اتوار 17 اکتوبر،2021



مضمون۔ کفارے کا عقیدہ

SubjectDoctrine of Atonement

سنہری متن: زبور 25: 8 آیت

”خداوند نیک اور راست ہے۔ اِس لئے وہ گناہگاروں کو راہِ حق کی تعلیم دے گا۔“



Golden Text: Psalm 25 : 8

Good and upright is the Lord: therefore will he teach sinners in the way.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور103: 1تا5، 22 آیات


1۔ اے میری جان! خداوند کو مبارک کہہ اور جو کچھ مجھ میں ہے اْس کے قدوس نام کو مبارک کہے۔

2۔ اے میری جان! خداوند کو مبارک کہہ اور اْس کی کسی نعمت کو فراموش نہ کر۔

3۔ وہ تیری ساری بدکاری بخشتا ہے۔ وہ تجھے تمام بیماریوں سے شفا دیتا ہے۔

4۔ وہ تیری جان کو ہلاکت سے بچاتا ہے۔ وہ تیرے سر پر شفقت و رحمت کا تاج رکھتا ہے۔

5۔ وہ تجھے عمر بھر اچھی اچھی چیزوں سے آسودہ کرتا ہے۔ تْو عقاب کی مانند از سرِ نو جوان ہوتا ہے۔

22۔ اے خداوند کی مخلوقات! سب اْس کو مبارک کہو۔ تم جو اْس کے تسلط کے سب مقاموں میں ہو۔ اے میری جان! تْو خداوند کو مبارک کہہ۔

Responsive Reading: Psalm 103 : 1-5, 22

1.     Bless the Lord, O my soul: and all that is within me, bless his holy name.

2.     Bless the Lord, O my soul, and forget not all his benefits:

3.     Who forgiveth all thine iniquities; who healeth all thy diseases;

4.     Who redeemeth thy life from destruction; who crowneth thee with lovingkindness and tender mercies;

5.     Who satisfieth thy mouth with good things; so that thy youth is renewed like the eagle’s.

22.     Bless the Lord, all his works in all places of his dominion: bless the Lord, O my soul.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1 . ۔ زبور 25: 1، 6تا8 آیات

1۔ اے خداوند! مَیں اپنی جان تیری طرف اٹھاتا ہوں۔

6۔ اے خداوند! اپنی رحمتوں اور شفقتوں کویاد فرما کیونکہ وہ ازل سے ہیں۔

7۔ میری جوانی کی خطاؤں اور میرے گناہوں کو یاد نہ کر۔ اے خداوند! اپنی نیکی کی خاطر اپنی شفقت کے مطابق مجھے یاد فرما۔

8۔ خداوند نیک اور راست ہے۔ اِس لئے وہ گناہگاروں کو راہِ حق کی تعلیم دے گا۔

1. Psalm 25 : 1, 6-8

1     Unto thee, O Lord, do I lift up my soul.

6     Remember, O Lord, thy tender mercies and thy loving kindnesses; for they have been ever of old.

7     Remember not the sins of my youth, nor my transgressions: according to thy mercy remember thou me for thy goodness’ sake, O Lord.

8     Good and upright is the Lord: therefore will he teach sinners in the way.

2 . ۔ یوحنا 9 باب 1 (جیسے) تا 3، 6تا8، 10، 11 آیات

1۔۔۔۔ اْس نے جاتے وقت ایک شخص کو دیکھا جو جنم کا اندھا تھا۔

2۔اور اْس کے شاگردوں نے اْس سے پوچھا اے ربی! کس نے گناہ کیا تھا جو یہ اندھا پیدا ہوا۔ اس شخص نے یا اِس کے ماں باپ نے؟

3۔ یسوع نے جواب دیا کہ نہ اِس نے گناہ کیا تھا نہ اِس کے ماں باپ نے یہ اِس لئے ہوا کہ خدا کے کام اْس میں ظاہر ہوں۔

6۔یہ کہہ کر اْس نے زمین پر تھوکا اور تھوک سے مِٹی سانی اور وہ مٹی اندھے کی آنکھوں پر لگا کر

