اتوار 18اکتوبر، 2020 |

اتوار 18اکتوبر، 2020 



مضمون۔ کفارے کا عقیدہ

SubjectDoctrine of Atonement

سنہری متن: متی 5باب8آیت

”مبارک ہیں وہ جو پاکدل ہیں کیونکہ وہ خدا کو دیکھیں گے۔“



Golden Text: Matthew 5 : 8

Blessed are the pure in heart: for they shall see God.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: 2 پطرس 3 باب9تا14، 17، 18 آیات


9۔ خداوند اپنے وعدہ میں دیر نہیں کرتا جیسی دیر بعض لوگ سمجھتے ہیں بلکہ تمہارے بارے میں تحمل کرتا ہے اس لئے کہ کسی کی ہلاکت نہیں چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ سب کی توبہ تک نوبت پہنچے۔

10۔ لیکن خداوند کا دن چور کی طرح آئے گا۔ اْس دن آسمان بڑے شورو غل کے ساتھ برباد ہو جائیں گے اور اجرامِ فلک حرارت کی شدت سے پگھل جائیں گے اور زمین اور اْس پر کے کام جل جائیں گے۔

11۔ جب یہ سب چیزیں اِسی طرح پگھلنے والی ہیں تو تمہیں پاک چال چلن اور دینداری میں کیسا کچھ ہونا چاہئے۔

12۔اور خدا کے اْس دن کے آنے کا کیسا کچھ منتظر اور مشتاق رہنا چاہئے۔جس کے باعث آسمان پگھل جائیں گے اور جرامِ فلک حرارت کی شدت سے گل جائیں گے۔

13۔ لیکن اْس کے وعدہ کے موافق ہم نئے آسمان اور نئی زمین کا انتظار کرتے ہیں جن میں راستبازی بسی رہے گی۔

14۔ پس اے عزیزو! چونکہ تم اِن باتوں کے منتظر ہو اِس لئے اْس کے سامنے اطمینان کی حالت میں بے داغ اور بے عیب نکلنے کی کوشش کرو۔

17۔ پس اے عزیزو! چونکہ تم پہلے سے آگاہ ہو اِس لئے ہوشیار رہو تاکہ بے دینوں کی گمراہی کی طرف کھِنچ کر اپنی مضبوطی کو نہ چھوڑ دو۔

18۔ بلکہ ہمارے خداوند اور منجی یسوع مسیح کے فضل اور عرفان میں بڑھتے جاؤ۔

Responsive Reading: II Peter 3 : 9-14, 17, 18

9.     The Lord is not slack concerning his promise, as some men count slackness; but is longsuffering to us-ward, not willing that any should perish, but that all should come to repentance.

10.     But the day of the Lord will come as a thief in the night; in the which the heavens shall pass away with a great noise, and the elements shall melt with fervent heat, the earth also and the works that are therein shall be burned up.

11.     Seeing then that all these things shall be dissolved, what manner of persons ought ye to be in all holy conversation and godliness,

12.     Looking for and hasting unto the coming of the day of God, wherein the heavens being on fire shall be dissolved, and the elements shall melt with fervent heat?

13.     Nevertheless we, according to his promise, look for new heavens and a new earth, wherein dwelleth righteousness.

14.     Wherefore, beloved, seeing that ye look for such things, be diligent that ye may be found of him in peace, without spot, and blameless.

17.     Ye therefore, beloved, seeing ye know these things before, beware lest ye also, being led away with the error of the wicked, fall from your own stedfastness.

18.     But grow in grace, and in the knowledge of our Lord and Saviour Jesus Christ.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ احبار 6 باب1تا7 آیات

1۔ پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا۔

2۔ اگر کسی سے یہ خطا ہو کہ وہ خداوند کا قصور کرے اور امانت یا لین دین یا لوٹ کے معاملہ میں اپنے ہمسایہ کو فریب دے یا اپنے ہمسایے پر ظلم کرے۔

3۔ یا کسی کھوئی ہوئی چیز کو پاکر فریب دے اور جھوٹی قسم بھی کھائے پس اْن میں سے خواہ کوئی بات بھی ہو جس میں کسی شخص سے خطا ہو گئی ہے۔

