اتوار 2 اگست، 2020  |

اتوار 2 اگست، 2020 



مضمون۔ محبت

SubjectLove

سنہری متن:سنہری متن: 1 یوحنا 4 باب16 آیت • یوحنا 6 باب37 آیت

’’”خدا محبت ہے۔ جو کوئی میرے پاس آئے گا اْسے مَیں ہر گز نکال نہ دوں گا۔“‘‘



Golden Text: I John 4 : 16; John 6 : 37

God is love. Him that cometh to me I will in no wise cast out.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: لوقا 6 باب27، 31تا33، 35، 36 آیات


27۔ مَیں تم سننے والوں سے کہتا ہوں کہ اپنے دشمنوں سے محبت رکھو۔ جو تم سے عداوت رکھے اْن کا بھلا کرو۔

31۔ اور جیسا تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں تم بھی اْن کے ساتھ ویسا ہی کرو۔

32۔اور اگر تم اپنے محبت رکھنے والوں ہی سے محبت رکھو تو تمہارا کیا احسان ہے؟ کیونکہ گناہگاربھی اپنے محبت رکھنے والوں سے محبت رکھتے ہیں۔

33۔ اور اگر تم اْن ہی کا بھلا کرو جو تمہارا بھلا کرتے ہیں تو تمہارا کیا احسا ن ہے؟ کیونکہ گناہگار بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔

35۔مگر تم اپنے دشمنوں سے محبت رکھو اور بھلا کرو اور بغیر نااْمید ہوئے قرض دو تو تمہارا اجر بڑا ہوگا اور تم خدا تعالیٰ کے بیٹے ٹھہرو گے کیونکہ وہ ناشکروں اور بدوں پر بھی مہربان ہے۔

36۔ جیسا تمہارا باپ رحیم ہے تم بھی رحمدل ہو۔

Responsive Reading: Luke 6 : 27, 31-33, 35, 36

27.     I say unto you which hear, Love your enemies, do good to them which hate you,

31.     And as ye would that men should do to you, do ye also to them likewise.

32.     For if ye love them which love you, what thank have ye? for sinners also love those that love them.

33.     And if ye do good to them which do good to you, what thank have ye? for sinners also do even the same.

35.     But love ye your enemies, and do good, and lend, hoping for nothing again; and your reward shall be great, and ye shall be the children of the Highest: for he is kind unto the unthankful and to the evil.

36.     Be ye therefore merciful, as your Father also is merciful.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ زبور 103: 1تا4 آیات

1۔ اے میری جان! خداوند کو مبارک کہہ اور جو کچھ مجھ میں ہے اْس کے قدوس نام کو مبارک کہے۔

2۔ اے میری جان خداوند کو مبارک کہہ اور اْس کی کسی نعمت کو فراموش نہ کر۔

3۔ وہ تیری ساری بدکاری بخشتا ہے۔ وہ تجھے تمام بیماریوں سے شفا دیتا ہے۔

4۔ وہ تیری جان ہلاکت سے بچاتا ہے۔ وہ تیرے سر پر شفقت و رحمت کا تاج رکھتا ہے۔

1. Psalm 103 : 1-4

1     Bless the Lord, O my soul: and all that is within me, bless his holy name.

2     Bless the Lord, O my soul, and forget not all his benefits:

3     Who forgiveth all thine iniquities; who healeth all thy diseases;

4     Who redeemeth thy life from destruction; who crowneth thee with lovingkindness and tender mercies;

2۔ یسعیاہ 38باب1تا6 آیات

1۔ اْنہی دنوں میں حزقیاہ ایسا بیمار پڑا کہ کہ مرنے کے قریب ہو گیا اور یسعیاہ نبی آموص کے بیٹے نے اْس کے پاس آکر اْس سے کہا کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ اپنے گھر کا سارا انتظام کر دے کیونکہ تْو مر جائے گا اور بچنے کا نہیں۔

