اتوار 2 مئی،2021



مضمون۔ دائمی سزا

SubjectEverlasting Punishment

سنہری متن: یسعیاہ 43باب1 آیت

”اور اب اے یعقوب! خداوند جس نے تجھ کو پیدا کیا اور جس نے اے اسرائیل تجھ کو بنایا یوں فرماتا ہے کہ خوف نہ کر کیونکہ مَیں نے تیرا فدیہ دیا ہے۔ مَیں نے تیرا نام لے کر تجھے بلایا ہے۔ تْو میرا ہے۔“



Golden Text: Isaiah 43 : 1

But now thus saith the Lord that created thee, O Jacob, and he that formed thee, O Israel, Fear not: for I have redeemed thee, I have called thee by thy name; thou art mine.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: لوقا 7باب37تا 39، 44تا48 آیات


37۔ تو دیکھو ایک بد چلن عورت جو اْس شہر کی تھی یہ جان کر کہ وہ اْس فریسی کے گھر میں کھانا کھانے بیٹھاہے سنگِ مر مر کے عطر دان میں عطر لائی۔

38۔ اور اْس کے پاؤں کے پاس روتی ہوئی پیچھے کھڑی ہو کر اْس کے پاؤں آنسوؤں سے بھگونے لگی اور اپنے سر کے بالوں سے اْنہیں پونچھا اور اْس کے پاؤں بہت چومے اور اْن پر عطر ڈالا۔

39۔ اْس کی دعوت کرنے والا فریسی یہ دیکھ کر اپنے جی میں کہنے لگا کہ اگر یہ شخص نبی ہوتا تو جانتا کہ جو اْسے چھوتی ہے کون اور کیسی عورت ہے کیونکہ بدچلن ہے۔

44۔ اور اْس عورت کی طرف پھر کر اْس نے شمعون سے کہا کیا تْو اِس عورت کو دیکھتا ہے؟ مَیں تیرے گھر میں آیا۔ تْو نے میرے پاؤں دھونے کو پانی نہ دیا مگر اِس نے میرے پاؤں آنسوؤں سے بھگو دئیے اور اپنے بالوں سے پونچھے۔

45۔ تْو نے مجھے بوسہ نہ دِیامگر اِس نے جب سے مَیں آیا ہوں میرے پاؤں چومنا نہ چھوڑے۔

46۔ تْو نے میرے سر پر تیل نہ ڈالا مگر اِس نے میرے پاؤں پر عطر ڈالا ہے۔

47۔ اِسی لئے مَیں تجھ سے کہتا ہوں کہ اِس کے گناہ جو بہت تھے معاف ہوئے کیونکہ اِس نے بہت محبت کی مگر جس کے تھوڑے گناہ معاف ہوئے وہ تھوڑی محبت کرتا ہے۔

48۔ اور اْس عورت سے کہا تیرے گناہ معاف ہوئے۔

Responsive Reading: Luke 7 : 37-39, 44-48

37.     And, behold, a woman in the city, which was a sinner, when she knew that Jesus sat at meat in the Pharisee’s house, brought an alabaster box of ointment,

38.     And stood at his feet behind him weeping, and began to wash his feet with tears, and did wipe them with the hairs of her head, and kissed his feet, and anointed them with the ointment.

39.     Now when the Pharisee which had bidden him saw it, he spake within himself, saying, This man, if he were a prophet, would have known who and what manner of woman this is that toucheth him: for she is a sinner.

44.     And he turned to the woman, and said unto Simon, Seest thou this woman? I entered into thine house, thou gavest me no water for my feet: but she hath washed my feet with tears, and wiped them with the hairs of her head.

45.     Thou gavest me no kiss: but this woman since the time I came in hath not ceased to kiss my feet.

46.     My head with oil thou didst not anoint: but this woman hath anointed my feet with ointment.

47.     Wherefore I say unto thee, Her sins, which are many, are forgiven; for she loved much: but to whom little is forgiven, the same loveth little.

48.     And he said unto her, Thy sins are forgiven.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ یرمیاہ 31باب3 آیت

3۔ خداوند قدیم سے مجھ پر ظاہر ہوا اور کہا کہ مَیں نے تجھ سے ابدی محبت رکھی اِس لئے مَیں نے اپنی شفقت تجھ پر بڑھائی۔

1. Jeremiah 31 : 3

3     The Lord hath appeared of old unto me, saying, Yea, I have loved thee with an ever-lasting love: therefore with lovingkindness have I drawn thee.

