اتوار 19جنوری، 2020 |

اتوار 19جنوری، 2020



مضمون۔ زندگی

SubjectLife

سنہری متن:سنہری متن: زبور 27: 14 آیت

’’خداوند کی آس رکھ مضبوط ہو اور تیرا دل قوی ہو۔ ہاں خداوند ہی کی آس رکھ۔‘‘



Golden Text: Psalm 27 : 14

Wait on the Lord: be of good courage, and he shall strengthen thine heart: wait, I say, on the Lord.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: لوقا 12باب22تا24، 27تا32 آیات


22۔ اپنی جان کی فکر نہ کرو کہ ہم کیا کھائیں گے اور نہ اپنے بدن کی ہم کیا پہنیں گے۔

23۔ کیونکہ جان خوراک سے بڑھ کر ہے اور بدن پوشاک سے۔

24۔ کوّوں پر غور کرو کہ نہ بوتے ہیں نہ کاٹتے ہیں اور نہ اْن کا کوئی کھِتا ہوتا ہے نہ کوٹھی تو بھی خدا اْنہیں کھلاتا ہے۔تمہاری قدر تو پرندوں سے کہیں زیادہ ہے۔

27۔ سوسن کے درختوں پر غور کرو کہ کس طرح بڑھتے ہیں۔ وہ نہ محنت کرتے ہیں نہ کاتتے ہیں تو بھی مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ سلیمان بھی باوجود اپنی ساری شان و شوکت کے اْن میں سے کسی کی مانند ملبس نہ تھا۔

28۔ پس جب خدا میدان کی گھاس کو جو آج ہے اور کل تنور میں جھونکی جائے گی ایسی پوشاک پہناتا ہے تو اے کم اعتقادو تم کو کیوں نہ پہنائے گا؟

29۔ اور تم اِس کی تلاش میں نہ رہو کہ کیا کھائیں گے اور کیا پہنیں گے اور نہ شکی بنو۔

30۔ کیونکہ اِن سب چیزوں کی تلاش میں دنیا کی قومیں رہتی ہیں لیکن تمہارا باپ جانتا ہے کہ تم اِن چیزوں کے محتاج ہو۔

31۔ہاں اْس کی بادشاہی کی تلاش میں رہوتو یہ چیزیں بھی تم کو مل جائیں گی۔

32۔ اے چھوٹے گلے نہ ڈر کیونکہ تمہارے باپ کو پسند آیا کہ تمہیں بادشاہی دے۔

Responsive Reading: Luke 12 : 22-24, 27-32

22.     Take no thought for your life, what ye shall eat; neither for the body, what ye shall put on.

23.     The life is more than meat, and the body is more than raiment.

24.     Consider the ravens: for they neither sow nor reap; which neither have storehouse nor barn; and God feedeth them: how much more are ye better than the fowls?

27.     Consider the lilies how they grow: they toil not, they spin not; and yet I say unto you, that Solomon in all his glory was not arrayed like one of these.

28.     If then God so clothe the grass, which is to-day in the field, and to-morrow is cast into the oven; how much more will he clothe you, O ye of little faith?

29.     And seek not ye what ye shall eat, or what ye shall drink, neither be ye of doubtful mind.

30.     For all these things do the nations of the world seek after: and your Father knoweth that ye have need of these things.

31.     But rather seek ye the kingdom of God; and all these things shall be added unto you.

32.     Fear not, little flock; for it is your Father’s good pleasure to give you the kingdom.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ گنتی 13باب20 آیت(تم بنو) (تا پہلا)۔

20۔۔۔۔تمہاری ہمت بندھی رہے اور اِس ملک کا پھل لیتے آنا۔

1. Numbers 13 : 20 (be ye) (to 1st .)

20     … be ye of good courage, and bring of the fruit of the land.