4۔ سو اگر اْس سے خطا ہوئی ہے اور وہ مجرم ٹھہرا ہے تو جو چیز اْس نے لوٹی یا جو چیز اْس نے ظلم کر کے چھینی یا جو چیز اْس کے پاس امانت تھی یا جو کھوئی ہوئی چیز اْسے ملی۔

5۔ یا جس چیز کے بارے میں اْس نے جھوٹی قسم کھائی اْس چیز کو وہ ضرور پورا واپس کرے اور اصل کے ساتھ پانچواں حصہ بھی بڑھا دے۔ جس دن یہ معلوم ہو کہ وہ مجرم ہے اْسی دن وہ اْسے اس مالک کو واپس دے۔

6۔ اور اپنے جرم کی قربانی خداوند کے حضور چڑھائے اور جتنا دام تْو مقرر کرے اْتنے دام کا ایک بے عیب مینڈھا ریوڑ میں ہے جرم کی قربانی کے طور پر کاہن کے پاس لائے۔

7۔ یوں کاہن اْس کے لئے خداوند کے حضورکفارہ دے تو جس کام کو کر کے وہ مجرم ٹھہرا ہے اْس کی اْسے معافی ملے گی۔

1. Leviticus 6 : 1-7

1     And the Lord spake unto Moses, saying,

2     If a soul sin, and commit a trespass against the Lord, and lie unto his neighbour in that which was delivered him to keep, or in fellowship, or in a thing taken away by violence, or hath deceived his neighbour;

3     Or have found that which was lost, and lieth concerning it, and sweareth falsely; in any of all these that a man doeth, sinning therein:

4     Then it shall be, because he hath sinned, and is guilty, that he shall restore that which he took violently away, or the thing which he hath deceitfully gotten, or that which was delivered him to keep, or the lost thing which he found,

5     Or all that about which he hath sworn falsely; he shall even restore it in the principal, and shall add the fifth part more thereto, and give it unto him to whom it appertaineth, in the day of his trespass offering.

6     And he shall bring his trespass offering unto the Lord, a ram without blemish out of the flock, with thy estimation, for a trespass offering, unto the priest:

7     And the priest shall make an atonement for him before the Lord: and it shall be forgiven him for any thing of all that he hath done in trespassing therein.

2۔ یوحنا 8 باب1تا12، 31تا34، 37، 59 آیات

1۔ مگر یسوع زیتون کے پہاڑ پر گیا۔

2۔ صبح سویرے ہی وہ پھر ہیکل میں آیا اور سب لوگ اْس کے پاس آئے اور وہ بیٹھ کر اْنہیں تعلیم دینے لگا۔

3۔ اور فقیہ اور فریسی ایک عورت کو لائے جو زنا میں پکڑی گئی تھی اور اْسے بیچ میں کھڑا کر کے یسوع سے کہا۔

4۔ اے اْستاد! یہ عورت زنا میں عین فعل کے وقت پکڑی گئی ہے۔

5۔ توریت میں موسیٰ نے ہم کو حکم دیا ہے کہ ایسی عورتوں کو سنگسار کریں۔ پس تْو اِس عورت کی نسبت کیا کہتا ہے؟

6۔ اْنہوں نے اْسے آزمانے کے لئے یہ کہا تاکہ اْس پر الزام لگانے کا کوئی سبب نکالیں مگر یسوع جھک کر اْنگلی سے زمین پر لکھنے لگا۔

7۔ جب وہ اْس سے سوال کرتے ہی رہے تو اْس نے سیدھے ہو کر اْن سے کہا کہ جو تم میں بے گناہ ہو وہی پہلے اْسے پتھر مارے۔

8۔ اورپھر جھْک کر زمین پر انگلی سے لکھنے لگا۔

9۔ وہ یہ سْن کر بڑوں سے لیکر چھوٹوں تک ایک ایک کر کے نکل گئے اور یسوع اکیلا رہ گیا اور عورت وہی بیچ میں رہ گئی۔

10۔ یسوع نے سیدھے ہو کر اْس سے کہا اے عورت یہ لوگ کہاں گئے؟ کیا کسی نے تجھ پر حکم نہیں لگایا؟

