اتوار 18 جولائی،2021



مضمون۔ زندگی

SubjectLife

سنہری متن: 1 رومیوں 6 باب23آیت

”خدا کی بخشش ہمارے خداوند یسوع مسیح میں ہمیشہ کی زندگی ہے۔“



Golden Text: Romans 6 : 23

The gift of God is eternal life through Jesus Christ our Lord.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: پیدائش 5 باب 1، 2، 21تا24 آیات


1۔ جس دن خدا نے آدم کو پیدا کیا تو اْسے اپنی شبیہ پر بنایا۔

2۔ نر و ناری اْن کو پیدا کیا اور اْن کو برکت دی۔

21۔ ا ور حنوک پینسٹھ برس کا تھا جب اْس سے متوسالح پیدا ہوا۔

22۔ اور متوسالح کی پیدائش کے بعد حنوک تین سو برس تک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا اور اْس سے بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں۔

23۔ اور حنوک کی کْل عمر تین سو پینسٹھ برس کی ہوئی۔

24۔ اور حنوک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا اور غائب ہو گیا کیونکہ خدا نے اْسے اٹھا لیا۔

Responsive Reading: Genesis 5 : 1, 2, 21-24

1.     In the day that God created man, in the likeness of God made he him;

2.     Male and female created he them; and blessed them,

21.     And Enoch lived sixty and five years, and begat Methuselah:

22.     And Enoch walked with God after he begat Methuselah three hundred years, and begat sons and daughters:

23.     And all the days of Enoch were three hundred sixty and five years:

24.     And Enoch walked with God: and he was not; for God took him.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ 2 سلاطین 2 باب 1تا12 آیات

1۔ اور جب خداوند ایلیاہ کو بگولے میں آسمان پر اٹھا لینے کو تھا تو ایسا ہوا کہ ایلیاہ الیشع کو ساتھ لیکر جلجال سے چلا۔

2۔ اور ایلیاہ نے الیشع سے کہا تو ذرا یہیں ٹھہر جا اِس لیے کہ خداوند نے مجھے بیت ایل کو بھیجا ہے۔ الیشع نے کہا خداوند کی حیات کی قسم اور تیری جان کی سوگند میں تجھے نہیں چھوڑوں گا سو وہ بیت ایل کو چلے گئے۔

3۔ اور انبیا ء زادے جو بیت ایل میں تھے الیشع کے پاس آ کر اُس سے کہنے لگے کیا تجھے معلوم ہے کہ خداوند آج تیرے سر پر سے تیرے آقا کو اُٹھا لے گا؟ اُس نے کہا ہاں میں جانتا ہوں تم چپ رہو۔

4۔ اور ایلیاہ نے اُس سے کہا الیشع توں ذرا یہیں ٹھہر جا کیونکہ خداوند نے مجھے یریحو کو بھیجا ہے اُس نے کہا خداوند کی حیات کی قسم اور تیری جان کی سوگند میں تجھے نہیں چھوڑوں گا سو وہ یریحو میں آئے۔

5۔ اور انبیا زادے یریحو میں تھے الیشع کے پاس آکر اُس سے کہنے لگے کیا تجھے معلوم ہے کہ خداوند آج تیرے آقا کو تیرے سر پر سے اُٹھا لے گا؟ اُس نے کہا ہاں میں جانتا ہوں تم چپ رہو۔

6۔ اور ایلیاہ نے اُسے کہا تو ذرا یہیں ٹھہر جا کیونکہ خداوند نے مجھے یردن کو بھیجا ہے۔ اُس نے کہاخداوند کی حیات کی قسم اور تیری جان کی سوگند میں تجھے نہیں چھوڑوں گا سو وہ دونوں آگے چلے۔

7۔ اور انبیا زادوں میں سے پچاس آدمی جا کر اُن کے مقابل دور کھڑے ہو گئے اور دونوں یردن کے کنارے کھڑے ہوئے۔

8۔ اور ایلیاہ نے اپنی چادر کو لیا او ر اُسے لپیٹ کر پانی پر مارا اور پانی دو حصے ہو کر ادھر ادھر ہو گیا اور وہ دونوں خشک زمین پر ہو کر پار گئے۔

