اتوار 19 مئی ، 2019 مضمون۔ فانی اور لافانی |

اتوار 19 مئی ، 2019



مضمون۔ فانی اور لافانی

SubjectMortals and Immortals

سنہری متن:سنہری متن: 1کرنتھیوں 15باب50آیت

’’اے بھائیو! میرا مطلب یہ ہے کہ گوشت اور خون خدا کی بادشاہی کے وارث نہیں ہو سکتے اور نہ فنا بقا کی وارث ہو سکتی ہے ۔‘‘



Golden Text: I Corinthians 15 : 50

Now this I say, brethren, that flesh and blood cannot inherit the kingdom of God; neither doth corruption inherit incorruption.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور4: 1تا6آیات


1۔ جب میں پکاروں تو مجھے جواب دے۔ اے میری صداقت کے خدا! تنگی میں تْو نے مجھے کشادگی بخشی مجھ پر رحم کر اور میری دعا سن لے۔

2۔ اے بنی آدم! کب تک میری عزت کے بدلے رسوائی ہوگی؟ تم کب تک بطالت سے محبت رکھو گے اور جھوٹ کے در پے رہو گے؟

3۔جان رکھو کہ خداوند نے دیندار کو اپنے لئے الگ کر رکھا ہے۔ جب میں خداوند کو پکاروں گا تو وہ سن لے گا۔

4۔ تھرتھراؤ اور گناہ نہ کرو۔ اپنے اپنے بستر پر دل میں سوچو اور خاموش رہو۔

5۔ صداقت کی قربانیاں گزرانو اور خداوند پر توکل کرو۔

6۔ بہت سے کہتے ہیں کون ہم کو کچھ بھلائی دکھائے گا؟ اے خداوند تْو اپنے چہرے کا نور ہم پر جلوہ گر فرما۔

Responsive Reading: Psalm 4 : 1-6

1.     Hear me when I call, O God of my righteousness: thou hast enlarged me when I was in distress; have mercy upon me, and hear my prayer.

2.     O ye sons of men, how long will ye turn my glory into shame? how long will ye love vanity, and seek after leasing?

3.     But know that the Lord hath set apart him that is godly for himself: the Lord will hear when I call into him.

4.     Stand in awe, and sin not: commune with your own heart upon your bed, and be still.

5.     Offer the sacrifices of righteousness, and put your trust in the Lord.

6.     There be many that say, Who will shew us any good? Lord, lift thou up the light of thy countenance upon us.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ پیدائش 1باب: 26 (تا چوتھا،)، 26 (اور سب پر)، 27 (تا،)آیات

26۔ پھر خدا نے کہا کہ ہم انسان کو اپنی صورت پر اپنی شبیہ کی مانند بنائیں اور وہ سمندر کی مچھلیوں اور آسمان کے پرندوں اور چوپایوں اور تمام زمین اور سب جانداروں پر جو زمین پر رینگتے ہیں اختیار رکھیں۔

27۔ اور خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔

1. Genesis 1 : 26 (to 4th ,), 26 (and over every), 27 (to ,)

26     And God said, Let us make man in our image, after our likeness: and let them have dominion over the fish of the sea, and over the fowl of the air, … and over every creeping thing that creepeth upon the earth.

27     So God created man in his own image,

2۔ گلتیوں 3باب 26آیت (تم)

26۔۔۔۔تم سب اْس ایمان کے وسیلہ سے جو مسیح یسوع میں ہے خدا کے فرزند ہو۔

2. Galatians 3 : 26 (ye)

26     …ye are all the children of God by faith in Christ Jesus.

3۔ یوحنا 3باب16تا18(تا:)آیات

16۔ کیونکہ خد ا نے دنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اْس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جوکوئی اْس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔

17۔ کیونکہ خدا نے بیٹے کو دنیا میں اس لئے نہیں بھیجا کہ دنیا پر سزا کا حکم کرے بلکہ اس لئے کہ دنیا اْس کے وسیلہ سے نجات پائے۔

18۔ جو اْس پر ایمان لاتا ہے اْس پر سزا کا حکم نہیں ہوتا۔

3. John 3 : 16-18 (to :)

16     For God so loved the world, that he gave his only begotten Son, that whosoever believeth in him should not perish, but have everlasting life.