11۔ اْس نے کہا اے خداوند! کسی نے نہیں۔ یسوع نے کہا مَیں بھی تجھ پر حکم نہیں لگاتا۔ جا۔ پھر گناہ نہ کرنا۔

12۔ یسوع نے پھر اْن سے مخاطب ہو کر کہا دنیا کا نور مَیں ہوں۔ جو میری پیروی کرے گا اندھیرے میں نہ چلے گا بلکہ زندگی کا نور پائے گا۔

31۔ پس یسوع نے اْن یہودیوں سے کہا جنہوں نے اْس کا یقین کیا تھا کہ اگر تم میرے کلام پر قائم رہو گے تو حقیقت میں میرے شاگرد ٹھہرو گے۔

32۔ اور سچائی سے واقف ہوگے اور سچائی تم کو آزاد کرے گی۔

33۔ اْنہوں نے اْسے جواب دیا ہم تو براہام کی نسل سے ہیں اور کبھی کسی کی غلامی میں نہیں رہے۔ تْو کیونکر کہتا ہے کہ تم آزاد کئے جاؤ گے؟

34۔ یسوع نے اْنہیں جواب دیا مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو کوئی گناہ کرتا ہے گناہ کا غلام ہے۔

37۔ مَیں جانتا ہوں کہ تم ابراہام کی نسل سے ہو تو بھی میرے قتل کی کوشش میں ہوکیونکہ میرا کلام تمہارے دل میں جگہ نہیں پاتا۔

59۔ پس اْنہوں نے اْسے مارنے کو پتھر اْٹھائے مگر یسوع چھپ کر ہیکل سے نکل گیا۔

2. John 8 : 1-12, 31-34, 37, 59

1     Jesus went unto the mount of Olives.

2     And early in the morning he came again into the temple, and all the people came unto him; and he sat down, and taught them.

3     And the scribes and Pharisees brought unto him a woman taken in adultery; and when they had set her in the midst,

4     They say unto him, Master, this woman was taken in adultery, in the very act.

5     Now Moses in the law commanded us, that such should be stoned: but what sayest thou?

6     This they said, tempting him, that they might have to accuse him. But Jesus stooped down, and with his finger wrote on the ground, as though he heard them not.

7     So when they continued asking him, he lifted up himself, and said unto them, He that is without sin among you, let him first cast a stone at her.

8     And again he stooped down, and wrote on the ground.

9     And they which heard it, being convicted by their own conscience, went out one by one, beginning at the eldest, even unto the last: and Jesus was left alone, and the woman standing in the midst.

10     When Jesus had lifted up himself, and saw none but the woman, he said unto her, Woman, where are those thine accusers? hath no man condemned thee?

11     She said, No man, Lord. And Jesus said unto her, Neither do I condemn thee: go, and sin no more.

12     Then spake Jesus again unto them, saying, I am the light of the world: he that followeth me shall not walk in darkness, but shall have the light of life.

31     Then said Jesus to those Jews which believed on him, If ye continue in my word, then are ye my disciples indeed;

32     And ye shall know the truth, and the truth shall make you free.

33     They answered him, We be Abraham’s seed, and were never in bondage to any man: how sayest thou, Ye shall be made free?

34     Jesus answered them, Verily, verily, I say unto you, Whosoever committeth sin is the servant of sin.

37     I know that ye are Abraham’s seed; but ye seek to kill me, because my word hath no place in you.

59     Then took they up stones to cast at him: but Jesus hid himself, and went out of the temple, going through the midst of them, and so passed by.

3۔ یوحنا 18 باب19، 20 آیات

19۔ پھر سردار کاہن نے یسوع سے اْس کے شاگردوں اور اْس کی تعلیم کے بارے میں پوچھا۔

20۔ یسوع نے جواب دیا کہ مَیں نے دنیا سے علانیہ باتیں کی ہیں۔ مَیں نے ہمیشہ عبادت خانوں اور ہیکل میں جہاں سب یہودی جمع ہوتے ہیں تعلیم دی اور پوشیدہ کچھ نہیں کہا۔

3. John 18 : 19, 20

19     The high priest then asked Jesus of his disciples, and of his doctrine.

20     Jesus answered him, I spake openly to the world; I ever taught in the synagogue, and in the temple, whither the Jews always resort; and in secret have I said nothing.

