اتوار 21جولائی، 2019 |

اتوار 21جولائی، 2019



مضمون۔ زندگی

SubjectLife

سنہری متن:سنہری متن: زبور23: 6آیت

’’یقینا بھلائی اور رحمت عمر بھر میرے ساتھ ساتھ رہیں گی اور میں ہمیشہ خداوند کے گھر میں سکونت کروں گا۔‘‘



Golden Text: Psalm 23 : 6

Surely goodness and mercy shall follow me all the days of my life: and I will dwell in the house of the Lord for ever.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: امثال 4باب10، 21تا23، 25تا27آیات


10۔ اے میرے بیٹے!سن اور میری باتوں کو قبول کر اور تیری زندگی کے دن بہت سے ہوں گے۔

21۔اسکو اپنی آنکھ سے اوجھل نہ ہونے دے۔اسکواپنے دل میں رکھ۔

22۔ کیونکہ جو اس کوپالیتے ہیں یہ اْن کی حیات اور اُن کے سارے جسم کی صحت ہے۔

23۔اپنے دل کی خوب حفاطت کر کیونکہ زندگی کا سر چشمہ وہی ہے۔

25۔ تیری آنکھیں سامنے ہی نظر کریں اور تیری پلکیں سیدھی رہیں۔

26۔ اپنے پاؤں کے راستے کو ہموار بنا اور تیری سب راہیں قائم رہیں۔

27۔ نہ دہنے مڑ نہ بائیں اور پاؤں کو بدی سے ہٹالے۔

Responsive Reading: Proverbs 4 : 10, 21-23, 25-27

10.     Hear, O my son, and receive my sayings; and the years of thy life shall be many.

21.     Let them not depart from thine eyes; keep them in the midst of thine heart.

22.     For they are life unto those that find them, and health to all their flesh.

23.     Keep thy heart with all diligence; for out of it are the issues of life.

25.     Let thine eyes look right on, and let thine eyelids look straight before thee.

26.     Ponder the path of thy feet, and let all thy ways be established.

27.     Turn not to the right hand nor to the left: remove thy foot from evil.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ زبور 104: 24، 30، 31، 33، 34 آیات

24۔ اے خُداوند! تیری صعنتیں کیسی بے شمار ہیں! تو نے سب کچھ حکمت سے بنایا۔ زمین تیری مخلوقات سے معمور ہیں۔

30۔تو اپنی روح بھیجتا ہے اور یہ پیدا ہوتے ہیں۔ اورتو روی زمین کو نیا بنا دیتا ہے۔

31۔خداوند کا جلال ابدتک رہے خداوند اپنی صعنتوں سے خوش ہو۔

33۔ میں عمر بھر خداوند کی تعریف گاؤں گا۔جب تک میرا وجود ہے اپنے خدا کی مدح سرائی کرونگا۔

34۔ میرا دھیان اُسے پسند آئے۔میَں خداوند میں شادمان رہوں گا۔

1. Psalm 104 : 24, 30, 31, 33, 34

24     O Lord, how manifold are thy works! in wisdom hast thou made them all: the earth is full of thy riches.

30     Thou sendest forth thy spirit, they are created: and thou renewest the face of the earth.

31     The glory of the Lord shall endure for ever: the Lord shall rejoice in his works.

33     I will sing unto the Lord as long as I live: I will sing praise to my God while I have my being.

34     My meditation of him shall be sweet: I will be glad in the Lord.

2۔ زبور 36:9 آیت

9۔کیونکہ زندگی کا چشمہ تیرے پاس ہے۔ تیرے نور کی بدولت ہم روشنی دیکھیں گے۔

2. Psalm 36 : 9

9     For with thee is the fountain of life: in thy light shall we see light.

3۔ زبور 16: 5تا11آیات

5۔خداوند ہی میری میراث اور میرے پیالے کا حصہ ہے۔ تو میرے بخرے کا محافظ ہے۔

6۔ جریب میرے لئے دل پسند جگہوں میں پڑی بلکہ میری میراث خوب ہے!