2۔ یوایل 2باب12، 13، 25، 27 آیات

12۔ لیکن خداوند فرماتا ہے کہ اب بھی پورے دل سے اور روزہ رکھ کر اور گریہ زاری و ماتم کرتے ہوئے میری طرف رجوع لاؤ۔

13۔ اور اپنے کپڑوں کو نہیں بلکہ دلوں کو چاک کر کے خداوند اپنے خدا کی طرف متوجہ ہو کیونکہ وہ رحیم و مہربان قہر کرنے میں دھیما اور شفقت میں غنی ہے اور عذاب نازل کرنے سے باز رہتا ہے۔

25۔ اور اْن برسوں کا حاصل جو تمہارے خلاف بھیجی ہوئی فوج ملخ نگل گئی اور کھا کر چٹ کر گئی تم کو واپس دوں گا۔

27۔ تب تم جانو گے کہ مَیں اسرائیل کے درمیان ہوں مَیں خداوند تمہارا خدا ہوں اور کوئی دوسرا نہیں اور میرے لوگ کبھی شرمندہ نہ ہوں گے۔

2. Joel 2 : 12, 13, 25, 27

12     Therefore also now, saith the Lord, turn ye even to me with all your heart, and with fasting, and with weeping, and with mourning:

13     And rend your heart, and not your garments, and turn unto the Lord your God: for he is gracious and merciful, slow to anger, and of great kindness, and repenteth him of the evil.

25     And I will restore to you the years that the locust hath eaten, the cankerworm, and the caterpiller, and the palmerworm, my great army which I sent among you.

27     And ye shall know that I am in the midst of Israel, and that I am the Lord your God, and none else: and my people shall never be ashamed.

3۔ یسعیاہ 43باب25 آیت

25۔ مَیں ہی ہوں جو اپنے نام کی خاطر تیرے گناہوں کو مٹاتا ہوں اور مَیں تیری خطاؤں کو یاد نہیں رکھوں گا۔

3. Isaiah 43 : 25

25     I, even I, am he that blotteth out thy transgressions for mine own sake, and will not remember thy sins.

4۔ لوقا 4باب14 (یسوع) (تا:)آیت

14۔ پھر یسوع روح کی قوت سے بھرا ہوا گلیل کو لوٹا۔

4. Luke 4 : 14 (Jesus) (to :)

14     Jesus returned in the power of the Spirit into Galilee:

5۔ لوقا 5باب 1، 4تا6، 7 (اور بھر دیں)، 8، 10 (اور یسوع)، 27، 29تا32 آیات

1۔جب بھیڑ اْس پر گری پڑتی تھی اور خدا کا کلام سنتی تھی اور وہ گینسرت کی جھیل کے کنارے کھڑا تھا تو ایسا ہوا۔

4۔ جب کلام کر چکا تو شمعون سے کہا گہرے میں لے چل اور تم شکار کے لئے اپنے جال ڈالو۔

5۔ شمعون نے جواب میں کہا اے استاد ہم نے رات بھر محنت کی اور کچھ ہاتھ نہ آیا مگر تیرے کہنے سے جال ڈالتا ہوں۔

6۔ یہ کِیا اور وہ مچھلیوں کا بڑا غول گھیر لائے اور اْن کے جال پھٹنے لگے۔

7۔۔۔۔دونوں کشتیاں یہاں تک بھر دیں کہ ڈوبنے لگیں۔

8۔ شمعون پطرس یہ دیکھ کر یسوع کے پاؤں میں گرا اور کہا اے خداوند! میرے پاس سے چلا جا کیونکہ مَیں گناہگار آدمی ہوں۔

10۔یسوع نے شمعون سے کہا خوف نہ کر۔ اب سے تْو آدمیوں کا شکار کیا کرے گا۔

27۔ اِن باتوں کے بعد وہ باہر گیا اور لاوی نام ایک محصول لینے والے کو محصول کی چوکی پر بیٹھے دیکھا اور اْس سے کہا میرے پیچھے ہولے۔

29۔ پھر لاوی نے اپنے گھر میں اْس کی بڑی ضیافت کی اور محصول لینے والوں اور اوروں کا جو اْس کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھے تھے بڑا مجمع تھا۔

