اتوار 21فروری،2021



مضمون۔ عقل

SubjectMind

سنہری متن: امثال 9باب10 آیت

”خداوند کا خوف حکمت کا شروع ہے اور اْس قدوس کی پہچان فہم ہے۔“



Golden Text: Proverbs 9 : 10

The fear of the Lord is the beginning of wisdom: and the knowledge of the holy is understanding.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: امثال 2 باب3تا9 آیات


3۔ بلکہ عقل کو پکارے اور فہم کے لئے آواز بلند کرے۔

4۔ اور اْس کو ایسا ڈھونڈے جیسے چاندی کو اور اْس کی ایسی تلاش کرے جیسے پوشیدہ خزانوں کی۔

5۔ تو تْو خداوند کے خوف کو سمجھے گا اور خدا کی معرفت کو حاصل کرے گا۔

6۔ کیونکہ خداوند حکمت بخشتا ہے۔ علم و فہم اْسی کے منہ سے نکلتے ہیں۔

7۔ وہ راستبازوں کے لئے مدد تیار رکھتا ہے اور راست رو کے لئے سپر ہے۔

8۔ تاکہ وہ عدل کی راہوں کی نگہبانی کرے اور اپنے مقدسوں کی راہ کو محفوظ رکھے۔

9۔ تب تْو صداقت اور عدل اور راستی کو بلکہ ہر ایک اچھی راہ کو سمجھے گا۔

Responsive Reading: Proverbs 2 : 3-9

3.     If thou criest after knowledge, and liftest up thy voice for understanding;

4.     If thou seekest her as silver, and searchest for her as for hid treasures;

5.     Then shalt thou understand the fear of the Lord, and find the knowledge of God.

6.     For the Lord giveth wisdom: out of his mouth cometh knowledge and understanding.

7.     He layeth up sound wisdom for the righteous: he is a buckler to them that walk uprightly.

8.     He keepeth the paths of judgment, and preserveth the way of his saints.

9.     Then shalt thou understand righteousness, and judgment, and equity; yea, every good path.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ زبور 119: 89، 97تا104 آیات

89۔ اے خداوند! تیرا کلام آسمان پر ابد تک قائم ہے۔

97۔ آہ! مَیں تیری شریعت سے کیسی محبت رکھتا ہوں۔ مجھے دن بھر اْسی کا دھیان رہتا ہے۔

98۔ تیرے فرمان مجھے میرے دشمنوں سے زیادہ دانشور بناتے ہیں۔ کیونکہ وہ ہمیشہ میرے ساتھ ہیں۔

99۔ مَیں اپنے سب استادوں سے عقلمند ہوں۔ کیونکہ تیری شہادتوں پر میرا دھیان رہتا ہے۔

100۔مَیں عمر رسیدہ لوگوں سے زیادہ سمجھ رکھتا ہوں۔ کیونکہ مَیں نے تیرے قوانین کو مانا ہے۔

101۔ مَیں نے ہر بری راہ سے اپنے قدم روک رکھے ہیں۔تاکہ تیری شریعت پر عمل کروں۔

102۔ مَیں نے تیرے احکام سے کنارہ نہیں کیا۔ کیونکہ تْو نے مجھے تعلیم دی ہے۔

103۔ تیری باتیں میرے لئے کیسی شیریں ہیں! وہ میرے منہ کو شہد سے بھی میٹھی معلوم ہوتی ہیں۔

