اتوار 21 اگست، 2022



مضمون۔ عقل

SubjectMind

سنہری متن: خروج 20 باب 3 آیت

”میرے حضور تْو غیر معبودوں کو نہ ماننا۔“



Golden Text: Exodus 20 : 3

Thou shalt have no other gods before me.





سبق کی آڈیو کے لئے یہاں کلک کریں

یوٹیوب سے سننے کے لئے یہاں کلک کریں

████████████████████████████████████████████████████████████████████████


جوابی مطالعہ: متی 4 باب23، 24 آیات • متی 17 باب14تا18 آیات


23۔ اور یسوع تمام گلیل میں پھرتا رہا اور اْن کے عبادتخانوں میں تعلیم دیتا اور بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کرتا اور لوگوں کی ہر طرح کی بیماری اور ہر طرح کی کمزوری کو دور کرتا رہا۔

24۔ اور اْس کی شہرت تمام سوریہ میں پھیل گئی اور لوگ سب بیماروں کو جو طرح طرح کی بیماریوں اور تکلیفوں میں گرفتار تھے اور اْن کو جن میں بد روحیں تھیں اور مرگی والوں اور مفلوجوں کو اْس کے پاس لائے اور اْس نے اْن کو اچھا کیا۔

14۔ اور جب وہ بھیڑ کے پاس پہنچے تو ایک آدمی اْس کے پاس آیا اور اْس کے آگے گھٹنے ٹیک کر کہنے لگا۔

15۔ اے خداوند میرے بیٹے پر رحم کر کیونکہ اْس کو مرگی آتی ہے اور وہ بہت دْکھ اٹھاتا ہے۔ اِس لئے کہ اکثر آگ اور گرمی میں گر پڑتا ہے۔

16۔ اور مَیں اْس کو تیرے شاگردوں کے پاس لایا تھا مگر وہ اْسے اچھا نہ کر سکے۔

17۔ یسوع نے جواب میں کہا اے بے اعتقاد اور کج رو نسل مَیں کب تک تمہارے ساتھ رہوں گا؟ کب تک تمہاری برداشت کروں گا؟ اْسے یہاں میرے پاس لاؤ۔

18۔ یسوع نے اْسے جھڑکا اور بدروح اْس میں سے نکل گئی اور وہ لڑکا اْسی گھڑی اچھا ہو گیا۔

Responsive Reading: Matthew 4 : 23, 24Matthew 17 : 14-18

23.     And Jesus went about all Galilee,

24.     And they brought unto him all sick people that were taken with divers diseases and torments, and those which were possessed with devils, and those which were lunatick, and those that had the palsy; and he healed them.

14.     And when they were come to the multitude, there came to him a certain man, kneeling down to him, and saying,

15.     Lord, have mercy on my son: for he is lunatick, and sore vexed: for ofttimes he falleth into the fire, and oft into the water.

16.     And I brought him to thy disciples, and they could not cure him.

17.     Then Jesus answered and said, O faithless and perverse generation, how long shall I be with you? how long shall I suffer you? bring him hither to me.

18.     And Jesus rebuked the devil; and he departed out of him: and the child was cured from that very hour.



درسی وعظ



بائبل


درسی وعظ

بائبل

1 . ۔ واعظ 7 باب 25، 29 (تا؛) آیات

25۔ مَیں نے اپنے دل کو متوجہ کیا کہ جانوں اور تفتیش کروں اور حکمت اور خرد کو دریافت کروں اور سمجھوں کہ بدی حماقت ہے اور حماقت دیوانگی۔

29۔ لو مَیں نے صرف اتنا پایا کہ خدا نے انسان کو راست بنایا۔

1. Ecclesiastes 7 : 25, 29 (to ;)

25     I applied mine heart to know, and to search, and to seek out wisdom, and the reason of things, and to know the wickedness of folly, even of foolishness and madness:

29     Lo, this only have I found, that God hath made man upright;

2 . ۔ زبور 139: 23، 24 آیات (23rd August 2020 [4]).