7۔اْس سے کہا جا شیلوخ (جس کا ترجمہ ”بھیجا ہوا“ ہے) کے حوض میں دھو لے۔ پس اْس نے جا کر دھویا اور بِینا ہو کر واپس آیا۔

8۔ پس پڑوسی اور جن جن لوگوں نے پہلے اْس کو بھیک مانگتے دیکھا تھا کہنے لگے کیا یہ وہ نہیں جو بیٹھا بھیک مانگا کرتا تھا؟

10۔ پس وہ اْس سے کہنے لگے پھر تیری آنکھیں کیونکر کھل گئیں؟

11۔ اْس نے جواب دیا کہ اْس شخص نے جس کا نام یسوع ہے مٹی سانی اور میری آنکھوں پر لگا کر مجھ سے کہا شیلوخ میں جا کر دھو لے۔ پس مَیں گیا اور دھو کر بینا ہوگیا۔

2. John 9 : 1 (as)-3, 6-8, 10, 11

1      …as Jesus passed by, he saw a man which was blind from his birth.

2     And his disciples asked him, saying, Master, who did sin, this man, or his parents, that he was born blind?

3     Jesus answered, Neither hath this man sinned, nor his parents: but that the works of God should be made manifest in him.

6     When he had thus spoken, he spat on the ground, and made clay of the spittle, and he anointed the eyes of the blind man with the clay,

7     And said unto him, Go, wash in the pool of Siloam, (which is by interpretation, Sent.) He went his way therefore, and washed, and came seeing.

8     The neighbours therefore, and they which before had seen him that he was blind, said, Is not this he that sat and begged?

10     Therefore said they unto him, How were thine eyes opened?

11     He answered and said, A man that is called Jesus made clay, and anointed mine eyes, and said unto me, Go to the pool of Siloam, and wash: and I went and washed, and I received sight.

3 . ۔ یوحنا 13 باب 1، 3تا17 آیات

1۔ عیدِ فسح سے پہلے جب یسوع نے جان لیا کہ میرا وہ وقت آ پہنچا کہ دنیا سے رخصت ہو کر باپ کے پاس جاؤں تو اپنے اْن لوگوں سے جو دنیا میں تھے جیسی محبت رکھتا تھا آخر تک محبت رکھتا رہا۔

3۔ یسوع نے یہ جان کر باپ نے سب چیزیں میرے ہاتھ میں کر دی ہیں اور مَیں خدا کے پاس سے آیا اور خدا کے پاس ہی جاتا ہوں۔

4۔ دستر خوان سے اٹھ کر کپڑے اْتارے اور رومال لے کر اپنی کمر میں باندھا۔

5۔ اِس کے بعد برتن میں پانی ڈال کر شاگردوں کے پاؤں دھونے اور جو رومال کمر میں باندھا تھا اْس سے پونچھنے شروع کئے۔

6۔ پھر وہ شمعون پطرس تک پہنچا۔ اْس نے اْس سے کہا اے خداوند! کیا تْو میرے پاؤں دھوتا ہے؟

7۔ یسوع نے جواب میں اْس سے کہا کہ جو مَیں ہوں تْو اب نہیں جانتا مگر بعد میں سمجھے گا۔

8۔ پطرس نے اْس سے کہا تْو میرے پاؤں ابد تک کبھی دھونے نہ پائے گا۔ یسوع نے اْسے جواب دیا کہ اگر مَیں تجھے نہ دھوؤں تو تْو میرے ساتھ شریک نہیں۔

9۔شمعون پطرس نے اْس سے کہا اے خداوند! صرف میرے پاؤں ہی نہیں بلکہ ہاتھ اور سر بھی دھو دے۔

10۔ یسوع نے اْس سے کہا جو نہا چکا ہے اْس کو پاؤں کے سوا کچھ دھونے کی حاجت نہیں بلکہ سراسر پاک ہے اور تم پاک ہو لیکن سب کے سب نہیں۔

