اتوار 20اکتوبر، 2019 |

اتوار 20اکتوبر، 2019



مضمون۔ کفارے کا عقیدہ

SubjectDoctrine of Atonement

سنہری متن:سنہری متن: گلتیوں 3باب26 آیت

’’کیونکہ تم سب اْس ایمان کے وسیلہ سے جو مسیح یسوع میں ہے خداکے فرزند ہو۔‘‘



Golden Text: Galatians 3 : 26

For ye are all the children of God by faith in Christ Jesus.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور 51: 1، 2، 6، 7، 10 تا 12 آیات


1۔ اے خدا! اپنی شفقت کے مطابق مجھ پر رحم کر۔ اپنی رحمت کی کثرت کے مطابق مجھ پر رحم کر۔

2۔ میری بدی کو مجھ سے دھو ڈال اور میرے گناہ سے مجھے پاک کر۔

6۔ دیکھ تْو باطن کی سچائی پسند کرتا ہے۔ اور باطن میں مجھے ہی دانائی سکھائے گا۔

7۔ زوفے سے مجھے صاف کر تو میں ہوں گا۔ مجھے دھو اور برف سے زیادہ سفید ہوں گا۔

10۔ اے خدا میرے اندر پاک دل پیدا کر اور میرے باطن میں از سرے نو مستقیم روح ڈال۔

11۔ مجھے اپنے حضور سے خارج نہ کر۔ اور اپنی روح کو مجھ سے جدا نہ کر۔

12۔ اپنی نجات کی شادمانی مجھے پھر عنایت کر اور مستعد روح سے مجھے سنبھال۔

Responsive Reading: Psalm 51 : 1, 2, 6, 7, 10-12

1.     Have mercy upon me, O God, according to thy lovingkindness: according unto the multitude of thy tender mercies blot out my transgressions.

2.     Wash me throughly from mine iniquity, and cleanse me from my sin.

6.     Behold, thou desirest truth in the inward parts: and in the hidden part thou shalt make me to know wisdom.

7.     Purge me with hyssop, and I shall be clean: wash me, and I shall be whiter than snow.

10.     Create in me a clean heart, O God; and renew a right spirit within me.

11.     Cast me not away from thy presence; and take not thy holy spirit from me.

12.     Restore unto me the joy of thy salvation; and uphold me with thy free spirit.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ متی 3باب16، 17 آیات

16۔ اور یسوع بپتسمہ لے کر فی الفور پانی کے پاس سے اوپر گیا اور دیکھو آسمان کھْل گیا اور اْس نے خدا کے روح کو کبوتر کی مانند اترتے اور اپنے اوپر آتے دیکھا۔

17۔ اور دیکھو آسمان سے یہ آواز آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے میں خوش ہوں۔

1. Matthew 3 : 16, 17

16     And Jesus, when he was baptized, went up straightway out of the water: and, lo, the heavens were opened unto him, and he saw the Spirit of God descending like a dove, and lighting upon him:

17     And lo a voice from heaven, saying, This is my beloved Son, in whom I am well pleased.

2۔ متی 5باب1، 2، 8، 16 آیات

1۔ وہ اس بھیڑ کو دیکھ کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور جب بیٹھ گیا تو اْس کے شاگرد اْس کے پاس آئے۔

2۔ اور وہ اپنی زبان کھول کر اْن کر یوں تعلیم دینے لگا۔

8۔ مبارک ہیں وہ جو پاک دل ہیں کیونکہ وہ خدا کو دیکھیں گے۔

16۔ تمہاری روشنی آدمیوں کے سامنے چمکے تاکہ وہ تمہارے نیک کاموں کو دیکھ کر تمہارے باپ کی جو آسمان پر ہے تمجید کریں۔

2. Matthew 5 : 1, 2, 8, 16

1     And seeing the multitudes, he went up into a mountain: and when he was set, his disciples came unto him:

2     And he opened his mouth, and taught them, saying,

8     Blessed are the pure in heart: for they shall see God.

16     Let your light so shine before men, that they may see your good works, and glorify your Father which is in heaven.

