اتوار 19 ستمبر،2021



مضمون۔ مادہ

SubjectMatter

سنہری متن: امثال 4 باب20، 22 آیات

”اے میرے بیٹے!میری باتوں پر توجہ کر۔کیونکہ جو اِس کو پا لیتے ہیں یہ اْن کی حیات اور اْن کے سارے جسم کی صحت ہے۔“



Golden Text: Proverbs 4 : 20, 22

My son, attend to my words; For they are life unto those that find them, and health to all their flesh.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: عبرانیوں 11 باب 1تا3، 32تا35 آیات • بور 119: 44، 46 آیات


1۔ اب ایمان اْمید کی ہوئی چیزوں کا اعتماد اور اندیکھی چیزوں کا ثبوت ہے۔

2۔ کیونکہ اِس کی بابت بزرگوں کے حق میں اچھی گواہی دی گئی۔

3۔ ایمان ہی سے ہم معلوم کرتے ہیں کہ عالم خدا کے کہنے سے بنے ہیں۔ یہ نہیں کہ جو کچھ نظر آتا ہے ظاہری چیزوں سے بنا ہے۔

32۔ اب اور کیا کہوں؟ اتنی فرصت کہاں کہ جدعون اور برق اور سمسون اور افتاہ اور داؤد اور سیموئیل اور نبیوں کا احوال بیان کروں؟

33۔ اْنہوں نے ایمان ہی کے سبب سے سلطنتوں کو مغلوب کیا۔ راستبازی کے کام کئے۔ وعدہ کی ہوئی چیزوں کو حاصل کیا۔ شیروں کے منہ بند کئے۔

34۔ آگ کی تیزی کو بجھایا۔ تلوار کی دھار سے بچ نکلے۔ کمزوری میں زور آور ہوئے۔ لڑائی میں بہادر بنے۔ غیروں کی فوجوں کو بھگایا۔

35۔ عورتوں نے اپنے مْردوں کو پھر زندہ پایا۔

44۔ پس میں ابد لاآباد تیری شریعت کو مانتا رہوں گا۔

46۔ مَیں بادشاہوں کے سامنے تیری شہادتوں کا بیان کروں گا۔

Responsive Reading: Hebrews 11 : 1-3, 32-35; Psalm 119 : 44, 46

1.     Now faith is the substance of things hoped for, the evidence of things not seen.

2.     For by it the elders obtained a good report.

3.     Through faith we understand that the worlds were framed by the word of God, so that things which are seen were not made of things which do appear.

32.     And what shall I more say? for the time would fail me to tell of Gedeon, and of Barak, and of Samson, and of Jephthae; of David also, and Samuel, and of the prophets:

33.     Who through faith subdued kingdoms, wrought righteousness, obtained promises, stopped the mouths of lions,

34.     Quenched the violence of fire, escaped the edge of the sword, out of weakness were made strong, waxed valiant in fight, turned to flight the armies of the aliens.

35.     Women received their dead raised to life again.

44.     So shall I keep thy law continually for ever and ever.

46.     I will speak of thy testimonies also before kings, and will not be ashamed.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ زبور 46: 1تا3 (تا پہلا)، 4تا6، 10، 11 (تا پہلا) آیات

1۔ خدا ہماری پناہ اور قوت ہے۔ مصیبت میں مْستعد مددگار۔

2۔ اس لئے ہم کو کچھ خوف نہیں خواہ زمین اْلٹ جائے۔ اور پہاڑ سمندر کی تہہ میں ڈال دئیے جائیں۔

3۔ خواہ اْس کا پانی شور مچائے اور موجزن ہو اور پہاڑ اْس کی طْغیانی سے ہل جائیں۔

4۔ ایک ایسا دریا ہے جس کی شاخوں سے خدا کے شہر کو یعنی حق تعالیٰ کے مقدس مسکن کو فرحت ہوتی ہے۔

