اتوار 20دسمبر، 2020



مضمون۔ کیا کائنات، بشمول انسان ایٹمی توانائی سے مرتب ہوئی ہے؟

SubjectIs the Universe, Including Man, Evolved by Atomic Force?

سنہری متن: امثال 3باب 19آیت

”خداوند نے حکمت سے زمین کی بنیاد ڈالی اور فہم سے آسمان کو قائم کیا۔“



Golden Text: Proverbs 3 : 19

The Lord by wisdom hath founded the earth; by understanding hath he established the heavens.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: زبور 95: 1 تا6 آیات


1۔ آؤ ہم خداوند کے حضور نغمہ سرائی کریں! اپنی چٹان کے سامنے خوشی سے للکاریں۔

2۔ شکر کرتے ہوئے اْس کے حضور حاضر ہوں۔مزمور گاتے ہوئے اْس کے آگے خوشی سے للکاریں۔

3۔ کیونکہ خداوند خدائے عظیم ہے۔ اور سب الہٰوں پر شاہ عظیم ہے۔

4۔ زمین کے گہراؤ اْس کے قبضہ میں ہیں پہاڑوں کی چوٹیاں بھی اْسی کی ہیں۔

5۔ سمندر اْس کا ہے۔ اْسی نے اْس کو بنایا۔ اور اْس کے ہاتھوں نے خشکی کو بھی تیار کیا۔

6۔ آؤ ہم جھکیں اور سجدہ کریں! اور اپنے خالق ِخداوند کے حضور گھٹنے ٹیکیں۔

Responsive Reading: Psalm 95 : 1-6

1.     O come, let us sing unto the Lord: let us make a joyful noise to the rock of our salvation.

2.     Let us come before his presence with thanksgiving, and make a joyful noise unto him with psalms.

3.     For the Lord is a great God, and a great King above all gods.

4.     In his hand are the deep places of the earth: the strength of the hills is his also.

5.     The sea is his, and he made it: and his hands formed the dry land.

6.     O come, let us worship and bow down: let us kneel before the Lord our maker.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ پیدائش 1باب 1، 26تا 28، 31 (تا پہلا۔)آیات

1۔ خدا نے ابتدا میں زمین وآسمان کو پیدا کیا۔

26۔ پھر خدا نے کہا ہم انسان کو اپنی صورت پر اپنی شبیہ کی مانند بنائیں اور وہ سمندر کی مچھلیوں اور آسمان کے پرندوں اور چوپاؤں اور تمام زمین اور سب جانداروں پر جو زمین پر رینگتے ہیں اختیار رکھیں۔

27۔ اور خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ اور خدا کی صورت پر اْس کو پیدا کیا۔ نر و ناری اْن کو پیدا کیا۔

28۔ خدا نے اْن کو برکت دی اور کہا کہ پھلو اور بڑھو اور زمین کو معمور و محکموم کرو اور سمندر کی مچھلیوں اور ہوا کے پرندوں اور کْل جانوروں پر جو زمین پر چلتے ہیں اختیار رکھو۔

31۔ اور خدا نے سب پر جو اْس نے بنایا تھا نظر کی اور دیکھا کہ بہت اچھا ہے۔

1. Genesis 1 : 1, 26-28, 31 (to 1st .)

1     In the beginning God created the heaven and the earth.

26     And God said, Let us make man in our image, after our likeness: and let them have dominion over the fish of the sea, and over the fowl of the air, and over the cattle, and over all the earth, and over every creeping thing that creepeth upon the earth.

27     So God created man in his own image, in the image of God created he him; male and female created he them.

28     And God blessed them, and God said unto them, Be fruitful, and multiply, and replenish the earth, and subdue it: and have dominion over the fish of the sea, and over the fowl of the air, and over every living thing that moveth upon the earth.