2۔ وعظ 3 باب 11،(تا:) 14 آیات

11۔ اْس نے ہر ایک چیز کو اْس کے وقت میں خوب بنایا۔

14۔ اور مجھ کو یقین ہے کہ سب کچھ جو خدا کرتا ہے ہمیشہ کے لئے ہے۔ اِس میں کچھ کمی پیشی نہیں ہو سکتی اور خدا نے یہ اِس لئے کیا ہے کہ لوگ اْس کے حضور ڈرتے رہیں۔

2. Ecclesiastes 3 : 11 (to :), 14

11     He hath made every thing beautiful in his time:

14     I know that, whatsoever God doeth, it shall be for ever: nothing can be put to it, nor any thing taken from it: and God doeth it, that men should fear before him.

3۔ رومیوں 8باب28 آیت

28۔ ہم کو معلوم ہے کہ سب چیزیں خدا سے محبت رکھنے والوں کے لئے بھلائی پیدا کرتی ہیں یعنی اْن کے لئے جو خدا کے ارادہ کے موافق بلائے گئے۔

3. Romans 8 : 28

28     And we know that all things work together for good to them that love God, to them who are the called according to his purpose.

4۔ استثنا 30باب 16 آیت (مَیں)

16۔ مَیں آج کے دن تجھ کو حکم کرتا ہوں کہ تو خداوند اپنے خدا سے محبت رکھے اور اْس کی راہوں پر چلے اور اْس کے فرمان اور آئین اور احکام کو مانے تاکہ تْو جیتا رہے اور بڑھے اور خداوند تیرا خدا اْس ملک میں تجھ کو برکت بخشے جس پر قبضہ کرنے کو تْو وہاں جا رہا ہے۔

4. Deuteronomy 30 : 16 (I)

16     I command thee this day to love the Lord thy God, to walk in his ways, and to keep his commandments and his statutes and his judgments, that thou mayest live and multiply: and the Lord thy God shall bless thee in the land whither thou goest to possess it.

5۔ استثنا 31باب1تا3(تا دوسرا)، 7، 8، 22، 23 آیات

1۔ اور موسیٰ نے جا کر یہ سب باتیں اسرائیلیوں کو سنائیں۔

2۔ اور اْن کو کہا مَیں تو آج کے دن ایک سو بیس برس کا ہوں۔ مَیں اب چل پھر نہیں سکتا اور خداوند نے مجھ سے کہا ہے کہ تْو اِس یردن پار نہیں جائے گا۔

3۔ سو خداوند تیرا خدا ہی تیرے آگے آگے پار جائے گا۔

7۔ پھر موسیٰ نے یشوع کو بلا کر سب اسرائیلیوں کے سامنے اْس سے کہا کہ تْو مضبوط ہو جا اور حوصلہ رکھ کیونکہ تْو اِس قوم کے ساتھ اْس ملک میں جائے گا جس کو خداوند نے اْن کے باپ دادا سے قسم کھا کر دینے کو کہا تھا اور تْو اْن کو اْس کا وارث بنائے گا۔

8۔ اور خداوند ہی تیرے آگے آگے چلے گا۔ وہ تیرے ساتھ رہے گا۔ وہ تجھ سے دستبردار نہ ہو گا اور نہ تجھے چھوڑے گا سو تْو خوف نہ کر اور بے دل نہ ہو۔

22۔ سو موسیٰ نے اْسی دن اِس گیت کو لکھ لیا اور بنی اسرائیل کو سکھایا۔

23۔ اور اْس نے نون کے بیٹے یشوع کو ہدایت کی اور کہا مضبوط ہو جا اور حوصلہ رکھ کیونکہ تْو بنی اسرائیل کو اْس ملک میں لے جائے گا جس کی قسم میں نے اْن سے کھائی تھی اور میں تیرے ساتھ رہوں گا۔

5. Deuteronomy 31 : 1-3 (to 2nd ,), 7, 8, 22, 23

1     And Moses went and spake these words unto all Israel.

2     And he said unto them, I am an hundred and twenty years old this day; I can no more go out and come in: also the Lord hath said unto me, Thou shalt not go over this Jordan.

3     The Lord thy God, he will go over before thee,

7     And Moses called unto Joshua, and said unto him in the sight of all Israel, Be strong and of a good courage: for thou must go with this people unto the land which the Lord hath sworn unto their fathers to give them; and thou shalt cause them to inherit it.

