اتوار 17جنوری،2021



مضمون۔ زندگی

SubjectLife

سنہری متن: رومیوں 6باب23 آیت

”خدا کی بخشش ہمارے خداوند یسوع میں ہمیشہ کی زندگی ہے۔“



Golden Text: Romans 6 : 23

The gift of God is eternal life through Jesus Christ our Lord.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: یوحنا 17 باب1، 3 آیات • رومیوں 8 باب1تا4، 6 آیات


1۔یسوع نے یہ باتیں سنیں اور اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھا کر کہا اے باپ! وہ گھڑی آپہنچی۔ اپنے بیٹے کا جلال ظاہر تا کہ بیٹا تیرا جلال ظاہر کرے۔

3۔ اور ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدائے واحد اور برحق کو اور یسوع مسیح کو جسے تْو نے بھیجا ہے جانیں۔

1۔ پس اب جو مسیح یسوع میں ہیں اْن پر سزا کا حکم نہیں۔ جو جسم کے مطابق نہیں بلکہ روح کے مطابق چلتے ہیں۔

2۔ کیونکہ زندگی کے روح کی شریعت نے مسیح یسوع میں مجھے گناہ اور موت کی شریعت سے آزاد کردیا۔

3۔ اس لئے کہ جو کام شریعت جسم کے سبب سے کمزور ہو کر نہ کرسکی وہ خدا نے کیا یعنی اْس نے اپنے بیٹے کو گناہ آلودہ جسم کی صورت میں اور گناہ کی قربانی کے لئے بھیج کر جسم کی سزا کا حکم دیا۔

4۔ تاکہ شریعت کا تقاضا ہم میں پورا ہو جو جسم کے مطابق نہیں بلکہ روح کے مطابق چلتے ہیں۔

6۔ اور جسمانی نیت موت ہے مگر روحانی نیت زندگی اور اطمینان ہے۔

Responsive Reading: John 17 : 1, 3; Romans 8 : 1-4, 6

1.     These words spake Jesus, and lifted up his eyes to heaven, and said, Father, the hour is come; glorify thy Son, that thy Son also may glorify thee.

3.     This is life eternal, that they might know thee the only true God, and Jesus Christ, whom thou hast sent.

1.     There is therefore now no condemnation to them which are in Christ Jesus, who walk not after the flesh, but after the Spirit.

2.     For the law of the Spirit of life in Christ Jesus hath made me free from the law of sin and death.

3.     For what the law could not do, in that it was weak through the flesh, God sending his own Son in the likeness of sinful flesh, and for sin, condemned sin in the flesh:

4.     That the righteousness of the law might be fulfilled in us, who walk not after the flesh, but after the Spirit.

6.     For to be carnally minded is death; but to be spiritually minded is life and peace.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ یوحنا 1 باب1، 3،4 آیات

1۔ ابتدا میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھااور کلام خدا تھا۔

3۔ سب چیزیں اْسی کے وسیلہ سے پیدا ہوئیں اور جو کچھ پیدا ہوا ہے اْس میں کوئی چیز بھی اْس کے بغیر پیدا نہیں ہوئی۔

4۔ اْس میں زندگی تھی اور وہ زندگی آدمیوں کا نور تھی۔

1. John 1 : 1, 3, 4

1     In the beginning was the Word, and the Word was with God, and the Word was God.

3     All things were made by him; and without him was not any thing made that was made.

4     In him was life; and the life was the light of men.

2۔ یوحنا 3 باب10 (یسوع) صرف، 10 (کہا) صرف، 14 (جس طرح) تا 17 آیات

10۔ یسوع نے۔۔۔کہا

14۔۔۔۔جس طرح موسیٰ نے سانپ کو بیابان میں اونچے پر چڑھایا اْسی طرح ضرور ہے کہ ابنِ آدم بھی اونچے پر چڑھایا جائے۔

