اتوار 18 ستمبر ، 2022



مضمون۔ مادہ

SubjectMatter

سنہری متن: 1 سیموئیل 16 باب7 آیت

”کیونکہ خداوند انسان کی مانند نظر نہیں کرتا اِس لئے کہ انسان ظاہری صورت کو دیکھتا ہے پر خداوند دل پر نظر کرتا ہے۔“



Golden Text: I Samuel 16 : 7

The Lord seeth not as man seeth; for man looketh on the outward appearance, but the Lord looketh on the heart.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: 1 یوحنا 2 باب15تا17 آیات • 1 یوحنا 5 باب4، 20، 21 آیات


15۔ نہ دنیا سے محبت رکھو نہ اْن چیزوں سے جو دنیا میں ہیں۔ جو کوئی دنیا سے محبت رکھتا ہے اْس میں باپ کی محبت نہیں۔

16۔ کیونکہ جو کچھ دنیا میں ہے یعنی جسم کی خواہش اور آنکھوں کی خواہش اور زندگی کی شیخی وہ باپ کی طرف سے نہیں بلکہ دنیا کی طرف سے ہے۔

17۔ دنیا اور اْس کی خواہش دونوں مٹتی جاتی ہیں لیکن جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے وہ ابد تک قائم رہے گا۔

4۔ جو کوئی خدا سے پیدا ہوا ہے وہ دنیا پر غالب آتا ہے اور وہ غلبہ جس سے دنیا مغلوب ہوئی ہے ہمارا ایمان ہے۔

20۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ خدا کا بیٹا آگیا ہے اور اْس نے ہمیں سمجھ بخشی ہے تاکہ اْس کو جو حقیقی ہے جانیں اور ہم اْس میں جو حقیقی ہے یعنی اْس کے بیٹے یسوع مسیح میں ہیں۔ حقیقی خدا اور ہمیشہ کی زندگی یہی ہے۔

21۔ اے بچو! اپنے آپ کو بتوں سے بچائے رکھو۔

Responsive Reading: I John 2 : 15-17 • I John 5 : 4, 20, 21

15.     Love not the world, neither the things that are in the world. If any man love the world, the love of the Father is not in him.

16.     For all that is in the world, the lust of the flesh, and the lust of the eyes, and the pride of life, is not of the Father, but is of the world.

17.     And the world passeth away, and the lust thereof: but he that doeth the will of God abideth for ever.

4.     For whatsoever is born of God overcometh the world: and this is the victory that overcometh the world, even our faith.

20.     And we know that the Son of God is come, and hath given us an understanding, that we may know him that is true, and we are in him that is true, even in his Son Jesus Christ. This is the true God, and eternal life.

21.     Little children, keep yourselves from idols. Amen.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1 . ۔ عبرانیوں 11 باب3 آیت

3۔ ایمان ہی سے ہم معلوم کرتے ہیں کہ عالم خدا کے کہنے سے بنے ہیں۔ یہ نہیں کہ جو کچھ نظر آتا ہے ظاہری چیزوں سے بنا ہے۔

1. Hebrews 11 : 3

3     Through faith we understand that the worlds were framed by the word of God, so that things which are seen were not made of things which do appear.

2 . ۔ متی 4 باب23 آیت

23۔اور یسوع تمام گلیل میں پھرتا رہا اور اْن کے عبادتخانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوش خبری کی منادی کرتا اور لوگوں کی ہر طرح کی بیماری اور ہرطرح کی کمزوری کو دور کرتا رہا۔

2. Matthew 4 : 23

23     And Jesus went about all Galilee, teaching in their synagogues, and preaching the gospel of the kingdom, and healing all manner of sickness and all manner of disease among the people.