7۔ میں خداوند کی حمد کروں گا جس میں مجھے نصیحت دی ہے۔ بلکہ میرا دل رات کو میری تربیت کرتا ہے۔

8۔ میں نے خداوند کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھا ہے۔ چونکہ وہ میرے دہنے ہاتھ ہے اِس لئے مجھے جنبش نہ ہوگی۔

9۔ اِسی سبب سے میرا دِل خوش اور میری روح شادمان ہے۔ میرا جسم بھی امن وامان میں رہے گا۔

10۔ کیونکہ تو نہ میری جان کو پاتال میں رہنے دے گا نہ اپنے مقدس کو سٹرنے دے گا۔

11۔تو مجھے زندگی کی راہ دکھائے گا۔ تیرے حضور میں کامل شادمانی ہے۔ تیرے دہنے ہاتھ میں دائمی خُوشی ہے۔

3. Psalm 16 : 5-11

5     The Lord is the portion of mine inheritance and of my cup: thou maintainest my lot.

6     The lines are fallen unto me in pleasant places; yea, I have a goodly heritage.

7     I will bless the Lord, who hath given me counsel: my reins also instruct me in the night seasons.

8     I have set the Lord always before me: because he is at my right hand, I shall not be moved.

9     Therefore my heart is glad, and my glory rejoiceth: my flesh also shall rest in hope.

10     For thou wilt not leave my soul in hell; neither wilt thou suffer thine Holy One to see corruption.

11     Thou wilt shew me the path of life: in thy presence is fulness of joy; at thy right hand there are pleasures for evermore.

4۔ استثناء 11باب26تا28آیات

26۔دیکھو میں آج کے دن تمہارے آگے برکت اور لعنت دونوں رکھے دیتا ہوں۔

27۔برکت اْس حال میں جب تم خداوند اپنے خدا کے حکموں کو جو میں آج تم کو دیتا ہوں مانو۔

28۔اور لعنت اْس وقت جب تم خداوند اپنے خدا کی فرمانبرداری نہ کرو اور اْس راہ کو جس کی بابت میں تم کو حکم دیتا ہوں چھوڑ کر اور معبودوں کی پیروی کرو جن سے تم اب تک واقف نہیں۔

4. Deuteronomy 11 : 26-28

26     Behold, I set before you this day a blessing and a curse;

27     A blessing, if ye obey the commandments of the Lord your God, which I command you this day:

28     And a curse, if ye will not obey the commandments of the Lord your God, but turn aside out of the way which I command you this day, to go after other gods, which ye have not known.

5۔ وعظ 1باب12، 13 (تا:) آیات

12۔میں وعظ یروشلیم میں بنی اسرائیل کا بادشاہ تھا۔

13۔اور میں نے اپنا دل لگایا کہ جو کچھ آسمان کے نیچے کیا جاتا ہے اْس سب کی تفتیش و تحقیق کروں۔

5. Ecclesiastes 1 : 12, 13 (to :)

12     I the Preacher was king over Israel in Jerusalem.

13     And I gave my heart to seek and search out by wisdom concerning all things that are done under heaven:

6۔ وعظ 2باب1، 5، 8تا11آیات

1۔ میں نے اپنے دل سے کہا آ میں تجھ کو خوشی میں آزماوں گا۔ سو عشرت کر لے۔ لو یہ بھی بطلان ہے۔

5۔ میں نے اپنے لے باغیچے اور باغ تیار کئے اور اُن میں ہر قسم کے میوہ دار درخت لگائے۔

8۔میں نے سونااور چاندی اور بادشاہوں اور صوبوں کا خاص خزانہ اپنے لے جمع کیا۔ میں نے گانے والوں اور گانے والیوں کو رکھا اور بنی آدم کے اسباب عیش یعنی لونڈیوں کو اپنے لے کثرت سے فراہم کیا۔

9۔سو میں بزرگ ہوا اور اُن سبھوں سے جو مجھ سے پہلے یروشلیم میں تھے زیادہ بڑھ گیا۔ میری حکمت بھی مجھ سے قائم رہی۔