23۔ اے خداوند تْو مجھے جانچ اور میرے دل کو پہچان۔ مجھے آزما اور میرے خیالوں کو جان لے۔

24۔ اور دیکھ کہ مجھ میں کوئی بری روش تو نہیں اور مجھ کو ابدی راہ میں لے چل۔

2. Psalm 139 : 23, 24

23     Search me, O God, and know my heart: try me, and know my thoughts:

24     And see if there be any wicked way in me, and lead me in the way everlasting.

3 . ۔ دانی ایل 4 باب 28تا31، 32 (تب) (تا چوتھی)، 33، 34، 36، 37(تا دوسری) آیات

28۔ یہ سب کچھ نبو کد نضر بادشاہ پر گزرا۔

29۔ ایک سال کے بعد وہ بابل کے شاہی محل میں ٹہل رہا تھا۔

30۔ بادشاہ نے فرمایا کہ یہ بابل اعظم نہیں جس کو مَیں نے اپنی توانائی کی قدرت سے تعمیر کیا ہے کہ دارالسلطنت اور میرے جاہ و جلال کا نمونہ ہو؟

31۔ بادشاہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ آسمان سے آواز آئی کہ اے نبوکد نضر بادشاہ تیرے حوالے میں یہ فتویٰ ہے کہ سلطنت تجھ سے جاتی رہی۔

32۔۔۔۔تب تجھ کو معلوم ہوگا کہ حق تعالیٰ آدمیوں کی مملکت میں حکمرانی کرتا ہے۔

33۔ اْسی وقت نبوکد نضر بادشاہ پر یہ بات پوری ہوئی اور وہ آدمیوں میں سے نکالا گیا اور بیلوں کی طرح گھاس کھاتا رہا اور اْس کا بدن آسمان کی شبنم سے تر ہوا یہاں تک کہ اْس کے بال عقاب کے پروں کی مانند اور اْس کے ناخن پرندوں کے چْنگل کی مانند بڑھ گئے۔

34۔ اور اِن ایام کے گزرنے کے بعد میں نبو کد نضر نے آسمان کی طرف آنکھیں اْٹھائیں اور میری عقل مجھ میں پھر آئی اور مَیں نے حق تعالیٰ کا شکر کیا اور اْس حی القیوم کی حمد و ثنا کی جس کی سلطنت ابدی اور جس کی مملکت پشت در پشت ہے۔

36۔ اْسی وقت میری عقل مجھ میں آئی اور میری سلطنت کی شوکت کے لئے میرا رعب اور دبدبہ پھر بحال ہوگیا اور میرے مشیروں اور امیروں نے مجھے پھر ڈھونڈا اور مَیں اپنی مملکت میں قائم ہوا اور میری عظمت میں افزونی ہوئی۔

37۔ اب مَیں نبو کد نضر آسمان کے بادشاہ کی ستائش اور تکریم و تعظیم کرتا ہوں کیونکہ وہ اپنے کاموں میں راست ہے۔

3. Daniel 4 : 28-31, 32 (until) (to 4th ,), 33, 34, 36, 37 (to 2nd ,)

28     All this came upon the king Nebuchadnezzar.

29     At the end of twelve months he walked in the palace of the kingdom of Babylon.

30     The king spake, and said, Is not this great Babylon, that I have built for the house of the kingdom by the might of my power, and for the honour of my majesty?

31     While the word was in the king’s mouth, there fell a voice from heaven, saying, O king Nebuchadnezzar, to thee it is spoken; The kingdom is departed from thee.

32     …until thou know that the most High ruleth in the kingdom of men,

33     The same hour was the thing fulfilled upon Nebuchadnezzar: and he was driven from men, and did eat grass as oxen, and his body was wet with the dew of heaven, till his hairs were grown like eagles’ feathers, and his nails like birds’ claws.

34     And at the end of the days I Nebuchadnezzar lifted up mine eyes unto heaven, and mine understanding returned unto me, and I blessed the most High, and I praised and honoured him that liveth for ever, whose dominion is an everlasting dominion, and his kingdom is from generation to generation:

36     At the same time my reason returned unto me; and for the glory of my kingdom, mine honour and brightness returned unto me; and my counsellers and my lords sought unto me; and I was established in my kingdom, and excellent majesty was added unto me.

37     Now I Nebuchadnezzar praise and extol and honour the King of heaven, all whose works are truth,

4 . ۔ یرمیاہ 29 باب11تا14 (تا دوسری) آیات

11۔ کیونکہ میں تمہارے حق میں اپنے خیالات کو جانتا ہوں خداوند فرماتا ہے یعنی سلامتی کے خیالات۔ برائی کے نہیں تاکہ میں تم کو نیک انجام کی امید بخشوں۔

12۔ تب تم میرا نام لو گے اور مجھ سے دعا کرو گے اور میں تمہاری سنوں گا۔

13۔ اور تم مجھے ڈھونڈو گے اور پاؤ گے۔جب پورے دل سے میرے طالب ہوگے۔

14۔ اور مَیں تم کو مل جاؤں گا خداوند فرماتا ہے اور مَیں تمہاری اسیری کو موقوف کراؤں گا۔

4. Jeremiah 29 : 11-14 (to 2nd ,)

11     For I know the thoughts that I think toward you, saith the Lord, thoughts of peace, and not of evil, to give you an expected end.