17     For God sent not his Son into the world to condemn the world; but that the world through him might be saved.

18     He that believeth on him is not condemned:

4۔ یوحنا 8باب1تا11آیات

1۔ مگر یسوع زیتون کے پہاڑ پرگیا۔

2۔ صبح سویرے ہی وہ پھر ہیکل میں آیا اور سب لوگ اس کے پاس آئے اور وہ بیٹھ کر انہیں تعلیم دینے لگا۔

3۔ اور فقیہ اور فریسی ایک عورت کو لائے جو زنا میں پکڑی گئی تھی اور اسے بیچ میں کھڑا کر کے یسوع سے کہا۔

4۔ اے استاد!یہ عورت زنا میں عین فعل کے وقت پکڑی گئی ہے۔

5۔ توریت میں موسٰی نے ہم کوحکم دیا ہے کہ ایسی عورتوں کو سنگسار کریں۔ پس تو اس عورت کی نسبت کیا کہتا ہے؟

6۔ انہوں نے اسے آزمانے کے لئے یہ کہا تاکہ اس پر الزام لگانے کا کوئی سبب نکالیں مگر یسوع جھک کر انگلی سے زمین پر لکھنے لگا۔

7۔ جب وہ اس سے سوال کرتے ہی رہے تو اس نے سیدھے ہو کر ان سے کہا کہ جو تم میں بیگناہ ہو وہی پہلے اس کے پتھر مارے۔

8۔ اور پھر جھک کر زمین پر انگلی سے لکھنے لگا۔

9۔ وہ یہ سن کر بڑوں سے لے کر چھوٹوں تک ایک ایک کر کے نکل گئے اور یسوع اکیلا رہ گیا اور عورت وہیں بیچ میں رہ گئی۔

10۔ یسوع نے سیدھے ہو کر اس سے کہا اے عورت یہ لوگ کہاں گئے؟کیا کسی نے تجھ پرحکم نہیں لگایا؟

11۔ اس نے کہا اے خداوند کسی نے نہیں۔ یسوع نے کہا میں بھی تجھ پر حکم نہیں لگاتا۔ جا۔ پھر گناہ نہ کرنا۔

4. John 8 : 1-11

1     Jesus went unto the mount of Olives.

2     And early in the morning he came again into the temple, and all the people came unto him; and he sat down, and taught them.

3     And the scribes and Pharisees brought unto him a woman taken in adultery; and when they had set her in the midst,

4     They say unto him, Master, this woman was taken in adultery, in the very act.

5     Now Moses in the law commanded us, that such should be stoned: but what sayest thou?

6     This they said, tempting him, that they might have to accuse him. But Jesus stooped down, and with his finger wrote on the ground, as though he heard them not.

7     So when they continued asking him, he lifted up himself, and said unto them, He that is without sin among you, let him first cast a stone at her.

8     And again he stooped down, and wrote on the ground.

9     And they which heard it, being convicted by their own conscience, went out one by one, beginning at the eldest, even unto the last: and Jesus was left alone, and the woman standing in the midst.

10     When Jesus had lifted up himself, and saw none but the woman, he said unto her, Woman, where are those thine accusers? hath no man condemned thee?

11     She said, No man, Lord. And Jesus said unto her, Neither do I condemn thee: go, and sin no more.

5۔ یوحنا 11باب 1،3، 17، 21تا26، 39تا44آیات

1۔ مریم اور اس ک بہن مارتھا کے گاؤں بیت عنیاہ کا لعذر نامی ایک آدمی بیمار تھا۔

3۔ پس اْس کی بہنوں نے اْسے یہ کہلا بھیجا کہ اے خداوند دیکھ جسے تْو عزیز رکھتا ہے وہ بیمار ہے۔

17۔ پس یسوع کو آکر معلوم ہوا کہ اْسے قبر رکھے چار دن ہوئے ہیں۔

21۔مارتھا نے یسوع سے کہا اے خداوند! اگر تْو یہاں ہوتا تو میرا بھائی نہ مرتا۔

22۔ اور اب بھی میں جانتی ہوں کہ جو کچھ تْو خدا سے مانگے گا وہ تجھے دے گا۔

23۔یسوع نے اْس سے کہا تیرا بھائی جی اٹھے گا۔

24۔ مارتھا نے اْس سے کہا میں جانتی ہوں قیامت میں آخری دن جی اٹھے گا۔

25۔ یسوع نے اْس سے کہا قیامت اور زندگی تو میں ہوں۔ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے گو وہ مر بھی جائے تو بھی زندہ رہے گا۔