15۔ تاکہ جو کوئی ایمان لائے ہمیشہ کی زندگی پائے۔

16۔ کیونکہ خدا نے دنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اْس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اْس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔

17۔ کیونکہ خدا نے بیٹے کو دنیا میں اِس لئے نہیں بھیجا کہ دنیا پر سزا کا حکم کرے بلکہ اِس لئے کہ دنیا ا ْس کے وسیلہ سے نجات پائے۔

2. John 3 : 10 (Jesus) only, 10 (said) only, 14 (as)-17

10     Jesus … said

14     …as Moses lifted up the serpent in the wilderness, even so must the Son of man be lifted up:

15     That whosoever believeth in him should not perish, but have eternal life.

16     For God so loved the world, that he gave his only begotten Son, that whosoever believeth in him should not perish, but have everlasting life.

17     For God sent not his Son into the world to condemn the world; but that the world through him might be saved.

3۔ یوحنا 6 باب35، 38، 40 (تا:)، 63 آیات

35۔ یسوع نے اْن سے کہا زندگی کی روٹی مَیں ہوں۔ جو میرے پاس آئے وہ ہر گز بھوکا نہ ہوگا اور جو مجھ پر ایمان لاتا ہے وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا۔

38۔ کیونکہ مَیں آسمان سے اِس لئے نہیں اْترا ہوں کہ اپنی مرضی کے موافق عمل کروں بلکہ اِس لئے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے موافق عمل کروں۔

40۔ کیونکہ میرے باپ کی مرضی یہ ہے کہ جو کوئی بیٹے کو دیکھے اور اْس پر ایمان لائے ہمیشہ کی زندگی پائے۔

63۔ زندہ کرنے والی تو روح ہے۔ جسم سے کچھ فائدہ نہیں۔ جو باتیں مَیں نے تم سے کہی ہیں وہ روح ہیں اور زندگی بھی ہیں۔

3. John 6 : 35, 38, 40 (to :), 63

35     And Jesus said unto them, I am the bread of life: he that cometh to me shall never hunger; and he that believeth on me shall never thirst.

38     For I came down from heaven, not to do mine own will, but the will of him that sent me.

40     And this is the will of him that sent me, that every one which seeth the Son, and believeth on him, may have everlasting life:

63     It is the spirit that quickeneth; the flesh profiteth nothing: the words that I speak unto you, they are spirit, and they are life.

4۔ لوقا 10 باب25تا37 آیات

25۔ اور دیکھو ایک عالمِ شرع اْٹھا اور یہ کہہ کراْس کی آزمائش کرنے لگا کہ اے اْستاد! مَیں کیا کروں کہ ہمیشہ کی زندگی کا وارث بنوں؟

26۔ اْس نے اْس سے کہا توریت میں کیا لکھا ہے؟ تْو کس طرح پڑھتا ہے؟

27۔ اْس نے جواب میں اْس سے کہا کہ تْو خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ اور اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ۔

28۔ اْس نے اْس سے کہا تْو نے ٹھیک جواب دیا۔ یہی کر تو تْو جئے گا۔

29۔ مگر اْس نے اپنے تئیں راستباز ٹھہرانے کی غرض سے یسوع سے پوچھا پھر میرا پڑوسی کون ہے؟

30۔ یسوع نے جواب میں کہا ایک آدمی یروشلیم سے یریحو کی طرف جا رہا تھا کہ ڈاکوؤں میں گھِر گیا۔انہوں نے اْس کے کپڑے اْتار لئے اور مارا بھی اور ادھ موا چھوڑ کر چلے گئے۔

31۔ اتفاقاً ایک کاہن اْس راہ سے جا رہا تھا اور اْسے دیکھ کر کترا کر چلا گیا۔

32۔ اِسی طرح ایک لاوی اْس جگہ آیا۔ وہ بھی اْسے دیکھ کر کترا کر چلا گیا۔

33۔ لیکن ایک سامری سفر کرتے کرتے وہاں آنکلا اور اْسے دیکھ کر اْس نے ترس کھایا۔

34۔ اور اْس کے پاس آکر اْس کے زخموں کو تیل اور مے لگا کر باندھا اور اپنے جانور پر سوار کر کے سرائے میں لے گیا اور اْس کی خبر گیری کی۔

