اتوار 19 جولائی، 2020  |

اتوار 19 جولائی، 2020 



مضمون۔ زندگی

SubjectLife

سنہری متن:سنہری متن: استثنا 30 باب20 آیت

’’”تْو خداوند اپنے خدا سے محبت رکھے اور اْس کی بات سنے اور اْسی سے لپٹا رہے کیونکہ وہی تیری زندگی اور تیری عمر کی درازی ہے۔“‘‘



Golden Text: Deuteronomy 30 : 20

Love the Lord thy God, obey his voice, cleave unto him: for he is thy life, and the length of thy days.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور36: 5تا9 آیات


5۔ اے خداوند! آسمان میں تیری شفقت ہے۔ تیری وفاداری افلاک تک بلند ہے۔

6۔ تیری صداقت خدا کے پہاڑوں کی مانند ہے تیرے احکام نہایت عمیق ہیں۔ اے خداوند! تْو انسان اور حیوان دونوں کو محفوظ رکھتا ہے۔

7۔ اے خدا! تیری شفقت کیا ہی بیش قیمت ہے بنی آدم تیرے بازووں کے سایے میں پناہ لیتے ہیں۔

8۔ وہ تیرے گھر کی نعمتوں سے خوب آسودہ ہوں گے۔تْو اْن کی اپنی خوشنودی کے دریا میں سے پلائے گا۔

9۔ کیونکہ زندگی کا چشمہ تیرے پاس ہے۔ تیرے نور کی بدولت ہم روشنی دیکھیں گے۔

Responsive Reading: Psalm 36 : 5-9

5.     Thy mercy, O Lord, is in the heavens; and thy faithfulness reacheth unto the clouds.

6.     Thy righteousness is like the great mountains; thy judgments are a great deep: O Lord, thou preservest man and beast.

7.     How excellent is thy lovingkindness, O God! therefore the children of men put their trust under the shadow of thy wings.

8.     They shall be abundantly satisfied with the fatness of thy house; and thou shalt make them drink of the river of thy pleasures.

9.     For with thee is the fountain of life: in thy light shall we see light.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ امثال3باب 1تا8 آیات

1۔ اے میرے بیٹے!میری تعلیم کو فراموش نہ کربلکہ تیرا دل میرے حکموں کو مانے۔

2۔ کیونکہ تْو اِن سے عمر کی درازی اور پیری اور سلامتی حاصل کرے گا۔

3۔ شفقت اور سچائی تجھ سے جدا نہ ہوں تْو اْن کو اپنے گلے کا طوق بنانا اور اپنے دل کی تختی پر لکھ لینا۔

4۔ یوں تْو خدا اور انسان کی نظر میں مقبولیت اور عقلمندی حاصل کرے گا۔

5۔ سارے دل سے خداوند پر توکل کر اور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر۔

6۔ اپنی سب راہوں میں اْس کو پہچان اور وہ تیری راہنمائی کرے گا۔

7۔ تْو اپنی ہی نگاہ میں دانشمند نہ بن۔ خداوند سے ڈر اور بدی سے کنارہ کر۔

8۔ یہ تیری ناف کی صحت اور تیری ہڈیوں کی تازگی ہوگی۔

1. Proverbs 3 : 1-8

1     My son, forget not my law; but let thine heart keep my commandments:

2     For length of days, and long life, and peace, shall they add to thee.

3     Let not mercy and truth forsake thee: bind them about thy neck; write them upon the table of thine heart:

4     So shalt thou find favour and good understanding in the sight of God and man.

5     Trust in the Lord with all thine heart; and lean not unto thine own understanding.

6     In all thy ways acknowledge him, and he shall direct thy paths.

7     Be not wise in thine own eyes: fear the Lord, and depart from evil.

8     It shall be health to thy navel, and marrow to thy bones.

2۔ زبور 20: 1، 2، 6آیات

1۔ مصیبت کے دن خداوند تیری سنے۔ یعقوب کے خدا کا نام تجھے بلندی پر قائم کرے۔

2۔ وہ مقدِس سے تیرے لئے کْمک بھیجے اور صیون سے تجھے تقویت بخشے!

