اتوار 20 جون،2021

مضمون۔ کیا کائنات، بشمول انسان ایٹمی توانائی سے مرتب ہوئی ہے؟

SubjectIs the Universe, Including Man, Evolved by Atomic Force?

سنہری متن: امثال 3 باب19آیت

”خداوند نے حکمت سے زمین کی بنیاد ڈالی اور فہم سے آسمان کو قائم کیا۔“

Golden Text: Proverbs 3 : 19

The Lord by wisdom hath founded the earth; by understanding hath he established the heavens.

سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں


جوابی مطالعہ: زبور 95: 1تا6 آیات

1۔ آؤ ہم خداوند کے حضور نغمہ سرائی کریں! اپنی چٹان کے سامنے خوشی سے للکاریں۔

2۔ شکر کرتے ہوئے اْس کے حضور حاضر ہوں۔مزمور گاتے ہوئے اْس کے آگے خوشی سے للکاریں۔

3۔ کیونکہ خداوند خدائے عظیم ہے۔ اور سب الہٰوں پر شاہ عظیم ہے۔

4۔ زمین کے گہراؤ اْس کے قبضہ میں ہیں پہاڑوں کی چوٹیاں بھی اْسی کی ہیں۔

5۔ سمندر اْس کا ہے۔ اْسی نے اْس کو بنایا۔ اور اْس کے ہاتھوں نے خشکی کو بھی تیار کیا۔

6۔ آؤ ہم جھکیں اور سجدہ کریں! اور اپنے خالق ِخداوند کے حضور گھٹنے ٹیکیں۔

Responsive Reading: Psalm 95 : 1-6

1.     O come, let us sing unto the Lord: let us make a joyful noise to the rock of our salvation.

2.     Let us come before his presence with thanksgiving, and make a joyful noise unto him with psalms.

3.     For the Lord is a great God, and a great King above all gods.

4.     In his hand are the deep places of the earth: the strength of the hills is his also.

5.     The sea is his, and he made it: and his hands formed the dry land.

6.     O come, let us worship and bow down: let us kneel before the Lord our maker.

درسی وعظ


درسی وعظ


1۔ زبور 148: 1تا5 آیات

1۔ خداوند کی حمد کرو۔ آسمان پر سے خداوند کی حمد کرو۔ بلندیوں پر اْس کی حمد کرو۔

2۔ اے اْس کے فرشتو! سب اْس کی حمد کرو۔ اے اْس کے لشکرو! سب اْس کی حمد کرو۔

3۔ اے سورج! اے چاند! اْس کی حمد کرو۔ اے نورانی ستارو! سب اْس کی حمد کرو۔

4۔ اے افلاک افلاک! اْس کی حمد کرو۔ اور تْو بھی اے فضا پر کے پانی۔

5۔ یہ سب خداوند کے نام کی حمد کریں۔ کیونکہ اْس نے حکم دیا اور یہ پیدا ہوگئے۔

1. Psalm 148 : 1-5

1 Praise ye the Lord. Praise ye the Lord from the heavens: praise him in the heights.

2     Praise ye him, all his angels: praise ye him, all his hosts.

3     Praise ye him, sun and moon: praise him, all ye stars of light.

4     Praise him, ye heavens of heavens, and ye waters that be above the heavens.

5     Let them praise the name of the Lord: for he commanded, and they were created.

2۔ یسعیاہ 42باب5تا8 آیات

5۔ جس نے آسمان کو پیدا کیا اور تان دیا جس نے زمین کو اور جو کچھ اْس میں سے نکلتا ہے پھیلایا اور جو اْس کے باشندوں کو سانس اور اْس پر چلنے والوں کو روح عنایت کرتا ہے یعنی خداوند خدا یوں فرماتا ہے۔

6۔ مَیں خداوند نے تجھے صداقت سے بلایا مَیں ہی تیرا ہاتھ پکڑوں گا اور تیری حفاظت کروں گا اور لوگوں کے عہد اور قوموں کے نور کے لئے تجھے دوں گا۔

7۔ کہ تْو اندھوں کی آنکھیں کھولے اور اسیروں کو قید سے نکالے اور اْن کو جو اندھیرے میں بیٹھے ہیں قید خانے سے چھڑائے۔

8۔ یہواہ مَیں ہی ہوں یہی میرا نام ہے مَیں اپنا جلال کسی دوسرے کے لئے اور اپنی حمد کھودی مورتوں کے لئے روا نہ رکھوں گا۔

2. Isaiah 42 : 5-8

5     Thus saith God the Lord, he that created the heavens, and stretched them out; he that spread forth the earth, and that which cometh out of it; he that giveth breath unto the people upon it, and spirit to them that walk therein:

6     I the Lord have called thee in righteousness, and will hold thine hand, and will keep thee, and give thee for a covenant of the people, for a light of the Gentiles;

7     To open the blind eyes, to bring out the prisoners from the prison, and them that sit in darkness out of the prison house.