26۔ اور جو کوئی زندہ ہے اور مجھ پر ایمان لاتا ہے وہ ابد تک کبھی نہ مرے گا۔ کیا تْو اس پر ایمان رکھتی ہے؟

39۔ یسوع نے کہا پتھر کو ہٹاؤ۔ اْس مرے ہوئے شخص کی بہن مارتھا نے اْس سے کہا، اے خداوند! اس میں سے تو اب بدبو آتی ہے کیونکہ اْسے چار دن ہو گئے ہیں۔

40۔ یسوع نے اْس سے کہا میں نے تجھ سے کہا نہ تھا کہ اگر تْو ایمان لائے گی تو خدا کا جلال دیکھے گی؟

41۔ پس انہوں نے اْس پتھر کو ہٹا دیا۔ پھر یسوع نے آنکھیں اٹھا کر کہا اے باپ میں تیرا شکر کرتا ہوں کہ تْو نے میری سْن لی۔

42۔ اور مجھے تو معلوم تھا کہ تْوہمیشہ میری سنتا ہے مگر اِن لوگوں کے باعث جو آس پاس کھڑے ہیں میں نے یہ کہا تا کہ وہ ایمان لائیں کہ تْو ہی نے مجھے بھیجا ہے۔

43۔ اور یہ کہہ کر اْس نے بلند آواز سے پکارا کہ اے لعذر نکل آ!

44۔ جو مرگیا تھا وہ کفن سے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے نکل آیا اور اْس کا چہرہ رومال سے لپٹا ہوا تھا۔ یسوع نے اْن سے کہا اسے کھول کر جانے دو۔

5. John 11 : 1, 3, 17, 21-26, 39-44

1     Now a certain man was sick, named Lazarus, of Bethany, the town of Mary and her sister Martha.

3     Therefore his sisters sent unto him, saying, Lord, behold, he whom thou lovest is sick.

17     Then when Jesus came, he found that he had lain in the grave four days already.

21     Then said Martha unto Jesus, Lord, if thou hadst been here, my brother had not died.

22     But I know, that even now, whatsoever thou wilt ask of God, God will give it thee.

23     Jesus saith unto her, Thy brother shall rise again.

24     Martha saith unto him, I know that he shall rise again in the resurrection at the last day.

25     Jesus said unto her, I am the resurrection, and the life: he that believeth in me, though he were dead, yet shall he live:

26     And whosoever liveth and believeth in me shall never die. Believest thou this?

39     Jesus said, Take ye away the stone. Martha, the sister of him that was dead, saith unto him, Lord, by this time he stinketh: for he hath been dead four days.

40     Jesus saith unto her, Said I not unto thee, that, if thou wouldest believe, thou shouldest see the glory of God?

41     Then they took away the stone from the place where the dead was laid. And Jesus lifted up his eyes, and said, Father, I thank thee that thou hast heard me.

42     And I knew that thou hearest me always: but because of the people which stand by I said it, that they may believe that thou hast sent me.

43     And when he thus had spoken, he cried with a loud voice, Lazarus, come forth.

44     And he that was dead came forth, bound hand and foot with graveclothes: and his face was bound about with a napkin. Jesus saith unto them, Loose him, and let him go.

6۔ 1کرنتھیوں 15باب53تا57 آیات

53۔ کیونکہ ضرور ہے کہ یہ فانی جسم بقا کا جامہ پہنے اور یہ مرنے والا جسم حیاتِ ابدی کا جامہ پہنے۔

54۔ اور جب یہ فانی جسم بقا کا جامہ پہن چکے گا اور یہ مرنے والا جسم حیاتِ ابدی کا جامہ پہن چکے گا تو وہ قول پورا ہوگا جو لکھا ہے کہ موت فتحکا لْقمہ ہوگئی۔

55۔ اے موت تیری فتح کہاں رہی؟ اے موت تیرا ڈنک کہاں رہا؟

56۔ موت کا ڈنک گناہ ہے اور گناہ کا زور شریعت ہے۔

57۔ مگر خدا کا شکر ہے جو ہمارے خداوند یسوع مسیح کے وسیلہ سے ہم کو فتح بخشتا ہے۔

7۔ 1کرنتھیوں 6باب9تا11آیات

9۔ کیا تم نہیں جانتے کہ بدکار خدا کی بادشاہی کے وارث نہ ہوں گے؟ فریب نہ کھاؤ۔ نہ حرامکار خدا کی بادشاہی کے وارث ہوں گے۔ نہ بت پرست،نہ زناکار، نہ عیاش نہ،لونڈے باز