35۔ دوسرے دن دو دینار نکال کر بھٹیارے کو دئیے اور کہا کہ اِس کی خبر گیری کرنا اور جو کچھ اِس سے زیادہ خرچ ہوگا مَیں پھر آکر تجھے ادا کر دوں گا۔

36۔ اِن تینوں میں سے اْس شخص کا جو ڈاکوؤں میں گھِر گیا تھا تیری دانست میں کون پڑوسی ٹھہرا؟

37۔اْس نے کہا وہ جس نے اْس پر رحم کیا۔ یسوع نے اْس سے کہا جا۔ تْو بھی ایسا ہی کر۔

4. Luke 10 : 25-37

25     And, behold, a certain lawyer stood up, and tempted him, saying, Master, what shall I do to inherit eternal life?

26     He said unto him, What is written in the law? how readest thou?

27     And he answering said, Thou shalt love the Lord thy God with all thy heart, and with all thy soul, and with all thy strength, and with all thy mind; and thy neighbour as thyself.

28     And he said unto him, Thou hast answered right: this do, and thou shalt live.

29     But he, willing to justify himself, said unto Jesus, And who is my neighbour?

30     And Jesus answering said, A certain man went down from Jerusalem to Jericho, and fell among thieves, which stripped him of his raiment, and wounded him, and departed, leaving him half dead.

31     And by chance there came down a certain priest that way: and when he saw him, he passed by on the other side.

32     And likewise a Levite, when he was at the place, came and looked on him, and passed by on the other side.

33     But a certain Samaritan, as he journeyed, came where he was: and when he saw him, he had compassion on him,

34     And went to him, and bound up his wounds, pouring in oil and wine, and set him on his own beast, and brought him to an inn, and took care of him.

35     And on the morrow when he departed, he took out two pence, and gave them to the host, and said unto him, Take care of him; and whatsoever thou spendest more, when I come again, I will repay thee.

36     Which now of these three, thinkest thou, was neighbour unto him that fell among the thieves?

37     And he said, He that shewed mercy on him. Then said Jesus unto him, Go, and do thou likewise.

5۔ یوحنا 5باب24، 25 (مَیں)، 26، 28، 29 آیات

24۔ مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو میرا کلام سنتا ہے اور میرے بھیجنے والے کا یقین کرتا ہے ہمیشہ کی زندگی اْس کی ہے اور اْس پر سزا کا حکم نہیں ہوتا بلکہ وہ موت سے نکل کر زندگی میں داخل ہو گیا ہے۔

25۔ مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ وہ وقت آتا ہے بلکہ ابھی ہے کہ مردے خدا کے بیٹے کی آواز سنیں گے اور جو سنیں گے وہ جیئں گے۔

26۔ کیونکہ جس طرح باپ اپنے آپ میں زندگی رکھتا ہے اْسی طرح اْس نے بیٹے کو بھی یہ بخشا کہ اپنے آپ میں زندگی رکھے۔

28۔ اِس سے تعجب نہ کرو کیونکہ وہ وقت آتا ہے کہ جتنے قبروں میں ہیں اْس کی آواز سن کر نکلیں گے۔

29۔ جنہوں نے نیکی کی ہے زندگی کی قیامت کے واسطے اور جنہوں نے بدی کی ہے سزا کی قیامت کے واسطے۔

5. John 5 : 24, 25 (I), 26, 28, 29

24     Verily, verily, I say unto you, He that heareth my word, and believeth on him that sent me, hath everlasting life, and shall not come into condemnation; but is passed from death unto life.

25     I say unto you, The hour is coming, and now is, when the dead shall hear the voice of the Son of God: and they that hear shall live.