2۔ تب حزقیاہ نے اپنا منہ دیوار کی طرف کیا اور خدا وند سے دعا کی۔

3۔ اور کہا اے خداوند میں تیری منت کرتا ہوں یاد فرما کہ میں تیرے حضور سچائی اور پورے دل سے چلتا رہا ہوں اور جو تیری نظرمیں بھلا ہے وہی کیا اور حزقیاہ زار و زار رویا۔

4۔تب خداوند کا یہ کلام یسعیاہ پر نازل ہوا۔

5۔ کہ جا اور حزقیاہ سے کہہ کہ خداوند تیرے باپ داؤد کا خدا یوں فرماتا ہے کہ میں نے تیری دعا سنی۔ مَیں نے تیرے آنسو دیکھے۔ سو دیکھ مَیں تیری عمر پندرہ برس بڑھا دوں گا۔

6۔ اور مَیں تجھ کو اور اِس شہر کو شاہ اسور کے ہاتھ سے بچا لوں گا اور مَیں اِس شہر کی حمایت کروں گا۔

2. Isaiah 38 : 1-6

1     In those days was Hezekiah sick unto death. And Isaiah the prophet the son of Amoz came unto him, and said unto him, Thus saith the Lord, Set thine house in order: for thou shalt die, and not live.

2     Then Hezekiah turned his face toward the wall, and prayed unto the Lord,

3     And said, Remember now, O Lord, I beseech thee, how I have walked before thee in truth and with a perfect heart, and have done that which is good in thy sight. And Hezekiah wept sore.

4     Then came the word of the Lord to Isaiah, saying,

5     Go, and say to Hezekiah, Thus saith the Lord, the God of David thy father, I have heard thy prayer, I have seen thy tears: behold, I will add unto thy days fifteen years.

6     And I will deliver thee and this city out of the hand of the king of Assyria: and I will defend this city.

3۔ متی 4باب23 آیت

23۔ اور یسوع تمام گلیل میں پھرتا رہا اور اْن کے عبادتخانوں میں تعلیم دیتا اوربادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا اور لوگوں کی ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری کودور کرتا رہا۔

3. Matthew 4 : 23

23     And Jesus went about all Galilee, teaching in their synagogues, and preaching the gospel of the kingdom, and healing all manner of sickness and all manner of disease among the people.

4۔ متی 9باب18تا25 آیات

18۔وہ اْن سے یہ باتیں کہہ ہی رہا تھا کہ دیکھو ایک سردار نے آکر اْسے سجدہ کیا اور کہا کہ میری بیٹی ابھی مری اے لیکن تو چل کر اپنا ہاتھ اْس پر رکھ تو وہ زندہ ہو جائے گی۔

19۔ یسوع اٹھ کر اپنے شاگردوں سمیت اُس کے پیچھے ہولیا۔

20۔ اور دیکھو ایک عورت نے جِس کے بارہ برس سے خون جاری تھا اُس کے پِیچھے آ کر اُس کی پوشاک کا کنارہ چھوا۔

21۔ کیونکہ وہ اپنے جی میں کہتی تھی کہ اگر صرف اُس کی پوشاک ہی چھو لوں گی تو اچھی وہ جاؤں گی۔

22۔ یسوع نے پھر کر اُسے دیکھا اور کہا بیٹی خاطر جمع رکھ۔ تیرے ایمان نے تجھے اچھا کر دیا۔ پس وہ عورت اُسی گھڑی اچھی ہو گئی۔

23۔ اور جب یسوع سردار کے گھر میں آیا اور بانسلی بجانے والوں کو اور بھیڑ کوغل مچاتے دیکھا۔

24۔ تو کہا ہٹ جاؤ کیونکہ لڑکی مری نہیں بلکہ سوتی ہے۔ وہ اُس پر ہنسنے لگے۔

25۔ مگر جب بھیڑ نکال دی گئی تو اُس نے اندر جا کر اُس کا ہاتھ پکڑا اور لڑکی اُٹھی۔

4. Matthew 9 : 18-25

18     While he spake these things unto them, behold, there came a certain ruler, and worshipped him, saying, My daughter is even now dead: but come and lay thy hand upon her, and she shall live.