8     I am the Lord: that is my name: and my glory will I not give to another, neither my praise to graven images.

3۔ نحمیاہ 9باب 6 آیت

6۔ تْو ہی اکیلا خداوند ہے۔ تْو نے آسمان اور آسمانوں کے آسمان کو اور اْن کے سارے لشکر کو اور زمین کو اور جو کچھ اْس پر ہے سمندروں کو اور جو کچھ اْن میں ہے بنایا اور تْو اْن سبھوں کا پروردگار ہے اور آسمان کا لشکر تجھے سجدہ کرتا ہے۔

3. Nehemiah 9 : 6

6     Thou, even thou, art Lord alone; thou hast made heaven, the heaven of heavens, with all their host, the earth, and all things that are therein, the seas, and all that is therein, and thou preservest them all; and the host of heaven worshippeth thee.

4۔ متی 11 باب1، 20تا30 آیات

1۔ جب یسوع اپنے بارہ شاگردوں کو حکم دے چکا تو ایسا ہوا کہ وہاں سے چلا گیا تاکہ اْن کے شہروں میں تعلیم دے اور منادی کرے۔

20۔ وہ اْس وقت اْن شہروں کو ملامت کرنے لگا جن میں اْس کے اکثر معجزے ظاہر ہوئے تھے کیونکہ اْنہوں نے توبہ نہ کی تھی۔

21۔ اے خرازین! تجھ پر افسوس! اے بیتِ صیدا! تجھ پر افسوس!کیونکہ جو معجزے تم میں ظاہر ہوئے اگر صدوم میں ہوتے تو آج تک قائم رہتا۔

22۔ مگر مَیں تم سے کہتا ہوں کہ عدالت کے دن صور اور صیدا کا حال تمہارے حال سے زیادہ برداشت کے لائق ہوگا۔

23۔ اور اے کفر نحوم کیا تْو آسمان تک بلند کیا جائے گا۔ تْو تو عالمِ ارواح میں اْترے گا کیونکہ جو معجزے تجھ میں ظاہر ہوئے اگر صدوم میں ہوتے تو آج تک قائم رہتا

24۔ مگر مَیں تم سے کہتا ہوں کہ عدالت کے دن صدوم کے علاقے کا حال تیرے حال سے زیادہ برداشت کے لائق ہوگا۔

25۔ اْس وقت یسوع نے کہا اے باپ آسمان اور زمین کے خداوند مَیں تیری حمد کرتا ہوں کہ تْو نے یہ باتیں داناؤں اور عقلمندوں سے چھپائیں اور بچوں پر ظاہر کیں۔

26۔ ہاں اے باپ! کیونکہ ایسا ہی تجھے پسند آیا۔

27۔ میرے باپ کی طرف سے سب کچھ مجھے سونپا گیا اور کوئی بیٹے کو نہیں جانتا سوائے باپ کے اور کوئی باپ کو نہیں جانتا سوا بیٹے کے اور اْس کے جس پر بیٹا اْسے ظاہر کرنا چاہے۔

28۔ اے محنت اْٹھانے والو اور بوجھ کے دبے لوگو سب میرے پاس آؤ۔ مَیں تم کو آرام دوں گا۔

29۔ میرا جوااپنے اوپر اٹھا لو اور مجھ سے سیکھو۔ کیونکہ مَیں حلیم ہوں اور دل کا فروتن۔ تو تمہاری جانیں آرام پائیں گی۔

30۔ کیونکہ میرا جوا ملائم ہے اور میرا بوجھ ہلکا ہے۔

4. Matthew 11 : 1, 20-30

1     And it came to pass, when Jesus had made an end of commanding his twelve disciples, he departed thence to teach and to preach in their cities.

20     Then began he to upbraid the cities wherein most of his mighty works were done, because they repented not:

21     Woe unto thee, Chorazin! woe unto thee, Bethsaida! for if the mighty works, which were done in you, had been done in Tyre and Sidon, they would have repented long ago in sackcloth and ashes.