10۔ اور سب کچھ جو میری آنکھیں چاہتی تھیں میں نے اُن سے باز نہ رکھا۔ میں نے اپنے دل کو کسی طرح کی خوشی سے نہ روکا کیونکہ میرا دل میری ساری محنت سے شادمان ہوا اور میری ساری محنت سے میرا بخرہ یہی تھا۔

11۔ پھر میں نے ان سب کاموں پر جو میرے ہاتھوں نے کئے تھے اور اُس مشقت پر جو میں نے کام کرنے میں کھینچی تھی نظر کی اور دیکھا کہ سب بطلان اور ہوا کی چران ہے اور دنیا میں کچھ فائدہ نہیں۔

6. Ecclesiastes 2 : 1, 5, 8-11

1     I said in mine heart, Go to now, I will prove thee with mirth, therefore enjoy pleasure: and, behold, this also is vanity.

5     I made me gardens and orchards, and I planted trees in them of all kind of fruits:

8     I gathered me also silver and gold, and the peculiar treasure of kings and of the provinces: I gat me men singers and women singers, and the delights of the sons of men, as musical instruments, and that of all sorts.

9     So I was great, and increased more than all that were before me in Jerusalem: also my wisdom remained with me.

10     And whatsoever mine eyes desired I kept not from them, I withheld not my heart from any joy; for my heart rejoiced in all my labour: and this was my portion of all my labour.

11     Then I looked on all the works that my hands had wrought, and on the labour that I had laboured to do: and, behold, all was vanity and vexation of spirit, and there was no profit under the sun.

7۔ یسعیاہ 65باب13، 14، 16 (وہ جو) تا 19، 21تا23آیات

13۔ اس لئے خدا وند خدا یوں فرماتا ہے کہ د یکھو میرے بندے کھائیں گے پر تم بھوکے رہو گے۔میرے بندے پئیں گے پر تم پیاسے رہو گے۔میرے بندے شاد مان ہوں گے پر تم شرمندہ ہو گے۔

14۔ اور میرے بندے دل کی خوشی سے گائیں گے پر تم دل گیری کے سبب سے نالان ہو گے اور جانکاہی سے واویلا کرو گے۔

16۔۔۔۔جو کوئی روی زمین پر اپنے لئے دعا خیر کرے خدائے بر حق کے نام سے کرے گا اور جو کوئی زمین میں قسم کھائے خدائےبر حق کے نام سے کھائے گاکیونکہ گزشتہ مصبیتیں فراموش ہو گئیں اور وہ میری آنکھوں سے پوشید ہیں

17۔ کیونکہ دیکھو میں نئے آسمان اور نئی زمین کو پیدا کرتا ہوں اور پہلی چیزوں کا پھر ذکر نہ ہو گا اور وہ خیال میں نہ آئیں گی۔

18۔ بلکہ تم میری اس نئی خلقت سے ابدی خوشی اور شادمانی کرو کیونکہ دیکھو میں یروشلیم کو خوشی اور اُس کے لوگوں کو خرمی بناؤں گا۔

19۔ اور میں یروشلیم سے خوش اور اپنے لوگوں سے مسرور ہوں گا اور اُس میں رونے کی صدا اور نالہ کی آواز پھر کبھی نہ دے گی۔

21۔ وہ گھر بنائیں گے اور ان میں بسیں گے۔تاکستان لگائیں گے اور ان کے میوے کھائیں گے۔

44۔ نہ کہ وہ بنائیں اور دوسرا بسے۔ وہ لگائیں اور دوسرے کھائیں کیونکہ میرے بندوں کے ایام درخت کی مانند ہوں گے اور میرے برگزیدے اپنے ہاتھوں کے کام سے مدتوں تک فائدہ اُٹھا ئیں گے۔

23۔ ان کی محنت بے سود نہ ہو گی اور اُن کی اولاد ناگہان ہلاک نہ ہو گی کیونکہ وہ اپنی اولاد سمیت خداوندا کے مبارک لوگوں کی نسل ہیں۔

7. Isaiah 65 : 13, 14, 16 (he who)-19, 21-23

13     Therefore thus saith the Lord God, Behold, my servants shall eat, but ye shall be hungry: behold, my servants shall drink, but ye shall be thirsty: behold, my servants shall rejoice, but ye shall be ashamed:

14     Behold, my servants shall sing for joy of heart, but ye shall cry for sorrow of heart, and shall howl for vexation of spirit.