10۔ نہ چور، نہ لالچی، نہ شرابی، نہ گالیاں بکنے والے، نہ ظالم

11۔ اور بعض تم میں ایسے ہی تھے مگر تم خداوند یسوع مسیح کے نام سے اور ہمارے خدا کی روح سے دھْل گئے اور پاک ہوئے اور راستباز بھی ٹھہرے۔

6. I Corinthians 15 : 53-57

53     For this corruptible must put on incorruption, and this mortal must put on immortality.

54     So when this corruptible shall have put on incorruption, and this mortal shall have put on immortality, then shall be brought to pass the saying that is written, Death is swallowed up in victory.

55     O death, where is thy sting? O grave, where is thy victory?

56     The sting of death is sin; and the strength of sin is the law.

57     But thanks be to God, which giveth us the victory through our Lord Jesus Christ.

8۔ 1تمیتھیس 1باب17آیت

17۔ اب ازلی بادشاہ یعنی غیرفانی نادیدہ واحد خدا کی عزت اور تمجید ابد الاباد ہوتی رہے۔ آمین۔

7. I Corinthians 6 : 9-11

9     Know ye not that the unrighteous shall not inherit the kingdom of God? Be not deceived: neither fornicators, nor idolaters, nor adulterers, nor effeminate, nor abusers of themselves with mankind,

10     Nor thieves, nor covetous, nor drunkards, nor revilers, nor extortioners, shall inherit the kingdom of God.

11     And such were some of you: but ye are washed, but ye are sanctified, but ye are justified in the name of the Lord Jesus, and by the Spirit of our God.

8. I Timothy 1 : 17

17     Now unto the King eternal, immortal, invisible, the only wise God, be honour and glory for ever and ever. Amen.



سائنس اور صح


1۔ 246: 5۔6

کامل اور غیر فانی اپنے بنانے والے کی ابدی صورت پر ہیں۔

1. 246 : 5-6

The perfect and immortal are the eternal likeness of their Maker.

2۔ 209: 1۔ 4

غیر فانی ہوتے ہوئے انسان ایک لازوال زندگی رکھتا ہے۔یہ فانی عقیدہ ہی ہے جو جسم کو ناموافقت اور بیماری کے تناسب میں بناتا ہے جیسا کہ جہالت، خوف یا انسان فانیوں پر حکمرانی کرے گا۔

2. 209 : 1-4

Man, being immortal, has a perfect indestructible life. It is the mortal belief which makes the body discordant and diseased in proportion as ignorance, fear, or human will governs mortals.

3۔ 492: 25۔ 28

خدا عقل ہے، اور خدا لامحدود ہے؛ لہٰذہ سب کچھ عقل ہے۔ اسی بیان پر ہستی کی سائنس منحصر ہے اور ہم آہنگی اور لافانیت کو ظاہر کرتے ہوئے، اس سائنس کا اصول الٰہی ہے۔

3. 492 : 25-28

God is Mind, and God is infinite; hence all is Mind. On this statement rests the Science of being, and the Principle of this Science is divine, demonstrating harmony and immortality.

4۔ 247: 15۔18

غیر فانی مرد اور خواتین روحانی حس کا نمونہ ہوتے ہیں جو کامل عقل سے اور پاکیزگی کے اْن بلند نظریات کی عکاسی کرنے سے بنائے جاتے ہیں جو مادی حس سے بالا تر ہوتے ہیں۔

4. 247 : 15-18

Immortal men and women are models of spiritual sense, drawn by perfect Mind and reflecting those higher conceptions of loveliness which transcend all material sense.

