اتوار 21جون، 2020 |

اتوار 21جون، 2020



مضمون۔ کیا کائنات، بشمول انسان، ایٹمی توانائی سے مرتب ہوئی ہے؟

SubjectIs the Universe, Including Man, Evolved by Atomic Force?

سنہری متن:سنہری متن: متی 23باب 9آیت

’’اور زمین پر کسی کو اپنا باپ نہ کہو کیونکہ تمہارا باپ ایک ہی ہے جو آسمانی ہے۔‘‘



Golden Text: Matthew 23 : 9

And call no man your father upon the earth: for one is your Father, which is in heaven.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: اعمال 17 باب22تا 28 آیات


22۔ پولوس نے اریوپگس میں کھڑے ہو کر کہا اے ایتھنے والو! مَیں دیکھتا ہوں کہ تم ہر بات میں دیوتاؤں کے بڑے ماننے والے ہو۔

23۔ چنانچہ میں نے سیر کرتے اور تمہارے معبودوں پر غور کرتے وقت ایک ایسی قربانگاہ بھی پائی جس پر لکھا تھا کہ نہ معلوم خدا کے لئے۔ پس جس کو تم بغیر معلوم کئے پوجتے ہوئے مَیں تم کو اْسی کی خبر دیتا ہوں۔

24۔جس خدا نے دنیا اور اْس کی سب چیزوں کو بنایا وہ آسمان اور زمین کا مالک ہو کر ہاتھ کے بنائے ہوئے مندروں میں نہیں رہتا۔

25۔ نہ کسی کا محتاج ہو کر آدمیوں کے ہاتھوں سے خدمت لیتا ہے کیونکہ وہ تو خود سب کو زندگی اور سانس اور سب کچھ دیتا ہے۔

26۔ اور اْس نے ایک ہی اصل سے آدمیوں کی ہر ایک قوم تمام روئے زمین پر رہنے کے لئے پیدا کی اور اْن کی معیادیں اور سکونت کی حدیں مقرر کیں۔

27۔ تاکہ خدا کو ڈھونڈیں۔ شاید کہ ٹٹول کر اْسے پا ئیں ہر چند وہ ہم میں سے کسی سے دور نہیں۔

28۔ کیونکہ اْسی میں ہم جیتے اور چلتے پھرتے اور موجود ہیں۔جیسا تمہارے شاعروں میں سے بھی بعض نے کہا کہ ہم تو اْسی کی نسل بھی ہیں۔

Responsive Reading: Acts 17 : 22-28

22.     Then Paul stood in the midst of Mars’ hill, and said, Ye men of Athens, I perceive that in all things ye are too superstitious.

23.     For as I passed by, and beheld your devotions, I found an altar with this inscription, TO THE UNKNOWN GOD. Whom therefore ye ignorantly worship, him declare I unto you.

24.     God that made the world and all things therein, seeing that he is Lord of heaven and earth, dwelleth not in temples made with hands;

25.     Neither is worshipped with men’s hands, as though he needed any thing, seeing he giveth to all life, and breath, and all things;

26.     And hath made of one blood all nations of men for to dwell on all the face of the earth, and hath determined the times before appointed, and the bounds of their habitation;

27.     That they should seek the Lord, if haply they might feel after him, and find him, though he be not far from every one of us:

28.     For in him we live, and move, and have our being; as certain also of your own poets have said, For we are also his offspring.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ ایوب 33باب4 آیت

4۔ خدا کی روح نے مجھے بنایا ہے اور قادر مطلق کا دم مجھے زندگی بخشتا ہے۔

1. Job 33 : 4

4     The Spirit of God hath made me, and the breath of the Almighty hath given me life.

2۔ یسعیاہ 44 باب23، 24 آیات

23۔ اے آسمانو گاؤ کہ خداوند نے یہ کیا ہے۔ اے اسفل زمین للکار۔ اے پہاڑو اے جنگل اور اے سب درختو نغمہ پردازی کرو کیونکہ خداوند نے یعقوب کا فدیہ دیا اور اسرائیل میں اپنا جلال ظاہر کرے گا۔

24۔ خداوند تیرا فدیہ دینے والا جس نے رحم سے ہی تجھے بنایا یوں فرماتا ہے کہ مَیں خداوند سب کا خالق ہوں میں ہی اکیلا آسمان کو تاننے والا اور زمین کو بچھانے والا ہوں کون میرا شریک ہے؟

2. Isaiah 44 : 23, 24

23     Sing, O ye heavens; for the Lord hath done it: shout, ye lower parts of the earth: break forth into singing, ye mountains, O forest, and every tree therein: for the Lord hath redeemed Jacob, and glorified himself in Israel.