16     …he who blesseth himself in the earth shall bless himself in the God of truth; and he that sweareth in the earth shall swear by the God of truth; because the former troubles are forgotten, and because they are hid from mine eyes.

17     For, behold, I create new heavens and a new earth: and the former shall not be remembered, nor come into mind.

18     But be ye glad and rejoice for ever in that which I create: for, behold, I create Jerusalem a rejoicing, and her people a joy.

19     And I will rejoice in Jerusalem, and joy in my people: and the voice of weeping shall be no more heard in her, nor the voice of crying.

21     And they shall build houses, and inhabit them; and they shall plant vineyards, and eat the fruit of them.

22     They shall not build, and another inhabit; they shall not plant, and another eat: for as the days of a tree are the days of my people, and mine elect shall long enjoy the work of their hands.

23     They shall not labour in vain, nor bring forth for trouble; for they are the seed of the blessed of the Lord, and their offspring with them.

8۔ یوحنا 8باب1، 2، 12 (قول) آیات

1۔ مگر یسوع زیتون کے پہاڑ پر گیا۔

2۔ صبح سویرے ہی وہ پھر ہیکل میں آیا اور سب لوگ اْس کے پاس آئے اور وہ بیٹھ کر انہیں تعلیم دینے لگا۔

12۔۔۔۔مخاطب ہو کر کہا دنیا کا نور میں ہوں۔ جو میری پیروی کرے گا اندھیرے میں نہ چلے گا بلکہ زندگی کا نور پائے گا۔

8. John 8 : 1, 2, 12 (saying)

1     Jesus went unto the mount of Olives.

2     And early in the morning he came again into the temple, and all the people came unto him; and he sat down, and taught them.

12     …saying, I am the light of the world: he that followeth me shall not walk in darkness, but shall have the light of life.

9۔ یوحنا 10باب1، 2، 9، 10، (مَیں)، 27تا29 آیات

1۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو کوئی دروازہ سے بھیڑ خانہ میں داخل نہیں ہوتا بلکہ اور کسی طرف سے چڑھ جاتا ہے وہ چور اور ڈاکو ہے۔

2۔ لیکن جو دروازہ سے داخل ہوتا ہے وہ بھیڑوں کا چرواہا ہے۔

9۔ دروازہ میں ہوں اگر کوئی مجھ سے داخل ہو تو نجات پائے گا اور اندر باہر آیا جایا کرے گا اور چارا پائے گا۔

10۔ چور نہیں آتا مگر چرانے اور مار ڈالنے اور ہلاک کرنے کو۔ میں اِس لئے آیا کہ وہ زندگی پائیں اور کثرت سے پائیں۔

27۔ میری بھیڑیں میری آوازسنتی ہیں اور میں اُنہیں جانتا ہوں اور وہ میرے پِیچھے پِیچھے چلتی ہیں۔

28۔ اور میں اُنہیں ہمیشہ کی زندگی بخشتا ہوں اور وہ ابد تک کبھی ہلاک نہ ہوں گی اور کوئی اُنہیں میرے ہاتھ سے چھین نہ لے گا۔

29۔ میرا باپ جس نے مجھے وہ دی ہیں سب سے بڑا ہے اور کوئی اُنہیں باپ کے ہاتھ سے نہیں چھین سکتا۔

9. John 10 : 1, 2, 9, 10 (I), 27-29

1     Verily, verily, I say unto you, He that entereth not by the door into the sheepfold, but climbeth up some other way, the same is a thief and a robber.

