shall be changed.

53     For this corruptible must put on incorruption, and this mortal must put on immortality.

54     So when this corruptible shall have put on incorruption, and this mortal shall have put on immortality, then shall be brought to pass the saying that is written, Death is swallowed up in victory.

55     O death, where is thy sting? O grave, where is thy victory?

56     The sting of death is sin; and the strength of sin is the law.

57     But thanks be to God, which giveth us the victory through our Lord Jesus Christ.

6۔ مکاشفہ 21 باب2 آیت

2۔پھر مَیں نے شہر مقدس نئے یروشلیم کو آسمان پر سے خدا کے پاس سے اترتے دیکھا اور وہ اُس دلہن کی مانند آراستہ تھا جس نے اپنے شوہر کے لئے شنگھار کیا ہو۔

6. Revelation 21 : 2

2     And I John saw the holy city, new Jerusalem, coming down from God out of heaven, prepared as a bride adorned for her husband.

7۔ مکاشفہ 22باب1، 2، 14 آیات

1۔ پھر اْس نے مجھے بلور کی طرح چمکتا ہوا آبِ حیات کا ایک درخت دکھایا جو خدا اور برے کے تخت سے نکل کر اْس شہر کی سڑک کے بیچ میں بہتا تھا۔

2۔ اور دریا کے وار پار زندگی کا درخت تھا۔ اْس میں بارہ قسم کے پھل آتے تھے اور ہر مہینے میں پھلتا تھا اور اْس درخت کے پتوں سے قوموں کو شفا ہوتی تھی۔

14۔ مبارک ہیں وہ جو اپنے جامے دھوتے ہیں کیونکہ زندگی کے درخت کے پاس آنے کا اختیار پائیں گے اور اْن دروازوں سے شہر میں داخل ہوں گے۔

7. Revelation 22 : 1, 2, 14

1     And he shewed me a pure river of water of life, clear as crystal, proceeding out of the throne of God and of the Lamb.

2     In the midst of the street of it, and on either side of the river, was there the tree of life, which bare twelve manner of fruits, and yielded her fruit every month: and the leaves of the tree were for the healing of the nations.

14     Blessed are they that do his commandments, that they may have right to the tree of life, and may enter in through the gates into the city.

8۔ مکاشفہ 2باب7 آیت

7۔ جس کے کان ہوں وہ سنے کہ روح کلیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے۔ جو غالب آئے میں اْسے زندگی کے درخت میں سے جو خدا کے فردوس میں ہے پھل کھانے کو دوں گا۔

8. Revelation 2 : 7

7     He that hath an ear, let him hear what the Spirit saith unto the churches; To him that overcometh will I give to eat of the tree of life, which is in the midst of the paradise of God.



سائنس اور صح


1۔ 42 :26 (میں)۔28

۔۔۔ کرسچن سائنس میں حقیقی انسان پر خدا یعنی اچھائی حکومت کرتی ہے نہ کہ بدی، اور اسی لئے وہ فانی نہیں بلکہ لافانی ہے۔

1. 42 : 26 (in)-28

…in Christian Science the true man is governed by God — by good, not evil — and is therefore not a mortal but an immortal.

2۔ 434 :31 (خدا)۔32

خدا نے انسان کو غیر فانی اور صرف روح کا فرمانبردار بنایا۔

2. 434 : 31 (God)-32

God made Man immortal and amenable to Spirit only.

3۔ 246 :27۔31

زندگی ابدی ہے۔ ہمیں اس کی تلاش کرنی چاہئے اور اس سے اظہار کا اغاز کرنا چاہئے۔ زندگی اور اچھائی لافانی ہیں۔ توآئیے ہم وجودیت سے متعلق ہمارے خیالات کوعمر اور خوف کی بجائے محبت، تازگی اور تواتر کے ساتھ تشکیل دیں۔

3. 246 : 27-31

Life is eternal. We should find this out, and begin the demonstration thereof. Life and goodness are immortal. Let us then shape our views of existence into loveliness, freshness, and continuity, rather than into age and blight.

