اتوار 21 اپریل، 2019 |

اتوار 21 اپریل، 2019



مضمون۔ کفارے کا عقیدہ

SubjectDoctrine of Atonement

سنہری متن:سنہری متن: یوحنا 14باب9، 11آیت

Golden Text: John 14 : 9, 11



’’یسوع نے کہا، میرا یقین کرو کہ میں باپ میں ہوں اورباپ مجھ میں۔ نہیں تو میرے کاموں ہی کے سبب سے میرا یقین کرو۔‘‘

Jesus saith, Believe me that I am in the Father, and the Father in me: or else believe me for the very works’ sake.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: مکاشفہ 19باب 11تا16آیات

Responsive Reading: Revelation 19 : 11-16


11۔ پھر میں نے آسمان کو کھْلا ہوا دیکھا اور کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سفید گھوڑا ہے اور اْس پر ایک سوار ہے جو سچا اور برحق کہلاتا ہے اور وہ راستی کے ساتھ انصاف اور لڑائی کرتا ہے۔

12۔ اور اْس کی آنکھیں آگ کے شعلے ہیں اور اْس کے سر پر بہت سے تاج ہیں اور اْس کا ایک نام لکھا ہوا ہے جسے اْس کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔

13۔ اور وہ خون کی چھِڑکی ہوئی پوشاک پہنے ہوئے ہے اور اْس کا نام کلامِ خدا کہلاتا ہے۔

14۔ اور آسمان کی فوجیں سفید گھوڑوں پر سوا اور سفید صاف مہین کتانی کپڑے پہنے ہوئے اْس کے پیچھے پیچھے ہیں۔

15۔اور قوموں کے مارنے کے لئے اْس کے منہ سے ایک تیز تلوار نکلتی ہے اور وہ لوہے کے عصا سے اْس پر حکومت کرے گا اور قادر مطلق خدا کی سخت غضب کی مے کے حوض میں انگور روندے گا۔

16۔اور اْس کی پوشاک اور ان پر یہ نام لکھا ہوا ہے کہ بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوندوں کا خداوند۔

11.     And I saw heaven opened, and behold a white horse; and he that sat upon him was called Faithful and True, and in righteousness he doth judge and make war.

12.     His eyes were as a flame of fire, and on his head were many crowns; and he had a name written, that no man knew, but he himself.

13.     And he was clothed with a vesture dipped in blood: and his name is called The Word of God.

14.     And the armies which were in heaven followed him upon white horses, clothed in fine linen, white and clean.

15.     And out of his mouth goeth a sharp sword, that with it he should smite the nations: and he shall rule them with a rod of iron: and he treadeth the winepress of the fierceness and wrath of Almighty God.

16.     And he hath on his vesture and on his thigh a name written, KING OF KINGS, AND LORD OF LORDS.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1۔ زبور 91: 1، 2، 10، 11، 14تا 16آیات

1۔ جو حق تعالیٰ کے پردہ میں رہتا ہے۔ وہ قادرِ مطلق کے سایہ میں سکونت کریگا۔ 

2۔ میَں خُداوند کے بارے میں کہونگا وہی میری پناہ اور میرا گڑھ ہے۔وہ میرا خدا ہے جِس پر میرا توکل ہے۔

10۔ تجھ پر کوئی آفت نہ آئیگی۔اور کوئی وبا تیرے خیمہ کے نزدیک نہ پہنچے گی۔ 

11۔ کیونکہ وہ تیری بابت اپنے فرشتوں کو حکم دے گا۔کہ تیری سب راہوں میں تیری حفاظت کریں۔

14۔ چونکہ اُس نے مجھ سے دل لگایا ہے۔اسلئے میں اُسے چھڑاؤنگا۔میَں اُسے سرفراز کرونگا۔ کیونکہ اُس نے میرا نام پہچانا ہے۔ 

15۔ وہ مجھے پکارے گا اور میَں اُسے جواب دونگا۔میں مصیبت میں اُس کے ساتھ رہوں گا۔ میَں اسے چھڑاؤنگااور عزت بخشونگا۔ 

16۔ میَں اُسے عمر کی درازی سے آسودہ کرونگا۔ اور اپنی نجات اُسے دکھاؤں گا۔

1. Psalm 91 : 1, 2, 10, 11, 14-16

1     He that dwelleth in the secret place of the most High shall abide under the shadow of the Almighty.

2     I will say of the Lord, He is my refuge and my fortress: my God; in him will I trust.

10     There shall no evil befall thee, neither shall any plague come nigh thy dwelling.

11     For he shall give his angels charge over thee, to keep thee in all thy ways.

14     Because he hath set his love upon me, therefore will I deliver him: I will set him on high, because he hath known my name.