12     Then shall ye call upon me, and ye shall go and pray unto me, and I will hearken unto you.

13     And ye shall seek me, and find me, when ye shall search for me with all your heart.

14     And I will be found of you, saith the Lord: and I will turn away your captivity,

5 . ۔ یسعیاہ 26 باب3 (تا:)، 13، 14 (کیونکہ) آیات

3۔ جس کا دل قائم ہے تْو اْسے سلامت رکھے گا۔

13۔ اے خداوند ہمارے خدا تیرے سوا دوسرے حاکموں نے ہم پر حکومت کی ہے لیکن تیری مدد سے ہم صرف تیرا ہی نام لیں گے۔

14۔۔۔۔کیونکہ تْو نے اْن پر نظر کی اور اْن کو نابود کیا اور اْن کی یاد کو بھی مٹا دیا ہے۔

5. Isaiah 26 : 3 (to :), 13, 14 (therefore)

3     Thou wilt keep him in perfect peace, whose mind is stayed on thee:

13     O Lord our God, other lords beside thee have had dominion over us: but by thee only will we make mention of thy name.

14     …therefore hast thou visited and destroyed them, and made all their memory to perish.

6 . ۔ لوقا 4 باب14 (تا:) آیت

14۔ پھر یسوع روح کی قوت سے بھرا ہوا گلیل سے لوٹا۔

6. Luke 4 : 14 (to :)

14     And Jesus returned in the power of the Spirit into Galilee:

7 . ۔ لوقا 8 باب1 (تا:)، 26 تا34 (تا دوسری)، 35 (تا:) 38، 39 (تا پہلی) آیات

1۔ تھوڑے عرصے کے بعد یوں ہوا کہ وہ منادی کرتا اور خدا کی خوشخبری سناتا ہوا شہر شہر اور گاؤں گاؤں پھرنے لگا اور وہ بارہ اْس کے ساتھ تھے۔

26۔ پھروہ اسینیوں کے علاقہ میں جا پہنچے۔

27۔ جب وہ کنارے پر اترا تو اُس شہر کا ایک مرد اُسے ملا جس میں بد روحیں تھیں اور اُس نے بڑی مدت سے کپڑے نہ پہنے تھے اور وہ گھر میں نہیں بلکہ قبروں میں رہا کرتا تھا۔

28۔وہ یسوع کو دیکھ کر چلایا اور اُس کے آگے گر کر بلند آواز سے کہنے لگا اے یسوع! خدا تعالیٰ کے بیٹے مجھے تجھ سے کیا کام؟ تیری منت کرتا ہوں کہ مجھے عذاب میں نہ ڈال۔

29۔ کیونکہ وہ اُس ناپاک روح کو حکم دیتا تھا کہ اِس آدمی میں سے نکل جا۔ اِس لئے کہ اُس نے اُس کو اکثر پکڑا تھا اور ہرچند لوگ اُسے زنجیروں اور بیڑیوں سے جکڑ کر قابو میں رکھتے تھے تو بھی وہ زنجیروں کو توڑ ڈالتا تھا اور بد روح اُس کو بِیابانوں میں بھگائے پھرتی تھی۔

30۔یسوع نے اُس سے پوچھا تیرا کیا نام ہے؟ اُس نے کہا لشکر کیونکہ اُس میں بہت سے بد روحیں تھیں۔

31۔اور وہ اُس کی منت کرنے لگیں کہ ہمیں اتھاہ گڑھے میں جانے کا حکم نہ دے۔

32۔وہاں پہاڑ پر سوروں کا ایک بڑا غول چر رہا تھا۔ اُنہوں نے اُس کی منت کی کہ ہمیں اُن کے اندر جانے دے۔ اُس نے اُنہیں جانے دیا۔

33۔اور بد روحیں اُس آدمی میں سے نکل کر سوروں کے اندر گئیں اور غول کڑاڑے پر سے جھپٹ کر جھیل میں جا پڑا اور ڈوب مرا۔