5۔ خدا اْس میں ہے۔ اْسے کبھی جْنبش نہ ہوگی۔ خدا صبح سویرے اْس کی کْمک کرے گا۔

6۔ قومیں جھْنجھلائیں۔سلطنوں نے جْنبش کھائی۔ وہ بول اٹھا۔زمین پگھل گئی۔

10۔ خاموش ہو جاؤ اور جان لو کہ میں خدا ہوں۔ مَیں قوموں کے درمیان سر بلند ہوں گا۔

11۔ لشکروں کا خداوند ہمارے ساتھ ہے۔ یعقوب کا خدا ہماری پناہ ہے۔

1. Psalm 46 : 1-3 (to 1st .), 4-6, 10, 11 (to 1st .)

1     God is our refuge and strength, a very present help in trouble.

2     Therefore will not we fear, though the earth be removed, and though the mountains be carried into the midst of the sea;

3     Though the waters thereof roar and be troubled, though the mountains shake with the swelling thereof.

4     There is a river, the streams whereof shall make glad the city of God, the holy place of the tabernacles of the most High.

5     God is in the midst of her; she shall not be moved: God shall help her, and that right early.

6     The heathen raged, the kingdoms were moved: he uttered his voice, the earth melted.

10     Be still, and know that I am God: I will be exalted among the heathen, I will be exalted in the earth.

11     The Lord of hosts is with us; the God of Jacob is our refuge.

2۔ دانی ایل 3 باب1(تا)، 4تا6، 8، 9 (تا پہلا)، 12تا14، 16تا21، 24 تا 27 آیات

1۔ نبو کد نضر بادشاہ نے ایک سونے کی مورت بنوائی جس کی لمبائی ساٹھ ہاتھ اور چوڑائی چھ ہاتھ تھی۔

4۔ تب ایک مناد نے بلند آواز سے پکار کر کہا اے لوگو! اے امتو! اور اے مختلف زبانیں بولنے والو! تمہارے لئے یہ حکم ہے کہ۔

5۔ جس وقت قرنا اور نَے اور ستار اور رباب اور بربط اور چغانہ اور ہر طرح کے ساز کی آواز سنو تو اْس مورت کے سامنے جس کو نبو کد نضر بادشاہ نے نصب کیا ہے گر کر سجدہ کرو۔

6۔ اور جو کوئی گر کر سجدہ نہ کرے اْسی وقت آگ کی جلتی ہوئی بھٹی میں ڈالا جائے گا۔

8۔ پس اْس وقت چند کسدیوں نے آکر یہوداہ پر الزام لگایا۔

9۔ اْنہوں نے نبو کد نضر بادشاہ سے کہا۔

12۔ اب چند یہودی ہیں جن کو تْونے بابل کے صوبہ کی کار پردازی پر معین کیا ہے یعنی سدرک اور میسک اور عبد نجو۔ اْن آدمیوں نے اے بادشاہ تیری تعظیم نہیں کی۔ وہ تیرے معبودوں کی عبادت نہیں کرتے اور اْس سونے کی مورت کو جسے تْو نے نصب کیا ہے سجدہ نہیں کرتے۔

13۔ تب نبو کد نضر نے قہر اور غضب سے حکم کیا کہ سدرک اور میسک اور عبد نجو کو حاضر کریں اور اْنہوں نے اْن آدمیوں کو بادشاہ کے حضور حاضر کیا۔

14۔ نبو کد نضر نے اْن سے کہا اے سدرک اور میسک اور عبد نجو کیا یہ سچ ہے کہ تم میرے معبودوں کی عبادت نہیں کرتے اور اْس سونے کی مورت کو جسے مَیں نے نصب کیا سجدہ نہیں کرتے؟

16۔ سدرک اور میسک اور عبد نجو نے بادشاہ سے عرض کی کہ اے نبو کد نضر اِس امر میں ہم تجھے جواب دینا ضروری نہیں سمجھتے۔

17۔ دیکھ ہمارا خدا جس کی ہم عبادت کرتے ہیں ہم کو آگ کی جلتی ہوئی بھٹی سے چھڑانے کی قدرت رکھتا ہے اور اے بادشاہ وہی ہم کو تیرے ہاتھ سے چھڑائے گا۔