104۔ تیرے قوانین سے مجھے فہم حاصل ہوتا ہے۔اس لئے مجھے ہر جھوٹی راہ سے نفرت ہے۔

1. Psalm 119 : 89, 97-104

89     For ever, O Lord, thy word is settled in heaven.

97     O how love I thy law! it is my meditation all the day.

98     Thou through thy commandments hast made me wiser than mine enemies: for they are ever with me.

99     I have more understanding than all my teachers: for thy testimonies are my meditation.

100     I understand more than the ancients, because I keep thy precepts.

101     I have refrained my feet from every evil way, that I might keep thy word.

102     I have not departed from thy judgments: for thou hast taught me.

103     How sweet are thy words unto my taste! yea, sweeter than honey to my mouth!

104     Through thy precepts I get understanding: therefore I hate every false way.

2۔ 1 سلاطین 5 باب 1 (حیرام) تا 3، 5تا7، 10تا12 آیات

1۔ اور صور کے بادشاہ حیرام نے اپنے خادموں کو سلیمان کے پاس بھیجا کیونکہ اْس نے سنا تھا کہ اْنہوں نے اْسے اْس کی باپ کی جگہ مسح کر کے بادشاہ بنایا ہے اِس لئے حیرام ہمیشہ داؤد کا دوست رہا تھا۔

2۔ اور سلیمان نے حیرام کو کہلا بھیجا کہ۔

3۔ تْو جانتا ہے کہ میرا باپ داؤد خداوند اپنے خدا کے نام کے لئے گھر نہ بنا سکا کیونکہ اْس کے چوگرد ہر طرف لڑائیاں ہوتی رہیں جب تک کہ خداوند نے اْن سب کو اْس کے پاؤں کے تلووں کے نیچے نہ کر دیا۔

5۔ سو دیکھ! خداوند اپنے خدا کے نام کے لئے ایک گھر بنانے کا میرا ارادہ ہے جیسا خداوند نے میرے باپ داؤد سے کہا تھا کہ تیرا بیٹا جس کو مَیں تیری جگہ تیرے تخت پر بٹھاؤں گا وہی میرے نام کے لئے گھر بنائے گا۔

6۔ سو اب تْو حکم کر کے وہ میرے لئے لبنان سے دیودار کے درختوں کو کاٹیں اور میرے ملازم تیرے ملازموں کے ساتھ رہیں گے اور مَیں تیرے ملازموں کے لئے جتنی اْجرت تْو کہے گا دوں گا کیونکہ تْو جانتا ہے کہ ہم میں ایسا کوئی نہیں جو صیدانیوں کی طرح لکڑی کاٹنا جانتا ہو۔

7۔ جب حیرام نے سلیمان کی باتیں سنیں تو نہایت خوش ہوا اور کہا کہ آج کے دن خداوند مبارک ہو جس نے داؤد کو اِس بڑی قوم کے لئے ایک عقلمند بیٹا بخشا۔

10۔ پس حیرام نے سلیمان کو اْس کی مرضی کے مطابق دیودار کی لکڑی اور صنوبر کی لکڑی دی۔

11۔ اور سلیمان نے حیرام کو اْس کے گھرانے کے کھانے کے لئے بیس ہزار کو گیہوں اور بیس کور خالص تیل دیا۔اِسی طرح سلیمان حیرام کو سال بسال دیتا رہا۔

12۔ اور خداوند نے سلیمان کو جیسا اْس نے اْس سے وعدہ کیا تھا حکمت بخشی اور حیرام اور سلیمان کے درمیان صلح تھی اور اْن دونوں نے باہم عہد باندھ لیا۔

2. I Kings 5 : 1 (Hiram)-3, 5-7, 10-12

1     Hiram king of Tyre sent his servants unto Solomon; for he had heard that they had anointed him king in the room of his father: for Hiram was ever a lover of David.

2     And Solomon sent to Hiram, saying,

3     Thou knowest how that David my father could not build an house unto the name of the Lord his God for the wars which were about him on every side, until the Lord put them under the soles of his feet.

5     And, behold, I purpose to build an house unto the name of the Lord my God, as the Lord spake unto David my father, saying, Thy son, whom I will set upon thy throne in thy room, he shall build an house unto my name.

6     Now therefore command thou that they hew me cedar trees out of Lebanon; and my servants shall be with thy servants: and unto thee will I give hire for thy servants according to all that thou shalt appoint: for thou knowest that there is not among us any that can skill to hew timber like unto the Sidonians.

