اتوار 2 جون ، 2019 |

اتوار 2 جون ، 2019



مضمون۔ قدیم و جدید جادو گری، عرفیت، تنویم، اور علم نومیات سے انکار

SubjectAncient and Modern Necromancy, Alias Mesmerism and Hypnotism, Denounced

سنہری متن:سنہری متن: زبور121: 7 آیت

’’خداوند ہر بلا سے تجھے محفوظ رکھے گا۔‘‘



Golden Text: Psalm 121 : 7

The Lord shall preserve thee from all evil.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور97:1، 6، 7، 9تا12آیات


1۔ خداوند سلطنت کرتا ہے۔ زمین شادمان ہو۔

6۔ آسمان اْس کی صداقت ظاہر کرتا ہے۔ سب قوموں نے اْس کا جلال دیکھا ہے۔

7۔ کھْدی ہوئی مورتوں کے سب پوجنے والے جو بْتوں پر فخر کرتے ہیں شرمندہ ہوں۔ اے معبود! سب اْس کو سجدہ کرو۔

9۔ کیونکہ اے خداوند! تْو تمام زمین پر بلند و بالا ہے تْو سب معبودوں سے اعلیٰ ہے۔

10۔اے خداوند سے محبت رکھنے والو! بدی سے نفرت کرو، وہ اپنے مقدسوں کی جانوں کو محفوظ رکھتا ہے۔ وہ اْن کو شریروں کے ہاتھ سے چْھڑاتا ہے۔

11۔صادقوں کے لئے نور بویا گیا ہے اور راست دلوں کے لئے خوشی۔

12۔ اے صاقو! خداوند میں خوش رہو اور اْ س کے پاک نام کا شکر کرو۔

Responsive Reading: Psalm 97 : 1, 6, 7, 9-12

1.     The Lord reigneth; let the earth rejoice.

6.     The heavens declare his righteousness, and all the people see his glory.

7.     Confounded be all they that serve graven images, that boast themselves of idols: worship him, all ye gods.

9.     For thou, Lord, art high above all the earth: thou art exalted far above all gods.

10.     Ye that love the Lord, hate evil: he preserveth the souls of his saints; he delivereth them out of the hand of the wicked.

11.     Light is sown for the righteous, and gladness for the upright in heart.

12.     Rejoice in the Lord, ye righteous; and give thanks at the remembrance of his holiness.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ زبور34: 12تا15آیات

12۔ وہ کون آدمی ہے جو زندگی کا مشتاق ہے اور بڑی عمر چاہتا ہے تاکہ بھلائی دیکھے؟

13۔ اپنی زبان کو بدی سے باز رکھ اور اپنے ہونٹوں کو دغا کی بات سے۔

14۔ بدی کو چھوڑ اور نیکی کر۔ صلح کا طلب ہو اور اْسی کی پیروی کر۔

15۔ خداوند کی نگاہ صادقوں پر ہے اور اْس کے کان اْن کی فریاد پر لگے رہتے ہیں۔

1. Psalm 34 : 12-15

12     What man is he that desireth life, and loveth many days, that he may see good?

13     Keep thy tongue from evil, and thy lips from speaking guile.

14     Depart from evil, and do good; seek peace, and pursue it.

15     The eyes of the Lord are upon the righteous, and his ears are open unto their cry.

h3 style="text-align:right;" dir="rtl">2۔ 2تواریخ 33باب1تا3، 6(بھی) تا 13، 15، 16آیات

1۔منسی بارہ برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اْس نے یروشلیم میں پچپن برس سلطنت کی۔

2۔ اور اْس نے اْن قوموں کے نفرت انگیز کاموں کے مطابق جن کو خدا بنی اسرائیل کے آگے سے دفع کیا تھا وہی کیا تھا جو خداوند کی نظر میں بْرا تھا۔

3۔کیونکہ اْس نے اْن اونچے مقاموں کو جن کو اْس کے باپ حزویاہ نے ڈھا دیا تھا پھر بنایا اور بعلیم کے لئے مذبحے بنائے اور یسیرتیں تیار کیں اور سارے آسمانی لشکر کو سجدہ کی اوراْن کی پرستش کی۔

6۔ اور اُس نے بن ہنوم کی وادی میں اپنے فرزندوں کو بھی آگ میں چلوایا اور وہ شگُون مانتا اور جادؤ اور افسون کرتا اور بد روحوں کے آشناؤں اور جادوگروں سے تعلق رکھتا تھا اُس نے خُدانو کی نظر میں بہت بد کاری کی جس سے اُسے غصہ دلایا۔