18۔ اور نہیں تو اے بادشاہ! تجھے معلوم ہو کہ ہم تیرے معبودوں کی عبادت نہیں کریں گے اور اْس سونے کی مورت کو جو تْو نے نصب کی ہے سجدہ نہیں کریں گے۔

19۔ تب نبو کد نضر قہر سے بھر گیا اور اْس کے چہرے کا رنگ سدرک اور میسک اور عبدنجو پر مبدل ہوا اور اْس نے حکم دیا کہ بھٹی کی آگ معمول سے سات گنا زیادہ کریں۔

20۔ اور اْس نے اپنے لشکر کے چند زور آور پہلوانوں کو حکم کیا کہ سدرک اور میسک اور عبد نجو کو باندھ کر آگ کی جلتی ہوئی بھٹی میں ڈال دیں۔

21۔ تب یہ مرد اپنے زیر جامہ قمیضوں اور عماموں سمیت باندھے گئے اور آگ کی جلتی بھٹی میں پھینک دئیے گئے۔

24۔ تب نبو کد نضربادشاہ سراسیمہ ہو کر جلد اٹھا اور ارکان دولت سے مخاطب ہوکر کہنے لگا کہ کیا ہم نے تین شخصوں کو بندھوا کر آگ میں نہیں ڈلوایا؟ اْنہوں نے جواب دیا کہ بادشاہ سے سچ فرمایا ہے۔

25۔ اْس نے کہا دیکھو مَیں چار شخص آگ میں کھلے پھرتے دیکھتا ہوں اور اْن کو کچھ ضرر نہیں پہنچا اور چوتھے کی صورت الہٰ زاد کی سی ہے۔

26۔ تب نبو کد نضر نے آگ کی جلتی بھٹی کے دروازے پر آکر کہا اے سدرک اور میسک اور عبد نجو خدا تعالیٰ کے بندو! باہر نکلو اور ادھر آؤ۔پس سدرک اور میسک اور عبد نجو آگ سے نکل آئے۔

27۔ تب ناظموں اور حاکموں اور سرداروں اور بادشاہ مشیروں نے فراہم ہو کر اْن شخصوں پر نظر کی اور دیکھا کہ آگ نے اْن کے بدنوں پر کچھ تاثیر نہیں کی اور اْن کے سر کا ایک بال بھی نہ جلایا اور اْن کی پوشاک میں مطلق فرق بھی نہ آیا اور اْن سے آگ کے جلنے کی بْو بھی نہ آتی تھی۔

2. Daniel 3 : 1 (to :), 4-6, 8, 9 (to 1st ,), 12-14, 16-21, 24-27

1     Nebuchadnezzar the king made an image of gold, whose height was threescore cubits, and the breadth thereof six cubits:

4     Then an herald cried aloud, To you it is commanded, O people, nations, and languages,

5     That at what time ye hear the sound of the cornet, flute, harp, sackbut, psaltery, dulcimer, and all kinds of musick, ye fall down and worship the golden image that Nebuchadnezzar the king hath set up:

6     And whoso falleth not down and worshippeth shall the same hour be cast into the midst of a burning fiery furnace.

8     Wherefore at that time certain Chaldeans came near, and accused the Jews.

9     They spake and said to the king Nebuchadnezzar,

12     There are certain Jews whom thou hast set over the affairs of the province of Babylon, Shadrach, Meshach, and Abed-nego; these men, O king, have not regarded thee: they serve not thy gods, nor worship the golden image which thou hast set up.

13     Then Nebuchadnezzar in his rage and fury commanded to bring Shadrach, Meshach, and Abed-nego. Then they brought these men before the king.

14     Nebuchadnezzar spake and said unto them, Is it true, O Shadrach, Meshach, and Abed-nego, do not ye serve my gods, nor worship the golden image which I have set up?

16     Shadrach, Meshach, and Abed-nego, answered and said to the king, O Nebuchadnezzar, we are not careful to answer thee in this matter.

17     If it be so, our God whom we serve is able to deliver us from the burning fiery furnace, and he will deliver us out of thine hand, O king.