7     And it came to pass, when Hiram heard the words of Solomon, that he rejoiced greatly, and said, Blessed be the Lord this day, which hath given unto David a wise son over this great people.

10     So Hiram gave Solomon cedar trees and fir trees according to all his desire.

11     And Solomon gave Hiram twenty thousand measures of wheat for food to his household, and twenty measures of pure oil: thus gave Solomon to Hiram year by year.

12     And the Lord gave Solomon wisdom, as he promised him: and there was peace between Hiram and Solomon; and they two made a league together.

3۔ 1 سلاطین 3باب16تا28 آیات

16۔ اْس وقت دو عورتیں جو کسبیاں تھیں بادشاہ کے پاس آئیں اور اْس کے آگے کھڑی ہوئیں۔

17۔ اور ایک عورت کہنے لگی اے میرے مالک! مَیں اور یہ عورت دونوں ایک ہی گھر میں رہتی ہیں اور اِس کے ساتھ گھر میں رہتے ہوئے میرے ایک بچہ ہوا۔

18۔ اور میرے زچہ ہوجانے کے بعد تیسرے دن ایسا ہوا کہ یہ عورت بھی زچہ ہو گئی اور ہم ایک ساتھ ہی تھیں۔ کوئی غیر شخص اْس گھر میں نہ تھا۔سوا ہم دونوں کے جو گھر میں ہی تھیں۔

19۔ اور اْس عورت کا بچہ رات کو مر گیا کیونکہ یہ اْس کے اوپر ہی لیٹ گئی تھی۔

20۔ سو یہ آدھی رات کو اْٹھی اور جس وقت تیری لونڈی سوتی تھی میرے بیٹے کو میری بغل سے لے کر اپنی گود میں لیٹا لیا اور اپنے مرے ہوئے بچے کو میری گود میں ڈال دیا۔

21۔ صبح کو جب مَیں اٹھی کہ اپنے بچے کو دودھ پلاؤں تو کیا دیکھتی ہوں کہ وہ مرا پڑا ہے پر جب مَیں نے صبح کو غور کیا تو دیکھا کہ یہ میرا لڑکا نہیں ہے جو میرے ہوا تھا۔

22۔ پھر وہ دوسری عورت کہنے لگی نہیں یہ جو جیتا ہے میرا بیٹا ہے اور مرا ہوا تیرا بیٹا ہے۔ اِس نے جواب دیا نہیں مرا ہوا تیرا بیٹا ہے اور جیتا میرا بیٹا ہے۔سو وہ بادشاہ کے حضور اِسی طرح کہتی رہیں۔

23۔ تب بادشاہ نے کہا ایک کہتی ہے یہ جو جیتا ہے میرا بیٹا ہے اور جو مر گیا وہ تیرا بیٹا ہے اور دوسری کہتی ہے کہ نہیں بلکہ جو مر گیا ہے وہ تیرا بیٹا ہے اور جو جیتا ہے وہ میرا بیٹا ہے۔

24۔ سو بادشاہ نے کہا مجھے ایک تلوار دو۔ تب وہ بادشاہ کے پاس تلوار لے آئے۔

25۔ پھر بادشاہ نے کہا اِس جیتے بچے کو چیر کر دو ٹکڑے کر ڈالو اور آدھا ایک کو اور آدھا دوسری کو دے دو۔

26۔ تب اْس عورت نے جس کا وہ جیتا بچہ تھا بادشاہ سے عرض کی کیونکہ اْس کے دل میں اپنے بیٹے کی مامتا تھی سو وہ کہنے لگی اے میرے مالک! یہ جیتا بچہ اْسی کو دے دو پر اْسے جان سے نہ مروا لیکن دوسری نے کہا یہ نہ میرا ہو نہ تیرا اْسے چیر ڈالو۔

27۔ تب بادشاہ نے حکم کیا کہ جیتا بچہ اْسی کو دو اور اْسے جان سے نہ مارو کیونکہ وہی اْس کی ماں ہے۔