6۔ اب میں جان گیا کہ خداوند اپنے ممسوح کو بچالیتا ہے۔ وہ اپنے دہنے ہاتھ کی نجات بخش قوت سے اپنے مقدس آسمان پر سے اْسے جواب دے گا۔

2. Psalm 20 : 1, 2, 6

1     The Lord hear thee in the day of trouble; the name of the God of Jacob defend thee;

2     Send thee help from the sanctuary, and strengthen thee out of Zion;

6     Now know I that the Lord saveth his anointed; he will hear him from his holy heaven with the saving strength of his right hand.

3۔ زبور 21:1، 4 آیات

1۔ اے خداوند! تیری قوت سے بادشاہ خوش ہوگا اور تیری نجات سے اْسے نہایت شادمانی ہوگی۔

4۔ اْس نے تجھ سے زندگی چاہی اور تْو نے بخشی۔ بلکہ عمر کی درازی ہمیشہ کے لئے۔

3. Psalm 21 : 1, 4

1     The king shall joy in thy strength, O Lord; and in thy salvation how greatly shall he rejoice!

4     He asked life of thee, and thou gavest it him, even length of days for ever and ever.

4۔ زبور 110: 4 آیت

4۔ خداوند نے قسم کھائی اور پھرے گا نہیں کہ تْو ملکِ صدق کے طور پر ابد تک کاہن ہے۔

4. Psalm 110 : 4

4     The Lord hath sworn, and will not repent, Thou art a priest for ever after the order of Melchizedek.

5۔ عبرانیوں 7باب1تا3 (تا دوسرا؛) آیات

1۔ اور یہ ملکِ صدق سالم کا بادشاہ، خدا تعالیٰ کا کاہن ہمیشہ کاہن رہتا ہے۔ جب ابراہام بادشاہوں کو قتل کر کے واپس آتا تو اِسی نے اْس کا استقبال کیااور اْس کے لئے برکت چاہی۔

2۔ اسی کو ابراہام نے سب چیزوں کی دہ یکی دی۔ یہ اول تو اپنے نام کے معنی کے موافق راستبازی کا بادشاہ ہے اور پھر سالم یعنی صلح کا بادشاہ۔

3۔ یہ بے باپ، بے ماں، بے نسب نامہ ہے۔ نہ اْس کی عمر کا شروع نہ زندگی کا آخر بلکہ خدا کے بیٹے کا مشابہ ٹھہرا۔

5. Hebrews 7 : 1-3 (to 2nd ;)

1     For this Melchisedec, king of Salem, priest of the most high God, who met Abraham returning from the slaughter of the kings, and blessed him;

2     To whom also Abraham gave a tenth part of all; first being by interpretation King of righteousness, and after that also King of Salem, which is, King of peace;

3     Without father, without mother, without descent, having neither beginning of days, nor end of life; but made like unto the Son of God;

6۔ 2 سلاطین 4 باب8 تا22، 27، 28، 30، 32، 33، 35 (اور بچہ چھینکا) تا 37 آیات

8۔ اور ایک روز اایسا ہوا کہ الیشع شونیم کو گیا۔ وہاں ایک دولتمند عورت تھی اور اْس نے اْسے روٹی کھانے پر مجبور کیا۔ پھر تو جب کبھی وہ وہاں سے گزرتا روٹی کھانے کے لئے وہاں چلا جاتا تھا۔

9۔ سو اْس نے اپنے شوہر سے کہا دیکھ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرد خدا جو اکثر ہماری طرف آتا ہے مقدس ہے۔

10۔ ہم اْس کے لئے ایک پلنگ اور کوٹھری دیوار پر بنا دیں اور اْس کے لئے ایک پلنگ اور میز اور چوکی اور شمعدان لگا دیں۔ پھر جب کبھی وہ ہمارے پاس آئے تو وہیں ٹھہرے گا۔

11۔ سو ایک دن ایسا ہوا کہ وہ اْدھر گیا اور اْس کوٹھری میں جا کر وہیں سویا۔

12۔ پھر اْس نے اپنے خادم جیحازی سے کہا کہ اِس شونیمی عورت کو بلا لے۔ اْس نے اْسے بلالیا اور وہ اْس کے سامنے کھڑی ہوئی۔