24     Thus saith the Lord, thy redeemer, and he that formed thee from the womb, I am the Lord that maketh all things; that stretcheth forth the heavens alone; that spreadeth abroad the earth by myself;

3۔ یسعیاہ 45 باب2، 3، 12، 13(تا:) آیات

2۔ مَیں تیرے آگے آگے چلوں گا اور ناہموار جگہ کو ہموار بنا دوں گا میں پیتل کے دروازوں کو ٹکڑے ٹکڑے کروں گا اور لوہے کے بینڈوں کو کاٹ ڈالوں گا۔

3۔ اور مَیں ظلمات کے خزانے اور پوشیدہ مکانوں کے دفینے تجھے دوں گاتاکہ تْو جانے کہ میں خداوند اسرائیل کا خدا ہوں جس نے تجھے نام لے کر بلایا ہے۔

12۔ مَیں نے زمین بنائی اور اْس پر انسان کو پیدا کیا اور مَیں ہی نے آسمان کو تانا اور اْس کے سب لشکروں پر مَیں نے حکم کیا۔

13۔ مَیں نے اْس کو صداقت میں برپا کیا ہے اور مَیں اْس کی تمام راہوں کو ہموار کروں گا۔

3. Isaiah 45 : 2, 3, 12, 13 (to :)

2     I will go before thee, and make the crooked places straight: I will break in pieces the gates of brass, and cut in sunder the bars of iron:

3     And I will give thee the treasures of darkness, and hidden riches of secret places, that thou mayest know that I, the Lord, which call thee by thy name, am the God of Israel.

12     I have made the earth, and created man upon it: I, even my hands, have stretched out the heavens, and all their host have I commanded.

13     I have raised him up in righteousness, and I will direct all his ways:

4۔ پیدائش 16 باب1(تا:) آیت

1۔ اور ابراہام کی بیوی سارائی کے کوئی اولاد نہ ہوئی۔

4. Genesis 16 : 1 (to :)

1     Now Sarai Abram’s wife bare him no children:

5۔ پیدائش 17 باب 1، 2، 5، 6، 15تا17، 19، 21 (میری) آیات

1۔ جب ابرام ننانوے برس کا ہوا تب خداوند ابرام کو نظر آیا اور اْس سے کہا مَیں خدائے قادر ہوں۔تْو میرے حضور میں چل اور کامل ہو۔

2۔ اور مَیں اپنے اور تیرے درمیان عہد باندھوں گا اور تجھے بہت زیادہ بڑھاؤں گا۔

5۔ اور تیرا نام پھر ابرام نہیں کہلائے گا بلکہ تیرا نام ابراہام ہوگا کیونکہ میں نے تجھے بہت قوموں کا باپ ٹھہرا دیا ہے۔

6۔ اور میں تجھے بہت برو مند کروں گا اور قومیں تیری نسل سے ہوں گی اور بادشاہ تیری اولاد میں سے برپا ہوں گے۔

15۔ اور خدا نے ابرام سے کہا کہ سارائی جو تیری بیوی ہے تو اْس کو سارائی نہ پکارنا۔ اْس کا نام سارہ ہوگا۔

16۔ اور مَیں اْسے برکت دوں گا اور اْس سے بھی تجھے ایک بیٹا بخشوں گا۔ یقیناً میں اْسے برکت دوں گا کہ قومیں اْس کی نسل سے ہوں گی اور عالم کے بادشاہ اْس سے ہوں گے۔