19     And Jesus arose, and followed him, and so did his disciples.

20     And, behold, a woman, which was diseased with an issue of blood twelve years, came behind him, and touched the hem of his garment:

21     For she said within herself, If I may but touch his garment, I shall be whole.

22     But Jesus turned him about, and when he saw her, he said, Daughter, be of good comfort; thy faith hath made thee whole. And the woman was made whole from that hour.

23     And when Jesus came into the ruler’s house, and saw the minstrels and the people making a noise,

24     He said unto them, Give place: for the maid is not dead, but sleepeth. And they laughed him to scorn.

25     But when the people were put forth, he went in, and took her by the hand, and the maid arose.

5۔ یوحنا 8 باب1تا11 آیات

1۔ مگر یسوع زیتون کے پہاڑ پر گیا۔

2۔ صبح سویرے ہی وہ پھر ہیکل میں آیا اور سب لوگ اْس کے پاس آئے اور وہ بیٹھ کر انہیں تعلیم دینے لگا۔

3۔ اور فقیہ اور فریسی ایک عورت کو لائے جو زنا میں پکڑی گئی تھی اور اْسے بیچ میں کھڑا کرکے یسوع سے کہا۔

4۔ اے استاد! یہ عورت عین فعل کے دوران پکڑی گئی ہے۔

5۔ توریت میں موسیٰ نے ہم کو حکم دیا ہے کہ ایسی عورتوں کو سنگسار کریں۔پس تْو اِس عورت کی نسبت کیا کہتا ہے؟

6۔ اْنہوں نے اْسے آزمانے کے لئے کہا تھا تاکہ اْس پر الزام لگانے کا کوئی سبب نکالیں مگر یسوع جھْک کراْنگلی سے زمین پر لکھنے لگا۔

7۔ جب وہ اْس سے سوال کرتے ہی رہے تو اْس نے سیدھے ہو کر اْن سے کہا کہ جو تم میں بے گناہ ہو وہی پہلے اْسے پتھر مارے۔

8۔ اور پھر جھْک کر زمین پر اْنگلی سے لکھنے لگا۔

9۔وہ یہ سن کر بڑوں سے لے کر چھوٹوں تک ایک ایک کر کے نکل گئے اور یسوع اکیلا رہ گیا اور وہ عورت بیچ میں کھڑی رہ گئی۔

10۔ یسوع نے سیدھے ہو کر اْس سے کہا اے عورت یہ لوگ کہاں گئے؟ کیا کسی نے تجھ پر حکم نہیں لگایا؟

11۔ اْس نے کہا اے خداوند کسی نے نہیں۔ یسوع نے کہا مَیں بھی تجھ پر حکم نہیں لگاتا۔ جا۔ پھر گناہ نہ کرنا۔

5. John 8 : 1-11

1     Jesus went unto the mount of Olives.

2     And early in the morning he came again into the temple, and all the people came unto him; and he sat down, and taught them.

3     And the scribes and Pharisees brought unto him a woman taken in adultery; and when they had set her in the midst,

4     They say unto him, Master, this woman was taken in adultery, in the very act.

5     Now Moses in the law commanded us, that such should be stoned: but what sayest thou?

6     This they said, tempting him, that they might have to accuse him. But Jesus stooped down, and with his finger wrote on the ground, as though he heard them not.

7     So when they continued asking him, he lifted up himself, and said unto them, He that is without sin among you, let him first cast a stone at her.

8     And again he stooped down, and wrote on the ground.

9     And they which heard it, being convicted by their own conscience, went out one by one, beginning at the eldest, even unto the last: and Jesus was left alone, and the woman standing in the midst.

10     When Jesus had lifted up himself, and saw none but the woman, he said unto her, Woman, where are those thine accusers? hath no man condemned thee?