9۔ اور جب وہ پار ہو گئے تو ایلیاہ نے الیشع سے کہا کہ اِس سے پیشتر میں تجھ سے لے لیا جاوں بتا کہ میں تیرے لئے کیا کروں؟ الیشع نے کہا میں تیری منت کرتا ہوں کہ تیری روح کا دگنا حصہ مجھ پر ہو۔

10۔ اُس نے کہا تُو نے مشکل سوال کیا تو بھی اگر تُو مجھے اپنے سے جُدا ہوتے ہوئے دیکھے تو تیرے لیے ایسا ہی ہو گا۔ اور اگر نہیں تو ایسا نہ ہو گا۔

11۔ اور وہ آگے چلتے اور باتیں کرتے جاتے تھے کہ دیکھو ایک آتشی رتھ اور آتشی گھوڑوں نے اُن دونوں کو جدا کر دیا اور ایلیاہ بگولے میں آسمان پر چلا گیا۔

12۔ الیشع یہ دیکھ کر چِلایا اے میرے باپ! میرے باپ! اسرائیل کے رتھ اور اُس کے سوار! اور اُس نے اُسے پھر نہ دیکھا۔ سو اُس نے اپنے کپڑوں کو پکڑ کر پھاڑ ڈالا اور دو حصے کر دیا۔

1. II Kings 2 : 1-12

1     And it came to pass, when the Lord would take up Elijah into heaven by a whirlwind, that Elijah went with Elisha from Gilgal.

2     And Elijah said unto Elisha, Tarry here, I pray thee; for the Lord hath sent me to Beth-el. And Elisha said unto him, As the Lord liveth, and as thy soul liveth, I will not leave thee. So they went down to Beth-el.

3     And the sons of the prophets that were at Beth-el came forth to Elisha, and said unto him, Knowest thou that the Lord will take away thy master from thy head to day? And he said, Yea, I know it; hold ye your peace.

4     And Elijah said unto him, Elisha, tarry here, I pray thee; for the Lord hath sent me to Jericho. And he said, As the Lord liveth, and as thy soul liveth, I will not leave thee. So they came to Jericho.

5     And the sons of the prophets that were at Jericho came to Elisha, and said unto him, Knowest thou that the Lord will take away thy master from thy head to day? And he answered, Yea, I know it; hold ye your peace.

6     And Elijah said unto him, Tarry, I pray thee, here; for the Lord hath sent me to Jordan. And he said, As the Lord liveth, and as thy soul liveth, I will not leave thee. And they two went on.

7     And fifty men of the sons of the prophets went, and stood to view afar off: and they two stood by Jordan.

8     And Elijah took his mantle, and wrapped it together, and smote the waters, and they were divided hither and thither, so that they two went over on dry ground.

9     And it came to pass, when they were gone over, that Elijah said unto Elisha, Ask what I shall do for thee, before I be taken away from thee. And Elisha said, I pray thee, let a double portion of thy spirit be upon me.

10     And he said, Thou hast asked a hard thing: nevertheless, if thou see me when I am taken from thee, it shall be so unto thee; but if not, it shall not be so.

11     And it came to pass, as they still went on, and talked, that, behold, there appeared a chariot of fire, and horses of fire, and parted them both asunder; and Elijah went up by a whirlwind into heaven.

12     And Elisha saw it, and he cried, My father, my father, the chariot of Israel, and the horsemen thereof. And he saw him no more: and he took hold of his own clothes, and rent them in two pieces.

2۔ یوحنا 11 باب1، 4 (تا دوسرا،)، 11 (ہمارا) تا 15، 17، 32تا34، 38تا44 آیات

1۔ مریم اور اْس کی بہن مارتھا کے گاؤں بیت عنیاہؔ کا لعزر نامی ایک آدمی بیمار تھا۔

4۔ یسوع نے سْن کر کہا

11۔ ہمارا دوست لعزر سو گیا ہے اور میں اْسے جگانے جاتا ہوں۔

12۔ پس شاگردوں نے اْس سے کہا، اے خداوند! اگر سو گیا ہے تو بچ جائے گا۔

13۔ یسوع نے تو اْس کی موت کی بابت کہا تھا مگر وہ سمجھے کہ آرام کی نیند کی بابت کہا۔

14۔ تب یسوع نے اْن سے صاف کہہ دیا کہ لعزر مر گیا۔

15۔ اور میں تمہارے سبب سے خوش ہوں کہ وہاں نہ تھا تاکہ تم ایمان لاؤ، لیکن آؤ ہم اْس کے پاس چلیں۔