28۔ اور سارے اسرائیل نے یہ انصاف جو بادشاہ نے کیا سنا اور وہ بادشاہ سے ڈرنے لگے کیونکہ اْنہوں نے دیکھا کہ عدالت کرنے کے لئے خدا کی حکمت اْس کے دل میں ہے۔

3. I Kings 3 : 16-28

16     Then came there two women, that were harlots, unto the king, and stood before him.

17     And the one woman said, O my lord, I and this woman dwell in one house; and I was delivered of a child with her in the house.

18     And it came to pass the third day after that I was delivered, that this woman was delivered also: and we were together; there was no stranger with us in the house, save we two in the house.

19     And this woman’s child died in the night; because she overlaid it.

20     And she arose at midnight, and took my son from beside me, while thine handmaid slept, and laid it in her bosom, and laid her dead child in my bosom.

21     And when I rose in the morning to give my child suck, behold, it was dead: but when I had considered it in the morning, behold, it was not my son, which I did bear.

22     And the other woman said, Nay; but the living is my son, and the dead is thy son. And this said, No; but the dead is thy son, and the living is my son. Thus they spake before the king.

23     Then said the king, The one saith, This is my son that liveth, and thy son is the dead: and the other saith, Nay; but thy son is the dead, and my son is the living.

24     And the king said, Bring me a sword. And they brought a sword before the king.

25     And the king said, Divide the living child in two, and give half to the one, and half to the other.

26     Then spake the woman whose the living child was unto the king, for her bowels yearned upon her son, and she said, O my lord, give her the living child, and in no wise slay it. But the other said, Let it be neither mine nor thine, but divide it.

27     Then the king answered and said, Give her the living child, and in no wise slay it: she is the mother thereof.

28     And all Israel heard of the judgment which the king had judged; and they feared the king: for they saw that the wisdom of God was in him, to do judgment.

4۔ امثال 3 باب13تا19 آیات

13۔ مبارک ہے وہ آدمی جو حکمت کو پاتا ہے اور وہ جو فہم حاصل کرتا ہے۔

14۔ کیونکہ اِس کا حصول چاندی کے حصول سے اور اِس کا نفع کندن سے بہتر ہے۔

15۔ وہ مرجان سے زیادہ بیش بہا ہے اور تیری مرغوب چیزوں میں بے نظیر۔

16۔ اْس کے دہنے ہاتھ میں عمر کی درازی ہے اور اْس کے بائیں ہاتھ میں دولت و عزت۔

17۔ اْس کی راہیں خوشگوار راہیں ہیں اور اْس کے سب راستے سلامتی کے راستے ہیں۔

18۔ جو اْسے پکڑے رہتے ہیں وہ اْن کے لئے حیات کا درخت ہے اور ہر ایک جو اْس کے لئے رہتا ہے مبارک ہے۔

19۔ خداوند نے حکمت سے زمین کی بنیاد ڈالی اور فہم سے آسمان کو قائم کیا۔

4. Proverbs 3 : 13-19

13     Happy is the man that findeth wisdom, and the man that getteth understanding.

14     For the merchandise of it is better than the merchandise of silver, and the gain thereof than fine gold.

15     She is more precious than rubies: and all the things thou canst desire are not to be compared unto her.

16     Length of days is in her right hand; and in her left hand riches and honour.

17     Her ways are ways of pleasantness, and all her paths are peace.

18     She is a tree of life to them that lay hold upon her: and happy is every one that retaineth her.

19     The Lord by wisdom hath founded the earth; by understanding hath he established the heavens.

5۔ یرمیاہ 9 باب23، 24 آیات

23۔ خداوند یوں فرماتا ہے کہ نہ صاحبِ حکمت اپنی حکمت پر اور نہ قوی اپنی قوت پر اور نہ مالدار اپنے مال پر فخر کرے۔