18     But if not, be it known unto thee, O king, that we will not serve thy gods, nor worship the golden image which thou hast set up.

19     Then was Nebuchadnezzar full of fury, and the form of his visage was changed against Shadrach, Meshach, and Abed-nego: therefore he spake, and commanded that they should heat the furnace one seven times more than it was wont to be heated.

20     And he commanded the most mighty men that were in his army to bind Shadrach, Meshach, and Abed-nego, and to cast them into the burning fiery furnace.

21     Then these men were bound in their coats, their hosen, and their hats, and their other garments, and were cast into the midst of the burning fiery furnace.

24     Then Nebuchadnezzar the king was astonied, and rose up in haste, and spake, and said unto his counsellers, Did not we cast three men bound into the midst of the fire? They answered and said unto the king, True, O king.

25     He answered and said, Lo, I see four men loose, walking in the midst of the fire, and they have no hurt; and the form of the fourth is like the Son of God.

26     Then Nebuchadnezzar came near to the mouth of the burning fiery furnace, and spake, and said, Shadrach, Meshach, and Abed-nego, ye servants of the most high God, come forth, and come hither. Then Shadrach, Meshach, and Abed-nego, came forth of the midst of the fire.

27     And the princes, governors, and captains, and the king’s counsellers, being gathered together, saw these men, upon whose bodies the fire had no power, nor was an hair of their head singed, neither were their coats changed, nor the smell of fire had passed on them.

3۔ زبور 56: 3، 4 آیات

3۔ جس وقت مجھے ڈر لگے گا۔ مَیں تجھ پر توکل کروں گا۔

4۔ میرا فخر خدا پر اْس کے کلام پر ہے۔ میرا توکل خدا پر ہے۔ مَیں ڈرنے کا نہیں۔ بشر میرا کیا کر سکتا ہے؟

3. Psalm 56 : 3, 4

3     What time I am afraid, I will trust in thee.

4     In God I will praise his word, in God I have put my trust; I will not fear what flesh can do unto me.

4۔ متی 4 باب23، 24 آیات

23۔اور یسوع تمام گلیل میں پھرتا رہا اور اْن کے عبادتخانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوش خبری کی منادی کرتا اور لوگوں کی ہر طرح کی بیماری اور ہرطرح کی کمزوری کو دور کرتا رہا۔

24۔ اور اْس کی شہرت تمام سوریہ میں پھیل گئی اور لوگ سب بیماروں کو جو طرح طرح کی بیماریوں اور تکلیفوں میں گرفتار تھے اور اْن کو جن میں بدروحیں تھیں اور مرگی والوں اور مفلوجوں کو اْس کے پاس لائے اور اْس نے اْن کو اچھا کیا۔

4. Matthew 4 : 23, 24

23     And Jesus went about all Galilee, teaching in their synagogues, and preaching the gospel of the kingdom, and healing all manner of sickness and all manner of disease among the people.

24     And his fame went throughout all Syria: and they brought unto him all sick people that were taken with divers diseases and torments, and those which were possessed with devils, and those which were lunatick, and those that had the palsy; and he healed them.

5۔ متی 5باب2آیت

2۔ اور وہ اپنی زبان کھول کر اْن کو یوں تعلیم دینے لگا۔

5. Matthew 5 : 2

2     And he opened his mouth, and taught them, saying,

6۔ یوحنا 6 باب63 آیت

63۔ زندہ کرنے والی تو روح ہے۔ جسم سے کچھ فائدہ نہیں۔ جو باتیں مَیں نے تم سے کہیں ہیں وہ روح ہیں اور زندگی بھی ہیں۔

6. John 6 : 63

63     It is the spirit that quickeneth; the flesh profiteth nothing: the words that I speak unto you, they are spirit, and they are life.

7۔ رومیوں 8باب1، 2 آیات

1۔ پس اب جو مسیح یسوع میں ہیں اُن پر سزا کا حکم نہیں،جو جسم کے مطابق نہیں بلکہ روح کے مطابق چلتے ہیں۔

2۔ کیونکہ زندگی کے روح کی شریعت نے مسیح یسوع میں مجھے گناہ اورموت کی شریعت سے آزاد کردیا۔

7. Romans 8 : 1, 2

1     There is therefore now no condemnation to them which are in Christ Jesus, who walk not after the flesh, but after the Spirit.