17۔ پس یسوع کو آکر معلوم ہوا کہ اْسے قبر میں رکھے چار دن ہوئے۔

32۔ جب مریم وہاں پہنچی جہاں یسوع تھا اور اْسے دیکھا تو اْس کے قدموں میں گر کر اْس سے کہا اے خداوند اگر تْو یہاں ہوتا تو میرا بھائی نہ مرتا۔

33۔جب یسوع نے اْسے اور اْن یہودیوں کو جو اْس کے ساتھ آئے تھے روتے دیکھا تو دل میں نہایت رنجیدہ ہوا اور گھبرا کر کہا

34۔ تم نے اْسے کہاں رکھا ہے؟ انہوں نے کہا اے خداوند چل کر دیکھ لے۔

38۔ یسوع پھر اپنے دل میں نہایت رنجیدہ ہو کر قبر پر آیا۔ وہ ایک غار تھا اور اْس پر پتھر دھرا تھا۔

39۔ یسوع نے کہا پتھر کو ہٹاؤ۔ اْس مرے ہوئے شخص کی بہن مارتھا نے اْس سے کہا اے خداوند! اْس میں سے تو اب بدبو آتی ہے کیونکہ اْسے چار دن ہو گئے۔

40۔ یسوع نے اْس سے کہا میں نے تجھ سے کہا نہ تھا کہ اگر تْو ایمان لائے گی تو خدا کا جلال دیکھے گی؟

41۔ پس انہوں نے اْس پتھر کو ہٹا دیا۔ پھر یسوع نے آنکھیں اْٹھا کر کہا اے باپ میں تیرا شکر کرتا ہوں کہ تْو نے میری سْن لی۔

42۔ اور مجھے تو معلوم تھا کہ تْو ہمیشہ میری سْنتا ہے مگر ان لوگوں کے باعث جو آس پاس کھڑے ہیں مَیں نے کہا تاکہ وہ ایمان لائیں کہ تْو ہی نے مجھے بھیجا ہے۔

43۔ اور یہ کہہ کر اْس نے بلند آواز سے پکارا کہ اے لعزر نکل آ۔

44۔ جو مر گیا تھا کفن سے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے نکل آیا اور اْس کا چہرہ رومال سے لپٹا ہوا تھا۔ یسوع نے اْن سے کہا اِسے کھول کر جانے دو۔

2. John 11 : 1, 4 (to 2nd ,), 11 (Our)-15, 17, 32-34, 38-44

1     Now a certain man was sick, named Lazarus, of Bethany, the town of Mary and her sister Martha.

4     When Jesus heard that, he said,

11     Our friend Lazarus sleepeth; but I go, that I may awake him out of sleep.

12     Then said his disciples, Lord, if he sleep, he shall do well.

13     Howbeit Jesus spake of his death: but they thought that he had spoken of taking of rest in sleep.

14     Then said Jesus unto them plainly, Lazarus is dead.

15     And I am glad for your sakes that I was not there, to the intent ye may believe; nevertheless let us go unto him.

17     Then when Jesus came, he found that he had lain in the grave four days already.

32     Then when Mary was come where Jesus was, and saw him, she fell down at his feet, saying unto him, Lord, if thou hadst been here, my brother had not died.

33     When Jesus therefore saw her weeping, and the Jews also weeping which came with her, he groaned in the spirit, and was troubled,

34     And said, Where have ye laid him? They said unto him, Lord, come and see.

38     Jesus therefore again groaning in himself cometh to the grave. It was a cave, and a stone lay upon it.

39     Jesus said, Take ye away the stone. Martha, the sister of him that was dead, saith unto him, Lord, by this time he stinketh: for he hath been dead four days.

40     Jesus saith unto her, Said I not unto thee, that, if thou wouldest believe, thou shouldest see the glory of God?

41     Then they took away the stone from the place where the dead was laid. And Jesus lifted up his eyes, and said, Father, I thank thee that thou hast heard me.

42     And I knew that thou hearest me always: but because of the people which stand by I said it, that they may believe that thou hast sent me.

43     And when he thus had spoken, he cried with a loud voice, Lazarus, come forth.

44     And he that was dead came forth, bound hand and foot with graveclothes: and his face was bound about with a napkin. Jesus saith unto them, Loose him, and let him go.