8     And the Lord, he it is that doth go before thee; he will be with thee, he will not fail thee, neither forsake thee: fear not, neither be dismayed.

22     Moses therefore wrote this song the same day, and taught it the children of Israel.

23     And he gave Joshua the son of Nun a charge, and said, Be strong and of a good courage: for thou shalt bring the children of Israel into the land which I sware unto them: and I will be with thee.

6۔ یشوع 1 باب 1تا 9 آیات

1۔ اور خداوند کے بندہ موسیٰ کی وفات کے بعد ایسا ہوا کہ خداوند نے اْس کے خادم نون کے بیٹے یشوع سے کہا۔

2۔ میرا بندہ موسیٰ مر گیا ہے سو اب تْو اْٹھ اور اِن سب لوگوں کو ساتھ لے کر یردن کے پار اْس ملک میں جا جسے مَیں اْن کو یعنی بنی اسرائیل کو دیتا ہوں۔

3۔ جس جس جگہ تمہارے پاؤں کا تلوہ ٹکے اْس کو جیسا میں نے موسیٰ کو کہا ہے میں نے تم کو دیا۔

4۔ بیابان اور اْس لبنان سے لے کر بڑے دریا یعنی دریائے فرات تک حتیوں کا سارا ملک اور مغرب کی طرف بڑے سمند ر تک تمہاری حد ہوگی۔

5۔ تیری زندگی بھر کوئی شخص تیرے سامنے کھڑا نہ رہ سکے گا جیسے میں موسیٰ کے ساتھ تھا ویسے ہی تیرے ساتھ رہوں گا۔ مَیں نہ تجھ سے دستبردار ہوں گا نہ تجھ کو چھوڑوں گا۔

6۔ سو مضبوط ہو جا اور حوصلہ رکھ کیونکہ تْو اِس قوم کو اْس ملک کا وارث کرائے گا جسے مَیں نے اْن کو دینے کی قسم اْن کے باپ دادا سے کھائی۔

7۔ تْو فقط مضبوط اور نہایت دلیر ہو جا کہ احتیاط رکھ کر اْس ساری شریعت پر عمل کرے جس کا حکم میرے بندہ موسیٰ نے تجھ کو دیا۔ اْس سے نہ دائیں مڑنا نہ بائیں تاکہ جہاں کہیں تْو جائے تجھے خوب کامیابی حاصل ہو۔

8۔ شریعت کی یہ کتاب تیرے منہ سے نہ ہٹے بلکہ تجھے دن اور رات اِسی کا دھیان ہو تاکہ جو کچھ اِس میں لکھا ہے اْس سب پر تْو احتیاط کر کے عمل کر سکے کیونکہ تب ہی تجھے اقبالمندی کی راہ نصیب ہوگی اور تْو خوب کامیاب ہوگا۔

9۔ کیا میں نے تجھ کو حکم نہیں دیا؟ سو مضبوط ہو جا اور حوصلہ رکھ۔ خوف نہ کھا اور بے دل نہ ہوکیونکہ خداوند تیرا خدا جہاں جہاں تْو جائے تیرے ساتھ رہے گا۔

6. Joshua 1 : 1-9

1 Now after the death of Moses the servant of the Lord it came to pass, that the Lord spake unto Joshua the son of Nun, Moses’ minister, saying,

2     Moses my servant is dead; now therefore arise, go over this Jordan, thou, and all this people, unto the land which I do give to them, even to the children of Israel.

3     Every place that the sole of your foot shall tread upon, that have I given unto you, as I said unto Moses.

4     From the wilderness and this Lebanon even unto the great river, the river Euphrates, all the land of the Hittites, and unto the great sea toward the going down of the sun, shall be your coast.

5     There shall not any man be able to stand before thee all the days of thy life: as I was with Moses, so I will be with thee: I will not fail thee, nor forsake thee.

6     Be strong and of a good courage: for unto this people shalt thou divide for an inheritance the land, which I sware unto their fathers to give them.