11     She said, No man, Lord. And Jesus said unto her, Neither do I condemn thee: go, and sin no more.

6۔ لوقا 15 باب1تا10 آیات

1۔ سب محصول لینے والے اور گنہگار اُس کے پاس آتے تھے تاکہ اُس کی باتیں سنیں۔

2۔ اور فریسی اور فقیہ بڑ بڑا کر کہنے لگے یہ آدمی گنہگاروں سے ملتا اور اُن کے ساتھ کھانا کھاتا ہے۔

3۔ اُس نے اُن سے یہ تمثیل کہی کہ۔

4۔ تم میں سے کون سا ایسا آدمی ہے جس کے پاس سو بھیڑیں ہوں اور ان میں سے ایک کھو جائے تو ننانوے کو بیابان میں چھوڑ کر اس کھوئی ہوئی کو جب تک مل نہ جائے ڈھونڈتا نہ رہے؟

5۔ پھر جب مل جاتی ہے تو وہ خوش ہو کر اسے کندھے پر اٹھا لیتا ہے۔

6۔ اور گھر پہنچ کر دوستوں اور پڑوسیوں کو بلاتا ہے اور کہتا ہے میرے ساتھ خوشی کرو کیونکہ میری کھوئی ہوئی بھیڑ مل گئی۔

7۔ میں تم سے کہتا ہوں کہ اسی طرح ننانوے راستبازوں کی نسبت جوتوبہ کی حاجت نہیں رکھتے ایک توبہ کرنے والے گنہگار کے باعث آسمان پر زیادہ خوشی ہوگی۔

8۔ یا کون ایسی عورت ہے جس کے پاس دس درہم ہوں اور ایک کھو جائے تو وہ چراغ جلا کر گھر میں جھاڑو نہ دے اور جب تک مل نہ جائے کوشش سے ڈھونڈتی نہ رہے؟

9۔ اور جب مل جائے تو اپنی دوستوں اور پڑوسنوں کوبلا کر نہ کہے کہ میرے ساتھ خوشی کر کیونکہ میرا کھویا ہوادرہم مل گیا۔

10۔ مَیں تم سے کہتا ہوں ایک توبہ کرنے والے گناہگار کے باعث خدا کے فرشتوں کے سامنے خوشی ہوتی ہے۔

6. Luke 15 : 1-10

1     Then drew near unto him all the publicans and sinners for to hear him.

2     And the Pharisees and scribes murmured, saying, This man receiveth sinners, and eateth with them.

3     And he spake this parable unto them, saying,

4     What man of you, having an hundred sheep, if he lose one of them, doth not leave the ninety and nine in the wilderness, and go after that which is lost, until he find it?

5     And when he hath found it, he layeth it on his shoulders, rejoicing.

6     And when he cometh home, he calleth together his friends and neighbours, saying unto them, Rejoice with me; for I have found my sheep which was lost.

7     I say unto you, that likewise joy shall be in heaven over one sinner that repenteth, more than over ninety and nine just persons, which need no repentance.

8     Either what woman having ten pieces of silver, if she lose one piece, doth not light a candle, and sweep the house, and seek diligently till she find it?

9     And when she hath found it, she calleth her friends and her neighbours together, saying, Rejoice with me; for I have found the piece which I had lost.

10     Likewise, I say unto you, there is joy in the presence of the angels of God over one sinner that repenteth.

7۔ عبرانیوں 10 باب23، 24 آیات

23۔ اور اپنی امید کے اقرار کو مضبوطی سے تھامے رہیں کیونکہ جس نے وعدہ کیا ہے وہ سچا ہے۔

24۔ اور محبت اور نیک کاموں کی ترغیب دینے کے لئے ایک دوسرے کا لحاظ رکھیں۔

7. Hebrews 10 : 23, 24

23     Let us hold fast the profession of our faith without wavering; (for he is faithful that promised;)

24     And let us consider one another to provoke unto love and to good works.



سائنس اور صح


1۔ 2: 23 (خدا محبت ہے)صرف

خدا محبت ہے۔

1. 2 : 23 (God is Love.) only

God is Love.