3 . ۔ متی 5 باب1، 2 آیات

1۔وہ اْس بھیڑ کو دیکھ کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور جب بیٹھ گیا تو اْس کے شاگرد اْس کے پاس آئے۔

2۔ اور وہ اپنی زبان ہوکر اْن کو یوں تعلیم دینے گا۔

3. Matthew 5 : 1, 2

1     And seeing the multitudes, he went up into a mountain: and when he was set, his disciples came unto him:

2     And he opened his mouth, and taught them, saying,

4 . ۔ متی 6 باب19تا21، 24تا26، 33آیات

19۔ اپنے واسطے زمین پر مال جمع نہ کرو جہاں کیڑا اور زنگ خراب کرتا ہے اور جہاں چور نقب لگا کر چراتے ہیں۔

20۔ بلکہ اپنے لئے آسمان پر مال جمع کرو جہاں نہ کیڑا خراب کرتا ہے نہ زنگ اور نہ وہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں۔

21۔ کیونکہ جہاں تیرا مال ہے وہیں تیرا دل بھی لگا رہے گا۔

24۔ کوئی آدمی دو مالکوں کی خدمت نہیں کر سکتا کیونکہ یا تو ایک سے عداوت رکھے گا اور دوسرے سے محبت، یا ایک سے ملا رہے گا اور دوسرے کو ناچیزجانے گا۔تم خدا اور دولت دونوں کی خدمت نہیں کر سکتے۔

25۔اِس لئے مَیں تم سے کہتا ہوں کہ اپنی جان کی فکر نہ کرنا کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے؟ اور نہ اپنے بدن کی کیا پہنیں گے؟ کیا جان خوراک سے اور بدن پوشاک سے بڑھ کر نہیں؟

26۔ ہوا کے پرندوں کو دیکھو نہ بوتے ہیں نہ کاٹتے ہیں، نہ کوٹھیوں میں جمع کرتے ہیں تو بھی تمہارا آسمانی باپ اْن کو کھلاتا ہے۔

33۔ تم پہلے خدا کی بادشاہی اور اْس کی راستبازی کی تلاش کرو تو یہ سب چیزیں بھی تم کو مل جائیں گی۔

4. Matthew 6 : 19-21, 24-26, 33

19     Lay not up for yourselves treasures upon earth, where moth and rust doth corrupt, and where thieves break through and steal:

20     But lay up for yourselves treasures in heaven, where neither moth nor rust doth corrupt, and where thieves do not break through nor steal:

21     For where your treasure is, there will your heart be also.

24     No man can serve two masters: for either he will hate the one, and love the other; or else he will hold to the one, and despise the other. Ye cannot serve God and mammon.

25     Therefore I say unto you, Take no thought for your life, what ye shall eat, or what ye shall drink; nor yet for your body, what ye shall put on. Is not the life more than meat, and the body than raiment?

26     Behold the fowls of the air: for they sow not, neither do they reap, nor gather into barns; yet your heavenly Father feedeth them. Are ye not much better than they?

33     But seek ye first the kingdom of God, and his righteousness; and all these things shall be added unto you.

5 . ۔ یوحنا 6 باب63 آیت

63۔ زندہ کرنے والی تو روح ہے۔ جسم سے کچھ فائدہ نہیں۔ جو باتیں مَیں نے تم سے کہی ہیں وہ روح ہیں اور زندگی بھی ہیں۔

5. John 6 : 63

63     It is the spirit that quickeneth; the flesh profiteth nothing: the words that I speak unto you, they are spirit, and they are life.

6 . ۔ متی 16 باب1تا4 آیات

1۔ پھر فریسیوں اور صدوقیوں نے پاس آکر آزمانے کے لئے اْس سے درخواست کی کہ ہمیں کوئی آسمانی نشان دکھا۔

2۔ اْس نے جواب میں اْن سے کہا کہ شام کو تم کہتے ہو کہ کھلا رہے گا کیونکہ آسمان لال ہے۔

3۔ اور صبح کو یہ کہ آج آندھی چلے گی کیونکہ آسمان لال اور دْھندلا ہے۔ تم آسمان کی صورت میں تو تمیز کرنا جانتے ہو مگر زمانوں کی علامتوں میں تمیز نہیں کر سکتے؟