7     Only be thou strong and very courageous, that thou mayest observe to do according to all the law, which Moses my servant commanded thee: turn not from it to the right hand or to the left, that thou mayest prosper whithersoever thou goest.

8     This book of the law shall not depart out of thy mouth; but thou shalt meditate therein day and night, that thou mayest observe to do according to all that is written therein: for then thou shalt make thy way prosperous, and then thou shalt have good success.

9     Have not I commanded thee? Be strong and of a good courage; be not afraid, neither be thou dismayed: for the Lord thy God is with thee whithersoever thou goest.

7۔ یسعیاہ 40 باب 28 تا31 آیات

28۔ کیا تْو نہیں جانتا؟ کیا تْو نے نہیں سنا کہ خداوند خدائے ابدی و تمام زمین کا خالق تھکتا نہیں اور ماندہ نہیں ہوتا؟ اْس کی حکمت ادراک سے باہر ہے۔

29۔ وہ تھکے ہوئے کو زور بخشتا ہے اور ناتواں کی توانائی کو زیادہ کرتا ہے۔

30۔ نوجوان بھی تھک جائیں گے اور ماندہ ہوں گے اور سورما بالکل گر پڑیں گے۔

31۔ لیکن خداوند کا انتظار کرنے والے از سرے نو زور حاصل کریں گے۔ وہ عقابوں کی مانند بال و پر سے اْڑیں گے وہ دوڑیں گے اور نہ تھکیں گے۔ وہ چلیں گے اور ماندہ نہ ہوں گے۔

7. Isaiah 40 : 28-31

28     Hast thou not known? hast thou not heard, that the everlasting God, the Lord, the Creator of the ends of the earth, fainteth not, neither is weary? there is no searching of his understanding.

29     He giveth power to the faint; and to them that have no might he increaseth strength.

30     Even the youths shall faint and be weary, and the young men shall utterly fall:

31     But they that wait upon the Lord shall renew their strength; they shall mount up with wings as eagles; they shall run, and not be weary; and they shall walk, and not faint.

8۔ یسعیاہ 41 باب6، 13 آیات

6۔ اْن میں سے ہر ایک نے اپنے پڑوسی کی مدد کی اور بھائی سے کہا کہ حوصلہ رکھ۔

13۔ کیونکہ مَیں خداوند تیرا خدا تیرا داہنا ہاتھ پکڑ کر کہوں گا مت ڈر مَیں تیری مدد کروں گا۔

8. Isaiah 41 : 6, 13

6     They helped every one his neighbour; and every one said to his brother, Be of good courage.

13     For I the Lord thy God will hold thy right hand, saying unto thee, Fear not; I will help thee.

9۔ فلپیوں 2باب 12(کام) تا 16 آیات

12۔۔۔۔ ڈرتے اور کانپتے ہوئے اپنی نجات کے کام کئے جاؤ۔

13۔ کیونکہ جو تم میں نیت اور عمل دونوں کو اپنے نیک ارادہ کو انجام دینے کے لئے پیدا کرتا ہے وہ خدا ہے۔

14۔ سب کام شکایت اور تکرار بغیر کیا کرو۔

15۔ تاکہ تم بے عیب اور بھولے ہو کر ٹیڑھے اور کج رو لوگوں میں خدا کے بے نقص فرزند بنے رہو (جن کے درمیان تم دنیا میں چراغوں کی طرح دکھائی دیتے ہو۔

16۔ اور زندگی کا کلام پیش کرتے ہو) تاکہ مسیح کے دن مجھے فخر ہو کہ نہ میری دوڑ دھوپ بے فائدہ ہوئی نہ میری محنت اکارت ہوئی۔

9. Philippians 2 : 12 (work)-16

12     …work out your own salvation with fear and trembling.

13     For it is God which worketh in you both to will and to do of his good pleasure.

14     Do all things without murmurings and disputings:

15     That ye may be blameless and harmless, the sons of God, without rebuke, in the midst of a crooked and perverse nation, among whom ye shine as lights in the world;

16     Holding forth the word of life; that I may rejoice in the day of Christ, that I have not run in vain, neither laboured in vain.