13۔ پھر اْس نے اپنے خادم سے کہا تْو اْس سے پوچھ کہ تْو نے جو ہمارے لئے اتنی فکریں کیں تو تیرے لئے کیا کِیا جائے؟ کیا تْو چاہتی ہے کہ بادشاہ سے یا فوج کے سردار سے تیری سفارش کی جائے؟ اْس نے جواب دیا مَیں تو اپنے ہی لوگوں میں رہتی ہوں۔

14۔ پھر اْس نے اْس سے کہا اْس کے لئے کیا کِیا جائے؟ تب جیحازی نے جواب دیاکہ کیا واقعی اْس کے کوئی فرزند نہیں اور اْس کا شوہر بْڈھا ہے۔

15۔ تب اْس نے اْس سے کہا اْسے بلا لے اور جب اْس نے اْسے بلایا تو وہ دروازے پر کھڑی ہوئی۔

16۔ تب اْس نے کہا موسمِ بہار میں وقت پورا ہونے پر تیری گود میں بیٹا ہوگا۔ اْس نے کہا نہیں اے میرے مالک اے مردِ خدا اپنی لونڈی سے جھوٹ نہ کہہ۔

17۔ سو وہ عورت حاملہ ہوئی اور جیسا الیشع نے اْس سے کہا تھا موسمِ بہار میں وقت پوراہونے پر اْس کے بیٹا ہوا۔

18۔ اور جب وہ لڑکا بڑھا تو ایک دن ایسا ہوا تو وہ اپنے باپ کے پاس کھیت کاٹنے والوں میں چلا گیا۔

19۔اور اْس نے باپ سے کہا ہائے میرا سر! ہائے میرا سر! اْس نے اْس سے کہا اْسے اْس کی ماں کے پاس لے جا۔

20۔ جب اْس نے اْسے لے کر اْس کی ماں کے پاس پہنچا دیا تو وہ اْس کے گھٹنوں پر دوپہر تک بیٹھا رہا اِس کے بعد مر گیا۔

21۔ اِس کے بعد اْس کی ماں نے اوپرجا کر اْسے مردِ خدا کے پلنگ پر لیٹا دیا اور دروازہ بند کر کے باہر چلی گئی۔

22۔ اور اْس نے اپنے شوہر سے پکار کر کہا جلد جوانوں میں سے ایک کو اور گدھوں میں سے ایک کو میرے لئے بھیج دے تاکہ میں مردِ خدا کے پاس دوڑ جاؤں اور پھر لوٹ آؤں۔

27۔ اور جب وہ اْس پہاڑ پر مردِ خدا کے پاس آئی اور اْس کے پاؤں پکڑ لئے اور جیحازی اْسے اٹھانے کے لئے نزدیک آیا پر مردِ خدا نے کہا اْسے چھوڑ دے کیونکہ اْس کا جی پریشان ہے اور خداوند نے مجھ یہ بات چھپائی اور مجھے نہ بتائی۔

28۔ اور وہ کہنے لگی کیا مَیں نے اپنے ملک سے بیٹے کا سوال کیا تھا؟ کیا مَیں نے نہ کہا تھا کہ مجھے دھوکہ نہ دے۔

30۔ اْس لڑکے کی ماں نے کہا خداوند کی حیات کی قسم اور تیری جان کی سوگند مَیں تجھے نہیں چھوڑوں گی تب وہ اٹھ کر اْس کے پیچھے پیچھے چلا۔

32۔ جب الیشع اْس گھر میں آیا تو دیکھو وہ لڑکا مرا ہوا اْس کے پلنگ پر پڑا تھا۔

33۔ سو وہ اندر گیا اور دروازہ بند کر کے خداوند سے دعا کی۔

35۔۔۔۔وہ بچہ سات بار چھینکا اور بچے نے آنکھیں کھول دیں۔

36۔ تب اْس نے جیحازی کو بلا کر کہا اْس شونیمی عورت کو بلا لے سو اْس نے اْسے بلایا اور جب وہ اْس کے پاس آئی تو اْس نے اْس سے کہا اپنے بیٹے کو اٹھا لے۔

37۔ تب وہ اندر جا کر اْس کے قدموں پر گری اور زمین پر سر نگوں ہوگئی پھر اپنے بیٹے کو اٹھا کر باہر چلی گئی۔

6. II Kings 4 : 8-22, 27, 28, 30, 32, 33, 35 (and the child sneezed)-37

8     And it fell on a day, that Elisha passed to Shunem, where was a great woman; and she constrained him to eat bread. And so it was, that as oft as he passed by, he turned in thither to eat bread.