4۔ 295 :5۔15

خدا کائنات کو،بشمول انسان،خلق کرتا اور اْس پر حکومت کرتا ہے، یہ کائنات روحانی خیالات سے بھری پڑی ہے، جنہیں وہ تیار کرتا ہے، اور وہ اْس عقل کی فرمانبرداری کرتے ہیں جو انہیں بناتے ہیں۔ فانی عقل مادی کو روحانی میں تبدیل کر دے گی، اور پھر انسان کی اصل خودی کو غلطی کی فانیت سے رہا کرنے کے لئے ٹھیک کرے گی۔ فانی لوگ غیر فانیوں کی مانند خدا کی صورت پر پیدا نہیں کئے گئے، بلکہ لامحدود روحانی ہستی کی مانند فانی ضمیر بالا آخر سائنسی حقیقت کو تسلیم کرے گا اور غائب ہو جائے گا،اور ہستی کا،کامل اور ہمیشہ سے برقرار حقیقی فہم سامنے آئے گا۔

4. 295 : 5-15

God creates and governs the universe, including man. The universe is filled with spiritual ideas, which He evolves, and they are obedient to the Mind that makes them. Mortal mind would transform the spiritual into the material, and then recover man's original self in order to escape from the mortality of this error. Mortals are not like immortals, created in God's own image; but infinite Spirit being all, mortal consciousness will at last yield to the scientific fact and disappear, and the real sense of being, perfect and forever intact, will appear.

5۔ 81 :17۔18، 25۔30

جیسا کہ سائنس میں ظاہر کیا گیا ہے انسان خدا کی صورت پر ہوتے ہوئے لافانی ہونے سے انکار نہیں کر سکتا۔۔۔ اگرچہ غیر ہم آہنگی جو مادی فہم سے پیدا ہوتی ہے سائنس کی ہم آہنگی کو چھپا دیتی ہے، تاہم غیر ہم آہنگی سائنس کے الٰہی اصول کو نیست نہیں کر سکتی۔ سائنس میں، انسان کی لافانیت خدا، یعنی اچھائی پر منحصر ہے اور یہ اچھائی کی لافانیت کے لازمی نتیجہ کے طور پر پیروی کرتی ہے۔

5. 81 : 17-18, 25-30

Man in the likeness of God as revealed in Science cannot help being immortal. … Though the inharmony resulting from material sense hides the harmony of Science, inharmony cannot destroy the divine Principle of Science. In Science, man's immortality depends upon that of God, good, and follows as a necessary consequence of the immortality of good.

6۔ 476 :1۔5، 10۔20، 28۔32

بشر لافانیوں کا فریب ہیں۔ وہ بدکرداروں، یا بدوں کی اولاد ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انسان مٹی سے شروع ہوایا مادی ایمبریو کے طور پر پیدا ہوا ہے۔ الٰہی سائنس میں، خدااور حقیقی انسان الٰہی اصول اور خیال کی مانند ناقابل غیر مْنفک ہیں۔

لہٰذہ انسان نہ فانی ہے نہ مادی ہے۔فانی غائب ہو جائیں گے اور لافانی یا خدا کے فرزند انسان کی واحد اور ابدی سچائیوں کے طور پر سامنے آئیں گے۔ فانی بشر خدا کے گرائے گئے فرزند نہیں ہیں۔ وہ کبھی بھی ہستی کی کامل حالت میں نہیں تھے، جسے بعد ازیں دوبارہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔فانی تاریخ کے آغاز سے انہوں نے ”بدی میں حالت پکڑی اور گناہ کی حالت میں ماں کے پیٹ میں پڑے۔“آخر کار فانیت غیر فانیت کے باعث ہڑپ کر لی جاتی ہے۔ جو حقائق غیر فانی انسان سے تعلق رکھتے ہیں انہیں جگہ فراہم کرنے کے لئے گناہ، بیماری اور موت کوغائب ہونا چاہئے۔

خدا کے لوگوں سے متعلق، نہ کہ انسان کے بچوں سے متعلق، بات کرتے ہوئے یسوع نے کہا، ”خدا کی بادشاہی تمہارے درمیان ہے؛“ یعنی سچائی اور محبت حقیقی انسان پر سلطنت کرتی ہے، یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ انسان خدا کی صورت پر بے گناہ اور ابدی ہے۔

6. 476 : 1-5, 10-20, 28-32

Mortals are the counterfeits of immortals. They are the children of the wicked one, or the one evil, which declares that man begins in dust or as a material embryo. In divine Science, God and the real man are inseparable as divine Principle and idea.