2     For the law of the Spirit of life in Christ Jesus hath made me free from the law of sin and death.



سائنس اور صح


1۔ 468 :9 (یہاں)۔11

مادے میں کوئی زندگی، سچائی، ذہانت اورنہ ہی مواد پایا جاتا ہے۔کیونکہ خدا حاکم کْل ہے اس لئے سب کچھ لامتناہی عقل اور اْس کا لامتناہی اظہار ہے۔

1. 468 : 9 (There)-11

There is no life, truth, intelligence, nor substance in matter. All is infinite Mind and its infinite manifestation, for God is All-in-all.

2۔ 139 :4۔9

ابتدا سے آخر تک، پورا کلام پاک مادے پر روح، عقل کی فتح کے واقعات سے بھرپور ہے۔ موسیٰ نے عقل کی طاقت کو اس کے ذریعے ثابت کیا جسے انسان معجزات کہتا ہے؛ اسی طرح یشوع، ایلیاہ اور الیشع نے بھی کیا۔ مسیحی دور کو علامات اور عجائبات کی مدد سے بڑھایا گیا۔

2. 139 : 4-9

From beginning to end, the Scriptures are full of accounts of the triumph of Spirit, Mind, over matter. Moses proved the power of Mind by what men called miracles; so did Joshua, Elijah, and Elisha. The Christian era was ushered in with signs and wonders.

3۔ 335 :7 (روح)۔15

روح، یعنی خدا نے سب کو خود سے اور خود میں بنایا۔ روح نے مادے کو کبھی نہیں بنایا۔ روح میں ایسا کچھ نہیں ہے جس سے ماد ے کو بنایا جا سکے، کیونکہ جیسا کہ بائبل واضح کرتی ہے کہ”جو کچھ پیدا ہوا اْس میں سے کوئی چیز بھی“ لوگوس، ایؤن یا خدا کے کلمے کے بغیرپیدا نہیں ہوئی۔ روح ہی واحد مواد ہے، یعنی دیدہ اور نادیدہ لامحدود خدا۔ روحانی اور ابدی سب چیزیں حقیقی ہیں۔ مادی اور عارضی چیزیں غیر مادی ہیں۔

3. 335 : 7 (Spirit)-15

Spirit, God, has created all in and of Himself. Spirit never created matter. There is nothing in Spirit out of which matter could be made, for, as the Bible declares, without the Logos, the Æon or Word of God, "was not anything made that was made." Spirit is the only substance, the invisible and indivisible infinite God. Things spiritual and eternal are substantial. Things material and temporal are insubstantial.

4۔ 159 :23۔29

طبی سکول انسان کی حالت سے متعلق عقل کی بجائے مادے سے سیکھیں گے۔ وہ پھیپھڑوں، زبان اور نبض کا معائنہ کرتے ہیں یہ دریافت کرنے کے لئے کہ مادہ دوسرے مادے کے لئے کس قدر ہم آہنگی یا صحت مندی کی اجازت دے رہا ہے، ایک مادہ دوسرے سے کس قدر درد یا خوشی، عمل یا سکونت کی اجازت لے رہا ہے۔

4. 159 : 23-29

The medical schools would learn the state of man from matter instead of from Mind. They examine the lungs, tongue, and pulse to ascertain how much harmony, or health, matter is permitting to matter, — how much pain or pleasure, action or stagnation, one form of matter is allowing another form of matter.

