اتوار 19 اپریل، 2020 |

اتوار 19 اپریل، 2020



مضمون۔ کفارے کاعقیدہ

SubjectDoctrine of Atonement

سنہری متن:سنہری متن: 2 تواریخ 34باب27 آیت

’’چونکہ تیرا دل موم ہوگیا اور تْو نےخدا کے حضور عاجزی کی جب تْو نے اْس کی وہ باتیں سنیں جو اْس نے اِس مقام اور اِس کے باشندوں کے خلاف کہی ہیں اور اپنے آپ کو میرے حضور خاکسار بنایا اور اپنے کپڑے پھاڑ کر میرے آگے رویا اس لئے میں نے بھی تیری سْن لی ہے، خداوند فرماتا ہے۔‘‘



Golden Text: Psalm 17 : 15

Because thine heart was tender, and thou didst humble thyself before God, when thou heardest his words, and humbledst thyself before me, and didst rend thy clothes, and weep before me; I have even heard thee, saith the Lord.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: ایوب 22باب 21تا 23، 25 تا 29 آیات


21۔ اْس سے ملا رہ تو سلامت رہے گا اور اِس سے تیرا بھلا ہوگا۔

22۔ مَیں تیری منت کرتا ہوں کہ شریعت کو اْس کی زبانی قبول کر اور اْس کی باتوں کو اپنے دل میں رکھ۔

23۔ اگر تو قادر مطلق کی طرف پھرے تو بحال کیا جائے گا۔ بشرطیکہ تو ناراستی کو اپنے خیموں سے دور کر دے۔

25۔ تب قادر مطلق تیرا خزانہ اور تیرے لئے بیش قیمت چاندی ہوگا۔

26۔ کیونکہ تب ہی تْو قادر مطلق میں مسرور رہے گا اور خدا کی طرف اپنا منہ اٹھائے گا۔

27۔ تْو اْس سے دعا کرے گا اور وہ تیری سنے گا اور تو اپنی منتیں پوری کرے گا۔

28۔ جس بات کو تْو کہے گا وہ تیرے لئے ہو جائے گی اور وہ تیری راہوں کو روشن کرے گا۔

29۔ جب وہ پست کریں گے تْو کہے گا بلندی ہوگی۔ اور وہ حلیم آدمی کو بچائے گا۔

Responsive Reading: Job 22 : 21-23, 25-29

21.     Acquaint now thyself with him, and be at peace: thereby good shall come unto thee.

22.     Receive, I pray thee, the law from his mouth, and lay up his words in thine heart.

23.     If thou return to the Almighty, thou shalt be built up, thou shalt put away iniquity far from thy tabernacles.

25.     Yea, the Almighty shall be thy defence, and thou shalt have plenty of silver.

26.     For then shalt thou have thy delight in the Almighty, and shalt lift up thy face unto God.

27.     Thou shalt make thy prayer unto him, and he shall hear thee, and thou shalt pay thy vows.

28.     Thou shalt also decree a thing, and it shall be established unto thee: and the light shall shine upon thy ways.

29.     When men are cast down, then thou shalt say, There is lifting up; and he shall save the humble person.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ 1تواریخ 28 باب9 (جان لے) (تا؛) آیت

9۔۔۔۔اپنے باپ کے خدا کو پہچان اور پورے دل اور روح کی مستعدی سے اْس کی عبادت کر کیونکہ خداوند سب دلوں کو جانچتا ہے اور جو کچھ خیال میں آتا ہے اْسے پہچانتا ہے۔ اگر تْو اْس کو ڈھونڈے تو وہ تجھ کو مل جائے گا۔

1. I Chronicles 28 : 9 (know) (to ;)

9     …know thou the God of thy father, and serve him with a perfect heart and with a willing mind: for the Lord searcheth all hearts, and understandeth all the imaginations of the thoughts: if thou seek him, he will be found of thee;

2۔ زبور 63: 1تا3، 6، 7 آیات

1۔ اے خدا! تْو میرا خدا ہے۔ مَیں دل سے تیرا طالب ہوں گا۔ خشک اور پیاسی زمین میں جہاں پانی نہیں، میری جان تیری پیاسی اور میرا جسم تیرا مشتاق ہے۔

2۔ اِس طرح میں نے مقدس میں تجھ پر نگاہ کی تاکہ تیری قدرت اور حشمت کو دیکھوں۔

3۔ کیونکہ تیری شفقت زندگی سے بہتر ہے۔ میرے ہونٹ تیری تعریف کریں گے۔

6۔ جب مَیں بستر پر تجھے یاد کروں گا اور رات کے ایک ایک پہر میں تجھ پر دھیان کروں گا۔