4۔ یوحنا 19 باب1، 17، 18 (تا پہلا)آیات

1۔ اِس پر پلاطوس نے یسوع کو لے کر کوڑے لگوائے۔

17۔ اور وہ اپنی صلیب آپ اْٹھائے ہوئے اْس جگہ تک باہر گیا جو کھوپڑی کی جگہ کہلاتی ہے۔ جس کا ترجمہ عبرانی میں گْلگتا ہے۔

18۔ وہاں اْنہوں نے اْس کو مصلوب کیا۔

4. John 19 : 1, 17, 18 (to 1st ,)

1     Then Pilate therefore took Jesus, and scourged him.

17     And he bearing his cross went forth into a place called the place of a skull, which is called in the Hebrew Golgotha:

18     Where they crucified him,

5۔ لوقا 24 باب1تا3، 15، 44تا47 آیات

1۔ سبت کے دن تو اْنہوں نے حکم کے مطابق آرام کیا۔ لیکن ہفتہ کے پہلے دن وہ صبح سویرے ہی اْن خشبودار چیزوں کو جو تیار کی تھیں لے کر قبر پر آئیں۔

2۔ اور پتھر کو قبر پر سے لْڑھکا ہوا پایا۔

3۔ مگر اندر جا کر خداوند یسوع کی لاش نہ پائی۔

15۔جب وہ بات چیت اور پوچھ پاچھ کر رہے تھے تو ایسا ہوا کہ یسوع آپ نزدیک آکر اْن کے ساتھ ہولیا۔

44۔ پھر اْس نے اْن سے کہا یہ میری وہ باتیں ہیں جو مَیں نے تم سے اْس وقت کہیں تھیں جب تمہارے ساتھ تھا کہ ضرور ہے کہ جتنی باتیں موسیٰ کی توریت اور نبیوں کے صحیفوں اور زبور میں میری بابت لکھی ہیں پوری ہوں۔

45۔ پھر اْس نے اْن کا ذہن کھولا تاکہ کتابِ مقدس کو سمجھیں۔

46۔ اور اْن سے کہا یوں لکھا ہے کہ مسیح دْکھ اٹھائے گا اور تیسرے دن مردوں میں سے جی اٹھے گا۔

47۔ اور یروشلیم سے شروع کر کے سب قوموں میں توبہ اور گناہوں کی معافی کی منادی اْس کے نام سے کی جائے گی۔

5. Luke 24 : 1-3, 15, 44-47

1     Now upon the first day of the week, very early in the morning, they came unto the sepulchre, bringing the spices which they had prepared, and certain others with them.

2     And they found the stone rolled away from the sepulchre.

3     And they entered in, and found not the body of the Lord Jesus.

15     And it came to pass, that, while they communed together and reasoned, Jesus himself drew near, and went with them.

44     And he said unto them, These are the words which I spake unto you, while I was yet with you, that all things must be fulfilled, which were written in the law of Moses, and in the prophets, and in the psalms, concerning me.

45     Then opened he their understanding, that they might understand the scriptures,

46     And said unto them, Thus it is written, and thus it behoved Christ to suffer, and to rise from the dead the third day:

47     And that repentance and remission of sins should be preached in his name among all nations, beginning at Jerusalem.

6۔ رومیوں 5 باب8تا11 آیات

8۔لیکن خدا اپنی محبت کی خوبی ہم پر یوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گنہگار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطر موا۔

9۔پس جب ہم اُس کے خون کے باعث اب راستباز ٹھہرے تو اُس کے وسیلہ سے غضب الہٰی سے ضرور ہی بچیں گے۔

10۔ کیونکہ جب باوجود دشمن ہونے کے خدا سے اس کے بیٹے کی موت کے وسیلہ سے ہمارا میل ہوگیا تو میل ہونے کے بعد تو ہم اُس کی زندگی کے سبب سے ضرور ہی بچیں گے۔

11۔اور صرف یہی نہیں بلکہ اپنے خداوند یسوع مسیح کے طفیل سے جس کے وسیلہ سے اب ہمارا خدا کے ساتھ میل ہوگیا خدا پر فخر بھی کرتے ہیں۔

6. Romans 5 : 8-11

8     But God commendeth his love toward us, in that, while we were yet sinners, Christ died for us.

9     Much more then, being now justified by his blood, we shall be saved from wrath through him.

10     For if, when we were enemies, we were reconciled to God by the death of his Son, much more, being reconciled, we shall be saved by his life.