3۔ یوحنا 3 باب16 آیت

16۔ کیونکہ خدا نے دنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اْس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اْس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔

3. John 3 : 16

16     For God so loved the world, that he gave his only begotten Son, that whosoever believeth in him should not perish, but have everlasting life.

4۔ یوحنا 17باب1تا3 آیات

1۔ یسوع نے یہ باتیں کہیں اوراپنی آنکھیں آسمان کی طرف اْٹھا کر کہا اے باپ! وہ گھڑی آپہنچی۔ اپنے بیٹے کا جلال ظاہر کر تاکہ بیٹا تیرا جلال ظاہر کرے۔

2۔ چنانچہ تْو نے اْسے ہر بشر پر اختیار دیا ہے تاکہ جنہیں تْو نے اْسے بخشا ہے اْن سب کو ہمیشہ کی زندگی دے۔

3۔ اور ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدائے واحد اور بر حق کو اور یسوع مسیح کو جسے تْو نے بھیجا ہے جانیں۔

4. John 17 : 1-3

1     These words spake Jesus, and lifted up his eyes to heaven, and said, Father, the hour is come; glorify thy Son, that thy Son also may glorify thee:

2     As thou hast given him power over all flesh, that he should give eternal life to as many as thou hast given him.

3     And this is life eternal, that they might know thee the only true God, and Jesus Christ, whom thou hast sent.

5۔ 2 کرنتھیوں 9 باب15 آیت

15۔ شکر خدا کا اْس کی اْس بخشش پر جو بیان سے باہر ہے۔

5. II Corinthians 9 : 15

15     Thanks be unto God for his unspeakable gift.



سائنس اور صح


1۔ 246 :27۔31

زندگی ابدی ہے۔ ہمیں اس کی تلاش کرنی چاہئے اور اس سے اظہار کا آغاز کرنا چاہئے۔ زندگی اور اچھائی لافانی ہیں۔ توآئیے ہم وجودیت سے متعلق ہمارے خیالات کوعمر اور خوف کی بجائے محبت، تازگی اور تواتر کے ساتھ تشکیل دیں۔

1. 246 : 27-31

Life is eternal. We should find this out, and begin the demonstration thereof. Life and goodness are immortal. Let us then shape our views of existence into loveliness, freshness, and continuity, rather than into age and blight.

2۔ 72 :13۔16

فانی عقیدہ (زندگی کا مادی فہم) اور لافانی سچائی (روحانی فہم) کڑوے دانے اور گیہوں ہیں، جو آگے بڑھنے سے یکجا نہیں بلکہ الگ ہوتے ہیں۔

2. 72 : 13-16

Mortal belief (the material sense of life) and immortal Truth (the spiritual sense) are the tares and the wheat, which are not united by progress, but separated.

3۔ 14 :25۔30

مادی زندگی کے عقیدے اور خواب سے مکمل طور پر منفرد، الٰہی زندگی ہے، جو روحانی فہم اور ساری زمین پر انسان کی حکمرانی کے شعور کو ظاہرکرتی ہے۔یہ فہم غلطی کو باہر نکالتا اور بیمار کو شفا دیتا ہے، اوراِس کے ساتھ آپ ”صاحب اختیار کی مانند“ بات کر سکتے ہیں۔

3. 14 : 25-30

Entirely separate from the belief and dream of material living, is the Life divine, revealing spiritual understanding and the consciousness of man's dominion over the whole earth. This understanding casts out error and heals the sick, and with it you can speak "as one having authority."

4۔ 258 :25۔5

بشر کو روحانی انسان کی اوراْس کے خیالات کی لامحدود وسعت کی بہت نامکمل سمجھ ہے۔ابدی زندگی اْس سے تعلق رکھتی ہے۔خدا کی حکمرانی کے تحت ابدی سائنس میں کبھی نہ پیدا ہونے اور کبھی نہ مرنے سے انسان کے لئے اپنے بلند مقام سے نیچے گرنا ناممکن تھا۔

روحانی حس کی بدولت آپ الوہیت کے دل کو پہچان سکتے ہیں، اور یوں سائنس میں عمومی اصطلاح انسان کو سمجھ سکتے ہیں۔ انسان دیوتا سے نہیں لیا گیا، اور انسان اپنی ہستی کو کھو نہیں سکتا، کیونکہ وہ ابدی زندگی کی عکاسی کرتا ہے، نہ ہی وہ الگ تھلگ، تنہا خیال ہے، کیونکہ وہ لامتناہی عقل، سارے مواد کے منبع کی نمائندگی کرتا ہے۔

4. 258 : 25-5

Mortals have a very imperfect sense of the spiritual man and of the infinite range of his thought. To him belongs eternal Life. Never born and never dying, it were impossible for man, under the government of God in eternal Science, to fall from his high estate.