10۔ افسیوں 2باب10 آیت

10۔کیونکہ ہم اْسی کی کاریگری ہیں اور مسیح یسوع میں اْن نیک اعمال کے واسطے مخلوق ہوئے جن کو خدانے پہلے سے ہمارے کرنے کے لئے تیار کیا تھا۔

10. Ephesians 2 : 10

10     For we are his workmanship, created in Christ Jesus unto good works, which God hath before ordained that we should walk in them.

11۔ 1 یوحنا 2 باب24، 25 آیات

24۔ جو تم نے شروع سے سنا ہے وہی تم میں قائم رہے۔ جو تم نے شروع سے سنا ہے اگر وہ تم میں قائم رہے تو تم بھی بیٹے اور باپ میں قائم رہو گے۔

25۔ اور جس کا اْس نے ہم سے وعدہ کیا ہے وہ ہمیشہ کی زندگی ہے۔

11. I John 2 : 24, 25

24     Let that therefore abide in you, which ye have heard from the beginning. If that which ye have heard from the beginning shall remain in you, ye also shall continue in the Son, and in the Father.

25     And this is the promise that he hath promised us, even eternal life.



سائنس اور صح


1۔ 550 :5۔7

خدا زندگی یا ذہانت ہے جو جانوروں اور اس کے ساتھ ساتھ انسانوں کی بھی شناخت اور انفرادیت کو تشکیل دیتا اور محفوظ رکھتا ہے۔

1. 550 : 5-7

God is the Life, or intelligence, which forms and preserves the individuality and identity of animals as well as of men.

2۔ 487 :27۔1

یہ ادراک کہ زندگی خدا، روح ہے، زندگی کی لازوال حقیقت پر، اْس کی قدرت اور لافانیت پر یقین رکھنے سے ہمارے ایام کو دراز کرتا ہے۔

ایمان ایک سمجھے گئے اصول پر انحصار کرتا ہے۔ یہ اصول بیمار کو شفایاب کرتا ہے اور برداشت اور چیزوں کے ہم آہنگ مراحل ظاہر کرتاہے۔

2. 487 : 27-1

The understanding that Life is God, Spirit, lengthens our days by strengthening our trust in the deathless reality of Life, its almightiness and immortality.

This faith relies upon an understood Principle. This Principle makes whole the diseased, and brings out the enduring and harmonious phases of things.

3۔ 258 :13۔15، 16۔18، 21۔27

اس کی وسعت اورلامحدود بنیادوں سے اونچی سے اونچی پرواز کو بڑھاتے ہوئے خدا انسان میں لامحدود خیال کو ہمیشہ ظاہر کرتا ہے۔۔۔۔ ہم حقیقی الٰہی صورت اور شبیہ سے متعلق اتنا نہیں جانتے جتنا ہم خدا سے متعلق جانتے ہیں۔

انسانی قابلیتیں اس تناسب سے بڑھائی یا کامل کی جاتی ہیں جس سے انسان خدا اور انسان سے متعلق حقیقی نظریہ حاصل کرتا ہے۔

بشر کو روحانی انسان کی اوراْس کے خیالات کی لامحدود وسعت کی بہت نامکمل سمجھ ہے۔ابدی زندگی اْس سے تعلق رکھتی ہے۔

3. 258 : 13-15, 16-18, 21-27

God expresses in man the infinite idea forever developing itself, broadening and rising higher and higher from a boundless basis. … We know no more of man as the true divine image and likeness, than we know of God.

The human capacities are enlarged and perfected in proportion as humanity gains the true conception of man and God.

Mortals have a very imperfect sense of the spiritual man and of the infinite range of his thought. To him belongs eternal Life.