3۔ متی 16باب21تا27 آیات

21۔ اُس وقت سے یسوع اپنے شاگردوں پر ظاہر کرنے لگا کہ اُسے ضرور ہے کہ یروشلیم کو جائے اور بزرگوں اورسردارکاہنوں اور فقیہوں کی طرف سے بہت دکھ اٹھائے اور قتل کیا جائے اور تیسرے دن جی اٹھے۔

22۔اِس پر پطرس اُس کو الگ لے جا کر ملامت کرنے لگا کہ اے خداوند خدا نے کرے۔ یہ تجھ پر ہرگز نہیں آنے کا۔

23۔اُس نے پھر کر پطرس سے کہا اے شیطان میرے سامنے سے دور ہو۔ تو میرے لئے ٹھوکر کا باعث ہے کیونکہ تو خدا کی باتوں کا نہیں بلکہ آدمیوں کی باتوں کا خیال رکھتا ہے۔

24۔اُس وقت یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ اگر کوئی میرے پِیچھے آنا چاہے تو اپنی خودی کا انکار کرے اور اپنی صلیب اٹھائے اور میرے پیچھے ہولے۔

25۔ کیونکہ جو کوئی اپنی جان بچانا چاہے اسے کھوئے گا اور جو کوئی میری خاطر اپنی جان کھوئے گا اسے پائے گا۔

26۔اور اگر آدمی ساری دنیا حاصل کرے اور اپنی جان کا نقصان اٹھائے تو اسے کیا فائدہ ہوگا؟ یا آدمی اپنی جان کے بدلے کیا دے گا؟

27۔ کیونکہ ابن آدم اپنے باپ کے جلال میں اپنے فرشتوں کے ساتھ آئے گا۔ اُس وقت ہر ایک کو اُس کے کاموں کے مطابق بدلہ دے گا۔

3. Matthew 16 : 21-27

21     From that time forth began Jesus to shew unto his disciples, how that he must go unto Jerusalem, and suffer many things of the elders and chief priests and scribes, and be killed, and be raised again the third day.

22     Then Peter took him, and began to rebuke him, saying, Be it far from thee, Lord: this shall not be unto thee.

23     But he turned, and said unto Peter, Get thee behind me, Satan: thou art an offence unto me: for thou savourest not the things that be of God, but those that be of men.

24     Then said Jesus unto his disciples, If any man will come after me, let him deny himself, and take up his cross, and follow me.

25     For whosoever will save his life shall lose it: and whosoever will lose his life for my sake shall find it.

26     For what is a man profited, if he shall gain the whole world, and lose his own soul? or what shall a man give in exchange for his soul?

27     For the Son of man shall come in the glory of his Father with his angels; and then he shall reward every man according to his works.

4۔ متی 23باب1تا12 آیات

1۔ اُس وقت یسوع نے بھیڑ سے اور اپنے شاگردوں سے یہ باتیں کہیں کہ

2۔فقیہ اور فریسی موسیٰ کی گدی پر بیٹھے ہیں۔

3۔پس جو کچھ وہ تمہیں بتائیں وہ سب کرو اور مانو لیکن اْن کے سے کام نہ کرو کیونکہ وہ کہتے ہیں اور کرتے نہیں۔

4۔وہ ایسے بھاری بوجھ جن کو اٹھانا مشکل ہے باندھ کر لوگوں کے کندھوں پر رکھتے ہیں مگر آپ اْن کو اپنی انگلی سے ہلانا بھی نہیں چاہتے۔

5۔وہ اپنے سب کام لوگوں کو دکھانے کو کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنے تعویز بڑے بناتے اور اپنی پوشاک کے کنارے چوڑے رکھتے ہیں۔