Through spiritual sense you can discern the heart of divinity, and thus begin to comprehend in Science the generic term man. Man is not absorbed in Deity, and man cannot lose his individuality, for he reflects eternal Life; nor is he an isolated, solitary idea, for he represents infinite Mind, the sum of all substance.

5۔ 245 :32۔26

لامحدود کبھی شروع نہیں ہوا اور نہ یہ کبھی ختم ہوگا۔عقل اور اِس کی اشکال کبھی فنا نہیں ہوسکتے۔انسان بدی اور اچھائی، خوشی اور دْکھ، بیماری اور صحت، زندگی اور موت میں جھولتا ہوا پینڈولم نہیں ہے۔زندگی اور اْس کی لیاقتوں کو کیلنڈروں سے نہیں ناپا جاتا۔ کامل اور لافانی اپنے خالق کی ابدی شبیہ ہیں۔ کسی بھی طرح سے انسان مادی جرثومہ نہیں جو غیر کامل سے فروغ پا رہا اور جو اپنی اصلیت سے بلند روح تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہو۔ندی اپنے منبع سے اونچی نہیں بہتی۔

شمسی سال کے مطابق عمر کی درازی جوانی چھین لیتی اور عمر کو بدصورتی فراہم کرتی ہے۔ سچائی اور حقیقت کا منور سورج ہستی کے ساتھ وجودیت رکھتا ہے۔جوانمردی اِس کی ابدی دوپہر ہے جو ڈوبتے سورج سے دھیمی ہوتی جاتی ہے۔جسمانی اور مادی کی طرح خوبصورتی کا عارضی فہم دھْندلا ہو جاتا ہے، روشن اور ناقابل تسخیر تعریفوں کے ساتھ روح کے نور کو مسرور فہم پر طلوع ہونا چاہئے۔

عمروں کو کبھی خاطر میں نہ لائیں۔ تاریخی اعدادو شمار ہمیشہ کی وسعت کا حصہ نہیں ہیں۔ پیدائش اور موت کے اوقات کار مردانگی اور نسوانیت کے خلاف بہت بڑی سازشیں ہیں۔وہ سب جو اچھا اور خوبصورت ہے اْسے ماپنے اور محدود کرنے کی غلطی کے سوائے انسان ساٹھ سالہ زندگی کا زیادہ مزہ لے گا اور پھر بھی اپنی ذہنی قوت، تازگی اور وعدے کو قائم رکھے گا۔ لافانی حکمران کے ماتحت انسان ہمیشہ خوبصورت اور عظیم ہوتا ہے۔ ہر آنے والا سال حکمت، خوبصورتی اور پاکیزگی کو عیاں کرتا ہے۔

5. 245 : 32-26

The infinite never began nor will it ever end. Mind and its formations can never be annihilated. Man is not a pendulum, swinging between evil and good, joy and sorrow, sickness and health, life and death. Life and its faculties are not measured by calendars. The perfect and immortal are the eternal likeness of their Maker. Man is by no means a material germ rising from the imperfect and endeavoring to reach Spirit above his origin. The stream rises no higher than its source.

The measurement of life by solar years robs youth and gives ugliness to age. The radiant sun of virtue and truth coexists with being. Manhood is its eternal noon, undimmed by a declining sun. As the physical and material, the transient sense of beauty fades, the radiance of Spirit should dawn upon the enraptured sense with bright and imperishable glories.

Never record ages. Chronological data are no part of the vast forever. Time-tables of birth and death are so many conspiracies against manhood and womanhood. Except for the error of measuring and limiting all that is good and beautiful, man would enjoy more than threescore years and ten and still maintain his vigor, freshness, and promise. Man, governed by immortal Mind, is always beautiful and grand. Each succeeding year unfolds wisdom, beauty, and holiness.