7۔ اور جو کھودی ہوئی مُورت اُس نے بنوائی تھی اُس کو خُدا کے گھر میں نصب کیا جس کی بابت خُدا نے داؤد اور اُس کے بیٹے سلیمان سے کہا تھا کہ میں اس گھر میں یروشلیم میں جسے میں نے بنی اسرائیل کی سب قبیلوں میں سے چُن لیا ہے اپنا نام ابد تک رکھونگا۔

8۔ اور میں بنی اسرائیل کے پاؤں کو اُس سرزمین سے جو میں نے اُن کے باپ دادا کوعنایت کی ہے پھر کبھی نہیں ہٹاؤنگا بشرطیکہ وہ اُن سب باتوں کو جو میں نے اُن کو فرمائیں یعنی اُس ساری شریعت اور آئین اور حکموں کو جو موسیٰ کی معرفت ملے ماننے کی احتیاط رکھیں۔

9۔ اور منسی نے یہوداہ اور یروشلیم کے باشندوں کو یہاں تک گمراہ کیا کہ اُنہوں نے اُن قوموں سے بھی زیادہ بدی کی جن کو خدا نے بنی اسرائیل کے سامنے سے ہلاک کیا تھا۔

10۔ اور خدا نے منسی اور اُس کے لوگوں سے باتیں کیں پر اُنہوں نے کچھ دھیان نہ دیا۔

11۔ اس لئے خداوند اُس پر شاہِ اسور کے سپہ سالاروں کوچڑھالایا جو منسی اور زنجیروں سے جکڑکر اور بیڑیاں ڈال کر بابل کو لے گئے۔

12۔ جب وہ مصیبت میں پڑا تو اُس نے خداوند اپنے خدا سے منت کی اور اپنے باپ دادا کے خُدا کے حضور نہایت خاکسار بنا۔

13۔ اور اُس نے اُس سے دُعا کی۔تب اُس نے اُس کی دُعا قبول کر کے اُس کی فریاد سنی اور اُسے اُس کی مملکت میں یروشلیم میں واپس لایا۔تب منسی نے جان لیا کے خداوند ہی خدا ہے۔

15۔ اور اُس نے اجنبی معبودوں کو اور خداوند کے گھر سے اُس مُورت کو اور سب مذبحوں کو جو اُس نے خُداوند کے گھر کے پہاڑ پر اور یروشلیم میں بنوائے تھے دُور کیا اور اُن کو شہر کے باہر پھینک دیا۔

16۔ اور اُس نے خداوند کے مذبح کی مرمت کی اور اُس پر سلامتی کے ذبیحوں کی اور شُکرگزاری کی قربانیاں چڑھائیں اور یہوداہ کو خداوند اپنے خدا کی پرستش کا حُکم دیا۔

2. II Chronicles 33 : 1-3, 6 (also)-13, 15, 16

1     Manasseh was twelve years old when he began to reign, and he reigned fifty and five years in Jerusalem:

2     But did that which was evil in the sight of the Lord, like unto the abominations of the heathen, whom the Lord had cast out before the children of Israel.

3     For he built again the high places which Hezekiah his father had broken down, and he reared up altars for Baalim, and made groves, and worshipped all the host of heaven, and served them.

6     …also he observed times, and used enchantments, and used witchcraft, and dealt with a familiar spirit, and with wizards: he wrought much evil in the sight of the Lord, to provoke him to anger.

7     And he set a carved image, the idol which he had made, in the house of God, of which God had said to David and to Solomon his son, In this house, and in Jerusalem, which I have chosen before all the tribes of Israel, will I put my name for ever:

8     Neither will I any more remove the foot of Israel from out of the land which I have appointed for your fathers; so that they will take heed to do all that I have commanded them, according to the whole law and the statutes and the ordinances by the hand of Moses.

9     So Manasseh made Judah and the inhabitants of Jerusalem to err, and to do worse than the heathen, whom the Lord had destroyed before the children of Israel.

10     And the Lord spake to Manasseh, and to his people: but they would not hearken.

11     Wherefore the Lord brought upon them the captains of the host of the king of Assyria, which took Manasseh among the thorns, and bound him with fetters, and carried him to Babylon.