22     But I say unto you, It shall be more tolerable for Tyre and Sidon at the day of judgment, than for you.

23     And thou, Capernaum, which art exalted unto heaven, shalt be brought down to hell: for if the mighty works, which have been done in thee, had been done in Sodom, it would have remained until this day.

24     But I say unto you, That it shall be more tolerable for the land of Sodom in the day of judgment, than for thee.

25     At that time Jesus answered and said, I thank thee, O Father, Lord of heaven and earth, because thou hast hid these things from the wise and prudent, and hast revealed them unto babes.

26     Even so, Father: for so it seemed good in thy sight.

27     All things are delivered unto me of my Father: and no man knoweth the Son, but the Father; neither knoweth any man the Father, save the Son, and he to whomsoever the Son will reveal him.

28     Come unto me, all ye that labour and are heavy laden, and I will give you rest.

29     Take my yoke upon you, and learn of me; for I am meek and lowly in heart: and ye shall find rest unto your souls.

30     For my yoke is easy, and my burden is light.

5۔ متی 12 باب46تا50 آیات

46۔ جب وہ بھیڑ سے یہ کہہ رہا تھا اْس کی ماں اور بھائی باہر کھڑے تھے اور اْس سے بات کرنا چاہتے تھے۔

47۔ کسی نے اْس سے کہا دیکھ تیری ماں اور تیرے بھائی باہر کھڑے ہیں اور تجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔

48۔ اْس نے خبر دینے والے کو جواب میں کہاکون ہے میری ماں اور کون ہیں میرے بھائی؟

49۔ اور اپنے شاگردوں کی طرف ہاتھ بڑھا کر کہا دیکھو میری ماں اور میرے بھائی یہ ہیں۔

50۔ کیونکہ جو کوئی میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلے وہی میرا بھائی اور میری بہن اور میری ماں ہے۔

5. Matthew 12 : 46-50

46     While he yet talked to the people, behold, his mother and his brethren stood without, desiring to speak with him.

47     Then one said unto him, Behold, thy mother and thy brethren stand without, desiring to speak with thee.

48     But he answered and said unto him that told him, Who is my mother? and who are my brethren?

49     And he stretched forth his hand toward his disciples, and said, Behold my mother and my brethren!

50     For whosoever shall do the will of my Father which is in heaven, the same is my brother, and sister, and mother.

6۔ یرمیاہ 10باب10(دی) تا13 آیات

10۔ ۔۔۔ خداوند سچا خدا ہے۔ وہ زندہ خدا اور ابدی بادشاہ ہے۔ اْس کے قہر سے زمین تھرتھراتی ہے اور قوموں میں اْس کے قہر کی تاب نہیں۔

11۔ تم اْن سے یوں کہنا کہ یہ معبود جنہوں نے آسمان اور زمین کو نہیں بنایا زمین پر سے اور آسمان کے نیچے سے نیست ہوجائیں گے۔

12۔اْسی نے اپنی قدرت سے زمین کو بنایا۔ اْسی نے اپنی حکمت سے جہان کو قائم کیا اور اپنی عقل سے آسمان کو تان دیا۔

13۔ اْس کی آواز سے آسمان میں پانی کی فراوانی ہوتی ہے اور وہ زمین کی انتہا سے بخارات اْٹھاتا ہے۔ وہ بارش کے لئے بجلی چمکاتا ہے اور اپنے خزانوں سے ہوا چلاتا ہے۔

6. Jeremiah 10 : 10 (the)-13

10     …the Lord is the true God, he is the living God, and an everlasting king: at his wrath the earth shall tremble, and the nations shall not be able to abide his indignation.

11     Thus shall ye say unto them, The gods that have not made the heavens and the earth, even they shall perish from the earth, and from under these heavens.

12     He hath made the earth by his power, he hath established the world by his wisdom, and hath stretched out the heavens by his discretion.

13     When he uttereth his voice, there is a multitude of waters in the heavens, and he causeth the vapours to ascend from the ends of the earth; he maketh lightnings with rain, and bringeth forth the wind out of his treasures.