15     He shall call upon me, and I will answer him: I will be with him in trouble; I will deliver him, and honour him.

16     With long life will I satisfy him, and shew him my salvation.

2۔ یوحنا 17باب1، 4، 11 آیات

1۔ یسوع نے یہ باتیں کہیں اور اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اُٹھاکر کہا کہ اَے باپ! وہ گھڑی آ پہنچی۔ اپنے بیٹے کا جلال ظاہِر کرتا کہ بیٹا تیرا جلال ظاہر کرے۔

4۔ جو کام تو نے مجھے کرنے کو دیا تھا اُس کو تمام کر کے مَیں نے زمین پر تیرا جلال ظاہِر کیا۔

11۔ مَیں آگے کو دُنیا میں نہ ہوں گا مگر یہ دُنیا میں ہیں اور مَیں تیرے پاس آتا ہوں ۔ اے قدوس باپ! اپنے اُس نام کے وسیلہ سے جو تو نے مجھے بخشا ہے اُن کی حفاظت کرتا کہ وہ ہماری طرح ایک ہوں۔ 

2. John 17 : 1, 4, 11

1     These words spake Jesus, and lifted up his eyes to heaven, and said, Father, the hour is come; glorify thy Son, that thy Son also may glorify thee:

4     I have glorified thee on the earth: I have finished the work which thou gavest me to do.

11     And now I am no more in the world, but these are in the world, and I come to thee. Holy Father, keep through thine own name those whom thou hast given me, that they may be one, as we are.

3۔ متی 27باب1، 11تا19، 22تا24، 26تا29، 33، 35 (وہ) (پہلے کو،) آیات

1۔ جب صبح ہوئی تو سب سردار کاہنوں اور قوم کے بزرگوں نے یسوع کے خلاف مشورہ کیا کہ اُسے مار ڈالیں۔

11۔ یسوع حاکم کے سامنے کھڑا تھا اور حاکم نے اُس سے یہ پوچھا کہ کیا تو یہودیوں کا بادشاہ ہے؟ یسوع نے اُس سے کہا تو خود کہتا ہے۔ 

12۔ اور جب سردار کاہن اور بزرگ اُس پر الزام لگا رہے تھے اُس نے کچھ جواب نہ دیا۔ 

13۔ اس پر پلاطوس نے اُس سے کہا کیا تو نہیں سنتا یہ تیرے خلاف کتنی گواہیاں دیتے ہیں؟ 

14۔ اُس نے ایک بات کا بھی اُس کو جواب نہ دیا۔ یہاں تک کہ حاکم نے بہت تعجب کیا ۔ 

15۔ اور حاکم کا دستور تھا کہ عید پر لوگوں کی خاطر ایک قیدی جسے وہ چاہتے تھے چھوڑ دیتا تھا۔ 

16۔ اُس وقت برابا نام اُن کا ایک مشہور قیدی تھا۔ 

17۔ پس جب وہ اکٹھے ہُوئے تو پلاطس نے اُن سے کہا تم کسے چاہتے ہو کہ مَیں تمہاری خاطر چھوڑ دوں؟ برابا کو یا یسوع کو جو مسِیح کہلاتا ہے؟ 

18۔ کیونکہ اُسے معلوم تھا کہ انہوں نے اِس کو حسد سے پکڑوایا ہے۔ 

19۔ اور جب وہ تخت عدالت پر بیٹھا تھا تو اُس کی بِیوی نے اُسے کہلا بھیجا کہ تو اِس راستباز سے کچھ کام نہ رکھ کیونکہ مَیں نے آج خواب میں اِس کے سبب سے بہت دُکھ اُٹھایا ہے۔ 