12     And when he was in affliction, he besought the Lord his God, and humbled himself greatly before the God of his fathers,

13     And prayed unto him: and he was intreated of him, and heard his supplication, and brought him again to Jerusalem into his kingdom. Then Manasseh knew that the Lord he was God.

15     And he took away the strange gods, and the idol out of the house of the Lord, and all the altars that he had built in the mount of the house of the Lord, and in Jerusalem, and cast them out of the city.

16     And he repaired the altar of the Lord, and sacrificed thereon peace offerings and thank offerings, and commanded Judah to serve the Lord God of Israel.

3۔ 2تواریخ 7باب 14آیت

14۔ تب اگر میرے لوگ جو میرے نام سے کہلاتے ہیں خاکسار بن کر دْعا کریں اور میرے دیدار کے طالب ہوں اور اپنی بْری راہوں سے پھریں تو میں آسمان پر سے سن کر اْن کا گناہ معاف کروں گا اور اْن کے ملک کو بحال کروں گا۔

3. II Chronicles 7 : 14

14     If my people, which are called by my name, shall humble themselves, and pray, and seek my face, and turn from their wicked ways; then will I hear from heaven, and will forgive their sin, and will heal their land.

4۔ یرمیاہ 29باب8(پس)، 9، 11تا13آیات

8۔۔۔۔کیونکہ رب الا فواج اسرائیل کا خد ا یوں فرماتا ہے کہ وہ نبی جو تمہارے درمیان ہیں اور تمہارے غیب دان تم کو گمراہ نہ کریں اور اپنے خواب بینوں کو جو تمہارے ہی کہنے سے خواب دیکھتے ہیں نہ مانو۔

9۔ کیونکہ وہ میرا نام لے کر تم سے جھوٹی نبوت کرتے ہیں۔ مَیں نے اْن کو نہیں بھیجا خداوند فرماتا ہے۔

11۔ کیونکہ میں تمہارے حق میں اپنے خیالات کو جانتا ہوں خداوند فرماتا ہے یعنی سلامتی کے خیالات۔ برائی کے نہیں تاکہ میں تم کو نیک انجام کی امید بخشوں۔

12۔ تب تم میرا نام لو گے اور مجھ سے دعا کرو گے اور میں تمہاری سنوں گا۔

13۔ اوت تم مجھے ڈھونڈو گے اور پاؤ گے۔ جب پورے دل سے میرے طالب ہو گے۔

4. Jeremiah 29 : 8 (thus), 9, 11-13

8     …thus saith the Lord of hosts, the God of Israel; Let not your prophets and your diviners, that be in the midst of you, deceive you, neither hearken to your dreams which ye cause to be dreamed.

9     For they prophesy falsely unto you in my name: I have not sent them, saith the Lord.

11     For I know the thoughts that I think toward you, saith the Lord, thoughts of peace, and not of evil, to give you an expected end.

12     Then shall ye call upon me, and ye shall go and pray unto me, and I will hearken unto you.

13     And ye shall seek me, and find me, when ye shall search for me with all your heart.

5۔ یوحنا 17باب 1تا4، 6تا9، 11،14، 15، 17آیات

1۔ یسوع نے یہ باتیں کہیں اور اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھاکر کہا کہ اے باپ! وہ گھڑی آپہنچی۔ اپنے بیٹے کا جلال ظاہِر کرتا کہ بیٹا تیرا جلال ظاہِر کرے۔

2۔ چنانچہ تونے اُسے ہر بشر پر اختیار دیا ہے تاکہ جنہیں تونے اُسے بخشا ہے اُن سب کو ہمیشہ کی زندگی دے۔

3۔ اور ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدای واحد اور برحق کو اور یسوع مسیح کو جسے تونے بھیجا ہے جائیں۔

4۔ جو کام تونے مجھے کرنے کو دیا تھا اُس کو تمام کر کے میں نے زمین پر تیرا جلال ظاہر کیا۔

6۔ میں نے تیرے نام کو اُن آدمیوں پر ظاہر کیا جنہیں تونے دنیا میں سے مجھے دیا۔ وہ تیرے تھے اور تونے اُنہیں مجھے دیا اور انہوں نے تیرے کلام پر عمل کیا ہے۔