Hence man is not mortal nor material. Mortals will disappear, and immortals, or the children of God, will appear as the only and eternal verities of man. Mortals are not fallen children of God. They never had a perfect state of being, which may subsequently be regained. They were, from the beginning of mortal history, "conceived in sin and brought forth in iniquity." Mortality is finally swallowed up in immortality. Sin, sickness, and death must disappear to give place to the facts which belong to immortal man.

When speaking of God's children, not the children of men, Jesus said, "The kingdom of God is within you;" that is, Truth and Love reign in the real man, showing that man in God's image is unfallen and eternal.

7۔ 296 :4۔13

ترقی تجربے سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ فانی انسان کی پختگی ہے، جس کے وسیلہ لافانی کی خاطر فانی بشر کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ خواہ یہاں یا اس کے بعد، تکالیف یا سائنس کو زندگی اور عقل کے حوالے سے تمام تر فریب نظری کو ختم کر دینا چاہئے، او ر مادی فہم اور خودی کو از سرے نو پیدا کرنا چاہئے۔ انسانیت کو اْس کے اعمال کے ساتھ منسوخ کر دینا چاہئے۔ کوئی بھی نفس پرستی یا گناہ آلود چیز لافانی نہیں ہے۔یہ مادے کی موت نہیں بلکہ جھوٹے مادی فہم اور گناہ کی موت ہی ہے جسے انسان اور زندگی ہم آہنگ، حقیقی اور ابدی ظاہر کرتے ہیں۔

7. 296 : 4-13

Progress is born of experience. It is the ripening of mortal man, through which the mortal is dropped for the immortal. Either here or hereafter, suffering or Science must destroy all illusions regarding life and mind, and regenerate material sense and self. The old man with his deeds must be put off. Nothing sensual or sinful is immortal. The death of a false material sense and of sin, not the death of organic matter, is what reveals man and Life, harmonious, real, and eternal.

8۔ 435 :12 (اچھے)۔14

۔۔۔اچھے کام دْکھ کی بجائے خوشی، درد کی بجائے لْطف، موت کی بجائے زندگی لاتے ہوئے لافانی ہوتے ہیں۔

8. 435 : 12 (good)-14

…good deeds are immortal, bringing joy instead of grief, pleasure instead of pain, and life instead of death.

9۔ 190 :14۔20

انسانی پیدائش، بالیدگی، بلوغت اورزوال اْس گھاس کی مانند ہیں جو سبز پتوں کے ساتھ مٹی میں سے اگتی ہے، تاکہ بعد میں مرجھا ئے اور اپنے آبائی عدم میں لوٹ جائے۔ یہ فانی اظہار عارضی ہے، یہ لافانی ہستی میں کبھی ضم نہیں ہوتا، بلکہ بالاآخر ختم ہو جاتا ہے، اور فانی انسان، روحانی اور ابدی، حقیقی انسان ہی سمجھا جاتا ہے۔

9. 190 : 14-20

Human birth, growth, maturity, and decay are as the grass springing from the soil with beautiful green blades, afterwards to wither and return to its native nothingness. This mortal seeming is temporal; it never merges into immortal being, but finally disappears, and immortal man, spiritual and eternal, is found to be the real man.

10۔ 496 :20۔27

”موت کا ڈنک گناہ ہے اور گناہ کا زور شریعت ہے“، فانی عقیدے کی شریعت جو لافانی زندگی کے حقائق کے ساتھ جنگ کرتی ہے، حتیٰ کہ روحانی شریعت کے ساتھ بھی جو قبرکو کہتی ہے، ”تیری فتح کہاں رہی؟“ لیکن ”اور جب یہ فانی جسم بقا کا جامہ پہن چکے گا اور یہ مرنے والا جسم حیاتِ ابدی کا جامہ پہن چکے گا تو وہ قول پورا ہوگا جو لکھا ہے کہ موت فتح کا لْقمہ ہوگئی۔“

10. 496 : 20-27

"The sting of death is sin; and the strength of sin is the law," — the law of mortal belief, at war with the facts of immortal Life, even with the spiritual law which says to the grave, "Where is thy victory?" But "when this corruptible shall have put on incorruption, and this mortal shall have put on immortality, then shall be brought to pass the saying that is written, Death is swallowed up in victory."