6۔ 151 :18۔21

خوف کبھی خود کے ہونے اور اپنے کاموں سے رْکتا نہیں۔ خون، دل، پھیپھڑوں وغیرہ کا زندگی، خدا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حقیقی انسان کا ہر عمل الٰہی فہم کی نگرانی میں ہے۔

6. 151 : 18-21

Fear never stopped being and its action. The blood, heart, lungs, brain, etc., have nothing to do with Life, God. Every function of the real man is governed by the divine Mind.

7۔ 264 :15۔19

جب ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ زندگی روح ہے،سب کچھ خدایعنی اچھائی میں پاتے ہوئے اور کسی دوسرے شعور کی ضروت کو محسوس نہ کرتے ہوئے، مادے میں اورنہ مادے سے، یہ فہم خود کاملیت میں کبھی وسعت نہیں پائے گا۔

7. 264 : 15-19

When we realize that Life is Spirit, never in nor of matter, this understanding will expand into self-completeness, finding all in God, good, and needing no other consciousness.

8۔ 75 :12۔16

یسوع نے لعزر کے بارے میں کہا: ”ہمارا دوست لعزر سو گیا ہے اور میں اْسے جگانے جاتا ہوں۔“یسوع نے لعزر کو اس فہم کے ساتھ بحال کیا کہ لعز رکبھی مرا نہیں تھا، نہ کہ اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ اْس کا بدن مر گیا تھا اور وہ پھر زندہ ہوگیا۔

8. 75 : 12-16

Jesus said of Lazarus: "Our friend Lazarus sleepeth; but I go, that I may awake him out of sleep." Jesus restored Lazarus by the understanding that Lazarus had never died, not by an admission that his body had died and then lived again.

9۔ 429 :31۔12

یسوع نے کہا (یوحنا 8 باب51 آیت)، ”اگر کوئی شخص میرے کلام پر عمل کرے گا تو ابدتک کبھی موت کو نہ دیکھے گا۔“ یہ بیان روحانی زندگی تک محدود نہیں، بلکہ اس میں وجودیت کا کرشمہ بھی شامل ہے۔ یسوع نے اس کا اظہار مرنے والے کو شفا دیتے اور مردہ کو زندہ کرتے ہوئے کیا۔ فانی عقل کو غلطی سے دور ہونا چاہئے، خود کو اس کے کاموں سے الگ رکھنا چاہئے تو لافانی جوان مردی، مثالی مسیح، غائب ہو جائے گا۔ مادے کی بجائے روح پر انحصار کرتے ہوئے ایمان کو اپنی حدود کو وسیع کرنا اور اپنی بنیاد کو مضبوط کرنا چاہئے۔ جب انسان موت پر اپنے یقین کو ترک کر دیتا ہے،وہ مزید تیزی سے خدا، زندگی اور محبت کی جانب بڑھے گا۔ بیماری اور موت پر یقین، یقیناً گناہ پر یقین کی مانند، زندگی اور صحت مندی کے سچے فہم کو بند کرنے کی جانب رجوع کرتا ہے۔انسان کب سائنس میں اِس حقیقت کے لئے بیدار ہوگا؟

9. 429 : 31-12

Jesus said (John viii. 51), "If a man keep my saying, he shall never see death." That statement is not confined to spiritual life, but includes all the phenomena of existence. Jesus demonstrated this, healing the dying and raising the dead. Mortal mind must part with error, must put off itself with its deeds, and immortal manhood, the Christ ideal, will appear. Faith should enlarge its borders and strengthen its base by resting upon Spirit instead of matter. When man gives up his belief in death, he will advance more rapidly towards God, Life, and Love. Belief in sickness and death, as certainly as belief in sin, tends to shut out the true sense of Life and health. When will mankind wake to this great fact in Science?

10۔ 302 :15 (ہم ساز)۔18

۔۔۔ ہم ساز اورغیر فانی انسان ہمیشہ سے موجود ہے اور بطور مادہ وجود رکھتے ہوئے کسی فانی زندگی، جوہر یا ذہانت سے ہمیشہ بلند اور پار رہتا ہے۔

10. 302 : 15 (harmonious)-18

…harmonious and immortal man has existed forever, and is always beyond and above the mortal illusion of any life, substance, and intelligence as existent in matter.