17۔ تب ابراہام سرنگوں ہوا اور ہنس کر دل میں کہنے لگا کیا سو برس کے بْڈھے سے کوئی بچہ ہو گا اور کیا سارہ سے جو نوے برس کی ہے اولاد ہوگی؟

19۔ تب خدا نے فرمایا کہ بے شک تیری بیوی سارہ کے تجھ سے بیٹا ہوگا تْو اْس کا نام اضحاق رکھنا اور مَیں اْس سے اور پھر اْس کی اولاد سے اپنا عہد جو ابدی ہے باندھوں گا۔

21۔۔۔۔مَیں اپنا عہد اضحاق سے باندھوں گا جو اگلے سال اسی وقت معین پر سارہ سے پیدا ہوگا۔

5. Genesis 17 : 1, 2, 5, 6, 15-17, 19, 21 (my)

1     And when Abram was ninety years old and nine, the Lord appeared to Abram, and said unto him, I am the Almighty God; walk before me, and be thou perfect.

2     And I will make my covenant between me and thee, and will multiply thee exceedingly.

5     Neither shall thy name any more be called Abram, but thy name shall be Abraham; for a father of many nations have I made thee.

6     And I will make thee exceeding fruitful, and I will make nations of thee, and kings shall come out of thee.

15     And God said unto Abraham, As for Sarai thy wife, thou shalt not call her name Sarai, but Sarah shall her name be.

16     And I will bless her, and give thee a son also of her: yea, I will bless her, and she shall be a mother of nations; kings of people shall be of her.

17     Then Abraham fell upon his face, and laughed, and said in his heart, Shall a child be born unto him that is an hundred years old? and shall Sarah, that is ninety years old, bear?

19     And God said, Sarah thy wife shall bear thee a son indeed; and thou shalt call his name Isaac: and I will establish my covenant with him for an everlasting covenant, and with his seed after him.

21     …my covenant will I establish with Isaac, which Sarah shall bear unto thee at this set time in the next year.

6۔ پیدائش 21باب1تا3، 5 آیات

1۔ اور خدا وند نے جیسا اْس نے فرمایا تھا سارہ پر نظر کی اور اْس نے اپنے وعدہ کے مطابق سارہ سے کیا۔

2۔ سو سارہ حاملہ ہوئی اور ابراہام کے لئے اْس کے بڑھاپے میں اْسی معین وقت پر جس کا ذکر خدا نے اْس سے کیا تھا اْس کے بیٹا ہوا۔

3۔ اور ابراہام نے اپنے بیٹے کا نام جو اْس سے سارہ کے پیدا ہوا اضحاق رکھا۔

5۔ اور جب اْس کا بیٹا اضحاق اْس سے پیدا ہوا تو ابراہام سو برس کا تھا۔

6. Genesis 21 : 1-3, 5

1     And the Lord visited Sarah as he had said, and the Lord did unto Sarah as he had spoken.

2     For Sarah conceived, and bare Abraham a son in his old age, at the set time of which God had spoken to him.

3     And Abraham called the name of his son that was born unto him, whom Sarah bare to him, Isaac.

5     And Abraham was an hundred years old, when his son Isaac was born unto him.

7۔ ایوب 38 باب 3تا7، 31، 32آیات

3۔ مرد کی مانند اب اپنی کمر کس لے کیونکہ مَیں تجھ سے سوال کر تا ہوں اور تْو مجھے بتا۔

4۔ تْو کہاں تھا جب مَیں نے بنیاد ڈالی؟ تْو دانشمند ہے تو بتا۔

5۔ کیا تجھے معلوم ہے کس نے اْس کی ناپ ٹھہرائی؟ یا کس نے اْس پر سْوت کھینچا؟

6۔ کس چیز پر اْس کی بنیاد ڈالی گئی؟ یا کس نے اْس کے کونے کا پتھر بٹھایا۔

7۔ جب صبح کے ستارے مل کر گاتے تھے اورخدا کے بیٹے خوشی سے للکارتے تھے؟

31۔ کیا تْو عقدِ ثریا کو باندھ سکتا ہے یا جبار کے بندھن کو کھول سکتا ہے؟

32۔ کیا تو منطقتہ البروج کو اْن کے وقتوں پر نکال سکتا ہے؟یا بنات النعش کی اْن کی سہیلیوں کے ساتھ راہبری کر سکتا ہے؟

