اتوار 18 اپریل،2021



مضمون۔ کفارے کا عقیدہ

SubjectDoctrine of Atonement

سنہری متن: 34زبور 22 آیت

”خداوند اپنے بندوں کی جان کا فدیہ دیتا ہے اور جو اْس پر توکل کرتے ہیں اْن میں سے کوئی مجرم نہ ٹھہرے گا۔“



Golden Text: Psalm 34 : 22

The Lord redeemeth the soul of his servants: and none of them that trust in him shall be desolate.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: 19زبور9تا14 آیات


9۔خداوند کا خوف پاک ہے۔ وہ ابد تک قائم رہتا ہے۔ خداوند کے احکام برحق اور بالکل راست ہیں۔

10۔ وہ سونے سے بلکہ بہت کندن سے زیادہ پسندیدہ ہیں۔ وہ شہد سے بلکہ چھتے کے ٹپکوں سے بھی شیریں ہیں۔

11۔ نیز اْن سے تیرے بندے کو آگاہی ملتی ہے۔ اْن کو ماننے کا اجر بڑا ہے۔

12۔ کون اپنی بھْول چْوک کو جان سکتا ہے؟ تْو مجھے پوشیدہ عیبوں سے پاک کر۔

13۔ تْو اپنے بندے کو بے باکی کے گناہوں سے بھی باز رکھ۔ وہ مجھ پر غالب نہ آئیں تو میں کامل ہوں گا۔اور بڑے گناہ سے بچا رہوں گا۔

14۔ میرے منہ کا کلام اور میرے دل کا خیال تیرے حضور مقبول ٹھہرے۔ اے خداوند! اے میری چٹان اور میرے فدیہ دینے والے۔

Responsive Reading: Psalm 19 : 9-14

9.     The fear of the Lord is clean, enduring for ever: the judgments of the Lord are true and righteous altogether.

10.     More to be desired are they than gold, yea, than much fine gold: sweeter also than honey and the honeycomb.

11.     Moreover by them is thy servant warned: and in keeping of them there is great reward.

12.     Who can understand his errors? cleanse thou me from secret faults.

13.     Keep back thy servant also from presumptuous sins; let them not have dominion over me: then shall I be upright, and I shall be innocent from the great transgression.

14.     Let the words of my mouth, and the meditation of my heart, be acceptable in thy sight, O Lord, my strength, and my redeemer.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ 51 زبور: 1تا3، 9، 10، 15 آیات

1۔ اے خدا! اپنی شفقت کے مطابق مجھ پر رحم کر۔ اپنی رحمت کی کثرت کے مطابق میری خطائیں مٹا دے۔

2۔ میری بدی کو مجھ سے دھو ڈال اور میرے گناہ سے مجھے پاک کر۔

3۔ کیونکہ مَیں اپنی خطاؤں کو مانتا ہوں۔ اور میرا گناہ ہمیشہ میرے سامنے ہے۔

9۔ میرے گناہوں کی طرف سے اپنا منہ پھیر لے۔ اور میرے سب بدکاریاں مٹا ڈال۔

10۔ اے خدا! میرے اندر پاک دل پیدا کر اور میرے باطن میں از سرِ نو مستقیم روح ڈال۔

15۔ اے خداوند! میرے ہونٹوں کو کھول دے تو میرے منہ سے تیری ستائش نکلے گی۔

1. Psalm 51 : 1-3, 9, 10, 15

1     Have mercy upon me, O God, according to thy lovingkindness: according unto the multitude of thy tender mercies blot out my transgressions.

2     Wash me throughly from mine iniquity, and cleanse me from my sin.

3     For I acknowledge my transgressions: and my sin is ever before me.

9     Hide thy face from my sins, and blot out all mine iniquities.

10     Create in me a clean heart, O God; and renew a right spirit within me.

15     O Lord, open thou my lips; and my mouth shall shew forth thy praise.

2۔ متی 8 باب18 آیت

18۔ جب یسوع نے اپنے گرد بہت سی بھیڑ دیکھی تو پار چلنے کو حکم دیا۔

2. Matthew 8 : 18

18     Now when Jesus saw great multitudes about him, he gave commandment to depart unto the other side.

3۔ متی 9باب1تا13 آیات

1۔ پھر وہ کشتی پر چڑھ کر پار گیااور اپنے شہر میں آیا۔

2۔ اور دیکھو لوگ ایک مفلوج کو چار پائی پر پڑا ہوا اْس کے پاس لائے۔ یسوع نے اْن کا ایمان دیکھ کر مفلوج سے کہا بیٹا خاطر جمع رکھ تیرے گناہ معاف ہوئے۔