2۔ 13 :2۔4

حبت اپنی موافقت اور اپنی نوازشوں میں غیر جانبدار اور عالمگیر ہے۔ یہ وہ کھْلا چشمہ ہے جو چلاتا ہے کہ، ”اوہ، ہر وہ شخص جو پیاسا ہو پانی کے پاس آئے۔“

2. 13 : 2-4

Love is impartial and universal in its adaptation and bestowals. It is the open fount which cries, "Ho, every one that thirsteth, come ye to the waters."

3۔ 566 :29۔13

پرانا عہد نامہ فرشتوں کوخدا کے الٰہی پیغامات، مختلف کام سونپتاہے۔ میکائیل کی خاصیت روحانیت کی مضبوطی ہے۔وہ گناہ کی طاقت، شیطان، کے خلاف لشکروں کی راہنمائی کرتا ہے، اور مقدس لڑائی لڑتا ہے۔جبرائیل کے پاس ازل سے موجود محبت سے متعلق شعور کو اجاگر کرنے کی ذمہ داری ہے۔ یہ فرشتے ہمیں گہرائی سے بچاتے ہیں۔ سچائی اور محبت افسوس کے موقع پر قریب آجاتے ہیں، جب مضبوط ایمان اور روحانی طاقت آپس میں کشتی کرتی اور خدا کے فہم کی بدولت پھیلتی ہیں۔ اْس کی حضوری کے جبرائیل کا کوئی مقابلہ نہیں۔لامتناہی ہمیشہ موجود محبت کے لئے سب کچھ محبت ہے، اور کوئی غلطی، گناہ، بیماری نہیں اور نہ موت ہے۔محبت کے خلاف اژدھا زیادہ دیر تک نہیں لڑتا کیونکہ وہ الٰہی اصول کے ہاتھوں مارا جاتا ہے۔سچائی اور محبت اژدھا کے خلاف چھا جاتے ہیں کیونکہ اژدھا اْن کے ساتھ لڑ نہیں سکتا۔ پس بدن اور وح کے مابین تصادم اختتام پذیر ہوتا ہے۔

3. 566 : 29-13

The Old Testament assigns to the angels, God's divine messages, different offices. Michael's characteristic is spiritual strength. He leads the hosts of heaven against the power of sin, Satan, and fights the holy wars. Gabriel has the more quiet task of imparting a sense of the ever-presence of ministering Love. These angels deliver us from the depths. Truth and Love come nearer in the hour of woe, when strong faith or spiritual strength wrestles and prevails through the understanding of God. The Gabriel of His presence has no contests. To infinite, ever-present Love, all is Love, and there is no error, no sin, sickness, nor death. Against Love, the dragon warreth not long, for he is killed by the divine Principle. Truth and Love prevail against the dragon because the dragon cannot war with them. Thus endeth the conflict between the flesh and Spirit.

4۔ 454 :17۔21

شفا اور تعلیم دونوں میں خدا اور انسان سے محبت سچی ترغیب ہے۔محبت راہ کو متاثر کرتی، روشن کرتی، نامزد کرتی اور راہنمائی کرتی ہے۔ درست مقاصد خیالات کو شہ دیتے، اور کلام اور اعمال کو قوت اور آزادی دیتے ہیں۔

4. 454 : 17-21

Love for God and man is the true incentive in both healing and teaching. Love inspires, illumines, designates, and leads the way. Right motives give pinions to thought, and strength and freedom to speech and action.

5۔ 19 :6۔11

یسوع نے انسان کو محبت کا حقیقی فہم، یسوع کی تعلیمات کا الٰہی اصول دیتے ہوئے خدا کے ساتھ راضی ہونے میں مدد کی، اور محبت کا یہ حقیقی فہم روح کے قانون، الٰہی محبت کے قانون کے وسیلہ انسان کو مادے، گناہ اور موت کے قانون سے آزاد کرتا ہے۔

5. 19 : 6-11

Jesus aided in reconciling man to God by giving man a truer sense of Love, the divine Principle of Jesus' teachings, and this truer sense of Love redeems man from the law of matter, sin, and death by the law of Spirit, — the law of divine Love.