34۔ یہ ماجرہ دیکھ کر چرانے والے بھاگے۔

35۔ لوگ اُس ماجرے کے دیکھنے کو نکلے اور یسوع کے پاس آ کر اُس آدمی کو جس میں سے بد روحیں نکلی تھیں کپڑے پہنے اور ہوش میں یسوع کے پاؤں کے پاس بیٹھے پایا اور ڈر گئے۔

38۔ لیکن جس شخص میں سے بدروحیں نکل گئی تھیں وہ اْس کی منت کر کے کہنے لگا کہ مجھے اپنے ساتھ رہنے دے مگر یسوع نے اْسے رخصت کر کے کہا۔

39۔ اپنے گھر کو لوٹ کر لوگوں کو بیان کر کہ خدا نے تیرے لئے کیسے بڑے کام کئے۔

7. Luke 8 : 1 (to :), 26-34 (to 2nd ,), 35 (to :), 38, 39 (to 1st .)

1     And it came to pass afterward, that he went throughout every city and village, preaching and shewing the glad tidings of the kingdom of God:

26     And they arrived at the country of the Gadarenes, which is over against Galilee.

27     And when he went forth to land, there met him out of the city a certain man, which had devils long time, and ware no clothes, neither abode in any house, but in the tombs.

28     When he saw Jesus, he cried out, and fell down before him, and with a loud voice said, What have I to do with thee, Jesus, thou Son of God most high? I beseech thee, torment me not.

29     (For he had commanded the unclean spirit to come out of the man. For oftentimes it had caught him: and he was kept bound with chains and in fetters; and he brake the bands, and was driven of the devil into the wilderness.)

30     And Jesus asked him, saying, What is thy name? And he said, Legion: because many devils were entered into him.

31     And they besought him that he would not command them to go out into the deep.

32     And there was there an herd of many swine feeding on the mountain: and they besought him that he would suffer them to enter into them. And he suffered them.

33     Then went the devils out of the man, and entered into the swine: and the herd ran violently down a steep place into the lake, and were choked.

34     When they that fed them saw what was done, they fled,

35     Then they went out to see what was done; and came to Jesus, and found the man, out of whom the devils were departed, sitting at the feet of Jesus, clothed, and in his right mind:

38     Now the man out of whom the devils were departed besought him that he might be with him: but Jesus sent him away, saying,

39     Return to thine own house, and shew how great things God hath done unto thee.

8 . ۔ عبرانیوں 4باب 12، 13، 16 آیات

12۔ کیونکہ خدا کا کلام زندہ اور موثر اور ہر ایک دو دھاری تلوار سے زیادہ تیز ہے اور جان اور روح اور بند بند اور گودے گودے کو جدا کر کے گزر جاتا ہے اور دل کے خیالوں اور ارادوں کو جانچتا ہے۔

13۔ اور اْس سے مخلوقات کی کوئی چیز چھپی نہیں بلکہ جس سے ہم کو کام ہے اْس کی نظروں میں سب چیزیں کھلی اور بے پردہ ہیں۔

16۔ پس آؤ ہم فضل کے تخت کے پاس دلیری سے چلیں تاکہ ہم پر رحم ہو تاکہ وہ فضل حاصل کریں جو ضرورت کے وقت ہماری مدد کرے۔

8. Hebrews 4 : 12, 13, 16

12     For the word of God is quick, and powerful, and sharper than any twoedged sword, piercing even to the dividing asunder of soul and spirit, and of the joints and marrow, and is a discerner of the thoughts and intents of the heart.

13     Neither is there any creature that is not manifest in his sight: but all things are naked and opened unto the eyes of him with whom we have to do.

16     Let us therefore come boldly unto the throne of grace, that we may obtain mercy, and find grace to help in time of need.

9 . ۔ رومیوں 15 باب4 (تا،)، 6 آیات

4۔ کیونکہ جتنی باتیں پہلے لکھی گئیں وہ ہماری تعلیم کے لئے لکھی گئیں۔

6۔ تاکہ تم یکدل اور یک زبان ہوکر ہمارے خداوند یسوع مسیح کے خدا اور باپ کی تمجید کرو۔