7. Job 38 : 3-7, 31, 32

3     Gird up now thy loins like a man; for I will demand of thee, and answer thou me.

4     Where wast thou when I laid the foundations of the earth? declare, if thou hast understanding.

5     Who hath laid the measures thereof, if thou knowest? or who hath stretched the line upon it?

6     Whereupon are the foundations thereof fastened? or who laid the corner stone thereof;

7     When the morning stars sang together, and all the sons of God shouted for joy?

31     Canst thou bind the sweet influences of Pleiades, or loose the bands of Orion?

32     Canst thou bring forth Mazzaroth in his season? or canst thou guide Arcturus with his sons?

8۔ ایوب 37باب 16، 17، 23 آیات

16۔ کیا تْو بادلوں کے موازنہ سے واقف ہے؟ یہ اْسی کے حیرت انگیز کام ہیں جو علم میں کامل ہے۔

17۔ جب زمین پر جنوبی ہوا کی وجہ سے سناٹا ہوتا ہے تو تیرے کپڑے کیوں گرم ہو جاتے ہیں؟

23۔ ہم قادر مطلق کو پا نہیں سکتے۔ وہ قدرت اور عدل میں شاندار ہے اور انصاف کی فراوانی میں ظلم نہ کرے گا۔

8. Job 37 : 16, 17, 23

16     Dost thou know the balancings of the clouds, the wondrous works of him which is perfect in knowledge?

17     How thy garments are warm, when he quieteth the earth by the south wind?

23     Touching the Almighty, we cannot find him out: he is excellent in power, and in judgment, and in plenty of justice: he will not afflict.

9۔ مرقس 3باب7، (یسوع) 8 آیات

7۔ اور یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ جھیل کی طرف چلا گیا اور گلیل سے ایک بڑی بھیڑ پیچھے ہو لی اور یہودیہ۔

8۔ اور یروشلیم اور ادومیہ اور یردن کے پار صور اور صیدا کے آس پاس سے ایک بڑی بھیڑ یہ سن کر کہ وہ کیسے بڑے کام کرتا ہے اْس کے پاس آئی۔

9. Mark 3 : 7 (Jesus), 8

7     Jesus withdrew himself with his disciples to the sea: and a great multitude from Galilee followed him, and from Judæa,

8     And from Jerusalem, and from Idumæa, and from beyond Jordan; and they about Tyre and Sidon, a great multitude, when they had heard what great things he did, came unto him.

10۔ مرقس 4باب 35 تا41 آیات

35۔ اْسی دن جب شام ہوئی تو اْس نے اْن سے کہا آؤ پار چلیں۔

36۔ اور وہ بھیڑ کو چھوڑ کر اْسے جس حال میں وہ تھا کشتی پر ساتھ لے چلے اور اْس کے ساتھ اور کشتیاں بھی تھیں۔

37۔ تب بڑی آندھی چلی اور لہریں کشتی پر یہاں تک آئیں کہ کشتی پانی سے بھری جاتی تھی۔

38۔اور وہ خود پیچھے کی طرف گدی پر سو رہا تھا۔ پس اْنہوں نے اْسے جگا کر کہا اے استاد کیا تجھے فکر نہیں کہ ہم ہلاک ہوئے جاتے ہیں؟

39۔ اْس نے اٹھ کر ہوا کو ڈانٹا اور پانی سے کہا ساکت ہو۔تھم جا! پس ہوا بند ہو گئی اور بڑا امن ہوگیا۔

40۔ پھر اْس نے کہا تم کیوں ڈرتے ہو؟ اب تک ایمان نہیں رکھتے؟

41۔ اور وہ نہایت ڈر گئے اور آپس میں کہنے لگے یہ کون ہے کہ ہوا اور پانی بھی اِس کا حکم مانتے ہیں؟

10. Mark 4 : 35-41

35     And the same day, when the even was come, he saith unto them, Let us pass over unto the other side.

36     And when they had sent away the multitude, they took him even as he was in the ship. And there were also with him other little ships.