11۔ 428 :22۔29

ایک بڑی روحانی حقیقت سامنے لائی جانی چاہئے کہ انسان کامل اور لافانی ہوگا نہیں بلکہ ہے۔ ہمیں وجودیت کے شعور کو ہمیشہ قائم رکھنا چاہئے اور جلد یا بدیر، مسیح اور کرسچن سائنس کے وسیلہ گناہ اور موت پر حاکم ہونا چاہئے۔ جب مادی عقائد کو ترک کیا جاتا ہے اورہستی کے غیر فانی حقائق کو قبول کر لیا جاتا ہے تو انسان کی لافانیت کی شہادت مزید واضح ہو جاتی ہے۔

11. 428 : 22-29

The great spiritual fact must be brought out that man is, not shall be, perfect and immortal. We must hold forever the consciousness of existence, and sooner or later, through Christ and Christian Science, we must master sin and death. The evidence of man's immortality will become more apparent, as material beliefs are given up and the immortal facts of being are admitted.

12۔ 76 :22۔31

بے گناہ خوشی، زندگی کی کامل ہم آہنگی اور لافانیت، ایک بھی جسمانی تسکین یا درد کے بِنا لامحدود الٰہی خوبصورتی اور اچھائی کی ملکیت رکھتے ہوئے، اصلی اور لازوال انسان تشکیل دیتی ہے، جس کا وجود روحانی ہوتا ہے۔ وجودیت کی یہ حالت سائنسی ہے اور برقرار ہے، یعنی ایسی کاملیت جو محض اْن لوگوں کے لئے قابل فہم ہے جنہیں الٰہی سائنس میں مسیح کی حتمی سمجھ ہے۔ موت وجودیت کی اس حالت کو کبھی تیز نہیں کر سکتی کیونکہ لافانیت کے ظاہر ہونے سے قبل موت پر فتح مند ہونا چاہئے نہ کہ اْس کے سپرد ہونا چاہئے۔

12. 76 : 22-31

The sinless joy, — the perfect harmony and immortality of Life, possessing unlimited divine beauty and goodness without a single bodily pleasure or pain, — constitutes the only veritable, indestructible man, whose being is spiritual. This state of existence is scientific and intact, — a perfection discernible only by those who have the final understanding of Christ in divine Science. Death can never hasten this state of existence, for death must be overcome, not submitted to, before immortality appears.

13۔ 495 :14۔24

جب بیماری یا گناہ کا بھرم آپ کو آزماتا ہے تو خدا اور اْس کے خیال کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ منسلک رہیں۔ اْس کے مزاج کے علاوہ کسی چیز کو آپ کے خیال میں قائم ہونے کی اجازت نہ دیں۔ کسی خوف یا شک کو آپ کے اس واضح اورمطمین بھروسے پر حاوی نہ ہونے دیں کہ پہچانِ زندگی کی ہم آہنگی، جیسے کہ زندگی ازل سے ہے، اس چیز کے کسی بھی درد ناک احساس یا یقین کو تبا ہ کر سکتی ہے جو زندگی میں ہے ہی نہیں۔جسمانی حس کی بجائے کرسچن سائنس کو ہستی سے متعلق آپ کی سمجھ کی حمایت کرنے دیں، اور یہ سمجھ غلطی کو سچائی کے ساتھ اکھاڑ پھینکے گی، فانیت کا غیر فانیت کے ساتھ تبدیل کرے گی، اور خاموشی کی ہم آہنگی کے ساتھ مخالفت کرے گی۔

13. 495 : 14-24

When the illusion of sickness or sin tempts you, cling steadfastly to God and His idea. Allow nothing but His likeness to abide in your thought. Let neither fear nor doubt overshadow your clear sense and calm trust, that the recognition of life harmonious — as Life eternally is — can destroy any painful sense of, or belief in, that which Life is not. Let Christian Science, instead of corporeal sense, support your understanding of being, and this understanding will supplant error with Truth, replace mortality with immortality, and silence discord with harmony.

14۔ 288 :27۔28

سائنس اْس لافانی انسان کے جلالی امکانات کو ظاہر کرتی ہے جو ہمیشہ کے لئے فانی حواس کی طرف سے لامحدود ہوتا ہے۔

14. 288 : 27-28

Science reveals the glorious possibilities of immortal man, forever unlimited by the mortal senses.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████