2     But he that entereth in by the door is the shepherd of the sheep.

9     I am the door: by me if any man enter in, he shall be saved, and shall go in and out, and find pasture.

10     I am come that they might have life, and that they might have it more abundantly.

27     My sheep hear my voice, and I know them, and they follow me:

28     And I give unto them eternal life; and they shall never perish, neither shall any man pluck them out of my hand.

29     My Father, which gave them me, is greater than all; and no man is able to pluck them out of my Father’s hand.

10۔ رومیوں 8باب1، 2، 5، 6 آیات

1۔پس اب جو یسوع مسیح میں ہیں اْن پر سزا کا حکم نہیں۔

2۔کیونکہ زندگی کے روح کی شریعت نے مسیح یسوع میں مجھے گناہ اور موت کی شریعت سے آزاد کیا۔

5۔کیونکہ جو جسمانی ہیں وہ جسمانی باتوں کے خیال میں رہتے ہیں لیکن جو روحانی ہیں وہ روحانی باتوں کے خیال میں رہتے ہیں۔

6۔اور جسمانی نیت موت ہے مگر روحانی نیت زندگی اور اطمینان ہے۔

10. Romans 8 : 1, 2, 5, 6

1     There is therefore now no condemnation to them which are in Christ Jesus, who walk not after the flesh, but after the Spirit.

2     For the law of the Spirit of life in Christ Jesus hath made me free from the law of sin and death.

5     For they that are after the flesh do mind the things of the flesh; but they that are after the Spirit the things of the Spirit.

6     For to be carnally minded is death; but to be spiritually minded is life and peace.



سائنس اور صح


1۔ 471: 31 (سائنس تعلیم دیتی ہے)۔ 1 (تا،)

سائنس انسان کو تعلیم دیتی ہے کہ خدا ہی واحد زندگی ہے۔

1. 471 : 31 (Science teaches)-1 (to ,)

Science teaches man that God is the only Life,

2۔ 324: 13 (دی)۔18

وہ راہ سیدھی اور تنگ ہے، جو اس فہم کی جانب لے جاتی ہے کہ خدا ہی واحد زندگی ہے۔ یہ جسم کے ساتھ جنگ ہے، جس میں ہمیں گناہ، بیماری اور موت پر فتح پانی چاہئے، خواہ یہاں یا اس کے بعد، یقینا روح کے مقصد یا خدا میں زندگی پر پہنچنے سے پہلے۔

2. 324 : 13 (The)-18

The way is straight and narrow, which leads to the understanding that God is the only Life. It is a warfare with the flesh, in which we must conquer sin, sickness, and death, either here or hereafter, — certainly before we can reach the goal of Spirit, or life in God.

3۔ 325:24 (وہ)۔26

۔۔۔وہ جو جسمانی عقائد سے پیدا ہوا ہے اور اِن کی خدمت کرتا ہے وہ اس دنیامیں ہمارے خداوند کے الٰہی درجات پر نہیں پہنچ سکتا۔

3. 325 : 24 (he)-26

…he, who is begotten of the beliefs of the flesh and serves them, can never reach in this world the divine heights of our Lord.

4۔ 319: 1۔2، 5۔9 (تا:)

یہ فریب نظری کہ مادے میں زندگی ہے اس کا ہماری آسمانی زندگی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

کسی کی زندگی کے مناظر کا مادی بنیادوں پر حساب کرنا روحانی قانون سے انحراف اور انسانی امید سے گمراہ کرنا ہوگا۔ صحت کے الٰہی اصول پر ایمان رکھنا اور روحانی طور پر خدا کو سمجھنا سب حالات میں انسان کو ثابت قدم بناتا ہے۔

4. 319 : 1-2, 5-9 (to ;)

The delusion that there is life in matter has no kinship with the Life supernal.