6۔اور ضیافتوں میں صدرنشینی اور عبادت خانوں میں اعلیٰ درجہ کی کرسیاں

7۔اور بازاروں میں سلام اور آدمیوں سے ربی کہلانا پسند کرتے ہیں۔

8۔ مگرتم ربی نہ کہلاؤ کیونکہ تمہارا استاد ایک ہی ہے اور تم سب بھائی ہو۔

9۔اور زمین پر کسی کو اپنا باپ نہ کہو کیونکہ تمہارا باپ ایک ہی ہے جو آسمانی ہے۔

10۔ اور نہ تم ہادی کہلاؤ کیونکہ تمہارا ہادی ایک ہی ہے یعنی مسیح۔

11۔ لیکن جو تم میں بڑا ہے وہ تمہارا خادم بنے۔

12۔ اور جو کوئی اپنے آپ کو بڑا بنائے گا وہ چھوٹا کیا جائے گا اور جو اپنے آپ کو چھوٹا بنائے گا وہ بڑا کیا جائے گا۔

4. Matthew 23 : 1-12

1     Then spake Jesus to the multitude, and to his disciples,

2     Saying, The scribes and the Pharisees sit in Moses’ seat:

3     All therefore whatsoever they bid you observe, that observe and do; but do not ye after their works: for they say, and do not.

4     For they bind heavy burdens and grievous to be borne, and lay them on men’s shoulders; but they themselves will not move them with one of their fingers.

5     But all their works they do for to be seen of men: they make broad their phylacteries, and enlarge the borders of their garments,

6     And love the uppermost rooms at feasts, and the chief seats in the synagogues,

7     And greetings in the markets, and to be called of men, Rabbi, Rabbi.

8     But be not ye called Rabbi: for one is your Master, even Christ; and all ye are brethren.

9     And call no man your father upon the earth: for one is your Father, which is in heaven.

10     Neither be ye called masters: for one is your Master, even Christ.

11     But he that is greatest among you shall be your servant.

12     And whosoever shall exalt himself shall be abased; and he that shall humble himself shall be exalted.

5۔ متی 26باب1، 2، 17تا20، 26، 27 آیات

1۔ اور جب یسوع یہ سب باتیں ختم کر چکا تو ایسا ہوا کہ اُس نے اپنے شاگردوں سے کہا۔

2۔تم جانتے ہوکہ دو دن کے بعد عید فسح ہوگی اور ابن آدم مصلوب ہونے کو پکڑوایا جائے گا۔

17۔ اور عید فطیر کے پہلے دن شاگردوں نے یسوع کے پاس آ کر کہا تو کہاں چاہتا ہے کہ ہم تیرے لئے فسح کھانے کی تیار کریں؟

18۔ اُس نے کہا شہر میں فلاں شخص کے پاس جا کر اُس سے کہنا استاد فرماتا ہے کہ میرا وقت نزدیک ہے۔ میں اپنے شاگردوں کے ساتھ تیرے ہاں عید فسح کروں گا۔

19۔اور جیسا یسوع نے شاگردوں کوحکم دیا تھا انہوں نے ویسا ہی کیا اور فسح تیار کیا۔

20۔ جب شام ہوئی تو وہ بارہ شاگردوں کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھا تھا۔

26۔ جب وہ کھا رہے تھے تو یسوع نے روٹی لی اور برکت دے کر توڑی اور شاگردوں کو دے کر کہا لو کھاؤ۔ یہ میرا بدن ہے۔

27۔ پھر پیالہ لے کر شکر کیا اور ان کو دے کر کہا تم سب اس میں سے پیو۔

5. Matthew 26 : 1, 2, 17-20, 26, 27

1     And it came to pass, when Jesus had finished all these sayings, he said unto his disciples,

2     Ye know that after two days is the feast of the passover, and the Son of man is betrayed to be crucified.

17     Now the first day of the feast of unleavened bread the disciples came to Jesus, saying unto him, Where wilt thou that we prepare for thee to eat the passover?

18     And he said, Go into the city to such a man, and say unto him, The Master saith, My time is at hand; I will keep the passover at thy house with my disciples.

19     And the disciples did as Jesus had appointed them; and they made ready the passover.

20     Now when the even was come, he sat down with the twelve.

26     And as they were eating, Jesus took bread, and blessed it, and brake it, and gave it to the disciples, and said, Take, eat; this is my body.