4۔ اِس زمانے کے برے اور زنا کار نشان طلب کرتے ہیں مگر یوناہ کے نشان کے سوا اْنہیں کوئی اور نشان نہیں دیا جائے گا اور وہ اْن کو چھوڑ کر چلا گیا۔

6. Matthew 16 : 1-4

1     The Pharisees also with the Sadducees came, and tempting desired him that he would shew them a sign from heaven.

2     He answered and said unto them, When it is evening, ye say, It will be fair weather: for the sky is red.

3     And in the morning, It will be foul weather to day: for the sky is red and lowring. O ye hypocrites, ye can discern the face of the sky; but can ye not discern the signs of the times?

4     A wicked and adulterous generation seeketh after a sign; and there shall no sign be given unto it, but the sign of the prophet Jonas. And he left them, and departed.

7 . ۔ مرقس 7 باب14تا16، 31تا37 آیات

14۔ اور وہ لوگوں کو پھر پاس بلا کر اْن سے کہنا لگا تم سب میری سنو اور سمجھو۔

15۔ کوئی چیز باہر سے آدمی میں داخل ہو کر اْسے ناپاک نہیں کر سکتی مگر جو چیزیں آدمی میں سے نکلتی ہے وہی اْس کو ناپاک کرتی ہیں۔

16۔ اگر کسی کے سننے کے کان ہوں تو سن لے۔

31۔ اور وہ پھر صور کی سرحدوں سے نکل کر صیدا کی راہ سے دکپلس کی سرحدوں سے ہوتا ہوا گلیل کی جھیل پر پہنچا۔

32۔ اور لوگوں نے ایک بہرے کو جو ہکلا بھی تھا اْس کے پاس لا کر اْس کی منت کی کہ اپنا ہاتھ اْس پر رکھ۔

33۔ وہ اْس کو بھیڑ میں سے الگ لے گیا اور اپنی انگلیاں اْس کے کانوں میں ڈالیں اور تھوک کر اْس کی زبان چھوئی۔

34۔ اور آسمان کی طرف نظر کر کے ایک آہ بھری اور اْس سے کہا اِفتح یعنی کھل جا۔

35۔ اور اْس کے کان کھل گئے اور اْس کی زبان کی گِرہ کھل گئی اور وہ صاف بولنے لگا۔

36۔ اور اْس نے اْن کو حکم دیا کہ کسی سے نہ کہنا لیکن جتنا وہ اْن کو حکم دیتا رہا اْتنا ہی وہ چرچا کرتے رہے۔

37۔ اور اْنہوں نے نہایت ہی حیران ہوکر کہا جو کچھ اْس نے کیا سب اچھا ہے۔ وہ بہروں کو سننے کی اور گونگوں کو بولنے کی طاقت دیتا ہے۔

7. Mark 7 : 14-16, 31-37

14     And when he had called all the people unto him, he said unto them, Hearken unto me every one of you, and understand:

15     There is nothing from without a man, that entering into him can defile him: but the things which come out of him, those are they that defile the man.

16     If any man have ears to hear, let him hear.

31     And again, departing from the coasts of Tyre and Sidon, he came unto the sea of Galilee, through the midst of the coasts of Decapolis.

32     And they bring unto him one that was deaf, and had an impediment in his speech; and they beseech him to put his hand upon him.

33     And he took him aside from the multitude, and put his fingers into his ears, and he spit, and touched his tongue;

34     And looking up to heaven, he sighed, and saith unto him, Ephphatha, that is, Be opened.

35     And straightway his ears were opened, and the string of his tongue was loosed, and he spake plain.

36     And he charged them that they should tell no man: but the more he charged them, so much the more a great deal they published it;

37     And were beyond measure astonished, saying, He hath done all things well: he maketh both the deaf to hear, and the dumb to speak.