To calculate one's life-prospects from a material basis, would infringe upon spiritual law and misguide human hope. Having faith in the divine Principle of health and spiritually understanding God, sustains man under all circumstances;

5۔ 190:14۔31

انسانی پیدائش، بالیدگی، بلوغت اورزوال اْس گھاس کی مانند ہیں جو سبز پتوں کے ساتھ مٹی میں سے اگتی ہے، تاکہ بعد میں مرجھا ئے اور اپنے آبائی عدم میں لوٹ جائے۔ یہ فانی اظہار عارضی ہے، یہ لافانی ہستی میں کبھی ضم نہیں ہوتا، بلکہ بالاآخر ختم ہو جاتا ہے، اور فانی انسان، روحانی اور ابدی، حقیقی انسان ہی سمجھا جاتا ہے۔

عبرانی شاعرنے، فانی سوچ سے قائل ہوکر، اپنے بربط کے ساتھ انسانی وجودیت پر دْکھی تاریں چھیڑیں:

جہاں تک انسان کا تعلق ہے، اْس کے ایام گھاس کی مانند ہے:

وہ جنگلی پھول کی طرح کھلتا ہے۔

کہ ہوا اْس پر چلی اور وہ نہیں؛

اور اْس کی جگہ اْسے پھر نہ دیکھے گی۔

جب انسانی دل میں امید اور جاگی تو اْس نے گایا:

میں تو صداقت میں تیرا دیدار حاصل کروں گا:

میں جب جاگوں گا تو تیری شباہت میں سیر ہو ں گا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

کیونکہ زندگی کا چشمہ تیرے پاس ہے؛

تیرے نور کی بدولت ہم روشنی دیکھیں گے۔

5. 190 : 14-31

Human birth, growth, maturity, and decay are as the grass springing from the soil with beautiful green blades, afterwards to wither and return to its native nothingness. This mortal seeming is temporal; it never merges into immortal being, but finally disappears, and immortal man, spiritual and eternal, is found to be the real man.

The Hebrew bard, swayed by mortal thoughts, thus swept his lyre with saddening strains on human existence:

As for man, his days are as grass:

As a flower of the field, so he flourisheth.

For the wind passeth over it, and it is gone;

And the place thereof shall know it no more.

When hope rose higher in the human heart, he sang:

As for me, I will behold Thy face in righteousness:

I shall be satisfied, when I awake, with Thy likeness.

· · · · · · · ·

For with Thee is the fountain of life;

In Thy light shall we see light.

6۔ 191: 8۔23

بطور مادا، نظریاتی زندگی کی بنیاد وجودیت کی غلط فہمی سمجھی گئی ہے، یعنی انسان کا وہ روحانی اور الٰہی اصول جو انسانی سوچ پر نازل ہوتا ہے اور اِسے وہاں لے جاتا ہے ”جہاں چھوٹا بچہ تھا،“ حتیٰ کہ جدید پرانے خیال کی پیدائش پر ہستی کے روحانی فہم اوروہاں تک جسے زندگی میں شامل کیا گیا ہو۔ لہٰذہ غلطی کی تاریکی کا تعاقب کرتے ہوئے،پوری زمین روشنی سے متعلق اِس کی آراء پر سچائی کی طرف سے تبدیل ہوں گے۔

انسانی سوچ کو خود آوردہ مادیت اور قید سے اپنے آپ کو آزاد کرنا چاہئے۔اسے مزید سر، دل یا پھیپھڑوں سے متعلق نہیں پوچھنا چاہئے: انسان کی زندگی کی توقعات کیا ہیں؟ انسان لاچار نہیں ہے۔ ذہانت غیر ذہین کے آگے خاموش نہیں ہے۔

اس کی اپنی مرضی سے گھاس کا ایک پتا نہیں اْگتا، کوئی کلی کسی وادی میں نہیں کھلتی، کوئی پتا اپنی خوبصورتی ایاں نہیں کرتا، کوئی پھول اپنے کلاسٹرڈ سیل سے شروع نہیں ہوتا۔

6. 191 : 8-23

As a material, theoretical life-basis is found to be a misapprehension of existence, the spiritual and divine Principle of man dawns upon human thought, and leads it to "where the young child was," — even to the birth of a new-old idea, to the spiritual sense of being and of what Life includes. Thus the whole earth will be transformed by Truth on its pinions of light, chasing away the darkness of error.

The human thought must free itself from self-imposed materiality and bondage. It should no longer ask of the head, heart, or lungs: What are man's prospects for life? Mind is not helpless. Intelligence is not mute before non-intelligence.

By its own volition, not a blade of grass springs up, not a spray buds within the vale, not a leaf unfolds its fair outlines, not a flower starts from its cloistered cell.