31     And God saw every thing that he had made, and, behold, it was very good.

2۔ خروج 14 باب5 (یہ)، 6، 15 (تا پہلا)، 15 (کہہ)، 19 تا23، 26تا28، 30، 31 آیات

5۔۔۔۔مصر کے بادشاہ کو خبر ملی کہ وہ لوگ چل دئیے تو فرعون اور اْس کے خادموں کا دل اْن لوگوں کے لئے پھر گیا اور وہ کہنے لگے کہ ہم نے یہ کیا کیا کہ اسرائیلیوں کو اپنی خدمت سے چھْٹی دے کر اْن کو جانے دیا۔

6۔ تب اْس نے اپنا رتھ تیار کروایا اور اپنی قوم کے لوگوں کو ساتھ لیا۔

15۔ اور خداوند نے موسیٰ سے کہا۔۔۔بنی اسرائیل سے کہہ کہ وہ آگے بڑھیں۔

19۔ اور خدا کا فرشتہ جو اسرائیلی لشکر کے آگے آگے چلا کرتا تھا جا کر اْن کے پیچھے ہوگیا اور بادل کا ستون اْن کے سامنے سے ہٹ کر اْن کے پیچھے جا ٹھہرا۔

20۔ یوں وہ مصریوں کے لشکر اور اسرائیلی لشکر کے بیچ میں ہوگیا۔ سو وہاں بادل بھی تھا اور اندھیرا بھی تو بھی رات کو اْس سے روشنی رہی۔ پس وہ رات بھر ایک دوسرے کے پاس نہیں آئے۔

21۔ پھر موسیٰ نے اپنا ہاتھ سمندر پر بڑھایا اور خداوند نے رات بھر تْند پوربی آندھی چلا کر اور سمندر کو پیچھے ہٹا کر اْسے خشک زمین بنا دیا اور پانی دو حصے ہوگیا۔

22۔ اور بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں سے خشک زمین پر چل کر نکل گئے اور اْن کے داہنے اور بائیں ہاتھ کی طرف پانی دیوار کی طرح تھا۔

23۔ اورمصریوں نے تعاقب کیا اور فرعون کے سب گھوڑے اور رتھ اور سوار اْن کے پیچھے پیچھے سمندر کے بیچ میں چلے گئے۔

26۔ اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھا تاکہ پانی مصریوں اور اْن کے رتھوں اور سواروں پر بہنے لگے۔

27۔ اور موسیٰ نے اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھایا اور صبح ہوتے ہوتے سمندر پھر اپنی اصلی قوت پر آگیا اور مصری اْلٹے بھاگنے لگے اور خداوند نے سمندر کے بیچ میں مصریوں کو تہہ و بالا کر دیا۔

28۔اور پانی پلٹ کر آیا اور اْس نے رتھوں اور سواروں اور فرعون کے سارے لشکر کو جو اسرائیلیوں کا پیچھا کرتے ہوئے سمندر میں گیا تھا غرق کر دیا اور ایک بھی اْن میں سے نہ چھْوٹا۔

30۔ سو خداوند نے اْس دن اسرائیلیوں کو مصریوں کے ہاتھ سے اِس طرح بچایا اور اسرائیلیوں نے مصریوں کو سمندر کے کنارے مرے ہوئے پڑے دیکھا۔

31۔ اور اسرائیلیوں نے وہ بڑی قدرت جو خداوندنے مصریوں پر ظاہر کی دیکھی اور وہ لوگ خداوند سے ڈرے اور خداوند پر اور اْس کے بندے موسیٰ پر ایمان لائے۔

2. Exodus 14 : 5 (it), 6, 15 (to 1st ,), 15 (speak), 19-23, 26-28, 30, 31

5     …it was told the king of Egypt that the people fled: and the heart of Pharaoh and of his servants was turned against the people, and they said, Why have we done this, that we have let Israel go from serving us?

6     And he made ready his chariot, and took his people with him:

15     And the Lord said unto Moses, … speak unto the children of Israel, that they go forward:

19     And the angel of God, which went before the camp of Israel, removed and went behind them; and the pillar of the cloud went from before their face, and stood behind them:

20     And it came between the camp of the Egyptians and the camp of Israel; and it was a cloud and darkness to them, but it gave light by night to these: so that the one came not near the other all the night.