8 . ۔ متی 9 باب27تا31 آیات

27۔ جب یسوع وہاں سے آگے بڑھا تو دو اندھے اْس کے پیچھے یہ پکارتے ہوئے چلے کہ اے ابنِ داؤد ہم پر رحم کر۔

28۔ جب وہ گھر میں پہنچا تو وہ اندھے اْس کے پاس آئے اور یسوع نے اْن سے کہا کیا تم کو اعتقاد ہے کہ مَیں یہ کر سکتا ہوں؟ انہوں نے اْس سے کہا ہاں اے خداوند۔

29۔ تب اْس نے اْن کی آنکھیں چھو کر کہا تمہارے اعتقاد کے موافق تمہارے لئے ہو۔

30۔ اور اْن کی آنکھیں کھْل گئیں اور یسوع نے اْن کو تاکید کر کے کہا خبردار کوئی اِس بات کو نہ جانے۔

31۔ مگر اْنہوں نے نکل کر اْس تمام علاقہ میں اْس کی شہرت پھیلا دی۔

8. Matthew 9 : 27-31

27     And when Jesus departed thence, two blind men followed him, crying, and saying, Thou Son of David, have mercy on us.

28     And when he was come into the house, the blind men came to him: and Jesus saith unto them, Believe ye that I am able to do this? They said unto him, Yea, Lord.

29     Then touched he their eyes, saying, According to your faith be it unto you.

30     And their eyes were opened; and Jesus straitly charged them, saying, See that no man know it.

31     But they, when they were departed, spread abroad his fame in all that country.

9 . ۔ لوقا 8 باب43تا48 آیات

43۔ اور ایک عورت نے جس کے بارہ برس سے خون جاری تھا اور اپنا سارا مال حکیموں پر خرچ کر چکی تھی اور کسی کے ہاتھ سے اچھی نہ ہو سکی تھی۔

44۔ اْس کے پیچھے آکر اْس کی پوشاک کا کنارہ چھوا اور اْسی دم اْس کا خون بہنا بند ہو گیا۔

45۔ اِس پر یسوع نے کہا وہ کون ہے جس نے مجھے چھوا؟ جب سب انکار کرنے لگے تو پطرس اور اْس کے ساتھیوں نے کہا کہ اے صاحب لوگ تجھے دباتے اور تجھ پر گرے پڑتے ہیں۔

46۔ مگر یسوع نے کہا کسی نے مجھے چھوا تو ہے کیونکہ مَیں نے معلوم کیا کہ قوت مجھ سے نکلی ہے۔

47۔ جب اْس عورت نے دیکھا کہ مَیں چھِپ نہیں سکتی تو کانپتی ہوئی اور اْس کے آگے گر کر سب لوگوں کے سامنے بیان کیا کہ مَیں نے کس سبب سے تجھے چھوا اور کس طرح اْسی دم شفا پاگئی۔

48۔ اْس نے اْس سے کہا بیٹی! تیرے ایمان نے تجھے اچھا کیا ہے۔ سلامت چلی جا۔

9. Luke 8 : 43-48

43     And a woman having an issue of blood twelve years, which had spent all her living upon physicians, neither could be healed of any,

44     Came behind him, and touched the border of his garment: and immediately her issue of blood stanched.

45     And Jesus said, Who touched me? When all denied, Peter and they that were with him said, Master, the multitude throng thee and press thee, and sayest thou, Who touched me?

46     And Jesus said, Somebody hath touched me: for I perceive that virtue is gone out of me.

47     And when the woman saw that she was not hid, she came trembling, and falling down before him, she declared unto him before all the people for what cause she had touched him, and how she was healed immediately.

48     And he said unto her, Daughter, be of good comfort: thy faith hath made thee whole; go in peace.

10 . ۔ رومیوں 1، 2 آیات

1۔ پس اب جو مسیح یسوع میں ہیں اْن پر سزا کا حکم نہیں، جو جسم کے مطابق نہیں بلکہ روح کے مطابق چلتے ہیں۔

2۔ کیونکہ زندگی کے روح کی شریعت نے یسوع مسیح میں مجھے گناہ اور موت کی شریعت سے آزاد کردیا۔

10. Romans 8 : 1, 2

1     There is therefore now no condemnation to them which are in Christ Jesus, who walk not after the flesh, but after the Spirit.