7۔ اِس لئے کہ تْو میرا مدد گار ہے اور مَیں تیرے پروں کے سایہ میں خوشی مناؤں گا۔

2. Psalm 63 : 1-3, 6, 7

1     O God, thou art my God; early will I seek thee: my soul thirsteth for thee, my flesh longeth for thee in a dry and thirsty land, where no water is;

2     To see thy power and thy glory, so as I have seen thee in the sanctuary.

3     Because thy lovingkindness is better than life, my lips shall praise thee.

6     When I remember thee upon my bed, and meditate on thee in the night watches.

7     Because thou hast been my help, therefore in the shadow of thy wings will I rejoice.

3۔ میکاہ 6 باب8 (اِس کے سوا کیا) آیت

8۔۔۔۔خداوند تجھ سے اِس کے سوا کیا چاہتا ہے کہ تْو انصاف کرے اور رحمدلی کو عزیز رکھے اور اپنے خدا کے حضور فروتنی سے چلے؟

3. Micah 6 : 8 (and what)

8     …and what doth the Lord require of thee, but to do justly, and to love mercy, and to walk humbly with thy God?

4۔ شریر اپنے تکبر میں کہتا ہے کہ وہ باز پْرس نہیں کرے گا۔ اْس کا خیال سر اسر یہی ہے کہ کوئی خدا نہیں۔

5۔ اْس کی راہیں ہمیشہ اْستوار ہیں۔

6۔ وہ اپنے دل میں کہتا ہے میں جنبش نہیں کھانے کا۔ پشت در پشت مجھ پر کبھی مصیبت نہ آئے گی۔

4. Psalm 10 : 4, 5 (to ;), 6

4     The wicked, through the pride of his countenance, will not seek after God: God is not in all his thoughts.

5     His ways are always grievous;

6     He hath said in his heart, I shall not be moved: for I shall never be in adversity.

5۔ زبور 50: 22 (تا دوسرا،) آیت

22۔ اب اے خدا کو بھولنے والو! اِسے سوچ لو۔

5. Psalm 50 : 22 (to 2nd ,)

22     Now consider this, ye that forget God,

6۔ یعقوب 4 باب 1تا4، 6تا 8، 10 آیات

1۔ تم میں لڑائیاں اور جھگڑے کہاں سے آگئے؟ کیا اْن خواہشوں سے نہیں جو تمہارے اعضامیں فساد کرتی ہیں؟

2۔ تم خواہش کرتے ہو اور تمہیں ملتا نہیں۔ خون اور حسد کرتے ہو اور کچھ حاصل نہیں کرسکتے۔ تم جھگڑتے اور لڑتے ہو۔ تمہیں اِس لئے نہیں ملتا کہ مانگتے نہیں۔

3۔ تم مانگتے ہو اور پاتے نہیں اِس لئے کہ بْری نیت سے مانگتے ہو تاکہ اپنی عیش و عشرت سے خرچ کرو۔

4۔ اے زنا کرنے والیِو! کیا تمہیں نہیں معلوم کہ دنیا سے دوستی رکھنا خدا سے دشمنی کرنا ہے؟ پس جو کوئی دنیا کا دوست بننا چاہتا ہے وہ اپنے آپ کو خدا کا دشمن بناتا ہے۔

6۔ وہ تو زیادہ توفیق بخشتا ہے۔ اِس لئے یہ آیا ہے کہ خدا مغروروں کا مقابلہ کرتا ہے مگر فروتنوں کو توفیق بخشتا ہے۔

7۔ پس خدا کے تابع ہو جاؤ اور ابلیس کا مقابلہ کرو تو وہ تم سے بھاگ جائے گا۔

8۔ خدا کے نزدیک جاؤ تو وہ تمہارے نزدیک آئے گا۔ اے گناہگارو! اپنے ہاتھوں کو صاف کرو اور اے دو دلو! اپنے دلوں کو پاک کرو۔

10۔خدا کے سامنے فروتنی کرو۔ وہ تمہیں سر بلند کرے گا۔

6. James 4 : 1-4, 6-8, 10

1     From whence come wars and fightings among you? come they not hence, even of your lusts that war in your members?

2     Ye lust, and have not: ye kill, and desire to have, and cannot obtain: ye fight and war, yet ye have not, because ye ask not.

3     Ye ask, and receive not, because ye ask amiss, that ye may consume it upon your lusts.

4     Ye adulterers and adulteresses, know ye not that the friendship of the world is enmity with God? whosoever therefore will be a friend of the world is the enemy of God.