24۔ لیکن جو فخر کرتا ہے اِس پر فخر کرے کہ وہ سمجھتا اور مجھے جانتا ہے کہ مَیں ہی خداوند ہوں جو دنیا میں شفقت و عدل اور راستبازی کو عمل میں لاتا ہوں کیونکہ میری خوشنودی انہی باتوں میں ہے خداوند فرماتا ہے۔

5. Jeremiah 9 : 23, 24

23     Thus saith the Lord, Let not the wise man glory in his wisdom, neither let the mighty man glory in his might, let not the rich man glory in his riches:

24     But let him that glorieth glory in this, that he understandeth and knoweth me, that I am the Lord which exercise lovingkindness, judgment, and righteousness, in the earth: for in these things I delight, saith the Lord.



سائنس اور صح


1۔ 591 :16۔20

عقل۔ واحد مَیں، یا ہم؛ واحد روح، ہستی، الٰہی اصول، اصل، زندگی، حق، محبت؛ خدائے واحد، وہ نہیں جو انسان میں ہے، بلکہ الٰہی اصول یا خدا، انسان جس کا مکمل اور کامل اظہار ہے، الوہیت، جو واضح کرتی ہے مگر واضح ہوتی نہیں۔

1. 591 : 16-20

Mind. The only I, or Us; the only Spirit, Soul, divine Principle, substance, Life, Truth, Love; the one God; not that which is in man, but the divine Principle, or God, of whom man is the full and perfect expression; Deity, which outlines but is not outlined.

2۔ 209 :5۔8

عقل، اپنی تمام تر اصلاحات پر برتر اور اِن سب پر حکمرانی کرنے والی، اپنے خود کے خیالات کے نظاموں کا ایک مرکزی شمس ہے، یعنی اپنی خود کی وسیع تخلیق کی روشنی اور زندگی؛ اور انسان الٰہی عقل کا معاون ہے۔

2. 209 : 5-8

Mind, supreme over all its formations and governing them all, is the central sun of its own systems of ideas, the life and light of all its own vast creation; and man is tributary to divine Mind.

3۔ 591 :5۔7

انسان۔ لا محدود روح کا مرکب خیال؛ خدا کی روحانی صورت اور شبیہ؛ عقل کا مکمل نمائندہ کار۔

3. 591 : 5-7

Man. The compound idea of infinite Spirit; the spiritual image and likeness of God; the full representation of Mind.

4۔ 257 :12۔15

عقل خیالات میں اپنی خود کی شبیہ پیدا کرتی ہے، اور خیال کا مواد غیر ذہین مادے کے فرضی مواد سے بہت دور ہے۔ پس عقل کاباپ مادے کا باپ نہیں ہے۔

4. 257 : 12-15

Mind creates His own likeness in ideas, and the substance of an idea is very far from being the supposed substance of non-intelligent matter. Hence the Father Mind is not the father of matter.

5۔ 280 :1۔8

عقل کی لامحدودیت میں، مادہ یقیناً گمنام ہوگا۔مخالفت اور تباہی کی علامات اور عناصر لامحدود، کامل اور ابدی کْل کی مصنوعات نہیں ہیں۔ محبت میں سے اور اْس روشنی اور ہم آہنگی میں سے جس کا مسکن روح ہے، صرف اچھائی کی کرنیں نکل سکتی ہیں۔ تمام تر خوبصورت اور بے ضرر چیزیں عقل کے خیالات ہیں۔ عقل انہیں خلق کرتی اور انہیں بڑھاتی ہے، اور یہ پیداوار ذہنی ہوتی ہے۔

5. 280 : 1-8

In the infinitude of Mind, matter must be unknown. Symbols and elements of discord and decay are not products of the infinite, perfect, and eternal All. From Love and from the light and harmony which are the abode of Spirit, only reflections of good can come. All things beautiful and harmless are ideas of Mind. Mind creates and multiplies them, and the product must be mental.