5۔ 160 :14۔29

عقل کے حکم کو پٹھوں تک پہنچانے اور عمل کرنے کے لئے اناٹومی کو اعصاب کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔مگر جب ڈوریں سکڑ جاتیں اور غیر منقولہ بن جاتی ہیں تو اناٹومی کیا کہتی ہے؟ کیا فانی عقل نے اِس سے بات کرنا ترک کردیا یا انہیں کمزور ہونے کا حکم دیا؟کیا پٹھے، ہڈیاں، خون اور اعصاب ایک لمحے میں ہی عقل کے خلاف بغاوت کر سکتے اور ذہنی مخالفت کے باوجود اکڑاؤ کا شکار ہو سکتے ہیں؟

جب تک پٹھے ہر وقت خود کار رہیں گے، وہ ایسے کبھی نہیں رہیں گے، کبھی ذہنی راہنمائی کے مخالف عمل کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ اگر پٹھے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور اپنی خود کی ترجیح میں سخت بن جاتے، بد نما یا متناسب ہوتے، جیسے کہ وہ خوش ہوتے یا جیسے بیماری راہنمائی کرتی، تو وہ خودکار راہنما ہوتے۔ اگر ہمیں اناٹومی سے صرف یہی سیکھنا ہے کہ پٹھوں پر حکمرانی نہیں ہوتی، تو پھر یہ جاننے کے لئے اناٹومی سے مشاورت کیوں کی جائے کہ فانی عقل پٹھوں پر کیسے حکمران ہوتی ہے؟

5. 160 : 14-29

Anatomy finds a necessity for nerves to convey the mandate of mind to muscle and so cause action; but what does anatomy say when the cords contract and become immovable? Has mortal mind ceased speaking to them, or has it bidden them to be impotent? Can muscles, bones, blood, and nerves rebel against mind in one instance and not in another, and become cramped despite the mental protest?

Unless muscles are self-acting at all times, they are never so, — never capable of acting contrary to mental direction. If muscles can cease to act and become rigid of their own preference, — be deformed or symmetrical, as they please or as disease directs, — they must be self-directing. Why then consult anatomy to learn how mortal mind governs muscle, if we are only to learn from anatomy that muscle is not so governed?

6۔ 161 :3۔10

آپ کہتے ہیں ”میں نے اپنی انگلی جلا لی ہے۔“یہ ایک بر محل بیان ہے، آپ کی سوچ سے زیادہ برمحل، کیونکہ بشری عقل، نہ کہ مادی، اسے جلاتی ہے۔ پاک الہام نے ایسی ذہنی حالتیں پیدا کیں ہیں جو شعلوں کے رد عمل کوکالعدم قرار دینے کے قابل ہیں، جیسا کہ بائبل میں تین یونانی عبرانی قیدیوں کا معاملہ تھا، انہیں بابلیوں کی بھٹی میں ڈالا گیا، جبکہ ایک مخالف ذہنی حالت اچانک سْلگن کو پیدا کر سکتی ہے۔

6. 161 : 3-10

You say, "I have burned my finger." This is an exact statement, more exact than you suppose; for mortal mind, and not matter, burns it. Holy inspiration has created states of mind which have been able to nullify the action of the flames, as in the Bible case of the three young Hebrew captives, cast into the Babylonian furnace; while an opposite mental state might produce spontaneous combustion.

7۔ 113 :26۔32

کرسچن سائنس کے الٰہی مابعد الطبیعیات، جیسے کہ ریاضی میں اْلٹ پلٹ کرنے کے اصول سے طریقہ کارثابت ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر: سچائی میں کوئی درد نہیں ہے، اور درد میں سچائی نہیں ہے؛ عقل میں کوئی اعصاب نہیں، اعصاب میں کوئی عقل نہیں؛ عقل میں کوئی مادہ نہیں، اور مادے میں کوئی عقل نہیں؛ زندگی میں کوئی مادہ نہیں، اور مادے میں کوئی زندگی نہیں؛ اچھائی میں کوئی مادہ نہیں اور مادے میں کوئی اچھائی نہیں۔

7. 113 : 26-32

The divine metaphysics of Christian Science, like the method in mathematics, proves the rule by inversion. For example: There is no pain in Truth, and no truth in pain; no nerve in Mind, and no mind in nerve; no matter in Mind, and no mind in matter; no matter in Life, and no life in matter; no matter in good, and no good in matter.