21     And Moses stretched out his hand over the sea; and the Lord caused the sea to go back by a strong east wind all that night, and made the sea dry land, and the waters were divided.

22     And the children of Israel went into the midst of the sea upon the dry ground: and the waters were a wall unto them on their right hand, and on their left.

23     And the Egyptians pursued, and went in after them to the midst of the sea, even all Pharaoh’s horses, his chariots, and his horsemen.

26     And the Lord said unto Moses, Stretch out thine hand over the sea, that the waters may come again upon the Egyptians, upon their chariots, and upon their horsemen.

27     And Moses stretched forth his hand over the sea, and the sea returned to his strength when the morning appeared; and the Egyptians fled against it; and the Lord overthrew the Egyptians in the midst of the sea.

28     And the waters returned, and covered the chariots, and the horsemen, and all the host of Pharaoh that came into the sea after them; there remained not so much as one of them.

30     Thus the Lord saved Israel that day out of the hand of the Egyptians; and Israel saw the Egyptians dead upon the sea shore.

31     And Israel saw that great work which the Lord did upon the Egyptians: and the people feared the Lord, and believed the Lord, and his servant Moses.

3۔ زبور114: 1تا8 آیات

1۔ جب اسرائیل مصر سے نکل آیا یعنی یعقوب کا گھرانا اجنبی زبان قوم سے۔

2۔ تو یہوداہ اْس کا مقدِس اور اسرائیل اْس کی مملکت ٹھہرا۔

3۔ یہ دیکھتے ہی سمندر بھاگا۔ یردن پیچھے ہٹ گیا۔

4۔ پہاڑ مینڈھوں کی طرح اچھلے پہاڑیاں بھیڑ کے بچوں کی طرح کودیں۔

5۔ اے سمندر! تجھے کیا ہوا کہ تْو بھاگتا ہے؟ اے یردن! تجھے کیا ہوا کہ تْو پیچھے ہٹتا ہے؟

6۔ اے پہاڑو! تم کو کیا ہوا کہ تم مینڈھوں کی طرح اْچھلتے ہو؟ اے پہاڑیو! تم کو کیا ہوا کہ تم بھیڑ کے بچوں کی طرح کودتی ہو؟

7۔ اے زمین تْو رب کے حضور۔ یعقوب کے خدا کے حضور تھرتھرا۔

8۔ جو چٹان کو جھیل اور چقماق کو پانی کا چشمہ بنا دیتا ہے۔

3. Psalm 114 : 1-8

1     When Israel went out of Egypt, the house of Jacob from a people of strange language;

2     Judah was his sanctuary, and Israel his dominion.

3     The sea saw it, and fled: Jordan was driven back.

4     The mountains skipped like rams, and the little hills like lambs.

5     What ailed thee, O thou sea, that thou fleddest? thou Jordan, that thou wast driven back?

6     Ye mountains, that ye skipped like rams; and ye little hills, like lambs?

7     Tremble, thou earth, at the presence of the Lord, at the presence of the God of Jacob;

8     Which turned the rock into a standing water, the flint into a fountain of waters.

4۔ متی 14 باب22 (تاپہلا)، 23 (تا)، 24تا33 آیات

22۔ اور اْس نے فوراً شاگردوں کو مجبور کیا کہ کشتی میں سوار ہوکر جائیں۔

23۔ اور لوگوں کو رخصت کر کے تنہا دعا کرنے کے لئے پہاڑ پر چڑھ گیا۔

24۔ مگر کشتی اْس وقت جھیل کے بیچ میں تھی اور لہروں سے ڈگمگا رہی تھی کیونکہ ہوا مخالف تھی۔

25۔ اور وہ رات کے چوتھے پہر جھیل پر چلتا ہوا اْن کے پاس آیا۔

26۔ شاگرد اْسے جھیل پر چلتے ہوئے دیکھ کر گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ بھْوت ہے اور ڈر کر چلا اْٹھے۔

27۔ یسوع نے فوراً ان سے کہا خاطر جمع رکھو۔ مَیں ہوں۔ ڈرو مت۔

28۔ پطرس نے اْس سے جواب میں کہا اے خداوند اگر تْو ہے تو مجھے حکم دے کہ پانی پر چل کر تیرے پاس آؤں۔

29۔ اْس نے کہا آ۔ پطرس اْتر کر یسوع کے پاس جانے کے لئے پانی پر چلنے لگا۔

30۔ مگر جب ہوا دیکھی تو ڈر گیا اور جب ڈوبنے لگا تو چلاکر کہا اے خداوند مجھے بچا!