11۔ چونکہ وہ اپنے پکڑوانے والے کو جانتا تھا اِس لئے اْس نے کہا تم سب پاک نہیں ہو۔

12۔ پس جب وہ اْن کے پاؤں دھو چکا اور کپڑے پہن کر پھر بیٹھ گیا تو اْن سے کہا تم جانتے ہو کہ مَیں نے تمہارے ساتھ کیا کِیا؟

13۔ تم مجھے استاد اور خداوند کہتے ہو اور خوب کہتے ہو کیونکہ مَیں ہوں۔

14۔ پس جب مجھ خداوند اور استاد نے تمہارے پاؤں دھوئے تو تم پر بھی فرض ہے کہ ایک دوسرے کے پاؤں دھویا کرو۔

15۔ کیونکہ مَیں نے تم کو ایک نمونہ دکھایا ہے کہ جیسا مَیں نے تمہارے ساتھ کیا ہے تم بھی کیا کرو۔

16۔ مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ نوکر اپنے مالک سے بڑا نہیں ہوتا اور نہ بھیجا ہوا اپنے بھیجنے والے سے۔

17۔ اگر تم اِن باتوں کوجانتے ہو تو مبارک ہو بشرطیکہ اْن پر عمل بھی کرو۔

3. John 13 : 1, 3-17

1     Now before the feast of the passover, when Jesus knew that his hour was come that he should depart out of this world unto the Father, having loved his own which were in the world, he loved them unto the end.

3     Jesus knowing that the Father had given all things into his hands, and that he was come from God, and went to God;

4     He riseth from supper, and laid aside his garments; and took a towel, and girded himself.

5     After that he poureth water into a bason, and began to wash the disciples’ feet, and to wipe them with the towel wherewith he was girded.

6     Then cometh he to Simon Peter: and Peter saith unto him, Lord, dost thou wash my feet?

7     Jesus answered and said unto him, What I do thou knowest not now; but thou shalt know hereafter.

8     Peter saith unto him, Thou shalt never wash my feet. Jesus answered him, If I wash thee not, thou hast no part with me.

9     Simon Peter saith unto him, Lord, not my feet only, but also my hands and my head.

10     Jesus saith to him, He that is washed needeth not save to wash his feet, but is clean every whit: and ye are clean, but not all.

11     For he knew who should betray him; therefore said he, Ye are not all clean.

12     So after he had washed their feet, and had taken his garments, and was set down again, he said unto them, Know ye what I have done to you?

13     Ye call me Master and Lord: and ye say well; for so I am.

14     If I then, your Lord and Master, have washed your feet; ye also ought to wash one another’s feet.

15     For I have given you an example, that ye should do as I have done to you.

16     Verily, verily, I say unto you, The servant is not greater than his lord; neither he that is sent greater than he that sent him.

17     If ye know these things, happy are ye if ye do them.

4 . ۔ یوحنا 19 باب1، 2، 6تا11، 14تا19 آیات

1۔ اِس پر پلاطوس نے یسوع کو لے کر کوڑے لگوائے۔

2۔ اور سپاہیوں نے کانٹوں کا تاج بنا کر اْس کے سر پر رکھا اور اْسے ارغوانی پوشاک پہنائی۔

6۔ جب سردار کاہنوں اور پیادوں نے اْسے دیکھا تو چلا کر کہا مصلوب کر مصلوب! پلاطوس نے اْن سے کہا تم ہی اسے لے جاؤ اور مصلوب کرو کیونکہ مَیں اِس کا کچھ جرم نہیں پاتا۔

7۔ یہودیوں نے اْسے جواب دیا کہ ہم اہلِ شریعت کے موافق وہ قتل کے لائق ہے کیونکہ اْس نے اپنے آپ کو خدا کا بیٹا بنایا۔

8۔ جب پلاطوس نے یہ بات سنی تو اور بھی ڈرا۔

9۔ اور پھر قلعہ میں جا کر یسوع سے کہا تْو کہاں کا ہے؟ مگر یسوع نے اْسے جواب نہ دیا۔