9     And she said unto her husband, Behold now, I perceive that this is an holy man of God, which passeth by us continually.

10     Let us make a little chamber, I pray thee, on the wall; and let us set for him there a bed, and a table, and a stool, and a candlestick: and it shall be, when he cometh to us, that he shall turn in thither.

11     And it fell on a day, that he came thither, and he turned into the chamber, and lay there.

12     And he said to Gehazi his servant, Call this Shunammite. And when he had called her, she stood before him.

13     And he said unto him, Say now unto her, Behold, thou hast been careful for us with all this care; what is to be done for thee? wouldest thou be spoken for to the king, or to the captain of the host? And she answered, I dwell among mine own people.

14     And he said, What then is to be done for her? And Gehazi answered, Verily she hath no child, and her husband is old.

15     And he said, Call her. And when he had called her, she stood in the door.

16     And he said, About this season, according to the time of life, thou shalt embrace a son. And she said, Nay, my lord, thou man of God, do not lie unto thine handmaid.

17     And the woman conceived, and bare a son at that season that Elisha had said unto her, according to the time of life.

18     And when the child was grown, it fell on a day, that he went out to his father to the reapers.

19     And he said unto his father, My head, my head. And he said to a lad, Carry him to his mother.

20     And when he had taken him, and brought him to his mother, he sat on her knees till noon, and then died.

21     And she went up, and laid him on the bed of the man of God, and shut the door upon him, and went out.

22     And she called unto her husband, and said, Send me, I pray thee, one of the young men, and one of the asses, that I may run to the man of God, and come again.

27     And when she came to the man of God to the hill, she caught him by the feet: but Gehazi came near to thrust her away. And the man of God said, Let her alone; for her soul is vexed within her: and the Lord hath hid it from me, and hath not told me.

28     Then she said, Did I desire a son of my lord? did I not say, Do not deceive me?

30     And the mother of the child said, As the Lord liveth, and as thy soul liveth, I will not leave thee. And he arose, and followed her.

32     And when Elisha was come into the house, behold, the child was dead, and laid upon his bed.

33     He went in therefore, and shut the door upon them twain, and prayed unto the Lord.

35     …and the child sneezed seven times, and the child opened his eyes.

36     And he called Gehazi, and said, Call this Shunammite. So he called her. And when she was come in unto him, he said, Take up thy son.

37     Then she went in, and fell at his feet, and bowed herself to the ground, and took up her son, and went out.

7۔ مکاشفہ 21 باب2تا4 آیات

2۔ پھر مَیں نے شہرِ مقدس نئے یروشلیم کو آسمان پر سے خدا کے پاس سے اْترتے دیکھا اور وہ اْس دلہن کی مانند آراستہ تھا جس نے اپنے شوہر کے لئے شنگھار کیا ہو۔

3۔ پھر مَیں نے تخت میں سے کسی کو بلند آواز سے یہ کہتے سنا کہ دیکھ خدا کا خیمہ آدمیوں کے درمیان ہے اور وہ اْن کے ساتھ سکونت کرے گا اور وہ اْس کے لوگ ہوں گے اور خدا آپ اْن کے ساتھ رہے گا اور اْن کا خدا ہوگا۔

4۔ اور وہ اْن کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا۔ اِس کے بعد نہ موت رہے گی نہ ماتم رہے گا۔ نہ آہ و نالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔

7. Revelation 21 : 2-4

2     And I John saw the holy city, new Jerusalem, coming down from God out of heaven, prepared as a bride adorned for her husband.

3     And I heard a great voice out of heaven saying, Behold, the tabernacle of God is with men, and he will dwell with them, and they shall be his people, and God himself shall be with them, and be their God.

4     And God shall wipe away all tears from their eyes; and there shall be no more death, neither sorrow, nor crying, neither shall there be any more pain: for the former things are passed away.