2     For the law of the Spirit of life in Christ Jesus hath made me free from the law of sin and death.



سائنس اور صح


1 . ۔ 275 :20۔24

جیسا کہ روحانی سمجھ پر ظاہر ہوا ہے، الٰہی مابعدلاطبیعیات واضح طور پر دکھاتا ہے کہ سب کچھ عقل ہی ہے اور یہ عقل خدا، قادر مطلق، ہمہ جائی، علام الغیوب ہے یعنی کہ سبھی طاقت والا، ہر جگہ موجود اور سبھی سائنس پر قادر ہے۔ لہٰذہ حقیقت میں سبھی کچھ عقل کا اظہار ہے۔

1. 275 : 20-24

Divine metaphysics, as revealed to spiritual understanding, shows clearly that all is Mind, and that Mind is God, omnipotence, omnipresence, omniscience, — that is, all power, all presence, all Science. Hence all is in reality the manifestation of Mind.

2 . ۔ 310 :29۔31

عقل خدا ہے، اور خدا مادی فہم سے دکھائی نہیں دیتا، کیونکہ عقل روح ہے،جسے مادی فہم سمجھ نہیں سکتا۔

2. 310 : 29-31

Mind is God, and God is not seen by material sense, because Mind is Spirit, which material sense cannot discern.

3 . ۔ 277 :24۔32

حقیقت کا حلقہء سلطنت روح ہے۔ روح کی غیر مشابہت مادہ ہے، اور حقیقت کا متضاد الٰہی نہیں، یہ انسانی نظریہ ہے۔مادہ بیان کی غلطی ہے۔ شروع کی یہ غلطی ہر اْس بیان کی آخری غلطیوں کی جانب لے جاتی ہے جس میں یہ غلطی داخل ہوتی ہے۔مادے سے متعلق آپ جو کچھ بھی کہتے یا مانتے ہیں وہ فانی نہیں ہے، کیونکہ مادہ عارضی ہے اور اِسی لئے فانی مظاہرِ قدرت، ایک انسانی نظریہ، بعض اوقات بہت خوبصورت، مگر ہمیشہ غلط ہوتا ہے۔

3. 277 : 24-32

The realm of the real is Spirit. The unlikeness of Spirit is matter, and the opposite of the real is not divine, — it is a human concept. Matter is an error of statement. This error in the premise leads to errors in the conclusion in every statement into which it enters. Nothing we can say or believe regarding matter is immortal, for matter is temporal and is therefore a mortal phenomenon, a human concept, sometimes beautiful, always erroneous.

4 . ۔ 479 :8 صرف،10۔17

مادہ نہ تو قائم بالذات ہے اور نہ ہی روح کی پیداوار ہے۔ ۔۔۔مادہ دیکھ، محسوس، چکھ اور سونگھ نہیں سکتا۔ یہ خود شناس نہیں ہے، خود کو محسوس، خود کو دیکھ اور نہ خود کو سمجھ سکتا ہے۔نام نہاد فانی عقل کو ہٹا دیں، جو مادے کی فرضی خودی کو تشکیل دیتی ہے، تو مادہ مادے کو ہی پہچان نہیں سکتا۔ کیا وہ چیز جسے ہم مردہ کہتے ہیں کبھی دیکھ، سن، محسوس یا جسمانی حواس میں سے کچھ بھی استعمال کرتی ہے؟

4. 479 : 8 only, 10-17

Matter is neither self-existent nor a product of Spirit. … Matter cannot see, feel, hear, taste, nor smell. It is not self-cognizant, — cannot feel itself, see itself, nor understand itself. Take away so-called mortal mind, which constitutes matter's supposed selfhood, and matter can take no cognizance of matter. Does that which we call dead ever see, hear, feel, or use any of the physical senses?