3۔ اور دیکھو بعض فقیہوں نے اپنے دل میں کہا یہ کفر بکتا ہے۔

4۔ یسوع نے اْن کے خیال معلوم کر کے کہا تم کیوں اپنے دلوں میں برا خیال لاتے ہو؟

5۔ آسان کیا ہے۔ یہ کہنا کہ تیرے گناہ معاف ہوئے یا یہ کہ اٹھ اور چل پھر؟

6۔ لیکن اِس لئے کہ تم جان لو کہ ابنِ آدم کو زمین پر گناہ معاف کرنے کا اختیار ہے۔ (اْس نے مفلوج سے کہا) اْٹھ اپنی چار پائی اْٹھا اور اپنے گھر چلا جا۔

7۔ وہ اٹھ کر اپنے گھر چلا گیا۔

8۔ لوگ یہ دیکھ کر ڈر گئے اور خدا کی تمجید کرنے لگے جس نے آدمیوں کو ایسا اختیار بخشا۔

9۔ یسوع نے وہاں سے آگے بڑھ کر متی نام ایک شخص کو محصول کی چوکی پر بیٹھے دیکھا اور اْس سے کہا میرے پیچھے ہولے۔ وہ اٹھ کر اْس کے پیچھے ہولیا۔

10۔ اور جب وہ گھر کھانا کھانے بیٹھا تھا تو ایسا ہوا کہ بہت سے محصول لینے والے اور گناہگار آکر یسوع اور اْس کے شاگردوں کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھے۔

11۔ فریسیوں نے یہ دیکھ کر اْس کے شاگردوں سے کہا تمہارا استاد محصول لینے والوں اور گناہگاروں کے ساتھ کیوں کھاتا ہے۔

12۔ اْس نے یہ سن کر کہا تندرستوں کو طبیب درکار نہیں بلکہ بیماروں کو۔

13۔ مگر تم جا کر اِس کے معنی دریافت کرو کہ مَیں قربانی نہیں بلکہ رحم پسند کرتا ہوں کیونکہ مَیں راستبازوں کو نہیں بلکہ گناہگاروں کو بلانے آیا ہوں۔

3. Matthew 9 : 1-13

1     And he entered into a ship, and passed over, and came into his own city.

2     And, behold, they brought to him a man sick of the palsy, lying on a bed: and Jesus seeing their faith said unto the sick of the palsy; Son, be of good cheer; thy sins be forgiven thee.

3     And, behold, certain of the scribes said within themselves, This man blasphemeth.

4     And Jesus knowing their thoughts said, Wherefore think ye evil in your hearts?

5     For whether is easier, to say, Thy sins be forgiven thee; or to say, Arise, and walk?

6     But that ye may know that the Son of man hath power on earth to forgive sins, (then saith he to the sick of the palsy,) Arise, take up thy bed, and go unto thine house.

7     And he arose, and departed to his house.

8     But when the multitudes saw it, they marvelled, and glorified God, which had given such power unto men.

9     And as Jesus passed forth from thence, he saw a man, named Matthew, sitting at the receipt of custom: and he saith unto him, Follow me. And he arose, and followed him.

10     And it came to pass, as Jesus sat at meat in the house, behold, many publicans and sinners came and sat down with him and his disciples.

11     And when the Pharisees saw it, they said unto his disciples, Why eateth your Master with publicans and sinners?

12     But when Jesus heard that, he said unto them, They that be whole need not a physician, but they that are sick.

13     But go ye and learn what that meaneth, I will have mercy, and not sacrifice: for I am not come to call the righteous, but sinners to repentance.