5۔ 295: 5۔15

خدا کائنات کو،بشمول انسان،خلق کرتا اور اْس پر حکومت کرتا ہے، یہ کائنات روحانی خیالات سے بھری پڑی ہے، جنہیں وہ تیار کرتا ہے، اور وہ اْس عقل کی فرمانبرداری کرتے ہیں جو انہیں بناتی ہے۔ فانی عقل مادی کو روحانی میں تبدیل کر دے گی، اور پھر انسان کی اصل خودی کو غلطی کی فانیت سے رہا کرنے کے لئے ٹھیک کرے گی۔ فانی لوگ غیر فانیوں کی مانند خدا کی صورت پر پیدا نہیں کئے گئے، بلکہ لامحدود روحانی ہستی کی مانند فانی ضمیر بالا آخر سائنسی حقیقت کو تسلیم کرے گا اور غائب ہو جائے گا،اور ہستی کا،کامل اور ہمیشہ سے برقرار حقیقی فہم سامنے آئے گا۔

5. 295 : 5-15

God creates and governs the universe, including man. The universe is filled with spiritual ideas, which He evolves, and they are obedient to the Mind that makes them. Mortal mind would transform the spiritual into the material, and then recover man's original self in order to escape from the mortality of this error. Mortals are not like immortals, created in God's own image; but infinite Spirit being all, mortal consciousness will at last yield to the scientific fact and disappear, and the real sense of being, perfect and forever intact, will appear.

6۔ 538: 17۔ 22

گناہ، بیماری اور موت کا پیدائش کے الوہی تعارف میں کوئی ذکر نہیں ملتا، جس میں خدا آسمان، زمین اور انسان کو خلق کرتا ہے۔ جب تک کہ وہ جو ہستی کی سچائی کو میدان میں داخل ہونے کی مخالفت کرتا ہے، بدی کی کوئی تاریخ نہیں ہے، اور بدی کو محض حقیقی اور ابدی کی مخالفت میں بطور غیر حقیقی پیش کیا جاتا ہے۔

6. 538 : 17-22

Sin, sickness, and death have no record in the Elohistic introduction of Genesis, in which God creates the heavens, earth, and man. Until that which contradicts the truth of being enters into the arena, evil has no history, and evil is brought into view only as the unreal in contradistinction to the real and eternal.

7۔ 476: 1 (صرف)، 9۔ 20

فانی بشر لافانیوں کے مقابلے میں بناوٹی ہیں۔

خدا انسان کا اصول ہے، اور انسان خدا کا خیال ہے۔ لہٰذہ انسان نہ فانی ہے نہ مادی ہے۔فانی غائب ہو جائیں گے اور لافانی یا خدا کے فرزند انسان کی واحد اور ابدی سچائیوں کے طور پر سامنے آئیں گے۔ فانی بشر خدا کے گرائے گئے فرزند نہیں ہیں۔ وہ کبھی بھی ہستی کی کامل حالت میں نہیں تھے، جسے بعد ازیں دوبارہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔فانی تاریخ کے آغاز سے انہوں نے ”بدی میں حالت پکڑی اور گناہ کی حالت میں ماں کے پیٹ میں پڑے۔“آخر کار فانیت غیر فانیت کے باعث ہڑپ کر لی جاتی ہے۔ جو حقائق غیر فانی انسان سے تعلق رکھتے ہیں انہیں جگہ فراہم کرنے کے لئے گناہ، بیماری اور موت کوغائب ہونا چاہئے۔

7. 476 : 1 (only), 9-20

Mortals are the counterfeits of immortals.

God is the Principle of man, and man is the idea of God. Hence man is not mortal nor material. Mortals will disappear, and immortals, or the children of God, will appear as the only and eternal verities of man. Mortals are not fallen children of God. They never had a perfect state of being, which may subsequently be regained. They were, from the beginning of mortal history, "conceived in sin and brought forth in iniquity." Mortality is finally swallowed up in immortality. Sin, sickness, and death must disappear to give place to the facts which belong to immortal man.

8۔ 426: 16۔ 22

جب یہ سیکھ لیا جاتا ہے کہ بیماری زندگی کو نیست نہیں کر سکتی، اور یہ کہ بشر موت کے وسیلہ گناہ یا بیماری سے نہیں بچائے جا سکتے تو یہ ادراک زندگی کی جدت میں تیزی لائے گا۔ اس سے یہ موت کی خواہش یا قبر کے خوف میں مہارت لائے گا اور یوں یہ اْس بڑے ڈر کوتباہ کرے گا جو فانی وجود کا گھیراؤ کرتا ہے۔

8. 426 : 16-22

When it is learned that disease cannot destroy life, and that mortals are not saved from sin or sickness by death, this understanding will quicken into newness of life. It will master either a desire to die or a dread of the grave, and thus destroy the great fear that besets mortal existence.