37     And there arose a great storm of wind, and the waves beat into the ship, so that it was now full.

38     And he was in the hinder part of the ship, asleep on a pillow: and they awake him, and say unto him, Master, carest thou not that we perish?

39     And he arose, and rebuked the wind, and said unto the sea, Peace, be still. And the wind ceased, and there was a great calm.

40     And he said unto them, Why are ye so fearful? how is it that ye have no faith?

41     And they feared exceedingly, and said one to another, What manner of man is this, that even the wind and the sea obey him?

11۔ عاموس 5 باب1 (تاکلام)، 8 آیات

1۔۔۔۔تم اِس کلام کو سنو۔۔۔

8۔ وہی ثریا اور جبار ستاروں کا خالق ہے جو موت کے سایہ کو مطلع نور اور روز روشن کو شب دیجور بنا دیتا ہے اور سمندر کے پانی کو بلاتا اور روئے زمین پر پھیلاتا ہے جس کا نام خداوند ہے۔

11. Amos 5 : 1 (to word), 8

1     Hear ye this word…

8     Seek him that maketh the seven stars and Orion, and turneth the shadow of death into the morning, and maketh the day dark with night: that calleth for the waters of the sea, and poureth them out upon the face of the earth: The Lord is his name:



سائنس اور صح


1۔ 516 :9۔23

خدا تمام چیزوں کو اپنی شبیہ پر بناتا ہے۔ زندگی وجودیت سے، سچ راستی سے، خدا نیکی سے منعکس ہوتا ہے، جو خود کی سلامتی اور استقلال عنایت کرتے ہیں۔ محبت، بے غرضی سے معطر ہو کر، سب کو خوبصورتی اور روشنی سے غسل دیتی ہے۔ ہمارے قدموں کے نیچے گھاس خاموشی سے پکارتی ہے کہ، ”حلیم زمین کے وارث ہوں گے۔“ معمولی قطلب کی جھاڑی اپنی میٹھی خوشبو آسمان کو بھیجتی ہے۔ بڑی چٹان اپنا سایہ اور پناہ دیتی ہے۔ سورج کی روشنی چرچ کے گنبد سے چمکتی ہے، قید خانے پر گرتی ہے، بیمار کے کمرے میں پڑتی ہے، پھولوں کو روشن کرتی ہے، زمینی منظر کو دلکش بناتی ہے، زمین کو برکت دیتی ہے۔ انسان، اْس کی شبیہ پر خلق کئے جانے سے پوری زمین پر خدا کی حاکمیت کی عکاسی کرتا اور ملکیت رکھتا ہے۔ آدمی اور عورت بطور ہمیشہ کے لئے خدا کے ساتھ ابدی اور ہم عصر، جلالی خوبی میں، لامحدود مادر پدر خدا کی عکاسی کرتے ہیں۔

1. 516 : 9-23

God fashions all things, after His own likeness. Life is reflected in existence, Truth in truthfulness, God in goodness, which impart their own peace and permanence. Love, redolent with unselfishness, bathes all in beauty and light. The grass beneath our feet silently exclaims, "The meek shall inherit the earth." The modest arbutus sends her sweet breath to heaven. The great rock gives shadow and shelter. The sunlight glints from the church-dome, glances into the prison-cell, glides into the sick-chamber, brightens the flower, beautifies the landscape, blesses the earth. Man, made in His likeness, possesses and reflects God's dominion over all the earth. Man and woman as coexistent and eternal with God forever reflect, in glorified quality, the infinite Father-Mother God.