10۔ پس پلاطوس نے اْس سے کہا تْو مجھ سے بولتا نہیں؟ کیا تْو نہیں جانتا کہ مجھ کو تجھے چھوڑ دینے کا بھی اختیار ہے اور مصلوب کرنے کا بھی اختیار ہے؟

11۔ یسوع نے اْسے جواب دیا کہ اگر تجھے اوپر سے نہ دیا جاتا تو تیرا مجھ پر کچھ اختیار نہ ہوتا۔ اِس سبب سے جس نے مجھے تیرے حوالے کیا اْس کا گناہ زیادہ ہے۔

14۔ یہ فسح کی تیاری کا دن اور چھٹے گھنٹے کے قریب تھا۔ پھر اْس نے یہودیوں سے کہا دیکھو یہ ہے تمہارا بادشاہ۔

15۔ پس وہ چلائے کہ لے جا! لے جا! اْسے مصلوب کر! پلاطوس نے اْن سے کہا کیا مَیں تمہارے بادشاہ کو مصلوب کروں؟ سردار کاہنوں نے جواب دیا کہ قیصر کے سوا ہمارا کوئی بادشاہ نہیں۔

16۔ اِس پر اْس نے اْس کو اْن کے حوالے کیا کہ مصلوب کیا جائے۔ پس وہ یسوع کو لے گئے۔

17۔ اور وہ اپنی صلیب آپ اٹھائے ہوئے اْس جگہ تک باہر گیا جو کھوپڑی کی جگہ کہلاتی ہے۔ جس کا ترجمہ عبرانی میں گلگتا ہے۔

18۔ وہاں اْنہوں نے اْس کو اور اْس کے ساتھ اور دو شخصوں کو مصلوب کیا۔ ایک کو ادھر ایک کو اْدھر اور یسوع کو بیچ میں۔

19۔ اور پلاطوس نے ایک کتبہ لکھ کر صلیب پر لگایا۔ اْس میں لکھا تھا یسوع ناصری یہودیوں کا بادشاہ۔

4. John 19 : 1, 2, 6-11, 14-19

1     Then Pilate therefore took Jesus, and scourged him.

2     And the soldiers platted a crown of thorns, and put it on his head, and they put on him a purple robe,

6     When the chief priests therefore and officers saw him, they cried out, saying, Crucify him, crucify him. Pilate saith unto them, Take ye him, and crucify him: for I find no fault in him.

7     The Jews answered him, We have a law, and by our law he ought to die, because he made himself the Son of God.

8     When Pilate therefore heard that saying, he was the more afraid;

9     And went again into the judgment hall, and saith unto Jesus, Whence art thou? But Jesus gave him no answer.

10     Then saith Pilate unto him, Speakest thou not unto me? knowest thou not that I have power to crucify thee, and have power to release thee?

11     Jesus answered, Thou couldest have no power at all against me, except it were given thee from above: therefore he that delivered me unto thee hath the greater sin.

14     And it was the preparation of the passover, and about the sixth hour: and he saith unto the Jews, Behold your King!

15     But they cried out, Away with him, away with him, crucify him. Pilate saith unto them, Shall I crucify your King? The chief priests answered, We have no king but Cæsar.

16     Then delivered he him therefore unto them to be crucified. And they took Jesus, and led him away.

17     And he bearing his cross went forth into a place called the place of a skull, which is called in the Hebrew Golgotha:

18     Where they crucified him, and two other with him, on either side one, and Jesus in the midst.

19     And Pilate wrote a title, and put it on the cross. And the writing was, JESUS OF NAZARETH THE KING OF THE JEWS.

5 . ۔ رومیوں 5 باب8 (خدا)، 10، 11 آیات

8۔ لیکن خدا اپنی محبت کی خوبی ہم پر یوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گناہگار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطر موا۔

10۔ کیونکہ جب باوجود ْشمن ہونے کے خدا سے اْس کے بیٹے کی موت کے وسیلہ ہمار امیل ہوگیا تو میل ہونے کے بعد تو ہم اْس کی زندگی کے سبب سے ضرور ہی بچیں گے۔

11۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ اپنے خداوند یسوع مسیح کے طفیل سے جس کے وسیلہ سے اب ہمارا خدا کے ساتھ میل ہوگیا خدا پر فخر بھی کرتے ہیں۔

5. Romans 5 : 8 (God), 10, 11

5     God commendeth his love toward us, in that, while we were yet sinners, Christ died for us.

10     For if, when we were enemies, we were reconciled to God by the death of his Son, much more, being reconciled, we shall be saved by his life.