30۔ اور فریسی اور اْن کے فقیہ اْس کے شاگردوں سے یہ کہہ کر بڑبڑانے لگے کہ تم کیوں محصول لینے والوں اور گناہگاروں کے ساتھ کھاتے پیتے ہو؟

31۔یسوع نے جواب میں اْن سے کہا کہ تندرستوں کو طبیب کی ضرورت نہیں بلکہ بیماروں کو۔

32۔مَیں راستبازوں کو نہیں بلکہ گناہگاروں کو توبہ کے لئے بلانے آیا ہوں۔

5. Luke 5 : 1, 4-6, 7 (and filled), 8, 10 (And Jesus), 27, 29-32

1     And it came to pass, that, as the people pressed upon him to hear the word of God, he stood by the lake of Gennesaret,

4     Now when he had left speaking, he said unto Simon, Launch out into the deep, and let down your nets for a draught.

5     And Simon answering said unto him, Master, we have toiled all the night, and have taken nothing: nevertheless at thy word I will let down the net.

6     And when they had this done, they inclosed a great multitude of fishes: and their net brake.

7     …and filled both the ships, so that they began to sink.

8     When Simon Peter saw it, he fell down at Jesus’ knees, saying, Depart from me; for I am a sinful man, O Lord.

10     And Jesus said unto Simon, Fear not; from henceforth thou shalt catch men.

27     And after these things he went forth, and saw a publican, named Levi, sitting at the receipt of custom: and he said unto him, Follow me.

29     And Levi made him a great feast in his own house: and there was a great company of publicans and of others that sat down with them.

30     But their scribes and Pharisees murmured against his disciples, saying, Why do ye eat and drink with publicans and sinners?

31     And Jesus answering said unto them, They that are whole need not a physician; but they that are sick.

32     I came not to call the righteous, but sinners to repentance.

6۔ لوقا 15باب1، 7 (خوشی)، 11تا22،25(تا:)، 28تا32 آیات

1۔ سب محصول لینے والے اور گناہگار اْس کے پاس آتے تھے تاکہ اْس کی باتیں سنیں۔

7۔ ۔۔۔ننانوے راستبازوں کی نسبت جو توبہ کی حاجت نہیں رکھتے ایک توبہ کرنے والے گناہگار کے باعث آسمان پر زیادہ خوشی ہوگی۔

11۔ پھر اْس نے کہا کسی شخص کے دو بیٹے تھے۔

12۔ اْن میں سے چھوٹے نے باپ سے کہا اے باپ! مال کا جو حصہ مجھ کو پہنچتا ہے مجھے دے دے۔ اْس نے اپنا مال متاع اْنہیں بانٹ دیا۔

13۔ اور بہت دن نہ گزرے کہ چھوٹا بیٹا اپناسب کچھ جمع کر کے دور دراز ملک کو روانہ ہوا اور وہاں اپنا مال بد چلنی میں اڑا دیا۔

14۔ اور جب سب کچھ خرچ کر چکا تو اْس ملک میں سخت کال پڑا اور وہ محتاج ہونے لگا۔

15۔پھر اْس ملک کے ایک باشندے کے ہاں جا پڑا۔ اْس نے اْس کو اپنے کھیتوں میں سور چرانے بھیجا۔

16۔اور اْسے آرزو تھی کہ جو پھلیاں سور کھاتے تھے انہی سے اپنا پیٹ بھرے مگر کوئی اْسے نہ دیتا تھا۔

17۔ پھر اْس نے ہوش میں آکر کہا میرے باپ کے بہت سے مزدوروں کو افراط سے روٹی ملتی ہے اور مَیں یہاں بھوکہ مر رہا ہوں!

18۔ مَیں اٹھ کر اپنے باپ کے پاس جاؤں گا اور اْس سے کہوں گا اے باپ! مَیں آسمان کا اور تیری نظر میں گناہگار ہوں۔

19۔ اب اِس لائق نہیں رہا کہ پھر سے تیرا بیٹا کہلاؤں۔مجھے اپنے مزدوروں جیسا کر لے۔

20۔پس وہ اٹھ کر اپنے باپ کے پاس چلا۔ وہ ابھی دور ہی تھا کہ اْسے دیکھ کر اْس کے باپ کو ترس آیا اور دوڑ کر اْس کو گلے لگایا اور چومہ۔

21۔ بیٹے نے اْس سے کہا اے باپ! مَیں آسمان کا اور تیری نظر میں گناہگار ہوں۔اب اِس لائق نہیں رہا کہ پھر تیرا بیٹا کہلاؤں۔