26     For as the Father hath life in himself; so hath he given to the Son to have life in himself;

28     Marvel not at this: for the hour is coming, in the which all that are in the graves shall hear his voice,

29     And shall come forth; they that have done good, unto the resurrection of life; and they that have done evil, unto the resurrection of damnation.

6۔ یوحنا 8 باب 51 آیت

51۔ مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص میرے کلام پر عمل کرے گا تو ابد تک کبھی موت کو نہ دیکھے گا۔

6. John 8 : 51

51     Verily, verily, I say unto you, If a man keep my saying, he shall never see death.

7۔ گلتیوں 6 باب7تا10 آیات

7۔ فریب نہ کھاؤ۔ خدا ٹھٹھوں میں نہیں اڑایا جاتا کیونکہ آدمی جو کچھ بوتا ہے وہی کاٹے گا۔

8۔جو کوئی اپنے جسم کے لئے بوتا ہے وہ جسم سے ہلاکت کی فصل کاٹے گا اور جو روح کے لئے بوتا ہے وہ روح سے ہمیشہ کی زندگی کی فصل کاٹے گا۔

9۔ ہم نیک کام کرنے میں ہمت نہ ہاریں کیونکہ اگر بے دل نہ ہوں گے تو عین وقت پر کاٹیں گے۔

10۔ پس جہاں تک موقع ملے سب کے ساتھ نیکی کریں خاص کر اہلِ ایمان کے ساتھ۔

7. Galatians 6 : 7-10

7     Be not deceived; God is not mocked: for whatsoever a man soweth, that shall he also reap.

8     For he that soweth to his flesh shall of the flesh reap corruption; but he that soweth to the Spirit shall of the Spirit reap life everlasting.

9     And let us not be weary in well doing: for in due season we shall reap, if we faint not.

10     As we have therefore opportunity, let us do good unto all men, especially unto them who are of the household of faith.

8۔ 1 یوحنا 2 باب 15 تا17 آیات

15۔ نہ دنیا سے محبت رکھو نہ اْن چیزوں سے جو دنیا میں ہیں۔ جو کوئی دنیا سے محبت رکھتا ہے اْس میں باپ کی محبت نہیں۔

16۔ کیونکہ جو کچھ دنیا میں ہے یعنی جسم کی خواہش اور آنکھوں کی خواہش اور زندگی کی شیخی وہ باپ کی طرف سے نہیں بلکہ دنیا کی طرف سے ہے۔

17۔ دنیا اور اْس کی خواہش دونوں مٹتی جاتی ہیں لیکن جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے وہ ابد تک قائم رہے گا۔

8. I John 2 : 15-17

15     Love not the world, neither the things that are in the world. If any man love the world, the love of the Father is not in him.

16     For all that is in the world, the lust of the flesh, and the lust of the eyes, and the pride of life, is not of the Father, but is of the world.

17     And the world passeth away, and the lust thereof: but he that doeth the will of God abideth for ever.

9۔ 1 یوحنا 5 باب20 آیت

20۔ اور ہم جانتے ہیں کہ خدا کا بیٹا آگیا ہے اور اْس نے ہمیں سمجھ بخشی ہے تاکہ اْس کو جو حقیقی ہے جانیں اور ہم اْس میں جو حقیقی ہے یعنی اْس کے بیٹے یسوع مسیح میں ہیں۔ حقیقی خدا اور ہمیشہ کی زندگی یہی ہے۔

9. I John 5 : 20

20     And we know that the Son of God is come, and hath given us an understanding, that we may know him that is true, and we are in him that is true, even in his Son Jesus Christ. This is the true God, and eternal life.