2۔ 509 :16۔28

خدا کائنات کو بناتا اور آباد کرتا ہے۔ روحانی فہم کی روشنی صرف لامتناہی کی چمک عنایت کرتی ہے، حتیٰ کہ نیبولا خلا کی لامحدودیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ نام نہاد معدنیات، سبزی، اور حیوانی مواد اب عارضی نہیں یا مادی ڈھانچہ نہیں ہیں جتنا کہ یہ اْس وقت تھے جب ”صبح کے ستاروں نے اکٹھے گیت گایا تھا۔“عقل نے ”ابھی تک زمین پر کھیت کا کوئی پودا“ نہیں لگایا تھا۔ روحانی عروج کے ادوار عقل کی تخلیق کے موسم اور ایام ہیں جن میں خوبصورتی، عظمت، پاکیزگی اور بے گناہی، ہا ں الٰہی فطرت انسان اور کائنات میں کبھی نہ ختم ہونے کے لئے ظاہر ہوتے ہیں۔

2. 509 : 16-28

God forms and peoples the universe. The light of spiritual understanding gives gleams of the infinite only, even as nebulæ indicate the immensity of space.

So-called mineral, vegetable, and animal substances are no more contingent now on time or material structure than they were when "the morning stars sang together." Mind made the "plant of the field before it was in the earth." The periods of spiritual ascension are the days and seasons of Mind's creation, in which beauty, sublimity, purity, and holiness — yea, the divine nature — appear in man and the universe never to disappear.

3۔ 295 :6۔8

خدا کائنات کو،بشمول انسان،خلق کرتا اور اْس پر حکومت کرتا ہے، یہ کائنات روحانی خیالات سے بھری پڑی ہے، جنہیں وہ تیار کرتا ہے، اور وہ اْس عقل کی فرمانبرداری کرتے ہیں جو انہیں بناتی ہے۔

3. 295 : 6-8

The universe is filled with spiritual ideas, which He evolves, and they are obedient to the Mind that makes them.

4۔ 332 :4 (ماں باپ)۔8

الوہیت کے لئے مادر پدر نام ہے، جو اْس کی روحانی مخلوق کے ساتھ اْس کے شفیق تعلق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جیسا کہ رسول نے ان الفاظ میں یہ ظاہر کیا جنہیں ایک بہترین شاعر کی منظوری سے لیا گیا ہے: ”اسلئے کہ ہم بھی اْس کی اولاد ہیں“۔

4. 332 : 4 (Father-Mother)-8

Father-Mother is the name for Deity, which indicates His tender relationship to His spiritual creation. As the apostle expressed it in words which he quoted with approbation from a classic poet: "For we are also His offspring."

5. 257 : 12-21

Mind creates His own likeness in ideas, and the substance of an idea is very far from being the supposed substance of non-intelligent matter. Hence the Father Mind is not the father of matter. The material senses and human conceptions would translate spiritual ideas into material beliefs, and would say that an anthropomorphic God, instead of infinite Principle, — in other words, divine Love, — is the father of the rain, "who hath begotten the drops of dew," who bringeth "forth Mazzaroth in his season," and guideth "Arcturus with his sons."

6۔ 547 :25۔32

کائنات کا،بشمول انسان، حقیقی نظریہ مادی تاریخ میں نہیں بلکہ روحانی ترقی میں ہے۔ الہامی سوچ کائنات کے ایک مادی، جسمانی اور فانی نظریے کو ترک کرتی ہے، اور روحانی اور لافانی کو اپناتی ہے۔

یہ کلام کا روحانی فہم ہی ہے جو انسان کو بیماری اور موت سے اونچا لے جاتا ہے اور ایمان کو بڑھاتا ہے۔

6. 547 : 25-32

The true theory of the universe, including man, is not in material history but in spiritual development. Inspired thought relinquishes a material, sensual, and mortal theory of the universe, and adopts the spiritual and immortal.

It is this spiritual perception of Scripture, which lifts humanity out of disease and death and inspires faith.