27     And he took the cup, and gave thanks, and gave it to them, saying, Drink ye all of it.

6۔ 2کرنتھیوں 6باب1، 4تا7 آیات

1۔ اور ہم جو اْس کے ساتھ کام میں شریک ہیں یہ بھی التماس کرتے ہیں کہ خدا کا فضل جو تم پر ہوا بے فائدہ نہ رہنے دو۔

4۔ بلکہ خدا کے خادموں کی طرح ہر بات سے اپنی خوبی ظاہر کرتے ہیں۔ بڑے صبر سے۔ مصیبت سے۔ احتیاج سے۔ تنگی سے۔

5۔ کوڑے کھانے سے۔ قید ہونے سے۔ ہنگاموں سے۔ محنتوں سے۔ بیداری سے۔ فاقوں سے۔

6۔ پاکیزگی سے۔ علم سے۔ تحمل سے۔ مہربانی سے۔ روح القدس سے۔ بے ریا محبت سے۔

7۔ کلام سے۔ خدا کی قدرت سے۔ راستبازی کے ہتھیاروں کے وسیلہ سے جو دائیں بائیں ہیں۔

6. II Corinthians 6 : 1, 4-7

1     We then, as workers together with him, beseech you also that ye receive not the grace of God in vain.

4     But in all things approving ourselves as the ministers of God, in much patience, in afflictions, in necessities, in distresses,

5     In stripes, in imprisonments, in tumults, in labours, in watchings, in fastings;

6     By pureness, by knowledge, by longsuffering, by kindness, by the Holy Ghost, by love unfeigned,

7     By the word of truth, by the power of God, by the armour of righteousness on the right hand and on the left,

7۔ رومیوں 5باب1تا5، 8تا11 آیات

1۔پس جب ہم ایمان سے راستباز ٹھہرے تو خدا کے ساتھ اپنے خداوند یسوع مسیح کے وسیلہ سے صلح رکھیں۔

2۔جس کے وسیلہ سے ایمان کے سبب سے اُس فضل تک ہماری رسائی بھی ہوئی جس پر قائم ہیں اور خدا کے جلال کی امید پر فخر کریں۔

3۔اور صرف یہی نہیں بلکہ مصیبتوں میں بھی فخر کریں یہ جان کر کہ مصیبت سے صبر پیدا ہوتا ہے۔

4۔ اور صبر سے پختگی اور پختگی سے امید پیدا ہوتی ہے۔

5۔اور امید سے شرمندگی حاصل نہیں ہوتی کیونکہ روح القدس جو ہم کو بخشا گیا ہے اُس کے وسیلہ سے خدا کی محبت ہمارے دلوں میں ڈالی گئی ہے۔

8۔لیکن خدا اپنی محبت کی خوبی ہم پر یوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گنہگار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطر مؤا۔

9۔پس جب ہم اُس کے خون کے باعث اب راستباز ٹھہرے تو اُس کے وسیلہ سے غضب الہٰی سے ضرور ہی بچیں گے۔

10۔ کیونکہ جب باوجود دشمن ہونے کے خدا سے اس کے بیٹے کی موت کے وسیلہ سے ہمارا میل ہوگیا تو میل ہونے کے بعد تو ہم اُس کی زندگی کے سبب سے ضرور ہی بچیں گے۔

11۔اور صرف یہی نہیں بلکہ اپنے خداوند یسوع مسیح کے طفیل سے جس کے وسیلہ سے اب ہمارا خدا کے ساتھ میل ہوگیا خدا پر فخر بھی کرتے ہیں۔

7. Romans 5 : 1-5, 8-11

1     Therefore being justified by faith, we have peace with God through our Lord Jesus Christ:

2     By whom also we have access by faith into this grace wherein we stand, and rejoice in hope of the glory of God.

3     And not only so, but we glory in tribulations also: knowing that tribulation worketh patience;

4     And patience, experience; and experience, hope:

5     And hope maketh not ashamed; because the love of God is shed abroad in our hearts by the Holy Ghost which is given unto us.