4۔ متی 26باب17تا20، 26، 27 آیات

17۔ اور عید فطیر کے پہلے دن شاگردوں نے یسوع کے پاس آ کر کہا تو کہاں چاہتا ہے کہ ہم تیرے لئے فسح کھانے کی تیار کریں؟

18۔ اُس نے کہا شہر میں فلاں شخص کے پاس جا کر اُس سے کہنا استاد فرماتا ہے کہ میرا وقت نزدیک ہے۔ میں اپنے شاگردوں کے ساتھ تیرے ہاں عید فسح کروں گا۔

19۔اور جیسا یسوع نے شاگردوں کوحکم دیا تھا انہوں نے ویسا ہی کیا اور فسح تیار کیا۔

20۔ جب شام ہوئی تو وہ بارہ شاگردوں کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھا تھا۔

26۔ جب وہ کھا رہے تھے تو یسوع نے روٹی لی اور برکت دے کر توڑی اور شاگردوں کو دے کر کہا لو کھاؤ۔ یہ میرا بدن ہے۔

27۔ پھر پیالہ لے کر شکر کیا اور ان کو دے کر کہا تم سب اس میں سے پیو۔

4. Matthew 26 : 17-20, 26, 27

17     Now the first day of the feast of unleavened bread the disciples came to Jesus, saying unto him, Where wilt thou that we prepare for thee to eat the passover?

18     And he said, Go into the city to such a man, and say unto him, The Master saith, My time is at hand; I will keep the passover at thy house with my disciples.

19     And the disciples did as Jesus had appointed them; and they made ready the passover.

20     Now when the even was come, he sat down with the twelve.

26     And as they were eating, Jesus took bread, and blessed it, and brake it, and gave it to the disciples, and said, Take, eat; this is my body.

27     And he took the cup, and gave thanks, and gave it to them, saying, Drink ye all of it;

5۔ یوحنا 17 باب1، 2، 4تا9، 20تا22، 26 آیات

1۔ یسوع نے یہ باتیں کہیں اور اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھا کر کہا کہ اے باپ! وہ گھڑی آ پہنچی۔ اپنے بیٹے کا جلال ظاہر کر تاکہ بیٹا تیرا جلال ظاہر کرے۔

2۔ چنانچہ تْو نے اْسے ہر بشر پر اختیار دیا ہے تاکہ جنہیں تْو نے اْسے بخشا ہے اْن سب کو ہمیشہ کی زندگی دے

4۔ جو کام تْو نے مجھے کرنے کو دیا تھا اْس کو تمام کر کے مَیں نے زمین پر تیرا جلال ظاہر کیا ہے۔

5۔ اور اب اے باپ! تْو اْس جلال سے جو مَیں دنیا کی پیدائش سے پیشتر تیرے ساتھ رکھتا تھا مجھے اپنے ساتھ جلالی بنا دے۔

6۔ مَیں نے تیرے نام کو اْن آدمیوں پر ظاہر کیا جنہیں تْو نے دنیا میں سے مجھے دیا۔وہ تیرے تھے اور تْو نے اْنہیں مجھے دیا اور اْنہوں نے تیرے کلام پر عمل کیا ہے۔

7۔ اب وہ جان گئے کہ جو کچھ تْو نے مجھے دیا ہے وہ سب تیری ہی طرف سے ہے۔

8۔ کیونکہ جو کلام تْو نے مجھے پہنچایا وہ مَیں نے اْن کو پہنچا دیا اور اْنہوں نے اْسے قبول کیا اور سچ جان لیا کہ مَیں تیری طرف سے نکلا ہوں۔اور وہ ایمان لائے کہ تْو ہی نے مجھے بھیجا۔

9۔ مَیں اْن کے لئے درخواست کرتا ہوں۔ مَیں دنیا کے لئے درخواست نہیں کرتا ہوں بلکہ اْن کے لئے جنہیں تْو نے مجھے دیا ہے کیونکہ وہ تیرے ہیں۔

20۔ مَیں صرف انہی کے لئے درخواست نہیں کرتا بلکہ اْن کے لئے بھی جو اِن کے کلام کے وسیلہ سے مجھ پر ایمان لائیں گے۔