22۔باپ نے اپنے نوکروں سے کہا اچھے سے اچھا لباس جلد نکال کر اْسے پہناؤ اور اْس کے ہاتھ میں انگوٹھی اور پاؤں میں جوتی پہناؤ۔

25۔ لیکن اْس کا بڑا بیٹا کھیت میں تھا۔

28۔ وہ غصے ہوا اور اندر جانا نہ چاہا مگر اْس کا باپ باہر جا کر اْسے منانے لگا۔

29۔ اْس نے اپنے باپ سے جواب میں کہا دیکھ اتنے برسوں سے مَیں تیری خدمت کرتا ہوں اور کبھی تیری حکم عدولی نہیں کی مگر مجھے تْو نے کبھی ایک بکری کا بچہ بھی نہ دیا کہ اپنے دوستوں کے ساتھ خوشی مناتا۔

30۔ لیکن جب تیرا بیٹا آیا جس نے تیرا مال کسبیوں میں اڑا دیا تو اْس کے لئے تْو نے پلا ہوا بچھڑا ذبح کرادیا۔

31۔اْس نے اْس سے کہا بیٹا! تْو تو ہمیشہ میرے پاس ہے اور جو کچھ میرا ہے وہ تیرا ہی ہے۔

32۔لیکن خوشی منانا اور شادمان ہونا مناسب تھا کیونکہ تیرا یہ بھائی مردہ تھا۔ اب زندہ ہوا۔ کھویا ہوا تھا۔ اب ملا ہے۔

6. Luke 15 : 1, 7 (joy), 11-22, 25 (to :), 28-32

1     Then drew near unto him all the publicans and sinners for to hear him.

7     …joy shall be in heaven over one sinner that repenteth, more than over ninety and nine just persons, which need no repentance.

11     And he said, A certain man had two sons:

12     And the younger of them said to his father, Father, give me the portion of goods that falleth to me. And he divided unto them his living.

13     And not many days after the younger son gathered all together, and took his journey into a far country, and there wasted his substance with riotous living.

14     And when he had spent all, there arose a mighty famine in that land; and he began to be in want.

15     And he went and joined himself to a citizen of that country; and he sent him into his fields to feed swine.

16     And he would fain have filled his belly with the husks that the swine did eat: and no man gave unto him.

17     And when he came to himself, he said, How many hired servants of my father’s have bread enough and to spare, and I perish with hunger!

18     I will arise and go to my father, and will say unto him, Father, I have sinned against heaven, and before thee,

19     And am no more worthy to be called thy son: make me as one of thy hired servants.

20     And he arose, and came to his father. But when he was yet a great way off, his father saw him, and had compassion, and ran, and fell on his neck, and kissed him.

21     And the son said unto him, Father, I have sinned against heaven, and in thy sight, and am no more worthy to be called thy son.

22     But the father said to his servants, Bring forth the best robe, and put it on him; and put a ring on his hand, and shoes on his feet:

25     Now his elder son was in the field:

28     And he was angry, and would not go in: therefore came his father out, and intreated him.

29     And he answering said to his father, Lo, these many years do I serve thee, neither transgressed I at any time thy commandment: and yet thou never gavest me a kid, that I might make merry with my friends:

30     But as soon as this thy son was come, which hath devoured thy living with harlots, thou hast killed for him the fatted calf.

31     And he said unto him, Son, thou art ever with me, and all that I have is thine.

32     It was meet that we should make merry, and be glad: for this thy brother was dead, and is alive again; and was lost, and is found.

7۔ زبور 119: 176(تا پہلا؛) آیت

176۔ مَیں کھوئی ہوئی بھیڑ کی مانند بھٹک گیا ہوں۔

7. Psalm 119 : 176 (to 1st ;)

176     I have gone astray like a lost sheep;

8۔ زبور 25: 5 (تا؛)، 6تا8 آیات

5۔مجھے اپنی سچائی پر چلا اور تعلیم دے۔ کیونکہ تْو میرا نجات دینے والا خدا ہے۔

6۔اے خداوند اپنی رحمتوں اور شفقتوں کو یاد فرما کیونکہ وہ ازل سے ہیں۔

7۔میری جوانی کی خطاؤں اور میرے گناہوں کو یاد نہ کر۔ اے خداوند! اپنی نیکی کی خاطر اپنی شفقت کے مطابق مجھے یاد فرما۔

8۔ خداوند نیک اور راست ہے۔ اِس لئے وہ گناہگاروں کو راہِ حق کی تعلیم دے گا۔

8. Psalm 25 : 5 (to ;), 6-8

5     Lead me in thy truth, and teach me: for thou art the God of my salvation;

6     Remember, O Lord, thy tender mercies and thy lovingkindnesses; for they have been ever of old.

7     Remember not the sins of my youth, nor my transgressions: according to thy mercy remember thou me for thy goodness’ sake, O Lord.