6۔ 52 :19۔23

”غمزدہ شخص“ مادی زندگی اور ذہانت کے عدم کواور قادر جامع خدا، اچھائی کی قادر حقیقت کو بہتر طور پر سمجھا۔ شفائیہ عقل یا کرسچن سائنس کے یہ دوافضل نکات ہیں جنہوں نے اْسے محبت سے مسلح کیا۔

6. 52 : 19-23

The "man of sorrows" best understood the nothingness of material life and intelligence and the mighty actuality of all-inclusive God, good. These were the two cardinal points of Mind-healing, or Christian Science, which armed him with Love.

7۔ 359 :20۔28

پوریتانی خاندان سے کرسچن سائنس کی دریافت کنندہ نے اپنی ابتدائی مسیحی تعلیم حاصل کی۔بچپن میں،وہ اکثر اِن الفاظ کو سن کر لطف اندوز ہوتی تھی جو اْس کی پاکباز والدہ کے ہونٹوں سے نکلتے تھے، ”خدا تمہیں بیماری سے اٹھانے کے قابل ہے؛“ اور وہ اِس حوالے کے مفہوم پر غور کرتی تھی جو وہ دوہراتی تھی: ”ایمان لانے والوں کے درمیان یہ معجزے ہوں گے۔۔۔وہ بیماروں پر ہاتھ رکھیں گے تو وہ اچھے ہو جائیں گے۔“

7. 359 : 20-28

From Puritan parents, the discoverer of Christian Science early received her religious education. In childhood, she often listened with joy to these words, falling from the lips of her saintly mother, "God is able to raise you up from sickness;" and she pondered the meaning of that Scripture she so often quotes: "And these signs shall follow them that believe; … they shall lay hands on the sick, and they shall recover."

8۔ 26 :5 (یسوع)۔9، 21۔27

یسوع ہمارے لئے صرف ایک انفرادی تجربہ محفوظ نہیں رکھتا، اگر ہم وفاداری کے ساتھ اْس کے احکامات کی پیروی کرتے ہیں، اور سب غمگین جدوجہد کا پیالہ لیتے ہیں تاکہ اْس کے ساتھ اپنی محبت کے اظہار کے تناسب میں پئیں، جب تک کہ سب الٰہی محبت کے وسیلہ نجات نہ پا لیں۔

سچائی سے متعلق یسوع کی تعلیم اور اْس کی مشق میں ایک قربانی شامل ہوتی ہے جو ہمیں اِس کے اصول کو بطور محبت قبول کرنے کی جانب راغب کرتی ہے۔یہ ہمارے مالک کی بے گناہ زندگی اور موت پر اْس کی قدرت کے اظہار کی بیش قیمت درآمد تھی۔ اْس نے اپنے کاموں سے یہ ثابت کیا کہ کرسچن سائنس بیماری، گناہ اور موت کو تباہ کرتی ہے۔

8. 26 : 5 (Jesus)-9, 21-27

Jesus spares us not one individual experience, if we follow his commands faithfully; and all have the cup of sorrowful effort to drink in proportion to their demonstration of his love, till all are redeemed through divine Love.

Jesus' teaching and practice of Truth involved such a sacrifice as makes us admit its Principle to be Love. This was the precious import of our Master's sinless career and of his demonstration of power over death. He proved by his deeds that Christian Science destroys sickness, sin, and death.

9۔ 365 :15۔19

اگر سائنسدان الٰہی محبت کے وسیلہ اپنے مریض تک پہنچتا ہے، تو شفائیہ کام ایک ہی آمد میں مکمل ہو جائے گا، اور بیماری اپنے آبائی عدم میں غائب ہو جائے گی جیسے کہ صبح کے وقت سورج کی روشنی سے پہلے اوس ہوتی ہے۔

9. 365 : 15-19

If the Scientist reaches his patient through divine Love, the healing work will be accomplished at one visit, and the disease will vanish into its native nothingness like dew before the morning sunshine.