11     And not only so, but we also joy in God through our Lord Jesus Christ, by whom we have now received the atonement.



سائنس اور صح


1۔ 18 :1۔5، 13۔15

کفارہ خدا کے ساتھ انسان کے اتحاد کی مثال ہے، جس کے تحت انسان الٰہی سچائی، زندگی اور محبت کی عکاسی کرتے ہیں۔ یسوع ناصری نے انسان کی باپ کے ساتھ یگانگت کو بیان کیا، اور اس کے لئے ہمارے اوپر اْس کی لامتناہی عقیدت کا قرض ہے۔

مسیح کا کفارہ انسان کو خدا کے ساتھ جوڑتا ہے، خدا کو انسان کے ساتھ نہیں؛ کیونکہ مسیح کا الٰہی اصول خدا ہے، اور خدا خود کی کیسے رضا جوئی کر سکتا ہے؟

1. 18 : 1-5, 13-15

Atonement is the exemplification of man's unity with God, whereby man reflects divine Truth, Life, and Love. Jesus of Nazareth taught and demonstrated man's oneness with the Father, and for this we owe him endless homage.

The atonement of Christ reconciles man to God, not God to man; for the divine Principle of Christ is God, and how can God propitiate Himself?

2۔ 19 :6۔11

یسوع نے انسان کو محبت کا حقیقی فہم، یسوع کی تعلیمات کا الٰہی اصول دیتے ہوئے خدا کے ساتھ راضی ہونے میں مدد کی، اور محبت کا یہ حقیقی فہم روح کے قانون، الٰہی محبت کے قانون کے وسیلہ انسان کو مادے، گناہ اور موت کے قانون سے آزاد کرتا ہے۔

2. 19 : 6-11

Jesus aided in reconciling man to God by giving man a truer sense of Love, the divine Principle of Jesus' teachings, and this truer sense of Love redeems man from the law of matter, sin, and death by the law of Spirit, — the law of divine Love.

3۔ 22 :23۔31

غلطی سے حتمی رہائی، جس کے تحت ہم لافانیت، بے انتہا آزادی، بے گناہ فہم میں شادمان ہوتے پھولوں سے سجی راہوں سے ہو کر نہیں پائے جاتے نہ کسی کے ایمان کے بغیر کسی اور کی متبادل کوشش سے سامنے آتے ہیں۔ جو کوئی یہ مانتا ہے کہ قہر راست ہے یا الوہیت انسانی تکالیف سے آسودہ ہوتی ہے، وہ خدا کو نہیں سمجھتا۔

عدل کے لئے گناہگار کو اصلاح کی ضرورت ہے۔ رحم صرف تبھی قرض بخشتا ہے جب عدل تصدیق کرتا ہے۔

3. 22 : 23-31

Final deliverance from error, whereby we rejoice in immortality, boundless freedom, and sinless sense, is not reached through paths of flowers nor by pinning one's faith without works to another's vicarious effort. Whosoever believeth that wrath is righteous or that divinity is appeased by human suffering, does not understand God.

Justice requires reformation of the sinner. Mercy cancels the debt only when justice approves.

4۔ 23 :1۔11

ہمیں گناہ سے بچانے کے لئے حکمت اور محبت خود کی بہت سی قربانیوں کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ایک قربانی، خواہ وہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لئے ناکافی ہے۔کفارے کے لئے گناہگار کی طرف سے مسلسل بے لوث قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ الٰہی طور پر غیر فطری ہے کہ خدا کا غضب اْس کے پیارے بیٹے پر نکلے۔ایسا نظریہ انسان کا بنایا ہوا ہے۔علم الٰہیات میں کفارہ ایک سنگین مسئلہ ہے، مگر اِس کی سائنسی تفصیل یہ ہے کہ دْکھ گناہ آلودہ فہم کی ایک غلطی ہے جسے سچائی نیست کرتی ہے، اور بالاآخر یہ دونوں گناہ اور دْکھ ہمیشہ کی محبت کے قدموں پر آگرتے ہیں۔

4. 23 : 1-11

Wisdom and Love may require many sacrifices of self to save us from sin. One sacrifice, however great, is insufficient to pay the debt of sin. The atonement requires constant self-immolation on the sinner's part. That God's wrath should be vented upon His beloved Son, is divinely unnatural. Such a theory is man-made. The atonement is a hard problem in theology, but its scientific explanation is, that suffering is an error of sinful sense which Truth destroys, and that eventually both sin and suffering will fall at the feet of everlasting Love.