5 . ۔ 279 :22۔29

انسانی فلسفے، عقیدے اور علم طب کا ہر نظام اِس بت پرست عقیدے سے کم و بیش متاثر ہوتا ہے کہ مادے میں ایک عقل ہے؛ مگر یہ عقیدہ یکساں مکاشفہ اور درست سبب کے برعکس ہوتا ہے۔ایک منطقی اور سائنسی نتیجے پر محض اِس علم کے ساتھ پہنچا جاتا ہے کہ ہستی کی دو بنیادیں مادا اور عقل نہیں، بلکہ صرف واحد عقل ہے۔

5. 279 : 22-29

Every system of human philosophy, doctrine, and medicine is more or less infected with the pantheistic belief that there is mind in matter; but this belief contradicts alike revelation and right reasoning. A logical and scientific conclusion is reached only through the knowledge that there are not two bases of being, matter and mind, but one alone, — Mind.

6 . ۔ 586 :3۔4

آنکھیں۔ روحانی ادراک، مادی نہیں بلکہ ذہنی۔

6. 586 : 3-4

Eyes. Spiritual discernment, — not material but mental.

7 . ۔ 585 :1۔4

کان۔ نام نہاد جسمانی حواس کے اعضاء نہیں، بلکہ روحانی سمجھ۔

روحانی شعور کا حوالہ دیتے ہوئے یسوع نے کہا، ”کان ہیں اور تم سنتے نہیں؟“ (مرقس 8باب18 آیت)۔

7. 585 : 1-4

Ears. Not organs of the so-called corporeal senses, but spiritual understanding.

Jesus said, referring to spiritual perception, "Having ears, hear ye not?" (Mark viii. 18.)

8 . ۔ 210 :5۔16

مسیحت کا اصول اور ثبوت روحانی فہم کے وسیلہ سمجھے جاتے ہیں۔ انہیں یسوع کے اظہاروں کے سامنے رکھا جاتا ہے، اْس کے بیمار کو شفا دینے، بدروحوں کو نکالنے اور اْس موت یعنی جو ”سب سے پچھلا دْشمن ہے جسے نیست کیا جائے گا“، اِسے تباہ کرنے کے وسیلہ مادے اور اِس کے نام نہاد قوانین کے لئے اْس کی لاپروائی دکھاتے ہیں۔

یہ جانتے ہوئے کہ جان اور اْس کی خصوصیات ہمیشہ کے لئے انسان کے وسیلہ ظاہر کی جاتی رہی ہیں، مالک نے بیمار کو شفا دی، اندھے کو آنکھیں دیں، بہرے کو کان دئیے، لنگڑے کو پاؤں دئیے، یوں وہ انسانی خیالوں اور بدنوں پر الٰہی عقل کے سائنسی عمل کو روشنی میں لایااور انہیں جان اور نجات کی بہتر سمجھ عطا کی۔

8. 210 : 5-16

The Principle and proof of Christianity are discerned by spiritual sense. They are set forth in Jesus' demonstrations, which show — by his healing the sick, casting out evils, and destroying death, "the last enemy that shall be destroyed," — his disregard of matter and its so-called laws.

Knowing that Soul and its attributes were forever manifested through man, the Master healed the sick, gave sight to the blind, hearing to the deaf, feet to the lame, thus bringing to light the scientific action of the divine Mind on human minds and bodies and giving a better understanding of Soul and salvation.

9 . ۔ 486 :23۔26

بصیرت، سماعت تمام تر روحانی احساسات ابدی ہیں۔ یہ ختم نہیں ہو سکتے۔ اِن کی حقیقت اور لافانیت روح اور تفہیم میں ہیں نہ کہ مادے میں، اسی طرح اْن کا استحکام بھی۔

9. 486 : 23-26

Sight, hearing, all the spiritual senses of man, are eternal. They cannot be lost. Their reality and immortality are in Spirit and understanding, not in matter, — hence their permanence.