11     And not only so, but we also joy in God through our Lord Jesus Christ, by whom we have now received the atonement.



سائنس اور صح


1 . ۔ 18 :1۔12

کفارہ خدا کے ساتھ انسانی اتحاد کی مثال ہے، جس کے تحت انسان الٰہی سچائی، زندگی اور محبت کی عکاسی کرتے ہیں۔ یسوع ناصری نے انسان کی باپ کے ساتھ یگانگت کو بیان کیا، اور اس کے لئے ہمارے اوپر اْس کی لامتناہی عقیدت کا قرض ہے۔ اْس کا مشن انفرادی اور اجتماعی دونوں تھا۔ اْس نے زندگی کا مناسب کام سر انجام دیا نہ صرف خود کے انصاف کے لئے بلکہ انسانوں پر رحم کے باعث، انہیں یہ دکھانے کے لئے کہ انہیں اپنا کام کیسے کرنا ہے، بلکہ نہ تو اْن کے لئے خود کچھ کرنے یا نہ ہی اْنہیں کسی ایک ذمہ داری سے آزاد کرنے کے لئے یہ کیا۔یسوع نے دلیری سے حواس کے تسلیم شْدہ ثبوت کے خلاف، منافقانہ عقائد اور مشقوں کے خلاف کام کیا، اور اْس نے اپنی شفائیہ طاقت کی بدولت اپنے سبھی حریفوں کی تردید کی۔

1. 18 : 1-12

Atonement is the exemplification of man's unity with God, whereby man reflects divine Truth, Life, and Love. Jesus of Nazareth taught and demonstrated man's oneness with the Father, and for this we owe him endless homage. His mission was both individual and collective. He did life's work aright not only in justice to himself, but in mercy to mortals, — to show them how to do theirs, but not to do it for them nor to relieve them of a single responsibility. Jesus acted boldly, against the accredited evidence of the senses, against Pharisaical creeds and practices, and he refuted all opponents with his healing power.

2 . ۔ 19 :6۔11، 17۔28

یسوع نے انسان کو محبت کا حقیقی فہم، یسوع کی تعلیمات کا الٰہی اصول دیتے ہوئے خدا کے ساتھ راضی ہونے میں مدد کی، اور محبت کا یہ حقیقی فہم روح کے قانون، الٰہی محبت کے قانون کے وسیلہ انسان کو مادے، گناہ اور موت کے قانون سے آزاد کرتا ہے۔

توبہ اور دْکھوں کا ہر احساس، اصلاح کی ہر کوشش، ہر اچھی سوچ اور کام گناہ کے لئے یسوع کے کفارے کو سمجھنے میں مدد کرے گا اور اِس کی افادیت میں مدد کرے گا؛ لیکن اگر گناہگار دعا کرنا اور توبہ کرنا، گناہ کرنا اور معافی مانگنا جاری رکھتا ہے، تو کفارے میں، خدا کے ساتھ یکجہتی میں اْس کا بہت کم حصہ ہوگا، کیونکہ اْس میں عملی توبہ کی کمی ہے، جو دل کی اصلاح کرتی اور انسان کو حکمت کی رضا پوری کرنے کے قابل بناتی ہے۔وہ جو، کم از کم کسی حد تک، ہمارے مالک کی تعلیمات اور مشق کے الٰہی اصول کا اظہار نہیں کر سکتے اْن کی خدا میں کوئی شرکت نہیں ہے۔ اگر چہ خدا بھلا ہے، اگر ہم اْس کے ساتھ نافرمانی میں زندگی گزاریں، تو ہمیں کوئی ضمانت محسوس نہیں کرنی چاہئے۔.