8     But God commendeth his love toward us, in that, while we were yet sinners, Christ died for us.

9     Much more then, being now justified by his blood, we shall be saved from wrath through him.

10     For if, when we were enemies, we were reconciled to God by the death of his Son, much more, being reconciled, we shall be saved by his life.

11     And not only so, but we also joy in God through our Lord Jesus Christ, by whom we have now received the atonement.



سائنس اور صح


1۔ 18 :3۔9

یسوع ناصری نے انسان کی باپ کے ساتھ یگانگت کو بیان کیا، اور اس کے لئے ہمارے اوپر اْس کی لامتناہی عقیدت کا قرض ہے۔ اْس کا مشن انفرادی اور اجتماعی دونوں تھا۔ اْس نے زندگی کا مناسب کام سر انجام دیا نہ صرف خود کے انصاف کے لئے بلکہ انسانوں پر رحم کے باعث، انہیں یہ دکھانے کے لئے کہ انہیں اپنا کام کیسے کرنا ہے، بلکہ نہ تو اْن کے لئے خود کچھ کرنے یا نہ ہی اْنہیں کسی ایک ذمہ داری سے آزاد کرنے کے لئے یہ کیا۔

1. 18 : 3-9

Jesus of Nazareth taught and demonstrated man’s oneness with the Father, and for this we owe him endless homage. His mission was both individual and collective. He did life’s work aright not only in justice to himself, but in mercy to mortals, — to show them how to do theirs, but not to do it for them nor to relieve them of a single responsibility.

2۔ 19: 1۔2، 6۔11

پس مسیح کا مقصد انسان کو خدا کے لئے راضی کرنا تھا نہ کہ خدا کو انسان کے لئے راضی کرنا تھا۔ ۔۔۔یسوع نے انسان کو محبت کا حقیقی فہم، یسوع کی تعلیمات کا الٰہی اصول دیتے ہوئے خدا کے ساتھ راضی ہونے میں مدد کی، اور محبت کا یہ حقیقی فہم روح کے قانون، الٰہی محبت کے قانون کے وسیلہ انسان کو مادے، گناہ اور موت کے قانون سے آزاد کرتا ہے۔

2. 19 : 1-2, 6-11

It was therefore Christ’s purpose to reconcile man to God, not God to man. … Jesus aided in reconciling man to God by giving man a truer sense of Love, the divine Principle of Jesus’ teachings, and this truer sense of Love redeems man from the law of matter, sin, and death by the law of Spirit, — the law of divine Love.

3۔ 259 :6۔14

الٰہی سائنس میں، انسان خدا کی حقیقی شبیہ ہے۔ الٰہی فطرت کو یسوع مسیح کو بہترین طریقے سے بیان کیا گیا ہے، جس نے انسانوں پر خدا کی مناسب تر عکاسی ظاہر کی اورکمزور سوچ کے نمونے کی سوچ سے بڑی معیارِ زندگی فراہم کی، یعنی ایسی سوچ جو انسان کے گرنے، بیماری، گناہ کرنے اور مرنے کو ظاہر کرتی ہے۔ سائنسی ہستی اور الٰہی شفا کی مسیح جیسی سمجھ میں کامل اصول اور خیال، کامل خدا اور کامل انسان، بطور سوچ اور اظہار کی بنیاد شامل ہوتے ہیں۔

3. 259 : 6-14

In divine Science, man is the true image of God. The divine nature was best expressed in Christ Jesus, who threw upon mortals the truer reflection of God and lifted their lives higher than their poor thought-models would allow, — thoughts which presented man as fallen, sick, sinning, and dying. The Christlike understanding of scientific being and divine healing includes a perfect Principle and idea, — perfect God and perfect man, — as the basis of thought and demonstration.