5۔ 19 :17۔28

توبہ اور دْکھوں کا ہر احساس، اصلاح کی ہر کوشش، ہر اچھی سوچ اور کام گناہ کے لئے یسوع کے کفارے کو سمجھنے میں مدد کرے گا اور اِس کی افادیت میں مدد کرے گا؛ لیکن اگر گناہگار دعا کرنا اور توبہ کرنا، گناہ کرنا اور معافی مانگنا جاری رکھتا ہے، تو کفارے میں، خدا کے ساتھ یکجہتی میں اْس کا بہت کم حصہ ہوگا، کیونکہ اْس میں عملی توبہ کی کمی ہے، جو دل کی اصلاح کرتی اور انسان کو حکمت کی رضا پوری کرنے کے قابل بناتی ہے۔وہ جو، کم از کم کسی حد تک، ہمارے مالک کی تعلیمات اور مشق کے الٰہی اصول کا اظہار نہیں کر سکتے اْن کی خدا میں کوئی شرکت نہیں ہے۔ اگر چہ خدا بھلا ہے، اگر ہم اْس کے ساتھ نافرمانی میں زندگی گزاریں، تو ہمیں کوئی ضمانت محسوس نہیں کرنی چاہئے۔

5. 19 : 17-28

Every pang of repentance and suffering, every effort for reform, every good thought and deed, will help us to understand Jesus' atonement for sin and aid its efficacy; but if the sinner continues to pray and repent, sin and be sorry, he has little part in the atonement, — in the at-one-ment with God, — for he lacks the practical repentance, which reforms the heart and enables man to do the will of wisdom. Those who cannot demonstrate, at least in part, the divine Principle of the teachings and practice of our Master have no part in God. If living in disobedience to Him, we ought to feel no security, although God is good.

6۔ 25 :22۔31

اگرچہ گناہ اور بیماری پر اپنا اختیار ظاہر کرتے ہوئے، عظیم معلم نے کسی صورت دوسروں کو اْن کے تقویٰ کے مطلوبہ ثبوت دینے میں مدد نہیں کی۔ اْس نے اْن کی ہدایت کے لئے کام کیا، کہ وہ اِس طاقت کا اظہار اْسی طرح کریں جیسے اْس نے کیا اور اِس کے الٰہی اصول کو سمجھیں۔ استاد پر مکمل ایمان اور وہ سارا جذباتی پیار جو ہم اْس پر نچھاور کر سکتے ہیں، صرف یہی ہمیں اْس کی تقلید کرنے والے نہیں بنائیں گے۔ ہمیں جا کر اْسی کی مانند کام کرنا چاہئے، وگرنہ ہم اْن بڑی برکات کو فروغ نہیں دے رہے جو ہمارے مالک نے ہمیں عطا کرنے کے لئے کام کیا اور تکلیف اٹھائی۔

6. 25 : 22-31

Though demonstrating his control over sin and disease, the great Teacher by no means relieved others from giving the requisite proofs of their own piety. He worked for their guidance, that they might demonstrate this power as he did and understand its divine Principle. Implicit faith in the Teacher and all the emotional love we can bestow on him, will never alone make us imitators of him. We must go and do likewise, else we are not improving the great blessings which our Master worked and suffered to bestow upon us.