8۔ زبور 23: 6 آیت

6۔ یقیناً بھلائی اور رحمت عمر بھر میرے ساتھ ساتھ رہیں گی اور مَیں ہمیشہ خداوند کے گھر میں سکونت کروں گا۔

8. Psalm 23 : 6

6     Surely goodness and mercy shall follow me all the days of my life: and I will dwell in the house of the Lord for ever.



سائنس اور صح


1۔ 394 :28۔29

ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ زندگی خدا ہے، اور یہ کہ خدا قادر مطلق ہے۔

1. 394 : 28-29

We should remember that Life is God, and that God is omnipotent.

2۔ 487 :27۔1

یہ ادراک کہ زندگی خدا، روح ہے، زندگی کی لازوال حقیقت پر، اْس کی قدرت اور لافانیت پر یقین رکھنے سے ہمارے ایام کو دراز کرتا ہے۔

ایمان ایک سمجھے گئے اصول پر انحصار کرتا ہے۔ یہ اصول بیمار کو شفایاب کرتا ہے اور برداشت اور چیزوں کے ہم آہنگ مراحل ظاہر کرتاہے۔

2. 487 : 27-1

The understanding that Life is God, Spirit, lengthens our days by strengthening our trust in the deathless reality of Life, its almightiness and immortality.

This faith relies upon an understood Principle. This Principle makes whole the diseased, and brings out the enduring and harmonious phases of things.

3۔ 27 :10۔16

”اِس مقدس (بدن) کو ڈھا دو تو مَیں (روح) اِسے تین دن میں کھڑا کر دوں گا“اپنے اِس سائنسی بیان کے ساتھ سخت مطابقت میں اپنے مصلوب ہونے کے بعد ظاہر ہونے سے یسوع نے یہ ثابت کیا کہ زندگی خدا ہے۔یہ ایسا ہی ہے جیسے اْس نے کہا ہو: مَیں، زندگی، مواد، اور کائنات کی ذہانت تباہ ہونے والا مادا نہیں ہے۔

3. 27 : 10-16

That Life is God, Jesus proved by his reappearance after the crucifixion in strict accordance with his scientific statement: "Destroy this temple [body], and in three days I [Spirit] will raise it up." It is as if he had said: The I — the Life, substance, and intelligence of the universe — is not in matter to be destroyed.

4۔ 51 :15۔18

وہ جانتا تھا کہ مادے میں زندگی نہیں ہے اور کہ حقیقی زندگی خدا ہے؛ اسی لئے وہ اپنی روحانی زندگی سے الگ نہیں کیا جا سکتا جیسے خدا ختم نہیں کیا جا سکتا۔

4. 51 : 15-18

He knew that matter had no life and that real Life is God; therefore he could no more be separated from his spiritual Life than God could be extinguished.

5۔ 108 :19۔29

جب ظاہری طور پر مادی وجودیت کی حدود کے قریب، موت کی وادی کے سایہ میں پہلے سے کھڑے ہوتے ہوئے،میں نے الٰہی سائنس میں یہ حقائق سیکھے ہیں: کہ سبھی حقیقی اشخاص خدا، الٰہی عقل،میں ہیں، اور کہ زندگی، سچائی اور محبت قادرِمطلق اور ازلی ہیں؛ کہ سچائی کا مخالف، جسے غلطی، گناہ، بیماری، مرض، موت کہا جاتا ہے، مادی سوچ کے جھوٹے مادی فہم کی جھوٹی گواہی ہے،کہ اس جھوٹے فہم میں، ایمان کے لحاظ سے، مادی سوچ کی نفسی حالت شامل ہوتی ہے جسے یہ نام نہاد عقل مادے کا نام دیتی ہے، اسطرح روح کا حقیقی فہم رْک جاتا ہے۔

5. 108 : 19-29

When apparently near the confines of mortal existence, standing already within the shadow of the death-valley, I learned these truths in divine Science: that all real being is in God, the divine Mind, and that Life, Truth, and Love are all-powerful and ever-present; that the opposite of Truth, — called error, sin, sickness, disease, death, — is the false testimony of false material sense, of mind in matter; that this false sense evolves, in belief, a subjective state of mortal mind which this same so-called mind names matter, thereby shutting out the true sense of Spirit.