22۔ پلاطس نے اُن سے کہا پھر یسوع کو جو مسیح کہلاتا ہے کیا کروں؟ سب نے کہا وہ مصلوب ہو۔ 

23۔ اُس نے کہا کیوں اُس نے کیا برائی کی ہے؟ مگر وہ اور بھی چلا چلا کر کہنے لگے وہ مصلوب ہو۔ 

24۔ جب پلاطس نے دیکھا کہ کچھ بن نہیں پڑتا بلکہ الٹا بلوا ہوتا جاتا ہے تو پانی لے کر لوگوں کے روبرو اپنے ہاتھ دھوئے اور کہا کہ مَیں اس راستباز کے خون سے بری ہوں۔ تم جانو۔

26۔ اس پر اس نے برابا کو اُن کی خاطر چھوڑ دیا اور یسوع کو کوڑے لگوا کر حوالہ کیا کہ مصلوب ہو۔ 

27۔ اس پر حاکم کے سپاہیوں نے یسوع کو قلعہ میں لے جا کر ساری پلٹن اُس کے گرد جمع کی۔ 

28۔ اور اُس کے کپڑے اتار کر اُسے قرمزی چوغہ پہنایا۔ 

29۔ اور کانٹوں کا تاج بناکر اُس کے سر پر رکھا اور ایک سرکنڈا اس کے دہنے ہاتھ میں دیا اور اس کے آگے گھٹنے ٹیک کر اُسے ٹھٹھوں میں اڑانے لگے کہ اے یہودیوں کے بادشاہ آداب!

33۔ اور اس جگہ جو گلگتا یعنی کھوپڑی کی جگہ کہلاتی ہے پہنچ کر۔ 

35۔ ۔۔۔ انہوں نے اسے مصلوب کیا۔

3. Matthew 27 : 1, 11-19, 22-24, 26-29, 33, 35 (they) (to 1st ,)

1     When the morning was come, all the chief priests and elders of the people took counsel against Jesus to put him to death:

11     And Jesus stood before the governor: and the governor asked him, saying, Art thou the King of the Jews? And Jesus said unto him, Thou sayest.

12     And when he was accused of the chief priests and elders, he answered nothing.

13     Then said Pilate unto him, Hearest thou not how many things they witness against thee?

14     And he answered him to never a word; insomuch that the governor marvelled greatly.

15     Now at that feast the governor was wont to release unto the people a prisoner, whom they would.

16     And they had then a notable prisoner, called Barabbas.

17     Therefore when they were gathered together, Pilate said unto them, Whom will ye that I release unto you? Barabbas, or Jesus which is called Christ?

18     For he knew that for envy they had delivered him.

19     When he was set down on the judgment seat, his wife sent unto him, saying, Have thou nothing to do with that just man: for I have suffered many things this day in a dream because of him.

22     Pilate saith unto them, What shall I do then with Jesus which is called Christ? They all say unto him, Let him be crucified.

23     And the governor said, Why, what evil hath he done? But they cried out the more, saying, Let him be crucified.

24     When Pilate saw that he could prevail nothing, but that rather a tumult was made, he took water, and washed his hands before the multitude, saying, I am innocent of the blood of this just person: see ye to it.

26     Then released he Barabbas unto them: and when he had scourged Jesus, he delivered him to be crucified.

27     Then the soldiers of the governor took Jesus into the common hall, and gathered unto him the whole band of soldiers.

28     And they stripped him, and put on him a scarlet robe.

29     And when they had platted a crown of thorns, they put it upon his head, and a reed in his right hand: and they bowed the knee before him, and mocked him, saying, Hail, King of the Jews!