6     But he giveth more grace. Wherefore he saith, God resisteth the proud, but giveth grace unto the humble.

7     Submit yourselves therefore to God. Resist the devil, and he will flee from you.

8     Draw nigh to God, and he will draw nigh to you. Cleanse your hands, ye sinners; and purify your hearts, ye double minded.

10     Humble yourselves in the sight of the Lord, and he shall lift you up.

7۔ مرقس 1باب1آیت

1۔ یسوع مسیح ابن خداکی خوشخبری کا شروع۔

7. Mark 1 : 1

1     The beginning of the gospel of Jesus Christ, the Son of God;

8۔ متی 5 باب1تا3 ،5، 6 آیات

1۔ وہ اْس بھیڑ کو دیکھ کر پہاڑ پر چڑھ گیا تو اْس کے شاگرد اْس کے پاس آئے۔

2۔ اور وہ اپنی زبان کھول کر اْن کو یوں تعلیم دینے لگا۔

3۔ مبارک ہیں وہ جو دل کے غریب ہیں کیونکہ آسمان کی بادشاہی اْن ہی کی ہے۔

5۔ مبارک ہیں وہ جو حلیم ہیں کیونکہ وہ زمین کے وارث ہوں گے۔

6۔ مبارک ہیں وہ جو راستبازی کے بھوکے اور پیاسے ہیں کیونکہ وہ آسودہ ہوں گے۔

8. Matthew 5 : 1-3, 5, 6

1     And seeing the multitudes, he went up into a mountain: and when he was set, his disciples came unto him:

2     And he opened his mouth, and taught them, saying,

3     Blessed are the poor in spirit: for theirs is the kingdom of heaven.

5     Blessed are the meek: for they shall inherit the earth.

6     Blessed are they which do hunger and thirst after righteousness: for they shall be filled.

9۔ لوقا 18 باب9 تا27 آیات

9۔ پھر اُس نے بعض لوگوں سے جو اپنے پر بھروسہ رکھتے تھے کہ ہم راستباز ہیں اور باقی آدمیوں کو ناچیز جانتے تھے یہ تمثیل کہی۔

10۔ کہ دو شخص ہیکل میں دعا کرنے گئے۔ ایک فریسی۔ دوسرا محصول لینے والا۔

11۔ فریسی کھڑا ہو کر اپنے جی میں یوں دعا کرنے لگا کہ اے خدا! مَیں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ باقی آدمیوں کی طرح ظالم بے انصاف زناکار یا اِس محصول لینے والے کی مانند نہیں ہوں۔

12۔ مَیں ہفتہ میں دو بار روزہ رکھتا اور اپنی ساری آمدنی پر دہ یکی دیتا ہوں۔

13۔ لیکن محصُول لینے والے نے دور کھڑے ہو کر اتنا بھی نہ چاہا کہ آسمان کی طرف آنکھ اٹھائے بلکہ چھاتی پیٹ پیٹ کر کہا اے خدا! مجھ گنہگار پر رحم کر۔

14۔ مَیں تم سے کہتا ہُوں کہ یہ شخص دوسرے کی نسبت راستباز ٹھہر کر اپنے گھر گیا کیونکہ جو کوئی اپنے آپ کو بڑا بنائے گا وہ چھوٹا کیا جائے گا اور جو اپنے آپ کو چھوٹا بنائے گا وہ بڑا کیا جائے گا۔

15۔ پھر لوگ اپنے چھوٹے بچوں کو بھی اُس کے پاس لانے لگے تاکہ وہ اُن کو چھوئے اور شاگردوں نے دیکھ کر ان کو جھڑکا۔

16۔ مگر یسوع نے بچوں کو اپنے پاس بلایا اور کہا کہ بچوں کو میرے پاس آنے دو اور انہیں منع نہ کرو کیونکہ خدا کی بادشاہی ایسوں ہی کی ہے۔

17۔ مَیں تُم سے سچ کہتا ہوں کہ جو کوئی خدا کی بادشاہی کو بچے کی طرح قبول نہ کرے وہ اُس میں ہرگز داخل نہ ہوگا۔

18۔ پھر کسی سردارنے اُس سے یہ سوال کیا کہ اے نیک استاد! مَیں کیا کروں تاکہ ہمیشہ کی زندگی کا وارث بنوں؟

19۔ یسوع نے اُس سے کہا تو مجھے کیوں نیک کہتا ہے؟ کوئی نیک نہیں مگر ایک یعنی خدا۔

20۔ تو حکموں کو تو جانتا ہے۔ زنا نہ کر۔ خون نہ کر۔ چوری نہ کر۔ جھوٹی گواہی نہ دے۔ اپنے باپ کی اور ماں کی عزت کر۔