6۔ 107 :15۔19

اِس قدر مستقل طور پر اْس جھوٹے فہم کو محسوس کرنے سے جو ہمارے بدن میں ہے، پھر بھی اِس حقیقت کو یاد رکھنے سے کہ خدا ہماری زندگی ہے، ہم اْن ایام کی امید میں لڑکھڑا سکتے ہیں جن میں ہمیں یہ کہنا چاہئے کہ، ”اِن سے مجھے کچھ خوشی نہیں۔“

6. 107 : 15-19

Feeling so perpetually the false consciousness that life inheres in the body, yet remembering that in reality God is our Life, we may well tremble in the prospect of those days in which we must say, "I have no pleasure in them."

7۔ 206 :19۔28

ایک ماں کو چند سالوں کے مختصر وقت کے لئے اْس کا بچہ سونپتے ہوئے اور پھر موت کے ذریعے اْسے واپس لیتے ہوئے کیا خدا بیماری بھیجتا ہے؟ جو کچھ خدا پہلے سے خلق کر چکا ہے کیا اْسے دوبارہ نیا کر رہا ہے؟ صحائف اِس نقطے پر یہ واضح کرتے ہوئے حتمی ہیں کہ اْس کا کام پورا ہوگیا تھا، خدا کے لئے کچھ بھی نیا نہیں ہے اور یہ سب اچھا تھا۔

کیا یہ انسان یعنی خدا کی روحانی شبیہ اور صورت کے لئے کوئی پیدائش یا موت ہو سکتی ہے؟بیماری اور موت کو بھیجنے کی بجائے خدا اِنہیں نیست کرتا ہے، اور معمولی لافانیت لاتا ہے۔

7. 206 : 19-28

Does God send sickness, giving the mother her child for the brief space of a few years and then taking it away by death? Is God creating anew what He has already created? The Scriptures are definite on this point, declaring that His work was finished, nothing is new to God, and that it was good.

Can there be any birth or death for man, the spiritual image and likeness of God? Instead of God sending sickness and death, He destroys them, and brings to light immortality.

8۔ 200 :9۔15 (تا دوسرا)

زندگی ہمیشہ مادے سے آزاد ہے، تھی اور ہمیشہ رہے گی،کیونکہ زندگی خدا ہے اور انسان خدا کا تصور ہے، جسے مادی طور پر نہیں بلکہ روحانی طور پر خلق کیا گیا، اور وہ فنا ہونے اور نیست ہونے سے مشروط نہیں۔ زبور نویس نے کہا: ”تْو نے اْسے اپنی دستکاری پر تسلط بخشا ہے۔ تْو نے سب کچھ اْس کے قدموں کے نیچے کر دیا ہے۔“

8. 200 : 9-15 (to 2nd .)

Life is, always has been, and ever will be independent of matter; for Life is God, and man is the idea of God, not formed materially but spiritually, and not subject to decay and dust. The Psalmist said: "Thou madest him to have dominion over the works of Thy hands. Thou hast put all things under his feet."

9۔ 243 :30۔6

بیماری، گناہ اور موت زندگی کے پھل نہیں ہیں۔ یہ بے آہنگیاں ہیں جنہیں سچائی نیست کرتی ہے۔ کاملیت غیر کاملیت کو زندگی نہیں دیتی۔چونکہ خدا نیک اور سب جانداروں کا سر چشمہ ہے، وہ اخلاقی یا جسمانی بدصورتی پیدا نہیں کرتا؛ اس لئے ایسا بگاڑ حقیقی نہیں بلکہ فریب نظری، غلطی کا سراب ہے۔ الٰہی سائنس اِن بڑے حقائق کو ظاہر کرتی ہے۔ اِنہی کی بنیاد پر کسی بھی شکل میں نہ غلطی سے خوف زدہ ہوتے ہوئے نہ ہی اِس کی تابعداری کرتے ہوئے یسوع نے زندگی کا اظہار کیا۔

9. 243 : 30-6

Sickness, sin, and death are not the fruits of Life. They are inharmonies which Truth destroys. Perfection does not animate imperfection. Inasmuch as God is good and the fount of all being, He does not produce moral or physical deformity; therefore such deformity is not real, but is illusion, the mirage of error. Divine Science reveals these grand facts. On their basis Jesus demonstrated Life, never fearing nor obeying error in any form.