4۔ 25 :13۔31

یسوع نے اظہار کی بدولت زندگی کا طریقہ کار سکھایا، تاکہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ کیسے الٰہی اصول بیمار کو شفادیتا، غلطی کو باہر نکالتا اور موت پر فتح مند ہوتا ہے۔ کسی دوسرے شخص کی نسبت جس کا اصل کام روحانی ہویسوع نے خدا کی مثال کو بہت بہتر انداز میں پیش کیا۔ خدا کے ساتھ اْس کی فرمانبرداری سے اْس نے دیگر سبھی لوگوں کی نسبت ہستی کے اصول کو زیادہ روحانی ظاہر کیا۔ اسی طرح اْس کی اس نصیحت کی طاقت ہے کہ ”اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو گے۔“

اگرچہ گناہ اور بیماری پر اپنا اختیار ظاہر کرتے ہوئے، عظیم معلم نے کسی صورت دوسروں کو اْن کے تقویٰ کے مطلوبہ ثبوت دینے میں مدد نہیں کی۔ اْس نے اْن کی ہدایت کے لئے کام کیا، کہ وہ اِس طاقت کا اظہار اْسی طرح کریں جیسے اْس نے کیا اور اِس کے الٰہی اصول کو سمجھیں۔ استاد پر مکمل ایمان اور وہ سارا جذباتی پیار جو ہم اْس پر نچھاور کر سکتے ہیں، صرف یہی ہمیں اْس کی تقلید کرنے والے نہیں بنائیں گے۔ ہمیں جا کر اْسی کی مانند کام کرنا چاہئے، وگرنہ ہم اْن بڑی برکات کو فروغ نہیں دے رہے جو ہمارے مالک نے ہمیں عطا کرنے کے لئے کام کیا اور تکلیف اٹھائی۔ مسیح کی الوہیت کا اظہار یسوع کی انسانیت میں کیا گیا تھا۔

4. 25 : 13-31

Jesus taught the way of Life by demonstration, that we may understand how this divine Principle heals the sick, casts out error, and triumphs over death. Jesus presented the ideal of God better than could any man whose origin was less spiritual. By his obedience to God, he demonstrated more spiritually than all others the Principle of being. Hence the force of his admonition, “If ye love me, keep my commandments.”

Though demonstrating his control over sin and disease, the great Teacher by no means relieved others from giving the requisite proofs of their own piety. He worked for their guidance, that they might demonstrate this power as he did and understand its divine Principle. Implicit faith in the Teacher and all the emotional love we can bestow on him, will never alone make us imitators of him. We must go and do likewise, else we are not improving the great blessings which our Master worked and suffered to bestow upon us. The divinity of the Christ was made manifest in the humanity of Jesus.

5۔ 28 :9۔14

کلیسیا کے اندر یا باہر جو کچھ اچھا ہے اْس کا احترام کرتے ہوئے، کسی شخص کی مسیح میں تقدیس پیشے کی نسبت اظہار پر زیادہ بنیاد رکھتی ہے۔شعور میں، ہم منتشر ہونے والے عقائد کو روک نہیں سکتے، اور لازوال مسیح کے الٰہی اصول کو مزید سمجھتے ہوئے، ہمیں بیمار کو شفا دینے اور موت پر فتح مند ہونے کے قابل بنایا گیا ہے۔

5. 28 : 9-14

While respecting all that is good in the Church or out of it, one’s consecration to Christ is more on the ground of demonstration than of profession. In conscience, we cannot hold to beliefs outgrown; and by understanding more of the divine Principle of the deathless Christ, we are enabled to heal the sick and to triumph over sin.

6۔ 31 :12۔22 (تا۔)

مسیحی فرائض کی فہرست میں سب سے پہلا فرض جواْس نے اپنے پیروکاروں کو سکھایا وہ سچائی اور محبت کی شفائیہ قوت ہے۔ اْس نے بے جان رسموں کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ یہ زندہ مسیح، عملی سچائی ہی ہے جو مسیح کو اْن سب کے لئے ”قیامت اور زندگی“ بناتا ہے جو کاموں میں اْس کی پیروی کرتے ہیں۔ اْس کے بیش قیمت احکامات کی فرمانبرداری کرتے ہوئے، جتنا ہم یہ سمجھ سکیں اتنا اْس کے اظہار کی پیروی کرتے ہوئے، ہم اْس کے پیالے میں سے پیتے ہیں، اْس کی روٹی میں شریک ہوتے ہیں،اور اْس کی پاکیزگی میں بپتسمہ پاتے ہیں، اور بالا آخر ہم جو موت پر فتح مند ہوتا ہے اْس الٰہی اصول کے مکمل فہم میں اْس کے ساتھ بیٹھیں گے، آرام کریں گے۔

6. 31 : 12-22 (to .)