21۔ تاکہ سب ایک ہوں یعنی جس طرح اے باپ! تْو مجھ میں ہے اور مَیں تجھ میں ہوں وہ بھی ہم میں ہوں اور دنیا ایمان لائے کہ تْو ہی نے مجھے بھیجا۔

22۔ اور وہ جلال جو تْو نے مجھے دیا ہے مَیں نے اْنہیں دیا ہے تاکہ وہ ایک ہوں جیسے ہم ایک ہیں۔

26۔ اور مَیں نے اْنہیں تیرے نام سے واقف کیا اور کرتارہوں گا تاکہ جو محبت تجھ کو مجھ سے تھی وہ اْن میں ہو اور مَیں اْن میں ہوں۔

5. John 17 : 1, 2, 4-9, 20-22, 26

1     These words spake Jesus, and lifted up his eyes to heaven, and said, Father, the hour is come; glorify thy Son, that thy Son also may glorify thee:

2     As thou hast given him power over all flesh, that he should give eternal life to as many as thou hast given him.

4     I have glorified thee on the earth: I have finished the work which thou gavest me to do.

5     And now, O Father, glorify thou me with thine own self with the glory which I had with thee before the world was.

6     I have manifested thy name unto the men which thou gavest me out of the world: thine they were, and thou gavest them me; and they have kept thy word.

7     Now they have known that all things whatsoever thou hast given me are of thee.

8     For I have given unto them the words which thou gavest me; and they have received them, and have known surely that I came out from thee, and they have believed that thou didst send me.

9     I pray for them: I pray not for the world, but for them which thou hast given me; for they are thine.

20     Neither pray I for these alone, but for them also which shall believe on me through their word;

21     That they all may be one; as thou, Father, art in me, and I in thee, that they also may be one in us: that the world may believe that thou hast sent me.

22     And the glory which thou gavest me I have given them; that they may be one, even as we are one:

26     And I have declared unto them thy name, and will declare it: that the love wherewith thou hast loved me may be in them, and I in them.

6۔ 1 یوحنا 1باب3، 5تا9 آیات

3۔ جو کچھ ہم نے دیکھا اور سنا ہے تمہیں بھی اْس کی خبر دیتے ہیں تاکہ تم بھی ہمارے شریک ہو اور ہماری شراکت باپ کے ساتھ اور اْس کے بیٹے یسوع مسیح کے ساتھ ہو۔

5۔ اْس سے سن کر جو پیغام ہم تمہیں دیتے ہیں وہ یہ ہے کہ خدا نور ہے اور اْس میں ذرا بھی تاریکی نہیں۔

6۔ اگر ہم کہیں کہ ہماری اْس کے ساتھ شراکت ہے اور پھر تاریکی میں چلیں تو ہم جھوٹے ہیں اور حق پر عمل نہیں کرتے۔

7۔ لیکن اگر ہم نور میں چلیں جس طرح کہ وہ نور میں ہے تو ہماری آپس میں شراکت ہے اور اْس کے بیٹے یسوع کا خون ہمیں تمام گناہوں سے پاک کرتا ہے۔

8۔ اگر ہم کہیں کہ ہم بے گناہ ہیں تو اپنے آپ کو فریب دیتے ہیں اور ہم میں سچائی نہیں۔

9۔ اگر اپنے گناہوں کا اقرار کریں تو وہ ہمارے گناہوں کو معاف کرنے اور ہمیں ساری ناراستی سے پاک کرنے میں سچا اور عادل ہے۔

6. I John 1 : 3, 5-9

3     That which we have seen and heard declare we unto you, that ye also may have fellowship with us: and truly our fellowship is with the Father, and with his Son Jesus Christ.

5     This then is the message which we have heard of him, and declare unto you, that God is light, and in him is no darkness at all.

6     If we say that we have fellowship with him, and walk in darkness, we lie, and do not the truth:

7     But if we walk in the light, as he is in the light, we have fellowship one with another, and the blood of Jesus Christ his Son cleanseth us from all sin.

8     If we say that we have no sin, we deceive ourselves, and the truth is not in us.

9     If we confess our sins, he is faithful and just to forgive us our sins, and to cleanse us from all unrighteousness.