7۔ 119 :1۔18

جب ہم مبہم روحانی قوت کو وقف کر دیتے ہیں، یعنی کہ، جب ہم ایسا اپنے نظریات میں کرتے ہیں، تو بے شک ہم مادے کو جو کچھ یہ نہیں رکھتا یا نہیں رکھ سکتا اْس کے ساتھ حقیقتاً وقف نہیں کر سکتے، ہم قادر مطلق کا انکار کرتے ہیں، کیونکہ ایسے نظریات دونوں میں سے ایک کی جانب گامزن کرتے ہیں۔ یاتو یہ مادے کے خود کار ارتقا اور خود کار حکمرانی کی پیش قدمی کرتے ہیں یا پھر یہ فرض کرتے ہیں کہ ماداروح کی پیداوار ہے۔ اس دوہری مشکل کی پہلی شاخ کو ترک کرنا اور خود کی اور خود میں مادے کو بطور طاقت تصور کرنا، خالق کو اْسی کی کائنات سے خارج کرنے کے مترادف ہے؛ جبکہ اس دوہری مشکل کی دوسری شاخ کو اپنانا اور خدا کو مادے کے خالق کے طور پر اہمیت دینا، نہ صر ف اْسے تمام تر تباہ کاریوں، جسمانی اور اخلاقیوں، کا ذمہ دار ٹھہرانا ہے، بلکہ اْسے اِن کے منبع کے طور پر مشہور کرنا بھی ہے، اور اس طرح اْسے قدرتی قانون کے تحت اور شکل میں مسلسل بدنظمی کو جاری رکھنے کا قصور وار بنانا ہے۔

ایک لحاظ سے خدا فطرت کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے،مگر یہ فطرت روحانی ہے اور مادے میں ظاہر نہیں کی گئی۔

7. 119 : 1-18

When we endow matter with vague spiritual power, — that is, when we do so in our theories, for of course we cannot really endow matter with what it does not and cannot possess, — we disown the Almighty, for such theories lead to one of two things. They either presuppose the self-evolution and self-government of matter, or else they assume that matter is the product of Spirit. To seize the first horn of this dilemma and consider matter as a power in and of itself, is to leave the creator out of His own universe; while to grasp the other horn of the dilemma and regard God as the creator of matter, is not only to make Him responsible for all disasters, physical and moral, but to announce Him as their source, thereby making Him guilty of maintaining perpetual misrule in the form and under the name of natural law.

In one sense God is identical with nature, but this nature is spiritual and is not expressed in matter.

8۔ 171 :12۔16

کائنات، بشمول انسان پر عقل کی حکمرانی ایک کھلا سوال نہیں رہا بلکہ یہ قابل اثبات سائنس ہے۔ یسوع نے بیماری اور گناہ سے شفا دیتے ہوئے اور موت کی بنیاد کو تباہ کرتے ہوئے الٰہی اصول اور لافانی عقل کی طاقت کو بیان کیا۔

8. 171 : 12-16

Mind's control over the universe, including man, is no longer an open question, but is demonstrable Science. Jesus illustrated the divine Principle and the power of immortal Mind by healing sickness and sin and destroying the foundations of death.

9۔ 151 :23۔24

الٰہی عقل جس نے انسان کو بنایا خود کی صورت اور شبیہ کو قائم رکھتی ہے۔

9. 151 : 23-24

The divine Mind that made man maintains His own image and likeness.

10۔ 134 :26۔30

یسوع نے کہا ”مجھے تو معلوم تھا تْو ہمیشہ میری سْنتا ہے“؛ اور اْس نے لعذر کو زندہ کیا، طوفان کو تھاما، بیمار کو شفا دی، پانی پر چلا۔یہاں مادے کے مقابلے میں روحانی قدرت کی برتری پر یقین رکھنے کا الٰہی اختیار ہے۔

10. 134 : 26-30

Jesus said: "I knew that Thou hearest me always;" and he raised Lazarus from the dead, stilled the tempest, healed the sick, walked on the water. There is divine authority for believing in the superiority of spiritual power over material resistance.

11۔ 124 :14۔31

کائنات کو، انسان کی مانند، اس کے الٰہی اصول، خدا، کی طرف سے سائنس کے ذریعے واضح کیا جانا چاہئے، تو پھر اسے سمجھا جا سکتا ہے، لیکن جب اسے جسمانی حواس کی بنیاد پر واضح کیا جاتا ہے اور نشوونما، بلوغت اور زوال کے ماتحت ہوتے ہوئے پیش کیا جاتا ہے،تو کائنات، انسان کی مانند، ایک معمہ بن جاتا ہے اوریہ جاری رکھنا چاہئے۔