6۔ 283 :4۔12

عقل تمام تر حرکات کا منبع ہے، اور اِس کے متواتر اور ہم آہنگ عمل کو پرکھنے یا اس پر مزاحمت کرنے والی کسی قسم کی سستی نہیں پائی جاتی۔ عقل ”کل، آج اور ابد تک“ زندگی، محبت اور حکمت کے ساتھ یکساں ہے۔ مادہ اور اِس کے اثرات، گناہ، بیماری اور موت، فانی عقل کی حالتیں ہیں جو عمل کرتی، رد عمل کرتی اور پھر اختتام کو پہنچتی ہیں۔ وہ عقل کی حقیقتیں نہیں ہیں۔ وہ خیالات نہیں بلکہ بھرم ہیں۔ اصول ہی مطلق ہے۔ یہ غلطی سے تسلیم نہیں ہوتا، بلکہ فہم پر تکیہ کرتا ہے۔

6. 283 : 4-12

Mind is the source of all movement, and there is no inertia to retard or check its perpetual and harmonious action. Mind is the same Life, Love, and wisdom "yesterday, and to-day, and forever." Matter and its effects — sin, sickness, and death — are states of mortal mind which act, react, and then come to a stop. They are not facts of Mind. They are not ideas, but illusions. Principle is absolute. It admits of no error, but rests upon understanding.

7۔ 275 :6۔9، 20۔24

الٰہی سائنس کا واضح نقطہ یہ ہے کہ خدا، روح، حاکمِ کْل ہے، اور اْس کے علاوہ کوئی طاقت ہے نہ کوئی عقل ہے، کہ خدا محبت ہے، اور اسی لئے وہ الٰہی اصول ہے۔

الٰہی طبعیات، جیسے کہ روحانی فہم پر ظاہر ہوئی ہے، واضح طور پرایاں کرتی ہیں کہ سب کچھ عقل ہی ہے، اور یہ عقل خدا، قادرِ مطلق، قاد ر الظہور، علام الغیوب، یعنی سب قدرت والا، سب جگہ ظاہر، اور سب جاننے والا ہے۔ لہٰذہ سب کچھ جو حقیقی ہے وہ عقل کا اظہار ہے۔

7. 275 : 6-9, 20-24

The starting-point of divine Science is that God, Spirit, is All-in-all, and that there is no other might nor Mind, — that God is Love, and therefore He is divine Principle.

Divine metaphysics, as revealed to spiritual understanding, shows clearly that all is Mind, and that Mind is God, omnipotence, omnipresence, omniscience, — that is, all power, all presence, all Science. Hence all is in reality the manifestation of Mind.

8۔ 281 :14۔17

ایک خودی، ایک عقل یا روح جسے خدا کہا جاتا ہے لامتناہی انفرادیت ہے، جو سب روپ اور خوبصورتی دستیاب کرتا ہے اور جو انفرادی روحانی انسان اور چیزوں میں حقیقت اور الوہیت کی عکاسی کرتا ہے۔

8. 281 : 14-17

The one Ego, the one Mind or Spirit called God, is infinite individuality, which supplies all form and comeliness and which reflects reality and divinity in individual spiritual man and things.

9۔ 258 :11۔18

انسان ابدیت کی عکاسی کرتا ہے، اور یہ عکس خدا کا حقیقی خیال ہے۔

اس کی وسعت اورلامحدود بنیادوں سے اونچی سے اونچی پرواز کو بڑھاتے ہوئے خدا انسان میں لامحدود خیال کو ہمیشہ ظاہر کرتا ہے۔ عقل اْس سب کو ایاں کرتی ہے جو سچائی کی ابدیت میں پایا جاتا ہے۔ ہم حقیقی الٰہی صورت اور شبیہ سے متعلق اتنا نہیں جانتے جتنا ہم خدا سے متعلق جانتے ہیں۔

9. 258 : 11-18

Man reflects infinity, and this reflection is the true idea of God.