21۔ اُس نے کہا مَیں نے لڑکپن سے اِن سب پر عمل کیا ہے۔

22۔ یسوع نے یہ سن کر اُس سے کہا ابھی تک تجھ میں ایک بات کی کمی ہے۔ اپنا سب کچھ بیچ کر غریبوں کو بانٹ دے۔ تجھے آسمان پر خزانہ ملے گا اور آ کر میرے پیچھے ہو لے۔

23۔ یہ سن کر وہ بہت غمگین ہوا کیونکہ بڑا دولتمند تھا۔

24۔ یسوع نے اُس کو دیکھ کر کہا کہ دولتمندوں کا خدا کی بادشاہی میں داخل ہونا کیسا مشکل ہے!

25۔ کیونکہ اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے نکل جانا اِس سے آسان ہے کہ دولتمند خُدا کی بادشاہی میں داخل ہو۔

26۔ سننے والوں نے کہا تو پھر کون نجات پا سکتا ہے؟

27۔ اُس نے کہا جو انسان سے نہیں ہو سکتا وہ خدا سے ہو سکتا ہے۔

9. Luke 18 : 9-27

9     And he spake this parable unto certain which trusted in themselves that they were righteous, and despised others:

10     Two men went up into the temple to pray; the one a Pharisee, and the other a publican.

11     The Pharisee stood and prayed thus with himself, God, I thank thee, that I am not as other men are, extortioners, unjust, adulterers, or even as this publican.

12     I fast twice in the week, I give tithes of all that I possess.

13     And the publican, standing afar off, would not lift up so much as his eyes unto heaven, but smote upon his breast, saying, God be merciful to me a sinner.

14     I tell you, this man went down to his house justified rather than the other: for every one that exalteth himself shall be abased; and he that humbleth himself shall be exalted.

15     And they brought unto him also infants, that he would touch them: but when his disciples saw it, they rebuked them.

16     But Jesus called them unto him, and said, Suffer little children to come unto me, and forbid them not: for of such is the kingdom of God.

17     Verily I say unto you, Whosoever shall not receive the kingdom of God as a little child shall in no wise enter therein.

18     And a certain ruler asked him, saying, Good Master, what shall I do to inherit eternal life?

19     And Jesus said unto him, Why callest thou me good? none is good, save one, that is, God.

20     Thou knowest the commandments, Do not commit adultery, Do not kill, Do not steal, Do not bear false witness, Honour thy father and thy mother.

21     And he said, All these have I kept from my youth up.

22     Now when Jesus heard these things, he said unto him, Yet lackest thou one thing: sell all that thou hast, and distribute unto the poor, and thou shalt have treasure in heaven: and come, follow me.

23     And when he heard this, he was very sorrowful: for he was very rich.

24     And when Jesus saw that he was very sorrowful, he said, How hardly shall they that have riches enter into the kingdom of God!

25     For it is easier for a camel to go through a needle’s eye, than for a rich man to enter into the kingdom of God.

26     And they that heard it said, Who then can be saved?

27     And he said, The things which are impossible with men are possible with God.

10۔ یوحنا 10 باب 23تا30 آیات

23۔ اور یسوع ہیکل کے اندر سلیمانی برآمدے میں ٹہل رہا تھا۔

24۔ پس یہودیوں نے اْس کے گرد جمع ہو کر اْس سے کہا تْو کب تک ہمارے دلوں کو ڈانوانڈول رکھے گا؟ اگر تْو مسیح ہے تو ہم سے صاف کہہ دے۔

25۔ یسوع نے اْنہیں جواب دیا کہ مَیں نے تو تم سے کہہ دیا مگر تم یقین نہیں کرتے۔ جو کام مَیں اپنے باپ کے نام سے کرتا ہوں وہی میرے گواہ ہیں۔

26۔ لیکن تم اِس لئے یقین نہیں کرتے کہ میری بھیڑوں میں سے نہیں ہو۔

27۔ میری بھیڑیں میری آواز سنتی ہیں اور میں انہیں جانتا ہوں اور وہ میرے پیچھے پیچھے چلتی ہیں۔

28۔ اور مَیں انہیں ہمیشہ کی زندگی بخشتا ہوں اور وہ ابد تک کبھی ہلاک نہ ہوں گی اور کوئی انہیں میرے ہاتھ سے چھین نہ لے گا۔

29۔ میرا باپ جس نے مجھے وہ دیں ہیں سب سے بڑا ہے اور کوئی انہیں باپ کے ہاتھ سے چھین نہیں سکتا۔

30۔ مَیں اور باپ ایک ہیں۔

10. John 10 : 23-30

23     And Jesus walked in the temple in Solomon’s porch.

24     Then came the Jews round about him, and said unto him, How long dost thou make us to doubt? If thou be the Christ, tell us plainly.