10۔ 244 :23۔24

سائنس میں انسان نہ جوان ہے نہ بوڑھا۔ اْس میں نہ پیدائش ہے نہ موت ہے۔

10. 244 : 23-24

Man in Science is neither young nor old. He has neither birth nor death.

11۔ 245 :1۔17، 25۔3

یہ سوچنے کہ غلطی کہ ہم بوڑھے ہو رہے ہیں اور اِس فریب نظری کو ختم کرنے کے فوائد ایک انگریز خاتون کی تاریخ سے لئے گئے ایک خاکہ میں بیان کئے گئے ہیں، جو لندن کے طبی میگزین جسے لینسِٹ کہا جاتا ہے میں شائع ہوئے۔

اپنی زندگی کے ابتدائی سالوں میں اپنی محبت سے مایوس ہو کر وہ پاگل ہوگئی اور وقت کے تمام تر واقعات بھول گئی۔ یہ مانتے ہوئے کہ وہ ابھی بھی اْسی وقت میں جی رہی ہے جب وہ اپنے محبوب سے جدا ہوئی تھی، برسوں کو مدِ نظر نہ رکھتے ہوئے، وہ ہر روز کھڑکی میں اپنے محبوب کے آنے کا انتظار کرنے کو کھڑی رہتی۔ اِس ذہنی کیفیت میں وہ ہمیشہ جوان ہی رہی۔وقت کا شعور نہ رکھتے ہوئے، وہ ظاہری طور پر بوڑھی نہ ہوئی۔ چند امریکی مسافروں نے اْسے جب دیکھا تو وہ چوہتر برس کی تھی، اور وہ اْسے جوان سمجھ رہے تھے۔ اْس کے چہرے پر جھْریاں نہیں تھیں، کوئی شکن نہیں، نہ بال سفید ہوئے، بلکہ جوانی بڑی نرمی سے اْس کے گالوں اور پلکوں پہ قدم جمائے تھی۔وہ لوگ جو اْس کی تاریخ سے ناواقف تھے، جب اْن سے اْس کی عمر کا اندازہ لگانے کو کہا جاتا، کہ وہ قیاس لگاتے کہ وہ بیس سال سے کم عمر کی ہوگی۔

خود کو جوان سمجھتے ہوئے وہ بوڑھی نہ ہو سکی، کیونکہ ذہنی کیفیت جسمانی کیفیت پر حاکم ہوتی ہے۔

ناممکنات کبھی واقع نہیں ہوتے۔ پچھلے واقعہ کی طرح ایک واقعہ چوہتر سال کی عمر میں بھی جوان ہونے کو ممکن ثابت کرتا ہے؛ اور اِس مثال کی اصلیت اِس بات کو واضح کرتی ہے کہ فرسودگی قانون کے مطابق نہیں اور نہ یہ فطرت کی ضرورت ہے، بلکہ یہ ایک بھرم ہے۔

لامحدود کبھی شروع نہیں ہوا اور نہ یہ کبھی ختم ہوگا۔عقل اور اِس کی اشکال کبھی فنا نہیں ہوسکتے۔انسان بدی اور اچھائی، خوشی اور دْکھ، بیماری اور صحت، زندگی اور موت میں جھولتا ہوا پینڈولم نہیں ہے۔

11. 245 : 1-17, 25-3

The error of thinking that we are growing old, and the benefits of destroying that illusion, are illustrated in a sketch from the history of an English woman, published in the London medical magazine called The Lancet.

Disappointed in love in her early years, she became insane and lost all account of time. Believing that she was still living in the same hour which parted her from her lover, taking no note of years, she stood daily before the window watching for her lover's coming. In this mental state she remained young. Having no consciousness of time, she literally grew no older. Some American travellers saw her when she was seventy-four, and supposed her to be a young woman. She had no care-lined face, no wrinkles nor gray hair, but youth sat gently on cheek and brow. Asked to guess her age, those unacquainted with her history conjectured that she must be under twenty.

She could not age while believing herself young, for the mental state governed the physical.