God expresses in man the infinite idea forever developing itself, broadening and rising higher and higher from a boundless basis. Mind manifests all that exists in the infinitude of Truth. We know no more of man as the true divine image and likeness, than we know of God.

10۔ 216 :11۔21

یہ فہم کہ انا عقل ہے، اور یہ کہ ماسوائے ایک عقل یا ذہانت کے اور کچھ نہیں، فانی حس کی غلطیوں کو تباہ کرنے اور فانی حس کی سچائی کی فراہمی کے لئے ایک دم شروع ہو جاتا ہے۔یہ فہم بدن کو ہم آہنگ بناتا ہے؛ یہ ا عصاب، ہڈیوں، دماغ وغیرہ کو غلام بناتا ہے نہ کہ مالک بناتا ہے۔ اگر انسان پر الٰہی عقل کے قانون کی حکمرانی ہوتی ہے، تو اْس کا بدن ہمیشہ کی زندگی اور سچائی اور محبت کے سپرد ہے۔ بشر کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ انسان، یعنی خدا کی شبیہ اور صورت، کو مادہ اور روح، اچھائی اور بدی دونوں فرض کرتا ہے۔

10. 216 : 11-21

The understanding that the Ego is Mind, and that there is but one Mind or intelligence, begins at once to destroy the errors of mortal sense and to supply the truth of immortal sense. This understanding makes the body harmonious; it makes the nerves, bones, brain, etc., servants, instead of masters. If man is governed by the law of divine Mind, his body is in submission to everlasting Life and Truth and Love. The great mistake of mortals is to suppose that man, God's image and likeness, is both matter and Spirit, both good and evil.

11۔ 84 :7۔23

جب ہستی کی سچائی کے ساتھ ہم آہنگی کے لئے سائنس نے کافی ترقی کی، تو انسان غیر ارادی طور پر غیب دان اور نبی بن گیا، جو بھوتوں، بدروحوں یا نیم دیوتاؤں کے اختیار میں نہیں بلکہ واحد روح کے قابو میں تھا۔ یہ ہر وقت موجود، الٰہی عقل اور اْس خیال کا استحقاق ہے جو اِس عقل کے ساتھ تعلق رکھتا ہے تاکہ ماضی، حال اور مستقبل کو جانے۔

ہستی کی سائنس سے آگاہی ہمیں مزید وسیع پیمانے پر الٰہی عقل کے ساتھ مکالمہ کرنے کے قابل بناتی ہے، تاکہ اْن واقعات کی پیش گوئی اور پیش بینی کی جائے جو کائنات کی فلاح سے تعلق رکھتے ہیں، تاکہ الٰہی لحاظ سے متاثر ہوا جا سکے اور البتہ آزاد عقل کی وسعت کو چھوْا جا سکے۔

یہ سمجھنا کہ عقل لامحدود ہے، مادیت میں جکڑی نہیں، بصیرت اور سماعت کے لئے آنکھ اور کان کی محتاج نہیں نہ ہی قوت حرکت کے لئے پٹھوں اور ہڈیوں پر انحصار کرتی ہے، عقل کی اْس سائنس کی جانب ایک قدم ہے جس کی بدولت ہم انسان کی فطرت اور وجود سے متعلق آگاہی پاتے ہیں۔

11. 84 : 7-23

When sufficiently advanced in Science to be in harmony with the truth of being, men become seers and prophets involuntarily, controlled not by demons, spirits, or demigods, but by the one Spirit. It is the prerogative of the ever-present, divine Mind, and of thought which is in rapport with this Mind, to know the past, the present, and the future.

Acquaintance with the Science of being enables us to commune more largely with the divine Mind, to foresee and foretell events which concern the universal welfare, to be divinely inspired, — yea, to reach the range of fetterless Mind.

To understand that Mind is infinite, not bounded by corporeality, not dependent upon the ear and eye for sound or sight nor upon muscles and bones for locomotion, is a step towards the Mind-science by which we discern man's nature and existence.