7۔ رومیوں 5باب8(خدا)، 10، 11 آیات

8۔ لیکن خدا اپنی محبت کی خوبی ہم پر یوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گناہگار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطر موا۔

10۔ کیونکہ جب باوجود ْشمن ہونے کے خدا سے اْس کے بیٹے کی موت کے وسیلہ ہمارا میل ہوگیا تو میل ہونے کے بعد تو ہم اْس کی زندگی کے سبب سے ضرور ہی بچیں گے۔

11۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ اپنے خداوند یسوع مسیح کے طفیل سے جس کے وسیلہ سے اب ہمارا خدا کے ساتھ میل ہوگیا خدا پر فخر بھی کرتے ہیں۔

7. Romans 5 : 8 (God), 10, 11

8     God commendeth his love toward us, in that, while we were yet sinners, Christ died for us.

10     For if, when we were enemies, we were reconciled to God by the death of his Son, much more, being reconciled, we shall be saved by his life.

11     And not only so, but we also joy in God through our Lord Jesus Christ, by whom we have now received the atonement.



سائنس اور صح


1۔ 18 :1۔12

کفارہ خدا کے ساتھ انسانے اتحاد کی مثال ہے، جس کے تحت انسان الٰہی سچائی، زندگی اور محبت کی عکاسی کرتے ہیں۔ یسوع ناصری نے انسان کی باپ کے ساتھ یگانگت کو بیان کیا، اور اس کے لئے ہمارے اوپر اْس کی لامتناہی عقیدت کا قرض ہے۔ اْس کا مشن الفرادی اور اجتماعی دونوں تھا۔ اْس نے زندگی کا مناسب کام سر انجام دیا نہ صرف خود کے انصاف کے لئے بلکہ انسانوں پر رحم کے باعث، انہیں یہ دکھانے کے لئے کہ انہیں اپنا کام کیسے کرنا ہے، بلکہ نہ تو اْن کے لئے خود کچھ کرنے یا نہ ہی اْنہیں کسی ایک ذمہ داری سے آزاد کرنے کے لئے یہ کیا۔یسوع نے دلیری سے حواس کے تسلیم شْدہ ثبوت کے خلاف، منافقانہ عقائد اور مشقوں کے خلاف کام کیا، اور اْس نے اپنی شفائیہ طاقت کی بدولت اپنے سبھی حریفوں کی تردید کی۔

1. 18 : 1-12

Atonement is the exemplification of man's unity with God, whereby man reflects divine Truth, Life, and Love. Jesus of Nazareth taught and demonstrated man's oneness with the Father, and for this we owe him endless homage. His mission was both individual and collective. He did life's work aright not only in justice to himself, but in mercy to mortals, — to show them how to do theirs, but not to do it for them nor to relieve them of a single responsibility. Jesus acted boldly, against the accredited evidence of the senses, against Pharisaical creeds and practices, and he refuted all opponents with his healing power.

2۔ 19 :6۔11، 17۔28

یسوع نے انسان کو محبت کا حقیقی فہم، یسوع کی تعلیمات کا الٰہی اصول دیتے ہوئے خدا کے ساتھ راضی ہونے میں مدد کی، اور محبت کا یہ حقیقی فہم روح کے قانون، الٰہی محبت کے قانون کے وسیلہ انسان کو مادے، گناہ اور موت کے قانون سے آزاد کرتا ہے۔

توبہ اور دْکھوں کا ہر احساس، اصلاح کی ہر کوشش، ہر اچھی سوچ اور کام گناہ کے لئے یسوع کے کفارے کو سمجھنے میں مدد کرے گا اور اِس کی افادیت میں مدد کرے گا؛ لیکن اگر گناہگار دعا کرنا اور توبہ کرنا، گناہ کرنا اور معافی مانگنا جاری رکھتا ہے، تو کفارے میں، خدا کے ساتھ یکجہتی میں اْس کا بہت کم حصہ ہوگا، کیونکہ اْس میں عملی توبہ کی کمی ہے، جو دل کی اصلاح کرتی اور انسان کو حکمت کی رضا پوری کرنے کے قابل بناتی ہے۔وہ جو، کم از کم کسی حد تک، ہمارے مالک کی تعلیمات اور مشق کے الٰہی اصول کا اظہار نہیں کر سکتے اْن کی خدا میں کوئی شرکت نہیں ہے۔ اگر چہ خدا بھلا ہے، اگر ہم اْس کے ساتھ نافرمانی میں زندگی گزاریں، تو ہمیں کوئی ضمانت محسوس نہیں کرنی چاہئے۔