25     Jesus answered them, I told you, and ye believed not: the works that I do in my Father’s name, they bear witness of me.

26     But ye believe not, because ye are not of my sheep, as I said unto you.

27     My sheep hear my voice, and I know them, and they follow me:

28     And I give unto them eternal life; and they shall never perish, neither shall any man pluck them out of my hand.

29     My Father, which gave them me, is greater than all; and no man is able to pluck them out of my Father’s hand.

30     I and my Father are one.

11۔ یوحنا 14 باب10 (باپ جو) آیت

10۔ ۔۔۔ باپ مجھ میں رہ کر اپنے کام کرتا ہے۔

11. John 14 : 10 (the Father that)

10     …the Father that dwelleth in me, he doeth the works.

12۔ یوحنا 8 باب 29 آیت

29۔ اور جس نے مجھے بھیجا ہے وہ میرے ساتھ ہے۔ اْس نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا کیونکہ میں ہمیشہ وہی کام کرتا ہوں جو اْسے پسند آتے ہیں۔

12. John 8 : 29

29     And he that sent me is with me: the Father hath not left me alone; for I do always those things that please him.



سائنس اور صح


1۔ 316 :20۔23

مسیح ایک ناقابل تسخیر انسان پیش کرتا ہے جسے روح خلق کرتی، بناتی اور حکومت کرتی ہے۔اْس خدا یعنی اْس کے الٰہی اصول کے ساتھ انسان کی شراکت کو مسیح بیان کرتا ہے جو انسان کو پوری دنیا پر اختیار دیتا ہے۔

1. 316 : 20-23

Christ presents the indestructible man, whom Spirit creates, constitutes, and governs. Christ illustrates that blending with God, his divine Principle, which gives man dominion over all the earth.

2۔ 70 :7۔9

انسان خدا کبھی نہیں ہوتا بلکہ روحانی انسان خدا کی شبیہ پر بنا یا گیا اور وہ خدا کو منعکس کرتا ہے۔سائنسی عکس میں انااور باپ غیر منفک ہیں۔

2. 70 : 7-9

Man is never God, but spiritual man, made in God's likeness, reflects God. In this scientific reflection the Ego and the Father are inseparable.

3۔ 588 :9۔19

مَیں، یا انا۔ الٰہی اصول؛ روح، جان؛ غیر مادی، غیر منطقی، لافانی اور ابدی عقل۔

یہاں صرف ایک میں یا ہم ہیں، صرف ایک الٰہی اصول یا عقل ہے جو سب وجود رکھنے والے مرد اور عورتوں پر حکمرانی کرتا ہے جو اپنے انفرادی کردار میں ہمیشہ سے جوں کے توں رہتے ہیں، تاہم وہ صرف ایک اصول کے ماتحت ہوتے ہیں۔ خدا کی تخلیق کی تمام تر چیزیں ایک عقل کی عکاسی کرتی ہیں، اور جو کوئی اْس ایک عقل کی عکاسی نہیں کرتا وہ جھوٹا اور غلط ہے، حتیٰ کہ یہ عقیدہ بھی کہ زندگی، مواد اور ذہانت مادی اور ذہنی دونوں ہیں۔

3. 588 : 9-19

I, or Ego. Divine Principle; Spirit; Soul; incorporeal, unerring, immortal, and eternal Mind.

There is but one I, or Us, but one divine Principle, or Mind, governing all existence; man and woman unchanged forever in their individual characters, even as numbers which never blend with each other, though they are governed by one Principle. All the objects of God's creation reflect one Mind, and whatever reflects not this one Mind, is false and erroneous, even the belief that life, substance, and intelligence are both mental and material.

4۔ 281 :14۔17

ایک خودی، ایک عقل یا روح جسے خدا کہا جاتا ہے لامتناہی انفرادیت ہے، جو سب روپ اور خوبصورتی دستیاب کرتا ہے اور جو انفرادی روحانی انسان اور چیزوں میں حقیقت اور الوہیت کی عکاسی کرتا ہے۔

4. 281 : 14-17

The one Ego, the one Mind or Spirit called God, is infinite individuality, which supplies all form and comeliness and which reflects reality and divinity in individual spiritual man and things.