9۔ 428: 22۔ 29

ایک بڑی روحانی حقیقت سامنے لائی جانی چاہئے کہ انسان کامل اور لافانی ہوگا نہیں بلکہ ہے۔ ہمیں وجودیت کے شعور کو ہمیشہ قائم رکھنا چاہئے اور جلد یا بدیر، مسیح اور کرسچن سائنس کے وسیلہ گناہ اور موت پر حاکم ہونا چاہئے۔ جب مادی عقائد کو ترک کیا جاتا ہے اورہستی کے غیر فانی حقائق کو قبول کر لیا جاتا ہے تو انسان کی لافانیت کی شہادت مزید واضح ہو جاتی ہے۔

9. 428 : 22-29

The great spiritual fact must be brought out that man is, not shall be, perfect and immortal. We must hold forever the consciousness of existence, and sooner or later, through Christ and Christian Science, we must master sin and death. The evidence of man's immortality will become more apparent, as material beliefs are given up and the immortal facts of being are admitted.

10۔ 494: 19۔ 29

مناسب ہدایت کی گئی وجہ جسمانی حس کی غلطی کو سدھارنے کا کام کرتی ہے، لیکن جب تک انسان کی ابدی ہم آہنگی کی سائنس سائنسی ہستی کی مْتصل حقیقت کے ذریعے اْن کی فریب نظری کو ختم نہیں کرتی گناہ، بیماری اور موت حقیقی ہی نظر آتے رہیں گے (جیسا کہ سوتے ہوئے خوابوں کے تجربات حقیقی دکھائی دیتے ہیں)۔

انسان سے متعلق ان دونظریات میں سے آپ کسے قبول کرنے کے لئے تیار ہیں؟ ایک فانی گواہی ہے جو تبدیل ہوتی، مرتی اور غیر حقیقی ہے۔ دوسری ابدی اور حقیقی شہادت ہے، جس پر سچائی کی مہر ثبت ہے، اِس کی گود لافانی پھلوں سے لدی ہوئی ہے۔

10. 494 : 19-29

Reason, rightly directed, serves to correct the errors of corporeal sense; but sin, sickness, and death will seem real (even as the experiences of the sleeping dream seem real) until the Science of man's eternal harmony breaks their illusion with the unbroken reality of scientific being.

Which of these two theories concerning man are you ready to accept? One is the mortal testimony, changing, dying, unreal. The other is the eternal and real evidence, bearing Truth's signet, its lap piled high with immortal fruits.

11۔ 444: 27۔ 30

الٰہی سائنس میں لافانی بشر یا خدا کے فرزند ایک ہم آہنگ خاندان ہیں لیکن فانی بشر یا ”انسان کی نسل“ مادی لحاظ سے ناموافق اور بسا اوقات جھوٹے بھائی ہیں۔

11. 444 : 27-30

Immortals, or God's children in divine Science, are one harmonious family; but mortals, or the "children of men" in material sense, are discordant and ofttimes false brethren.

12۔ 491: 7۔ 16

مادی انسان از خود اور رضاکارانہ غلطی سے، ایک منفی درستگی اور مثبت غلطی سے بنا ہے، دوسرے والا خود کو صحیح سمجھتا ہے۔انسان کی روحانی انفرادیت کبھی غلط نہیں ہوتی۔یہ انسان کے خالق کی شبیہ ہے۔ مادہ بشر کو حقیقی ابتداء اور ہستی کے حقائق سے نہیں جوڑ سکتا، جس میں سب کچھ ختم ہو جانا چاہئے۔ یہ صرف روح کی برتری کو تسلیم کرنے سے ہوگا، جو مادے کے دعووں کو منسوخ کرتا ہے، کہ بشر فانیت کو برخاست کریں اور کسی مستحکم روحانی تعلق کو تلاش کریں جو انسان کو ہمیشہ کے لئے، اپنے خالق کی طرف سے لازم و ملزوم الٰہی شبیہ میں قائم رکھتا ہے۔

12. 491 : 7-16

Material man is made up of involuntary and voluntary error, of a negative right and a positive wrong, the latter calling itself right. Man's spiritual individuality is never wrong. It is the likeness of man's Maker. Matter cannot connect mortals with the true origin and facts of being, in which all must end. It is only by acknowledging the supremacy of Spirit, which annuls the claims of matter, that mortals can lay off mortality and find the indissoluble spiritual link which establishes man forever in the divine likeness, inseparable from his creator.