سائنس اور صح


1۔ 246 :27۔31

زندگی ابدی ہے۔ ہمیں اس کی تلاش کرنی چاہئے اور اس سے اظہار کا آغاز کرنا چاہئے۔ زندگی اور اچھائی لافانی ہیں۔ توآئیے ہم وجودیت سے متعلق ہمارے خیالات کوعمر اور خوف کی بجائے محبت، تازگی اور تواتر کے ساتھ تشکیل دیں۔

1. 246 : 27-31

Life is eternal. We should find this out, and begin the demonstration thereof. Life and goodness are immortal. Let us then shape our views of existence into loveliness, freshness, and continuity, rather than into age and blight.

2۔ 331 :1 (خدا)۔6

خدا الٰہی زندگی ہے اور زندگی اِسے منعکس کرنے والی اشکال میں اِتنی م حدود نہیں جتنا مواد اپنے سائے میں محدود ہے۔اگر زندگی فانی انسان یا مادی چیزوں میں ہوتی تو یہ اِن کی حدود میں قید ہوتی اور موت میں فناہوجاتی۔زندگی عقل ہے، وہ خالق جو اپنی مخلوقات میں منعکس ہوا۔

2. 331 : 1 (God)-6

God is divine Life, and Life is no more confined to the forms which reflect it than substance is in its shadow. If life were in mortal man or material things, it would be subject to their limitations and would end in death. Life is Mind, the creator reflected in His creations.

3۔ 434 :31 (خدا)۔32

خدا نے انسان کو غیر فانی اور صرف روح کا فرمانبردار بنایا۔

3. 434 : 31 (God)-32

God made Man immortal and amenable to Spirit only.

4۔ 209 :1۔4

غیر فانی ہوتے ہوئے انسان ایک لازوال زندگی رکھتا ہے۔یہ فانی عقیدہ ہی ہے جو جسم کو ناموافقت اور بیماری کے تناسب میں بناتا ہے جیسا کہ جہالت، خوف یا انسان فانیوں پر حکمرانی کرے گا۔

4. 209 : 1-4

Man, being immortal, has a perfect indestructible life. It is the mortal belief which makes the body discordant and diseased in proportion as ignorance, fear, or human will governs mortals.

5۔ 429 :31۔12

یسوع نے کہا (یوحنا 8 باب51 آیت)، ”اگر کوئی شخص میرے کلام پر عمل کرے گا تو ابدتک کبھی موت کو نہ دیکھے گا۔“ یہ بیان روحانی زندگی تک محدود نہیں، بلکہ اس میں وجودیت کا کرشمہ بھی شامل ہے۔ یسوع نے اس کا اظہار مرنے والے کو شفا دیتے اور مردہ کو زندہ کرتے ہوئے کیا۔ فانی عقل کو غلطی سے دور ہونا چاہئے، خود کو اس کے کاموں سے الگ رکھنا چاہئے تو لافانی جوان مردی، مثالی مسیح، غائب ہو جائے گا۔ مادے کی بجائے روح پر انحصار کرتے ہوئے ایمان کو اپنی حدود کو وسیع کرنا اور اپنی بنیاد کو مضبوط کرنا چاہئے۔ جب انسان موت پر اپنے یقین کو ترک کر دیتا ہے،وہ مزید تیزی سے خدا، زندگی اور محبت کی جانب بڑھے گا۔ بیماری اور موت پر یقین، یقیناً گناہ پر یقین کی مانند، زندگی اور صحت مندی کے سچے فہم کو بند کرنے کی جانب رجوع کرتا ہے۔انسان کب سائنس میں اِس حقیقت کے لئے بیدار ہوگا؟

5. 429 : 31-12

Jesus said (John viii. 51), "If a man keep my saying, he shall never see death." That statement is not confined to spiritual life, but includes all the phenomena of existence. Jesus demonstrated this, healing the dying and raising the dead. Mortal mind must part with error, must put off itself with its deeds, and immortal manhood, the Christ ideal, will appear. Faith should enlarge its borders and strengthen its base by resting upon Spirit instead of matter. When man gives up his belief in death, he will advance more rapidly towards God, Life, and Love. Belief in sickness and death, as certainly as belief in sin, tends to shut out the true sense of Life and health. When will mankind wake to this great fact in Science?