10 . ۔ 487 :6۔12

از روئے مادہ کی نسبت روحانی طور پر سننے اور دیکھنے میں زیادہ مسیحت ہے۔ ذہنی صلاحیتوں کے کھو جانے کی نسبت اْن کی مستقل مشق میں زیادہ سائنس ملتی ہے۔ وہ کھو تو سکتی نہیں، تاہم عقل ہمیشہ رہتی ہے۔ اس کے ادراک نے صدیوں پہلے اندھے کو بینائی اور بہرے کو سماعت دی، اور یہ ان معجزات کو دوہرائے گی۔

10. 487 : 6-12

There is more Christianity in seeing and hearing spiritually than materially. There is more Science in the perpetual exercise of the Mind-faculties than in their loss. Lost they cannot be, while Mind remains. The apprehension of this gave sight to the blind and hearing to the deaf centuries ago, and it will repeat the wonder.

11 . ۔ 86 :1۔9

ایک دفعہ یسوع نے پوچھا، ”مجھے کس نے چھوا ہے؟“ اِس سوال کو محض جسمانی لمس قیاس کرتے ہوئے شاگردوں نے جواب دیا، ”لوگ تجھے دباتے ہیں۔“ یسوع جانتا تھا، جیسے دوسرے نہیں جانتے تھے، کہ یہ مادہ نہیں بلکہ فانی عقل تھی،جس کے لمس نے مدد کے لئے پکارا تھا۔ اْس کے سوال کو دوہرانے پر بیمار عورت کے ایمان کی بدولت اْسے جواب ملا۔ اِس ذہنی بلاوے پر اْس کی فوری فکر مندی نے اْس کی روحانیت کو ظاہر کیا۔شاگردوں کی اِس سے متعلق غلط سمجھ نے اْن کی مادیت کو ایاں کر دیا۔

11. 86 : 1-9

Jesus once asked, "Who touched me?" Supposing this inquiry to be occasioned by physical contact alone, his disciples answered, "The multitude throng thee." Jesus knew, as others did not, that it was not matter, but mortal mind, whose touch called for aid. Repeating his inquiry, he was answered by the faith of a sick woman. His quick apprehension of this mental call illustrated his spirituality. The disciples' misconception of it uncovered their materiality.

12 . ۔ 269 :21۔28

مادی حواس کی گواہی نہ تو مطلق ہے اور نہ الٰہی ہے۔ اِسی لئے میں خود کو غیر محفوظ طریقے سے یسوع کی، اْس کے شاگردوں کی، انبیاء کی تعلیمات اور عقل کی سائنس کی گواہی پر قائم کرتا ہوں۔یہاں دیگر بنیادیں بالکل نہیں ہیں۔باقی تمام تر نظام، وہ نظام جو مکمل طور پر یا جزوی طور پر مادی حواس سے حاصل شدہ علم پر بنیاد رکھتے ہیں، ایسے سرکنڈے ہیں جو ہوا سے لڑکھڑاتے ہیں، نہ کہ چٹان پر تعمیر کئے گئے گھر ہیں۔

12. 269 : 21-28

The testimony of the material senses is neither absolute nor divine. I therefore plant myself unreservedly on the teachings of Jesus, of his apostles, of the prophets, and on the testimony of the Science of Mind. Other foundations there are none. All other systems — systems based wholly or partly on knowledge gained through the material senses — are reeds shaken by the wind, not houses built on the rock.