33     And when they were come unto a place called Golgotha, that is to say, a place of a skull,

35     …they crucified him,

4۔ مرقس 16باب1تا9، 14، 15، 17تا20آیات

1۔ جب سبت کا دن گزر گیا تو مریم مگدلینی اور یعقوب کی ماں مریم اور سلومی نے خوشبودار چیزیں مول لیں تاکہ آ کر اُس پر ملیں۔ 

2۔ وہ ہفتہ کے پہلے دن بہت سویرے جب سورج نکلا ہی تھا قبر پر آئیں۔ 

3۔ اور آپس میں کہتی تھیں کہ ہمارے لئے پتھر کو قبر کے منہ پر سے کون لڑھکائے گا۔ 

4۔ جب انہوں نے نگاہ کی تو دیکھا کہ پتھر لڑھکا ہوا ہے کیونکہ وہ بہت ہی بڑا تھا۔ 

5۔ اور قبر کے اندر جا کر انہوں نے ایک جوان کو سفید جامہ پہنے ہوئے دہنی طرف بیٹھے دیکھا اور نہایت حیران ہوئیں۔

6۔ اُس نے اُن سے کہا ایسی حیران نہ ہو۔ تم یسوع ناصری کو جو مصلوب ہوا تھا ڈھونڈتی ہو۔ وہ جی اُٹھا ہے۔ وہ یہاں نہیں ہے۔ دیکھو یہ وہ جگہ ہے جہاں اُنہوں نے اُسے رکھا تھا۔ 

7۔ لیکن تم جا کر اس کے شاگردوں اور پطرس سے کہو کہ وہ تم سے پہلے گلیل کو جائے گا۔ تم وہیں اسے دیکھو گے جیسا اُس نے تم سے کہا۔ 

8۔ اور وہ نکل کر قبر سے بھاگیں کیونکہ لرزش اور ہیت اْن پر غالب آگئی تھی اور اُنہوں نے کسی سے کچھ نہ کہا کیونکہ وہ ڈرتی تھیں۔ 

9۔ ہفتہ کے پہلے روز جب وہ سویرے جی اٹھا تو پہلے مریم مگدلینی کو جس میں سے اُس نے سات بدروحیں نکالی تھیں دکھائی دیا۔

14۔ پھر وہ ان گیارہ کو بھی جب کھانا کھانے بیٹھے تھے دکھائی دیا اور اس نے ان کی بے اعتقادی اور سخت دلی پر اُن کو ملامت کی کیونکہ جنہوں نے اُس کے جی اٹھنے کے بعد اُسے دیکھا تھا انہوں نے اُن کا یقین نہ کیا تھا۔ 

15۔ اور اُس نے اُن سے کہا کہ تم تمام دنیا میں جا کر ساری خلق کے سامنے انجیل کی منادی کرو۔ 

17۔ اور ایمان لانے والوں کے درمیان یہ معجزے ہوں گے۔ وہ میرے نام سے بدروحوں کو نکالیں گے۔ 

18۔ نئی نئی زبانیں بولیں گے۔ سانپوں کو اُٹھالیں گے اور اگر کوئی ہلاک کرنے والی چیز پئیں گے تو انہیں کچھ ضرر نہ پہنچے گا۔ وہ بیماروں پر ہاتھ رکھیں گے تو اچھے ہو جائیں گے۔ 

19۔ غرض خداوند یسوع ان سے کلام کرنے کے بعد آسمان پر اٹھایا گیا اور خدا کی دہنی طرف بیٹھ گیا۔ 

20۔ پھر انہوں نے نکل کر ہر جگہ منادی کی اور خداوند ان کے ساتھ کام کرتا رہا اور کلام کو اُن معجزوں کے وسیلہ سے جو ساتھ ساتھ ہوتے تھے ثابت کرتا رہا۔ آمین

4. Mark 16 : 1-9, 14, 15, 17-20

1     And when the sabbath was past, Mary Magdalene, and Mary the mother of James, and Salome, had bought sweet spices, that they might come and anoint him.

2     And very early in the morning the first day of the week, they came unto the sepulchre at the rising of the sun.

3     And they said among themselves, Who shall roll us away the stone from the door of the sepulchre?

4     And when they looked, they saw that the stone was rolled away: for it was very great.

5     And entering into the sepulchre, they saw a young man sitting on the right side, clothed in a long white garment; and they were affrighted.

6     And he saith unto them, Be not affrighted: Ye seek Jesus of Nazareth, which was crucified: he is risen; he is not here: behold the place where they laid him.

7     But go your way, tell his disciples and Peter that he goeth before you into Galilee: there shall ye see him, as he said unto you.