2. 19 : 6-11, 17-28

Jesus aided in reconciling man to God by giving man a truer sense of Love, the divine Principle of Jesus' teachings, and this truer sense of Love redeems man from the law of matter, sin, and death by the law of Spirit, — the law of divine Love.

Every pang of repentance and suffering, every effort for reform, every good thought and deed, will help us to understand Jesus' atonement for sin and aid its efficacy; but if the sinner continues to pray and repent, sin and be sorry, he has little part in the atonement, — in the at-one-ment with God, — for he lacks the practical repentance, which reforms the heart and enables man to do the will of wisdom. Those who cannot demonstrate, at least in part, the divine Principle of the teachings and practice of our Master have no part in God. If living in disobedience to Him, we ought to feel no security, although God is good.

3 . ۔ 22 :11۔14، 23۔27، 30۔31

”اپنی نجات کے لئے کوشش کریں“، یہ زندگی اور محبت کا مطالبہ ہے، کیونکہ یہاں پہنچنے کے لئے خدا آپ کے ساتھ کام کرتا ہے۔ ”قائم رہو جب تک کہ میں نہ آؤں!“ اپنے اجر کا انتظار کریں، اور ”نیک کام کرنے میں ہمت نہ ہاریں۔“

غلطی سے حتمی رہائی، جس کے تحت ہم لافانیت، بے انتہا آزادی، بے گناہ فہم میں شادمان ہوتے پھولوں سے سجی راہوں سے ہو کر نہیں پائے جاتے نہ کسی کے ایمان کے بغیر کسی اور کی متبادل کوشش سے سامنے آتے ہیں۔

عدل کے لئے گناہگار کواصلاح کی ضرورت ہے۔ رحم صرف تبھی قرض بخشتا ہے جب عدل تصدیق کرتا ہے۔

3. 22 : 11-14, 23-27, 30-31

"Work out your own salvation," is the demand of Life and Love, for to this end God worketh with you. "Occupy till I come!" Wait for your reward, and "be not weary in well doing."

Final deliverance from error, whereby we rejoice in immortality, boundless freedom, and sinless sense, is not reached through paths of flowers nor by pinning one's faith without works to another's vicarious effort.

Justice requires reformation of the sinner. Mercy cancels the debt only when justice approves.

4 . ۔ 23 :1۔11

ہمیں گناہ سے بچانے کے لئے حکمت اور محبت خود کی بہت سی قربانیوں کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ایک قربانی، خواہ وہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لئے ناکافی ہے۔کفارے کے لئے گناہگار کی طرف سے مسلسل بے لوث قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ الٰہی طور پر غیر فطری ہے کہ خدا کا غضب اْس کے پیارے بیٹے پر نکلے۔ایسا نظریہ انسان کا بنایا ہوا ہے۔علم الٰہیات میں کفارہ ایک سنگین مسئلہ ہے، مگر اِس کی سائنسی تفصیل یہ ہے کہ دْکھ گناہ آلودہ فہم کی ایک غلطی ہے جسے سچائی نیست کرتی ہے، اور بالاآخر یہ دونوں گناہ اور دْکھ ہمیشہ کی محبت کے قدموں پر آگرتے ہیں۔

4. 23 : 1-11

Wisdom and Love may require many sacrifices of self to save us from sin. One sacrifice, however great, is insufficient to pay the debt of sin. The atonement requires constant self-immolation on the sinner's part. That God's wrath should be vented upon His beloved Son, is divinely unnatural. Such a theory is man-made. The atonement is a hard problem in theology, but its scientific explanation is, that suffering is an error of sinful sense which Truth destroys, and that eventually both sin and suffering will fall at the feet of everlasting Love.