11۔ 426 :11۔32

اگر موت پر یقین ختم ہو جائے اور یہ فہم اجاگر ہو جائے کہ موت بالکل نہیں ہے، تو یہ ایک ”حیات کا درخت“ ہوگا جو اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔ انسان کو اپنی توانائیوں اور کوششوں کی تجدید کرنی چاہئے اور جب وہ اپنی نجات کے لئے جدو جہد کرنے کی ضرورت سے متعلق سیکھتا ہے تو اْسے ریاکاری کی حماقت کو دیکھنا چاہئے۔ جب یہ سیکھ لیا جاتا ہے کہ بیماری زندگی کو نیست نہیں کر سکتی، اور یہ کہ بشر موت کے وسیلہ گناہ یا بیماری سے نہیں بچائے جا سکتے تو یہ ادراک زندگی کی جدت میں تیزی لائے گا۔ اس سے یہ موت کی خواہش یا قبر کے خوف میں مہارت لائے گا اور یوں یہ اْس بڑے ڈر کوتباہ کرے گا جو فانی وجود کا گھیراؤ کرتا ہے۔

موت کے یقین اور اِ س کے ڈنگ کے خوف کاضیاع صحت اور اخلاقیات کے معیار کو اس کی موجودہ بلندی سے کہیں اونچا کرے گا اور خدا، ابدی زندگی، پر غیر متزلزل ایمان کے ساتھ ہمیں مسیحیت کے علم کو اونچا رکھنے کے قابل بنائے گا۔ گناہ موت کو لایا اور موت گناہ کے غائب ہونے پر خود بھی غائب ہوجائے گی۔ انسان لافانی ہے اور بدن ہلاک نہیں ہو سکتا، کیونکہ مادے میں سپرد کرنے کے لئے زندگی ہے ہی نہیں۔ انسانی نظریات یعنی مادا، موت، بیماری، عارضہ اور گناہ سب وہ ہیں جنہیں فنا کیا جا سکتا ہے۔

11. 426 : 11-32

If the belief in death were obliterated, and the understanding obtained that there is no death, this would be a "tree of life," known by its fruits. Man should renew his energies and endeavors, and see the folly of hypocrisy, while also learning the necessity of working out his own salvation. When it is learned that disease cannot destroy life, and that mortals are not saved from sin or sickness by death, this understanding will quicken into newness of life. It will master either a desire to die or a dread of the grave, and thus destroy the great fear that besets mortal existence.

The relinquishment of all faith in death and also of the fear of its sting would raise the standard of health and morals far beyond its present elevation, and would enable us to hold the banner of Christianity aloft with unflinching faith in God, in Life eternal. Sin brought death, and death will disappear with the disappearance of sin. Man is immortal, and the body cannot die, because matter has no life to surrender. The human concepts named matter, death, disease, sickness, and sin are all that can be destroyed.

12۔ 428 :30۔4

مصنف نے نا اْمید عضوی بیماری کو شفا بخشی، اور صرف خدا کو ہی زندگی تصو کرنے کے باعث مرنے والے کو زندہ کیا۔ یہ یقین رکھنا گناہ ہے کہ کوئی چیز قادر مطلق اور ابدی زندگی کو زیر کرسکتی ہے،اور یہ سمجھتے ہوئے کہ موت نہیں ہے اور اس کے ساتھ ساتھ روح کے دیگر فضائل کو سمجھنا زندگی میں روشنی لا سکتا ہے۔

12. 428 : 30-4

The author has healed hopeless organic disease, and raised the dying to life and health through the understanding of God as the only Life. It is a sin to believe that aught can overpower omnipotent and eternal Life, and this Life must be brought to light by the understanding that there is no death, as well as by other graces of Spirit.

13۔ 249 :6۔10

ہمارے لئے زندگی میں جدت لاتی محسوس کرتے ہوئے اور کسی فانی یا مادی طاقت کو تباہی لانے کے قابل نہ سمجھتے ہوئے،آئیے روح کی قوت کو محسوس کریں۔تو آئیں ہم شادمان ہوں کہ ہم ”ہونے والی الٰہی قوتوں“ کے تابع ہیں۔ ہستی کی حقیقی سائنس ایسی ہی ہے۔

13. 249 : 6-10

Let us feel the divine energy of Spirit, bringing us into newness of life and recognizing no mortal nor material power as able to destroy. Let us rejoice that we are subject to the divine "powers that be." Such is the true Science of being.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████