4۔ 265 :10۔15

ہستی کا سائنسی فہم، مادے کی روح کو ترک کرتے ہوئے، کسی صورت خدا میں انسان کے انجزاب اور اْس کی شناخت کے گمشدگی کی تجاویز نہیں دیتا، لیکن انسان پر ایک وسیع انفرادیت، اعمال اور خیال کا کھْلا دائرہ،مزید قیمتی محبت، ایک بلند اور مزید مستقل امن عطاکرتا ہے۔

4. 265 : 10-15

This scientific sense of being, forsaking matter for Spirit, by no means suggests man’s absorption into Deity and the loss of his identity, but confers upon man enlarged individuality, a wider sphere of thought and action, a more expansive love, a higher and more permanent peace.

5۔ 317 :16۔20

انسان کی انفرادیت کم ٹھوس نہیں ہے کیونکہ یہ روحانی ہے اور کیونکہ اْس کی زندگی مادے کے رحم و کرم پر نہیں ہے۔ خود کی روحانیت انفرادیت کا ادراک انسان کو مزید مزید حقیقی، سچائی میں مزید مضبوط بناتا ہے اور اْسے گناہ، بیماری اور موت کو فتح کرنے کے قابل بناتا ہے۔

5. 317 : 16-20

The individuality of man is no less tangible because it is spiritual and because his life is not at the mercy of matter. The understanding of his spiritual individuality makes man more real, more formidable in truth, and enables him to conquer sin, disease, and death.

6۔ 128 :14۔19

ہستی کی سائنس کا علم انسان کی قابلیت کے فن اور امکانات کو فروغ دیتا ہے۔ فانی لوگوں کو بلند اور وسیع ریاست تک رسائی دیتے ہوئے یہ سوچ کے ماحول کو بڑھاتا ہے۔ یہ سوچنے والے کو اْس کے ادراک اور بصیرت کی مقامی ہوا میں پروان چڑھاتا ہے۔

6. 128 : 14-19

A knowledge of the Science of being develops the latent abilities and possibilities of man. It extends the atmosphere of thought, giving mortals access to broader and higher realms. It raises the thinker into his native air of insight and perspicacity.

7۔ 167 :6۔7، 17۔31

ہم الٰہی سائنس میں زندگی کوصرف تب سمجھتے ہیں جب ہم جسمانی حس سے اوپر زندگی گزارتے ہیں اور اِسے درست کرتے ہیں۔

ایک خدا کو ماننے اور خود کو روح کی قوت کے لئے دستیاب کرنے کے لئے آپ کو خدا کے ساتھ بے حد محبت رکھنا ہوگی۔

”جسم روح کے خلاف خواہش کرتا ہے۔“جسم اور روح اس قدر کسی کام میں یکجا نہیں ہو سکتے جتنا نیکی بدی کے ساتھ متفق ہو سکتی ہے۔ ساکن ہونا اور درمیانی راہ اپنانا یا روح اور مادے، سچائی اور غلطی سے اکٹھے کام کرنے کی توقع رکھنا عقلمندی نہیں۔ راہ ہے مگر صرف ایک، یعنی، خدا اور اْس کا خیال، جو روحانی ہستی کی جانب راہنمائی کرتا ہے۔ بدن پر سائنسی حکمرانی الٰہی عقل کے وسیلہ حاصل ہونی چاہئے۔ کسی دوسرے طریقے سے بدن پر قابو پانا ممکن ہے۔ اِس بنیادی نقطہ پر، کمزورقدامت پسندی بالکل ناقابل تسلیم ہے۔ سچائی پر صرف انتہائی بھروسے کے وسیلہ ہی سائنسی شفائیہ قوت کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔

7. 167 : 6-7, 17-31

We apprehend Life in divine Science only as we live above corporeal sense and correct it.

To have one God and avail yourself of the power of Spirit, you must love God supremely.

The “flesh lusteth against the Spirit.” The flesh and Spirit can no more unite in action, than good can coincide with evil. It is not wise to take a halting and half-way position or to expect to work equally with Spirit and matter, Truth and error. There is but one way — namely, God and His idea — which leads to spiritual being. The scientific government of the body must be attained through the divine Mind. It is impossible to gain control over the body in any other way. On this fundamental point, timid conservatism is absolutely inadmissible. Only through radical reliance on Truth can scientific healing power be realized.