13 . ۔ 95 :28۔3

بد بخت فریب النظری کے باعث خاموش رہ کر،کئی گھنٹوں تک خواب دیکھتے ہوئے، دنیا بچپن کے جھولے میں سو رہی ہے۔مادی فہم وجودیت کے حقائق کو اجاگر نہیں کرتا؛ بلکہ روحانی فہم انسانی شعور کو ابدی سچائی میں بلند کرتا ہے۔انسانیت روحانی سمجھ میں گناہ کے فہم سے آہستہ آہستہ باہر نکلتی ہے؛ سب باتوں کو بہتر سمجھنے کے لئے ناپسندیدگی مسیحی مملکت کو زنجیروں میں جکڑتی ہے۔

13. 95 : 28-3

Lulled by stupefying illusions, the world is asleep in the cradle of infancy, dreaming away the hours. Material sense does not unfold the facts of existence; but spiritual sense lifts human consciousness into eternal Truth. Humanity advances slowly out of sinning sense into spiritual understanding; unwillingness to learn all things rightly, binds Christendom with chains.

14 . ۔ 205 :7۔12، 15۔21، 32۔3

یہ ماننا کہ مادے میں زندگی ہے، اور یہ کہ گناہ، بیماری اور موت خدا کی تخلیق کردہ ہیں،یہ غلطی کب بے نقاب ہوگی؟ یہ کب سمجھا جائے گاکہ مادے میں نہ تو ذہانت، زندگی ہے اور نہ ہی احساس ہے اور یہ کہ اِس کا متضاد ایمان تمام دْکھوں کا ثمردار وسیلہ ہے؟

غلطی میں غرق ہوکر (یہ یقین کرنے کی غلطی کہ مادہ نیکی یا بدی کے لئے ذہین ہو سکتا ہے) ہم خدا کی واضح جھلکیاں صرف تب دیکھ سکتے ہیں جب کہر چھٹ جاتا ہے یا جب وہ کہر پگھل کر اتنا پتلا ہوجاتا ہے کہ ہم الٰہی شبیہ کو کسی لفظ یا کسی ایسے کام میں سمجھ لیتے ہیں جو حقیقی خیال کی طرف، نیکی کی حقیقت اور بالادستی کی طرف، بدی کے عدم اور غیر واقعیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

جب ہم الٰہی کے ساتھ اپنے رشتے کو مکمل طور پر سمجھتے ہیں، تو ہم کوئی اور عقل نہیں رکھتے ماسوائے اْس کی عقل کے، کوئی اور محبت، حکمت یا سچائی نہیں رکھتے، زندگی کا کوئی اور فہم نہیں رکھتے، اور مادے یا غلطی کی وجودیت کا کوئی اور شعور نہیں رکھتے۔

14. 205 : 7-12, 15-21, 32-3

When will the error of believing that there is life in matter, and that sin, sickness, and death are creations of God, be unmasked? When will it be understood that matter has neither intelligence, life, nor sensation, and that the opposite belief is the prolific source of all suffering?

Befogged in error (the error of believing that matter can be intelligent for good or evil), we can catch clear glimpses of God only as the mists disperse, or as they melt into such thinness that we perceive the divine image in some word or deed which indicates the true idea, — the supremacy and reality of good, the nothingness and unreality of evil.

When we fully understand our relation to the Divine, we can have no other Mind but His, — no other Love, wisdom, or Truth, no other sense of Life, and no consciousness of the existence of matter or error.

15 . ۔ 21 :9۔14

اگر شاگرد روحانی طور پر ترقی کر رہا ہے، تو وہ داخل ہونے کی جدجہد کر رہا ہے۔ وہ مادی حِس سے دور ہونے کی مسلسل کوشش کررہا ہے اور روح کی ناقابل تسخیر چیزوں کا متلاشی ہے۔اگر ایماندار ہے تو وہ ایمانداری سے ہی آغاز کرے گا اور آئے دن درست سمت پائے گا جب تک کہ وہ آخر کار شادمانی کے ساتھ اپنا سفر مکمل نہیں کر لیتا۔

15. 21 : 9-14

If the disciple is advancing spiritually, he is striving to enter in. He constantly turns away from material sense, and looks towards the imperishable things of Spirit. If honest, he will be in earnest from the start, and gain a little each day in the right direction, till at last he finishes his course with joy.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████