8     And they went out quickly, and fled from the sepulchre; for they trembled and were amazed: neither said they any thing to any man; for they were afraid.

9     Now when Jesus was risen early the first day of the week, he appeared first to Mary Magdalene, out of whom he had cast seven devils.

14     Afterward he appeared unto the eleven as they sat at meat, and upbraided them with their unbelief and hardness of heart, because they believed not them which had seen him after he was risen.

15     And he said unto them, Go ye into all the world, and preach the gospel to every creature.

17     And these signs shall follow them that believe; In my name shall they cast out devils; they shall speak with new tongues;

18     They shall take up serpents; and if they drink any deadly thing, it shall not hurt them; they shall lay hands on the sick, and they shall recover.

19     So then after the Lord had spoken unto them, he was received up into heaven, and sat on the right hand of God.

20     And they went forth, and preached every where, the Lord working with them, and confirming the word with signs following. Amen.



سائنس اور صح


1۔ 361: 16۔ 20

پانی کا ایک قطرہ سمندر کے ساتھ ایک ہے، روشنی کی ایک کرن سورج کے ساتھ ایک ہے، اسی طرح خدا اور انسان، باپ اور بیٹا ہستی میں ایک ہیں۔ کلام کہتا ہے: ’’کیونکہ اْسی میں ہم جیتے اور چلتے پھرتے اور موجود ہیں۔‘‘

1. 361 : 16-20

As a drop of water is one with the ocean, a ray of light one with the sun, even so God and man, Father and son, are one in being. The Scripture reads: "For in Him we live, and move, and have our being."

2۔ 18: 1۔ 12

کفارہ خدا کے ساتھ انسانی اتحاد کی مثال ہے، جس کے تحت انسان الٰہی سچائی ، زندگی اور محبت کی عکاسی کرتے ہیں۔ یسوع ناصری نے انسان کی باپ کے ساتھ یگانگت کو بیان کیا ، اور اس کے لئے ہمارے اوپر اْس کی لامتناہی عقیدت کا قرض ہے۔ اْس کا مشن انفرادی اور اجتماعی دونوں تھا۔ اْس نے زندگی کا مناسب کام سر انجام دیا نہ صرف خود کے انصاف کے لئے بلکہ انسانوں پر رحم کے باعث، انہیں یہ دکھانے کے لئے کہ انہیں اپنا کام کیسے کرنا ہے، بلکہ نہ تو اْن کے لئے خود کچھ کرنے یا نہ ہی اْنہیں کسی ایک ذمہ داری سے آزاد کرنے کے لئے یہ کیا۔یسوع نے دلیری سے حواس کے تسلیم شْدہ ثبوت کے خلاف، منافقانہ عقائد اور مشقوں کے خلاف کام کیا، اور اْس نے اپنی شفائیہ طاقت کی بدولت اپنے سبھی حریفوں کی تردید کی۔

2. 18 : 1-12

ATONEMENT is the exemplification of man's unity with God, whereby man reflects divine Truth, Life, and Love. Jesus of Nazareth taught and demonstrated man's oneness with the Father, and for this we owe him endless homage. His mission was both individual and collective. He did life's work aright not only in justice to himself, but in mercy to mortals, — to show them how to do theirs, but not to do it for them nor to relieve them of a single responsibility. Jesus acted boldly, against the accredited evidence of the senses, against Pharisaical creeds and practices, and he refuted all opponents with his healing power.

3۔ 20: 16۔ 23

’’آدمیوں میں حقیر و مردود ہوتے ہوئے‘‘، حقارت کے بدلے برکتیں دیتے ہوئے، اْس نے انسانوں کو اْن کے خود کے مخالف تعلیم دی، اور جب غلطی نے سچائی کی طاقت کو محسوس کیا تو کوڑے اور صلیب اْس عظیم معلم کے منتظر تھے۔ وہ یہ جانتے ہوئے کبھی نہ جھکا کہ الٰہی حکم کی فرمانبرداری کرنا اور خدا پر بھروسہ کرنا گناہ سے پاکیزگی کی جانب جانے والی نئی راہ کو استوار کرنا اور اْس پر چلنا نجات بخشتا ہے۔

3. 20 : 16-23

"Despised and rejected of men," returning blessing for cursing, he taught mortals the opposite of themselves, even the nature of God; and when error felt the power of Truth, the scourge and the cross awaited the great Teacher. Yet he swerved not, well knowing that to obey the divine order and trust God, saves retracing and traversing anew the path from sin to holiness.