7۔ مکاشفہ 4باب2 (مَیں)، 4،10، 11 آیات

2۔ مَیں روح میں آگیا اور کیا دیکھتا ہوں کہ آسمان پر ایک تخت رکھا ہے اور اْس تخت پر کوئی بیٹھا ہے۔

4۔ اور اْس تخت کے گرد چوبیس تخت ہیں اور اْن تختوں پر چوبیس بزرگ سفید پوشاک پہنے ہوئے بیٹھے ہیں اور اْن کے سروں پر سونے کے تاج ہیں۔

10۔ تو وہ چوبیس بزرگ اْس کے سامنے جو تخت پر بیٹھا ہے گر پڑیں گے اور اْس کو سجدہ کریں گے جو ابدالاباد زندہ رہے گا اور اپنے تاج یہ کہتے ہوئے اْس تخت کے سامنے ڈال دیں گے کہ

11۔ اے ہمارے خداوند اور خدا تو ہی تمجید اور عزت اور قدرت کے لائق ہے کیونکہ تْو ہی نے سب چیزیں پیدا کیں اور وہ تیری ہی مرضی سے تھیں اور پیدا ہوئیں۔

7. Revelation 4 : 2 (I), 4, 10, 11

2     I was in the spirit: and, behold, a throne was set in heaven, and one sat on the throne.

4     And round about the throne were four and twenty seats: and upon the seats I saw four and twenty elders sitting, clothed in white raiment; and they had on their heads crowns of gold.

10     The four and twenty elders fall down before him that sat on the throne, and worship him that liveth for ever and ever, and cast their crowns before the throne, saying,

11     Thou art worthy, O Lord, to receive glory and honour and power: for thou hast created all things, and for thy pleasure they are and were created.

8۔ مکاشفہ 14 باب6، 7 آیات

6۔ پھر مَیں نے ایک اور فرشتے کو آسمان کے بیچ میں اْڑتے ہوئے دیکھا جس کے پاس زمین پر رہنے والوں کی ہر قوم اور قبیلہ اور اہلِ زبان اور امت کے سنانے کے لئے ابدی خوشخبری تھی۔

7۔ اور اْس نے بڑی آواز سے کہا کہ خدا سے ڈرو اور اْس کی تمجید کرو کیونکہ اْس کی عدالت کا وقت آپہنچا ہے اور اْسی کی عبادت کرو جس نے آسمان اور زمین اور سمندر اور پانی کے چشمے پیدا کئے۔

8. Revelation 14 : 6, 7

6     And I saw another angel fly in the midst of heaven, having the everlasting gospel to preach unto them that dwell on the earth, and to every nation, and kindred, and tongue, and people,

7     Saying with a loud voice, Fear God, and give glory to him; for the hour of his judgment is come: and worship him that made heaven, and earth, and the sea, and the fountains of waters.

سائنس اور صح

1۔ 583 :20 (تا۔)، 23 (اصول)۔25

خالق۔۔۔ اصول، خدا جس نے وہ سب کچھ بنایا جو بنایا گیا تھا اور خود کے مخالف کوئی ایٹم یا عنصر نہ بنا سکا۔

1. 583 : 20 (to .), 23 (Principle)-25

Creator. … Principle; God, who made all that was made and could not create an atom or an element the opposite of Himself.

2۔ 295 :5۔15

خدا کائنات کو،بشمول انسان،خلق کرتا اور اْس پر حکومت کرتا ہے، یہ کائنات روحانی خیالات سے بھری پڑی ہے، جنہیں وہ تیار کرتا ہے، اور وہ اْس عقل کی فرمانبرداری کرتے ہیں جو انہیں بناتی ہے۔ فانی عقل مادی کو روحانی میں تبدیل کر دے گی، اور پھر انسان کی اصل خودی کو غلطی کی فانیت سے رہا کرنے کے لئے ٹھیک کرے گی۔ فانی لوگ غیر فانیوں کی مانند خدا کی صورت پر پیدا نہیں کئے گئے، بلکہ لامحدود روحانی ہستی کی مانند فانی ضمیر بالا آخر سائنسی حقیقت کو تسلیم کرے گا اور غائب ہو جائے گا،اور ہستی کا،کامل اور ہمیشہ سے برقرار حقیقی فہم سامنے آئے گا۔

2. 295 : 5-15

God creates and governs the universe, including man. The universe is filled with spiritual ideas, which He evolves, and they are obedient to the Mind that makes them. Mortal mind would transform the spiritual into the material, and then recover man's original self in order to escape from the mortality of this error. Mortals are not like immortals, created in God's own image; but infinite Spirit being all, mortal consciousness will at last yield to the scientific fact and disappear, and the real sense of being, perfect and forever intact, will appear.