7۔ 239: 16۔22، 29۔32

ہماری ترقی کا تعین کرنے کے لئے، ہمیں یہ سیکھنا چاہئے کہ ہماری ہمدردیاں کہاں ہیں اور ہم کسے بطور خدا قبول کرتے اور اْس کی تابعداری کرتے ہیں۔ اگر الٰہی محبت ہمارے نزدیک تر، عزیز تر اور زیادہ حقیقی ہوتی جاتی ہے، تو مادا روح کے حوالے ہو رہا ہے۔ تو جن مقاصد کا ہم تعاقب کرتے ہیں اور جس روح کو ہم ظاہر کرتے ہیں وہ ہمارے نقطہ نظر کو پیش کرتی ہے، اور دکھاتی ہے کہ ہم کیا فتح کر رہے ہیں۔

کامل عقل کاملیت پیدا کرتی ہے،کیونکہ خدا عقل ہے۔غیر کامل فانی عقل اپنی مشابہتیں پیدا کرتی ہے، جن سے متعلق دانشمند انسان نے کہا، ”سب باطل ہے۔“

7. 239 : 16-22, 29-32

To ascertain our progress, we must learn where our affections are placed and whom we acknowledge and obey as God. If divine Love is becoming nearer, dearer, and more real to us, matter is then submitting to Spirit. The objects we pursue and the spirit we manifest reveal our standpoint, and show what we are winning.

The perfect Mind sends forth perfection, for God is Mind. Imperfect mortal mind sends forth its own resemblances, of which the wise man said, "All is vanity."

8۔ 272: 19۔27

یہ مادی وجودیت کے بھیانک نقلی نتائج کے مقابلے میں خیالات کی روحانیت اور روز مرہ کی مسیحت پسندی ہے؛ یہ نچلے رجحانات اور ناپاکی اور شہوت پرستی کی زمینی کشش کے مقابلے میں پاکیزگی اور صداقت ہے، جو حقیقتاً کرسچن سائنس کی الٰہی ابتدا اور کام کی تصدیق کرتی ہے۔ کرسچن سائنس کی کامیابیاں غلطی اور بدی کی تباہی سے ریکارڈ کی جاتی ہیں، جس سے گناہ، بیماری اور موت کے ناپاک عقائد کی ترویج ہوتی ہے۔

8. 272 : 19-27

It is the spiritualization of thought and Christianization of daily life, in contrast with the results of the ghastly farce of material existence; it is chastity and purity, in contrast with the downward tendencies and earthward gravitation of sensualism and impurity, which really attest the divine origin and operation of Christian Science. The triumphs of Christian Science are recorded in the destruction of error and evil, from which are propagated the dismal beliefs of sin, sickness, and death.

9۔ 265:23۔5

کون ہے جس نے انسانی امن کے نقصان کو محسوس کیا اور روحانی خوشی کے لئے شدید خواہشات حاصل نہیں کیں؟آسمانی اچھائی کے بعد اطمینان حاصل ہوتا ہے حتیٰ کہ اس سے قبل کہ ہم وہ دریافت کرتے جو عقل اور محبت سے تعلق رکھتا ہے۔زمینی امیدوں اور خوشیوں کا نقصان بہت سے دلوں کی چڑھنے والی راہ روشن کرتی ہے۔ فہم کی تکلیفیں ہمیں بتاتی ہیں کہ ادراک کی خوشیاں فانی ہیں اور وہ خوشی روحانی ہے۔

فہم کی تکالیف صحت بخش ہیں، اگر وہ جھوٹے پْرلطف عقائد کو کھینچ کر دور کرتے اور روح کے فہم سے محبت پیدا کرتے ہیں، جہاں خدا کی مخلوقات اچھی ہیں اور ”دل کو شادمان“ کرتی ہیں۔ ایسی ہی سائنس کی تلوار ہے جس سے سچائی غلطی، مادیت کا سر قلم کرتی ہے، انسان کی بلند انفرادیت اور قسمت کو جگہ فراہم کرتے ہوئے۔

9. 265 : 23-5

Who that has felt the loss of human peace has not gained stronger desires for spiritual joy? The aspiration after heavenly good comes even before we discover what belongs to wisdom and Love. The loss of earthly hopes and pleasures brightens the ascending path of many a heart. The pains of sense quickly inform us that the pleasures of sense are mortal and that joy is spiritual.