4۔ 24: 27۔ 31

مصلوبیت کی افادیت اس عملی پیار اور اچھائی میں پنہاں ہے جو انسان کے لئے ظاہر ہوتی ہے۔ سچائی انسانوں کے درمیان رہتی رہی ہے؛ لیکن جب تک انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ اس سچائی نے اْن کے مالک کو قبر پر فتح بخشی ہے ، اْس کے اپنے شاگردوں کو اس بات کا یقین نہ تھا کہ ایسا ہونا بھی ممکن ہوسکتا تھا۔

4. 24 : 27-31

The efficacy of the crucifixion lay in the practical affection and goodness it demonstrated for mankind. The truth had been lived among men; but until they saw that it enabled their Master to triumph over the grave, his own disciples could not admit such an event to be possible.

5۔ 34: 18۔ 9

سبھی شاگردوں کے تجربات کے وسیلہ وہ مزید روحانی بنے اور اْسے بہتر طور پر سمجھے جو مالک نے انہیں سکھایا تھا۔ اْس کا جی اٹھنا اْن کا جی اٹھنا بھی تھا۔ اس نے اْن کی اور دیگر لوگوں کی روحانی بے حسی اور لامتناہی امکانات کے خیالات میں خدا پر اندھے توکل سے بیدار کیا۔ انہیں اس ارتکاز کی ضرورت تھی کیونکہ جلد ہی اْن کا مالک حقیقت کے روحانی دائرے میں دوبارہ جی اٹھنے ، اور اْن کے تصور سے کہیں اونچا اٹھایا جانے والا ہوگا۔ اْس کی وفاداری کے اجر میں، وہ مادی حس کے لئے اِس تبدیلی میں غائب ہوجائے گا جسے معراج کہا جاتا رہا ہے۔ 

خداوند کے آخری کھانے اور گلیل کی جھیل کے ساحل پرایک تازہ صبح کے پہر میں خوشگوار ملاقات میں اپنے شاگردوں کے ساتھ اْس کے روحانی ناشتے میں کتنا فرق ہے۔ اْس کا دْکھ جلال میں بدل گیا تھا، اور اْس کے شاگرد پشیمانی میں رنجیدہ ہوئے، دل کی تنبیہ ہوئی اور تکبر کی ملامت ہوئی۔ تاریکی میں اپنی مشقت کی بے اثری کو سمجھتے ہوئے اور اپنے مالک کی آواز سے بیدار ہوتے ہوئے، انہوں نے اپنے اطوار کو تبدیل کیا، مادی چیزوں سے پھِرے اور اپنے جال درست سمت میں ڈالے۔ وقت کے دھارے میں مسیح یعنی سچائی کو جانتے ہوئے وہ کسی حد تک فانی حسی یا مادے میں عقل کی تدفین کو زندگی کی بطور روح جدت میں تبدیل کرنے کے قابل بنے۔

5. 34 : 18-9

Through all the disciples experienced, they became more spiritual and understood better what the Master had taught. His resurrection was also their resurrection. It helped them to raise themselves and others from spiritual dulness and blind belief in God into the perception of infinite possibilities. They needed this quickening, for soon their dear Master would rise again in the spiritual realm of reality, and ascend far above their apprehension. As the reward for his faithfulness, he would disappear to material sense in that change which has since been called the ascension.

What a contrast between our Lord's last supper and his last spiritual breakfast with his disciples in the bright morning hours at the joyful meeting on the shore of the Galilean Sea! His gloom had passed into glory, and His disciples' grief into repentance, - hearts chastened and pride rebuked. Convinced of the fruitlessness of their toil in the dark and wakened by their Master's voice, they changed their methods, turned away from material things, and cast their net on the right side. Discerning Christ, Truth, anew on the shore of time, they were enabled to rise somewhat from mortal sensuousness, or the burial of mind in matter, into newness of life as Spirit.