31۔ یسوع نے فوراً ہاتھ بڑھا کر اْسے پکڑ لیا اور اْس نے کہا اے کم اعتقاد تْو نےکیوں شک کیا؟

32۔ اور جب وہ کشتی پر چڑھ آئے تو ہوا تھم گئی۔

33۔ اور جو کشتی پر تھے اْنہوں نے اْسے سجدہ کر کے کہا یقیناًتْو خدا کا بیٹاہے۔

4. Matthew 14 : 22 (to 1st ,), 23 (to :), 24-33

22     And straightway Jesus constrained his disciples to get into a ship,

23     And when he had sent the multitudes away, he went up into a mountain apart to pray:

24     But the ship was now in the midst of the sea, tossed with waves: for the wind was contrary.

25     And in the fourth watch of the night Jesus went unto them, walking on the sea.

26     And when the disciples saw him walking on the sea, they were troubled, saying, It is a spirit; and they cried out for fear.

27     But straightway Jesus spake unto them, saying, Be of good cheer; it is I; be not afraid.

28     And Peter answered him and said, Lord, if it be thou, bid me come unto thee on the water.

29     And he said, Come. And when Peter was come down out of the ship, he walked on the water, to go to Jesus.

30     But when he saw the wind boisterous, he was afraid; and beginning to sink, he cried, saying, Lord, save me.

31     And immediately Jesus stretched forth his hand, and caught him, and said unto him, O thou of little faith, wherefore didst thou doubt?

32     And when they were come into the ship, the wind ceased.

33     Then they that were in the ship came and worshipped him, saying, Of a truth thou art the Son of God.

5۔ مکاشفہ 21 باب3، 6، 7 آیات

3۔ پھر مَیں نے تخت میں سے کسی کو بلند آواز سے یہ کہتے سنا کہ دیکھ خدا کا خیمہ آدمیوں کے درمیان ہے اور وہ اْن کے ساتھ سکونت کرے گا اور وہ اْس کے لوگ ہوں گے اور خدا آپ اْن کے ساتھ رہے گا اور اْن کا خدا ہوگا۔

6۔ پھر اْس نے مجھ سے کہا یہ باتیں پوری ہو گئیں۔ مِیں الفا اور اومیگا یعنی ابتدا اور انتہا ہوں۔ مِیں پیاسے کو آبِ حیات کے چشمہ سے مفت پلاؤں گا۔

7۔ جو غالب آئے وہی اِن چیزوں کا وارث ہوگا اور مَیں اْس کا خدا ہوں گا اور وہ میرا بیٹا ہوگا۔

5. Revelation 21 : 3, 6, 7

3     And I heard a great voice out of heaven saying, Behold, the tabernacle of God is with men, and he will dwell with them, and they shall be his people, and God himself shall be with them, and be their God.

6     And he said unto me, It is done. I am Alpha and Omega, the beginning and the end. I will give unto him that is athirst of the fountain of the water of life freely.

7     He that overcometh shall inherit all things; and I will be his God, and he shall be my son.



سائنس اور صح


1۔ 583 :20 (تا)، 23 (اصول)۔25

خالق۔۔۔ اصول، خدا جس نے وہ سب کچھ بنایا جو بنایا گیا تھا اور خود کے مخالف کوئی ایٹم یا عنصر نہ بنا سکا۔

1. 583 : 20 (to .), 23 (Principle)-25

Creator. … Principle; God, who made all that was made and could not create an atom or an element the opposite of Himself.