5 . ۔ 48 :10۔16

گتسمنی کی گھاس پر مقدس گھڑی کے دوران گرنے والے اذیت کے پسینے کو یاد کرتے ہوئے، کیا کوئی فروتن ترین یا طاقتور ترین شاگرد بڑبڑائے گا جب اْسی پیالے میں سے پیتا ہے اور وہ اپنے برباد کرنے والے سے گناہ کا بدلہ لینے کی بڑی آزمائش سے بچنے کا سوچتا یا خواہش رکھتا ہے؟سچائی اور محبت کارِ حیات مکمل ہونے تک چند ہتھیلیوں کو عطا کرتا ہے۔

5. 48 : 10-16

Remembering the sweat of agony which fell in holy benediction on the grass of Gethsemane, shall the humblest or mightiest disciple murmur when he drinks from the same cup, and think, or even wish, to escape the exalting ordeal of sin's revenge on its destroyer? Truth and Love bestow few palms until the consummation of a life-work.

6 . ۔ 29 :1۔6

مسیحیوں کو گھر میں اور باہر غلط چیز کے خلاف ہاتھ اْٹھانے چاہئیں۔ انہیں خود کے اور دوسروں کے گناہ کے خلاف محاذ آرائی کرنی چاہئے، اوراپنا مقصد حاصل ہونے تک یہ جنگ جاری رکھنی چاہئے۔ اگر وہ ایمان رکھتے ہیں تو انہیں شادمانی کا تاج نصیب ہوگا۔

6. 29 : 1-6

Christians must take up arms against error at home and abroad. They must grapple with sin in themselves and in others, and continue this warfare until they have finished their course. If they keep the faith, they will have the crown of rejoicing.

7 . ۔ 45 :6۔21

ہمارے مالک نے مکمل طور پر اور فیصلہ کْن انداز میں موت اور قبر پر اپنی فتح سے الٰہی سائنس کو واضح کیا۔یسوع کا کام انسان کی روشن خیالی اور پوری دنیا کی گناہ، بیماری اور موت سے نجات کے لئے تھا۔ پولوس لکھتا ہے: ”کیونکہ جب باوجود ْشمن ہونے کے خدا سے اْس کے بیٹے کی]بظاہر[ موت کے وسیلہ ہمار امیل ہوگیا تو میل ہونے کے بعد تو ہم اْس کی زندگی کے سبب سے ضرور ہی بچیں گے۔“اْس کی جسمانی تدفین کے تین دن بعد اْس نے اپنے شاگردوں سے بات کی۔ اْس پر ظلم ڈھانے والے لافانی سچائی اور محبت کو قبر کے اندر پوشیدہ رکھنے میں ناکام ہو چکے تھے۔

خدا کی تمجید ہو اور جدوجہد کرنے والے دلوں کے لئے سلامتی ہو! مسیح نے انسانی امید اور ایمان کے درواز ے سے پتھر ہٹا دیا ہے، اور خدا میں زندگی کے اظہار اور مکاشفہ کی بدولت اْس نے انسان کے روحانی خیال اور اْس کے الٰہی اصول، یعنی محبت کے ساتھ ممکنہ کفارے سے انہیں بلند کیا۔

7. 45 : 6-21

Our Master fully and finally demonstrated divine Science in his victory over death and the grave. Jesus' deed was for the enlightenment of men and for the salvation of the whole world from sin, sickness, and death. Paul writes: "For if, when we were enemies, we were reconciled to God by the [seeming] death of His Son, much more, being reconciled, we shall be saved by his life." Three days after his bodily burial he talked with his disciples. The persecutors had failed to hide immortal Truth and Love in a sepulchre.

Glory be to God, and peace to the struggling hearts! Christ hath rolled away the stone from the door of human hope and faith, and through the revelation and demonstration of life in God, hath elevated them to possible at-one-ment with the spiritual idea of man and his divine Principle, Love.