2. 19 : 6-11, 17-28

Jesus aided in reconciling man to God by giving man a truer sense of Love, the divine Principle of Jesus' teachings, and this truer sense of Love redeems man from the law of matter, sin, and death by the law of Spirit, — the law of divine Love.

Every pang of repentance and suffering, every effort for reform, every good thought and deed, will help us to understand Jesus' atonement for sin and aid its efficacy; but if the sinner continues to pray and repent, sin and be sorry, he has little part in the atonement, — in the at-one-ment with God, — for he lacks the practical repentance, which reforms the heart and enables man to do the will of wisdom. Those who cannot demonstrate, at least in part, the divine Principle of the teachings and practice of our Master have no part in God. If living in disobedience to Him, we ought to feel no security, although God is good.

3۔ 22 :11۔14، 23۔27، 30۔31

”اپنی نجات کے لئے کوشش کریں“، یہ زندگی اور محبت کا مطالبہ ہے، کیونکہ یہاں پہنچنے کے لئے خدا آپ کے ساتھ کام کرتا ہے۔ ”قائم رہو جب تک کہ میں نہ آؤں!“ اپنے اجر کا انتظار کریں، اور ”نیک کام کرنے میں ہمت نہ ہاریں۔“

غلطی سے حتمی رہائی، جس کے تحت ہم لافانیت، بے انتہا آزادی، بے گناہ فہم میں شادمان ہوتے پھولوں سے سجی راہوں سے ہو کر نہیں پائے جاتے نہ کسی کے ایمان کے بغیر کسی اور کی متبادل کوشش سے سامنے آتے ہیں۔

عدل کے لئے گناہگار کا اصلاح کی ضرورت ہے۔ رحم صرف تبھی قرض بخشتا ہے جب عدل تصدیق کرتا ہے۔

3. 22 : 11-14, 23-27, 30-31

"Work out your own salvation," is the demand of Life and Love, for to this end God worketh with you. "Occupy till I come!" Wait for your reward, and "be not weary in well doing."

Final deliverance from error, whereby we rejoice in immortality, boundless freedom, and sinless sense, is not reached through paths of flowers nor by pinning one's faith without works to another's vicarious effort.

Justice requires reformation of the sinner. Mercy cancels the debt only when justice approves.

4۔ 23 :1۔11

ہمیں گناہ سے بچانے کے لئے حکمت اور محبت خود کی بہت سی قربانیوں کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ایک قربانی، خواہ وہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لئے ناکافی ہے۔کفارے کے لئے گناہگار کی طرف سے مسلسل بے لوث قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ الٰہی طور پر غیر فطری ہے کہ خدا کا غضب اْس کے پیارے بیٹے پر نکلے۔ایسا نظریہ انسان کا بنایا ہوا ہے۔علم الٰہیات میں کفارہ ایک سنگین مسئلہ ہے، مگر اِس کی سائنسی تفصیل یہ ہے کہ دْکھ گناہ آلودہ فہم کی ایک غلطی ہے جسے سچائی نیست کرتی ہے، اور بالاآخر یہ دونوں گناہ اور دْکھ ہمیشہ کی محبت کے قدموں پر آگرتے ہیں۔

4. 23 : 1-11

Wisdom and Love may require many sacrifices of self to save us from sin. One sacrifice, however great, is insufficient to pay the debt of sin. The atonement requires constant self-immolation on the sinner's part. That God's wrath should be vented upon His beloved Son, is divinely unnatural. Such a theory is man-made. The atonement is a hard problem in theology, but its scientific explanation is, that suffering is an error of sinful sense which Truth destroys, and that eventually both sin and suffering will fall at the feet of everlasting Love.