2۔ 295 :5۔15

خدا کائنات کو،بشمول انسان،خلق کرتا اور اْس پر حکومت کرتا ہے، یہ کائنات روحانی خیالات سے بھری پڑی ہے، جنہیں وہ تیار کرتا ہے، اور وہ اْس عقل کی فرمانبرداری کرتے ہیں جو انہیں بناتی ہے۔ فانی عقل مادی کو روحانی میں تبدیل کر دے گی، اور پھر انسان کی اصل خودی کو غلطی کی فانیت سے رہا کرنے کے لئے ٹھیک کرے گی۔ فانی لوگ غیر فانیوں کی مانند خدا کی صورت پر پیدا نہیں کئے گئے، بلکہ لامحدود روحانی ہستی کی مانند فانی ضمیر بالا آخر سائنسی حقیقت کو تسلیم کرے گا اور غائب ہو جائے گا،اور ہستی کا،کامل اور ہمیشہ سے برقرار حقیقی فہم سامنے آئے گا۔

2. 295 : 5-15

God creates and governs the universe, including man. The universe is filled with spiritual ideas, which He evolves, and they are obedient to the Mind that makes them. Mortal mind would transform the spiritual into the material, and then recover man's original self in order to escape from the mortality of this error. Mortals are not like immortals, created in God's own image; but infinite Spirit being all, mortal consciousness will at last yield to the scientific fact and disappear, and the real sense of being, perfect and forever intact, will appear.

3۔ 539 :19۔1

یہ کہنا غلط ہے کہ سچائی اور غلطی پیدائش میں باہم ملتے ہیں۔ تمثیل اور تکرار میں یہ غلطی ہمارے مالک کی جانب سے خود واضح طور پر بے نقاب ہوتی ہے۔ اِن نقاط پر بحث کرتے ہوئے اور پیدائش کی سائنس سے متعلق فریسیوں کے ساتھ تکرار کرتے ہوئے یسوع نے کہا، ”کیا جھاڑیوں سے انگور توڑتے ہیں؟“ پولوس نے کہا: ”روشنی اور تاریکی میں کیا شراکت؟ مسیح کو بلیعال کے ساتھ کیا موافقت؟“

یسوع کی الٰہی پیدائش نے اْسے تخلیق کے حقائق کو وسیع کرنے اور اْس واحد عقل کوجو انسان اور کائنات کو خلق کرتا اور اْس پر حکمرانی کرتا ہے، ظاہر کرنے کے لئے انسانی طاقت کی نسبت بہت زیادہ عطا کیا۔تخلیق کی سائنس نے، جو یسوع کی پیدائش میں بہت واضح تھی، اْس کے عاقل ترین اور کم سمجھے جانے والے اقوال کو الہامی بنایا، اور یہ اْس کے حیرت انگیز اظہارات کی بنیاد تھا۔

3. 539 : 19-1

It is false to say that Truth and error commingle in creation. In parable and argument, this falsity is exposed by our Master as self-evidently wrong. Disputing these points with the Pharisees and arguing for the Science of creation, Jesus said: "Do men gather grapes of thorns?" Paul asked: "What communion hath light with darkness? And what concord hath Christ with Belial?"

The divine origin of Jesus gave him more than human power to expound the facts of creation, and demonstrate the one Mind which makes and governs man and the universe. The Science of creation, so conspicuous in the birth of Jesus, inspired his wisest and least-understood sayings, and was the basis of his marvellous demonstrations.