5۔ 250 :6۔13

فانی وجود یت ایک خواب ہے؛ فانی وجودیت کی کوئی حقیقی ہستی نہیں ہے، بلکہ یہ کہا جاتا ہے ”یہ انا ہے۔“ روح ایک خودی ہے جو خواب کبھی نہیں دیکھتی بلکہ سب باتوں کو سمجھتی ہے؛ جو کبھی غلطی نہیں کرتی اور ہمیشہ بیدار رہتی ہے، جو کبھی ایمان نہیں رکھتی بلکہ جانتی ہے، جو کبھی پیدا نہیں ہوتی اور نہ مرتی ہے۔ روحانی انسان اس خودی کی شبیہ ہے۔ انسان خدا نہیں ہے بلکہ روشنی کی وہ کرن ہے جو سورج سے نکلتی ہے، انسان یعنی خدا سے نکلا ہوا، خدا کو منعکس کرتا ہے۔

5. 250 : 6-13

Mortal existence is a dream; mortal existence has no real entity, but saith "It is I." Spirit is the Ego which never dreams, but understands all things; which never errs, and is ever conscious; which never believes, but knows; which is never born and never dies. Spiritual man is the likeness of this Ego. Man is not God, but like a ray of light which comes from the sun, man, the outcome of God, reflects God.

6۔ 361 :16۔20

پانی کا ایک قطرہ سمندر کے ساتھ ایک ہے، روشنی کی ایک کرن سورج کے ساتھ ایک ہے، اسی طرح خدا اور انسان، باپ اور بیٹا ہستی میں ایک ہیں۔ کلام کہتا ہے: ”کیونکہ اْسی میں ہم جیتے اور چلتے پھرتے اور موجود ہیں۔“

6. 361 : 16-20

As a drop of water is one with the ocean, a ray of light one with the sun, even so God and man, Father and son, are one in being. The Scripture reads: "For in Him we live, and move, and have our being."

7۔ 42 :19۔21

یہ عقیدہ کہ انسان خدا سے الگ وجود یا عقل رکھتا ہے فنا ہونے والی ایک غلطی ہے۔ اِس کا سامنا یسوع نے الٰہی سائنس کے ساتھ کیا اور اس کے عدم کو ثابت کیا۔

7. 42 : 19-21

The belief that man has existence or mind separate from God is a dying error. This error Jesus met with divine Science and proved its nothingness.

8۔ 315 :3۔16

مالک کے اِس قول نے کہ ”میں اور باپ ایک ہیں“ اْسے ربیوں کے روایتی نظریے سے منفرد بنایا۔خدا سے متعلق اْس کی بہتر سمجھ اْن کے لئے ڈانٹ ڈپٹ تھی۔ وہ صرف ایک عقل سے واقف تھا اور کسی دوسرے پر اْس نے کوئی دعویٰ نہیں کیا۔ وہ جانتا تھا کہ انا عقل تھی نہ کہ بدن تھا اور یہ کہ مادا، گناہ اور بدی عقل نہیں تھے؛ اور الٰہی سائنس کا یہ فہم اْس پر زمانے کی پھٹکار لانے کا موجب بنا۔

لوگوں کے مخالف اور جھوٹے نظریات نے مسیح کی خدا کے ساتھ فرزندگی کو اْن کے فہم سے چھپائے رکھا۔ وہ اْس کی روحانی وجودیت کا شعور نہ پا سکے۔ اْن کے جسمانی ذہن اِس کے ساتھ عداوت رکھتے تھے۔ اْن کے خیالات خدا کے اْس روحانی نظریے کی بجائے جسے مسیح یسوع نے پیش کیا فانی غلطی سے بھر پور تھے۔

8. 315 : 3-16

That saying of our Master, "I and my Father are one," separated him from the scholastic theology of the rabbis. His better understanding of God was a rebuke to them. He knew of but one Mind and laid no claim to any other. He knew that the Ego was Mind instead of body and that matter, sin, and evil were not Mind; and his understanding of this divine Science brought upon him the anathemas of the age.

The opposite and false views of the people hid from their sense Christ's sonship with God. They could not discern his spiritual existence. Their carnal minds were at enmity with it. Their thoughts were filled with mortal error, instead of with God's spiritual idea as presented by Christ Jesus.

9۔ 270 :22۔24

کہانت کا تکبر اِس دنیا کا شہزادہ ہے۔ اس کا مسیح میں کچھ نہیں ہے۔ حلیمی اور خیرات میں الٰہی اختیار ہے۔

9. 270 : 22-24

The pride of priesthood is the prince of this world. It has nothing in Christ. Meekness and charity have divine authority.

