اتوار 17فروری، 2019 مضمون۔ جان |

اتوار 17فروری، 2019



مضمون۔ جان

سنہری متن: 1سیموئیل 16باب7آی



’’کیونکہ خداوند انسان کی مانند نظر نہیں کرتا اس لئے کہ انسان ظاہری صورت کو دیکھتا ہے پر خداوند دل کو دیکھتا ہے۔‘‘





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور 33: 18تا21آیاتزبور 34: 1، 2، 4 آیات - زبور35: 9 آیت


18۔ دیکھو! خداوند کی نگاہ اْن پر ہے جو اْس سے ڈرتے ہیں ۔ جو اْس کی شفقت کے اْمیدوار ہیں۔

19۔ تاکہ اْن کی جان کو موت سے بچائے اور قحط میں اْن کو جیتا رکھے۔

20۔ ہماری جان کو خداوند کی آس ہے۔ وہی ہماری کْمک اور ہماری سِپر ہے۔ 

21۔ ہمارا دل اْس میں شادمان رہے گا کیونکہ ہم نے اْس کے پاک نام پر توکّل کیا ہے۔ 

1۔ میں ہر وقت خداوند کو مبارک کہوں گا۔ اْس کی ستائش ہمیشہ میری زبان پر رہے گی۔

2۔ میری روح خداوند پر فخر کرے گی۔ حلیم یہ سْن کر خوش ہوں گے۔

4۔ میں خداوند کا طالب ہوں ، اْس نے مجھے جواب دیا اور میری ساری دہشت سے مجھے رہائی بخشی۔ 

9۔ میری جان خداوند میں خوش رہے گی اور اْس کی نجات سے شادمان ہوگی۔



درسی وعظ



بائبل


زبور 37:34 آیت (تا :)

34۔خداوند کی آس رکھ اور اْس کی راہ پر چلتا رہ اور وہ تجھے سرفراز کر کے زمین کا وارث بنائے گا۔

زبور 130: 1، 2، 5، 6 آیات

1۔ اے خداوند میں نے گہراؤ میں سے تیرے حضور فریاد کی ہے۔

2۔ اے خداوند میری آواز سن لے میری التجا کی آواز پر تیرے کان لگے رہیں۔

5۔ میں خداوند کا انتظار کرتا ہوں ۔ میری جان منتظر ہے۔ اور مجھے اس کے کلام پر اعتماد ہے۔

6۔ صبح کا انتظار کرنے والوں سے زیادہ، ہاں صبح کا انتظار کرنے والوں سے کہیں زیادہ میری جان خداوند کی منتظر ہے۔

1سیموئیل 17 باب: 2،4، 8، 11، 12، (تا؛) ، 32تا34 (تاپہلا،) ، 37 (خداوند) ، 42، 48 تا 50، 58 آیات۔

2۔ اور ساؤل اور اسرائیل کے لوگوں نے جمع ہوکر ایلہؔ کی وادی میں ڈیرے ڈالے اور لڑائی کے لئے فلِستیوں کے مقابل صف آرائی کی۔ 

4۔ اور فلِستیوں کے لشکر سے ایک پہلوان نکلا جس کا نام جاتی جولیت ؔ تھا اس کا قد چھ ہاتھ اور ایک بالِش تھا۔ 

8۔ وہ کھڑا ہوا اور اسرائیل اور اْن کے لشکروں کو پکار کر کہنے لگا تم نے آکر جنگ کے لئے کیوں صف آرائی کی؟ کیا میں فلِستی نہیں اور تم ساؤل کے خادم نہیں؟ سو اپنے لئے کسی شخص کو چْنو جو میرے پاس اْتر آئے۔

11۔ جب ساؤل اور اسرائیلیوں نے اْس فلِستی کی باتیں سنیں تو ہراساں ہوئے اور نہایت ڈر گئے۔ 

12۔ اور داؤد بیت الحم یہوداہ کے اس افراتی مرد کا بیٹا تھا جس کا نام یسیؔ تھا ۔ 

32۔ اور داؤد نے ساؤل سے کہا کہ اْس شخص کے سبب کسی کا دل نہ گھبرائے۔ تیراخادم جا کراْس فلِستی سے لڑے گا۔ 