4۔ 31 :4۔11

یسوع نے کسی بدنی تعلق کو تسلیم نہیں کیا۔ اْس نے کہا: ”زمین پر کسی کو اپنا باپ نہ کہو کیونکہ تمہارا باپ ایک ہی ہے جو آسمانی ہے۔“ اْس نے دوبارہ کہا: ”کون ہے میری ماں اور کون ہیں میرے بھائی“، یہ مطلب دیتے ہوئے کہ یہ وہی ہیں جو اْس کے باپ کی مرضی بجا لاتے ہیں۔ ہمارے پاس اس بات کاکوئی ریکارڈ نہیں کہ وہ کسی شخص کو باپ کے نام سے پکارتا ہو۔وہ روح، خدا کو واحد خالق کے روپ میں جانتا تھا اور اِس لئے اْسے بطور سب کا باپ بھی جانتا تھا۔

4. 31 : 4-11

Jesus acknowledged no ties of the flesh. He said: "Call no man your father upon the earth: for one is your Father, which is in heaven." Again he asked: "Who is my mother, and who are my brethren," implying that it is they who do the will of his Father. We have no record of his calling any man by the name of father. He recognized Spirit, God, as the only creator, and therefore as the Father of all.

5۔ 134 :31۔10

ایک معجزہ خدا کے قانون کو پورا کرتا ہے، لیکن اْس قانون کو توڑتا نہیں۔ یہ حقیقت خود معجزے کی نسبت زیادہ پْر اسرار لگتی ہے۔ زبور نویس نے یہ گایا: ”اے سمندرتجھے کیا ہواکہ تُو بھاگتا ہے؟ اے یردن!تجھے کیا ہوا کہ تو پیچھے ہٹتا ہے؟ اَے پہاڑو! تمکو کیا ہوا کہ تُم مینڈھوں کی طرح اچھلتے ہو؟ اے پہاڑیو! تمکو کیا ہواکہ تُم بھیڑ کے بچوں کی طرح کودتی ہو؟اَے زمین تُو رب کے حضور۔ یعقوب کے خدا کے حضور تھرتھرا۔“ یہ معجزہ کوئی اختلاف متعارف نہیں کراتا، بلکہ خدا کے ناقابل تبدیل قانون کی سائنس کو قائم کرتے ہوئے بنیادی ترتیب کو واضح کرتا ہے۔ صرف روحانی ارتقا ء ہی الٰہی قوت کی مشق کرنے کے قابل ہے۔

5. 134 : 31-10

A miracle fulfils God's law, but does not violate that law. This fact at present seems more mysterious than the miracle itself. The Psalmist sang: "What ailed thee, O thou sea, that thou fleddest? Thou Jordan, that thou wast driven back? Ye mountains, that ye skipped like rams, and ye little hills, like lambs? Tremble, thou earth, at the presence of the Lord, at the presence of the God of Jacob." The miracle introduces no disorder, but unfolds the primal order, establishing the Science of God's unchangeable law. Spiritual evolution alone is worthy of the exercise of divine power.

6۔ 507 :24۔6

لا متناہی عقل ابدیت کے ذہنی مالیکیول کی طرف سے سب کو خلق کرتی اور اْن پر حکومت کرتی ہے۔ سب کا یہ الٰہی اصول اْس کی تخلیق کی پوری سائنس اور آرٹ اور انسان اور کائنات کی لافانیت کو ظاہر کرتا ہے۔تخلیق ہمیشہ سے ظاہر ہو رہی ہے اور اسے اپنے لازوال ذرائع کی فطرت کے باعث ظاہر ہونا جاری رکھنا چاہئے۔ بشری فہم اس ظہور کو الٹ کر دیتا ہے اور خیالات کو مادی کہتا ہے۔ لہٰذہ غلط تشریح کے ساتھ الٰہی خیال انسانی یا مادی عقیدے کے معیار تک گرتا دکھائی دیتا ہے، جسے مادی انسان کہا جاتا ہے۔لیکن بیج اس کے اندر ہی ہے،محض ایسے ہی جیسے الٰہی عقل سب کچھ ہے اور سب کچھ پیدا کرتی ہے، جیسے عقل کثیر کرنے والی ہے، اورعقل کا لامتناہی خیال، انسان اور کائنات پیداوار ہے۔واحد ذہانت یا سوچ کا مواد، ایک بیج یا ایک پھول خدا ہے، جو اس کا خالق ہے۔

6. 507 : 24-6

Infinite Mind creates and governs all, from the mental molecule to infinity. This divine Principle of all expresses Science and art throughout His creation, and the immortality of man and the universe. Creation is ever appearing, and must ever continue to appear from the nature of its inexhaustible source. Mortal sense inverts this appearing and calls ideas material. Thus misinterpreted, the divine idea seems to fall to the level of a human or material belief, called mortal man. But the seed is in itself, only as the divine Mind is All and reproduces all — as Mind is the multiplier, and Mind's infinite idea, man and the universe, is the product. The only intelligence or substance of a thought, a seed, or a flower is God, the creator of it.