6۔ 25 :13۔19

یسوع نے اظہار کی بدولت زندگی کا طریقہ کار سکھایا، تاکہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ کیسے الٰہی اصول بیمار کو شفادیتا، غلطی کو باہر نکالتا اور موت پر فتح مند ہوتا ہے۔ کسی دوسرے شخص کی نسبت جس کا اصل کم روحانی ہویسوع نے خدا کی مثال کو بہت بہتر انداز میں پیش کیا۔ خدا کے ساتھ اْس کی فرمانبرداری سے اْس نے دیگر سبھی لوگوں کی نسبت ہستی کے اصول کو زیادہ روحانی ظاہر کیا۔

6. 25 : 13-19

Jesus taught the way of Life by demonstration, that we may understand how this divine Principle heals the sick, casts out error, and triumphs over death. Jesus presented the ideal of God better than could any man whose origin was less spiritual. By his obedience to God, he demonstrated more spiritually than all others the Principle of being.

7۔ 26 :28۔32

ہمارے مالک نے محض نظریے، عقیدے یا ایمان کی تعلیم نہیں دی۔یہ الٰہی اصول کی مکمل ہستی تھی جس کی اْس نے تعلیم دی اور مشق کی۔ مسیحیت کے لئے اْس کا ثبوت مذہب اور عبادت کا کوئی نظام یا شکل نہیں تھی، بلکہ یہ کرسچن سائنس تھی جو زندگی اور محبت کی ہم آہنگی پر عمل کرتی ہے۔

7. 26 : 28-32

Our Master taught no mere theory, doctrine, or belief. It was the divine Principle of all real being which he taught and practised. His proof of Christianity was no form or system of religion and worship, but Christian Science, working out the harmony of Life and Love.

8۔ 27 :10۔21

”اِس مقدس (بدن) کو ڈھا دو تو مَیں (روح) اِسے تین دن میں کھڑا کر دوں گا“اپنے اِس سائنسی بیان کے ساتھ سخت مطابقت میں اپنے مصلوب ہونے کے بعد ظاہر ہونے سے یسوع نے یہ ثابت کیا کہ زندگی خدا ہے۔یہ ایسا ہی ہے جیسے اْس نے کہا ہو: مَیں، زندگی، مواد، اور کائنات کی ذہانت تباہ ہونے والا مادا نہیں ہے۔

یسوع کی تماثیل زندگی کی وضاحت کرتی ہیں جو کبھی گناہ اور موت سے ملاوٹ زدہ نہیں ہوتی۔اْس نے سائنس کا کلہاڑا مادی علم کی جڑ پر رکھا ہے، تاکہ یہ شرک کے جھوٹے عقیدے کو کاٹنے کے لئے تیار رہے کہ خدا یا زندگی مادے کی یا مادے میں ہے۔

8. 27 : 10-21

That Life is God, Jesus proved by his reappearance after the crucifixion in strict accordance with his scientific statement: "Destroy this temple [body], and in three days I [Spirit] will raise it up." It is as if he had said: The I — the Life, substance, and intelligence of the universe — is not in matter to be destroyed.

Jesus' parables explain Life as never mingling with sin and death. He laid the axe of Science at the root of material knowledge, that it might be ready to cut down the false doctrine of pantheism, — that God, or Life, is in or of matter.

9۔ 51 :15۔21

وہ جانتا تھا کہ مادے میں زندگی نہیں ہے اور کہ حقیقی زندگی خدا ہے؛ اسی لئے وہ اپنی روحانی زندگی سے الگ نہیں کیا جا سکتا جیسے خدا ختم نہیں کیا جا سکتا۔

اْس کا کامل نمونہ ہم سب کی نجات کے لئے تھا، مگر صرف وہ کام کرنے کے وسیلہ سے جو اْس نے کئے اور دوسروں کو اْن کی تعلیم دی۔

9. 51 : 15-21

He knew that matter had no life and that real Life is God; therefore he could no more be separated from his spiritual Life than God could be extinguished.