12۔ 469 :13 (دی)۔24

غلطی کو نیست کرنے والی اعلیٰ سچائی خدا یعنی اچھائی واحد عقل ہے اور یہ کہ لامحدود عقل کی جعلی مخالف، جسے شیطان یا بدی کہا جاتا ہے، عقل نہیں، سچائی نہیں بلکہ غلطی ہے، جو حقیقت اور ذہانت سے عاری ہے۔یہاں صرف ایک عقل ہوسکتی ہے کیونکہ خدا صرف ایک ہے؛ اور اگر بشر نے کسی اور عقل کا دعویٰ نہیں کیا اور کسی اور کو قبول نہیں کیا تو گناہ گمنام ہوگا۔ہمارے ہاں صرف ایک عقل ہو سکتی ہے اگر وہ لامحدود ہے تو۔ جب ہم یہ قبول کرتے ہیں کہ اگرچہ خدا لامحدود ہے لیکن بدی اِس لامحدودیت میں ایک مقام رکھتی ہے تو ہم لامحدودیت کے فہم کو دفن کر تے ہیں، کیونکہ جہاں سارا خلا خدا کی بدولت بھرپور ہو وہاں بدی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔

12. 469 : 13 (The)-24

The exterminator of error is the great truth that God, good, is the only Mind, and that the supposititious opposite of infinite Mind — called devil or evil — is not Mind, is not Truth, but error, without intelligence or reality. There can be but one Mind, because there is but one God; and if mortals claimed no other Mind and accepted no other, sin would be unknown. We can have but one Mind, if that one is infinite. We bury the sense of infinitude, when we admit that, although God is infinite, evil has a place in this infinity, for evil can have no place, where all space is filled with God.

13۔ 470 :21۔5

خدا انسان کا خالق ہے، اور انسان کا الٰہی اصول کامل ہونے سے الٰہی خیال یا عکس یعنی انسان کامل ہی رہتا ہے۔ انسان خدا کی ہستی کا ظہور ہے۔ اگر کوئی ایسا لمحہ تھا جب انسان نے الٰہی کاملیت کا اظہار نہیں کیا تو یہ وہ لمحہ تھا جب انسان نے خدا کو ظاہر نہیں کیا، اور نتیجتاً یہ ایک ایسا وقت تھا جب الوہیت یعنی وجود غیر متوقع تھا۔ اگر انسان نے اپنی کاملیت کھو دی ہے تو اْس نے اپنا کامل اصول، الٰہی عقل کھو دی ہے۔ اگر انسان اس کامل اصول یا عقل کے بغیر کبھی وجود رکھتا تھا تو پھر انسان کی وجودیت ایک فرضی داستان ہی تھی۔

سائنس میں خدا اور انسان، الٰہی اصول اور خیال، کے تعلقات لازوال ہیں؛ اور سائنس بھول چوک جانتی ہے نہ ہم آہنگی کی جناب واپسی، لیکن یہ الٰہی ترتیب یا روحانی قانون رکھتی ہے جس میں خدا اور جو کچھ وہ خلق کرتا ہے کامل اور ابدی ہیں، جو اس کی پوری تاریخ میں غیر متغیر رہے ہیں۔

13. 470 : 21-5

God is the creator of man, and, the divine Principle of man remaining perfect, the divine idea or reflection, man, remains perfect. Man is the expression of God's being. If there ever was a moment when man did not express the divine perfection, then there was a moment when man did not express God, and consequently a time when Deity was unexpressed — that is, without entity. If man has lost perfection, then he has lost his perfect Principle, the divine Mind. If man ever existed without this perfect Principle or Mind, then man's existence was a myth.

The relations of God and man, divine Principle and idea, are indestructible in Science; and Science knows no lapse from nor return to harmony, but holds the divine order or spiritual law, in which God and all that He creates are perfect and eternal, to have remained unchanged in its eternal history.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████