7۔ اب وہ جان گئے کہ جو کچھ تونے مجھے دیا ہے وہ سب تیری ہی طرف سے ہے۔

8۔ کیونکہ جو کلام تونے مجھے پہنچایا وہ مَیں نے اُن کو پہنچا دیا اور اُنہوں نے اُس کو قبول کیا اور سچ جان لیا کہ میں تیری طرف سے نکلا ہوں اور وہ ایمان لائے کہ توہی نے مجھے بھیجا۔

9۔ میں اُن کے لئے درخواست کرتا ہُوں مَیں دُنیا کے لئے درخواست نہیں کرتا ہُوں بلکہ اُن کے لئے جنہیں تونے مجھے دیا ہے کیونکہ وہ تیرے ہیں۔

11۔ میں آگے کو دنیا میں نہ ہوں گا مگر یہ دنیا میں ہیں اور میں تیرے پاس آتا ہوں۔ اے قدوس باپ! اپنے اُس نام کے وسیلہ سے جو تونے مجھے بخشا ہے اُن کی حفاظت کرتا کہ وہ ہماری طرح ایک ہوں۔

14۔ میں نے تیرا کلام انہیں پہنچا دیا اوردنیا نے ان سے عداوت رکھی اس لئے کہ جس طرح میں دنیا کا نہیں وہ بھی دنیا کے نہیں۔

15۔میں یہ درخواست نہیں کرتا کہ تو انہیں دنیا سے اٹھالے بلکہ یہ کہ اس شریر سے ان کی حفاظت کر۔

17۔ انہیں سچائی کے وسیلہ سے مقدس کر۔ تیرا کلام سچائی ہے۔

5. John 17 : 1-4, 6-9, 11, 14, 15, 17

1     These words spake Jesus, and lifted up his eyes to heaven, and said, Father, the hour is come; glorify thy Son, that thy Son also may glorify thee:

2     As thou hast given him power over all flesh, that he should give eternal life to as many as thou hast given him.

3     And this is life eternal, that they might know thee the only true God, and Jesus Christ, whom thou hast sent.

4     I have glorified thee on the earth: I have finished the work which thou gavest me to do.

6     I have manifested thy name unto the men which thou gavest me out of the world: thine they were, and thou gavest them me; and they have kept thy word.

7     Now they have known that all things whatsoever thou hast given me are of thee.

8     For I have given unto them the words which thou gavest me; and they have received them, and have known surely that I came out from thee, and they have believed that thou didst send me.

9     I pray for them: I pray not for the world, but for them which thou hast given me; for they are thine.

11     And now I am no more in the world, but these are in the world, and I come to thee. Holy Father, keep through thine own name those whom thou hast given me, that they may be one, as we are.

14     I have given them thy word; and the world hath hated them, because they are not of the world, even as I am not of the world.

15     I pray not that thou shouldest take them out of the world, but that thou shouldest keep them from the evil.

17     Sanctify them through thy truth: thy word is truth.



سائنس اور صح


1۔ 471: 18۔ 19

خدا لامحدود ہے، اسی لئے وہ ہر جا موجود اور اْس کے علاوہ کوئی قوت ہے نہ کوئی موجود ہے۔

1. 471 : 18-19

God is infinite, therefore ever present, and there is no other power nor presence.

2۔ 469: 25۔ 6

جب ہم یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ خدا، یا اچھائی، ہر جا موجود اور ساری طاقت رکھتا ہے تو ہم قادر مطلق کے بلند مفہوم کو کھو دیتے ہیں، ہم ابھی بھی یہ مانتے ہیں کہ شیطان نامی ایک اور طاقت موجود ہے۔ یہ ایمان کہ ایک سے زیادہ عقل موجود ہیں الٰہی تھیالوجی کے لئے اس قدر تباہ کن ہے جتنی قدیم دیو مالائی کہانیاں اور غیر قوموں کی بْت پرستی ہے۔ ایک باپ،حتیٰ کے خدا،کے ساتھ انسان کا پورا خاندان بھائی ہوں گے اور ایک عقل اور خدا، یا اچھائی کے ساتھ انسان کا بھائی چارہ محبت اور سچائی پر اور اصول اور روحانی قوت پر مشتمل ہو گا جو الٰہی سائنس کو قائم کرتے ہیں۔ ایک سے زیادہ عقل کی فرضی موجودگی بت پرستی کی غلطی پر بنیاد رکھتی تھی۔

2. 469 : 25-6

We lose the high signification of omnipotence, when after admitting that God, or good, is omnipresent and has all-power, we still believe there is another power, named evil. This belief that there is more than one mind is as pernicious to divine theology as are ancient mythology and pagan idolatry. With one Father, even God, the whole family of man would be brethren; and with one Mind and that God, or good, the brotherhood of man would consist of Love and Truth, and have unity of Principle and spiritual power which constitute divine Science. The supposed existence of more than one mind was the basic error of idolatry.