His consummate example was for the salvation of us all, but only through doing the works which he did and taught others to do.

10۔ 289 :1۔7

ظاہر کی گئی سچائی ابدی زندگی ہے۔ بشر جب تک یہ نہیں سیکھتا کہ خدا ہی واحد زندگی ہے، وہ غلطی کے عارضی ملبے، گناہ، بیماری اور موت کے عقیدے سے کبھی نہیں باہر آ سکتا۔بدن میں زندگی اور احساس اِس فہم کے تحت فتح کئے جانے چاہئیں جو انسان کو خدا کی شبیہ بناتا ہے۔پھر روح بدن پر فتح مند ہوگی۔

10. 289 : 1-7

Truth demonstrated is eternal life. Mortal man can never rise from the temporal débris of error, belief in sin, sickness, and death, until he learns that God is the only Life. The belief that life and sensation are in the body should be overcome by the understanding of what constitutes man as the image of God. Then Spirit will have overcome the flesh.

11۔ 305 :22۔30

زندگی کی فریب نظری میں جو آج ہے اور کل ختم ہوجائے گی، انسان مکمل طور پر فانی ہوگا، کیا یہ وہ محبت نہیں، وہ الٰہی اصول نہیں جو الٰہی سائنس میں حاصل ہوتا ہے، تمام غلطی کو نیست کرتا اور لافانیت کو روشنی میں لاتا ہے۔ چونکہ انسان اپنے خالق کا عکس ہے اِس لئے وہ جنم، نشوونما، بلوغت، نیست کے ماتحت نہیں ہے۔یہ خواب انسانی اصلیت رکھتے ہیں نہ کہ الٰہی۔

11. 305 : 22-30

In the illusion of life that is here to-day and gone to-morrow, man would be wholly mortal, were it not that Love, the divine Principle that obtains in divine Science, destroys all error and brings immortality to light. Because man is the reflection of his Maker, he is not subject to birth, growth, maturity, decay. These mortal dreams are of human origin, not divine.

12۔ 317 :16۔20

انسان کی انفرادیت کم ٹھوس نہیں ہے کیونکہ یہ روحانی ہے اور کیونکہ اْس کی زندگی مادے کے رحم و کرم پر نہیں ہے۔ خود کی روحانیت انفرادیت کا ادراک انسان کو مزید مزید حقیقی، سچائی میں مزید مضبوط بناتا ہے اور اْسے گناہ، بیماری اور موت کو فتح کرنے کے قابل بناتا ہے۔

12. 317 : 16-20

The individuality of man is no less tangible because it is spiritual and because his life is not at the mercy of matter. The understanding of his spiritual individuality makes man more real, more formidable in truth, and enables him to conquer sin, disease, and death.

13۔ 324 :13 (رہیں)۔18

ہوشیار، سادہ اور چوکس رہیں۔ جو رستہ اس فہم کی جانب لے جاتا ہے کہ واحد خدا ہی زندگی ہے وہ رستہ سیدھا اور تنگ ہے۔یہ بدن کے ساتھ ایک جنگ ہے، جس میں گناہ، بیماری اور موت پر ہمیں فتح پانی چاہئے خواہ یہاں یا اس کے بعد، یقیناً اس سے قبل کہ ہم روح کے مقصد، یا خدا میں زندگی حاصل کرنے تک پہنچ پائیں۔

13. 324 : 13 (Be)-18

Be watchful, sober, and vigilant. The way is straight and narrow, which leads to the understanding that God is the only Life. It is a warfare with the flesh, in which we must conquer sin, sickness, and death, either here or hereafter, — certainly before we can reach the goal of Spirit, or life in God.