3۔ 539 :19۔20، 27۔1

یہ کہنا غلط ہے کہ سچائی اور غلطی پیدا ئش میں باہم ملتے ہیں۔

یسوع کی الٰہی پیدائش نے اْسے تخلیق کے حقائق کو وسیع کرنے اور اْس واحد عقل کوجو انسان اور کائنات کو خلق کرتا اور اْس پر حکمرانی کرتا ہے، ظاہر کرنے کے لئے انسانی طاقت کی نسبت بہت زیادہ عطا کیا۔تخلیق کی سائنس نے، جو یسوع کی پیدائش میں بہت واضح تھی، اْس کے عاقل ترین اور کم سمجھے جانے والے اقوال کو الہامی بنایا، اور یہ اْس کے حیرت انگیز اظہارات کی بنیاد تھا۔

3. 539 : 19-20, 27-1

It is false to say that Truth and error commingle in creation.

The divine origin of Jesus gave him more than human power to expound the facts of creation, and demonstrate the one Mind which makes and governs man and the universe. The Science of creation, so conspicuous in the birth of Jesus, inspired his wisest and least-understood sayings, and was the basis of his marvellous demonstrations.

4۔ 31 :4۔11

یسوع نے کسی بدنی تعلق کو تسلیم نہیں کیا۔ اْس نے کہا: ”زمین پر کسی کو اپنا باپ نہ کہو کیونکہ تمہارا باپ ایک ہی ہے جو آسمانی ہے۔“ اْس نے دوبارہ کہا: ”کون ہے میری ماں اور کون ہیں میرے بھائی“، یہ مطلب دیتے ہوئے کہ یہ وہی ہیں جو اْس کے باپ کی مرضی بجا لاتے ہیں۔ ہمارے پاس اس بات کا کوئی ریکارڈ نہیں کہ وہ کسی شخص کو باپ کے نام سے پکارتا ہو۔وہ روح، خدا کو واحد خالق کے روپ میں جانتا تھا اور اِس لئے اْسے بطور سب کا باپ بھی جانتا تھا۔

4. 31 : 4-11

Jesus acknowledged no ties of the flesh. He said: "Call no man your father upon the earth: for one is your Father, which is in heaven." Again he asked: "Who is my mother, and who are my brethren," implying that it is they who do the will of his Father. We have no record of his calling any man by the name of father. He recognized Spirit, God, as the only creator, and therefore as the Father of all.

5۔ 507 :24۔6

لا متناہی عقل ابدیت کے ذہنی مالیکیول کی طرف سے سب کو خلق کرتی اور اْن پر حکومت کرتی ہے۔ سب کا یہ الٰہی اصول اْس کی تخلیق کی پوری سائنس اور آرٹ اور انسان اور کائنات کی لافانیت کو ظاہر کرتا ہے۔تخلیق ہمیشہ سے ظاہر ہو رہی ہے اور اسے اپنے لازوال ذرائع کی فطرت کے باعث ظاہر ہونا جاری رکھنا چاہئے۔ بشری فہم اس ظہور کو الٹ کر دیتا ہے اور خیالات کو مادی کہتا ہے۔ لہٰذہ غلط تشریح کے ساتھ الٰہی خیال انسانی یا مادی عقیدے کے معیار تک گرتا دکھائی دیتا ہے، جسے مادی انسان کہا جاتا ہے۔لیکن بیج اس کے اندر ہی ہے،محض ایسے ہی جیسے الٰہی عقل سب کچھ ہے اور سب کچھ پیدا کرتی ہے، جیسے عقل کثیر کرنے والی ہے، اورعقل کا لامتناہی خیال، انسان اور کائنات پیداوار ہے۔واحد ذہانت یا سوچ کا مواد، ایک بیج یا ایک پھول خدا ہے، جو اس کا خالق ہے۔

5. 507 : 24-6

Infinite Mind creates and governs all, from the mental molecule to infinity. This divine Principle of all expresses Science and art throughout His creation, and the immortality of man and the universe. Creation is ever appearing, and must ever continue to appear from the nature of its inexhaustible source. Mortal sense inverts this appearing and calls ideas material. Thus misinterpreted, the divine idea seems to fall to the level of a human or material belief, called mortal man. But the seed is in itself, only as the divine Mind is All and reproduces all — as Mind is the multiplier, and Mind's infinite idea, man and the universe, is the product. The only intelligence or substance of a thought, a seed, or a flower is God, the creator of it.