Impossibilities never occur. One instance like the foregoing proves it possible to be young at seventy-four; and the primary of that illustration makes it plain that decrepitude is not according to law, nor is it a necessity of nature, but an illusion.

The infinite never began nor will it ever end. Mind and its formations can never be annihilated. Man is not a pendulum, swinging between evil and good, joy and sorrow, sickness and health, life and death.

12۔ 246 :10۔26

شمسی سال کے مطابق عمر کی درازی جوانی چھین لیتی اور عمر کو بدصورتی فراہم کرتی ہے۔ سچائی اور حقیقت کا منور سورج ہستی کے ساتھ وجودیت رکھتا ہے۔جوانمردی اِس کی ابدی دوپہر ہے جو ڈوبتے سورج سے دھیمی ہوتی جاتی ہے۔جسمانی اور مادی کی طرح خوبصورتی کا عارضی فہم دھْندلا ہو جاتا ہے، روشن اور ناقابل تسخیر تعریفوں کے ساتھ روح کے نور کو مسرور فہم پر طلوع ہونا چاہئے۔

عمروں کو کبھی خاطر میں نہ لائیں۔ تاریخی اعدادو شمار ہمیشہ کی وسعت کا حصہ نہیں ہیں۔ پیدائش اور موت کے اوقات کار مردانگی اور نسوانیت کے خلاف بہت بڑی سازشیں ہیں۔ وہ سب جو اچھا اور خوبصورت ہے اْسے ماپنے اور محدود کرنے کی غلطی کے سوائے انسان ساٹھ سالہ زندگی کا زیادہ مزہ لے گا اور پھر بھی اپنی ذہنی قوت، تازگی اور وعدے کو قائم رکھے گا۔ لافانی حکمران کے ماتحت انسان ہمیشہ خوبصورت اور عظیم ہوتا ہے۔ ہر آنے والا سال حکمت، خوبصورتی اور پاکیزگی کو عیاں کرتا ہے۔

12. 246 : 10-26

The measurement of life by solar years robs youth and gives ugliness to age. The radiant sun of virtue and truth coexists with being. Manhood is its eternal noon, undimmed by a declining sun. As the physical and material, the transient sense of beauty fades, the radiance of Spirit should dawn upon the enraptured sense with bright and imperishable glories.

Never record ages. Chronological data are no part of the vast forever. Time-tables of birth and death are so many conspiracies against manhood and womanhood. Except for the error of measuring and limiting all that is good and beautiful, man would enjoy more than threescore years and ten and still maintain his vigor, freshness, and promise. Man, governed by immortal Mind, is always beautiful and grand. Each succeeding year unfolds wisdom, beauty, and holiness.

13۔ 496 :9۔19

ہم سب کو یہ سیکھنا چاہئے کہ زندگی خدا ہے۔ خود سے سوال کریں: کیا میں ایسی زندگی جی رہا ہوں جو اعلیٰ اچھائی تک رسائی رکھتی ہے؟ کیا میں سچائی اور محبت کی شفائیہ قوت کا اظہار کر رہاہوں؟ اگر ہاں، تو ”دوپہر تک“ راستہ روشن ہوتا جائے گا۔آپ کے پھل و ہ سب کچھ ثابت کریں جو خدا کا ادراک انسان کے لئے مہیا کرتا ہے۔اِس خیال کو ہمیشہ کے لئے اپنالیں کہ یہ روحانی خیال، روح القدس اور مسیح ہی ہے جو آپ کو سائنسی یقین کے ساتھ اْس شفا کے قانون کا اظہار کرنے کے قابل بناتا ہے جوپوری حقیقی ہستی کو بنیادی طور پر، ضرورت سے زیادہ اور گھیرے میں لیتے ہوئے الٰہی اصول، محبت پر بنیاد رکھتا ہے۔

13. 496 : 9-19

We all must learn that Life is God. Ask yourself: Am I living the life that approaches the supreme good? Am I demonstrating the healing power of Truth and Love? If so, then the way will grow brighter "unto the perfect day." Your fruits will prove what the understanding of God brings to man. Hold perpetually this thought, — that it is the spiritual idea, the Holy Ghost and Christ, which enables you to demonstrate, with scientific certainty, the rule of healing, based upon its divine Principle, Love, underlying, overlying, and encompassing all true being.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████