8     Good and upright is the Lord: therefore will he teach sinners in the way.

9۔ یسعیاہ 55باب7تا9 آیات

7۔ شریر اپنی راہ کو ترک کرے اور بدکار اپنے خیالوں کو اور وہ خداوند کی طرف پھرے اور وہ اْس پر رحم کرے گا اور ہمارے خدا کی طرف کیونکہ وہ کثرت سے معاف کرے گا۔

8۔ خداوند فرماتا ہے کہ میرے خیال تمہارے خیال نہیں اور نہ تمہاری راہیں میری راہیں ہیں۔

9۔ کیونکہ جس قدر آسمان زمین سے بلند ہے اْسی قدر میری راہیں تمہاری راہوں سے اور میرے خیال تمہارے خیالوں سے بلند ہیں۔

9. Isaiah 55 : 7-9

7     Let the wicked forsake his way, and the unrighteous man his thoughts: and let him return unto the Lord, and he will have mercy upon him; and to our God, for he will abundantly pardon.

8     For my thoughts are not your thoughts, neither are your ways my ways, saith the Lord.

9     For as the heavens are higher than the earth, so are my ways higher than your ways, and my thoughts than your thoughts.

10۔ یسعیاہ 44باب21(مَیں) (تا؛) 22 آیات

21۔۔۔۔ مَیں نے تجھے بنایا۔

22۔ مَیں نے تیری خطاؤں کو گھٹا کی مانند اور تیرے گناہوں کو بادل کی مانند مٹا ڈالا۔ میرے پاس واپس آجا کیونکہ مَیں نے تیرا فدیہ دیا ہے۔

10. Isaiah 44 : 21 (I) (to ;), 22

21     I have formed thee;

22     I have blotted out, as a thick cloud, thy transgressions, and, as a cloud, thy sins: return unto me; for I have redeemed thee.



سائنس اور صح


1۔ 35 :30

محبت کا نمونہ گناہگار کی اصلاح ہے۔

1. 35 : 30

The design of Love is to reform the sinner.

2۔ 6: 3۔5، 11۔22

الٰہی محبت انسان کی اصلاح کرتی اور اْس پر حکمرانی کرتی ہے۔ انسان معافی مانگ سکتے ہیں لیکن صرف الٰہی اصول ہی گناہگار کی اصلاح کرتا ہے۔

گناہ کے نتیجے میں تکالیف کا موجب بننا، گناہ کو تباہ کرنے کا وسیلہ ہے۔ گناہ میں ملنے والی ہر فرضی تسکین اس کے متوازی درد سے زیادہ آراستہ ہوگی، جب تک کہ مادی زندگی اور گناہ پر یقین تباہ نہیں کر دیا جاتا۔آسمان یعنی ہستی کی ہم آہنگی پر پہنچنے کے لئے ہمیں الٰہی اصول کی ہستی کو سمجھنا ہوگا۔

”خدا محبت ہے۔“ اس سے زیادہ ہم مانگ نہیں سکتے، اِس سے اونچا ہم دیکھ نہیں سکتے اور اس سے آگے ہم جا نہیں سکتے۔ یہ فرض کرنا کہ جیسے خدا کا رحم مطلوب یا غیر مطلوب ہوتا ہے اْسی کے مطابق خدا گناہ کو معاف کرتا یا سزا دیتا ہے، محبت کی غلط سمجھ ہے اور یہ اپنے غلط اعمال کے لئے دعا کو حفاظتی در بنانے کے مترادف ہے۔

2. 6 : 3-5, 11-22

Divine Love corrects and governs man. Men may pardon, but this divine Principle alone reforms the sinner.

To cause suffering as the result of sin, is the means of destroying sin. Every supposed pleasure in sin will furnish more than its equivalent of pain, until belief in material life and sin is destroyed. To reach heaven, the harmony of being, we must understand the divine Principle of being.