6۔ 42: 21۔ 2

اْس حیرت انگیز جلال کی بدولت جو خدا نے اپنے مسح پر نچھاور کیا ، آزمائش ، گناہ، بیماری اور موت کا یسوع کو کوئی خوف نہیں تھا۔ آدمیوں کو سمجھنے دیں کہ انہوں نے بدن کو قتل کر دیا ہے! بعد ازیں وہ انہیں جوں کا توں دکھائے گا۔ یہ ظاہرکرتا ہے کہ کرسچن سائنس میں حقیقی انسان پر خدا یعنی اچھائی حکومت کرتی ہے نہ کہ بدی، اور اسی لئے وہ فانی نہیں بلکہ لافانی ہے۔ یسوع نے اپنے شاگردوں کو اس ثبوت کی سائنس سکھائی تھی۔ وہ انہیں ابھی تک اس نہ سمجھے جانے والے قول کو آزمانے کے قابل بنا رہا تھا کہ، ’’جو مجھ پر ایمان رکھتا ہے یہ کام جو مَیں کرتا ہوں وہ بھی کرے گا۔‘‘ اْس کے غلطی کو دور کرنے، بیمار کو شفا دینے اور مردے کو زندہ کرنے کے عمل سے انہیں اْس کی زندگی کے اصول کو مکمل طور پر مزید سمجھنا چاہئے ، جیسا کہ انہوں نے اْس کی جسمانی روانگی کے بعد سمجھا تھا۔ 

6. 42 : 21-2

Because of the wondrous glory which God bestowed on His anointed, temptation, sin, sickness, and death had no terror for Jesus. Let men think they had killed the body! Afterwards he would show it to them unchanged. This demonstrates that in Christian Science the true man is governed by God — by good, not evil — and is therefore not a mortal but an immortal. Jesus had taught his disciples the Science of this proof. He was here to enable them to test his still uncomprehended saying, "He that believeth on me, the works that I do shall he do also." They must understand more fully his Life-principle by casting out error, healing the sick, and raising the dead, even as they did understand it after his bodily departure. 

7۔ 43: 11۔ 20، 32۔ 19

یسوع کا آخری ثبوت اْس کے طالب علموں کے لئے سب سے بلند، سب سے زیادہ قابل یقین، سب سے زیادہ فائدہ مند تھا۔وحشی ظالموں کابْغض ، انسان اور اْس کے ستانے والے کی تکریم سے محبت کی خود کْشی اور غداری خدا کے سچے الٰہی خیال سے مسترد ہو گئے، جس کا یسوع کے ستانے والوں نے مزاق اْڑایا اور اْسے فنا کرنے کی کوشش کی۔ سچائی کا آخری اظہار جس کی یسوع نے تعلیم دی ، اور جس کی خاطر وہ مصلوب کیا گیا، اْس نے دنیا کے لئے نئے دور کا آغاز کیا۔ وہ لوگ جنہوں نے اْس کے تاثر پر روک لگانے کے لئے اْسے ذبح کیا انہوں نے اسے برقرار رکھا اور اسے وسعت دی۔ 

محبت کو نفرت پر ہمیشہ فتح مند ہونا چاہئے۔ اس سے قبل کہ کانٹوں کو تاج بنانے کے لئے چنا جائے اور روح کی برتری کو ظاہر کیا جائے، سچائی اور زندگی کو غلطی اور موت پر فتح کی مہر ثبت کرنی چاہئے، دعائے خیر کہتی ہے، ’’ایک اچھے اور وفادار خادم، تو نے بہت اچھا کیا‘‘۔ 

قبر کی سونی دیواروں نے یسوع کو اْس کے دْشمنوں سے پناہگاہ فراہم کی، یعنی ایسی جگہ مہیا کی جس میں رہتے ہوئے اْس نے ہستی کے سب سے بڑے مسئلہ کو حل کیا۔ قبر میں اْس کے تین دن کے کام نے وقت پر ابدیت کی مہر ثبت کی۔ اْس نے زندگی کو لازوال اور محبت کو نفرت کی اْستاد ثابت کیا۔ وہ آیا اور اْس نے کرسچن سائنس کی بنیاد پر مادے پر عقل کی طاقت، ادویات، سرجری اور حفظانِ صحت کے تمام تر دعووں میں مہارت حاصل کی۔ 