33۔ ساؤل نے داؤد سے کہا کہ تْو اِس قابل نہیں کہ اْس فلستی سے لڑنے کو اْس کے سامنے جائے کیونکہ تْو صرف لڑکا ہے اور وہ اپنے بچپن سے جنگی مرد ہے۔

34۔ تب داؤد نے ساؤل کو جواب دیا،

37۔ ۔۔۔خداوند نے مجھے شیر اور ریچھ کے پنجے سے بچایا۔ وہی مجھ کو اِس فلِستی کے ہاتھ سے بچائے گا۔ ساؤل نے داؤد سے کہا جا خداوند تیرے ساتھ رہے۔

42۔ اور جب اْس فلِستی نے اِدھر اْدھر نگاہ کی اور داؤد کو دیکھا تو اْسے ناچیز جانا کیونکہ وہ محض لڑکا تھا اور سْرخ رْو اور نازک چہرے کا تھا۔ 

48۔ اور ایسا ہوا کہ جب وہ فلِستی اٹھا اور بڑھ کر داؤد کے مقابلے کے لئے نزدیک آیا تو داؤد نے جلدی کی اور لشکر کی طرف اْس فلِستی کا مقابلہ کرنے کو دوڑا۔ 

49۔ اور داؤد نے اپنے تھیلے میں اپنا ہاتھ ڈالا اور اْس میں سے ایک پتھر فلاخن میں رکھ کر اْس فلِستی کے ماتھے پر مارا کہ وہ پتھر اْس کے ماتھے کے اندر گھس گیا اور وہ زمین پر منہ کے بل گِر پڑا۔ 

50۔ سو داؤد اْس فلاخن اور ایک پتھر سے اْس فلَستی پر غالب آیا اور فلِستی کو مارا اور قتل کیا اور داؤد کے ہاتھ میں تلوار نہ تھی۔

58۔ تب ساؤل نے اْس سے کہا اے جوان تْو کس کا بیٹا ہے؟ داؤد نے جواب دیا مَیں تیرے خادم بیت الحمی یسیؔ کا بیٹا ہوں۔

1 سیموئیل 18 باب: 1، 3، 14، 15 آیات

1۔ جب وہ ساؤل سے باتیں کر چکا تو یوْنتنؔ کا دل داؤد کے دل سے ایسا مل گیا کہ یوْنتنؔ اْس سے اپنی جان کے برابر محبت کرنے لگا۔ 

3۔ اور یوْنتنؔ اور داؤد نے باہم عہد کیا کیونکہ وہ اْس سے اپنی جان کے برابر محبت رکھتا تھا۔

14۔ اور داؤد اپنی سب راہوں میں دانائی کے ساتھ چلتا تھا اور خداوند اْس کے ساتھ تھا۔ 

15۔ جب ساؤل نے دیکھا کہ وہ عقلمندی سے کام کرتا ہے تو وہ اْس سے خوف کھانے لگا۔

1سیموئیل 19 باب: 1، 2، 4، 6، 7 آیات

1۔ اور ساؤل نے اپنے بیٹے یوْنتنؔ اور اپنے سب خادموں سے کہا کہ داؤد کو مارڈالو ۔

2۔ لیکن ساؤل کا بیٹا یوْنتنؔ داؤد سے بہت خوش تھا ۔ سو یوْنتنؔ نے داؤد سے کہا کہ میرا باپ تیرے قتل کی فکر میں ہے اِس لئے تْو صبح کو اپنا خیال رکھنا اور کسی پوچھیدہ جگہ میں چھپے رہنا۔ 

4۔ اور یوْنتنؔ نے اپنے باپ ساؤل سے داؤد کی تعریف کی اور کہا کہ بادشاہ اپنے خادم داؤد سے بدی نہ کرے کیونکہ اْس نے تیرا کچھ گناہ نہیں کیا بلکہ تیرے لئے اس کے کام بہت اچھے رہے ہیں۔ 

6۔ اور ساؤل نے یوْنتنؔ کی بات سنی اور ساؤل نے قسم کھا کر کہا خداوند کی حیات کی قسم ہے وہ مارا نہیں جائے گا۔

7۔ اور یوْنتن ؔ نے داؤد کو بلایا اور اْس نے وہ سب باتیں اْس کو بتائیں اور یوْنتنؔ داؤد کو ساؤل کے پاس لایا اور وہ پہلے کی طرح اْس کے پاس رہنے لگا۔