8۔ 288 :3۔8

سچ اور غلطی کے مابین فرضی جنگ روحانی حواس کے ثبوت اور مادی حواس کی گواہی کے مابین محض ایک ذہنی تصادم ہے، اور روح اور بدن کے مابین یہ جنگ الٰہی محبت کے فہم اور اْس پر ایمان کے وسیلہ تمام تر سوالات کو حل کردے گی۔

8. 288 : 3-8

The suppositional warfare between truth and error is only the mental conflict between the evidence of the spiritual senses and the testimony of the material senses, and this warfare between the Spirit and flesh will settle all questions through faith in and the understanding of divine Love.

9۔ 243 :4۔9

الٰہی محبت، جس نے زہریلے سانپ کو بے ضرر بنایا، جس نے آدمیوں کو اْبلتے ہوئے تیل سے، بھڑکتے ہوئے تندور سے، شیر کے پنجوں سے بچایا، وہ ہر دور میں بیمار کو شفا دے سکتی اور گناہ اور موت پر فتح مند ہو سکتی ہے۔اس نے یسوع کے اظہاروں کو بلا سبقت طاقت اور محبت سے سرتاج کیا۔

9. 243 : 4-9

The divine Love, which made harmless the poisonous viper, which delivered men from the boiling oil, from the fiery furnace, from the jaws of the lion, can heal the sick in every age and triumph over sin and death. It crowned the demonstrations of Jesus with unsurpassed power and love.

10۔ 162 :16۔28

سائنس کے اصولوں کو عمل میں لاتے ہوئے، مصنف نے تیز اور دائمی بیماری کی شدید صورتوں میں صحت مندی بحال کی ہے۔ رطوبتیں تبدیل ہو گئیں ہیں، ڈھانچہ کو جدید کیا گیا ہے، چھوٹے اعضاء کو بڑا کیا گیا ہے، جوڑوں کی اکڑن کو ملائم کیا گیا ہے، بوسیدہ ہڈیوں کو صحتمند حالت میں بحال کیا گیا ہے۔ مَیں نے وہاں بحالی کا کام کیا جسے پھیپھڑوں کے مواد کی کمی کہا جاتا ہے اور صحتمندانہ تنظیم کا قیام عمل میں آیا جہاں بیماری نامیاتی تھی۔کرسچن سائنس نامیاتی بیماری کو اتنے ہی یقین کے ساتھ شفا دیتی ہے جتنے یقین سے فعال ہونے والی کو شفا دیتی ہے، کیونکہ اعلیٰ اصول کو ظاہر کرنے کے لئے صرف کرسچن سائنس کے الٰہی اصول کی ضرورت ہے۔

10. 162 : 16-28

Working out the rules of Science in practice, the author has restored health in cases of both acute and chronic disease in their severest forms. Secretions have been changed, the structure has been renewed, shortened limbs have been elongated, ankylosed joints have been made supple, and carious bones have been restored to healthy conditions. I have restored what is called the lost substance of lungs, and healthy organizations have been established where disease was organic. Christian Science heals organic disease as surely as it heals what is called functional, for it requires only a fuller understanding of the divine Principle of Christian Science to demonstrate the higher rule.

11۔ 391 :7۔13، 18۔28

بیماری کے پہلے یا بعد والے مرحلے پر اندھا اور پرسکون اعتماد کرنے کی بجائے اِن کے خالف بغاوت میں اْٹھ کھڑے ہوں۔ اِس یقین کو ختم کر دیں کہ آپ اْس ایک داخل ہونے والے درد کا علاج کر سکتے ہیں جو عقل کی طاقت سے تلف نہیں کیا جا سکتا، اور یوں آپ جسم میں درد کے بڑھنے کو روک سکتے ہیں۔ خدا کا کوئی قانون اِس نتیجے میں رکاوٹ نہیں بنتا۔