اْس نے سوجن دور کرنے کے لئے کسی دوائی کا استعما ل نہیں کیا۔ اْس نے ضائع شدہ توانائیوں کو بحال کرنے کے لئے خوراک یا صاف ہوا پر انحصار نہیں کیا ۔ اْسے پھٹی ہوئی ہتھیلیوں کو شفا دینے، زخمی حصے کو ٹھیک کرنے اور پھٹے پیروں کو ٹھیک کرنے کے لئے کسی طبیب کی مہارت کی ضرورت نہیں پڑی، کہ وہ اْن ہاتھوں سے پٹیاں اور شیٹس اتارنے کے لئے استعمال کرتا اور پاؤں کو پہلے کی طرح استعمال کرتا۔ 

7. 43 : 11-20, 32-19

Jesus' last proof was the highest, the most convincing, the most profitable to his students. The malignity of brutal persecutors, the treason and suicide of his betrayer, were overruled by divine Love to the glorification of the man and of the true idea of God, which Jesus' persecutors had mocked and tried to slay. The final demonstration of the truth which Jesus taught, and for which he was crucified, opened a new era for the world. Those who slew him to stay his influence perpetuated and extended it.

Love must triumph over hate. Truth and Life must seal the victory over error and death, before the thorns can be laid aside for a crown, the benediction follow, "Well done, good and faithful servant," and the supremacy of Spirit be demonstrated.

The lonely precincts of the tomb gave Jesus a refuge from his foes, a place in which to solve the great problem of being. His three days' work in the sepulchre set the seal of eternity on time.

He proved Life to be deathless and Love to be the master of hate. He met and mastered on the basis of Christian Science, the power of Mind over matter, all the claims of medicine, surgery, and hygiene.

He took no drugs to allay inflammation. He did not depend upon food or pure air to resuscitate wasted energies. He did not require the skill of a surgeon to heal the torn palms and bind up the wounded side and lacerated feet, that he might use those hands to remove the napkin and winding-sheet, and that he might employ his feet as before.

8۔ 44: 28۔ 5

اْس کے شاگرد اْسے مردہ سمجھ رہے تھے جب وہ قبر میں پوشیدہ تھا،جبکہ وہ زندہ تھا، روح کی طاقت کو فانی ، مادی حس پر فتح پانے کے لئے بند قبر میں ظاہر کرر ہا تھا۔ اْس کی راہ میں پتھریلی دیواریں تھیں، اور غار کے منہ پر ایک بڑا پتھ لڑھکایا گیا تھا؛ لیکن یسوع ہر مادی رکاوٹ پر مغلوب ہوا ، ہر مادی قانون پر فتح مند ہوا اور اپنی تاریک رہائش گاہ سے باہر نکلا، شاندار کامیابی اور ایک ابدی فتح یابی کے جلال سے کا تاجدار بنا۔ 

8. 44 : 28-5

His disciples believed Jesus to be dead while he was hidden in the sepulchre, whereas he was alive, demonstrating within the narrow tomb the power of Spirit to overrule mortal, material sense. There were rock-ribbed walls in the way, and a great stone must be rolled from the cave's mouth; but Jesus vanquished every material obstacle, overcame every law of matter, and stepped forth from his gloomy resting-place, crowned with the glory of a sublime success, an everlasting victory.

9۔ 45: 16۔ 21

خدا کی تمجید ہو اور جدوجہد کرنے والے دلوں کے لئے سلامتی ہو! مسیح نے انسانی امید اور ایمان کے درواز ے سے پتھر ہٹا دیا ہے، اور خدا میں زندگی کے اظہار اور مکاشفہ کی بدولت اْس نے انسان کے روحانی خیال اور اْس کے الٰہی اصول، یعنی محبت کے ساتھ ممکنہ کفارے سے انہیں بلند کیا۔ 

9. 45 : 16-21

Glory be to God, and peace to the struggling hearts! Christ hath rolled away the stone from the door of human hope and faith, and through the revelation and demonstration of life in God, hath elevated them to possible at-one-ment with the spiritual idea of man and his divine Principle, Love.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████