"God is Love." More than this we cannot ask, higher we cannot look, farther we cannot go. To suppose that God forgives or punishes sin according as His mercy is sought or unsought, is to misunderstand Love and to make prayer the safety-valve for wrong-doing.

3۔ 362 :1۔7، 11 (یہ)۔12

یہ لوقا کی انجیل کے ساتویں باب میں اس سے منسلک کیا گیا ہے کہ ایک بار یسوع کسی فریسی، بنام شمعون،کے گھر کا مہمانِ خصوصی بنا، وہ شمعون شاگردبالکل نہیں تھا۔ جب وہ کھانا کھا رہے تھے، ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا، جیسے کہ یہ مشرقی مہمان نوازی کے فہم میں رکاوٹ بناہو۔ایک ”اجنبی عورت“ اندر آئی۔۔۔۔یہ عورت (مریم مگدلینی، جیسا کہ اْسے یہی بلایا جاتا تھا) یسوع کے پاس پہنچی۔

3. 362 : 1-7, 11 (this)-12

It is related in the seventh chapter of Luke's Gospel that Jesus was once the honored guest of a certain Pharisee, by name Simon, though he was quite unlike Simon the disciple. While they were at meat, an unusual incident occurred, as if to interrupt the scene of Oriental festivity. A "strange woman" came in. … this woman (Mary Magdalene, as she has since been called) approached Jesus.

4۔ 363 :8۔15، 21 (اور)۔31

کیا یسوع نے اْس عورت کو حقارت کی نظر سے دیکھا؟ کیا اْس نے اْس کی عقیدت کو روک دیا؟ نہیں! اْس نے نہایت شفقت کے ساتھ اْس کی تعریف کی۔ اور ایسا کچھ نہیں ہو اتھا۔ وہ سب جانتے ہوئے جو اْس کے ارد گرد کھڑے لوگ اپنے دلوں میں سوچ رہے تھے، خاص طور پر میزبان کے دل میں، وہ پریشان ہو رہے تھے کہ ایک نبی ہوتے ہوئے مہمان خصوصی ایک دم سے اس عورت کے اخلاقی درجے کو نہیں جانچ پایا اور اْسے دور ہٹنے کو نہیں کہا، یہ سب جانتے ہوئے، یسوع نے انہیں ایک مختصر تمثیل یا کہانی کے ساتھ ملامت کیا۔۔۔۔ اور یوں سب کے لئے ایک سبق دیا، جس کے بعد اْس عورت کے لئے یہ شاندار اعلان دیا، ”تیرے گناہ معاف ہوئے۔“

اْس نے اْس کے الٰہی محبت کے قرض کو کیوں معاف کر دیا؟ کیااْس نے توبہ کی اور تبدیل ہوئی، اور کیا اْس کی بصیرت نے اِس بے ساختہ اخلاقی شورش کا بھانپ لیا؟ اْس کے پاؤں پر عطر لگانے سے پہلے اْس نے اپنے آنسوؤں سے انہیں دھویا۔ دوسرے ثبوتوں کی غیر موجودگی میں، اْس کی معافی، تبدیلی اور دانش میں ترقی کی توقع کے لئے کیا اْس کا غم موزوں ثبوت تھا؟

4. 363 : 8-15, 21 (and)-31

Did Jesus spurn the woman? Did he repel her adoration? No! He regarded her compassionately. Nor was this all. Knowing what those around him were saying in their hearts, especially his host, — that they were wondering why, being a prophet, the exalted guest did not at once detect the woman's immoral status and bid her depart, — knowing this, Jesus rebuked them with a short story or parable. … and so brought home the lesson to all, following it with that remarkable declaration to the woman, "Thy sins are forgiven."

Why did he thus summarize her debt to divine Love? Had she repented and reformed, and did his insight detect this unspoken moral uprising? She bathed his feet with her tears before she anointed them with the oil. In the absence of other proofs, was her grief sufficient evidence to warrant the expectation of her repentance, reformation, and growth in wisdom?

5۔ 364 :8۔12

اس قسم کے ناقابل بیان احساس کے لئے کس کو بلند خراج تحسین جائے گا فریسی کی مہمان نوازی کو یا مگدلینی کی ندامت کو؟ یسوع نے اِس سوال کا جواب خود کار راستباز کی ملامت اور تائب کی رہائی کا اعلان کرنے سے دیا۔

5. 364 : 8-12

Which was the higher tribute to such ineffable affection, the hospitality of the Pharisee or the contrition of the Magdalen? This query Jesus answered by rebuking self-righteousness and declaring the absolution of the penitent.