9. Romans 15 : 4 (to ,), 6

4     For whatsoever things were written aforetime were written for our learning,

6     That ye may with one mind and one mouth glorify God, even the Father of our Lord Jesus Christ.



سائنس اور صح


1 . ۔ 467 :3 (دی)۔4 (تاپہلی)،5۔7، 9۔10، 13۔16

اس سائنس کا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ ”تْو میرے حضور غیر معبودوں کو نہ ماننا۔“۔۔۔لہٰذہ اس حکم کا مطلب ہے یہ: تو میرے سامنے نہ کوئی ذہانت، نہ زندگی، نہ مواد، نہ سچائی، نہ محبت رکھنا ماسوائے اْس کے جو روحانی ہے۔۔۔۔اس بات کی پوری طرح سے سمجھ آجانی چاہئے کہ تمام انسانوں کی عقل ایک ہے، ایک خدا اور باپ، ایک زندگی، حق اور محبت ہے۔۔۔۔دوسرے دیوتا نہ ہونا، دوسرے کی طرف جانے کی بجائے راہنمائی کے لئے ایک کامل عقل کے پاس جاتے ہوئے، انسان خدا کی مانند پاک اور ابدی ہوجاتا ہے، جس کے پاس وہی عقل ہے جو مسیح میں بھی تھی۔

1. 467 : 3 (The)-4 (to 1st .), 5-7, 9-10, 13-16

The first demand of this Science is, "Thou shalt have no other gods before me." … Therefore the command means this: Thou shalt have no intelligence, no life, no substance, no truth, no love, but that which is spiritual. … It should be thoroughly understood that all men have one Mind, one God and Father, one Life, Truth, and Love. … Having no other gods, turning to no other but the one perfect Mind to guide him, man is the likeness of God, pure and eternal, having that Mind which was also in Christ.

2 . ۔ 587 :5۔9 (تا۔)11(دی۔)15 (تا؛)

خدا۔ عظیم مَیں ہوں؛ سب جاننے والا، سب دیکھنے والا، سب عمل کرنے والا، عقل کْل، کْلی محبت، اور ابدی؛ اصول؛ جان، روح، زندگی، سچائی، محبت، سارا مواد؛ ذہانت۔

دیوتا۔ ۔۔۔یہ عقیدہ کہ لامحدود عقل محدود اشکال میں پائی جاتی ہے؛ گونا گوں نظریات جو عقل کو مادی فہم، دماغ، اعصاب، مادے، فرضی خیالات یا روحوں میں موجود تصور کرتے ہیں، مادے میں داخل اور باہر، غلط اور فانی؛

2. 587 : 5-9 (to .), 11 (the)-15 (to ;)

God. The great I am; the all-knowing, all-seeing, all-acting, all-wise, all-loving, and eternal; Principle; Mind; Soul; Spirit; Life; Truth; Love; all substance; intelligence.

Gods. … the belief that infinite Mind is in finite forms; the various theories that hold mind to be a material sense, existing in brain, nerve, matter; supposititious minds, or souls, going in and out of matter, erring and mortal;

3 . ۔ 285 :17۔22

لامحدود سے متعلق محدود تصور اور مادی جسم کو عقل کے طور پر نشست چھوڑ کر ذہانت کے الٰہی فہم اور اْس کے اظہاروں کو جگہ دینے کا وقت آگیا ہے، تاکہ اِس کا بہتر ادراک میسر آئے جو سائنس اعلیٰ ہستی، یا الٰہی اصول اور خیال کو دیتی ہے۔

3. 285 : 17-22

The time has come for a finite conception of the infinite and of a material body as the seat of Mind to give place to a diviner sense of intelligence and its manifestations, — to the better understanding that Science gives of the Supreme Being, or divine Principle, and idea.

4 . ۔ 262 :27۔4

فانی مخالفت کی بنیاد انسانی ابتداء کا جھوٹا فہم ہے۔ درست طور پر شروع کرنا درست طور پر آخر ہونا ہے۔ ہر وہ نظریہ جو دماغ سے شروع ہوتا دکھائی دیتا ہے غلط شروع ہوتا ہے۔الٰہی عقل ہی وجودیت کی واحدوجہ یا اصول ہے۔ وجہ مادے میں، فانی عقل میں یا جسمانی شکل میں موجود نہیں ہے۔

بشر غرور پسند ہوتے ہیں۔وہ خود کو آزاد کارکنان، ذاتی مصنف، کسی ایسی چیز کے بنانے والے تصور کرتے ہیں جو خدا نہ بنا سکا یا نہیں بنا سکتا۔

4. 262 : 27-4

The foundation of mortal discord is a false sense of man's origin. To begin rightly is to end rightly. Every concept which seems to begin with the brain begins falsely. Divine Mind is the only cause or Principle of existence. Cause does not exist in matter, in mortal mind, or in physical forms.