10۔ 366 :12۔21

وہ طبیب جو اپنے ساتھی انسان کے لئے ہمدردی کی کمی رکھتا ہے انسانی احساس میں نامکمل ہے، اور یہ کہنے کے لئے ہمارے پاس رسولی فرمان ہے کہ: ”جو اپنے بھائی سے جسے اْس نے دیکھا ہے محبت نہیں رکھتا وہ خدا سے بھی جسے اْس نے نہیں دیکھا محبت نہیں رکھ سکتا۔“اس روحانی احساس کے نہ ہوتے ہوئے، طبیب الٰہی عقل پر یقین کی کمی رکھتا ہے اور اْسے لامتناہی محبت سے شناسائی نہیں ہے جو اکیلا شفائیہ طاقت عطا کرتا ہے۔ اِس قسم کے نام نہاد سائنسدان متعصب خود نمائی کے اونٹ کو نگلتے ہوئے مکھیوں کو نکالتے جائیں گے۔

10. 366 : 12-21

The physician who lacks sympathy for his fellow-being is deficient in human affection, and we have the apostolic warrant for asking: "He that loveth not his brother whom he hath seen, how can he love God whom he hath not seen?" Not having this spiritual affection, the physician lacks faith in the divine Mind and has not that recognition of infinite Love which alone confers the healing power. Such so-called Scientists will strain out gnats, while they swallow the camels of bigoted pedantry.

11۔ 367 :3۔9

کسی فرد کے لئے نرم الفاظ اور مسیحی حوصلہ افزائی، اْس کے خدشات کے لئے رحم و صبر کرنااور اْن کا خاتمہ کرنا ایسی جذباتی اجتماعی قربانیوں کے نظریات، دقیانوسی مستعار لی گئی تقریروں اور مباحثوں سے قدرے بہتر ہے جوالٰہی محبت سے شعلہ زن جائزکرسچن سائنس کی مضحکہ خیز نقل کے سوا کچھ نہیں ہیں۔

11. 367 : 3-9

The tender word and Christian encouragement of an invalid, pitiful patience with his fears and the removal of them, are better than hecatombs of gushing theories, stereotyped borrowed speeches, and the doling of arguments, which are but so many parodies on legitimate Christian Science, aflame with divine Love.

12۔ 454 :10۔13

محبت تخت نشین ہے۔بدی یا مادے میں نہ ذہانت ہے نہ قوت ہے، یہ کرسچن سائنس کا مطلق عقیدہ ہے، اور یہ ایک بڑی سچائی ہے جو غلطی کے سارے بہروپ بے نقاب کرتی ہے۔

12. 454 : 10-13

Love is enthroned. That evil or matter has neither intelligence nor power, is the doctrine of absolute Christian Science, and this is the great truth which strips all disguise from error.

13۔ 337 :7۔13

حقیقی خوشی کے لئے انسان کو اپنے اصول، الٰہی محبت کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہئے؛ بیٹے کو باپ کے ساتھ،مسیح میں مطابقت کے ساتھ متحد ہونا چاہئے۔ الٰہی سائنس کے مطابق انسا ن کا درجہ ویسا ہی کامل ہے جیسی وہ عقل ہے جو اْسے بناتی ہے۔ ہستی کی حقیقت انسان کو ہم آہنگ اور لافانی بناتی ہے، جبکہ غلطی فانی اور بے ہنگم ہے۔

13. 337 : 7-13

For true happiness, man must harmonize with his Principle, divine Love; the Son must be in accord with the Father, in conformity with Christ. According to divine Science, man is in a degree as perfect as the Mind that forms him. The truth of being makes man harmonious and immortal, while error is mortal and discordant.

14۔ 570 :14۔18

لاکھوں غیر جانبدار عقلیں، سچائی کے سادہ لوح متلاشی، فکر مند خانہ بدوش، صحر ا کے پیاسے، آرام اور پینے کے متلاشی اورمنتظر ہیں۔ مسیح کے نام پر انہیں ٹھنڈے پانی کا ایک پیالہ دیں، اور نتائج سے کبھی نہ ڈریں۔

14. 570 : 14-18

Millions of unprejudiced minds — simple seekers for Truth, weary wanderers, athirst in the desert — are waiting and watching for rest and drink. Give them a cup of cold water in Christ's name, and never fear the consequences.