6۔ 473 :4 (سچائی)۔7

سچائی، یعنی خدا، غلطی کا باپ نہیں ہے۔گناہ، بیماری اور موت کی درجہ بندی بطور غلطی کے اثرات ہونی چاہئے۔ مسیح گناہ پر عقیدے کو نیست کرنے آیا۔

6. 473 : 4 (Truth)-7

Truth, God, is not the father of error. Sin, sickness, and death are to be classified as effects of error. Christ came to destroy the belief of sin.

7۔ 497 :9 (ہم)۔12

ہم گناہ کی تباہی اور اْس روحانی فہم میں خدا کی معافی کو تسلیم کرتے ہیں جو بدی کو بطور غیر حقیقی باہر نکالتا ہے۔ لیکن گناہ پر یقین تب تک سزا پاتا ہے جب تک یہ یقین ختم نہیں ہوجاتا۔

7. 497 : 9 (We)-12

We acknowledge God's forgiveness of sin in the destruction of sin and the spiritual understanding that casts out evil as unreal. But the belief in sin is punished so long as the belief lasts.

8۔ 327 :1۔7، 9۔13 (تا دوسرا)

اصلاح اس سمجھ سے پیدا ہوتی ہے کہ بدی میں کوئی قائم رہنے والا اطمینان نہیں ہے، اور سائنس کے مطابق یہ اطمینان اچھائی کے لئے ہمدردی رکھنے سے پیدا ہوتا ہے، جو اِس لافانی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ نہ خوشی نہ درد، نہ بھوک نہ جذبہ مادے سے یا مادے میں وجود رکھ سکتا ہے، جبکہ الٰہی عقل خوشی، درد یا خوف اور انسانی عقل کی تمام تر گناہ آلود بھوک کے جھوٹے عقائد کو نیست کر سکتا ہے۔

بعض اوقات بدی انسان کا سب سے زیادہ درست تصور ہوتا ہے، جب تک کہ اچھائی پر اْس کی گرفت مضبوط نہیں ہوجاتی۔ پھر وہ بدی پر اپنا دباؤ کھو دیتا ہے، اور یہ اْس کے لئے عذاب بن جاتا ہے۔ گناہ کی تکلیف سے بچنے کا طریقہ گناہ کو ترک کرنا ہے۔ اور کوئی راہ نہیں ہے۔

8. 327 : 1-7, 9-13 (to 2nd .)

Reform comes by understanding that there is no abiding pleasure in evil, and also by gaining an affection for good according to Science, which reveals the immortal fact that neither pleasure nor pain, appetite nor passion, can exist in or of matter, while divine Mind can and does destroy the false beliefs of pleasure, pain, or fear and all the sinful appetites of the human mind.

Evil is sometimes a man's highest conception of right, until his grasp on good grows stronger. Then he loses pleasure in wickedness, and it becomes his torment. The way to escape the misery of sin is to cease sinning. There is no other way.

9۔ 404 :19۔25

یہ احساس کہ گناہ میں حقیقی خوشی نہیں ہے، کرسچن سائنس کی الٰہیات کے سب سے اہم نکات میں سے ایک ہے۔ گناہ کے اس نئے اور حقیقی منظر کو گناہگار پر اجاگر کریں، اْس پر ظاہر کریں کہ گناہ کوئی اطمینان نہیں بخشتا، اور یہ علم اْس کی اخلاقی ہمت کو مضبوط کرتا ہے اور بدی پر فتح پانے اور اچھائی سے محبت کرنے کی اْس کی قابلیت کو فروغ دیتا ہے۔

9. 404 : 19-25

This conviction, that there is no real pleasure in sin, is one of the most important points in the theology of Christian Science. Arouse the sinner to this new and true view of sin, show him that sin confers no pleasure, and this knowledge strengthens his moral courage and increases his ability to master evil and to love good.

10۔ 405 :1 صرف

بنیادی غلطی فانی عقل ہے۔

10. 405 : 1 only

The basic error is mortal mind.