First in the list of Christian duties, he taught his followers the healing power of Truth and Love. He attached no importance to dead ceremonies. It is the living Christ, the practical Truth, which makes Jesus “the resurrection and the life” to all who follow him in deed. Obeying his precious precepts, — following his demonstration so far as we apprehend it, — we drink of his cup, partake of his bread, are baptized with his purity: and at last we shall rest, sit down with him, in a full understanding of the divine Principle which triumphs over death.

7۔ 458 :25 (دی)۔8

کرسچن سائنسدان بڑی دانائی سے اپنی راہ ہموار کرتا ہے، اور وہ الٰہی عقل کی ہدایات کی پیروی کرنے میں متواتر اور ایماندار ہوتا ہے۔زندگی گزارنے اور اس کے ساتھ شفا دینے اور تعلیم دینے کے وسیلہ سے اسے یہ ثابت کرنا چاہئے کہ مسیح کی راہ ہی وہ واحد راہ ہے جس کی بدولت بشر یکسر گناہ اور بیماری سے نجات پاتے ہیں۔

جیسے پھول اندھیرے سے روشنی کی طرف مْڑتا ہے،مسیحت انسان کو فطری طور پر مادے سے روح کی جانب موڑنے کا موجب بنتی ہے۔پھر انسان اْن چیزوں کو مختص کرتا ہے جو ”نہ آنکھوں نے دیکھی نہ کانوں نے سْنیں۔“یوحنا اور پولوس کو بہت واضح ادراک تھا کہ، چونکہ فانی آدمی کو قربانی کے بغیردنیاوی عظمت حاصل نہیں ہو سکتی، اس لئے اْسے سب دنیاداری چھور کر آسمانی خزانے حاصل کرنے چاہئیں۔پھر اْس کا دنیاوی ہمدردیوں، اغراض و مقاصد میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔

7. 458 : 25 (The)-8

The Christian Scientist wisely shapes his course, and is honest and consistent in following the leadings of divine Mind. He must prove, through living as well as healing and teaching, that Christ’s way is the only one by which mortals are radically saved from sin and sickness.

Christianity causes men to turn naturally from matter to Spirit, as the flower turns from darkness to light. Man then appropriates those things which “eye hath not seen nor ear heard.” Paul and John had a clear apprehension that, as mortal man achieves no worldly honors except by sacrifice, so he must gain heavenly riches by forsaking all worldliness. Then he will have nothing in common with the worldling’s affections, motives, and aims.

8۔ 183 :21۔29

الٰہی عقل بجا طور پر انسان کی مکمل فرمانبرداری، پیار اور طاقت کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس سے کم وفاداری کے لئے کوئی تحفظات نہیں رکھے جاتے۔ سچائی کی تابعداری انسان کو قوت اور طاقت فراہم کرتی ہے۔ غلطی کو سپردگی طاقت کی کمی کو بڑھا دیتی ہے۔

سچائی تمام تر بدیوں اور مادیت پسندی کے طریقوں کو اصل روحانی قانون کے ساتھ باہر نکال دیتی ہے، یعنی وہ قانون جو اندھے کو بینائی، بہرے کو سماعت، گونگے کو آواز اور مفلوج کو پاؤں دیتا ہے۔

8. 183 : 21-29

Divine Mind rightly demands man’s entire obedience, affection, and strength. No reservation is made for any lesser loyalty. Obedience to Truth gives man power and strength. Submission to error superinduces loss of power.

Truth casts out all evils and materialistic methods with the actual spiritual law, — the law which gives sight to the blind, hearing to the deaf, voice to the dumb, feet to the lame.