امثال 11باب:3 (تا :)

3۔ راستبازوں کی راستی اْن کی راہنما ہوگی۔ 

زبور 25: 1، 10تا13، 20، 21 آیات

1۔ اے خداوند! میں اپنی جان تیری طرف اٹھاتا ہوں۔

10۔ جو خداوند کے عہد اور اْس کی شہادتوں کو مانتے ہیں اْن کے لئے اْس کی سب راہیں شفقت اور سچائی کی ہیں۔

11۔ اے خداوند! اپنے نام کی خاطر میری بدکاری معاف کر دے کیونکہ وہ بڑی ہے۔

12۔ وہ کون ہے جو خداوند سے ڈرتا ہے؟ خداوند اْس کو اْسی راہ کی تعلیم دے گا جو اْس کو پسند ہے۔

13۔ اْس کی جان راحت میں رہے گی۔ اور اْس کی نسل زمین کی وارث ہوگی۔

20۔ میری جان کی حفاظت کر اور مجھے چھڑا۔ مجھے شرمندہ نہ ہونے دے کیونکہ میرا توکّل تجھ ہی پر ہے۔ 

21۔ دنیانتداری اور راستبازی مجھے سلامت رکھیں۔ کیونکہ مجھے تیری آس ہے۔

زبور 26:3، 8 تا12 آیات

3۔ کیونکہ تیری شفقت میری آنکھوں کے سامنے ہے اور مَیں تیری سچائی کی راہ پر چلتا رہا ہوں۔ 

8۔ اے خداوند! مَیں تیری سکونت گاہ اور تیرے جلال کے خیمہ کو عزیز رکھتا ہوں۔

9۔ میری جان کو گناہگاروں کے ساتھ اور میری زندگی کو خونی آدمیوں کے ساتھ نہ ملا۔ 

10۔ جن کے ہاتھوں میں شرارت ہے اور جن کا داہنا ہاتھ رشوتوں سے بھرا ہے۔

11۔ پر مَیں تو راستی سے چلتا رہوں گا۔ مجھے چھڑا لے اور مجھ پر رحم کر۔

12۔ میرا پاؤں ہموار جگہ پر قائم ہے۔ میں جماعتوں میں خداوند کو مبارک کہوں گا۔



سائنس اور صح


307: 25 (الٰہی) ۔30

الٰہی فہم بشر کی جان ہے، اور انسان کو سب چیزوں پر حاکمیت عطا کرتا ہے۔ انسان کو مادیت کی بنیاد پر خلق نہیں کیا گیا اور نہ اسے مادی قوانین کی پاسداری کا حکم دیا گیا جو روح نے کبھی نہیں بنائے؛ اس کا صوبہ روحانی قوانین ، فہم کے بلند آئین میں ہے۔ 

249: 31 (انسان) ۔ 5

انسان روح کا عکس ہے۔ وہ مادی احساس کے عین مخالف ہے، ماسوائے صرف انا کے۔ ہم تب غلطی کرتے ہیں جب ہم روح کو مختلف ارواح میں تقسیم کرتے، فہم کو افہام سے بڑھاتے ہیں اور غلطی کو فہم بنانے کی توقع رکھتے ہیں، پھر فہم کو مادےمیں اور مادے سے قانون ساز کی توقع کرتے ہیں، جہالت کو فہم کی مانند کام کرنے اور فانیت کو لافانیت کا سانچہ بننے کی امید رکھتے ہیں۔ 

390: 4۔9

ہم اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ زندگی خود پرور ہے، اور ہمیں روح کی ابدی ہم آہنگی سے منکر نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ ، بظاہر فانی احساسات میں اختلاف ہیں۔ یہ خدا، الٰہی اصول، سے ہماری نا واقفیت ہے جو ظاہری اختلاف کو جنم دیتی ہے، اور اس سے متعلق بہتر سوچ ہم آہنگی کو بحال کرتی ہے۔