Mortals are egotists. They believe themselves to be independent workers, personal authors, and even privileged originators of something which Deity would not or could not create.

5 . ۔ 216 :11۔16

یہ فہم کہ انا عقل ہے، اور یہ کہ ماسوائے ایک عقل یا ذہانت کے اور کچھ نہیں، فانی حس کی غلطیوں کو تباہ کرنے اور فانی حس کی سچائی کی فراہمی کے لئے ایک دم شروع ہو جاتا ہے۔یہ فہم بدن کو ہم آہنگ بناتا ہے؛ یہ ا عصاب، ہڈیوں، دماغ وغیرہ کو غلام بناتا ہے نہ کہ مالک بناتا ہے۔

5. 216 : 11-16

The understanding that the Ego is Mind, and that there is but one Mind or intelligence, begins at once to destroy the errors of mortal sense and to supply the truth of immortal sense. This understanding makes the body harmonious; it makes the nerves, bones, brain, etc., servants, instead of masters.

6 . ۔ 191 :1۔3، 16۔20، 32۔3

دماغ خدا کے انسان سے متعلق کوئی تصور پیش نہیں کر سکتا۔یہ عقل کا کوئی ادراک نہیں رکھ سکتا۔مادہ لامحدود عقل کا عضو نہیں ہے۔

انسانی سوچ کو خود آوردہ مادیت اور قید سے اپنے آپ کو آزاد کرنا چاہئے۔اسے مزید سر، دل یا پھیپھڑوں سے متعلق نہیں پوچھنا چاہئے: انسان کی زندگی کی توقعات کیا ہیں؟ انسان لاچار نہیں ہے۔ ذہانت غیر ذہین کے آگے خاموش نہیں ہے۔

عقل، خدا، روحوں کی آب و ہوا، ذہانت کا ماحول بھیجتا ہے۔ یہ ایمان کہ کھوپڑی کے نیچے ایک گودا نما مواد عقل ہے ذہانت کی تحقیر کرنا،عقل کا تمسخر اْڑانا ہے۔

6. 191 : 1-3, 16-20, 32-3

The brain can give no idea of God's man. It can take no cognizance of Mind. Matter is not the organ of infinite Mind.

The human thought must free itself from self-imposed materiality and bondage. It should no longer ask of the head, heart, or lungs: What are man's prospects for life? Mind is not helpless. Intelligence is not mute before non-intelligence.

Mind, God, sends forth the aroma of Spirit, the atmosphere of intelligence. The belief that a pulpy substance under the skull is mind is a mockery of intelligence, a mimicry of Mind.

7 . ۔ 171 :25۔30

مادے کے نام نہاد قانون اِن جھوٹے عقائد کے سوا کچھ نہیں کہ ذہانت اور زندگی وہاں موجود ہوتے ہیں جہا ں عقل نہیں ہوتی۔یہ جھوٹے عقیدے تمام گناہ اور بیماری کی حاصل شدہ وجہ ہیں۔ اِس کی مخالف سچائی، کہ ذہانت اور زندگی روحانی ہیں اور کبھی مادی نہیں ہوتے گناہ، بیماری اور موت کو نیست کردیتی ہے۔

7. 171 : 25-30

The so-called laws of matter are nothing but false beliefs that intelligence and life are present where Mind is not. These false beliefs are the procuring cause of all sin and disease. The opposite truth, that intelligence and life are spiritual, never material, destroys sin, sickness, and death.

8 . ۔ 570 :26۔5

جب خدا بیمار یا گناہ کرنے والے کو شفا دیتا ہے انہیں اْس بڑے فائدے سے واقف ہونا چاہئے جو عقل اْن کے لئے لائی ہے۔ انہیں فانی عقل کے اْس بڑے بھرم سے بھی واقف ہونا چاہئے جو انہیں بیمار یا گناہگار بناتی ہے۔ بہت سے لوگ الٰہی عقل میں بسنے والی اچھی طاقت کے لئے دوسروں کی آنکھیں کھولنا چاہتے ہیں، مگر وہ انسانی سوچ میں چھپی بدی کی طرف اشارہ کرنے اور بدی کی تکمیل کرنے والے پوشیدہ ذہنی طریقوں کو ایاں کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

ایسی پسماندگی کیوں، جبکہ بدی سے اجتناب کو یقینی بنانے کے لئے انکشاف ضروری ہے؟

8. 570 : 26-5

When God heals the sick or the sinning, they should know the great benefit which Mind has wrought. They should also know the great delusion of mortal mind, when it makes them sick or sinful. Many are willing to open the eyes of the people to the power of good resident in divine Mind, but they are not so willing to point out the evil in human thought, and expose evil's hidden mental ways of accomplishing iniquity.