13۔ 493: 6۔8

جسمانی حس کی تمام تر گواہی اور جسمانی حس سے حاصل ہونے والا سارا علم تمام چیزوں کی غیر فانی سچائی کے لئے سائنس کے ساتھ متفق ہونے چاہئیں۔

13. 493 : 6-8

All the evidence of physical sense and all the knowledge obtained from physical sense must yield to Science, to the immortal truth of all things.

14۔ 495: 14۔ 24

جب بیماری یا گناہ کا بھرم آپ کو آزماتا ہے تو خدا اور اْس کے خیال کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ منسلک رہیں۔ اْس کے مزاج کے علاوہ کسی چیز کو آپ کے خیال میں قائم ہونے کی اجازت نہ دیں۔ کسی خوف یا شک کو آپ کے اس واضح اورمطمین بھروسے پر حاوی نہ ہونے دیں کہ پہچانِ زندگی کی ہم آہنگی، جیسے کہ زندگی ازل سے ہے، اس چیز کے کسی بھی درد ناک احساس یا یقین کو تبا ہ کر سکتی ہے جو زندگی میں ہے ہی نہیں۔جسمانی حس کی بجائے کرسچن سائنس کو ہستی سے متعلق آپ کی سمجھ کی حمایت کرنے دیں، اور یہ سمجھ غلطی کو سچائی کے ساتھ اکھاڑ پھینکے گی، فانیت کو غیر فانیت کے ساتھ تبدیل کرے گی، اور خاموشی کی ہم آہنگی کے ساتھ مخالفت کرے گی۔

14. 495 : 14-24

When the illusion of sickness or sin tempts you, cling steadfastly to God and His idea. Allow nothing but His likeness to abide in your thought. Let neither fear nor doubt overshadow your clear sense and calm trust, that the recognition of life harmonious — as Life eternally is — can destroy any painful sense of, or belief in, that which Life is not. Let Christian Science, instead of corporeal sense, support your understanding of being, and this understanding will supplant error with Truth, replace mortality with immortality, and silence discord with harmony.

15۔ 75: 13۔ 16

یسوع نے لعذر کو اس سمجھ کے ساتھ زندہ کیا کہ لعذر کبھی نہیں مرا، یعنی اس اعتراف کے ساتھ کہ اْس کا جسم مر گیا اور پھر دوبارہ جینے لگا۔

15. 75 : 13-16

Jesus restored Lazarus by the understanding that Lazarus had never died, not by an admission that his body had died and then lived again.

16۔ 496: 20۔ 27

”موت کا ڈنک گناہ ہے اور گناہ کا زور شریعت ہے“، فانی عقیدے کی شریعت جو لافانی زندگی کے حقائق کے ساتھ جنگ کرتی ہے، حتیٰ کہ روحانی شریعت کے ساتھ بھی جو قبرکو کہتی ہے، ”تیری فتح کہاں رہی؟“ لیکن ” جب یہ فانی جسم بقا کا جامہ پہن چکے گا اور یہ مرنے والا جسم حیاتِ ابدی کا جامہ پہن چکے گا تو وہ قول پورا ہوگا جو لکھا ہے کہ موت فتح کا لْقمہ ہوگئی۔“

16. 496 : 20-27

"The sting of death is sin; and the strength of sin is the law," — the law of mortal belief, at war with the facts of immortal Life, even with the spiritual law which says to the grave, "Where is thy victory?" But "when this corruptible shall have put on incorruption, and this mortal shall have put on immortality, then shall be brought to pass the saying that is written, Death is swallowed up in victory."

17۔ 434: 31 (خدا) ۔ 32

خدا نے انسان کو غیر فانی اور صرف روح کا فرمانبردار بنایا۔

17. 434 : 31 (God)-32

God made Man immortal and amenable to Spirit only.

18۔ 249: 8۔ 10

تو آئیں ہم شادمان ہوں کہ ہم ”ہونے والی الٰہی قوتوں“ کے تابع ہیں۔ ہستی کی حقیقی سائنس ایسی ہی ہے۔

18. 249 : 8-10

Let us rejoice that we are subject to the divine "powers that be." Such is the true Science of being.

19۔ 492: 7 (صرف)

ہستی، پاکیزگی، ہم آہنگی، لافانیت ہے۔

19. 492 : 7 (only)

Being is holiness, harmony, immortality.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████