8 . ۔ 228 :25۔32

خدا سے جدا کوئی طاقت نہیں ہے۔ قادر مطلق میں ساری طاقت ہے، اور کسی اور طاقت کو ماننا خدا کی بے حرمتی کرنا ہے۔ حلیم ناصری نے اس مفروضے کو مسترد کردیا کہ گناہ، بیماری اور موت میں کوئی طاقت ہے۔اْس نے انہیں بے اختیار ثابت کیا۔اِسے کاہنوں کے تکبر کو حلیم بنا دینا چاہئے تھا جب انہوں نے مسیحت کے اظہار کو اْن کے مردہ ایمان اور رسومات کے تاثر سے آگے بڑھتے دیکھا۔

8. 228 : 25-32

There is no power apart from God. Omnipotence has all-power, and to acknowledge any other power is to dishonor God. The humble Nazarene overthrew the supposition that sin, sickness, and death have power. He proved them powerless. It should have humbled the pride of the priests, when they saw the demonstration of Christianity excel the influence of their dead faith and ceremonies.

9 . ۔ 8: 20۔30

خواہ وہ کتنی ہی گرمجوشی کے اظہار کے ساتھ ہو،فروتنی کے لئے دعا کرنے سے مراد اِس کی خواہش کرنا ہر گز نہیں ہوتا۔اگر ہم غریبوں سے منہ پھیر لیتے ہیں تو ہم اْس سے اپنا اجر حاصل کرنے کو تیار نہیں جو غریبوں کو برکت دیتا ہے۔ ہم بہت بدکار دل رکھنے کا اقرار کرتے ہیں اور مانگ کرتے ہیں کہ اِسے ہمارے سامنے کھْلا رکھا جائے، مگر کیا ہم اِس دل کو پہلے ہی نہیں جانتے بہ نسبت کہ ہم اِسے اپنے ہمسایے کو دکھانا چاہیں؟

ہمیں خود کا جائزہ لینا چاہئے اور یہ جاننا چاہئے کہ دل کی رغبت اور مقصد کیا ہے، کیونکہ صرف اسی صورت میں ہم یہ جان سکتے ہیں کہ ہم اصل میں کیا ہیں۔

9. 8 : 20-30

Praying for humility with whatever fervency of expression does not always mean a desire for it. If we turn away from the poor, we are not ready to receive the reward of Him who blesses the poor. We confess to having a very wicked heart and ask that it may be laid bare before us, but do we not already know more of this heart than we are willing to have our neighbor see?

We should examine ourselves and learn what is the affection and purpose of the heart, for in this way only can we learn what we honestly are.

10 . ۔ 21 :1۔14

اگر آپ کی زور مرہ کی زندگی اور گفتگو میں سچائی غلطی پر فتح پا رہی ہے، تو آپ بالاآخر کہہ سکتے ہیں، ”میں اچھی کْشتی لڑ چکا۔۔۔مَیں نے ایمان کو محفوظ رکھا،“ کیونکہ آپ ایک بہتر انسان ہیں۔ یہ سچائی اور محبت کے ساتھ یکجہتی میں حصہ لینا ہے۔مسیحی لوگ اِس توقع کے ساتھ محنت کرنا اور دعا کرنا جاری نہیں رکھتے کہ کسی اور اچھائی، دْکھ اور فتح کے باعث وہ اْس کی ہم آہنگی اور اجرپالیں گے۔

اگر شاگرد روحانی طور پر ترقی کر رہا ہے، تو وہ داخل ہونے کی جدجہد کر رہا ہے۔ وہ مادی حِس سے دور ہونے کی مسلسل کوشش کررہا ہے اور روح کی ناقابل تسخیر چیزوں کا متلاشی ہے۔اگر ایماندار ہے تو وہ ایمانداری سے ہی آغاز کرے گا اور آئے دن درست سمت پائے گا جب تک کہ وہ آخر کار شادمانی کے ساتھ اپنا سفر مکمل نہیں کر لیتا۔

10. 21 : 1-14

If Truth is overcoming error in your daily walk and conversation, you can finally say, "I have fought a good fight ... I have kept the faith," because you are a better man. This is having our part in the at-one-ment with Truth and Love. Christians do not continue to labor and pray, expecting because of another's goodness, suffering, and triumph, that they shall reach his harmony and reward.

If the disciple is advancing spiritually, he is striving to enter in. He constantly turns away from material sense, and looks towards the imperishable things of Spirit. If honest, he will be in earnest from the start, and gain a little each day in the right direction, till at last he finishes his course with joy.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████