8۔ 483: 30۔32

کسی شخص کو اپنا مشن بغیر بزدلی یا منافقت کے پورا کرنا چاہئے کیونکہ بہتر کارکردگی کے لئے کام بے غرضی سے کیا جانا چاہئے۔

8. 483 : 30-32

One must fulfil one’s mission without timidity or dissimulation, for to be well done, the work must be done unselfishly.

9۔ 514 :10۔18

اخلاقی حوصلہ ”یہوداہ کے قبیلے کا ببّر“، ذہنی سلطنت کا بادشاہ ہے۔ یہ جنگل میں آزاد اور بے خوف گھومتا ہے۔ کھلے میدانوں میں یہ ساکن بیٹھا رہتا ہے یا ”ہری چراہگاہوں میں۔۔۔چشموں کے پاس“ یہ آرام کرتا ہے۔ الٰہی فراست سے انسانی میں تشبیہی ترسیل میں، جانفشانی، چالاکی اور ثابت قدمی ”ہزاروں پہاڑوں کے چوپاؤں“ کی مانند تصور کئے جاتے ہیں۔ وہ ٹھوس حل ہونے والا سامان لیتے ہیں اور بڑے مقاصد کے لئے رفتار بڑھاتے ہیں۔

9. 514 : 10-18

Moral courage is “the lion of the tribe of Juda,” the king of the mental realm. Free and fearless it roams in the forest. Undisturbed it lies in the open field, or rests in “green pastures, … beside the still waters.” In the figurative transmission from the divine thought to the human, diligence, promptness, and perseverance are likened to “the cattle upon a thousand hills.” They carry the baggage of stern resolve, and keep pace with highest purpose.

10۔ 28 :32۔6

معاشرے میں حیوانی حوصلہ افزائی بہت ہے اور اخلاقی حوصلہ افزائی نہیں ہے۔ مسیحیوں کو گھر میں اور باہر غلط چیز کے خلاف ہاتھ اْٹھانے چاہئیں۔ انہیں خود کے اور دوسروں کے گناہ کے خلاف محاذ آرائی کرنی چاہئے، اوراپنا مقصد حاصل ہونے تک یہ جنگ جاری رکھنی چاہئے۔ اگر وہ ایمان رکھتے ہیں تو انہیں شادمانی کا تاج نصیب ہوگا۔

10. 28 : 32-6

There is too much animal courage in society and not sufficient moral courage. Christians must take up arms against error at home and abroad. They must grapple with sin in themselves and in others, and continue this warfare until they have finished their course. If they keep the faith, they will have the crown of rejoicing.

11۔ 97 :22۔25، 29۔3

سچ بولنے کے لئے ہمت کی ضرورت ہوتی ہے؛ کیونکہ سچائی جتنی زیادہ اپنی آواز بلند کرتی ہے، غلطی کی چیخ اْتنی ہی اونچی ہوگی، جب تک کہ فراموشی میں اِس کی غیر واضح آواز کو ہمیشہ کے لئے خاموش نہ کر دیا جائے۔

مسیحت اْس زندگی کو جو سچائی ہے، اور اْس سچائی کو جو زندگی ہے بیماروں کو شفا دینے اور غلطی کو دور کرنے کے رسولی کام کے وسیلہ دوبارہ ظاہر کر رہی ہے۔ اْن ایذاؤں کے لئے زمین پر کوئی معاوضہ نہیں ہے جو مسیحت میں نئے قدموں کو ملتی ہیں؛ لیکن فانی مخالفت سے اوپر وجودیت کی بلندی میں اور الٰہی محبت کے تحفے میں تکلیف اٹھانے والوں کوروحانی اجر کی یقین دہانی ملتی ہے۔

11. 97 : 22-25, 29-3

It requires courage to utter truth; for the higher Truth lifts her voice, the louder will error scream, until its inarticulate sound is forever silenced in oblivion.

Christianity is again demonstrating the Life that is Truth, and the Truth that is Life, by the apostolic work of casting out error and healing the sick. Earth has no repayment for the persecutions which attend a new step in Christianity; but the spiritual recompense of the persecuted is assured in the elevation of existence above mortal discord and in the gift of divine Love.