11۔ 419 :1۔7

ایک اخلاقی سوال بیمار کی شفا میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ پوشیدہ غلطی، شہوت، حسد، بدلہ، بدنیتی یا نفرت بیماری پر ایمان کو مستقل بنا سکتا یا حتیٰ کہ پیدا بھی کر سکتا ہے۔ہر قسم کی غلطیاں اِس سمت میں رجحان رکھتی ہیں۔ آپ کا اصل مقصد دشمن کو فنا کرنا اور میدان خدا، زندگی، سچائی اور محبت کے لئے چھوڑ دینا ہے، یہ یاد رکھتے ہوئے کہ خدا اور اْس کے خیالات اکیلے حقیقی اور ہم آہنگ ہیں۔

11. 419 : 1-7

A moral question may hinder the recovery of the sick. Lurking error, lust, envy, revenge, malice, or hate will perpetuate or even create the belief in disease. Errors of all sorts tend in this direction. Your true course is to destroy the foe, and leave the field to God, Life, Truth, and Love, remembering that God and His ideas alone are real and harmonious.

12۔ 322 :14۔29

انسان کی دانش گناہ میں تسکین نہیں پاتی،چونکہ خدا نے گناہ کو دْکھ سہنے کی سزا سنائی ہے۔گزرے ہوئے کل کی جادوگری نے آج کی تنویم اور مدہوشی کی پیشن گوئی کی۔شرابی سوچتا ہے کہ وہ نشے سے خوش ہوتا ہے، اور آپ کسی مست شرابی سے اْس کی خبطی چھڑا نہیں سکتے جب تک کہ اْسکی خوشی کا جسمانی فہم ایک بلند فہم کو قبول نہیں کر تا۔پھر وہ اپنے جام سے دور ہٹتا ہے، جیسے ڈرا ہوا خواب دیکھنے والا شخص جو کسی بد خواہی سے جاگ جاتا ہے جو مسخ شدہ فہم کی تکلیفوں کے نرغے میں ہوتا ہے۔اِس میں خوشی پاتے ہوئے اور محض نتائج سے خوفزدہ ہو کراِس سے پرہیز کرتے ہوئے جو شخص غلط کام کرنا پسند کرتا ہے وہ نہ تو اعتدال پسند شخص ہے اور نہ ہی ایک قابل اعتبار مذہب پسند شخص ہے۔

مادے کی فرضی زندگی پر عقیدے کے تیز ترین تجربات، اِس کے علاوہ ہماری مایوسیاں اور نہ ختم ہونے والی پریشانیاں ہمیں الٰہی محبت کی بانہوں میں تھکے ہوئے بچوں کی مانند پہنچاتے ہیں۔

12. 322 : 14-29

Man's wisdom finds no satisfaction in sin, since God has sentenced sin to suffer. The necromancy of yesterday foreshadowed the mesmerism and hypnotism of to-day. The drunkard thinks he enjoys drunkenness, and you cannot make the inebriate leave his besottedness, until his physical sense of pleasure yields to a higher sense. Then he turns from his cups, as the startled dreamer who wakens from an incubus incurred through the pains of distorted sense. A man who likes to do wrong — finding pleasure in it and refraining from it only through fear of consequences — is neither a temperate man nor a reliable religionist.

The sharp experiences of belief in the supposititious life of matter, as well as our disappointments and ceaseless woes, turn us like tired children to the arms of divine Love.

13۔ 205 :32۔3

جب ہم الٰہی کے ساتھ اپنے رشتے کو مکمل طور پر سمجھتے ہیں، تو ہم کوئی اور عقل نہیں رکھتے ماسوائے اْس کی عقل کے، کوئی اور محبت، حکمت یا سچائی نہیں رکھتے، زندگی کا کوئی اور فہم نہیں رکھتے، اور مادے یا غلطی کی وجودیت کا کوئی اور شعور نہیں رکھتے۔

13. 205 : 32-3

When we fully understand our relation to the Divine, we can have no other Mind but His, — no other Love, wisdom, or Truth, no other sense of Life, and no consciousness of the existence of matter or error.

14۔ 339 :1 (دی)۔4

گناہ کی تباہی معافی کا الٰہی طریقہ کار ہے۔ الٰہی زندگی موت کوتباہ کرتی ے، سچائی غلطی کو نیست کرتی ہے، اور محبت نفرت کو نیست کرتی ہے۔ تباہ ہونے کے بعد، گناہ کو معافی کی کسی اور صورت کی ضرورت نہیں رہتی۔

14. 339 : 1 (The)-4

The destruction of sin is the divine method of pardon. Divine Life destroys death, Truth destroys error, and Love destroys hate. Being destroyed, sin needs no other form of forgiveness.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████