3۔ 103: 18۔ 28

جیسے کہ کرسچن سائنس میں نام دیا گیا ہے، حیوانی مقناطیسیت یا علم نومیات غلطی یا فانی عقل کے لئے خاص اصطلاح ہے۔ یہ ایک جھوٹا عقیدہ ہے کہ عقل مادے میں ہے اور کہ یہ اچھائی اور برائی دونوں ہے؛ کہ بدی اچھائی جتنی حقیقی اور زیادہ طاقتور ہے۔ اس عقیدے میں سچائی کی ایک بھی خصوصیت نہیں ہے۔ یہ یا توبے خبر ہے یا حاسدہے۔ نومیات کی حاسد شکل اخلاقی گراوٹ میں بنیاد رکھتی ہے۔ لافانی عقل کی سچائیاں انسان کو قائم رکھتی ہیں، اور یہ فانی عقل کی داستانیں تباہ کرتی ہیں، جس کے چمکیلے بھڑکیلے دعوے، ایک نادان پروانے کی مانند، اپنے ہی پر جلا کر راکھ ہو جاتے ہیں۔

3. 103 : 18-28

As named in Christian Science, animal magnetism or hypnotism is the specific term for error, or mortal mind. It is the false belief that mind is in matter, and is both evil and good; that evil is as real as good and more powerful. This belief has not one quality of Truth. It is either ignorant or malicious. The malicious form of hypnotism ultimates in moral idiocy. The truths of immortal Mind sustain man, and they annihilate the fables of mortal mind, whose flimsy and gaudy pretensions, like silly moths, singe their own wings and fall into dust.

4۔ 102: 1۔ 11

حیوانی مقناطیسیت کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے، کیونکہ جو کچھ حقیقی، ہم آہنگ اور ابدی ہے اْس سب پر خدا حکمرانی کرتا ہے اور اْس کی طاقت حیوانی ہے نہ انسانی، سائنس میں حیوانی مقناطیسیت، تنویم یا علم نومیات محض ایک نفی ہے، جو نہ ذہانت، طاقت رکھتی ہے اور نہ حقیقت، اور اور ایک لحاظ سے یہ نام نہاد فانی عقل کا ایک غیر حقیقی نظریہ ہے۔

مگر یہاں روح کی ایک حقیقی دلکشی ہے۔ سوئی کی نوک سے قطر تک خدا، یعنی الٰہی عقل کی سب کو سمیٹنے والی طاقت یا دلکشی کی نشاندہی کرتی ہے۔

4. 102 : 1-11

Animal magnetism has no scientific foundation, for God governs all that is real, harmonious, and eternal, and His power is neither animal nor human. Its basis being a belief and this belief animal, in Science animal magnetism, mesmerism, or hypnotism is a mere negation, possessing neither intelligence, power, nor reality, and in sense it is an unreal concept of the so-called mortal mind.

There is but one real attraction, that of Spirit. The pointing of the needle to the pole symbolizes this all-embracing power or the attraction of God, divine Mind.

5۔ 16: 7۔ 8، 15۔ 19

ہمارے استاد نے اپنے شاگردوں کو ایک مختصر دعا سکھائی، جسے ہم نے اْس کے بعد دعائے ربانی کا نام دیا۔

”ہمیں بدی سے بچا“ کے فقرے میں؛ اصل فقرہ یوں موزوں طور پر پڑھا جاتا ہے کہ ”ہمیں بدکار سی بچا“۔یوں پڑھنا اس التجا سے متعلق ہمارے سائنسی ادراک کو مضبوط کرتا ہے، کیونکہ کرسچن سائنس ہمیں سکھاتی ہے کہ ”بدکار“ یا ایک بدی پہلے جھوٹ اور سب جھوٹوں کے لئے استعمال ہونے والے دوسرے نام کے سوا کچھ نہیں ہے۔

5. 16 : 7-8, 15-19

Our Master taught his disciples one brief prayer, which we name after him the Lord’s Prayer.

In the phrase, “Deliver us from evil,” the original properly reads, “Deliver us from the evil one.” This reading strengthens our scientific apprehension of the petition, for Christian Science teaches us that “the evil one,” or one evil, is but another name for the first lie and all liars.