58: صرف 12

جان میں اخلاقی آزادی ہے

192: 17۔26

اخلاقی اور روحانی شاید روح سے تعلق رکھتے ہیں، جو ’’ہوا کو اپنی مٹھی‘‘ میں جمع کر لیتا ہے؛ اور یہ تعلیم سائنس اور ہم آہنگی کے ساتھ یکجا ہوتی ہے۔ سائنس میں، خدا کے مخالف آپ کوئی قوت نہیں رکھ سکتے، اور جسمانی احساسات کو ان کی جھوٹی گواہی سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔ نیکی کے لئے آپ کے رسوخ کا انحصار اس وزن پر ہے جو آپ درست سکیل پر ڈالتے ہیں۔ جو نیکی آپ کرتے ہیں اور ظاہری جسم آپ کو محض قابلِ حصول قوت فراہم کرتے ہیں۔ بدی کوئی طاقت نہیں ہے۔ یہ طاقت کا تمسخر ہے جوجلد ہی اپنی کمزوری کو دھوکہ دیتا اور کبھی نہ اٹھنے کے لئے گر جاتا ہے۔ 

514: 10۔18

اخلاقی حوصلہ ’’یہوداہ کے قبیلے کا ببّر ‘‘ ، ذہنی سلطنت کا بادشاہ ہے۔ یہ جنگل میں آزاد اور بے خوف گھومتا ہے۔ کھلے میدانوں میں یہ ساکن بیٹھا رہتا ہے یا ’’ہری چراہگاہوں میں۔۔۔چشموں کے پاس‘‘ یہ آرام کرتا ہے۔ الٰہی فراست سے انسانی میں تشبیہی ترسیل میں ، جانفشانی، چالاکی اور ثابت قدمی ’’ہزاروں پہاڑوں کے چوپاؤں‘‘ کی مانند تصور کئے جاتے ہیں۔ وہ ٹھوس حل ہونے والا سامان لیتے ہیں اور بڑے مقاصد کے لئے رفتار بڑھاتے ہیں۔ 

28: 32۔6

معاشرے میں حیوانی حوصلہ افزائی بہت ہے اور اخلاقی حوصلہ افزائی نہیں ہے۔ مسیحیوں کو گھر میں اور باہر غلط چیز کے خلاف ہاتھ اْٹھانے چاہئیں۔ انہیں خود کے اور دوسروں کے گناہ کے خلاف محاذ آرائی کرنی چاہئے، اوراپنا مقصد حاصل ہونے تک یہ جنگ جاری رکھنی چاہئے۔ اگر وہ ایمان رکھتے ہیں تو انہیں شادمانی کا تاج نصیب ہوگا۔ 

327: 24۔3

لیکن ہم اْس انسان کی اصلاح کیسے کریں گے جس میں اخلاقی حوصلے سے زیادہ حیوانی حوصلہ ہے، اور جسے اچھائی کا حقیقی تصور تک نہیں؟ انسانی شعور کے وسیلہ سے، مادے کی تلاش میں اس کی غلطی کی فانیت کو قائل کرنے سے مراد شادمانی حاصل کرنا ہے۔ وجہ سب سے زیادہ فعال انسانی ذہنی صلاحیت ہے۔ اسے جذبات کو آگاہ کرنے دیں اور انسان کی اخلاقی ذمہ داری کے احساس کو بیدار ہونے دیں، اور درجات کے ذریعے وہ انسانی خوشی کے احساس کے عدم وجود اورروحانی احساس کی عظمت اورفرحت کو سیکھے گا ، جو مادی یاجسمانی چیزوں کو خاموش کر دیتی ہے۔پھر وہ نہ صرف نجات یافتہ ہوگا بلکہ وہ نجات یافتہ ہے۔

234: 31۔ 3

برے خیالات اور ارادے کسی شخص کے ایمان کی اجازت سے زیادہ آگے نہیں جاتے اور نہ زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔ اگر فضیلت اور سچائی مضبوط دفاع قائم کریں تو برے خیالات، شہوت اور بدخواہی پر مبنی مقاصد آگے نہیں بڑھ سکتے، اور منتشر ہونے والے زردانوں کی مانند ایک انسانی ذہن سے دوسرے میں غیر متوقع مسکن کی تلاش میں نہیں رہتے۔ 

10۔ 235: 12(یہ) ۔ 13

۔۔۔یہ اخلاقی اور روحانی ثقافت کی مانند زیادہ عالمانہ تعلیم نہیں ہے جو کسی شخص کو بہت بلند درجہ عطا کرتی ہے۔

11۔ 449:11۔ 16 (تا؛)