Why this backwardness, since exposure is necessary to ensure the avoidance of the evil?

9 . ۔ 407 :29 (ہر طرح کا)۔30

ہر طرح کاگناہ مختلف درجات میں پاگل پن ہی ہے۔

9. 407 : 29 (All)-30

All sin is insanity in different degrees.

10 . ۔ 423 :8۔14، 27 (کوئی)۔29

غلطی کو نیست کرنے کے لئے سائنسی طور پر یہ سمجھتے ہوئے کہ سب کچھ عقل،ہستی کی سچائی ہے، کرسچن سائنس دماغی اسباب کے ساتھ آغاز کرتا ہے۔ انسانی نظام کے ہر حصے تک پہنچتے ہوئے یہ علاج ایک متبادل ہے۔کلام کے مطابق، یہ ”بند بند اور گودے گودے“ کو تلاش کرتاہے اور یہ انسان کی ہم آہنگی کو بحال کرتا ہے۔

۔۔۔بدن کی کوئی بھی غیر معمولی حالت یا خرابی اْتنا ہی براہ راست فانی عقل کا کام ہے جتنا کہ ڈیمینشیا یا پاگل پن ہوتا ہے۔

10. 423 : 8-14, 27 (any)-29

The Christian Scientist, understanding scientifically that all is Mind, commences with mental causation, the truth of being, to destroy the error. This corrective is an alterative, reaching to every part of the human system. According to Scripture, it searches "the joints and marrow," and it restores the harmony of man.

…any abnormal condition or derangement of the body is as directly the action of mortal mind as is dementia or insanity.

11 . ۔ 411 :13۔22

یہ بات اندراج میں ہے کہ ایک بار یسوع نے ایک بیماری کا نام پوچھا، ایسی بیماری جسے آج کے جدید دور میں ڈیمنشیا کہا جاتا ہے۔ شیطان یا بد روح نے جواب دیا کہ اْس کا نام لشکر تھا۔ وہیں یسوع نے اْس بدروح کو باہر نکالا، اور پاگل شخص تبدیل ہو گیا اور وہ تندرست ہوگیا۔ کلام یہ ظاہر کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ یسوع شیطان کو خود ظاہر ہونے اور پھر نیست ہونے کا موجب بنا۔

ساری بیماری کی میسر وجہ اور بنیاد خوف، لاعلمی یا گناہ ہے۔ بیماری ہمیشہ غلط فہم کی بدولت ترغیب پاتی ہے جو شعوری طور پر منظور کی جاتی ہے نہ کہ تباہ کی جاتی ہے۔

11. 411 : 13-22

It is recorded that once Jesus asked the name of a disease, — a disease which moderns would call dementia. The demon, or evil, replied that his name was Legion. Thereupon Jesus cast out the evil, and the insane man was changed and straightway became whole. The Scripture seems to import that Jesus caused the evil to be self-seen and so destroyed.

The procuring cause and foundation of all sickness is fear, ignorance, or sin. Disease is always induced by a false sense mentally entertained, not destroyed.

12 . ۔ 147 :32۔4

یسوع نے کبھی کسی بیماری سے متعلق بطور خطرناک یا شفا دینے میں مشکل قرار نہیں دیا۔ جب اْس کے طالب علم اْس کے پاس ایک معاملہ لے کر آئے جسے شفا دینے میں وہ ناکام رہے تھے، تو اْس نے اْن سے کہا، ”اے بے اعتقاد نسل،“اس بات کی تقلید کرتے ہوئے کہ شفا دینے کی مطلوبہ طاقت عقل میں تھی۔

12. 147 : 32-4

Jesus never spoke of disease as dangerous or as difficult to heal. When his students brought to him a case they had failed to heal, he said to them, "O faithless generation," implying that the requisite power to heal was in Mind.