7۔ 547 :15۔30

لافانیت سے متعلق اِس کی تاریخ میں، ڈارون کا ارتقائی نظریہ مادی بنیادوں پر دیگر نظریات کی نسبت زیادہ معقول ہے۔مختصراً، ڈارون کا نظریہ یہ ہے کہ عقل خود کے مخالف، مادے کو جنم دیتی ہے اور اِس مادے کو کائنات، بشمول انسان، کو تقویت دینے کے لئے طاقت بخشتی ہے۔مادی ارتقاء بیان کرتا ہے کہ عظیم پہلی وجہ کو مادی بننا چاہئے اور اِس کے بعد عقل کے پاس یا خاک اور عدم میں لوٹ جانا چاہئے۔

صحائف بہت پاک ہیں۔ ہمارا مقصد اْن کے روحانی فہم کو حاصل کرنا ہونا چاہئے، کیونکہ صرف فہم ہی کی بدولت ہم سچائی پا سکتے ہیں۔ کائنات کا،بشمول انسان، حقیقی نظریہ مادی تاریخ میں نہیں بلکہ روحانی ترقی میں ہے۔ الہامی سوچ کائنات کے ایک مادی، جسمانی اور فانی نظریے کو ترک کرتی ہے، اور روحانی اور لافانی کو اپناتی ہے۔

7. 547 : 15-30

In its history of mortality, Darwin's theory of evolution from a material basis is more consistent than most theories. Briefly, this is Darwin's theory, — that Mind produces its opposite, matter, and endues matter with power to recreate the universe, including man. Material evolution implies that the great First Cause must become material, and afterwards must either return to Mind or go down into dust and nothingness.

The Scriptures are very sacred. Our aim must be to have them understood spiritually, for only by this understanding can truth be gained. The true theory of the universe, including man, is not in material history but in spiritual development. Inspired thought relinquishes a material, sensual, and mortal theory of the universe, and adopts the spiritual and immortal.

8۔ 303 :10۔20

جو کچھ بھی عقل، زندگی، سچائی اور محبت کی عکاسی کرتا ہے وہ روحانی طور پر سمجھا اور سامنے لایا جاتا ہے؛ مگر یہ بیان اِس ابدی سچائی کی مخالفت کرتا ہے کہ انسان نے روحانی اور مادی دونوں لحاظ سے یا خدا اور انسان دونوں کی جانب سے جنم لیا اور فروغ پایاہے۔ادوار کی ساری خود نمائی اِن دونوں تضادات کو سچ کبھی نہیں بنا سکتی۔ الٰہی سائنس اِس بھرم کی جڑ پر کلہاڑا رکھتی ہے کہ زندگی یا عقل مادی بدن میں یا وسیلہ سے بنائی گئی اور سائنس نتیجتاً اِس بھرم کو غلطی کی خود کار تباہ کاری کے وسیلہ نیست کرتی اور زندگی کی سائنس کے فہم کو خوبصورت بناتی ہے۔

8. 303 : 10-20

Whatever reflects Mind, Life, Truth, and Love, is spiritually conceived and brought forth; but the statement that man is conceived and evolved both spiritually and materially, or by both God and man, contradicts this eternal truth. All the vanity of the ages can never make both these contraries true. Divine Science lays the axe at the root of the illusion that life, or mind, is formed by or is in the material body, and Science will eventually destroy this illusion through the self-destruction of all error and the beatified understanding of the Science of Life.