6۔ 584: 17۔ 19 (تا دوسرا؛)

شیطان: بدی، ایک جھوٹا؛ غلطی، نہ جسمانی نہ ذہنی؛ سچائی کا مخالف؛ گناہ، بیماری اور موت کا ایک عقیدہ؛ حیوانی مقناطیسیت یا نومیات؛

6. 584 : 17-19 (to 2nd ;)

Devil. Evil; a lie; error; neither corporeality nor mind; the opposite of Truth; a belief in sin, sickness, and death; animal magnetism or hypnotism;

7۔ 330: 25 (دی)۔ 32

یہ خیال کہ اچھائی اور بدی دونوں حقیقی ہیں مادی سوچ کی ایک فریب نظری ہے، جسے سائنس نیست کرتی ہے۔ بدی کچھ نہیں ہے، کوئی چیز، عقل، کوئی طاقت نہیں۔ جیسے انسان کی طرف سے ظاہر کی گئی ہے کچھ بھی ہونے کا دعویٰ نہ کرتے ہوئے، ایک جھوٹ، شہوت، بے ایمانی، خوش غرضی، حسد، دوغلے پن، نفرت، چوری، بدمعاشی، زنا، قتل، عتاہٹ، جنون، حماقت، شیطان، جہنم، اور سبھی وغیرہ وغیرہ اس لفظ میں جو شامل ہوتے ہیں۔

7. 330 : 25 (The)-32

The notion that both evil and good are real is a delusion of material sense, which Science annihilates. Evil is nothing, no thing, mind, nor power. As manifested by mankind it stands for a lie, nothing claiming to be something, — for lust, dishonesty, selfishness, envy, hypocrisy, slander, hate, theft, adultery, murder, dementia, insanity, inanity, devil, hell, with all the etceteras that word includes.

8۔ 186: 11۔ 16

بدی منفی ہے کیونکہ یہ سچائی کی غیر موجودگی ہے۔ یہ کچھ بھی نہیں ہے، کیونکہ یہ کچھ ہونے کی غیر موجودگی ہے۔ یہ غیر حقیقی ہے کیونکہ یہ خدا، قادرِ مطلق اور ہرجا موجود، کی پہلی سے قیاس شْدہ غیر موجودگی ہے۔ ہر بشر کو یہ سیکھنا چاہئے کہ بدی میں طاقت ہے نہ حقیقت۔

8. 186 : 11-16

Evil is a negation, because it is the absence of truth. It is nothing, because it is the absence of something. It is unreal, because it presupposes the absence of God, the omnipotent and omnipresent. Every mortal must learn that there is neither power nor reality in evil.

9۔ 339: 7 (چونکہ)۔ 19

چونکہ خدا ہی سب کچھ ہے، تو اْس کے عدم احتمال کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ خدا، روح نے سب کچھ تنہا ہی خلق کیا اور اْسے اچھا کہا۔ اس لئی بدی، اچھائی کی مخالف ہوتے ہوئے، غیر حقیقی ہے اور خدا کی تخلیق کردہ نہیں ہو سکتی۔ ایک گناہگار کو اس حقیقت سے کوئی حوصلہ نہیں مل سکتا کہ سائنس بدی کی غیر حقیقت کو ظاہر کرتی ہے،کیونکہ گناہگار بدی کی حقیقت کو سنوارتا ہے، اس چیز کو حقیقی بناتا ہے جو غیر حقیقی ہے، اور یوں ”قہر کے دن کے لئے غضب“ کا ڈھیر لگا تا ہے۔وہ خود کے خلاف،ایک خوفناک غیر حقیقت میں بیداری کے خلاف سازش میں شریک ہو رہا ہے، جس سے وہ دھوکہ کھا رہا ہے۔ صرف وہ لوگ جو گانہ سے توبہ کرتے اور غیر حقیقت کو ترک کرتے ہیں، وہی بدی کی غیر حقیقت کو مکمل طور پر سمجھ سکتے ہیں۔

9. 339 : 7 (Since)-19

Since God is All, there is no room for His unlikeness. God, Spirit, alone created all, and called it good. Therefore evil, being contrary to good, is unreal, and cannot be the product of God. A sinner can receive no encouragement from the fact that Science demonstrates the unreality of evil, for the sinner would make a reality of sin, — would make that real which is unreal, and thus heap up “wrath against the day of wrath.” He is joining in a conspiracy against himself, — against his own awakening to the awful unreality by which he has been deceived. Only those, who repent of sin and forsake the unreal, can fully understand the unreality of evil.