جب جسم یہ کہتا ہوا لگے کہ ”مَیں بیمار ہوں،“ تو خود کو مجرم ہونے کا احساس نہ ہونے دیں۔چونکہ مادا بات نہیں کر سکتا، تو جو بولتا ہے وہ یقینا فانی عقل ہے؛ اِس لئے مخالفت کے ساتھ ایما کا سامنا کریں۔اگر آپ کہتے ہیں کہ ”مَیں بیمار ہوں“، تو آپ کو غلطی کا احساس ہے۔تو آپ کا دشمن آپ کو جج (فانی عقل)کے پاس لے جائے گا اور جج آپ کو سزا کا حکم دے گا۔بیماری میں خود کو کچھ ظاہر کرنے اور اپنے نام کا اعلان کرنے کی ذہانت نہیں ہے۔فانی عقل اکیلی اِسے خود سزا سناتی ہے۔اِس لئے بیماری کے ساتھ اپنی خود کی شرائط باندھیں، اور خود کے ساتھ اور دوسروں کے ساتھ عادل بنیں۔

11. 391 : 7-13, 18-28

Instead of blind and calm submission to the incipient or advanced stages of disease, rise in rebellion against them. Banish the belief that you can possibly entertain a single intruding pain which cannot be ruled out by the might of Mind, and in this way you can prevent the development of pain in the body. No law of God hinders this result.

When the body is supposed to say, "I am sick," never plead guilty. Since matter cannot talk, it must be mortal mind which speaks; therefore meet the intimation with a protest. If you say, "I am sick," you plead guilty. Then your adversary will deliver you to the judge (mortal mind), and the judge will sentence you. Disease has no intelligence to declare itself something and announce its name. Mortal mind alone sentences itself. Therefore make your own terms with sickness, and be just to yourself and to others.

12۔ 393 :16۔24، 29۔4

اپنے اس فہم میں مضبوط رہیں کہ الٰہی عقل حکومت کرتی ہے اور یہ کہ سائنس میں انسان خدا کی حکومت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس بات کا خوف بالکل نہ رکھیں کہ مادہ کسی قسم کے قانون کے نتیجہ میں درد، سوجن اور سوزش کا شکار ہو سکتا ہے، جبکہ یہ خود واضح بات ہے کہ مادے میں درد ہو سکتا ہے نہ سوجن ہوسکتی ہے۔آپ کا بدن کسی درخت سے لگے ہوئے زخم یا ایسی برقی تار کے کھنچنے کی نسبت پریشانی اور زخموں سے زیادہ تکلیف اٹھائے گا جو فانی عقل کے لئے نہیں ہیں۔

انسان کبھی بیمار نہیں ہوتا، کیونکہ عقل کبھی بیماری نہیں ہوتی اور نہ ہی مادا۔ آزمائش کرنے والا اور آزمایا جانے والا، گناہ اور گناہگار، بیماری اور اْس کی وجہ دونوں جھوٹا ایمان ہیں۔ بیماری میں پرسکون رہنا اچھا ہے؛ پر امید ہونا بھی بہتر ہے؛ لیکن یہ سمجھنا کہ بیماری حقیقی نہیں اور کہ سچائی اس کی دکھائی دینے والی حقیقت کو تباہ کر سکتی ہے سب سے بہتر ہے کیونکہ یہ سمجھ عالمگیر اور کامل علاج ہے۔

12. 393 : 16-24, 29-4

Be firm in your understanding that the divine Mind governs, and that in Science man reflects God's government. Have no fear that matter can ache, swell, and be inflamed as the result of a law of any kind, when it is self-evident that matter can have no pain nor inflammation. Your body would suffer no more from tension or wounds than the trunk of a tree which you gash or the electric wire which you stretch, were it not for mortal mind.

Man is never sick, for Mind is not sick and matter cannot be. A false belief is both the tempter and the tempted, the sin and the sinner, the disease and its cause. It is well to be calm in sickness; to be hopeful is still better; but to understand that sickness is not real and that Truth can destroy its seeming reality, is best of all, for this understanding is the universal and perfect remedy.

13۔ 120 :11 (مادہ)۔12

۔۔۔مادہ انسان کے لئے کوئی شرائط نہیں بنا سکتا۔

13. 120 : 11 (matter)-12

…matter can make no conditions for man.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████