7۔ 30 :19۔32

سچائی کے انفرادی نمونے کے طور پر، یسوع مسیح ربونی غلطی اور تمام گناہ، بیماری اور موت کو رد کرنے آیا، تاکہ سچائی اور زندگی کی راہ ہموار کرے۔روح کے پھلوں اور مادی فہم، سچائی اور غلطی کے مابین فرق کو واضح کرتے ہوئے، یہ نمونہ یسوع کی پوری زمینی زندگی کے دوران ظاہر ہوتا رہا۔

اگر ہم نے روح کو پورا اختیار سنبھالنے کی اجازت دینے کے لئے مادی فہم کی غلطیوں پر مناسب طور سے فتح پا لی ہے تو ہم گناہ سے نفرت کریں گے اور اِسے ہر صورت میں رد کریں گے۔صرف اسی طرح سے ہم ہمارے دشمنوں کے لئے برکت چاہ سکتے ہیں، اگرچہ ہوسکتا ہے وہ ہمارے الفاظ کو نہ سمجھیں۔ہم خود اِس کا انتخاب نہیں کر سکتے، مگر ہماری نجات کے لئے ہمیں ویسے ہی کام کرنا چاہئے جیسے یسوع نے ہمیں سکھایا ہے۔

7. 30 : 19-32

As the individual ideal of Truth, Christ Jesus came to rebuke rabbinical error and all sin, sickness, and death, — to point out the way of Truth and Life. This ideal was demonstrated throughout the whole earthly career of Jesus, showing the difference between the offspring of Soul and of material sense, of Truth and of error.

If we have triumphed sufficiently over the errors of material sense to allow Soul to hold the control, we shall loathe sin and rebuke it under every mask. Only in this way can we bless our enemies, though they may not so construe our words. We cannot choose for ourselves, but must work out our salvation in the way Jesus taught.

8۔ 34 :5۔17

اگر مسیح، سچائی اظہار میں ہمارے پاس آیا، تو کسی دوسری یاد گاری کی ضرورت نہیں، کیونکہ اظہار اعمانوئیل یا خدا ہمارے ساتھ ہے؛ اور اگر کوئی دوسرا ہمارے ساتھ ہے تو اْس کی یادگاری منانے کی کیا ضرورت ہے؟

اگر وہ سب جنہوں نے ساکرامنٹ میں حصہ لیا یسوع کے دکھوں کی حقیقتاً یادگاری منائی تھی اور اْس کے پیالے میں سے پیا تھا تو وہ وہ دنیا میں انقلاب برپا کر دیتے۔ وہ سب جومادی علامات کے وسیلہ اْس کی یادگاری کے متلاشی ہیں وہ صلیب اٹھائیں گے، بیماروں کو شفا دیں گے، بدروحوں کو نکالیں گے اور مسیح، سچائی کی خوشخبری غریبوں، منفی سوچ والوں،کو دیں گے، وہ ہزار سالہ دور لائیں گے۔

8. 34 : 5-17

If Christ, Truth, has come to us in demonstration, no other commemoration is requisite, for demonstration is Immanuel, or God with us; and if a friend be with us, why need we memorials of that friend?

If all who ever partook of the sacrament had really commemorated the sufferings of Jesus and drunk of his cup, they would have revolutionized the world. If all who seek his commemoration through material symbols will take up the cross, heal the sick, cast out evils, and preach Christ, or Truth, to the poor, — the receptive thought, — they will bring in the millennium.

9۔ 35 :19 صرف، 25۔29

ہمارا بپتسمہ ساری غلطی سے ہماری پاکیزگی ہے۔۔۔۔ہمارا یوخرست ایک خدا کے ساتھ روحانی شراکت ہے۔ ہماری روٹی ”جو آسمان سے اترتی ہے،“ سچائی ہے۔ ہمارا پیالہ صلیب ہے۔ ہماری مے، یعنی وہ مے جو ہمارے مالک نے پی اور اپنے پیروکاروں کو بھی اِس کا حکم دیا، محبت کا الہام ہے۔

9. 35 : 19 only, 25-29

Our baptism is a purification from all error. … Our Eucharist is spiritual communion with the one God. Our bread, "which cometh down from heaven," is Truth. Our cup is the cross. Our wine the inspiration of Love, the draught our Master drank and commended to his followers.

10۔ 324 :4۔6

سمجھ اور خودکی پاکیزگی ترقی کا ثبوت ہے۔ ”مبارک ہیں وہ جو پاک دل ہیں؛ کیونکہ وہ خدا کو دیکھیں گے۔“

10. 324 : 4-6

The purification of sense and self is a proof of progress. "Blessed are the pure in heart: for they shall see God."