9۔ 68 :27۔16

کرسچن سائنس تخلیق کو نہیں بلکہ افشائی کو پیش کرتی ہے، یہ مالیکیول سے عقل تک کی مادی ترقی کو نہیں بلکہ انسان اور کائنات کے لئے الٰہی عقل کی عنایت کو ظاہر کرتی ہے۔متناسب طور پر جب انسانی نسل ابدی کے ساتھ روابط کو ختم کردیتی ہے، تو ہم آہنگ ہستی کو روحانی طور پر سمجھا جائے گا، اوروہ انسان ظاہر ہوگا جو زمینی نہ ہو بلکہ خدا کے ساتھ باہم ہو۔ یہ سائنسی حقیقت کہ انسان اور کائنات روح سے مرتب ہوتے ہیں، اور اسی طرح روحانی بھی ہوتے ہیں، الٰہی سائنس میں اتنی ہی مضبوط ہوتی ہے جتنا کہ یہ ثبوت ہے کہ فانی بشر صرف تبھی صحتمندی کا فہم پاتے ہیں جب وہ گناہ اور بیماری کا فہم کھودیتے ہیں۔یہ مانتے ہوئے کہ انسان خالق ہے بشر خدا کی تخلیق کو کبھی نہیں سمجھ سکتے۔ پہلے سے تخلیق شدہ خدا کے فرزند صرف تب اپنی پہچان پاتے ہیں جب انسان ہستی کی سچائی کو پا لیتا ہے۔سچائی یہ ہے کہ حقیقی، مثالی انسان اسی تناسب میں ظاہر ہوتے ہیں جب جھوٹے اور مادی غائب ہوتے ہیں۔مزید شادی نہ کرنایا ”شادی میں دئیے“ جانا نہ ہی انسان کے تسلسل کو بند کرتا ہے اور نہ ہی خدا کے لامتناہی منصوبے میں اْس کی بڑھتی ہوئی تعداد کے فہم کو بند کرتا ہے۔روحانی طور پر یہ سمجھنا کہ ماسوائے ایک خالق، خدا کے اور کوئی نہیں، ساری تخلیق کو ایاں کرتا، صحائف کی تصدیق کرتا، علیحدگی، یا درد اور ازلی اور کامل اور ابدی انسانیت کی شیریں یقین دہانی لاتا ہے۔

9. 68 : 27-16

Christian Science presents unfoldment, not accretion; it manifests no material growth from molecule to mind, but an impartation of the divine Mind to man and the universe. Proportionately as human generation ceases, the unbroken links of eternal, harmonious being will be spiritually discerned; and man, not of the earth earthly but coexistent with God, will appear. The scientific fact that man and the universe are evolved from Spirit, and so are spiritual, is as fixed in divine Science as is the proof that mortals gain the sense of health only as they lose the sense of sin and disease. Mortals can never understand God's creation while believing that man is a creator. God's children already created will be cognized only as man finds the truth of being. Thus it is that the real, ideal man appears in proportion as the false and material disappears. No longer to marry or to be "given in marriage" neither closes man's continuity nor his sense of increasing number in God's infinite plan. Spiritually to understand that there is but one creator, God, unfolds all creation, confirms the Scriptures, brings the sweet assurance of no parting, no pain, and of man deathless and perfect and eternal.

10۔ 502 :27۔5

تخلیقی اصول، زندگی، سچائی اور محبت، خدا ہے۔ کائنات خدا کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک خالق اور ایک تخلیق کے سوا اور کوئی نہیں۔ یہ تخلیق روحانی خیالات اور اْن کی شناختوں کے ایاں ہونے پر مشتمل ہے، جو لامحدود عقل کے دامن سے جڑے ہیں اور ہمیشہ منعکس ہوتے ہیں۔ یہ خیالات محدود سے لامحدود تک وسیع ہیں اور بلند تیرین خیالات خدا کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔

10. 502 : 27-5

The creative Principle — Life, Truth, and Love — is God. The universe reflects God. There is but one creator and one creation. This creation consists of the unfolding of spiritual ideas and their identities, which are embraced in the infinite Mind and forever reflected. These ideas range from the infinitesimal to infinity, and the highest ideas are the sons and daughters of God.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████