انسانی اخلاقی پارہ، بڑھنے اور گرنے سے، اسے سکھانے کے لئے اس کی شفائیہ قابلیت اور صحتمندی کا اندراج کرتا ہے۔ جو آپ جانتے ہیں آپ کو اس پر بہتر عملدر آمد کرنا چاہئے، تو پھر آپ اپنی ایمانداری اور خلوص کے تناسب میں آگے بڑھیں گے، یہ وہ خصوصیات ہیں جو اس سائنس میں کامیابی کی ضمانت دیتی ہیں۔

12۔ 483: 10۔ 12

اخلاقی جہالت یا گناہ آپ کے اظہار کو متاثر کرتے ہیں اور کرسچن سائنس کے معیارات کی رسائی میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں۔

13۔ 455: 8۔16، 20۔27

آپ کو غلطی کی لہروں پر چلنے کے لئے اپنی ذہنی طاقت کو استعمال کرنا چاہئے اور اظہار کے ذریعے اپنے دعووں کی حمایت کرنی چاہئے۔ اگر آپ علاج سے واقف ہوتے ہوئے، خود گناہ اور بیماری کے خوف اور یقین میں گم ہوجاتے ہیں تو آپ اپنی طرف سے ذہنی توانائیوں کو استعمال میں لانے کے لئے ناکام ہوں جائیں گے، تو آپ دوسروں کی مدد کے لئے بہت کم یا بالکل طاقت نہ ہونے کا تجربہ کرسکتے ہیں۔ ’’پہلے اپنی آنکھ میں سے شہتیر نکال پھر اپنے بھائی کی آنکھ میں سے تنکے میں اچھی طرح دیکھ کر نکال سکے گا۔‘‘

اونچے درجے کے کام کے لئے خدا کسی شخص کی نمو یافتہ صحتمندی کا انتخاب کرتا ہے تاکہ کسی ناممکنہ مہم کو تلف کرنے کے لئے یہ پیش کی جائے۔وہ قادر العقل اپنا اعتبار کسی نا اہل کو عطا نہیں کرتا۔ جب وہ کسی پیامبر کو مختار بناتا ہے تو یہ وہ ہوتا ہے جو روحانی طور پر خود اس کے قریب ہو۔ کوئی شخص اس ذہنی قوت کا غلط استعمال نہیں کر سکتا ، اگر اسے خدا کی طرف سے اس کی آگاہی کی تعلیم دی گئی ہو۔

14۔ 403: 14۔23

اگر آپ یہ سمجھ جائیں کہ یہ فانی وجود خود کار فریب ہے اور حقیقی نہیں ہے تو آپ صورت حال پر قابو پا لیتے ہیں۔فانی فہم متواتر طور پر فانی جسم کے لئے غلط آراء کے نتائج کو جنم دیتا ہے؛ اور یہ تب تک جاری رہتا ہے جب تک حق فانی غلطی کو اس کی فرضی توانائیوں سے برطرف نہیں کرتا، جو فانی فریب کے ہلکے سے جالے کو صاف کر دیتا ہے۔ اکثر مسیحیوں کی حالت راستی اور روحانی فہم والی ہوتی ہے، اور یہ بیماروں کی شفا کے لئے بہترین تصرف ہے۔

15۔ 288: 10۔ 19

جب کرسچن سائنس کے ظاہری اور فانی اثرات کو مکمل طور پر سمجھ لیا جاتا ہے تو سچائی اور غلطی، فہم اور یقین، سائنس اور مادی احساس کے مابین تصادم ، جس کا پیش خیمہ انبیا نے دیا اور یسوع نے اس کا آغاز کیا، رد ہو جائے گا اور روحانی ہم آہنگی سلطنت کرے گی۔غلطی کی گرج اور چمک تب تک برستی اور چکمتی رہے گی جب تک بادل چھٹ نہ جائیں اور اس کا ہنگامہ دور نہ ہو جائے۔ پھر ربانی بارش کے قطرے زمین کو تر و تازہ کرتے ہیں۔ جیسے کہ مقدس پولوس کہتا ہے: ’’پس خدا کی امت کے لئے آرام باقی ہے‘‘ (جان کا)۔

16۔ 273: صرف 18

جب روح کے طرف سے حکمرانی ہوتی ہے تو انسان پر امن ہوجاتا ہے۔


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████