5۔ 48 :10۔16

گتسمنی کی گھاس پر مقدس گھڑی کے دوران گرنے والے اذیت کے پسینے کو یاد کرتے ہوئے، کیا کوئی فروتن ترین یا طاقتور ترین شاگرد بڑبڑائے گا جب اْسی پیالے میں سے پیتا ہے اور وہ اپنے برباد کرنے والے سے گناہ کا بدلہ لینے کی بڑی آزمائش سے بچنے کا سوچتا یا خواہش رکھتا ہے؟سچائی اور محبت کارِ حیات مکمل ہونے تک چند ہتھیلیوں کو عطا کرتا ہے۔

5. 48 : 10-16

Remembering the sweat of agony which fell in holy benediction on the grass of Gethsemane, shall the humblest or mightiest disciple murmur when he drinks from the same cup, and think, or even wish, to escape the exalting ordeal of sin's revenge on its destroyer? Truth and Love bestow few palms until the consummation of a life-work.

6۔ 29 :1۔6

مسیحیوں کو گھر میں اور باہر غلط چیز کے خلاف ہاتھ اْٹھانے چاہئیں۔ انہیں خود کے اور دوسروں کے گناہ کے خلاف محاذ آرائی کرنی چاہئے، اوراپنا مقصد حاصل ہونے تک یہ جنگ جاری رکھنی چاہئے۔ اگر وہ ایمان رکھتے ہیں تو انہیں شادمانی کا تاج نصیب ہوگا۔

6. 29 : 1-6

Christians must take up arms against error at home and abroad. They must grapple with sin in themselves and in others, and continue this warfare until they have finished their course. If they keep the faith, they will have the crown of rejoicing.

7۔ 45 :6۔21

ہمارے مالک نے مکمل طور پر اور فیصلہ کْن انداز میں موت اور قبر پر اپنی فتح سے الٰہی سائنس کو واضح کیا۔یسوع کا کام انسان کی روشن خیالی اور پوری دنیا کی گناہ، بیماری اور موت سے نجات کے لئے تھا۔ پولوس لکھتا ہے: ”کیونکہ جب باوجود ْشمن ہونے کے خدا سے اْس کے بیٹے کی]بظاہر[ موت کے وسیلہ ہمار امیل ہوگیا تو میل ہونے کے بعد تو ہم اْس کی زندگی کے سبب سے ضرور ہی بچیں گے۔“ اْس کی جسمانی تدفین کے تین دن بعد اْس نے اپنے شاگردوں سے بات کی۔ اْس پر ظلم ڈھانے والے لافانی سچائی اور محبت کو قبر کے اندر پوشیدہ رکھنے میں ناکام ہو چکے تھے۔

خدا کی تمجید ہو اور جدوجہد کرنے والے دلوں کے لئے سلامتی ہو! مسیح نے انسانی امید اور ایمان کے درواز ے سے پتھر ہٹا دیا ہے، اور خدا میں زندگی کے اظہار اور مکاشفہ کی بدولت اْس نے انسان کے روحانی خیال اور اْس کے الٰہی اصول، یعنی محبت کے ساتھ ممکنہ کفارے سے انہیں بلند کیا۔

7. 45 : 6-21

Our Master fully and finally demonstrated divine Science in his victory over death and the grave. Jesus' deed was for the enlightenment of men and for the salvation of the whole world from sin, sickness, and death. Paul writes: "For if, when we were enemies, we were reconciled to God by the [seeming] death of His Son, much more, being reconciled, we shall be saved by his life." Three days after his bodily burial he talked with his disciples. The persecutors had failed to hide immortal Truth and Love in a sepulchre.

Glory be to God, and peace to the struggling hearts! Christ hath rolled away the stone from the door of human hope and faith, and through the revelation and demonstration of life in God, hath elevated them to possible at-one-ment with the spiritual idea of man and his divine Principle, Love.