The pains of sense are salutary, if they wrench away false pleasurable beliefs and transplant the affections from sense to Soul, where the creations of God are good, "rejoicing the heart." Such is the sword of Science, with which Truth decapitates error, materiality giving place to man's higher individuality and destiny.

10۔ 262: 17۔26

ایوب نے کہا، ”میں نے تیری خبر کان سے سنی تھی، پر اب میری آنکھ تجھے دیکھتی ہے۔“ بشر ایوب کے خیالات کو پھیلائیں گے، جب مادے کی فرضی تکلیف اور خوشی سبقت رکھنا ترک کرتی ہے۔

پھر وہ زندگی اور خوشی، دْکھ اور شادمانی کے جھوٹے اندازے لگائیں گے، اور وہ بے غرضی، صبر سے کام کرنے اور اْس سب کو فتح کرتے ہوئے جو خدا کی مانند نہیں ہے محبت کی نعمت حاصل کریں گے۔ ایک اونچے نقطہ نظر سے آغاز کرتے ہوئے، ایک شخص خود ساختہ بڑھتا ہے، جیسا کہ روشنی خودبغیر کسی کوشش کے روشنی کوخارج کرتی ہے، کیونکہ ”جہاں تیرا خزانہ ہے وہیں تیرا دل بھی لگا رہے گا۔“

10. 262 : 17-26

Job said: "I have heard of Thee by the hearing of the ear: but now mine eye seeth Thee." Mortals will echo Job's thought, when the supposed pain and pleasure of matter cease to predominate. They will then drop the false estimate of life and happiness, of joy and sorrow, and attain the bliss of loving unselfishly, working patiently, and conquering all that is unlike God. Starting from a higher standpoint, one rises spontaneously, even as light emits light without effort; for “where your treasure is, there will your heart be also."

11۔ 264:13۔20، 24۔31

جب بشر خدا اور انسان سے متعلق درست خیالات رکھتے ہیں، تخلیق کے مقاصد کی کثرت، جو اس سے قبل نادیدنی تھی، اب دیدنی ہو جائے گی۔ جب ہمیں یہ احساس ہو جاتا ہے کہ زندگی روح ہے، نہ کبھی مادے کا اور نہ کبھی مادے میں، یہ ادراک خدا میں سب کچھ اچھا پاتے ہوئے اور کسی دوسرے شعور کی ضرورت محسوس نہ کرتے ہوئے، خود کاملیت کی طرف وسیع ہو گا۔

روح اور اِس کی اصلاحات ہی ہستی کے واحد حقائق ہیں۔۔۔ روحانی زندگی اور برکت واحد شہادتیں ہیں، جس سے ہم حقیقی وجودیت کو پہچان سکتے اور ناقابل بیان امن کو محسوس کرتے ہیں جو سب کچھ سمیٹنے والی روحانی محبت سے نکلتاہے۔

جب ہم کرسچن سائنس میں راستہ جانتے ہیں اور انسان کی روحانی ہستی کو پہچانتے ہیں، ہم خدا کی تخلیق کو سمجھیں اور دیکھیں گے،سارا جلال زمین اور آسمان اور انسان کے لئے۔

11. 264 : 13-20, 24-31

As mortals gain more correct views of God and man, multitudinous objects of creation, which before were invisible, will become visible. When we realize that Life is Spirit, never in nor of matter, this understanding will expand into self-completeness, finding all in God, good, and needing no other consciousness.

Spirit and its formations are the only realities of being. … Spiritual living and blessedness are the only evidences, by which we can recognize true existence and feel the unspeakable peace which comes from an all-absorbing spiritual love.

When we learn the way in Christian Science and recognize man's spiritual being, we shall behold and understand God's creation, — all the glories of earth and heaven and man.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████