13 . ۔ 414 :4۔14

پاگل پن کا علاج خاص طور پر بہت دلچسپ ہے۔ تاہم معاملے میں رکاوٹ ڈالتے ہوئے،یہ دوسری بیماریوں کی نسبت زیادہ آسانی سے سچائی کے صحت بخش کام کے لئے راضی ہوجاتا ہے، جو غلطی کی جوابی کاروائی ہوتا ہے۔پاگل پن کا علاج کرنے کے لئے جن دلائل کو استعمال کیا جاتا ہے یہ وہی ہیں جو دوسری بیماریوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں، یعنی، وہ انہونی جسے مادا، ذہن، قابو کر سکتا ہے یا جو عقل کو بے ترتیب کر سکتا ہے،یہ دْکھ اٹھا سکتا یا دْکھوں کا موجب بن سکتا ہے؛ اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت کہ سچائی اورمحبت ایک صحت مند حالت قائم کرتی ہے، فانی عقل یا مریض کے خیالات کی راہنمائی کرتی اور اْس پر حکمرانی کرتی ہے، اور سب غلطیوں کو نیست کرتی ہے، خواہ اسے ڈیمنشیا، نفرت یا کوئی بھی دوسرا مسئلہ کہا جا سکتا ہے۔

13. 414 : 4-14

The treatment of insanity is especially interesting. However obstinate the case, it yields more readily than do most diseases to the salutary action of truth, which counteracts error. The arguments to be used in curing insanity are the same as in other diseases: namely, the impossibility that matter, brain, can control or derange mind, can suffer or cause suffering; also the fact that truth and love will establish a healthy state, guide and govern mortal mind or the thought of the patient, and destroy all error, whether it is called dementia, hatred, or any other discord.

14 . ۔ 372 :1۔2

یاد رکھیئے، دماغ عقل نہیں ہے۔ مادا بیمار نہیں ہوسکتا، اور دماغ لافانی ہے۔

14. 372 : 1-2

Remember, brain is not mind. Matter cannot be sick, and Mind is immortal.

15 . ۔ 171 :12۔13

کائنات، بشمول انسان پر عقل کی حکمرانی ایک کھلا سوال نہیں رہا بلکہ یہ قابل اثبات سائنس ہے۔

15. 171 : 12-13

Mind's control over the universe, including man, is no longer an open question, but is demonstrable Science.

16 . ۔ 184 :16۔17

الٰہی ذہانت کے قابو میں رہتے ہوئے، انسان ہم آہنگ اور ابدی ہے۔

روز مرہ کے فرائضمنجاب میری بیکر ایڈی

16. 184 : 16-17

Controlled by the divine intelligence, man is harmonious and eternal.


روز مرہ کے فرائ

منجاب میری بیکر ایڈ

روز مرہ کی دعا

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ ہر روز یہ دعا کرے: ’’تیری بادشاہی آئے؛‘‘ الٰہی حق، زندگی اور محبت کی سلطنت مجھ میں قائم ہو، اور سب گناہ مجھ سے خارج ہو جائیں؛ اور تیرا کلام سب انسانوں کی محبت کو وافر کرے، اور اْن پر حکومت کرے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 4۔

مقاصد اور اعمال کا ایک اصول

نہ کوئی مخالفت نہ ہی کوئی محض ذاتی وابستگی مادری چرچ کے کسی رکن کے مقاصد یا اعمال پر اثر انداز نہیں ہونی چاہئے۔ سائنس میں، صرف الٰہی محبت حکومت کرتی ہے، اور ایک مسیحی سائنسدان گناہ کو رد کرنے سے، حقیقی بھائی چارے ، خیرات پسندی اور معافی سے محبت کی شیریں آسائشوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس چرچ کے تمام اراکین کو سب گناہوں سے، غلط قسم کی پیشن گوئیوں،منصفیوں، مذمتوں، اصلاحوں، غلط تاثر ات کو لینے اور غلط متاثر ہونے سے آزاد رہنے کے لئے روزانہ خیال رکھنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے۔

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 1۔

فرض کے لئے چوکس

اس چرچ کے ہر رکن کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر روز جارحانہ ذہنی آراء کے خلاف خود کو تیار رکھے، اور خدا اور اپنے قائد اور انسانوں کے لئے اپنے فرائض کو نہ کبھی بھولے اور نہ کبھی نظر انداز کرے۔ اس کے کاموں کے باعث اس کا انصاف ہوگا، وہ بے قصور یا قصوارہوگا۔ 

چرچ مینوئیل، آرٹیکل VIII، سیکشن 6۔


████████████████████████████████████████████████████████████████████████