6۔ 547 :15۔30

لافانیت سے متعلق اِس کی تاریخ میں، ڈارون کا ارتقائی نظریہ مادی بنیادوں پر دیگر نظریات کی نسبت زیادہ معقول ہے۔مختصراً، ڈارون کا نظریہ یہ ہے کہ عقل خود کے مخالف، مادے کو جنم دیتی ہے اور اِس مادے کو کائنات، بشمول انسان، کو تقویت دینے کے لئے طاقت بخشتی ہے۔مادی ارتقاء بیان کرتا ہے کہ عظیم پہلی وجہ کو مادی بننا چاہئے اور اِس کے بعد عقل کے پاس یا خاک اور عدم میں لوٹ جانا چاہئے۔

صحائف بہت پاک ہیں۔ ہمارا مقصد اْن کے روحانی فہم کو حاصل کرنا ہونا چاہئے، کیونکہ صرف فہم ہی کی بدولت ہم سچائی پا سکتے ہیں۔ کائنات کا،بشمول انسان، حقیقی نظریہ مادی تاریخ میں نہیں بلکہ روحانی ترقی میں ہے۔ الہامی سوچ کائنات کے ایک مادی، جسمانی اور فانی نظریے کو ترک کرتی ہے، اور روحانی اور لافانی کو اپناتی ہے۔

6. 547 : 15-30

In its history of mortality, Darwin's theory of evolution from a material basis is more consistent than most theories. Briefly, this is Darwin's theory, — that Mind produces its opposite, matter, and endues matter with power to recreate the universe, including man. Material evolution implies that the great First Cause must become material, and afterwards must either return to Mind or go down into dust and nothingness.

The Scriptures are very sacred. Our aim must be to have them understood spiritually, for only by this understanding can truth be gained. The true theory of the universe, including man, is not in material history but in spiritual development. Inspired thought relinquishes a material, sensual, and mortal theory of the universe, and adopts the spiritual and immortal.

7۔ 135 :9۔10

صرف روحانی ارتقا ء ہی الٰہی قوت کی مشق کرنے کے قابل ہے۔

7. 135 : 9-10

Spiritual evolution alone is worthy of the exercise of divine power.

8۔ 95 :30۔3

مادی فہم وجودیت کے حقائق کو اجاگر نہیں کرتا؛ بلکہ روحانی فہم انسانی شعور کو ابدی سچائی میں بلند کرتا ہے۔انسانیت روحانی سمجھ میں گناہ کے فہم سے آہستہ آہستہ باہر نکلتی ہے؛ سب باتوں کو بہتر سمجھنے کے لئے ناپسندیدگی مسیحی مملکت کو زنجیروں میں جکڑتی ہے۔

8. 95 : 30-3

Material sense does not unfold the facts of existence; but spiritual sense lifts human consciousness into eternal Truth. Humanity advances slowly out of sinning sense into spiritual understanding; unwillingness to learn all things rightly, binds Christendom with chains.

9۔ 303 :10۔20

جو کچھ بھی عقل، زندگی، سچائی اور محبت کی عکاسی کرتا ہے وہ روحانی طور پر سمجھا اور سامنے لایا جاتا ہے؛ مگر یہ بیان اِس ابدی سچائی کی مخالفت کرتا ہے کہ انسان نے روحانی اور مادی دونوں لحاظ سے یا خدا اور انسان دونوں کی جانب سے جنم لیا اور فروغ پایاہے۔ادوار کی ساری خود نمائی اِن دونوں تضادات کو سچ کبھی نہیں بنا سکتی۔ الٰہی سائنس اِس بھرم کی جڑ پر کلہاڑا رکھتی ہے کہ زندگی یا عقل مادی بدن میں یا وسیلہ سے بنایا گیا اور سائنس نتیجتاً اِس بھرم کو غلطی کی خود کار تباہ کاری کے وسیلہ نیست کرتی اور زندگی کی سائنس کے فہم کو خوبصورت بناتی ہے۔

9. 303 : 10-20

Whatever reflects Mind, Life, Truth, and Love, is spiritually conceived and brought forth; but the statement that man is conceived and evolved both spiritually and materially, or by both God and man, contradicts this eternal truth. All the vanity of the ages can never make both these contraries true. Divine Science lays the axe at the root of the illusion that life, or mind, is formed by or is in the material body, and Science will eventually destroy this illusion through the self-destruction of all error and the beatified understanding of the Science of Life.