8۔ 228 :25۔32

خدا سے جدا کوئی طاقت نہیں ہے۔ قادر مطلق میں ساری طاقت ہے، اور کسی اور طاقت کو ماننا خدا کی بے حرمتی کرنا ہے۔ حلیم ناصری نے اس مفروضے کو مسترد کردیا کہ گناہ، بیماری اور موت میں کوئی طاقت ہے۔اْس نے انہیں بے اختیار ثابت کیا۔ اِسے کاہنوں کے تکبر کو حلیم بنا دینا چاہئے تھا جب انہوں نے مسیحت کے اظہار کو اْن کے مردہ ایمان اور رسومات کے تاثر سے آگے بڑھتے دیکھا۔

8. 228 : 25-32

There is no power apart from God. Omnipotence has all-power, and to acknowledge any other power is to dishonor God. The humble Nazarene overthrew the supposition that sin, sickness, and death have power. He proved them powerless. It should have humbled the pride of the priests, when they saw the demonstration of Christianity excel the influence of their dead faith and ceremonies.

9۔ 8: 20۔30

خواہ وہ کتنی ہی گرمجوشی کے اظہار کے ساتھ ہو،فروتنی کے لئے دعا کرنے سے مراد اِس کی خواہش کرنا ہر گز نہیں ہوتا۔اگر ہم غریبوں سے منہ پھیر لیتے ہیں تو ہم اْس سے اپنا اجر حاصل کرنے کو تیار نہیں جو غریبوں کو برکت دیتا ہے۔ ہم بہت بدکار دل رکھنے کا اقرار کرتے ہیں اور مانگ کرتے ہیں کہ اِسے ہمارے سامنے کھْلا رکھا جائے، مگر کیا ہم اِس دل کو پہلے ہی نہیں جانتے بہ نسبت کہ ہم اِسے اپنے ہمسایے کو دکھانا چاہیں؟

ہمیں خود کا جائزہ لینا چاہئے اور یہ جاننا چاہئے کہ دل کی رغبت اور مقصد کیا ہے، کیونکہ صرف اسی صورت میں ہم یہ جان سکتے ہیں کہ ہم اصل میں کیا ہیں۔

9. 8 : 20-30

Praying for humility with whatever fervency of expression does not always mean a desire for it. If we turn away from the poor, we are not ready to receive the reward of Him who blesses the poor. We confess to having a very wicked heart and ask that it may be laid bare before us, but do we not already know more of this heart than we are willing to have our neighbor see?

We should examine ourselves and learn what is the affection and purpose of the heart, for in this way only can we learn what we honestly are.

10۔ 21 :1۔14

اگر آپ کی زور مرہ کی زندگی اور گفتگو میں سچائی غلطی پر فتح پا رہی ہے، تو آپ بالاآخر کہہ سکتے ہیں، ”میں اچھی کْشتی لڑ چکا۔۔۔مَیں نے ایمان کو محفوظ رکھا،“ کیونکہ آپ ایک بہتر انسان ہیں۔ یہ سچائی اور محبت کے ساتھ یکجہتی میں حصہ لینا ہے۔مسیحی لوگ اِس توقع کے ساتھ محنت کرنا اور دعا کرنا جاری نہیں رکھتے کہ کسی اور اچھائی، دْکھ اور فتح کے باعث وہ اْس کی ہم آہنگی اور اجرپالیں گے۔

اگر شاگرد روحانی طور پر ترقی کر رہا ہے، تو وہ داخل ہونے کی جدجہد کر رہا ہے۔ وہ مادی حِس سے دور ہونے کی مسلسل کوشش کررہا ہے اور روح کی ناقابل تسخیر چیزوں کا متلاشی ہے۔اگر ایماندار ہے تو وہ ایمانداری سے ہی آغاز کرے گا اور آئے دن درست سمت پائے گا جب تک کہ وہ آخر کار شادمانی کے ساتھ اپنا سفر مکمل نہیں کر لیتا۔

10. 21 : 1-14

If Truth is overcoming error in your daily walk and conversation, you can finally say, "I have fought a good fight ... I have kept the faith," because you are a better man. This is having our part in the at-one-ment with Truth and Love. Christians do not continue to labor and pray, expecting because of another's goodness, suffering, and triumph, that they shall reach his harmony and reward.

If the disciple is advancing spiritually, he is striving to enter in. He constantly turns away from material sense, and looks towards the imperishable things of Spirit. If honest, he will be in earnest from the start, and gain a little each day in the right direction, till at last he finishes his course with joy.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████