پیروی، ملاپ اور دلکشی عقل کی ملکیتیں ہیں۔یہ الٰہی اصول سے تعلق رکھتے ہیں، اور یہ خیالی قوت کی تعدیل کی حمایت کرتے ہیں، جس نے زمین کو اس کے مدار میں چھوڑا اور متکبر لہروں سے کہا، ”یہاں تک پر آگے نہیں۔“

روح تمام چیزوں کی زندگی، مواد اور تواتر ہے۔ ہم قوتوں کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ انہیں چھوڑ دیں تو مخلوق نیست ہو جائے گی۔ انسانی علم انہیں مادے کی قوتیں کہتا ہے،لیکن الٰہی سائنس یہ واضح کرتی ہے کہ وہ مکمل طور پر الٰہی عقل کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور اس عقل میں میراث رکھتی ہیں، اور یوں انہیں اْن کے جائز گھر اور درجہ بندی میں بحال کرتی ہے۔

11. 124 : 14-31

The universe, like man, is to be interpreted by Science from its divine Principle, God, and then it can be understood; but when explained on the basis of physical sense and represented as subject to growth, maturity, and decay, the universe, like man, is, and must continue to be, an enigma.

Adhesion, cohesion, and attraction are properties of Mind. They belong to divine Principle, and support the equipoise of that thought-force, which launched the earth in its orbit and said to the proud wave, "Thus far and no farther."

Spirit is the life, substance, and continuity of all things. We tread on forces. Withdraw them, and creation must collapse. Human knowledge calls them forces of matter; but divine Science declares that they belong wholly to divine Mind, are inherent in this Mind, and so restores them to their rightful home and classification.

12۔ 121 :24۔32

جہاں تک نظام شمسی کا تعلق ہے، سورج مرکزی سکوت ہے، اور زمین سورج کے گرد ایک سال میں چکر لگاتی ہے، اِس کے ساتھ ساتھ ہر روز اپنے مدار میں بھی گھومتی ہے۔

جیسا کہ واضح کیا گیا ہے، فلکیاتی ترتیب الٰہی اصول کے عمل کی تقلید کرتی ہے؛ اور کائنات، خدا کا سایہ، روحانی حقیقت کے قریب تر لایا جاتا ہے، اور الٰہی سائنس کے ساتھ مرتب کیا جاتا ہے جیسا کہ کائنات کی ازلی حکومت میں ظاہر کیا گیا ہے۔

12. 121 : 24-32

The sun is the central stillness, so far as our solar system is concerned, and the earth revolves about the sun once a year, besides turning daily on its own axis.

As thus indicated, astronomical order imitates the action of divine Principle; and the universe, the reflection of God, is thus brought nearer the spiritual fact, and is allied to divine Science as displayed in the everlasting government of the universe.

13۔ 503 :9۔17

الٰہی اصول اور خیال روحانی ہم آہنگی، آسمان اور ابدیت، تشکیل دیتے ہیں۔ سچائی کی کائنات میں، مادا گمنام ہے۔غلطی کا کوئی مفروضہ وہاں داخل نہیں ہوتا۔ غلطی کی تاریکی سے الٰہی سائنس، یعنی خدا کا کلام کہتا ہے کہ، ”خدا حاکم کْل“ ہے، اور ازل سے موجود محبت کی روشنی کائنات کو روشن کرتی ہے۔ پس ابدی عجوبہ، کہ لامتناہی خلا خدا کے خیالات سے آباد ہے، جو بیشمار روحانی اشکال کی عکاسی کرتا ہے۔

13. 503 : 9-17

The divine Principle and idea constitute spiritual harmony, — heaven and eternity. In the universe of Truth, matter is unknown. No supposition of error enters there. Divine Science, the Word of God, saith to the darkness upon the face of error, "God is All-in-all," and the light of ever-present Love illumines the universe. Hence the eternal wonder, — that infinite space is peopled with God's ideas, reflecting Him in countless spiritual forms.

14۔ 331 :16۔17

خدا کی کائنات میں ہر چیز اْسی کو ظاہر کرتی ہے۔

14. 331 : 16-17

Everything in God's universe expresses Him.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████