10۔ 367: 30۔ 5

کیونکہ سچائی لامتناہی ہے، اس لئے سچائی کو کچھ بھی نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ کیونکہ سچائی اچھائی میں قادر مطلق ہے، تو غلطی، سچائی کی مخالف، میں کوئی طاقت نہیں ہے۔ لیکن بدی عدم کا ہم وزن مدِ مقابل ہے۔عظیم ترین غلطی بلند و بالا اچھائی کی جعلی مخالف ہے۔ سائنس سے اجاگر ہونے والا اعتماد اس حقیقت میں پنہاں ہے کہ سچائی حقیقی ہے اور غلطی غیر حقیقی۔ غلطی سچائی کے سامنے بْزدل ہے۔

10. 367 : 30-5

Because Truth is infinite, error should be known as nothing. Because Truth is omnipotent in goodness, error, Truth’s opposite, has no might. Evil is but the counterpoise of nothingness. The greatest wrong is but a supposititious opposite of the highest right. The confidence inspired by Science lies in the fact that Truth is real and error is unreal. Error is a coward before Truth.

11۔ 450: 19۔ 26

کرسچن سائنسدان بدی، بیماری اور موت کو ختم کرنے کی فہرست میں شامل ہے، اور وہ خود کے عدم اور خدا یااچھائی کے قادر ہونے کو سمجھنے سے ان پر قابو پا سکتا ہے۔ اْس کے لئے بیماری گناہ سے کم آزمائش نہیں ہے، وہ اِ ن دونوں پر خدا کی قدرت کو سمجھتے ہوئے دونوں سے شفا پاتا ہے۔ کرسچن سائنسدان یہ جانتا ہے کہ وہ غلطی کے عقائد ہیں، جنہیں سچائی نیست کرسکتی اور کرے گی۔

11. 450 : 19-26

The Christian Scientist has enlisted to lessen evil, disease, and death; and he will overcome them by understanding their nothingness and the allness of God, or good. Sickness to him is no less a temptation than is sin, and he heals them both by understanding God’s power over them. The Christian Scientist knows that they are errors of belief, which Truth can and will destroy.

12۔ 106: 15۔ 29

اس نسل کو جو کرسچن سائنس کی عدالت میں بیٹھتی ہے، صرف ایسے طریقوں کی منظوری کرنے دیں جو سچائی میں قابل اثبات ہیں اور اْن کے کاموں سے جانے جاتے ہیں، اور دیگر سبھی کی درجہ بندی کرنے دیں جیسے کہ مقدس پولوس نے گلتیوں کے نام اپنے بڑے خط میں کیا، جب اْس نے یوں لکھا:

”اب جسم کے کام توظاہر ہیں یعنی حرامکاری، ناپاکی، شہوت پرستی، بْت پرستی، جادوگری، عداوتیں، جھگڑا، حسد، غصہ، تفرقے، جدائیاں، بدعتیں، بْغض، نشہ بازی، ناچ رنگ، اور اَور اِن کی مانند۔ ان کی بابت تمہیں پہلے سے کہہ دیتا ہوں جیسا کہ پیشتر جتا چْکا ہوں کہ ایسے کام کرنے والے خدا کی بادشاہی کے وارث نہ ہوں گے۔ مگر روح کا پھل محبت، خوشی، اطمینان، تحمل، مہربانی، نیکی، ایمانداری، حلم، پرہیزگاری ہے۔ ایسے کاموں کی کوئی شریعت مخالف نہیں۔“

12. 106 : 15-29

Let this age, which sits in judgment on Christian Science, sanction only such methods as are demonstrable in Truth and known by their fruit, and classify all others as did St. Paul in his great epistle to the Galatians, when he wrote as follows:

“Now the works of the flesh are manifest, which are these; Adultery, fornication, uncleanness, lasciviousness, idolatry, witchcraft, hatred, variance, emulations, wrath, strife, seditions, heresies, envyings, murders, drunkenness, revellings and such like: of the which I tell you before, as I have also told you in time past, that they which do such things shall not inherit the kingdom of God. But the fruit of the Spirit is love, joy, peace, longsuffering, gentleness, goodness, faith, meekness, temperance: against such there is no law.”


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████