10۔ 68 :27۔16

کرسچن سائنس تخلیق کو نہیں بلکہ افشائی کو پیش کرتی ہے، یہ مالیکیول سے عقل تک کی مادی ترقی کو نہیں بلکہ انسان اور کائنات کے لئے الٰہی عقل کی عنایت کو ظاہر کرتی ہے۔متناسب طور پر جب انسانی نسل ابدی کے ساتھ روابط کو ختم کردیتی ہے، تو ہم آہنگ ہستی کو روحانی طور پر سمجھا جائے گا، اوروہ انسان ظاہر ہوگا جو زمینی نہ ہو بلکہ خدا کے ساتھ باہم ہو۔ یہ سائنسی حقیقت کہ انسان اور کائنات روح سے مرتب ہوتے ہیں، اور اسی طرح روحانی بھی ہوتے ہیں، الٰہی سائنس میں اتنی ہی مضبوط ہوتی ہے جتنا کہ یہ ثبوت ہے کہ فانی بشر صرف تبھی صحتمندی کا فہم پاتے ہیں جب وہ گناہ اور بیماری کا فہم کھودیتے ہیں۔یہ مانتے ہوئے کہ انسان خالق ہے بشر خدا کی تخلیق کو کبھی نہیں سمجھ سکتے۔ پہلے سے تخلیق شدہ خدا کے فرزند صرف تب اپنی پہچان پاتے ہیں جب انسان ہستی کی سچائی کو پا لیتا ہے۔سچائی یہ ہے کہ حقیقی، مثالی انسان اسی تناسب میں ظاہر ہوتے ہیں جب جھوٹے اور مادی غائب ہوتے ہیں۔مزید شادی نہ کرنایا ”شادی میں دئیے“ جانا نہ ہی انسان کے تسلسل کو بند کرتا ہے اور نہ ہی خدا کے لامتناہی منصوبے میں اْس کی بڑھتی ہوئی تعداد کے فہم کو بند کرتا ہے۔روحانی طور پر یہ سمجھنا کہ ماسوائے ایک خالق، خدا کے اور کوئی نہیں، ساری تخلیق کو ایاں کرتا، صحائف کی تصدیق کرتا، علیحدگی، یا درد اور ازلی اور کامل اور ابدی انسانیت کی شیریں یقین دہانی لاتا ہے۔

10. 68 : 27-16

Christian Science presents unfoldment, not accretion; it manifests no material growth from molecule to mind, but an impartation of the divine Mind to man and the universe. Proportionately as human generation ceases, the unbroken links of eternal, harmonious being will be spiritually discerned; and man, not of the earth earthly but coexistent with God, will appear. The scientific fact that man and the universe are evolved from Spirit, and so are spiritual, is as fixed in divine Science as is the proof that mortals gain the sense of health only as they lose the sense of sin and disease. Mortals can never understand God's creation while believing that man is a creator. God's children already created will be cognized only as man finds the truth of being. Thus it is that the real, ideal man appears in proportion as the false and material disappears. No longer to marry or to be "given in marriage" neither closes man's continuity nor his sense of increasing number in God's infinite plan. Spiritually to understand that there is but one creator, God, unfolds all creation, confirms the Scriptures, brings the sweet assurance of no parting, no pain, and of man deathless and perfect and eternal.

11۔ 502 :27۔5

تخلیقی اصول، زندگی، سچائی اور محبت، خدا ہے۔ کائنات خدا کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک خالق اور ایک تخلیق کے سوا اور کوئی نہیں۔ یہ تخلیق روحانی خیالات اور اْن کی شناختوں کے ایاں ہونے پر مشتمل ہے، جو لامحدود عقل کے دامن سے جڑے ہیں اور ہمیشہ منعکس ہوتے ہیں۔ یہ خیالات محدود سے لامحدود تک وسیع ہیں اور بلند ترین خیالات خدا کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔

11. 502 : 27-5

The creative Principle — Life, Truth, and Love — is God. The universe reflects God. There is but one creator and one creation. This creation consists of the unfolding of spiritual ideas and their identities, which are embraced in the infinite Mind and forever reflected. These ideas range from the infinitesimal to infinity, and the highest ideas are the sons and daughters of God.

روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