10۔ 228 :27۔32

حلیم ناصری نے اس مفروضے کو مسترد کردیا کہ گناہ، بیماری اور موت میں کوئی طاقت ہے۔اْس نے انہیں بے اختیار ثابت کیا۔ اِسے کاہنوں کے تکبر کو حلیم بنا دینا چاہئے تھا جب انہوں نے مسیحت کے اظہار کو اْن کے مردہ ایمان اور رسومات کے تاثر سے آگے بڑھتے دیکھا۔

10. 228 : 27-32

The humble Nazarene overthrew the supposition that sin, sickness, and death have power. He proved them powerless. It should have humbled the pride of the priests, when they saw the demonstration of Christianity excel the influence of their dead faith and ceremonies.

11۔ 448 :2۔5

اندھا پن اور خود کا ر راستبازی بدی کے ساتھ بہت مضبوطی سے جْڑے ہوتے ہیں۔ جب محصول لینے والے کی آہ محبت کے عظیم دل سے نکلی تو اِس نے اْس کی حلیم خواہش کو فتح کیا۔

11. 448 : 2-5

Blindness and self-righteousness cling fast to iniquity. When the Publican's wail went out to the great heart of Love, it won his humble desire.

12۔ 18 :3۔12

یسوع ناصری نے انسان کی باپ کے ساتھ یگانگت کو بیان کیا، اور اس کے لئے ہمارے اوپر اْس کی لامتناہی عقیدت کا قرض ہے۔ اْس کا مشن انفرادی اور اجتماعی دونوں تھا۔ اْس نے زندگی کا مناسب کام سر انجام دیا نہ صرف خود کے انصاف کے لئے بلکہ انسانوں پر رحم کے باعث، انہیں یہ دکھانے کے لئے کہ انہیں اپنا کام کیسے کرنا ہے، بلکہ نہ تو اْن کے لئے خود کچھ کرنے یا نہ ہی اْنہیں کسی ایک ذمہ داری سے آزاد کرنے کے لئے یہ کیا۔یسوع نے دلیری سے حواس کے تسلیم شْدہ ثبوت کے خلاف، منافقانہ عقائد اور مشقوں کے خلاف کام کیا، اور اْس نے اپنی شفائیہ طاقت کی بدولت اپنے سبھی حریفوں کی تردید کی۔

12. 18 : 3-12

Jesus of Nazareth taught and demonstrated man's oneness with the Father, and for this we owe him endless homage. His mission was both individual and collective. He did life's work aright not only in justice to himself, but in mercy to mortals, — to show them how to do theirs, but not to do it for them nor to relieve them of a single responsibility. Jesus acted boldly, against the accredited evidence of the senses, against Pharisaical creeds and practices, and he refuted all opponents with his healing power.

13۔ 19 :17۔24

توبہ اور دْکھوں کا ہر احساس، اصلاح کی ہر کوشش، ہر اچھی سوچ اور کام گناہ کے لئے یسوع کے کفارے کو سمجھنے میں مدد کرے گا اور اِس کی افادنیت میں مدد کرے گا؛ لیکن اگر گناہگار دعا کرنا اور توبہ کرنا، گناہ کرنا اور معافی مانگنا جاری رکھتا ہے، تو کفارے میں، خدا کے ساتھ یکجہتی میں اْس کا بہت کم حصہ ہوگا، کیونکہ اْس میں عملی توبہ کی کمی ہے، جو دل کی اصلاح کرتی اور انسان کو حکمت کی رضا پوری کرنے کے قابل بناتی ہے۔

13. 19 : 17-24

Every pang of repentance and suffering, every effort for reform, every good thought and deed, will help us to understand Jesus' atonement for sin and aid its efficacy; but if the sinner con-tinues to pray and repent, sin and be sorry, he has little part in the atonement, — in the at-one-ment with God, — for he lacks the practical repentance, which reforms the heart and enables man to do the will of wisdom.

14۔ 25 :26۔32

استاد پر مکمل ایمان اور وہ سارا جذباتی پیار جو ہم اْس پر نچھاور کر سکتے ہیں، صرف یہی ہمیں اْس کی تقلید کرنے والے نہیں بنائیں گے۔ ہمیں جا کر اْسی کی مانند کام کرنا چاہئے، وگرنہ ہم اْن بڑی برکات کو فروغ نہیں دے رہے جو ہمارے مالک نے ہمیں عطا کرنے کے لئے کام کیا اور تکلیف اٹھائی۔ مسیح کی الوہیت کا اظہار یسوع کی انسانیت میں کیا گیا تھا۔

14. 25 : 26-32

Implicit faith in the Teacher and all the emotional love we can bestow on him, will never alone make us imitators of him. We must go and do likewise, else we are not improving the great blessings which our Master worked and suffered to bestow upon us. The divinity of the Christ was made manifest in the humanity of Jesus.