11۔ 28 :1۔8

فریسی الٰہی رضا کو جاننے اور اْس کی تعلیم دینے کا دعویٰ کرتے تھے، مگر وہ صرف یسوع کے مقصد کی کامیابی میں رکاوٹ ڈالتے تھے۔حتیٰ کہ اْس کے بہت سے طالب علم بھی اْس کی راہ میں کھڑے ہوگئے۔ اگر استاد نے ایک طالب علم کو لے کر اْسے خدا سے متعلق پوشیدہ حقائق کی تعلیم نہ دی ہوتی تو وہ ہر گز مصلوب نہ ہوتا۔مادے کی گرفت میں روح کو جکڑ کے رکھنے کا عزم سچائی اور محبت کو اذیت دینے والا ہے۔

11. 28 : 1-8

The Pharisees claimed to know and to teach the divine will, but they only hindered the success of Jesus' mission. Even many of his students stood in his way. If the Master had not taken a student and taught the unseen verities of God, he would not have been crucified. The determination to hold Spirit in the grasp of matter is the persecutor of Truth and Love.

12۔ 24 :27۔2

مصلوبیت کی افادیت اس عملی پیار اور اچھائی میں پنہاں ہے جو انسان کے لئے ظاہر ہوتی ہے۔ سچائی انسانوں کے درمیان رہتی رہی ہے؛ لیکن جب تک انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ اس سچائی نے اْن کے مالک کو قبر پر فتح بخشی ہے، اْس کے اپنے شاگردوں کو اس بات کا یقین نہ تھا کہ ایسا ہونا بھی ممکن ہوسکتا تھا۔ جی اٹھنے کے بعد، حتیٰ کہ غیر معتقد توما بھی یہ ماننے پر مجبور ہوگیا کہ سچائی اور محبت کا ثبوت کس قدر عظیم تھا۔

12. 24 : 27-2

The efficacy of the crucifixion lay in the practical affection and goodness it demonstrated for mankind. The truth had been lived among men; but until they saw that it enabled their Master to triumph over the grave, his own disciples could not admit such an event to be possible. After the resurrection, even the unbelieving Thomas was forced to acknowledge how complete was the great proof of Truth and Love.

13۔ 21 :1۔14

اگر آپ کی زور مرہ کی زندگی اور گفتگو میں سچائی غلطی پر فتح پا رہی ہے، تو آپ بالاآخر کہہ سکتے ہیں، ”میں اچھی کْشتی لڑ چکا۔۔۔مَیں نے ایمان کو محفوظ رکھا،“ کیونکہ آپ ایک بہتر انسان ہیں۔ یہ سچائی اور محبت کے ساتھ یکجہتی میں حصہ لینا ہے۔مسیحی لوگ اِس توقع کے ساتھ محنت کرنا اور دعا کرنا جاری نہیں رکھتے کہ کسی اور اچھائی، دْکھ اور فتح کے باعث وہ اْس کی ہم آہنگی اور اجرپالیں گے۔

اگر شاگرد روحانی طور پر ترقی کر رہا ہے، تو وہ داخل ہونے کی جدجہد کر رہا ہے۔ وہ مادی حِس سے دور ہونے کی مسلسل کوشش کررہا ہے اور روح کی ناقابل تسخیر چیزوں کا متلاشی ہے۔اگر ایماندار ہے تو وہ ایمانداری سے ہی آغاز کرے گا اور آئے دن درست سمت پائے گا جب تک کہ وہ آخر کار شادمانی کے ساتھ اپنا سفر مکمل نہیں کر لیتا۔

13. 21 : 1-14

If Truth is overcoming error in your daily walk and conversation, you can finally say, "I have fought a good fight … I have kept the faith," because you are a better man. This is having our part in the at-one-ment with Truth and Love. Christians do not continue to labor and pray, expecting because of another's goodness, suffering, and triumph, that they shall reach his harmony and reward.

If the disciple is advancing spiritually, he is striving to enter in. He constantly turns away from material sense, and looks towards the imperishable things of Spirit. If honest, he will be in earnest from the start, and gain a little each day in the right direction, till at last he finishes his course with joy.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████