14۔ 322 :3۔13

جب مادی سے روحانی بنیادوں پر زندگی اور ذہانت کا فہم اپنا نقطہ نظر تبدیل کرتا ہے،تو ہمیں زندگی کی حقیقت میسر آئے گی، یعنی فہم پر روح کا قابو، تو ہم مسیحت یا سچائی کو اس کے الٰہی اصول میں پائیں گے۔کسی ہم آہنگ اور فانی انسان کے حاصل ہونے اور اْس کی قابلیتوں کے اظہار سے قبل یہ ایک نقطۂ عروج ہونا چاہئے۔ الٰہی سائنس کی شناخت ہونے سے قبل اس عظیم کام کی تکمیل کو دیکھتے ہوئے، الٰہی اصول سے اپنے خیالات کو ہٹانا بہت اہم ہے، تاکہ محدود عقیدے کو اس کی غلطی سے دستبردار ہونے کے لئے تیار کیا جا سکے۔

14. 322 : 3-13

When understanding changes the standpoints of life and intelligence from a material to a spiritual basis, we shall gain the reality of Life, the control of Soul over sense, and we shall perceive Christianity, or Truth, in its divine Principle. This must be the climax before harmonious and immortal man is obtained and his capabilities revealed. It is highly important — in view of the immense work to be accomplished before this recognition of divine Science can come — to turn our thoughts towards divine Principle, that finite belief may be prepared to relinquish its error.

15۔ 496 :9 (ہم)۔27

ہم سب کو یہ سیکھنا چاہئے کہ زندگی خدا ہے۔ خود سے سوال کریں: کیا میں ایسی زندگی جی رہا ہوں جو اعلیٰ اچھائی تک رسائی رکھتی ہے؟ کیا میں سچائی اور محبت کی شفائیہ قوت کا اظہار کر رہاہوں؟ اگر ہاں، تو ”دوپہر تک“ راستہ روشن ہوتا جائے گا۔آپ کے پھل و ہ سب کچھ ثابت کریں جو خدا کا ادراک انسان کے لئے مہیا کرتا ہے۔اِس خیال کو ہمیشہ کے لئے اپنالیں کہ یہ روحانی خیال، روح القدس اور مسیح ہی ہے جو آپ کو سائنسی یقین کے ساتھ اْس شفا کے قانون کا اظہار کرنے کے قابل بناتا ہے جوپوری حقیقی ہستی کو بنیادی طور پر، ضرورت سے زیادہ اور گھیرے میں لیتے ہوئے الٰہی اصول، محبت پر بنیاد رکھتا ہے۔

”موت کا ڈنک گناہ ہے اور گناہ کا زور شریعت ہے“، فانی عقیدے کی شریعت جو لافانی زندگی کے حقائق کے ساتھ جنگ کرتی ہے، حتیٰ کہ روحانی شریعت کے ساتھ بھی جو قبرکو کہتی ہے، ”تیری فتح کہاں رہی؟“ لیکن ”جب یہ فانی جسم بقا کا جامہ پہن چکے گا اور یہ مرنے والا جسم حیاتِ ابدی کا جامہ پہن چکے گا تو وہ قول پورا ہوگا جو لکھا ہے کہ موت فتح کا لْقمہ ہوگئی۔“

15. 496 : 9 (We)-27

We all must learn that Life is God. Ask yourself: Am I living the life that approaches the supreme good? Am I demonstrating the healing power of Truth and Love? If so, then the way will grow brighter "unto the perfect day." Your fruits will prove what the understanding of God brings to man. Hold perpetually this thought, — that it is the spiritual idea, the Holy Ghost and Christ, which enables you to demonstrate, with scientific certainty, the rule of healing, based upon its divine Principle, Love, underlying, overlying, and encompassing all true being.

"The sting of death is sin; and the strength of sin is the law," — the law of mortal belief, at war with the facts of immortal Life, even with the spiritual law which says to the grave, "Where is thy victory?" But "when this corruptible shall have put on incorruption, and this mortal shall have put on immortality, then shall be brought to pass the saying that is written, Death is swallowed up in victory."


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████