15۔ 57 :23۔30

محبت فطرت کو وسیع کرتے ہوئے، پاک کرتے ہوئے اور بلند کرتے ہوئے اِسے آراستہ کرتی ہے۔ زمین پر جاڑے کے دھماکے محبت کے پھولوں کو اْکھاڑ سکتے اور اْنہیں آندھی میں منتشر کر سکتے ہیں، مگر جسمانی تعلقات کی یہ علیحدگی خدا کے ساتھ مزید قریب ہونے کی سوچ کو یکجا کرتی ہے، کیونکہ محبت اْس وقت تک جدوجہد کرنے والے دل کی حمایت کرتی ہے جب تک کہ وہ زمین پر سانس لینا نہیں چھوڑتا اور آسمان پر پرواز کے لئے اپنے پر کھولنا شروع نہیں کرتا۔

15. 57 : 23-30

Love enriches the nature, enlarging, purifying, and elevating it. The wintry blasts of earth may uproot the flowers of affection, and scatter them to the winds; but this severance of fleshly ties serves to unite thought more closely to God, for Love supports the struggling heart until it ceases to sigh over the world and begins to unfold its wings for heaven.

16۔ 577 :32۔18

درج ذیل زبور میں ایک لفظ، اگرچہ بہت مدھم طور پر، اْس روشنی کو ظاہر کرتا ہے جو کرسچن سائنس لفظ جسمانی فہم کو خدا کے غیر جسمانی یا روحانی فہم کے لفظ کے ساتھ بدلتے ہوئے کلام پر آتی ہے۔

زبور 23

]الٰہی محبت[ میرا چوپان ہے؛ مجھے کمی نہ ہوگی۔

] الٰہی محبت [مجھے ہری ہری چراہ گاہوں میں بٹھاتی ہے؛] محبت [مجھے راحت کے چشموں کے پاس لے جاتی ہے۔

] الٰہی محبت [میری جان] روحانی فہم [کو بحال کرتی ہے:]محبت[ مجھے اپنے نام کی خاطر صداقت کی راہوں پر لے چلتی ہے۔

بلکہ خواہ موت کی سایہ کی وادی میں سے میرا گزر ہو میں کسی بلا سے نہیں ڈروں گا؛ کیونکہ]محبت[ میرے ساتھ ہے؛ ]محبت کا[ عصا اور ]محبت کی[ لاٹھی سے مجھے تسلی ہے۔

] محبت [میرے دشمنوں کے روبرو میرے آگے دستر خوان بچھاتی ہے: ]محبت[ نے میرے سر پر تیل ملا ہے؛ میرا پیالہ لبریز ہوتا ہے۔

یقیناً بھلائی اور رحمت عمر بھر میرے ساتھ رہیں گی میں ہمیشہ]محبت[ کے گھر میں ]شعور میں [ سکونت کروں گا۔

16. 577 : 32-18

In the following Psalm one word shows, though faintly, the light which Christian Science throws on the Scriptures by substituting for the corporeal sense, the incorporeal or spiritual sense of Deity: —

PSALM XXIII

[Divine Love] is my shepherd; I shall not want.

[Love] maketh me to lie down in green pastures:

[Love] leadeth me beside the still waters.

[Love] restoreth my soul [spiritual sense]: [Love] lead-

eth me in the paths of righteousness for His name's sake.

Yea, though I walk through the valley of the shadow of

death, I will fear no evil: for [love] is with me; [love's]

rod and [love's] staff they comfort me.

[Love] prepareth a table before me in the presence of

mine enemies: [love] anointeth my head with oil; my cup

runneth over.

Surely goodness and mercy shall follow me all the days of

my life; and I will dwell in the house [the consciousness] of

[love] for ever.

17۔ 248 :3 صرف

محبت دلکشی سے اپنی آنکھیں اوجھل کبھی نہیں کرتی۔

17. 248 : 3 only

Love never loses sight of loveliness.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████