12۔ 254 :2۔6، 10۔12

وہ لوگ مستحکم ہوتے ہیں جو دھیان رکھتے ہوئے اور دعا کرتے ہوئے ”دوڑتے ہیں اور تھک نہیں سکتے۔۔۔ چلتے ہیں لیکن ماندہ نہیں ہوسکتے“، جو تیزی کے ساتھ اچھائی حاصل کرتے ہیں اور اپنی اس حالت کو برقرار رکھتے ہیں، یا دھیرے دھیرے حاصل کرتے ہیں اور نہ امیدی کو جنم نہیں لینے دیتے۔

جب ہم صبر کے ساتھ خدا کا انتظار کرتے اور راستبازی کے ساتھ سچائی کی تلاش کرتے ہیں تو وہ ہماری راہ میں راہنمائی کرتا ہے۔

12. 254 : 2-6, 10-12

Individuals are consistent who, watching and praying, can “run, and not be weary; … walk, and not faint,” who gain good rapidly and hold their position, or attain slowly and yield not to discouragement.

When we wait patiently on God and seek Truth righteously, He directs our path.

13۔ 326 :16۔22

صحیح ڈھنگ سے زندگی گزارنے کا مقصد اور غرض اب حاصل کئے جا سکتے ہیں۔یہ فتح کیا گیا نقطہ آپ نے ویسے ہی شروع کیا جیسے یہ کرنا چاہئے تھا۔ آپ نے کرسچن سائنس کا عددی جدول شروع کیا ہے، اور کچھ نہیں ہو گا ماسوائے غلط نیت آپ کی ترقی میں رکاوٹ بنے گی۔ سچے مقاصد کے ساتھ کام کرنے اور دعا کرنے سے آپ کا باپ آپ کے لئے راستہ کھول دے گا۔”کس نے تمہیں حق کے ماننے سے روک دیا؟“

13. 326 : 16-22

The purpose and motive to live aright can be gained now. This point won, you have started as you should. You have begun at the numeration-table of Christian Science, and nothing but wrong intention can hinder your advancement. Working and praying with true motives, your Father will open the way. “Who did hinder you, that ye should not obey the truth?”

14۔ 262 :10۔23

ہمیں مادے میں سچائی اور زندگی کو تلاش کرنے کے لئے ہمارے کمزور اضطراب کو الٹانا چاہئے، اور مادی حواس کی شہادت سے اونچا، فانی خیال سے خدا کے لافانی خیال تک اونچا اٹھنا چاہئے۔یہ واضح تراور بلند تر خیالات خدا کے بندے کو اپنی ہستی کے احاطے اور مکمل مرکز تک پہنچنے کے لئے حوصلہ افزائی دیتے ہیں۔

ایوب نے کہا، ”میں نے تیری خبر کان سے سنی تھی، پر اب میری آنکھ تجھے دیکھتی ہے۔“ بشر ایوب کے خیالات کو پھیلائیں گے، جب مادے کی فرضی تکلیف اور خوشی سبقت رکھنا ترک کرتی ہے۔ پھر وہ زندگی اور خوشی، دْکھ اور شادمانی کے جھوٹے اندازے لگائیں گے، اور وہ بے غرضی، صبر سے کام کرنے اور اْس سب کو فتح کرتے ہوئے جو خدا کی مانند نہیں ہے محبت کی نعمت حاصل کریں گے۔

14. 262 : 10-23

We must reverse our feeble flutterings — our efforts to find life and truth in matter — and rise above the testimony of the material senses, above the mortal to the immortal idea of God. These clearer, higher views inspire the God-like man to reach the absolute centre and circumference of his being.

Job said: “I have heard of Thee by the hearing of the ear: but now mine eye seeth Thee.” Mortals will echo Job’s thought, when the supposed pain and pleasure of matter cease to predominate. They will then drop the false estimate of life and happiness, of joy and sorrow, and attain the bliss of loving unselfishly, working patiently, and conquering all that is unlike God.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████