9۔ 149 :11۔16

اصول اور اس کے عمل کی کاملیت سائنس میں کبھی منفرد نہیں ہوتے۔ اگر آپ کسی صورت بھی کامیاب ہونے میں ناکام ہوجاتے ہیں، تو یہ اس لئے کیونکہ آپ نے مسیح، سچائی کی زندگی کو مزید خود کی زندگی میں ظاہر نہیں کیا ہے، کیونکہ آپ نے اصول کی تابعداری نہیں کی اور سائنس کے الٰہی اصول کو ثابت نہیں کیا۔

9. 149 : 11-16

The rule and its perfection of operation never vary in Science. If you fail to succeed in any case, it is because you have not demonstrated the life of Christ, Truth, more in your own life, — because you have not obeyed the rule and proved the Principle of divine Science.

10۔ 19 :17۔28

توبہ اور دْکھوں کا ہر احساس، اصلاح کی ہر کوشش، ہر اچھی سوچ اور کام گناہ کے لئے یسوع کے کفارے کو سمجھنے میں مدد کرے گا اور اِس کی افادنیت میں مدد کرے گا؛ لیکن اگر گناہگار دعا کرنا اور توبہ کرنا، گناہ کرنا اور معافی مانگنا جاری رکھتا ہے، تو کفارے میں، خدا کے ساتھ یکجہتی میں اْس کا بہت کم حصہ ہوگا، کیونکہ اْس میں عملی توبہ کی کمی ہے، جو دل کی اصلاح کرتی اور انسان کو حکمت کی رضا پوری کرنے کے قابل بناتی ہے۔وہ جو، کم از کم کسی حد تک، ہمارے مالک کی تعلیمات اور مشق کے الٰہی اصول کا اظہار نہیں کر سکتے اْن کی خدا میں کوئی شرکت نہیں ہے۔ اگر چہ خدا بھلا ہے، اگر ہم اْس کے ساتھ نافرمانی میں زندگی گزاریں، تو ہمیں کوئی ضمانت محسوس نہیں کرنی چاہئے۔

10. 19 : 17-28

Every pang of repentance and suffering, every effort for reform, every good thought and deed, will help us to understand Jesus’ atonement for sin and aid its efficacy; but if the sinner continues to pray and repent, sin and be sorry, he has little part in the atonement, — in the at-one-ment with God, — for he lacks the practical repentance, which reforms the heart and enables man to do the will of wisdom. Those who cannot demonstrate, at least in part, the divine Principle of the teachings and practice of our Master have no part in God. If living in disobedience to Him, we ought to feel no security, although God is good.

11۔ 21 :1۔5، 9۔14

اگر آپ کی زور مرہ کی زندگی اور گفتگو میں سچائی غلطی پر فتح پا رہی ہے، تو آپ بالاآخر کہہ سکتے ہیں، ”میں اچھی کْشتی لڑ چکا۔۔۔مَیں نے ایمان کو محفوظ رکھا،“ کیونکہ آپ ایک بہتر انسان ہیں۔ یہ سچائی اور محبت کے ساتھ یکجہتی میں حصہ لینا ہے۔

اگر شاگرد روحانی طور پر ترقی کر رہا ہے، تو وہ داخل ہونے کی جدجہد کر رہا ہے۔ وہ مادی حِس سے دور ہونے کی مسلسل کوشش کررہا ہے اور روح کی ناقابل تسخیر چیزوں کا متلاشی ہے۔اگر ایماندار ہے تو وہ ایمانداری سے ہی آغاز کرے گا اور آئے دن درست سمت پائے گا جب تک کہ وہ آخر کار شادمانی کے ساتھ اپنا سفر مکمل نہیں کر لیتا۔

11. 21 : 1-5, 9-14

If Truth is overcoming error in your daily walk and conversation, you can finally say, “I have fought a good fight … I have kept the faith,” because you are a better man. This is having our part in the at-one-ment with Truth and Love.

If the disciple is advancing spiritually, he is striving to enter in. He constantly turns away from material sense, and looks towards the imperishable things of Spirit. If honest, he will be in earnest from the start, and gain a little each day in the right direction, till at last he finishes his course with joy.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████