15۔ 22 :3۔22

پینڈولم کی طرح گناہ اور معافی کی امید میں جھْولتے ہوئے، خود غرضی اور نفس پرستی کو متواتر تنزلی کا موجب بنتے ہوئے ہماری اخلاقی ترقی دھیمی ہو جائے گی۔مسیح کے مطالبے پر بیدار ہونے سے بشر مصائب کا تجربہ کرتے ہیں۔ یہ انہیں، ایک ڈوبتے ہوئے شخص کی مانند خود کو بچانے کی بھرپور کوششیں کرنے کی ترغیب دیتا ہے؛ اور مسیح کے بیش قیمت خون کے وسیلہ یہ کوششیں کامیابی کا سہرا پاتی ہیں۔

”اپنی نجات کے لئے کوشش کریں“، یہ زندگی اور محبت کا مطالبہ ہے، کیونکہ یہاں پہنچنے کے لئے خدا آپ کے ساتھ کام کرتا ہے۔ ”قائم رہو جب تک کہ میں نہ آؤں!“ اپنے اجر کا انتظار کریں، اور ”نیک کام کرنے میں ہمت نہ ہاریں۔“ اگر آپ کی کوششیں خوف و ہراس کی مشکلات میں گھِری ہیں، اور آپ کو موجودہ کوئی اجر نہیں مل رہا، واپس غلطی پر مت جائیں، اور نہ ہی اس دوڑ میں کاہل ہو جائیں۔

جب جنگ کا دھواں چھٹ جاتا ہے، آپ اْس اچھائی کو جان جائیں گے جو آپ نے کی ہے، اور آپ کے حق کے مطابق آپ کو ملے گا۔ خدا ہمیں آزمائش سے نکالنے کے لئے جلد باز نہیں ہے، کیونکہ محبت کا مطلب ہے کہ آپ کو آزمایا اور پاک کیا جائے گا۔

15. 22 : 3-22

Vibrating like a pendulum between sin and the hope of forgiveness, — selfishness and sensuality causing constant retrogression, — our moral progress will be slow. Waking to Christ's demand, mortals experience suffering. This causes them, even as drowning men, to make vigorous efforts to save themselves; and through Christ's precious love these efforts are crowned with success.

"Work out your own salvation," is the demand of Life and Love, for to this end God worketh with you. "Occupy till I come!" Wait for your reward, and "be not weary in well doing." If your endeavors are beset by fearful odds, and you receive no present reward, go not back to error, nor become a sluggard in the race.

When the smoke of battle clears away, you will discern the good you have done, and receive according to your deserving. Love is not hasty to deliver us from temptation, for Love means that we shall be tried and purified.

16۔ 21 :1۔5، 9۔14

اگر آپ کی زور مرہ کی زندگی اور گفتگو میں سچائی غلطی پر فتح پا رہی ہے، تو آپ بالاآخر کہہ سکتے ہیں، ”میں اچھی کْشتی لڑ چکا۔۔۔مَیں نے ایمان کو محفوظ رکھا،“ کیونکہ آپ ایک بہتر انسان ہیں۔ یہ سچائی اور محبت کے ساتھ یکجہتی میں حصہ لینا ہے۔

اگر شاگرد روحانی طور پر ترقی کر رہا ہے، تو وہ داخل ہونے کی جدجہد کر رہا ہے۔ وہ مادی حِس سے دور ہونے کی مسلسل کوشش کررہا ہے اور روح کی ناقابل تسخیر چیزوں کا متلاشی ہے۔اگر ایماندار ہے تو وہ ایمانداری سے ہی آغاز کرے گا اور آئے دن درست سمت پائے گا جب تک کہ وہ آخر کار شادمانی کے ساتھ اپنا سفر مکمل نہیں کر لیتا۔

16. 21 : 1-5, 9-14

If Truth is overcoming error in your daily walk and conversation, you can finally say, "I have fought a good fight … I have kept the faith," because you are a better man. This is having our part in the at-one-ment with Truth and Love.

If the disciple is advancing spiritually, he is striving to enter in. He constantly turns away from material sense, and looks towards the imperishable things of Spirit. If honest, he will be in earnest from the start, and gain a little each day in the right direction, till at last he finishes his course with joy.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████